بصارت :زندگی کو معنی عطا کرنے والی نعمت

بصارت :زندگی کو معنی عطا کرنے والی نعمت

عالمی یومِ بصارت (World Sight Day) ہر سال اکتوبر کی دوسری جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ اس عالمی دن کا مقصد نابینا پن اور بصارت کی کمزوری جیسے مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔ اس کا آغاز 2000 ء میں لائنز کلب انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کیSight FirstCampaign کے تحت کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے یو این کے ویژن 2020 کا حصہ بنا دیا گیا اور اب اس کا انتظام انٹرنیشنل ایجنسی فار دی پریوینشن آف بلائنڈنس (IAPB) کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے کیا جاتا ہے۔رواں برس یہ دن کل (8 اکتوبر) منایا جائے گا۔ اس سال عالمی مہم کا پیغام اس امر کے گرد گھومتا ہے کہ آنکھوں کی صحت ہر انسان کی ترجیح بنے اور دنیا میں ہر شخص کو ایسی نگہداشتِ چشم میسر ہو جو قابلِ رسائی، دستیاب اور قابلِ استطاعت ہو۔2.2 ارب انسان: ایک عدد نہیں، انسانی کہانیاں ہیںعالمی سطح پر کم از کم 2.2 ارب افراد کسی نہ کسی درجے کی بصری کمزوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ان میں کم از کم ایک ارب ایسے افراد شامل ہیں جن کی بصری کمزوری کو روکا جا سکتا تھا یا جس کا مناسب علاج ابھی تک نہیں ہو سکا۔یہ اعداد بظاہر اعداد و شمار ہیں لیکن ان کے پیچھے کروڑوں انسانی داستانیں موجود ہیں۔ ان میں وہ بچہ بھی ہے جو کلاس روم میں بیٹھا بلیک بورڈ صاف نہیں دیکھ پاتا،وہ طالب علم بھی ہے جسے کتاب کے الفاظ دھندلے دکھائی دیتے ہیں،وہ مزدور ہے جس کی روزی روٹی اس کی آنکھوں کی صحت سے وابستہ ہے،وہ بزرگ بھی ہے جس کی دنیا موتیا یا کسی دوسری بیماری کے باعث آہستہ آہستہ دھندلا رہی ہے۔اور ذیابیطس کا وہ مریض ہے جسے شاید ابھی یہ احساس تک نہیں کہ اس کی بیماری اس کی بینائی کیلئے خاموش خطرہ بن سکتی ہے۔اس لیے بصارت کا مسئلہ صرف آنکھ کا مسئلہ نہیں یہ انسان کی پوری زندگی کا مسئلہ ہے۔خاموش بیماریاں اور ہماری بے خبریآنکھوں کی طب کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ بعض سنگین بیماریاں ابتدا میں کوئی واضح شواہد پیدا نہیں کرتیں۔مریض کو درد نہیں ہوتا، سرخی نہیں ہوتی، کبھی کبھی نظر بھی بظاہر ٹھیک محسوس ہوتی ہے، مگر بیماری اندر ہی اندر اپنا اثر مرتب کر رہی ہوتی ہے۔گلوکوما اس کی ایک اہم مثال ہے۔ اسی طرح ذیابیطس سے وابستہ آنکھوں کی پیچیدگیاں بھی بعض اوقات خاموشی سے پیش رفت کرتی رہتی ہیں۔یہاں ایک بنیادی طبی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ نظر کا ٹھیک محسوس ہونا، آنکھ کے مکمل طور پر صحت مند ہونے کی ضمانت نہیں۔ اسی لیے آنکھوں کا معائنہ صرف اس وقت نہیں ہونا چاہیے جب نظر کم ہو جائے۔ بعض اوقات بروقت معائنہ اس بیماری کو اس وقت پکڑ لیتا ہے جب مریض کو خود اس کی موجودگی کا ادراک بھی نہیں ہوتا۔بچوں کی آنکھیں قوم کے مستقبل کا آئینہآج کا بچہ کل کا معمار ہے لیکن اگر اس کے سامنے دنیا ہی دھندلی ہو تو اس کے خوابوں کی تعمیر کیسے  مکمل ہوگی؟بچوں کی بصارت کو معمولی مسئلہ سمجھنا سنگین غفلت ہو سکتی ہے۔اگر بچہ کتاب کو بہت قریب لا کر پڑھتا ہے، ٹی وی یا موبائل سکرین کے قریب بیٹھتا ہے، بار بار آنکھیں ملتا ہے، سر درد کی شکایت کرتا ہے، آنکھیں سکیڑ کر دور کی چیزیں دیکھتا ہے یا کلاس روم میں بورڈ دیکھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے تو اسے محض عادت قرار دے کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت معائنہ بعض اوقات بچے کے تعلیمی سفر کا رخ بدل سکتا ہے۔ایک درست چشمہ صرف نظر نہیں سنوارتا، بعض اوقات بچے کا اعتماد بھی واپس لاتا ہے۔ یہاں والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بچوں کی بصارت کو تعلیمی صحت کا لازمی حصہ سمجھا جائے۔ڈیجیٹل عہد اور آنکھوں کا نیا امتحانہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ سکرین کے اندر آباد ہے۔ موبائل فون، کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور دیگر ڈیجیٹل آلات نے تعلیم، کاروبار اور رابطے کو آسان بنایا ہے، مگر ان کا غیر متوازن استعمال آنکھوں کی تھکن اور دیگر بصری شکایات کو بڑھا سکتا ہے۔مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، مسئلہ غیر متوازن طرزِ استعمال ہے۔ہمیں بچوں اور بڑوں دونوں میں سکرین کے استعمال کے دوران مناسب وقفوں، مناسب فاصلہ، مناسب روشنی اور مجموعی طور پر صحت مند بصری عادات کو فروغ دینا ہوگا۔آنکھ محض جسم کا ایک عضو نہیں یہ یادوں کا آئینہ ہے،یہ خوابوں کا دریچہ ہے،یہ علم تک رسائی کا وسیلہ ہے،یہ انسان کے چہرے پر لکھی ہوئی محبت پڑھنے کی صلاحیت ہے۔ایک بچے کیلئے آنکھ مستقبل کا راستہ ہے۔ایک نوجوان کیلئے امکانات کی دنیا ہے۔ایک بزرگ کیلئے ماضی کی محفوظ تصویریں ہیں۔اور ایک ڈاکٹر کیلئے آنکھ انسانی جسم کی پیچیدہ ساخت، لطیف توازن اور حیرت انگیز حیاتیاتی حکمت کی ایک زندہ مثال ہے۔اس لیے بصارت کی حفاظت صرف طب کا موضوع نہیں، یہ انسانی وقار کا سوال ہے۔ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کرنی ہے جہاں کوئی انسان محض اس لیے اپنی بینائی سے محروم نہ ہو کہ اسے بروقت تشخیص، مناسب چشمہ یا ضروری علاج میسر نہ آ سکا،کیونکہ آنکھیں سلامت ہوں تو منظر باقی رہتے ہیں،بصارت سلامت ہو تو خواب باقی رہتے ہیں،اور خواب باقی ہوں تو زندگی کا سفر روشن رہتا ہے۔

فولاد سے پائیدار سڑکیں

فولاد سے پائیدار سڑکیں

ماحول کے ساتھ انسانی جانیں بھی بچا سکتی ہیںدنیا بھر میں فولاد کی صنعت معاشی ترقی اور جدید تعمیرات کی بنیاد سمجھی جاتی ہے لیکن اس صنعت کے ساتھ ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے۔ فولاد بنانے کے عمل میں بڑی مقدار میں ایک ضمنی صنعتی مادہ پیدا ہوتا ہے جسےSteel slag (سٹیل سلیگ) کہا جاتا ہے۔ عام طور پر اسے صنعتی فضلے کے طور پر ذخیرہ یا محدود پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے اسی بظاہر بے کار مادے کے لیے ایک ایسا استعمال دریافت کیا ہے جو مستقبل میں سڑکوں کی تعمیر کو زیادہ پائیدار بنانے کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی اور کاربن اخراج میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ سٹیل سلیگ کو خصوصی قسم کے اسفالٹ کے ساتھ ملا کر سڑکیں تیار کی جا سکتی ہیں جو روایتی سڑکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور دیرپا ہوں گی۔ اس طریقے کا مقصد صرف صنعتی فضلے کو دوبارہ استعمال کرنا نہیں بلکہ سڑکوں کی بار بار مرمت، ٹریفک کے اضافی دباؤ اور گاڑیوں کے ایندھن کے غیر ضروری استعمال کو بھی کم کرنا ہے۔سٹیل سلیگ سڑکوں کیلئے ؟سٹیل سلیگ فولاد بنانے کے دوران پیدا ہونے والا مادہ ہے۔ اس میں مختلف معدنی اجزا اور دھاتی آکسائیڈز شامل ہوتے ہیں۔ اس کی ایک خاص خصوصیت اس کی مضبوطی ہے جس کی وجہ سے یہ سڑکوں میں استعمال ہونے والے روایتی مواد کا متبادل بن سکتا ہے۔ محققین نے اس صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے سٹیل سلیگ کو epoxy-modified asphalt binderکے ساتھ ملایا جس سےSteel Slag Epoxy Asphalt Mixture (SEAM) تیار ہوتا ہے۔ اس مرکب کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ اپاکسی سلیگ کے ذرات اور اسفالٹ کے درمیان مضبوط تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سڑک زیادہ دیر تک اپنی ساخت برقرار رکھ سکتی ہے اور نمی، بھاری ٹریفک اور درجہ حرارت کی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے نقصان کے خلاف بہتر مزاحمت دکھا سکتی ہے۔کم مرمت، کم ایندھن ،کم آلودگیاس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ سائنسدانوں نے صرف سڑک بنانے کے دوران ہونے والے اخراج کا جائزہ نہیں لیا بلکہ سڑک کی پوری زندگی کو مدنظر رکھا۔ روایتی سڑک وقت کے ساتھ خراب ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں گڑھے، ٹوٹ پھوٹ اور دیگر نقصانات پیدا ہوتے ہیں۔SEAM کی زیادہ پائیداری اس مسئلے کو کم کر سکتی ہے۔ اربوں ٹن کاربن میں کمی کا امکانتحقیق میں چین کے شہروں میں سڑکوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کو مثال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سائنسدانوں نے یہ جانچنے کے لیے مختلف منظرنامے بنائے کہ اگر موجودہ شہری اسفالٹ سڑکوں کے 25، 50، 75 یا 100 فیصد حصے کو SEAM سے تبدیل کیا جائے تو کیا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق 25 سے 100 فیصد تک تبدیلی کے مختلف منظرناموں میں 431 ملین سے 1.741 ارب ٹن گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کا تخمینہ لگایا گیا۔ اسی طرح 303 ملین سے 1.229 ارب کلوگرام PM2.5 کی کمی کا اندازہ سامنے آیا۔ PM2.5 انتہائی باریک فضائی ذرات ہیں جو انسانی صحت کے لیے خطرناک سمجھے جاتے ہیں ۔ معاشی اور ماحولیاتی صلاحیت عملی چیلنجزاس طریقے کا فائدہ صرف ماحول تک محدود نہیں، سڑکوں کی کم مرمت، طویل سروس لائف اور ٹریفک و ایندھن سے متعلق فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے میں کچھ رکاوٹیں بھی ہیں۔ SEAM روایتی اسفالٹ کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہے جبکہ اپاکسی موڈیفائیڈ اسفالٹ کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ نئی SEAM سڑک کو مکمل مضبوطی حاصل کرنے کے لیے تقریباً سات دن تک حفاظت درکار ہوتی ہے جبکہ عام اسفالٹ سڑک نسبتاً جلد ٹریفک کے لیے کھولی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سٹیل سلیگ ہر علاقے میں یکساں مقدار میں دستیاب نہیں۔ تاہم تحقیق کے مطابق ان اضافی اخراجات کے باوجود مجموعی ماحولیاتی فائدہ مثبت ہو سکتا ہے۔سٹیل سلیگ کو سڑکوں میں استعمال کرنا صنعتی فضلے کو قیمتی وسائل میں تبدیل کرنے کا ایک مؤثر راستہ بن سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

جنگِ لیپانٹو 7 اکتوبر 1571ء کو بحیرہ روم کی تاریخ کی ایک انتہائی اہم بحری جنگ جنگِ لیپانٹو لڑی گئی۔ یہ جنگ موجودہ یونان کے قریب خلیجِ پاتراس میں سلطنتِ عثمانیہ اور ہولی لیگ کے مشترکہ بحری بیڑے کے درمیان ہوئی۔ ہولی لیگ میں سپین، وینس، پوپ کی ریاست اور دیگر یورپی طاقتیں شامل تھیں، جبکہ عثمانی بحری بیڑے کی قیادت علی پاشا کر رہے تھے۔ 7 اکتوبر کو دونوں بحری بیڑے آمنے سامنے آئے اور کئی گھنٹوں تک شدید لڑائی جاری رہی۔ اس دور میں بحری جنگیں بڑی حد تک چپوؤں سے چلنے والے جہازوں پر لڑی جاتی تھیں، اس لیے لیپانٹو کو اس طرز کی آخری عظیم بحری لڑائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہولی لیگ کو فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی اور عثمانی بیڑے کے بہت سے جہاز تباہ یا قبضے میں لے لیے گئے۔جیمز کک نے نیوزی لینڈ کو دیکھا 7 اکتوبر 1769ء کو برطانوی بحری مہم کے سربراہ کیپٹن جیمز کک نے اپنی جہازHMS Endeavourسے نیوزی لینڈ کے شمالی جزیرے کو دیکھا۔ کک اس وقت بحرالکاہل میں ایک تحقیقی اور جغرافیائی مہم پر تھے۔ ان کا مقصد جنوبی بحرالکاہل کے ان علاقوں کا جائزہ لینا تھا جن کے بارے میں یورپی دنیا میں اس وقت بہت کم معلومات موجود تھیں۔ نیوزی لینڈ کے شمالی جزیرے کا نظر آنا ان کی مہم کا ایک اہم مرحلہ تھا۔کک کے سفر نے نیوزی لینڈ کے ساحلوں کی یورپی نقشہ سازی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی مہم کے بعد نیوزی لینڈ کے جغرافیہ، ساحلی علاقوں اور سمندری راستوں کے بارے میں یورپی معلومات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اٹلی کے بحری جہاز کا اغوا 7 اکتوبر 1985ء کو اٹلی کے مسافر بردار بحری جہازAchille Lauro کو چار مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ یہ جہاز اس وقت سکندریہ، مصر سے اسرائیل کے شہر اشدود کی جانب سفر کر رہا تھا۔ اغوا کاروں کا تعلق فلسطین لبریشن فرنٹ سے تھا ۔ اغوا کاروں نے مسافروں اور عملے کو یرغمال بنا کر فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات پیش کیے۔ بحری جہاز کے اغوا کا مسئلہ7 سے 10 اکتوبر 1985ء تک جاری رہا۔ بعد کے برسوں میں مسافر بردار بحری جہازوں اور بین الاقوامی سفر کی سکیورٹی سے متعلق پالیسیوں میں ایسے واقعات کے تجربات کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ مشرقی جرمنی کا قیام دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی اتحادی طاقتوں کے قبضے میں مختلف علاقوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ مغربی علاقوں میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا اثر تھا جبکہ مشرقی جرمنی سوویت قبضے کے علاقے میں شامل تھا۔ بڑھتی ہوئی سرد جنگ کے ماحول میں جرمنی کا سیاسی اور نظریاتی اختلاف مزید گہرا ہوتا گیا۔ 21 ستمبر 1949ء کو مغربی علاقوں میں وفاقی جمہوریہ جرمنی (مغربی جرمنی) قائم ہوئی، چند ہفتوں بعد 7 اکتوبر کو سوویت قبضے کے علاقے میں جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک قائم کی گئی۔ نئے ملک میں سوویت سیاسی اور معاشی نظام کا گہرا اثر تھا ۔ مشرقی جرمنی تقریباً 41 برس تک موجود رہا۔ بالآخر 1989ء میں دیوار برلن کے انہدام اور جرمنی کے سیاسی اتحاد کی راہ ہموار ہوئی اور 3 اکتوبر 1990ء کو مشرقی و مغربی جرمنی دوبارہ متحد ہو گئے۔ لونا 3 نے چاند کی تصاویر لیں7 اکتوبر 1959ء کو پہلی مرتبہ چاند کے اس حصے کی تصاویر لی گئیں جو زمین سے براہِ راست نظر نہیں آتا۔ یہ تاریخی کامیابی سوویت خلائی تحقیقاتی مشن لونا3 نے حاصل کی۔ اس سے پہلے انسان صدیوں سے چاند کا صرف وہی رخ دیکھتے آئے تھے جو ہمیشہ زمین کی طرف رہتا ہے۔ چاند کی گردش کی خاصیت کی وجہ سے اس کا ایک ہی رخ مسلسل زمین کی طرف رہتا ہے، اس لیے دور والے حصے کے بارے میں براہِ راست تصویری معلومات موجود نہیں تھیں۔ لونا 3 نے 7 اکتوبر کو چاند کے دور والے روشن حصے کی تصاویر بنائیں۔ مجموعی طور پر 29 تصاویر بنائی گئیں جنہوں نے چاند کے تقریباً 70 فیصد دور والے حصے کو کور کیا۔ ان تصاویر سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ چاند کا دور والا حصہ اس رخ سے کافی مختلف ہے جو زمین سے نظر آتا ہے۔

کیا سورج اور چاند زلزلے پیدا کر سکتے ہیں؟

کیا سورج اور چاند زلزلے پیدا کر سکتے ہیں؟

زلزلے ہمیشہ سے زمین کے سب سے پراسرار اور تباہ کن قدرتی مظاہر میں شمار ہوتے ہیں۔ ماہرینِ ارضیات بتاتے ہیں کہ ان کی بنیادی وجہ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت اور ان کے درمیان جمع ہونے والا بے پناہ دباؤ ہے، لیکن ایک عرصے سے سائنسدان یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ بعض مخصوص قسم کی زلزلہ نما سرگرمیوں کا تعلق سورج اور چاند کی کششِ ثقل سے بھی ہو سکتا ہے۔پیرس کی پی ایس ایل یونیورسٹی میں یشو ژو (Yishuo Zhou) کی قیادت میں ارضیاتی سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق سورج اور چاند زمین پر صرف سمندری مدوجزر ہی پیدا نہیں کرتے بلکہ ان کی کششِ ثقل زمین کی ٹھوس چٹانوں اور زمینی پرت کو بھی معمولی مقدار میں کھینچتی اور دباتی ہے۔ اگرچہ یہ دباؤ انتہائی کم ہوتا ہے تاہم بعض مخصوص حالات میں یہ پہلے سے دباؤ کا شکار فالٹ کو حرکت دینے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ سائنسدانوں نے ایک ایسے طریقہ کار کی نشاندہی کی ہے جسے گونج (Resonance) کہا جاتا ہے، یہی ممکنہ طور پر اس معمولی دباؤ کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔سورج اور چاند زمین کی ٹھوس چٹانوں کو متاثر کرتے ہیںعام طور پر جب ہم مدوجزر کا ذکر کرتے ہیں تو ذہن میں سمندر کا پانی آتا ہے۔ چاند کی کششِ ثقل سمندروں کے پانی کو اپنی طرف کھینچتی ہے، جس کے نتیجے میں مدوجزر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی کشش زمین کی ٹھوس پرت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ سورج بھی اپنی بے پناہ کششِ ثقل کے باعث زمین پر اسی نوعیت کے اثرات مرتب کرتا ہے۔تحقیق کے مطابق سورج اور چاند کی وجہ سے زمین کی پرت پر پیدا ہونے والا دباؤ عام طور پر چند کلوپاسکل کے برابر ہوتا ہے۔ بظاہر یہ بہت معمولی مقدار ہے حتیٰ کہ اسے ایک ہلکے ہاتھ سے دبانے کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود بعض فالٹس ایسے ہوتے ہیں جو پہلے ہی ٹیکٹونک قوتوں کے باعث انتہائی نازک حالت میں پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ ایسے فالٹ پر ایک معمولی اضافی دباؤ بھی حرکت کا آغاز کر سکتا ہے۔ معمولی دباؤ کیسے بڑا اثر پیدا کر سکتا ہے؟پی ایس ایل یونیورسٹی پیرس کے ماہرین کی اس تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلوResonance کا تصور ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے جھولے کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اگر کسی جھولے کو بے ترتیب انداز میں دھکا دیا جائے تو اس کی حرکت بہت زیادہ نہیں بڑھے گی لیکن اگر ہر بار بالکل مناسب وقت پر دھکا دیا جائے تو چھوٹا سا دھکا بھی جھولے کی حرکت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق فالٹ لائن کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ ہر فالٹ کی اپنی مخصوص خصوصیات ہوتی ہیں، جن میں چٹانوں کے درمیان رگڑ، ان کی حرکت کی رفتار اور رابطے کی حالت شامل ہیں۔ تحقیق میں ایک ایسے ماڈل کا استعمال کیا گیا جس میں فالٹ کے ایک چھوٹے حصے کو سپرنگ اور بلاک کے نظام کی طرح تصور کیا گیا۔اگر مدوجزری دباؤ کی شدت اور اس کا دورانیہ فالٹ کے قدرتی ردِعمل کے وقت کے ساتھ مطابقت پیدا کر لے تو معمولی سا دباؤ بھی فالٹ کی حرکت کو بڑھا سکتا ہے۔اس تحقیق کا تعلق خاص طور پر سست زلزلوں سے ہے۔ عام زلزلوں کے برعکس سست زلزلوں میں توانائی طویل عرصے میں خارج ہوتی ہے۔ بعض اوقات یہ حرکت اتنی آہستہ ہوتی ہے کہ سطحِ زمین پر موجود انسان اسے محسوس ہی نہیں کر پاتے۔ نئی کمپیوٹر ماڈلنگ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ بعض فالٹس میں یہ تعلق کیوں پیدا ہوتا ہے تاہم ہر فالٹ کا ردِعمل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ بعض جگہ معمولی مدوجزری قوت صرف آہستہ حرکت پیدا کر سکتی ہے جبکہ کسی دوسرے فالٹ میں مخصوص شدت اور وقت کے ساتھ یہی قوت نسبتاً تیز حرکت کا سبب بن سکتی ہے۔ کیا اس دریافت سے بڑے زلزلوں کی پیش گوئی ممکن ہو جائے گی؟یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے لیکن اس کا جواب فی الحال محتاط انداز میں دینا ضروری ہے۔یہ تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ پورے چاند، نئے چاند یا کسی خاص دن کو لازماً بڑا زلزلہ آئے گا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ سورج اور چاند بڑے تباہ کن زلزلوں کے بنیادی اسباب ہیں۔یہ تحقیق دراصل یہ بتاتی ہے کہ پہلے سے دباؤ میں موجود بعض فالٹس پر مدوجزری قوت ایک محرک کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر سائنسدان زلزلہ نما سرگرمی اور مدوجزری چکروں کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھ لیں تو مستقبل میں فالٹس کی خصوصیات کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔محققین کا خیال ہے کہ مستقبل میں زلزلہ ریکارڈ کرنے والے آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو مدوجزری سرگرمی کے ساتھ ملا کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسی فالٹ کی رگڑ کتنی مضبوط ہے اور اسے حرکت شروع کرنے کے لیے کتنی قوت درکار ہوتی ہے۔ یہ معلومات بالخصوص ان علاقوں کے لیے اہم ہو سکتی ہیں جہاں بڑی ٹیکٹونک پلیٹیں ایک دوسرے کے نیچے دھنس رہی ہیں اور جہاں مستقبل میں بڑے میگا تھرسٹ زلزلوں کا خطرہ موجود ہے۔

47 سال میں زمین کی 12 ٹریلین ٹن برف پگھل گئی

47 سال میں زمین کی 12 ٹریلین ٹن برف پگھل گئی

سیٹلائٹ نے خطرے کی نئی تصویر دکھا دیزمین کے قطبی علاقوں میں برف کا پگھلنا کوئی نئی بات نہیں لیکن ایک تازہ تحقیق نے اس مسئلے کی شدت اور رفتار کے بارے میں ایسی تصویر پیش کی ہے جو تشویش میں اضافہ کرتی ہے۔ٹفٹس یونیورسٹی اور ورجینیا ٹیک کے محققین کی اس تحقیق کے مطابق گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کے برف زاروں میں1979ء سے 2023ء کے درمیان مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے بارہ ٹریلین ٹن برف ختم ہو گئی۔ اتنی بڑی مقدار میں برف کا خاتمہ محض قطبی علاقوں تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے سمندروں اور ساحلی آبادیوں کے لیے ایک اہم خطرہ بن رہا ہے۔یہ نتائج 27 مختلف سیٹلائٹ مشنز سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار اور برفانی علاقوں کے 42 الگ الگ سرویز کو یکجا کرکے حاصل کیے گئے ہیں۔ اس طویل مدتی ریکارڈ نے سائنسدانوں کو تقریباً نصف صدی کے دوران برف میں ہونے والی تبدیلیوں کو زیادہ واضح انداز میں سمجھنے کا موقع دیا ہے۔برف کے ضیاع کا حیران کن پیمانہگرین لینڈ اور انٹارکٹیکا دنیا کی سب سے بڑی برفانی علاقے ہیں۔ یہاں موجود برف میں دنیا کے تازہ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ منجمد حالت میں موجود ہے۔ جب یہ برف پگھل کر سمندر میں شامل ہوتی ہے تو سطح سمندر میں اضافہ ہوتا ہے۔ٹفٹس یونیورسٹی اور ورجینیا ٹیک کی اس تحقیق کے مطابق 1979ء سے 2023ء تک ان دونوں برفانی علاقوں سے ضائع ہونے والی برف سے عالمی سطح سمندرمیں تقریباً تین سنٹی میٹر اضافہ ہوا ۔ بظاہر تین سینٹی میٹر کا اضافہ بہت معمولی محسوس ہوسکتا ہے لیکن ساحلی علاقوں کے لیے اس کے اثرات بہت زیادہ ہیں کیونکہ سطح سمندر میں ہر ایک سینٹی میٹر اضافے کے ساتھ سیلاب کے سالانہ خطرات سے بیس سے تیس لاکھ مزید افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قطبوں سے دور رہنے والے ممالک بھی اس تبدیلی سے محفوظ نہیں۔ دنیا کے ساحلی شہر، بندرگاہیں، جزائر اور نشیبی علاقے بڑھتی ہوئی سطح سمندر کے باعث مستقبل میں زیادہ شدید سیلاب، ساحلی کٹاؤ اور نمکین پانی کے اندرونی علاقوں تک پہنچنے کے خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ 1990کے بعد تشویشناک اضافہتحقیق نے یہ بھی ظاہر کیا کہ برف کا پگھلنا ہر دور میں ایک جیسا نہیں رہا۔ 1970ء، 1980ء اور 1990ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں صورتحال نسبتاً مستحکم تھی لیکن اس کے بعد برفانی پگھلاؤ میں اضافہ شروع ہوا اور 2010ء کی دہائی میں یہ عمل خاص طور پر تیز ہوگیا۔یہی رفتار سائنسدانوں کے لیے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ اگر برف مسلسل زیادہ تیزی سے پگھلتی رہی تو مستقبل میں سطح سمندر میں اضافے کی رفتار بھی بڑھ سکتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 2020ء سے 2023ء کے دوران انٹارکٹیکا میں برف کے پگھلنے کی رفتار بظاہر کچھ کم دکھائی دی۔ تاہم محققین اسے عالمی حدت میں کمی نہیں سمجھتے۔ مشرقی انٹارکٹیکا میں غیر معمولی برف باری نے عارضی طور پر برف کے نقصان کو متوازن کیا جبکہ موسم کی مختصر مدتی تبدیلیوں نے بھی اعداد و شمار کو متاثر کیا۔ محققین کے مطابق 2023ء کے بعد کے مشاہدات دوبارہ تیزی سے جاری برفانی نقصان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔مستقبل میں سمندروں پر اثرات؟ٹفٹس یونیورسٹی اور ورجینیا ٹیک کی اس تحقیق کی اہمیت صرف ماضی کے برفانی نقصان کو شمار کرنے تک محدود نہیں، سائنسدانوں کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آنے والی دہائیوں میں یہ عمل کس رفتار سے جاری رہے گا۔گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور سمندر بھی اس اضافی حرارت کا بڑا حصہ جذب کررہے ہیں۔ اگر سمندر مزید گرم ہوتے ہیں تو گلیشیئرز کے سمندر کی طرف بہاؤ میں مزید تیزی آسکتی ہے۔ یہ عمل سطح سمندر میں اضافے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ برفانی چادروں کی تبدیلیاں بعض اوقات عالمی درجہ حرارت میں تبدیلی کے کئی برس یا دہائیاں بعد نمایاں ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر دنیا آج گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائے تو برفانی علاقوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ 27 سیٹلائٹ مشنز اور درجنوں سرویز پر مشتمل یہ طویل مدتی ریکارڈ اہم ہے۔ اس سے سائنسدانوں کو نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کتنی برف ضائع ہوچکی ہے بلکہ یہ بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ برفانی چادریں گرم ہوتی ہوئی دنیا کے ساتھ کس طرح ردعمل ظاہر کررہی ہیں۔ گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کی برف صرف قطبی علاقوں کا قدرتی منظر نہیں، یہ زمین کے آب و ہوا کے نظام اور سمندروں کے مستقبل کا ایک اہم حصہ ہے اور اس میں 12 ٹریلین ٹن سے زیادہ برف کا خاتمہ ایک ایسا انتباہ ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ آنے والے برسوں میں دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ بڑھتے ہوئے سمندروں کے ساتھ صرف مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرے گی یا عالمی حدت کی بنیادی وجوہات کو کم کرنے کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات بھی کرے گی۔

آج کا دن

آج کا دن

جنگِ یومِ کپور6 اکتوبر 1973ء کو مصر اور شام نے اسرائیل کے خلاف مربوط فوجی کارروائی کی۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کی اہم ترین جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ مصر نے نہرِ سویز عبور کرکے جزیرہ نما سینا میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا جبکہ شام نے گولان کی پہاڑیوں کے محاذ پر اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائی شروع کی۔ یہ حملہ یہودی تہوار یومِ کپور کے موقع پر کیا گیا اس لیے اس جنگ کو یومِ کپور جنگ کہا جاتا ہے۔ عرب دنیا میں اسے جنگِ اکتوبر بھی کہا جاتا ہے۔اس جنگ کا بنیادی مقصد 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں جانے والے علاقوں کو واپس حاصل کرنا تھا۔ اس جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، عرب اسرائیل تعلقات اور عالمی سفارت کاری پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ فلائٹ 455 کا سانحہ 6 اکتوبر 1976ء کو کیوبا کی فضائی کمپنی کیوبانا ڈی ایویاسیون کی فلائٹ 455 بم حملے کا نشانہ بنی۔ یہ طیارہ بارباڈوس سے جمیکا کے راستے کیوبا جا رہا تھا۔ پرواز کے کچھ ہی دیر بعد طیارے میں دھماکا ہوا اور طیارے میں موجود تمام 73 افراد ہلاک ہوگئے۔ اس واقعے نے کیوبا اور اس کے مخالف سیاسی عناصر کے درمیان جاری شدید کشیدگی کو مزید نمایاں کیا۔یہ سانحہ عالمی ہوابازی کی تاریخ میں دہشت گردی کے بدترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس واقعے نے فضائی سفر میں سکیورٹی کے اقدامات اور مسافروں کی جانچ پڑتال کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ صدر انور سادات کا قتل6 اکتوبر 1981ء کو مصر کے صدر انور سادات کو قاہرہ میں فوجی پریڈ کے دوران قتل کر دیا گیا۔ یہ پریڈ 1973ء کی جنگ میں مصر کی نہرِ سویز عبور کرنے کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔ سادات فوجی پریڈ کے دوران مہمانوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ فوجی وردی میں ملبوس مسلح حملہ آوروں نے پریڈ میں شامل ایک فوجی گاڑی سے نکل کر صدارتی سٹیج پر حملہ کردیا۔ فائرنگ اور دستی بموں کے حملے میں سادات شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں دم توڑ گئے۔انور سادات مصر کی تاریخ کی ایک نمایاں سیاسی شخصیت تھے۔ وہ جمال عبدالناصر کے بعد مصر کے صدر بنے ۔ سادات کی موت کے بعد نائب صدر حسنی مبارک نے اقتدار سنبھالا۔گینگ آف فور کی گرفتاری 6 اکتوبر 1976ء کو چین کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ آیا جب گینگ آف فور کے نام سے معروف چار بااثر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ماؤ زے تنگ کی ستمبر 1976ء میں وفات کے بعد چین کی قیادت میں طاقت کی کشمکش تیز ہوگئی اور نئی قیادت نے گینگ آف فور کے سیاسی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کارروائی میں اس وقت کے چینی رہنما ہوا گو فینگ نے اہم کردار ادا کیا۔گینگ آف فور کی گرفتاری نے چین میں تقریباً ایک دہائی سے جاری ثقافتی انقلاب کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔ اس کے بعد چین کی سیاسی سمت بتدریج تبدیل ہوئی اور آنے والے برسوں میں معاشی اصلاحات اور ماڈرنائزیشن کی پالیسیوں نے ملک کی ترقی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔انسٹاگرام کی لانچنگ6 اکتوبر 2010ء کو انسٹاگرام نے ایپل کے ایپ سٹور پر اپنے سفر کا آغاز کیا۔ کیون سسٹروم اور مائیک کریگر کی تیار کردہ اس ایپ کا بنیادی مقصد موبائل فون کے ذریعے تصاویر کو آسانی سے شیئر کرنا تھا۔ اس کا تصور نسبتاً سادہ تھا: صارف تصویر بنائے، اسے فلٹر کے ذریعے بہتر کرے اور اپنے دوستوں یا دوسرے صارفین کے ساتھ شیئر کرے۔ لانچ کے پہلے ہی دن اس ایپ نے خاصی توجہ حاصل کی۔انسٹاگرام نے سوشل میڈیا کے انداز کو نمایاں طور پر تبدیل کیا۔ اس سے پہلے سوشل نیٹ ورکنگ کا بڑا حصہ تحریری پوسٹس اور پیغامات کے گرد گھومتا تھا لیکن انسٹاگرام نے تصویر کو رابطے اور اظہار کا بنیادی ذریعہ بنا دیا۔ بعد میں اس میں ہیش ٹیگز، ویڈیوز، سٹوریز، لائیو ویڈیو اور دیگر خصوصیات شامل ہوتی گئیں۔

قدیم مقبرہ، جدید دور کا خوف

قدیم مقبرہ، جدید دور کا خوف

فرعون کی آخری آرام گاہ کے پراسرار حصارکا راز آج بھی برقرارقدیم مصر کے فرعون توتن خامن کا مقبرہ صرف آثارِ قدیمہ کی ایک حیرت انگیز دریافت نہیں بلکہ صدیوں پرانے اسراراور پراسرار کہانیوں کا مرکز بھی بن چکا ہے۔ 1922ء میں ہاورڈ کارٹر کی جانب سے اس مقبرے کی دریافت نے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا تھا، مگر اس کے بعد مقبرے سے وابستہ ''فرعون کی لعنت‘‘ کی داستان نے لوگوں کے تجسس کو مزید بڑھا دیا۔ مقبرے کی دریافت کے بعد بعض افراد کی اموات اور بدقسمتی کے واقعات کو توتن خامن کی مبینہ لعنت سے جوڑا گیا، اگرچہ ان دعوؤں کے سائنسی شواہد موجود نہیں۔ اب ماہرین آثارِ قدیمہ کی جانب سے مقبرے کے اندر ممکنہ پوشیدہ حصوں کی تلاش اور ملکہ نیفرتیتی سے متعلق قیاس آرائیوں نے اس قدیم راز کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اس غیر معمولی دریافت کے ساتھ آثارِ قدیمہ کی ایک ایسی داستان بھی جنم لیتی گئی جو آج تک لوگوں کے تجسس کا باعث ہے۔ کھدائی سے وابستہ افراد میں بیماریوں، حادثات اور بعض غیر متوقع اموات کے واقعات سامنے آنے کے بعد یہ دعوے کیے جانے لگے کہ کم عمر فرعون کی آخری آرام گاہ کسی مہلک لعنت کے حصار میں ہے۔اب ماہرین آثارِ قدیمہ مقبرے کے اندر ممکنہ طور پر موجود پوشیدہ کمروں کی تلاش کیلئے ڈرلنگ پر غور کر رہے ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ ان خفیہ حصوں میں ملکہ نیفرتیتی کا طویل عرصے سے گمشدہ مقبرہ موجود ہو سکتا ہے۔ اس امکان نے توتن خامن کے مقبرے سے وابستہ پراسرار کہانیوں اور نام نہاد ''فرعون کی لعنت‘‘ کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔مقبرہ کھلنے کے صرف پانچ ماہ بعد ایک اہم شخص کو مبینہ طور پر اس لعنت کا پہلا شکار قرار دیا گیا۔ اس منصوبے کے اہم مالی معاون لارڈ کارناروون5 اپریل 1923ء کو خون میں زہریلے جراثیم پھیلنے اور نمونیا کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کے چہرے پر مچھر کے کاٹنے کا زخم انفیکشن کا شکار ہوگیا تھا۔ تاہم بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ فرعون کے مقبرے میں موجود جراثیمی ذرات یا پھپھوندی کے بیضے سانس کے ذریعے اندر جانے سے بھی ان کی بیماری اور موت میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔ان افواہوں کو معروف مصنف سر آرتھر کونن ڈوئل کے بیان سے بھی تقویت ملی۔ شرلاک ہومز کے خالق نے گلاسگو ہیرالڈ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس خیال کا اظہار کیا کہ ممکن ہے کسی ''شرپسند مافوق الفطرت قوت‘‘ نے لارڈ کارناروون کی مہلک بیماری کا سبب بنی ہو۔ ان کے مطابق اس دور میں موجود مافوق الفطرت قوتوں کی نوعیت کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم قدیم مصری شاید ان معاملات کے بارے میں ہم سے کہیں زیادہ جانتے تھے۔توتن خامن کے مقبرے کا دورہ کرنے والے ایک اور شخص جسے ''لعنت‘‘ کا مبینہ شکار قرار دیا گیا، جارج جے گولڈ تھا، جو ایک دولت مند امریکی سرمایہ کار تھا۔ اس نے 1923ء میں لارڈ کارناروون کی دعوت پر مقبرے کا دورہ کیا، لیکن وہاں سے واپسی کے تقریباً فوراً بعد بیمار پڑ گیا۔ وہ صحت یاب نہ ہو سکا اور چند ماہ بعد نمونیا کے باعث انتقال کر گیا۔آرتھر میس بھی ان ماہرین آثارِ قدیمہ میں شامل تھا جنہوں نے مقبرے کے خزانے کو صاف کرنے، محفوظ کرنے اور ان کی فہرست مرتب کرنے میں مدد کی۔ مقبرے میں کام کرنے کے بعد اس کی صحت مسلسل خراب ہوتی گئی اور 53 سال کی عمر میں نمونیا سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث اس کا انتقال ہوگیا۔اس سلسلے میں ایک زیادہ پراسرار واقعہ ماہر آثارِ قدیمہ ہیگ ایولین وائٹ کی موت کا ہے، جو مقبرے کے تدفینی حجرے میں داخل ہوا تھا۔ اس نے 1924ء میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ حیرت انگیز طور پر ''لعنت‘‘ کے بعض مبینہ شکار ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے مقبرے میں قدم تک نہیں رکھا تھا۔ لارڈ کارناروون کے سوتیلے بھائی آبری ہربرٹ بھی 1923ء میں، مقبرہ کھلنے کے کچھ عرصے بعد، دانتوں کے علاج کے بعد خون میں زہریلے جراثیم پھیلنے کے باعث انتقال کر گئے۔ اس واقعے نے کارناروون خاندان کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی اور بعض لوگوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ صرف لارڈ کارناروون سے خاندانی تعلق کی وجہ سے مبینہ لعنت کا شکار ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ فرعون کے مقبرے کی مبینہ لعنت کا ایک اور شکار آرون ایمبر تھا، جو 1926ء میں ہلاک ہوا۔ اگرچہ وہ براہِ راست مقبرے کی کھدائی میں شامل نہیں تھا، تاہم اس ماہر مصریات کی کھدائی کرنے والی ٹیم کے بعض ارکان سے دوستی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ قدیم مصری عقائد سے متعلق ایک قلمی نسخے کو بچانے کی کوشش کے دوران گھر میں لگنے والی آگ کی لپیٹ میں آکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔مقبرہ دریافت کرنے والے ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر بظاہر ایسی کسی پراسرار نحوست سے متاثر نہیں ہوئے، تاہم ان کے بعض دوستوں کے بارے میں بھی ایسی کہانیاں مشہور ہیں۔اشاعتی صنعت سے وابستہ معروف شخصیت سر بروس انگریم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہاورڈ کارٹر نے انہیں ایک حنوط شدہ ہاتھ بطور تحفہ دیا تھا، جسے وہ کاغذات دبانے کیلئے بطور پیپر ویٹ استعمال کرتے تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد مبینہ طور پر ان کے گھر میں آگ لگ گئی، اور تعمیر نو کے دوران عمارت سیلاب سے بھی متاثر ہوئی۔توتن خامن: قدیم مصر کا پراسرار فرعونتوتن خامن مصر کے 18ویں شاہی خاندان کا فرعون تھا، جس نے 1332 قبل مسیح سے 1323 قبل مسیح تک حکومت کی۔وہ فرعون اخناتون کا بیٹا تھا اور تقریباً 9 یا 10 سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔توتن خامن کا انتقال تقریباً 18 سال کی عمر میں ہوا، تاہم اس کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ 1907ء میں لارڈ کارناروون نے انگریز ماہر آثارِ قدیمہ اور مصریات کے ماہر ہاورڈ کارٹر کو وادیِ ملوک میں کھدائی کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی۔4 نومبر 1922ء کو ہاورڈ کارٹر کی ٹیم نے ایسی سیڑھیاں دریافت کیں جو توتن خامن کے مقبرے تک جاتی تھیں۔ کارٹر نے تدفینی حجرے کو کھولنے سے پہلے کئی ماہ تک مقبرے کے ابتدائی حصے میں موجود اشیا کی فہرست اور درجہ بندی کا کام کیا۔ فروری 1923ء میں تدفینی حجرہ کھولا گیا اور وہاں توتن خامن کا تابوت دریافت ہوا۔مقبرے کے اندر بے شمار قیمتی اور تاریخی اشیا موجود تھیں، جن کی کثرت کے باعث کارٹر اور اس کی ٹیم کو مقبرے کے تمام خزانے کو محفوظ کرنے، دستاویزات مرتب کرنے اور باہر نکالنے میں دس سال لگے۔ بہت سے لوگوں کیلئے توتن خامن قدیم مصر کی عظمت اور شان و شوکت کی علامت بن گیا، کیونکہ اس کا مقبرہ ایسی چمکتی دمکتی دولت اور قیمتی اشیا سے بھرا ہوا تھا جو 18ویں شاہی خاندان کی خوشحالی اور عظمت کی عکاسی کرتی تھیں۔

سلام، معمارانِ قوم کو

سلام، معمارانِ قوم کو

اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریرکسی بھی قوم کی ترقی کا سفر صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی خوشحالی سے طے نہیں ہوتا بلکہ اس کے حقیقی معمار وہ لوگ ہوتے ہیں جو نئی نسل کے ذہنوں کو علم، شعور اور کردار کی روشنی سے منور کرتے ہیں۔ استاد اسی عظیم فریضے کا امین ہے۔ ماں کی گود سے سیکھنے کا آغاز کرنے والا بچہ جب درسگاہ میں قدم رکھتا ہے تو استاد اس کی صلاحیتوں کو جِلا بخشتا، اس کی سوچ کو وسعت دیتا اور اسے زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ استاد صرف کتاب کے اسباق نہیں پڑھاتا بلکہ وہ اپنے کردار، رویے اور رہنمائی سے شاگرد کی شخصیت تشکیل دیتا ہے۔ اسی لیے استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے، کیونکہ آج کے طالب علم ہی کل کے سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر، ادیب، محقق، منتظم اور رہنما بنتے ہیں۔ اساتذہ کا عالمی دن ہمیں ان عظیم ہستیوں کی خدمات، محنت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور معاشرے میں ان کے مقام و احترام کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔مُعَلّمِی وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام میں نہیں بلکہ ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے بھی استاد کی قدر کی وہ دنیا بھر میں سرفراز ہوئی۔ امریکہ، برطانیہ، جاپان، فرانس، ملائیشیا، اٹلی سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں جو عزت اور مرتبہ استاد کو حاصل ہے، وہ ان ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کو بھی نہیں دیا جاتا کیوں کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ استاد مینار نور ہے، جو اندھیرے میں ہمیں راہ دکھلاتا ہے۔ ایک سیڑھی ہے، جو ہمیں بلندی پر پہنچا دیتی ہے۔ ایک انمول تحفہ ہے، جس کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضورﷺ کو بحیثیت معلم بیان کیا اور خود نبی کریمﷺ نے بھی ارشاد فرمایا کہ ''مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں کوئی حسرت ہے، تو آپؓ نے فرمایا کہ ''کاش میں ایک معلم ہوتا‘‘۔ استاد کا کردار معاشرے میں بہت اہم ہے۔ ہر سال 5اکتوبر کو ''اساتذہ کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے 1994ء میں یہ دن منانے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ پاکستان میں 2007ء سے یہ دن ''سلام ٹیچرز‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔استاد کی عظمت و اہمیت اور معاشرے میں اس کے کردار پر علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒکہتے ہیں کہ ''استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں، کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہیں کے سپرد ہے‘‘۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی، تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سر چشمہ اس کی محنت ہے۔ معلم فروغ علم کا ذریعہ ہے لیکن اس کے علم سے فائدہ وہ نیک بخت اٹھاتے ہیں۔ جن کے سینے ادب و احترام کی نعمت سے مالا مال ہوں، کیونکہ ''ادب ایک درخت ہے اور علم اس کا پھل۔ اگر درخت ہی نہ ہو تو پھل کیسے لگے گا؟‘۔‘ میری نظر میں سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔ خلیفہ چہارم امیر المومنین حضرت علی ؓ نے فرمایا! ''جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا میں اسے استادکا درجہ دیتا ہوں۔ ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں کہ !''عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کیلئے کھڑے ہو جاؤ‘‘۔ہارون الرشید کے دربار میں کوئی عالم تشریف لاتے تو بادشاہ ان کی تعظیم کیلئے کھڑا ہو جاتا۔ درباریوں نے کہا کہ اس سے سلطنت کا رُعب جاتا رہتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ اگر علمائے دین کی تعظیم سے رعب سلطنت جاتا ہے تو جائے۔ہارون الرشید نے اپنے بیٹے مامون کو علم و ادب کی تعظیم کیلئے امام اصمعیؒ کے سپرد کر دیا تھا ایک دن ہارون اتفاقاً ان کے پاس جا پہنچا۔ دیکھا کہ اصمعیؒ اپنے پاؤں دھو رہے ہیں اور شہزادہ پاؤں پر پانی ڈال رہا ہے۔ ہارون الرشید نے برہمی سے کہا میں نے تو اسے آپ کے پاس اس لئے بھیجا تھا کہ آپ اس کو ادب سکھائیں گے۔ آپ نے شہزادے کو یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالے اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پاؤں دھوئے۔استاد : عالمی شخصیات کی نظر میں٭...استاد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ تخلیقی اظہار اور علم میں مسرت جگا دے۔( البرٹ آئن سٹائن)٭...تعلیم زندگی میں کامیابی کی بنیادی اکائی ہے اور استاد کا شاگردوں پر اثر آخر تک رہتا ہے۔ (سولومن آرٹز)٭...میں زندگی کیلئے باپ کا مشکور ہوں اور میں اچھی زندگی کیلئے اپنے استاد کا مشکور ہوں۔( سکندر اعظم)٭...اچھا استاد امید جگاتا ہے اور سیکھنے کی لگن پیدا کرتا ہے۔( براڈ ہنری)٭...اچھا استاد جانتا ہے کہ شاگرد کے اندر کی صلاحیت کو باہر کیسے لانا ہے۔ (چارلس کورالٹ)٭...تمام علم کی صرف ایک علامت تدریس کی طاقت ہے۔( ارسطو)٭...اچھے استاد کے اندر ایک بچہ بیٹھا ہوتا ہے جو ہاتھ اٹھا اٹھا کر اور سر ہلا ہلا کر بتاتا جاتا ہے کہ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں۔(مشتاق احمد یوسفی)٭...تخلیقی اظہار اور علم کی روشنی ذہنوں میں منور کرنا استاد کا اعلیٰ فن ہے۔(ولیم آرتھر وارڈ)٭...اگر کسی ملک کو بدعنوانی سے پاک اور اعلیٰ خطوط پر معیاری قوم بنانا ہے تو مجھے شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں تین شخصیات تبدیلی لاسکتی ہیں۔ وہ باپ، ماں اور استاد ہیں۔(ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام)٭...ٹیکنالوجی صرف ایک آلہ ہے۔ بچوں کو ایک ساتھ کام کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے سلسلے میں استاد ہی سب کچھ ہے۔(بل گیٹس)٭...اگر آپ کامیاب ہوتے ہیں تو آپ کی کامیابی کا راز آپ کے اساتذہ میں ہی مضمر ہے‘‘۔(براک اوباما)٭...جو شخص تعلیم کا راستہ اختیار کرتا ہے، وہ معاشرے کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔(افلاطون)

طنز و مزاح:عید ملنا!

طنز و مزاح:عید ملنا!

مرزا صاحب ہمارے ہمسائے تھے، یعنی ان کے گھر میں جو درخت تھا اس کا سایہ ہمارے گھر میں بھی آتا تھا۔ اللہ نے انہیں سب کچھ وافر مقدار میں دے رکھا تھا۔ بچے اتنے تھے کہ بندہ ان کے گھر جاتا تو لگتا اسکول میں آگیا ہے۔ ان کے ہاں ایک پانی کا تالاب تھا جس میں سب بچے یوں نہاتے رہتے کہ وہ تالاب میں پانچ سو گیلن پانی بھرتے اور سات دن بعد 550 گیلن نکالتے۔ وہ مجھے بھی اپنے بچوں کی طرح سمجھتے، یعنی جب انہیں مارتے تو ساتھ میں مجھے بھی پیٹ ڈالتے، انہیں بچوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا سخت ناپسند تھا۔ حالانکہ ان کی بیگم سمجھاتیں کہ مسلمان بچے ہیں، آپس میں نہیں لڑیں گے تو کیا غیروں سے لڑیں گے۔ ایک روز ہم لڑ رہے تھے، بلکہ یوں سمجھیں رونے کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ یوں بھی رونا بچوں کی لڑائی کا ٹریڈ مارک ہے۔ اتنے میں مرزا صاحب آگئے۔''کیوں لڑ رہے ہو؟‘‘ہم چپ! کیونکہ لڑتے لڑتے ہمیں یہ بھول گیا تھا کہ کیوں لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں خاموش دیکھا تو دھاڑے، ''چلو گلے لگ کر صلح کرو۔‘‘ وہ اتنی زور سے دھاڑے کہ ہم ڈر کر ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ اس بار جب میں نے عید پر لوگوں کو گلے ملتے دیکھا تو یہی سمجھا کہ یہ سب لوگ بھی ہماری طرح صلح کر رہے ہیں۔عید کے دن گلے ملنا، عید ملنا کہلاتا ہے۔ پہلی بار اس دن انسان گلے ملا، جب خدا نے اسے ایک سے دو بنایا۔ یوں آج بھی گلے ملنے کا عمل دراصل انسان کے ایک نہ ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ عمل ہمیں دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتا ہے کہ وہ گلے پڑ تو سکتے ہیں، گلے مل نہیں سکتے۔ہمارے ہاں عید ملنا، عید سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ دکاندار گاہکوں سے، کلرک سائلوں سے اور ٹریفک پولیس والے گاڑی والوں کو روک روک کر ان سے عید ملتے ہیں۔ بازاروں میں عید سے پہلے اتنا رش ہوتا ہے کہ وہاں سے گزرنا بھی عیدملنا ہی لگتا ہے۔ کچھ نوجوان تو لبرٹی اور بانو بازار میں عید ملنے کی ریہرسل کرنے جاتے ہیں۔عید کے دن میں خوشبو لگا کر عید گاہ کا رخ کرتا ہوں۔ واپسی پر کپڑوں سے ہر قسم کی خوشبو آ رہی ہوتی ہے سوائے اس خوشبو کے جو لگاکر جاتا ہوں۔ عید مل مل کر وہی حال ہوجاتا ہے جو سومیٹر کی ریس جتنے کے بعد ہوتا ہے۔ اوپر سے گوجرانوالہ کی عید ملتی مٹی ایسی کہ جب واپس آکر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں تو گھر والے گردن نکال کر پوچھتے ہیں،''جی! کس سے ملنا ہے؟‘‘سیاست دان تو عید یوں ملنے نکلتے ہیں، جیسے الیکشن کمپین پر نکلے ہوں۔ جیتنے سے پہلے عید تو وہ آگے بڑھ کر ملتے ہیں اور جیتنے کے بعد عید مل کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پنجاب کے ایک سابق گورنر کا عید ملنے کا انداز نرالہ ہوتا تھا۔ ان کا حافظہ ہمارے ایک ادیب دوست جیسا تھا جو ایک ڈاکٹر سے اپنے مرض نسیان کاعلاج کروا رہے تھے، دو ماہ کے مسلسل علاج کے بعد ایک دن ڈاکٹر نے پوچھا،''اب تو نہیں بھولتے آپ؟‘‘''بالکل نہیں، مگر آپ کون ہیں اور یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘وہ سابق گورنر بھی عید پر معززین شہر سے عید ملنا شروع کرتے، ملتے ملتے درمیان تک پہنچتے تو بھول جاتے کہ کس طرف کے لوگوں سے مل لیا اور کس طرف کے لوگوں سے ابھی ملنا ہے۔ یوں وہ پھر نئے سرے سے عید ملنے لگتے۔ ایسے ہی ایک صاحب تیز دریا عبور کرنے کی کوشش میں تھے مگر عین دریا کے درمیان سے واپس پلٹ آئے۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے، دراصل جب میں دریا کے درمیان پہنچا تو بہت تھک گیا تھا سو واپس لوٹ آیا۔شاعر وہ طبقہ ہے جو خوشی غمی ہر دوموقعوں پر شعر سناتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سکھ کرپان کے بغیر، بنگالی پان کے بغیر اور شاعر دیوان کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا۔ اس لیے شاعر عید ملنے کیلئے بھی مشاعرے ہی کرتے ہیں۔ یوں مشاعروں کو لفظوں کا عید ملنا کہہ لیں اگرچہ وہ ہوتی تو لفظوں کی ہاتھا پائی ہے۔بچے پیار سے عید کو عیدی کہتے ہیں۔ اس لیے ان کو عیدی ملناان کا عید ملنا ہے۔ عورتیں بھی اکٹھی ہوکر عید ملتی ہیں، لیکن جہاں چار عورتیں اکٹھی ہوں وہاں وہ ایک دوسری سے نہیں، پانچویں سے خوب خوب ملتی ہیں۔ اور کوئی وہاں سے اٹھ کر اس لیے نہیں جاتی کہ جانے کے بعد وہاں بیٹھی رہنے والیاں اس سے ''عید ملنا‘‘ نہ شروع کردیں۔عید کے روز امام مسجد سے عید ملنے کا یہ طریقہ ہے کہ اپنی مٹھی مولوی صاحب کی ہتھیلی پر یوں رکھیں کہ ان کے منہ سے جزاک اللہ کی آواز نکلے۔ چھوٹے شہروں میں نوجوانوں کی اکثریت سنیما گھروں میں بھی عید ملنے جاتی ہے۔ بکنگ کے سامنے وہ عید ملن ہوتی ہے کہ جو سفید سوٹ پہن کر آتا ہے وہ براؤن سوٹ بلکہ کبھی کبھی تو کالے سوٹ میں لوٹتا ہے، اکثر بنیان میں بھی واپس آتے ہیں۔ عید ملنا وہ ورزش ہے جس سے وزن بہت کم ہوتا ہے۔ میرا ایک دوست بتاتا ہے کہ بیرون ملک میں نے عید پر سو پونڈ کم کیے۔

حکایت سعدیؒ:باپ اور بیٹی

حکایت سعدیؒ:باپ اور بیٹی

ایک رات میں (شیخ سعدیؒ) اس ارادے سے سو گیا کہ صبح سویرے قافلے کے ساتھ مل کر سفر کروں گا۔ اچانک رات کو ایسا بگولا آیا کہ اندھیرا ہی اندھیرا ہو گیا۔ میں نے راستے میں دیکھا ایک چھوٹی سی بچی اپنے دوپٹے کے ساتھ باپ کے چہرے سے گرد صاف کر رہی تھی۔ باپ اپنی بیٹی کو پیار کرتے ہوئے دیکھ کر رو پڑا اور کہنے لگا! بیٹی ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہ ان آنکھوں میں اس قدر مٹی بھر جائے گی کہ جو اوڑھنیوں سے صاف نہ ہو سکے گی۔ سعدیؒ فرماتے ہیں ہر شخص کی روح قبر کی طرف سرکش گھوڑے کی طرح بھاگ رہی ہے جس کو روکا نہیں جاسکتا۔ موت آکر جسم کی رکاب توڑ دے گی جس سے جسم کا تعلق روح سے ٹوٹے گا اور بالآخر جسم گڑھے میں گر جائے گا۔ اس حکایت سے سبق ملتا ہے کہ دنیا میں انسان خود کو جتنا بھی مٹی سے بچاتا پھرے لیکن قبر میں جا کر اس کا جسم مٹی سے ضرور بھر جائے گا۔ لہٰذا اس وقت کی تیاری کرنی چاہیے۔

آج تم یاد بے حساب آئے! احمد پرویز بین الاقوامی شہرت یافتہ مصوّر (1979-1926ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! احمد پرویز بین الاقوامی شہرت یافتہ مصوّر (1979-1926ء)

٭... 7 جولائی 1926ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔٭... تعلیم کا سلسلہ سینٹ جوزف کالج اور گورڈن کالج راولپنڈی میں مکمل کیا۔٭... وہ ایک سیماب صفت انسان تھے جن کی زندگی والدین کی علیحدگی اور دوسرے عوامل کے سبب متاثر رہی۔٭... انہوں نے تین شادیاں کیں جو ناکام رہیں، یوں احمد پرویز کی ذاتی زندگی بھی ذہنی دباؤ اور کرب میں گزری۔٭... تاہم انہوں نے اپنے فن میں کمال حاصل کیا اور دنیا بھر میں پہچانے گئے۔٭...1952ء میں ان کے فن پاروں کی پہلی نمائش جامعہ پنجاب لاہور کے فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں منعقد ہوئی، جسے اہل فن نے بے حد سراہا۔٭... 1955ء سے 1964ء تک وہ لندن میں قیام پذیر رہے اور 1966ء سے 1969ء تک امریکا کے شہر نیویارک میں وقت گزارا۔٭...بیرون ملک رہتے ہوئے انہوں نے غیرملکی فن کاروں سے بہت کچھ سیکھا تھا اور تجریدی مصوّری میں ایک علیحدہ اور منفرد اسلوب کے مالک کہلائے۔٭...زندگی کے آخری دورمیں انہوں نے اپنے لیے گلدان اور پھول کے موضوع کا انتخاب کیا اور اس پر انہوں نے لاتعداد تصویریں بنائیں۔٭... احمد پرویز کی مصوّری کی پہچان تیز اور شوخ رنگ تھے۔٭...حکومت پاکستان نے انہیں 1978ء میں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی عطا کیا ۔٭...1979ء میں آج کے دن دارِ فانی سے کوچ کیا۔

آج کا دن

آج کا دن

''ونڈوز 11 ‘‘کا اجرا5اکتوبر2021ء کو مائیکروسافٹ نے کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 11 کو صارفین کیلئے جاری کیا۔ یہ ''ونڈوز 10‘‘ کے بعد مائیکرو سافٹ کے آپریٹنگ سسٹم کا نیا بڑا ورژن تھا۔ ونڈوز 11 میں صارفین کیلئے نیا ڈیزائن، بہتر یوزر انٹرفیس، نئے فیچرز اور کارکردگی میں بہتری متعارف کرائی گئی۔ اس کی عوامی سطح پر دستیابی دنیا بھر کے کمپیوٹر صارفین کیلئے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار پائی۔نئے نظام میں بہتر سکیورٹی، ملٹی ٹاسکنگ کی سہولت اور گیمنگ کے بہتر تجربے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔انڈونیشیا میں فضائی حادثہ1991ء میں آج کے روز انڈونیشیا کی فضائیہ کا ایک سی130 فوجی طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ یہ حادثہ دارالحکومت جکارتہ کے قریب پیش آیا، جس کے نتیجے میں 135 افراد جاں بحق ہوئے۔ حادثے نے انڈونیشیا میں فضائی سفر اور فوجی طیاروں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کردی۔یہ سانحہ انڈونیشیا کی فضائی تاریخ کے بڑے اور المناک حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔ لاڈ بروک ریل حادثہ 5 اکتوبر 1999ء کو لندن کے لاڈ بروک گروو میں ایک ریل حادثہ پیش آیا۔دو مسافر ٹرینوں کے آپس میں ٹکرانے کے نتیجے میں 31افراد ہلاک اور 417شدید زخمی ہوئے۔یہ برطانیہ میں 20ویں صدی میں ہونے والے بدترین حادثات میں سے ایک ہے۔دو سال کے عرصے میں گریٹ ویسٹرن مین لائن پر ہونے والا یہ دوسرا بڑا حادثہ تھا۔اس حادثے کو ''پیڈنگٹن ریل کریش‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ گلڈ فورڈ دھماکے 5 اکتوبر 1974ء کوگلڈ فورڈ پب میں بم دھماکے ہوئے۔ پرویژنل آئرش ریپبلکن آرمی نے گلڈ فورڈ، سرے، انگلینڈ میں دو پبوں میں جیلنائٹ بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی۔ پب کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہاں پربرائٹ بیرکوں میں تعینات برطانوی فوجی بہت زیاد ہ تعداد میں آیا کرتے تھے۔ان دھماکوں میں چار فوجی جبکہ ایک شہری ہلاک ہوا اور 65افراد زخمی ہوئے۔پرتگال کو مملکت تسلیم کیا گیا5اکتوبر 1143ء کو معاہدہ زامورا پر دستخط کے نتیجے میں لیون اور کاسٹیل کے بادشاہ الفانسو ہفتم نے پرتگال کو باقاعدہ طور پر ایک خودمختار مملکت تسلیم کر لیا۔ یہ معاہدہ پرتگال کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا اور اس کے نتیجے میں پرتگال کی بطور مملکت حیثیت کو تسلیم کیے جانے کی راہ ہموار ہوئی۔ اس معاہدے نے پرتگال کے حکمران الفانسو ہنریکس کی سیاسی حیثیت کو بھی مضبوط کیا۔ پرتگال کی آزادی کے اعتراف نے اسے جزیرہ نما آئبیریا کی ایک نمایاں سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے کا موقع دیا۔ امریکا میں پی بی ایس کا قیام1970ء میں آج کے روزامریکا میں پبلک براڈکاسٹنگ سروس (PBS) کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ایک غیر تجارتی عوامی نشریاتی ادارہ ہے، جس کا مقصد ناظرین کو تعلیمی، معلوماتی اور ثقافتی پروگرام فراہم کرنا تھا۔ پی بی ایس نے امریکی معاشرے میں تعلیم اور عوامی معلومات کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کیا۔جلدیہ ادارہ امریکا کے معروف نشریاتی نیٹ ورکس میں شامل ہوگیا اور اس کے پروگرام دنیا بھر میں بھی مقبول ہوئے۔

دیو ہیکل سبزیاں

دیو ہیکل سبزیاں

انگلینڈ میں منفرد مقابلہ، غیر معمولی حجم اور وزن والی سبزیاں توجہ کا مرکزسبزیوں کا شمار عام طور پر روزمرہ خوراک کا حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن برطانیہ کے شہر مالورن میں ہونے والا ایک منفرد مقابلہ انہیں غیر معمولی شہرت بخش دیتا ہے۔ یہاں کاشت کار اور شوقیہ باغبان ایسی سبزیاں اگانے کیلئے برسوں محنت کرتے ہیں جو اپنے غیر معمولی حجم اور وزن کے باعث دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہیں۔ دیوہیکل کدو، گاجر، گوبھی اور دیگر سبزیوں کی نمائش نہ صرف باغبانی کے شوق کی عکاسی کرتی ہے بلکہ محنت، تجربے اور قدرت کے ساتھ انسان کے تعلق کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس سال بھی مالورن میں کئی ''دیوہیکل سبزیوں‘‘ نے سبقت حاصل کی ہے۔برطانیہ میں خزاں کا موسم آچکا ہے اور کینا یو کے نیشنل جائنٹ ویجیٹیبلز چیمپئن شپ کا وقت آگیا ہے۔یہ انتہائی متوقع مقابلہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مالورن آٹمن شو میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد اس غیر معمولی جسامت کی سبزیوں کو دیکھنے کیلئے اس شو کا رخ کرتے ہیں۔ 25 سے 27 ستمبر تک منعقد ہونے والے اس سال کے مقابلے میں آنے والے شائقین کو مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، کیونکہ ہفتے کے اختتام پر پانچ باغبانوں کی اگائی ہوئی مجموعی طور پر سات غیر معمولی جسامت کی سبزیوں اور پھلوں نے عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی تصدیق حاصل کی۔یہ سات ریکارڈ توڑنے والی سبزیوں اور پودوں میں ایک دیوہیکل چقندر بھی شامل تھا، جس کا ریکارڈ 2019ء سے ناقابلِ شکست چلا آ رہا تھا۔ اس کے علاوہ بٹرنٹ اسکواش کی ایک انتہائی طویل قسم ''ٹرومبونچینو‘‘ بھی شامل تھی، جبکہ شاید بہت سے لوگوں کیلئے سب سے حیران کن چیز وہ پودا تھا جسے عام طور پر باغیچے کی ایک ناپسندیدہ جڑی بوٹی سمجھا جاتا ہے۔اتنی بڑی تعداد میں ریکارڈ قائم ہونا اس لحاظ سے بھی خاصا متاثر کن ہے کہ رواں موسمِ گرما کے دوران برطانیہ کو کئی مرتبہ طویل اور شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، ثابت قدم باغبانوں سے گفتگو کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس انتہائی موسم کا بھی حوصلے اور ثابت قدمی سے مقابلہ کیا۔مقابلے میں شامل تمام امیدواروں کی چیف جج اور گنیز ورلڈ ریکارڈز کے دیوہیکل سبزیوں کے ماہر سیباسٹین سوسکی نے انتہائی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی۔ انہوں نے ہر زمرے کے مقررہ قواعد کے مطابق شرائط پوری ہونے کی تصدیق کی، جس کے بعد سبزیوں اور پودوں کی پیمائش اور وزن کرنے کا اہم مرحلہ مکمل کیا گیا۔گنیز ورلڈ ریکارڈز کے نمائندے بھی موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے کامیاب نمونوں کا قریب سے معائنہ کیا اور ان کے کاشت کاروں کو سرٹیفکیٹس پیش کیے۔کیون فورٹی، جنہیں ''مسٹر جائنٹ ویج‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس سال ان دو کاشت کاروں میں شامل تھے جنہوں نے دو، دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کیے۔ دوسرے کاشت کار ونسنٹ سجوڈن تھے۔ کیون فورٹی کے خاندان میں دیوہیکل سبزیاں اگانے کی روایت تین نسلوں سے چلی آ رہی ہے اور اب تک خاندان کے افراد مجموعی طور پر 17 عالمی اعزازات اپنے نام کر چکے ہیں۔فورٹی کا کہنا ہے کہ ان کی نگاہیں 20 عالمی ریکارڈز کا سنگ میل عبور کرنے پر ہیں۔سب سے پہلے فورٹی نے سب سے بھاری لوفا کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ لوفا ایک بیل دار گرم خطے کا پودا ہے، جس کے خشک ہونے کے بعد اس کے پھل کو عموماً باتھ روم میں استعمال ہونے والے قدرتی اسفنج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ فورٹی نے ایک بالکل نئے زمرے میں بھی پہلا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا، جو سب سے لمبی ٹرومبونچینو کا تھا۔ شمالی اٹلی سے تعلق رکھنے والی یہ لمبی اور خمدار اسکواش کی زیادہ سے زیادہ لمبائی حاصل کرنے کیلئے باغبان کے سامنے اصل چیلنج یہ تھا کہ پھل کو سیدھا رکھا جائے۔ ٹرومبونچینو بھی بحیرہ روم کے خطے کی ایک ایسی سبزی ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران برطانیہ کے باغبانوں میں تیزی سے مقبول ہوئی ہے۔2026ء میں عالمی ریکارڈ کیلئے ایک اور نیا زمرہ سب سے لمبی ڈینڈیلائن کی جڑ کا متعارف کرایا گیا۔ اگرچہ مقابلے میں نمائش کیلئے پیش کی جانے والی دیگر سبزیوں کے مقابلے میں ڈینڈیلائن شاید زیادہ معروف نہ ہو، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس پودے کے تمام حصے قابلِ خوراک ہیں۔ اس کے پتے اور پھول سلاد میں استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ جڑ کو چائے کا ذائقہ بڑھانے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے بھون کر کافی کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔واروک شائر سے تعلق رکھنے والے طویل عرصے سے باغبانی کے شعبے سے وابستہ ماہر اور یوٹیوبر ٹیری کنگ کئی برسوں سے عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بالآخر اپنا پہلا گنیز ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز حاصل کرنا ان کیلئے ایک خواب پورا ہونے کے مترادف تھا۔

بے زبان مخلوق کے حقوق کا عالمی دن

بے زبان مخلوق کے حقوق کا عالمی دن

دنیا بھر میں ہر سال 4 اکتوبر کو جانوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہےدنیا بھر میں ہر سال 4 اکتوبر کو جانوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد انسانوں میں جانوروں کے حقوق، ان کے تحفظ، فلاح و بہبود اور قدرتی ماحول میں ان کی اہمیت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ جانور قدرتی نظام کا اہم حصہ ہیں اور زمین پر زندگی کے توازن کو برقرار رکھنے میں ان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان صدیوں سے مختلف جانوروں سے خوراک، لباس، زراعت، نقل و حمل اور دیگر ضروریات کیلئے فائدہ اٹھاتا آیا ہے، اس لیے ان کے ساتھ حسن سلوک اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا انسانی معاشرے کی اہم ذمہ داری ہے۔ اس سال یہ دن ''ان کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھئے‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔جانوروں کا عالمی دن پہلی مرتبہ 1925ء میں جرمنی کے شہر برلن میں منایا گیا تھا۔ بعدازاں یہ دن دنیا کے مختلف ممالک میں جانوروں کی فلاح و بہبود کیلئے شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ 4اکتوبر کا انتخاب اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ مسیحی روایت میں جانوروں اور قدرتی ماحول کے سرپرست سمجھے جانے والے سینٹ فرانسس آف اسیسی سے منسوب دن ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس دن کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور آج مختلف ممالک میں جانوروں کے تحفظ، جنگلی حیات اور ماحولیاتی توازن کے حوالے سے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔جانوروں کی دنیا انسانوں سے کہیں زیادہ وسیع اور متنوع ہے۔ جنگلات، پہاڑوں، صحراؤں، دریاؤں اور سمندروں میں لاکھوں اقسام کے جانور پائے جاتے ہیں۔ ہر نوع قدرتی ماحول میں ایک مخصوص کردار ادا کرتی ہے۔ شہد کی مکھیاں اور تتلیاں پودوں کی بارآوری میں مدد دیتی ہیں، پرندے بیجوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں جبکہ بہت سے جانور قدرتی خوراکی سلسلے کا اہم حصہ ہیں۔ کسی ایک نوع کی تعداد میں غیر معمولی کمی بھی پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔بدقسمتی سے انسانی سرگرمیوں کے باعث دنیا کے متعدد جانوروں کو بقا کے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، قدرتی مسکن کی تباہی، غیر قانونی شکار، آلودگی، پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال، موسمیاتی تبدیلی اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت نے کئی انواع کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بعض جانوروں کی نسلیں معدوم ہو چکی ہیں جبکہ کئی دیگر معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اگر قدرتی ماحول کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں بہت سے جانوروں کو صرف کتابوں اور تصویروں میں دیکھ سکیں گی۔شہری علاقوں میں بھی جانوروں کے ساتھ رویہ معاشرے کی اخلاقی تربیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ پالتو جانوروں کو مناسب خوراک، صاف پانی، محفوظ رہائش اور علاج کی سہولت فراہم کرنا ان کے مالک کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح آوارہ کتوں اور بلیوں کے ساتھ تشدد کے بجائے انسانی اور سائنسی طریقوں سے ان کی تعداد کو منظم کیا جانا چاہیے۔ زخمی یا بیمار جانور کو تکلیف پہنچانے کے بجائے متعلقہ اداروں یا ماہرین حیوانات سے مدد حاصل کرنا زیادہ ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔اسلامی تعلیمات میں بھی جانوروں کے ساتھ حسن سلوک پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں مخلوقات خدا کے ساتھ رحم، شفقت اور ذمہ داری کا درس ملتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جن میں جانوروں کے ساتھ رحم کرنے کو اجر و ثواب کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے جانوروں کے ساتھ اچھا برتاؤ صرف ماحولیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔جانوروں کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زمین صرف انسانوں کیلئے نہیں۔ قدرت نے تمام جانداروں کیلئے ایک مربوط نظام قائم کیا ہے جس میں ہر مخلوق کا اپنا مقام اور کردار ہے۔ جانوروں کے قدرتی مسکن کا تحفظ، غیر قانونی شکار کی روک تھام، جنگلی حیات کے قوانین پر عمل درآمد اور عوام میں شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر انسان ترقی کے ساتھ رحم، ذمہ داری اور ماحول دوستی کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف جانور محفوظ رہیں گے بلکہ ہماری اپنی آنے والی نسلوں کیلئے بھی ایک متوازن اور صحت مند دنیا برقرار رہ سکے گی۔

آج تم یاد بے حساب آئے!مسعود رانا سُروں میں ڈھلی خوبصورت آواز (1995-1938ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!مسعود رانا سُروں میں ڈھلی خوبصورت آواز (1995-1938ء)

٭... 9 جون 1938ء کو سندھ کے شہر میرپور خاص میں پیدا ہوئے، پورا نام مسعود احمد رانا تھا۔ ٭...1955ء میں ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے گانا شروع کیا۔٭...60ء کے عشرے میں میوزک بینڈ بنایا، جس میں اداکار ندیم اور اخلاق احمد بھی شامل تھے۔٭...1962ء میں فلم ''انقلاب‘‘ سے فلمی گیت گانے کی خواہش پوری ہوئی۔٭...ہلکے پھلکے رومانوی گیت ہوں، المیہ دھنیں ہوں، شوخ یا پھر لمبی تانیں وہ ہر قسم کے گیت گانے میں مہارت رکھتے تھے۔ ٭...پاکستان کی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار ہیں جنہوں نے اردو اور پنجابی فلموں اور گیتوں کی سینچریاں بلکہ ڈبل سینچریاں بنائیں۔٭... فلمی تاریخ کے واحد گلوکار تھے، جنھوں نے 600 سے زائد فلموں کیلئے نغمہ سرائی کی۔٭... پہلی فلم ''انقلاب‘‘ سے لے کر اپنی آخری فلم ''سناٹا‘‘ تک فلمی صنعت کی ضرورت بنے رہے۔٭...34سالہ کریئر میں ایک بھی سال ایسا نہیں گزرا جب ان کی کوئی فلم ریلیز نہ ہوئی ہو۔ ٭...ان کی بے مثل آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے انھیں ''پاکستانی رفیع‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ ٭...منفرد لہجے کے حامل اس گلوکار نے مشکل طرز کے گانے بھی ریکارڈ کرائے جو سننے والوں کو آج بھی اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔٭...ان کے گیتوں سے سجی فلموں میں ''آئینہ، دھڑکن، مجاہد، نائلہ، کون کسی کا، بھیّا، سنگ دل، پاک دامن، احساس، دامن اور چنگاری، میرا ماہی، مرزا جٹ، دھی رانی،دل میرا دھڑکن تیری، خواب اور زندگی،چراغ کہاں روشنی کہاں، ہمراہی، بدنام‘‘ نمایاں ہیں۔٭... تین موسیقاروں کے ساتھ سو، سو سے زائد گیت بھی گائے، جن میں بابا جی اے چشتی، ایم اشرف اور وجاہت عطرے شامل تھے۔٭...دنیائے موسیقی کا یہ روشن ستارہ 4 اکتوبر1995ء کو غروب ہو گیا۔حمد،نعت ، قوالی٭...مشکل میں سب نے تجھ کو پکارا، پروردگارا٭...وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے٭...کرم کی اک نظر ہم پر خدارا، یا رسول اللہﷺ ٭...مدینے والے کو میرا سلام کہہ دینا ٭...مولا تیرا کرم ہے ، ہمیں مصطفیﷺ ملے٭...داتا ،میرے، جھولی بھر دے، میں سوالی تیرے در کاملی نغمے٭...ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناحؒ٭...سوہنی دھرتی، اللہ رکھے، قدم قدم آباد تجھے٭...ساتھیو، مجاہدو، جاگ اْٹھا ہے سارا وطن ٭...اے وطن ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں٭...اے وطن، اسلام کی امید گاہ آخری، تجھ پر سلاممقبول گیت٭...تمہی ہو محبوب میرے،میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں٭...ٹانگے والا خیر منگدا ٭...عاشقاں توں سوہنا مکھڑا لکان لئی، سجناں نے بوہے اگے چک تان لئی٭...تیری یاد آگئی، غم خوشی میں ڈھل گئے٭...برا مان کر کہاں چل دیئے،٭...حسن والوں کا سدا برا انجام ہوتا ہے٭...دنیا ریل گاڑی، ہے سانپ کی سواری٭...میرے محبوب تجھے پیار نبھانا ہوگا٭...اک سانولی سی لڑکی میرے دل کو بھا گئی ٭...نہ جا میرے دلربا، سن لے دل کی صدا

آج کا دن

آج کا دن

اسپیس شپ ون کی تاریخی کامیابی4اکتوبر 2004ء کو نجی خلائی پرواز کے شعبے میں اسپیس شپ ون نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ''انصاری ایکس پرائز‘‘ جیتا۔ یہ انعام ایسی نجی ٹیم کیلئے مقرر کیا گیا تھا جو انسان بردار خلائی پرواز کی مخصوص شرائط کامیابی سے پوری کرے۔ اسپیس شپ ون نے کامیاب پروازوں کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ نجی شعبہ بھی انسانوں کو خلا کی حدود تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ میں تاریخی ڈکیتی کی واردات1997ء میں آج کے روز امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا میں ملک کی تاریخ کی دوسری بڑی ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا۔ اس واردات میں لومِس فارگو نامی سکیورٹی اور نقد رقم منتقل کرنے والی کمپنی کو نشانہ بنایا گیا۔ بڑی مقدار میں نقد رقم لوٹ لیے جانے کے باعث یہ واقعہ امریکی تاریخ کی نمایاں ترین ڈکیتیوں میں شمار ہوا۔ رومی امن معاہدہ''روم جنرل پیس ایکارڈز‘‘ ایک امن معاہدہ تھا جو موزمبیق اوررینیامو کی حکومت کے درمیان طے پایا تھا، جس سے 4 اکتوبر 1992ء کو موزمبیقن خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔اس امن معاہدہ کی وجہ سے 16برسوں سے جاری سول جنگ کا خاتمہ ہوا۔یہی وجہ تھی کہ اس معاہدے کو عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔سانحہ ایسٹرن ایئر لائنز 1960ء میں آج کے روز ایسٹرن ایئر لائنز کی پرواز 375 بوسٹن کو حادثہ پیش آیا۔ ٹیک آف کے فوراً بعد جہاز کا سامنا پرندوں کے جھنڈ سے ہوا،کچھ پرندے انجن میں داخل ہوگئے۔ انجن بند ہوتے ہی جہاز بے قابو ہوکر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں72افراد ہلاک جبکہ62افراد زخمی ہوئے۔