غازی علم دین شہید:ایمان،تاریخ اور انصاف کی جستجو

غازی علم دین شہید:ایمان،تاریخ اور انصاف کی جستجو

برصغیر کی تاریخ میں بعض واقعات محض ماضی کا حصہ بن کر نہیں رہتے بلکہ اجتماعی یادداشت، مذہبی جذبات اور قومی شعور میں مستقل جگہ بنا لیتے ہیں۔ غازی علم دین شہید کی داستان بھی ایک ایسا ہی تاریخی باب ہے جس میں عقیدت، نوآبادیاتی نظامِ انصاف، عوامی احتجاج اور تاریخ کے مختلف زاویے ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی زندگی اور مقدمے سے متعلق تاریخی دستاویزات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس گہرا ہوتا ہے کہ تاریخ کو سمجھنے کیلئے صرف واقعات کا بیان کافی نہیں بلکہ ان کے پس منظر، محرکات اور نتائج کا سنجیدہ جائزہ بھی ضروری ہے۔غازی علم دین شہید کا نام آج بھی برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی یادداشت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کی داستان ایک طرف رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ سے مسلمانوں کی غیر معمولی محبت اور وابستگی کی عکاسی کرتی ہے تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ مذہبی جذبات، قانون اور انصاف کے درمیان تعلق کو کس طرح سمجھا جائے۔ اس تاریخ کو خلوص، احترام اور فکری دیانت کے ساتھ پڑھنا ہی اس کے مختلف پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے کا راستہ ہے۔توہین آمیز کتاببیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں برصغیر برطانوی نوآبادیاتی اقتدار کے زیر اثر تھا۔ آزادی کی تحریک مختلف صورتوں میں آگے بڑھ رہی تھی۔ اسی ماحول میں مذہبی اختلافات اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے بھی شدت اختیار کی۔اس زمانے میں شائع ہونے والی ایک توہین آمیز کتاب نے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا۔ یہ کتاب ناشر مہاشے راجپال سے منسوب تھی۔ مسلمانوں کی جانب سے اس پر احتجاجی اجتماعات منعقد ہوئے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ راجپال کیخلاف ابتدائی قانونی کارروائی کے بعد معاملہ لاہور ہائیکورٹ تک پہنچا جہاں مئی 1927ء میں سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا۔ اس عدالتی فیصلے سے مسلمانوں کے مختلف حلقوں میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔ عام گھرانے سے تاریخ کے مرکز تکغازی علم دین 4 دسمبر 1908ء کو لاہور کے سریانوالہ بازار میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں طالع مند لکڑی کے کام سے وابستہ تھے جبکہ والدہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ ان کے بڑے بھائی محمد دین اور بہن معراج بیگم تھیں۔ خاندانی روایات کے مطابق ان کا تعلق شیخو جٹ برادری سے تھا اور خاندان کو احتراماً ''میاں‘‘ کہا جاتا تھا۔ان کی ابتدائی تعلیم ایک مدرسے میں ہوئی جہاں انہوں نے بنیادی دینی تعلیم حاصل کی۔ والد نے انہیں خاندانی پیشہ بھی سکھایا اور وہ لکڑی کے کام میں عملی مہارت حاصل کرنے لگے۔ شہر میں مذہبی ادارے، سیاسی تحریکیں، اخبارات اور عوامی اجتماعات معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ ایسے ماحول میں ایک عام نوجوان بھی اپنے گردوپیش کے واقعات سے متاثر ہوسکتا تھا۔ 6 اپریل 1929ء کا واقعہگستاخ راجپال کی عدالتی بریت کے بعد احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ مذہبی علما اور سیاسی رہنما عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے اور اس امر پر تشویش ظاہر کرتے کہ موجودہ قانونی نظام مذہبی جذبات کے تحفظ کیلئے ناکافی ہے۔ اس سے قبل غازی عبدالعزیز خان اور غازی خدا بخش نے راجپال پر حملہ کیا تھا جس میں وہ زخمی ہوگیا۔ اس واقعے کے نتیجے میں دونوں کو طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ غازی علم دین نے لاہور میں راجپال کیخلاف ہونے والے احتجاجی اجتماعات اور تقاریر کا اثر قبول کیا۔ ان روایات کے مطابق، بعض مقررین نے مجمع سے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص رسول اکرمﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی کیخلاف قدم اٹھانے کیلئے تیار نہیں؟ 6اپریل 1929ء کوغازی علم دین راجپال کی دکان پر گئے اور چھری کے وار سے اس کا کام تمام کردیا۔ انہیں گرفتار کرلیا گیا اور ان کیخلاف قتل کا مقدمہ قائم ہوا۔ مقدمہ اور قانونی دفاعغازی علم دین کے مقدمے کی کارروائی تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ 25 اپریل 1929ء کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ای ایس لیوس کی عدالت میں ان کیخلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 302 کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔ 22 مئی 1929ء کو عدالت نے سزائے موت سنائی۔ بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی کوشش کی گئی اور قائد اعظم محمد علی جناح اس قانونی کارروائی سے وابستہ ہوئے۔ بعض روایات کے مطابق قائد اعظم نے غازی علم دین کو ایسا دفاع اختیار کرنے کا مشورہ دیا جس سے ان کی جان بچنے کا امکان پیدا ہوسکتا تھالیکن انہوں نے اپنے عمل سے لاتعلقی ظاہر کرنے سے انکار کردیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے غازی علم دین کی سزائے موت برقرار رکھی۔ مزید قانونی کوششوں کیلئے علم دین ڈیفنس کمیٹی قائم ہوئی اور مالی وسائل جمع کیے گئے۔ بعض روایات کے مطابق برطانیہ کی پریوی کونسل میں اپیل کیلئے بھی رقم خرچ کی گئی لیکن ان کوششوں سے سزا تبدیل نہ ہوسکی۔میانوالی جیل اور وصیت 31اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں غازی علم دین کی سزائے موت کے فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا۔ ان کی آخری ملاقات، وصیت اور آخری لمحات سے متعلق تفصیلات اس زمانے کے اخبارات اور بعد کی روایات میں محفوظ ہیں۔ روزنامہ ''انقلاب‘‘ میں ان کی والدہ سے ملاقات کے حوالے سے ایک خواب کا ذکر ملتا ہے۔ ان سے منسوب وصیت میں نماز، نیک کردار، ذاتی اعمال کی جوابدہی اور خاندان کیلئے نصیحتوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔غازی علم دین کی شہادت کے بعد انہیں میانوالی میں امانتاًدفن کیا گیا۔اس دوران لاہور میں میت واپس لانے اور نمازِ جنازہ ادا کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ اس معاملے نے عوامی احتجاج کو ایک نئی جہت دی اور مذہبی و سیاسی شخصیات اس کی پیروی کیلئے سامنے آئیں۔لاہور واپسی اور تاریخی جنازہغازی علم دین کا جسد خاکی لاہور واپس لانے کی کوششوں میں علامہ محمد اقبالؒ، سر محمد شفیع، مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد بخش مسلم اور دیگر اہم شخصیات کے نام نمایاں ہیں۔ اس سلسلے میں قائم کمیٹی نے برطانوی حکام سے اجازت حاصل کرنے کی سبیل کی۔ حکام کو خدشہ تھا کہ بدامنی پیدا ہوسکتی ہے تاہم یقین دہانیوں کے بعد اجازت مل گئی۔14 نومبر 1929ء کو غازی علم دین شہید کی قبر کشائی کی گئی اور ان کے جسد خاکی کو دو روزہ سفر کے بعد لاہور لایا گیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ ان کی نمازِ جنازہ مسجد وزیر خان کے امام محمد شمس الدین نے پڑھائی۔ خاندانی روایت کے مطابق پورے برصغیر سے لوگ جنازے میں شرکت کیلئے لاہور پہنچے ۔ علامہ اقبالؒ کی جنازے میں شرکت اور ان سے منسوب یہ جملہ بھی مشہور ہے: ''اسی گلاں ای کردے رہ گئے، ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا‘‘۔ یہ جنازہ محض ایک فرد کی تدفین کا موقع نہیں تھا بلکہ مذہبی وابستگی، اجتماعی جذبات اور نوآبادیاتی دور کے سیاسی ماحول کی علامت بن گیا۔ اسی عوامی یادداشت نے غازی علم دین شہید کے نام کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔تاریخ سے حاصل ہونے والا سبقغازی علم دین شہید کی داستان کا مطالعہ کرتے ہوئے مذہبی عقیدت، تاریخی حقائق اور قانونی اصولوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ ان کیلئے مسلمانوں کی محبت اور ان کی تاریخی یادداشت میں مقام ایک حقیقت ہے ۔ اس واقعے کو سمجھنے کیلئے مقدمے کی کارروائی، اس دور کے حالات اور قانون کے تقاضوں کا جائزہ بھی ناگزیر ہے۔غازی علم دین شہید کا واقعہ آج بھی ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ مذہبی احترام اور انصاف کے تقاضوں کو معاشرے میں کس طرح ہم آہنگ کیا جائے۔ ماضی کے واقعات کو جذباتی وابستگی کے ساتھ ساتھ علمی دیانت سے سمجھنا ہی تاریخ سے حقیقی سبق حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہی رویہ ہمیں اپنے ماضی کی قدر کرنے، اس کے پیچیدہ پہلوؤں کو سمجھنے اور مستقبل کیلئے زیادہ ذمہ دارانہ طرزِ فکر اختیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

بچت کی عادت، مستحکم مستقبل کی ضمانت

بچت کی عادت، مستحکم مستقبل کی ضمانت

ہر سال 31اکتوبر کو کفایت شعاری کا عالمی دن منایا جاتا ہےزندگی کی حقیقی خوشحالی محض دولت کے انبار جمع کرنے یا نمود و نمائش پر بے دریغ رقم خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ محدود وسائل کو سمجھ داری سے استعمال کرنے، غیر ضروری اخراجات سے بچنے اور مستقبل کی ضروریات کیلئے بچت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں جہاں مہنگائی، معاشی ناہمواری اور قدرتی وسائل کی کمی نے انسان کو کئی چیلنجز سے دوچار کر رکھا ہے، وہاں کفایت شعاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کفایت شعاری کا عالمی دن اسی سوچ کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے کہ بہتر زندگی گزارنے کیلئے بے تحاشا خرچ کرنا ضروری نہیں، بلکہ سادہ طرزِ زندگی بھی خوشحالی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ کفایت شعاری کا عالمی دن یعنی ''ورلڈ سیونگز ڈے‘‘دنیا بھر میں31اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد آمدن سے زیادہ اخراجات پر قابو پانا اور بچت کو فروغ دینا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز 1924ء میں ''ورلڈ سوسائٹی آف سیونگ بینکس‘‘ کی جانب سے کیا گیا تھا تاکہ لوگوں میں کفایت شعاری اور پیسے جمع کرنے کا شعور اجاگر کیا جاسکے۔ اٹلی کے شہر میلان کے باسیوں نے 31 اکتوبر 1924ء کو پہلی بار اس دن کو منانے کا اعلان کیا جسے دنیا بھر میں سراہا گیا۔کفایت شعاری سے مراد ضرورت کے مطابق خرچ کرنا، فضول خرچی سے اجتناب کرنا اور اپنی آمدنی و وسائل کو اس انداز میں استعمال کرنا ہے کہ موجودہ ضروریات بھی پوری ہوں اور مستقبل کیلئے بھی کچھ محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ تصور کنجوسی سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ کنجوسی میں انسان جائز ضروریات پوری کرنے سے بھی گریز کرتا ہے، جبکہ کفایت شعاری میں ضروری اخراجات پورے کرتے ہوئے غیر ضروری خرچ سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف انفرادی زندگی میں توازن پیدا ہوتا ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کی معاشی حالت بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔کفایت شعاری کا تعلق صرف پیسے کی بچت سے نہیں، بلکہ وقت، توانائی، پانی، بجلی، خوراک اور دیگر قدرتی وسائل کے درست استعمال سے بھی ہے۔ گھروں میں غیر ضروری روشنیاں بند رکھنا، پانی ضائع نہ کرنا، ضرورت کے مطابق کھانا تیار کرنا، قابلِ استعمال اشیا کو بے جا پھینکنے کے بجائے دوبارہ استعمال میں لانا اور خریداری سے پہلے اپنی ضروریات کا جائزہ لینا ایسے اقدامات ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، لیکن اجتماعی سطح پر ان کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی طرح اشیائے صرف کی غیر ضروری خریداری سے گریز نہ صرف گھریلو بجٹ کو متوازن رکھتا ہے بلکہ وسائل کے ضیاع کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔پاکستان جیسے ملک میں کفایت شعاری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ محدود آمدنی میں گھر چلانے والے افراد کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماہانہ اخراجات کی منصوبہ بندی کریں، آمدنی اور خرچ کا حساب رکھیں اور غیر ضروری خریداری سے اجتناب کریں۔ اشیائے ضروریہ کی فہرست بنا کر خریداری کرنا، غیر ضروری قرضوں سے بچنا اور ممکنہ حد تک ہنگامی حالات کیلئے رقم محفوظ رکھنا مالی مشکلات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔کفایت شعاری کا بوجھ صرف عام شہریوں پر ڈالنا کافی نہیں۔ حکومتی اداروں، کاروباری تنظیموں اور دیگر قومی اداروں کو بھی وسائل کے مؤثر استعمال کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی، توانائی کی بچت، سرکاری عمارتوں میں بجلی اور پانی کا محتاط استعمال اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت ایسے اقدامات ہیں جن سے قومی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی اعتدال، سادگی اور فضول خرچی سے اجتناب پر زور دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ''اور کھاؤ اور پیو اور فضول خرچی نہ کرو، بیشک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ (سورۃ الاعراف: 31)۔ یہ تعلیم انسان کو یاد دلاتی ہے کہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانا درست ہے، لیکن ان کا بے جا استعمال اور اسراف مناسب طرزِ عمل نہیں۔ اعتدال پر مبنی زندگی انسان کو مالی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون اور ذمہ داری کا احساس بھی فراہم کرتی ہے۔کفایت شعاری کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وسائل کی قدر کرنا، ضرورت اور خواہش میں فرق سمجھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق زندگی گزارنا کامیاب معاشرے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ اگر ہر فرد اپنی زندگی میں اعتدال کو اپنائے، خاندان غیر ضروری اخراجات کم کریں اور ادارے قومی وسائل کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو معاشی استحکام کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کفایت شعاری کو محض ایک دن کی یاد دہانی تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے انفرادی عادت، اجتماعی رویے اور قومی طرزِ فکر کا حصہ بنایا جائے۔

آج کا دن

آج کا دن

فضائی سفر کا سیاہ بابمیٹرو جیٹ ایئر لائنز کی پرواز 9268، 2015ء میں آج کے روز مصر کے شمالی جزیرہ نما سینا کے اوپر پرواز کے دوران دہشت گردانہ بم دھماکے کا نشانہ بن گئی۔ اس انتہائی ہولناک فضائی حادثے اور دہشت گردانہ کارروائی کے نتیجے میں طیارے پر سوار عملے کے ارکان سمیت تمام 224 مسافر لقمہ اجل بن گئے۔ یہ واقعہ اس خطے اور بین الاقوامی ہوابازی کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔سوئز نہرکی بندش31اکتوبر1956ء کو مصری صدر جمال ناصر نے سوئز نہرکے راستے بحری جہازوں کی آمدورفت بند کر دی۔ جس پربرطانیہ اور فرانس نے مصر پر حملہ کر دیا۔ تاہم اقوام متحدہ نے نہر سویز کو مصر کا حق قرار دیا ۔ابتدا میں نہر سوئز سے بحری جہازوں کی یکطرفہ ٹریفک ممکن نہ تھی لیکن 2015ء میں کی جانے والی توسیع کے بعد اب سویز کینال سے بیک وقت تین کانوائے میں 97جہاز گزر سکتے ہیں۔ جاوید میانداد کی ڈبل سینچری 1976ء میں آج کے روز جاوید میانداد نے ڈبل سینچری بنانے والے کم عمر ترین کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اس وقت ان کی عمر 19سال 141دن تھی۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں انہوں نے 206 رنز بنا کر یہ اعزاز اپنے نام کیا۔ جاوید میانداد نے اپنے پورے کریئر میں 6 بار ڈبل سینچریاں بنائیں۔ مہاتیر محمد مستعفی ہوئے31اکتوبر 2003ء کو ملائیشیا کی تاریخ میں ایک اہم سیاسی موڑ اس وقت آیا جب طویل عرصے تک ملک کی قیادت کرنے والے وزیراعظم مہاتیر محمد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کی جگہ نائب وزیراعظم عبداللہ احمد بدوی کو نیا وزیراعظم مقرر کیا گیا، جس کے ساتھ ہی ملائیشیا کی سیاست پر مہاتیر محمد کے مسلسل 22 سالہ طویل، اثر انگیز اور ترقی پسند اقتدار کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہو گیا۔سویوز کی روانگی2000ء میں آج کے روز ''سویوز ٹی ایم 31‘‘ کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا گیا، جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کیلئے پہلا مستقل مسکن اور عملہ لے کر گیا۔ اس تاریخی خلائی مشن نے انسانی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا۔ اس دن کے بعد سے لے کر اب تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر مسلسل خلاباز موجود چلے آ رہے ہیں، اور وہاں خلائی تحقیق و رہائش کا یہ تسلسل بغیر کسی تعطل کے کامیابی سے جاری ہے۔شین کونری: جیمز بانڈ 007جیمز بانڈ سیریز کی فلموں کے پہلے ہیرو سر سین کونری 2020ء میں آج کے دن اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ 90برس کی عمر پانے والے اداکار نے پچاس سال تک ہالی ووڈ اور برطانوی فلم انڈسٹری پر راج کیا۔برطانوی سیکریٹ ایجنٹ جیمز بانڈ پر بننے والی پہلی فلم ''ڈاکٹر نو‘‘ 1962ء میں سینما گھروں کی زینت بنی اور اس نے پوری دنیا میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ اس کردار کو زندہ و جاوید کرداربنانے میں ان کا اہم کردارہے۔بانڈ سیریز کی 6 فلموں میں انہوں نے کام کیا۔ اپنے فلمی کیریئر میں انہوں نے آسکر ایوارڈ، گولڈن گلوب، بافٹا اور بہت سارے دوسرے ایوارڈ جیتے۔

 مصنوعی ذہانت کا ارتقا… 12 اہم سنگِ میل

مصنوعی ذہانت کا ارتقا… 12 اہم سنگِ میل

مصنوعی ذہانت ( AI) اکیسویں صدی کی اہم ترین ٹیکنالوجیز میں شمار ہوتی ہے۔ آج یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے سوالات کے جواب دینے، تصاویر بنانے، زبانوں کا ترجمہ کرنے، بیماریوں کی تشخیص میں معاونت فراہم کرنے اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت کا یہ سفر چند سالوں کی کہانی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط سائنسی تحقیق، تجربات، ناکامیوں اور کامیابیوں کا نتیجہ ہے۔اس سفر میں بارہ ایسے اہم مراحل آئے جنہوں نے AI کی ترقی کو نئی سمت دی۔ ابتدائی تصورات سے عملی مصنوعی ذہانت تکمصنوعی ذہانت کی تاریخ میں پہلا اہم سنگِ میل 1950ء میں آیا جب برطانوی ریاضی دان اور کمپیوٹر سائنسدان ایلن ٹیورنگ نے اپنے مقالے میں یہ سوال اٹھایا کہ کیا مشینیں سوچ سکتی ہیں؟ انہوں نے ایک تجربہ کیا جسے بعد میں ''ٹیورنگ ٹیسٹ‘‘ کہا گیا۔ اس تصور کے مطابق اگر کوئی مشین گفتگو کے دوران انسان کی طرح جواب دے اور مبصر قابلِ اعتماد طریقے سے مشین اور انسان میں فرق نہ کر سکے تو اسے ذہانت کی ایک اہم علامت سمجھا جا سکتا ہے۔اس کے چھ سال بعد، 1956ء میں امریکہ کے ڈارٹ ماؤتھ کالج میں محققین کا ایک اہم اجتماع منعقد ہوا۔ اسی موقع پر ''مصنوعی ذہانت‘‘ کی اصطلاح کو باقاعدہ سائنسی تحقیق کے میدان کے طور پر متعارف کرانے میں اہم پیش رفت ہوئی۔ جان میکارتھی، مارون منسکی اور دیگر محققین نے اس پر غور کیا کہ مشینوں کو سیکھنے، مسائل حل کرنے اور انسانی ذہانت کے بعض پہلوؤں کی نقل کرنے کے قابل کیسے بنایا جا سکتا ہے۔1966ء میں جوزف وائزن بام نے ELIZA نامی پروگرام متعارف کرایا جو ابتدائی چیٹ بوٹس میں سے ایک تھا۔ یہ پروگرام صارف کے الفاظ میں مخصوص اشارے تلاش کرکے پہلے سے طے شدہ جوابات دیتا تھا۔ اگرچہ اس کی صلاحیتیں محدود تھیں لیکن اس نے دکھایا کہ کمپیوٹر کے ساتھ بامعنی محسوس ہونے والی گفتگو ممکن ہے۔ ناکامیوں سے مشین لرننگ تک 1974ء سے 1980ء کے درمیان AI کے شعبے کو پہلی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محققین کے بلند دعوؤں کے باوجود کمپیوٹر اس دور میں متوقع نتائج فراہم نہیں کر پا رہے تھے نتیجتاً حکومتوں اور تحقیقی اداروں نے مالی معاونت کم کر دی۔ اس مرحلے کو ''AI winter‘‘ کہا جاتا ہے۔تاہم تحقیق مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔ 1980ء کے آس پاس Expert Systems نے کاروباری دنیا میں توجہ حاصل کی۔ یہ ایسے کمپیوٹر پروگرام تھے جو مخصوص شعبوں کے قواعد اور ماہرین کے علم کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں مدد دیتے تھے۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی میں تیار کردہ R1 سسٹم نے صنعتی استعمال کے امکانات نمایاں کیے۔1986ء میں مشین لرننگ کی ترقی کے لیے ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی، اس کے باوجود 1987ء سے 1993ء کے درمیان مصنوعی ذہانت کو ایک بار پھر مالی اور صنعتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایکسپرٹ سسٹمز کی کمزورویوں اور مہنگے ہارڈویئر نے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم کر دی۔ یہ دوسرا AI Winter تھا جس نے واضح کیا کہ محض بلند توقعات کافی نہیں؛ ٹیکنالوجی کو قابلِ اعتماد اور عملی طور پر مفید بھی ہونا چاہیے۔ ڈیپ لرننگ سے جدید AI تک 1997ء میں IBM کے شطرنج کھیلنے والے کمپیوٹر Deep Blue نے عالمی چیمپئن گیری کاسپاروف کو چھ مقابلوں کی سیریز میں شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ اس کامیابی نے دنیا کو دکھایا کہ کمپیوٹر انتہائی پیچیدہ کھیل میں بھی عالمی سطح کے انسانی کھلاڑی کو مات دے سکتا ہے۔ اگرچہ یہ نظام مخصوص قواعد اور حسابی صلاحیتوں پر انحصار کرتا تھا لیکن اس نے مصنوعی ذہانت کی عملی قوت کو نمایاں کیا۔2012ء میںAlexNet نامی ڈیپ لرننگ ماڈل نے تصاویر کی شناخت کے مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی میں گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کا اہم کردار تھا۔ اس پیش رفت نے ڈیپ لرننگ کو عملی میدان میں آگے بڑھایا اور تصویر شناسی، آواز کی شناخت اور دیگر شعبوں میں نئی راہیں کھولیں۔2016ء میں گوگل ڈیپ مائنڈ کے نظام AlphaGoنے جنوبی کوریا کے ممتاز کھلاڑی لی سیڈول کو قدیم چینی کھیل ''گو‘‘ میں شکست دی۔ اس کھیل میں ممکنہ چالوں کی تعداد شطرنج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ AlphaGo کی کامیابی نے ظاہر کیا کہ مشینیں سیکھنے، حکمتِ عملی بنانے اور پیچیدہ فیصلے کرنے کے ایسے طریقے اپنا سکتی ہیں جو پہلے ناقابلِ تصور سمجھے جاتے تھے۔2017ء میں ٹرانسفارمر (Transformer) نامی نیورل نیٹ ورک آرکیٹیکچر متعارف ہوا۔ اس نے زبان کے مختلف حصوں کے درمیان تعلقات سمجھنے اور بڑے متنی ڈیٹا سے سیکھنے کے طریقوں میں اہم تبدیلی پیدا کی۔ بعد میں یہی طرزِ تعمیر متعدد جدید زبان ماڈلز کی بنیاد بنا۔ چیٹ جی پی ٹی اور مصنوعی ذہانت کا مستقبلنومبر 2022ء میں ChatGPT کی لانچنگ نے مصنوعی ذہانت کو عام لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس تبدیلی نے تعلیم، کاروبار، صحافت، طب اور سافٹ ویئر کی تیاری سمیت متعدد شعبوں میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی تاریخ کا بنیادی سبق یہ ہے کہ سائنسی ترقی ایک سیدھا راستہ اختیار نہیں کرتی۔ ایلن ٹیورنگ کے ابتدائی سوال سے لے کر ٹرانسفارمر ماڈلز اور ChatGPT تک ہر پیش رفت نے اگلی نسل کی ٹیکنالوجی کے لیے بنیاد فراہم کی۔ مستقبل میں AI کی کامیابی کا انحصار صرف اس کی رفتار یا ذہانت پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ اسے کتنی ذمہ داری، شفافیت اور انسانی فلاح کے اصولوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔

 28 اکتوبر …ورلڈ اینی میشن ڈے

28 اکتوبر …ورلڈ اینی میشن ڈے

تخیل، فن اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کا عالمی دندنیا میں بعض فنون ایسے ہیں جو زبان، رنگ و نسل اور جغرافیائی سرحدوں کی پابندیوں سے آزاد ہو کر انسانی ذہنوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اینیمیشن بھی ایسا ہی ایک فن ہے جو بے جان تصاویر کو حرکت، خیالات کو کردار اور تخیل کو ایک ایسی بصری حقیقت میں تبدیل کر دیتا ہے جسے بچے، نوجوان اور بڑے یکساں دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ کارٹون فلموں سے لے کر جدید سنیما، ویڈیو گیمز، تعلیمی پروگراموں، اشتہارات اور ڈیجیٹل میڈیا تک اینیمیشن نے انسانی زندگی کے متعدد شعبوں میں اپنی اہمیت منوا لی ہے۔ اسی فن کی تاریخی خدمات، تخلیقی امکانات اور مستقبل کے امکانات کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 28 اکتوبر کو International Animation Day منایا جاتا ہے۔یہ محض تفریحی فلموں اور کارٹون کرداروں کا جشن نہیں بلکہ ان فنکاروں، مصوروں، ہدایت کاروں، تکنیکی ماہرین اور تخلیق کاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع بھی ہے جن کی محنت سے تصاویر حرکت کرتی، کہانیاں جنم لیتی اور پیچیدہ خیالات لوگوں کیلئے قابلِ فہم بنتے ہیں۔تاریخی پس منظرانٹر نیشنل اینیمیشن ڈے کی تاریخ انیسویں صدی کے آخری عشرے سے جڑی ہوئی ہے۔ 28 اکتوبر 1892ء کو فرانسیسی موجد اور فنکار ایمیل ریناؤڈ (Émile Reynaud) نے پیرس کے گریوین میوزیم میں اپنے ایجاد کردہ آلے تھیٹر آپٹیک (Theatre Optique) کے ذریعے متحرک تصاویر کی ایک نمائش پیش کی۔ اس واقعے کو اینیمیشن کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جاتا ہے۔ ریناؤڈ کے اس آلے میں ہاتھ سے تیار کردہ تصاویر کو ایک مخصوص طریقے سے ترتیب دے کر روشنی، آئینوں اور پروجیکشن کی مدد سے پردے پر دکھایا جاتا تھا۔ تصاویر کو تیزی سے یکے بعد دیگرے پیش کرنے سے دیکھنے والوں کو حرکت کا احساس ہوتا تھا۔ اس زمانے میں نہ تو کمپیوٹر تھے اور نہ ڈیجیٹل کیمرے لیکن انسانی تخیل اور سائنسی تجربے نے ایسی بصری تفریح کی بنیاد رکھ دی جو آنے والی صدیوں میں ایک وسیع صنعت کی شکل اختیار کرنے والی تھی۔ریناؤڈ کی یہ کاوش اس لیے بھی اہم تھی کہ اس نے متحرک تصاویر کو محض ایک تکنیکی تجربے کے بجائے عوامی تفریح اور کہانی سنانے کے مؤثر وسیلے کے طور پر پیش کیا۔ یہی تصور آگے چل کر اینیمیٹڈ فلموں، کارٹون سیریز اور جدید ڈیجیٹل تخلیقات کی ترقی میں اہم ثابت ہوا۔انٹرنیشنل اینیمیٹڈ فلم ایسوسی ایشن(ASIFA) نے 2002ء میں 28 اکتوبر کو اینیمیشن ڈے کے طور پر منانے کا آغاز کیا۔ اس کا بنیادی مقصد اینیمیشن کے فن کو دنیا بھر میں فروغ دینا، مختلف ممالک کے فنکاروں کے درمیان تعاون بڑھانا اور عوام کو اس فن کی تاریخ اور امکانات سے روشناس کرانا تھا۔ اس کے بعد یہ دن نمائشوں، فلمی پروگراموں، ورکشاپس اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے منایا جانے لگا۔اینیمیشن کیا ہے؟اینیمیشن دراصل ایسا تخلیقی عمل ہے جس میں تصاویر، اشکال، کرداروں یا اشیا کو اس انداز میں یکے بعد دیگرے دکھایا جاتا ہے کہ وہ حرکت کرتے ہوئے محسوس ہوں۔ روایتی اینیمیشن میں ہر منظر ہاتھ سے بنایا جاتا تھا جبکہ جدید دور میں کمپیوٹر سافٹ ویئر، 3D ماڈلنگ اور ڈیجیٹل تکنیکوں نے اس عمل کو زیادہ متنوع اور مؤثر بنا دیا ہے۔اینیمیشن کی مختلف اقسام میں2D اینیمیشن، 3Dاینیمیشن، سٹاپ موشن، کٹھ پتلیوں کی مدد سے تیار کردہ متحرک فلمیں اور کمپیوٹر سے تخلیق کردہ مناظر شامل ہیں۔ ہر طریقے کی اپنی خصوصیات اور تخلیقی امکانات ہیں۔آج کسی فلم میں خیالی دنیا کی تخلیق، کسی اشتہار میں مصنوعات کی خصوصیات کی وضاحت، کسی تعلیمی ویڈیو میں انسانی جسم کے پیچیدہ نظام کی تشریح یا کسی ویڈیو گیم میں حقیقت سے قریب کرداروں کی حرکت، یہ سب اینیمیشن کے مختلف استعمال ہیں۔ اس طرح اینیمیشن فن اور سائنس کے درمیان ایک مضبوط رابطہ قائم کرتی ہے۔ تعلیم اور آگاہی میں کرداراینیمیشن کی مقبولیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ مشکل معلومات کو آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کر سکتی ہے۔ بچوں کے لیے بنائے جانے والے تعلیمی پروگراموں میں حروفِ تہجی، اعداد، سائنسی تصورات، اخلاقی اقدار اور سماجی رویوں کو کہانیوں اور کرداروں کے ذریعے سمجھایا جاتا ہے۔اسی طرح طبی تعلیم میں انسانی جسم کے اندرونی نظام، انجینئرنگ میں مشینوں کے طریقہ کار اور سائنس میں ایسے مظاہر کی وضاحت کے لیے اینیمیشن استعمال ہوتی ہے جنہیں براہِ راست دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی آلودگی، قدرتی آفات اور صحتِ جیسے موضوعات پر آگاہی پیدا کرنے میں بھی متحرک تصاویر مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔اینیمیشن کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے سمجھنے کے لیے کسی مخصوص زبان پر مکمل عبور ضروری نہیں۔ مناسب بصری علامتوں، کرداروں اور مناظر کے ذریعے مختلف زبانیں بولنے والے افراد تک بھی پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی خصوصیت اسے عالمی رابطے اور ثقافتی تبادلے کا مؤثر ذریعہ بناتی ہے۔اینیمیشن میں مہارت حاصل کرنے اور اسے بطور پیشہ اپنانے کے لیے آپ کو چند سافٹ ویئرز سیکھنے ہوں گے جیسا کہ 3D اینیمیشن اور ماڈلنگ کے لیےAutodesk Maya؍Blender (بلینڈر بالکل مفت ہے)۔ موشن گرافکس اور وی ایف ایکس کے لیےAdobe After Effects اور2Dکارٹون اور اینیمیشن کے لیے Adobe Animate ؍Toon Boom Harmony۔

آج کا دن

آج کا دن

ہارورڈ کالج کا قیام28 اکتوبر 1636ء کو امریکی ریاست میساچوسٹس کی نوآبادیاتی اسمبلی نے ایک تعلیمی ادارے کے قیام کے لیے مالی وسائل مختص کیے جس سے ہارورڈ کالج کی بنیاد پڑی۔ یہ ادارہ بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہوا۔ہارورڈ کے قیام کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا تھا جو مذہبی، تعلیمی اور سماجی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔ 1638ء میں جان ہارورڈ نامی ایک مذہبی رہنما نے اپنے اثاثوں اور کتابوں کا ایک اہم حصہ اس ادارے کے لیے وقف کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ادارے کا نام ہارورڈ رکھا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ کالج ایک بڑی یونیورسٹی میں تبدیل ہوا اور سائنس، طب، قانون، سیاست، معاشیات اور ادب سمیت متعدد شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔آزادی کے مجسمے کا افتتاح28 اکتوبر 1886ء کو امریکہ کے صدر گروور کلیولینڈنے نیویارک میں آزادی کے مجسمے(Statue of Liberty)کا باضابطہ افتتاح کیا۔ یہ مجسمہ فرانس کی طرف سے امریکہ کو تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد آزادی، جمہوریت اور دوستی کے مشترکہ اصولوں کو اجاگر کرنا تھا۔Liberty Enlightening the World کے عنوان سے یہ یادگار دنیا بھر میں آزادی اور انسانی وقار کی علامت بن گئی۔ اس کی تعمیر فرانسیسی مجسمہ ساز فریڈرک آؤگست بارتھولدی نے کی جبکہ اس کا ڈھانچہ مشہور انجینئر ایفل (Eiffel) نے تیار کیا۔ وقت کے ساتھ یہ امریکہ کی قومی پہچان بن گئی۔ 1984 ء میں اقوام متحدہ نے اسے عالمی ورثہ قرار دیا۔مارچ آن روم 28 اکتوبر 1922ء کو فاشسٹ رہنما بینیٹو مسولینی نے اپنی پارٹی کے ہزاروں کارکنان کے ہمراہ اٹلی کے دارالحکومت روم کی طرف مارچ کیا۔ یہ مظاہرہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تھا جس کے نتیجے میں بادشاہ وکٹر ایمینوئل سوم نے حکومت برطرف کر کے مسولینی کو وزیراعظم مقرر کر دیا۔ یہ دن اٹلی میں فاشزم کے آغاز کاثابت ہوا جس نے آنے والے برسوں میں یورپ کی سیاست پر گہرے اثرات ڈالے۔ مسولینی کی آمرانہ حکومت نے اٹلی کو نازی جرمنی کے قریب کیا اور بالآخر ملک دوسری جنگِ عظیم میں شامل ہو گیا۔ ''مارچ آن روم ‘‘کو آج بھی انتہا پسند سیاست کے ابھرنے کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کس طرح جمہوری نظام کمزور قیادت کے باعث آمریت میں بدل سکتا ہے۔کیوبا میزائل بحران کاخاتمہ28 اکتوبر 1962ء کو سوویت رہنما نکیتا خروشیف نے اعلان کیا کہ سوویت یونین کیوبا میں نصب کیے گئے میزائل واپس لے گا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی کیوبن میزائل بحران ختم ہوا، جو دنیا کو ایٹمی جنگ کے قریب لے آیا تھا۔ بحران اس وقت شروع ہوا جب امریکہ نے کیوبا میں سوویت بیلسٹک میزائل تنصیبات کا سراغ لگایا۔ صدر جان ایف کینیڈی نے بحری ناکہ بندی کا حکم دیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ 13 دن تک دنیا بھر میں خوف و ہراس کا عالم رہا۔ بالآخر خفیہ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ طے پایا کہ سوویت یونین کیوبا سے میزائل ہٹائے گا اور امریکہ ترکی سے اپنے میزائل واپس لے گا۔ یہ بحران سرد جنگ کے دوران سفارتی فہم و فراست کی ایک کامیاب مثال بن گیا ۔جس نے عالمی سطح پر ایٹمی پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈالے۔انڈونیشیا کا یومِ نوجوانان28 اکتوبر 1928ء کو انڈونیشیا کے نوجوانوں نے جکارتہ میں منعقدہ یوتھ کانگرس میں ایک تاریخی عہد کیا جسے (Sumpah Pemuda) یعنی ''نوجوانوں کا عہد‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس عہد میں نوجوانوں نے اعلان کیا کہ ہم ایک قوم، ایک وطن اور ایک زبان رکھتے ہیں ۔اس اتحاد نے انڈونیشیا کی قومی تحریک کو نئی جان بخشی۔ اُس وقت ملک ڈچ نوآبادیاتی تسلط میں تھا مگر نوجوانوں کے اس اتحاد نے آزادی کی راہ ہموار کی۔ یہی نظریہ بعد ازاں 1945 ء میں آزادی کے اعلان کی بنیاد بنا۔ آج بھی 28 اکتوبر کو انڈونیشیا میں یومِ نوجوانان کے طور پر منایا جاتا ہے جو حب الوطنی، اتحاد اور زبان و ثقافت کے احترام کی یاد دلاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت،ترقی کی دوڑ اور تباہی کا خطرہ

مصنوعی ذہانت،ترقی کی دوڑ اور تباہی کا خطرہ

مصنوعی ذہانت (AI) اکیسویں صدی کی انقلابی ٹیکنالوجی بن کر ابھری ہے جس نے انسانی زندگی، معیشت، تعلیم، صحت، صنعت اور عالمی سیاست کے بنیادی تصورات کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ چند لمحوں میں پیچیدہ سوالات کے جواب دینا، بڑی مقدار میں معلومات کا تجزیہ کرنا، بیماریوں کی تشخیص میں مدد فراہم کرنا اور ایسے کام انجام دینا جو پہلے کئی گھنٹوں یا دنوں میں مکمل ہوتے تھے، اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے ممکن ہو رہا ہے۔ تاہم اس غیر معمولی ترقی کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی موجود ہے: کیا انسان اپنی تخلیق کردہ اس ٹیکنالوجی کو محفوظ رکھنے اور اس کے ممکنہ نقصانات کو روکنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟ سائنسی جریدے 'لائیو سائنس ‘میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں یونیورسٹی آف باتھ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اخِل بھردواج نے اسی سوال پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیاں ایک دوسرے کے ساتھ ایسی مسابقت میں الجھی ہوئی ہیں جہاں کسی ایک کی غیر ذمہ داری دوسروں کو بھی خطرات کی پروا کیے بغیر آگے بڑھنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کو جوہری توانائی کے شعبے کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے، جہاں بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے نگرانی، باہمی تعاون اور حفاظتی ضوابط کا ایک نظام تشکیل دیا گیا۔ ترقی کی دوڑ اور اجتماعی خطراتمصنوعی ذہانت کی دنیا میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہر ادارہ زیادہ طاقتور، تیز رفتار اور بہتر صلاحیتوں کے حامل ماڈل تیار کرکے مارکیٹ میں اپنی برتری قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس مقابلے کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ تحقیق میں سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور نئی سہولتیں تیزی سے سامنے آتی ہیں۔ لیکن جب تجارتی مفادات اور سبقت حاصل کرنے کی خواہش حفاظتی اقدامات پر غالب آ جائے تو یہی دوڑ سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔فرض کریں کہ ایک کمپنی مصنوعی ذہانت کے کسی نئے نظام کو مکمل حفاظتی جانچ کے بغیر متعارف کرا دیتی ہے۔ اگر اس سے اسے کاروباری فائدہ حاصل ہوتا ہے تو حریف اداروں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے نظام جلد مارکیٹ میں لائیں۔ اس صورت میں ہر کمپنی یہ سوچ سکتی ہے کہ اگر اس نے احتیاط کے باعث تاخیر کی تو وہ مقابلے میں پیچھے رہ جائے گی۔ نتیجتاً انفرادی فیصلوں کا مجموعی اثر پوری صنعت اور معاشرے کے لیے خطرناک بن سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کو بجلی کے نیٹ ورک، پانی کی فراہمی، مالیاتی اداروں اور صحت کے شعبے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر ان سسٹمز میں تکنیکی خرابی پیدا ہو، انہیں غلط معلومات فراہم کی جائیں یا ان کی صلاحیتوں کا غلط استعمال ہو تو نتائج محض مالی نقصان تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہاں اصل مسئلہ ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ اس ترقی کے ساتھ ذمہ داری، احتیاط اور جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔جوہری صنعت سے کیا سبق ملتا ہے؟جوہری توانائی کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کرنے کے لیے حفاظتی انتظامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جوہری توانائی بجلی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے لیکن اس کے غلط استعمال یا حفاظتی نظام میں ناکامی کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے وقت کے ساتھ اس شعبے میں نگرانی، تربیت، تکنیکی معیارات اور بین الاقوامی تعاون کو بنیادی اہمیت حاصل ہوئی۔1979ء میں امریکہ کے تھری مائل آئی لینڈ جوہری بجلی گھر میں پیش آنے والے حادثے نے واضح کیا کہ آلات کے ڈیزائن میں خامیاں، انتباہی نظام کی کمزوریاں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی ناکافی تربیت بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔اسی طرح 1986ء میں چرنوبل کا حادثہ جوہری توانائی کے شعبے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس حادثے نے دنیا کو دکھایا کہ کسی ایک ادارے کی ناکامی کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔مصنوعی ذہانت اور جوہری توانائی میں فرق ضرور ہے مگرد دونوں شعبوں میں ایک بنیادی مماثلت موجود ہے، کہ کسی ایک فریق کی غلطی دوسروں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ نگرانی، شفافیت اور جوابدہی مصنوعی ذہانت کی صنعت میں خود ضابطہ کاری کا تصور اسی ضرورت سے جنم لیتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کمپنیاں صرف حکومتی قوانین کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے لیے مشترکہ حفاظتی اصول بنائیں، ایک دوسرے کے سسٹمز کا جائزہ لیں اور ممکنہ خطرات کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کریں۔اخِل بھردواج کے مطابق اے آئی کے جدید اور طاقتور ماڈلز کو عام استعمال میں لانے سے پہلے آزادانہ جانچ، باہمی جائزے اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا ئے۔ اگر کوئی سسٹم خطرناک صلاحیتوں کا حامل ہو تو اس کی خامیوں اور ممکنہ نقصانات کا جائزہ اس کے وسیع پیمانے پر استعمال سے پہلے لیا جانا چاہیے۔اس مقصد کے لیے آزاد ماہرین اورتھرڈ پارٹیز کو کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کمپنیاں خود اپنی کارکردگی کا جائزہ لے کر اسے محفوظ قرار دینے تک محدود نہ رہیں۔حکومتوں اور عالمی برادری کی ذمہ داریمصنوعی ذہانت کی ترقی کسی ایک ملک یا کمپنی تک محدود نہیں، اس کے اثرات عالمی معیشت، قومی سلامتی اور انسانی زندگی کے متعدد شعبوں تک پھیل سکتے ہیں؛ چنانچہ اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی قوانین کے ساتھعالمی تعاون بھی ضروری ہے۔حکومتوں کو ایسے ضوابط متعارف کرانے چاہئیں جو کمپنیوں کو خطرات کی نشاندہی اور سنگین واقعات کی رپورٹنگ کا پابند بنائیں۔ آزادانہ نگرانی کے اداروں کو مناسب اختیارات دیے جائیں جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کا واضح نظام موجود ہو۔

آڈیو ویژول ہرٹیج کا عالمی دن

آڈیو ویژول ہرٹیج کا عالمی دن

ماضی کی آوازیں ،تاریخ کے محفوظ نقوشہر قوم کی تاریخ محض کتابوں، تحریری دستاویزات اور تاریخی عمارتوں میں محفوظ نہیں ہوتی ، اس کا ایک بڑا حصہ تصاویر، فلموں، ریڈیو نشریات، ٹیلی ویژن پروگراموں، آڈیو ریکارڈنگز اور دیگر آڈیو ویژول میڈیم میں موجود ہوتا ہے۔ یہ ذرائع ماضی کے واقعات، معاشرتی تبدیلیوں، تہذیبی روایات اور انسانی تجربات کو اس انداز میں محفوظ کرتے ہیں کہ آنے والی نسلیں نہ صرف تاریخ کو پڑھ سکیں بلکہ اسے دیکھ اور سن بھی سکیں۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ہر سال 27 اکتوبر کو عالمی یومِ سمعی و بصری ورثہ(World Day for Audiovisual Heritage) منایا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا کے آڈیو ویژول ہرٹیج کے تحفظ، اس کی اہمیت اور اس تک عوام کی رسائی کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔یہ دن اقوامِ متحدہ کے ادارہ یونیسکو کی کوششوں سے عالمی سطح پر منایا جاتا ہے جبکہ آڈیو ویژول آرکائیوز کی بین الاقوامی رابطہ کونسل (CCAAA) بھی اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس دن کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ فلموں، آوازوں اور ویڈیو ریکارڈنگز کی صورت میں محفوظ انسانی یادداشت کو ضائع ہونے سے بچانا عالمی ثقافتی ذمہ داری ہے۔ آڈیو ویژول ہرٹیج، تاریخ کا زندہ ریکارڈ آڈیو ویژول ہرٹیج میں فلمیں، پرانی تصاویر، ریڈیوپروگرام، سیاسی و سماجی رہنماؤں کی تقاریر،انٹر ویو، دستاویزی فلمیں، موسیقی، لوک کہانیاں، ٹیلی ویژن نشریات اور دیگر صوتی و بصری ریکارڈ شامل ہیں۔ یہ مواد کسی معاشرے کے تاریخی، ثقافتی، سیاسی اور سماجی ارتقا کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔تحریری تاریخ کسی واقعے کی تفصیلات بیان کرتی ہے لیکن ویڈیو ریکارڈنگ اس واقعے کے مناظر، لوگوں کے تاثرات اور ماحول کی کیفیت بھی سامنے لے آتی ہے۔ اسی طرح کسی بزرگ کی آواز میں ریکارڈ کی گئی لوک داستان، کسی تاریخی شخصیت کی تقریر یا کسی اہم واقعے کی ریڈیو رپورٹ اپنے دور کی زبان، طرزِ اظہار اور اجتماعی احساسات کی عکاسی کرتی ہے۔یہ ریکارڈ محققین، مؤرخین، صحافیوں، طلبہ اور عام شہریوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کی مدد سے نہ صرف ماضی کے واقعات کی تحقیق کی جا سکتی ہے بلکہ ان ادوار کے بارے میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے اور تاریخی حقائق کی جانچ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں تاریخی ریکارڈ جدید ٹیکنالوجی نے آڈیو ویژول مواد کی تیاری، نقل اور ترسیل کو آسان بنا دیا ہے لیکن اس کے باوجود تاریخی ریکارڈ کا تحفظ ایک بڑا چیلنج ہے۔ پرانی فلمیں وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہو سکتی ہیں، مقناطیسی ٹیپوں پر محفوظ آوازیں اور ویڈیوز اپنی اصل کیفیت کھو سکتی ہیں جبکہ پرانے آلات کی عدم دستیابی کے باعث کئی ریکارڈنگز کو دوبارہ چلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ نمی، درجہ حرارت میں تبدیلی، گردوغبار، ناقص سٹوریج اور قدرتی آفات بھی تاریخی مواد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ڈیجیٹل مواد کو بھی محفوظ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ فائلیں خراب ہو سکتی ہیں، سٹوریج کے آلات ناکارہ ہو سکتے ہیں اور پرانے ڈیجیٹل فارمیٹس مستقبل میں ناقابلِ استعمال ہو سکتے ہیں۔اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ تاریخی ریکارڈ کو مناسب ماحول میں محفوظ کیا جائے، اس کی ڈیجیٹل کاپیز تیار کی جائیں اور ان کاپیز کو مختلف محفوظ مقامات پر رکھا جائے۔ ساتھ ہی فائلوں کی باقاعدہ جانچ، مستند معلومات کے ساتھ درجہ بندی اور جدید فارمیٹس میں منتقلی کا مستقل انتظام بھی ضروری ہے۔ محض ریکارڈ محفوظ کر لینا کافی نہیں، اس کی صداقت، پس منظر اور تاریخی اہمیت کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ پاکستان کا آڈیو ویژول ورثہ پاکستان کا آڈیو ویژول ورثہ نہایت متنوع اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ تحریکِ پاکستان کے مناظر، قیامِ پاکستان سے متعلق تقاریر، ابتدائی قومی نشریات، تاریخی سیاسی اجتماعات، پرانی دستاویزی فلمیں، علاقائی موسیقی، لوک داستانیں اور مختلف خطوں کی ثقافتی تقریبات ہمارے اجتماعی ماضی کا اہم حصہ ہیں۔ریڈیو پاکستان کی پرانی نشریات، پاکستان ٹیلی ویژن کے ابتدائی پروگرام، قومی رہنماؤں کی تقاریر اور مختلف علاقوں کی زبانوں میں ریکارڈ کی گئی لوک موسیقی میں ایسا قیمتی مواد موجودہے جو آنے والی نسلوں کے لیے تاریخی اور علمی سرمایہ ہے۔ اسی طرح ملک کے مختلف خطوں کی روایات، لوک ادب، ثقافتی تقریبات اور بزرگوں کی زبانی تاریخ کو ریکارڈ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ علاقائی شناخت اور تہذیبی تنوع محفوظ رہ سکے۔ پرانی فلموں اور آڈیو ٹیپس کی کیٹلاگنگ، ان کی ڈیجیٹل منتقلی اور محققین کے لیے مناسب رسائی فراہم کرنا اس عمل کے بنیادی تقاضے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور ورثے کا تحفظڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے آڈیو ویژول ورثے کے تحفظ کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ جدید سسٹمز کے ذریعے پرانی ریکارڈنگز میں شور کم کیا جا سکتا ہے، تصاویر کی مرمت کی جا سکتی ہے، آوازوں کو تلاش کرنا آسان بنایا جا سکتا ہے اور تاریخی مواد کو دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ تاہم ان سہولتوں کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی تصویر، آواز یا ویڈیو میں ایسی تبدیلیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں جو اصل تاریخی حقیقت کو مسخ کر دیں۔اس لیے اصل ریکارڈ کو محفوظ رکھنا، ڈیجیٹل تبدیلیوں کی وضاحت کرنا اور ہر مواد کے ماخذ کی تصدیق کرنا ناگزیر ہے۔ورلڈ ڈے آف آڈیو ویژول ہرٹیج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی کی آوازیں اور تصاویر محض پرانی یادگاریں نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی مشترکہ امانت ہیں۔ اگر آج ان کی حفاظت کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کل ہماری تاریخ کے کئی اہم باب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو سکتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

کشمیر میں بھارتی فوجی مداخلت 27 اکتوبر 1947ء کو ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ کے سیاہ دور کا آغاز ہوا جب بھارتی افواج نام نہاد الحاق کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر سری نگر میں اتریں اور ریاست پر قبضہ کر لیا ۔ بعد کے برسوں میں اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر زیرِ بحث آیا اور خطے میں جنگ بندی کی کوششیں ہوئیں تاہم بھارت اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھتے ہوئے جان بوجھ کر اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر تا آ رہا ہے۔ 27 اکتوبر 1947ء کے غیر قانونی واقعے نے جنوبی ایشیا کی سیاست، سلامتی اور سفارتکاری پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ بین الاقوامی قانون بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی تبدیلی بھی کی جا رہی ہے۔ جنرل ایوب خان کا اقتدار27 اکتوبر 1958ء کو جنرل محمد ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا کو اقتدار سے ہٹا کر ملک کی صدارت سنبھال لی۔ اس وقت پاکستان شدید سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی تبدیلی اور آئینی اختلافات کا سامنا کر رہا تھا۔ ملک کا پہلا آئین 1956ء میں نافذ ہوا لیکن سیاسی اداروں اور قیادت کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔7 اکتوبر 1958ء کو صدر اسکندر مرزا نے آئین منسوخ کر دیا، قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دیں، سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں ختم کر دیں اور ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ انہوں نے جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تاہم چند ہی ہفتوں بعد دونوں میں اقتدار کی کشمکش شدت اختیار کر گئی۔ 27 اکتوبر کو ایوب خان نے اسکندر مرزا کو صدارت چھوڑنے پر مجبور کیا اورانہیں ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔ نیویارک سب وے 27 اکتوبر 1904ء کو امریکہ کے شہر نیویارک میں پہلی زیرِ زمین شہری ریلوے سروس کا افتتاح ہوا۔ یہ واقعہ جدید شہری نقل و حمل کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ افتتاح کے روز نیویارک کے میئر جارج میک کلیلن جونیئر نے پہلی نمائشی ٹرین چلائی۔ ابتدائی ریلوے لائن تقریباً 9.1 میل طویل تھی اور اس میں 28 سٹیشن شامل تھے۔ یہ لائن مین ہیٹن کے سٹی ہال سے شروع ہو کر گرینڈ سینٹرل اور ٹائمز سکوائر سے گزرتی ہوئی 145ویں سٹریٹ تک جاتی تھی۔اس منصوبے نے شہر کے مختلف علاقوں کے درمیان سفر کو آسان بنایا اور شہری زندگی، کاروبار اور رہائش کے انداز پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آج نیویارک کا سب وے دنیا کے معروف ترین شہری ٹرانسپورٹ نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ کیوبا میزائل بحران27 اکتوبر 1962ء سرد جنگ کے خطرناک ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ اس وقت امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کیوبا میں سوویت میزائلوں کی تنصیب کے معاملے پر شدید کشیدگی جاری تھی اور امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے کیوبا کے گرد بحری ناکہ بندی نافذ کی جبکہ سوویت رہنما خروشیف کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری تھے۔27 اکتوبر کو بحران مزید سنگین ہو گیا جب امریکی فضائیہ کا یو2 جاسوس طیارہ کیوبا کے اوپر مار گرایا گیا اور اس کا پائلٹ میجر روڈولف اینڈرسن جونیئر ہلاک ہو گیا۔ 27 اکتوبر کو اس بحران کا خطرناک ترین دن قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس وقت کسی غلط اندازے یا غیر ارادی فوجی کارروائی کے تباہ کن نتائج نکل سکتے تھے۔ ترکمانستان کی آزادی 27 اکتوبر 1991ء کو وسطی ایشیا کی ریاست ترکمانستان نے سوویت یونین سے آزادی کا اعلان کیا۔ ترکمانستان طویل عرصے تک روسی سلطنت اور بعد ازاں سوویت نظام کا حصہ رہا۔ سوویت دور میں اسے ایک الگ سوویت جمہوریہ کی حیثیت حاصل تھی۔1991ء میں سوویت یونین میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا اور اگست میں ماسکو میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد مختلف سوویت جمہوریاؤں میں آزادی کی تحریکوں کو تقویت ملی۔ ترکمانستان میں 26 اکتوبر 1991ء کو آزادی کے معاملے پر ریفرنڈم منعقد ہوا۔97 فیصد سے زائد آبادی نے ریفرنڈم میں حصہ لیا اوررائے دہندگان میں 94 فیصد سے زائد نے آزادی کی حمایت کی۔ اگلے روز یعنی 27 اکتوبر کو ترکمانستان کی سپریم سوویت نے باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کر دیا۔

راکٹ ٹیکنالوجی سے لیس ٹیسلا کی اڑنے والی کار

راکٹ ٹیکنالوجی سے لیس ٹیسلا کی اڑنے والی کار

ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے انسان کے ان خوابوں کو بھی حقیقت کا روپ دینے کی امید پیدا کر دی ہے، جنہیں کبھی محض سائنس فکشن کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ زمین پردوڑنے والی گاڑیوں کے بعد اب فضا میں اڑنے والی کار کا تصور بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ دنیا کی معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک اپنی اختراعی سوچ اور مستقبل بین منصوبوں کے باعث اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ راکٹ ٹیکنالوجی اور برقی گاڑیوں کے امتزاج سے متعلق ان کے تصورات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا مستقبل میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں آسمانوں میں بھی پرواز کرتی دکھائی دیں گی؟ ایلون مسک کبھی اپنی حدود سے آگے بڑھ کر نئے تجربات کرنے سے گریز نہیں کرتے، لیکن دنیا کی پہلی اڑنے والی کار متعارف کرانے کے بعد ممکن ہے کہ ان کا یہ اقدام حد سے آگے بڑھنے کے مترادف سمجھا جائے۔ ایک حیران کن ویڈیو میں ٹیسلا روڈسٹر کو الٹی سمت میں بنائے گئے ایک ریمپ پر اوپر جاتے، پھر ہوا میں قلابازی کھاتے اور زمین کی طرف گرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم، اسی دوران راکٹ تھرسٹرز فعال ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں گاڑی محفوظ انداز میں فضا میں معلق ہو جاتی ہے۔ مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ گاڑی اب تک کے تمام ریکارڈز توڑ دے گی اور اسے 2028ء میں مارکیٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بنیادی طور پر راکٹ کی طرح اڑ سکتی ہے۔ یہ ہوا میں قلابازیاں کھا سکتی ہے، حیران کن کرتب دکھا سکتی ہے۔گاڑی کی ہوا میں قلابازیاں کھانے کی غیر معمولی صلاحیت کے پیچھے بلندی کو کنٹرول کرنے والے نظام، تھرسٹرز اور گاڑی کے پچھلے حصے میں نصب مرکزی تھرسٹرز کا کردار ہے‘‘۔مسک کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نئی روڈسٹر گاڑی کی مزید ویڈیوز بھی شیئر کی گئی ہیں، جن میں اس کی پرواز کی مزید حیران کن صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ایک مظاہرے میں گاڑی کو کھڑی ہوئی گاڑیوں کی ایک قطار کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد وہ اچانک فضا میں بلند ہوتی ہے، ہوا میں قلابازی کھاتی ہے اور دوسری جانب بحفاظت اتر جاتی ہے۔ایک اور مظاہرے میں روڈسٹر بغیر حرکت کیے اپنی جگہ سے اچانک فضا میں اچھلتی ہے۔ ہوا میں معلق رہتے ہوئے قلابازی کھاتی ہے اور پھر دھویں کے بادل کے درمیان آہستگی سے دوبارہ زمین پر اتر آتی ہے۔گاڑی میں نصب راکٹ تھرسٹرز سے نکلنے والے سفید دھویں کے مرغولے خلائی جہازوں اور چاند پر اترنے والے خلائی آلات کو کنٹرول کرنے کیلئے استعمال ہونے والے ''ری ایکشن کنٹرول سسٹم‘‘ (RCS) سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اسپیس ایکس کا اسٹار شپ ہیومن لینڈنگ سسٹم ہے، جسے چاند پر خلابازوں کو اتارنے کیلئے تیار کیا جا رہا ہے۔یہ مماثلت زیادہ حیران کن نہیں، کیونکہ نئی ٹیسلا روڈسٹر کو اسپیس ایکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔راکٹ کی مدد سے پرواز کرنے کی ان حیرت انگیز صلاحیتوں کے علاوہ، ٹیسلا کا دعویٰ ہے کہ روڈسٹر تقریباً 0.81 سیکنڈ میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 230 میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔آسٹریلوی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق روڈسٹر کے نچلے حصے میں سکشن فین کا ایک نظام نصب ہے۔ جس سے گاڑی کو سڑک کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہنے میں مدد ملتی ہے۔ایلون مسک کے مطابق، گاڑی کے نچلے حصے میں نصب سکشن فین کا نظام ہی وہ ٹیکنالوجی ہے جس کی بدولت گاڑی الٹی حالت میں بھی اسٹیل کے ریمپ کے ساتھ چپکی رہ سکتی ہے۔ مسک کا کہنا ہے کہ وہ نئی اسپورٹس کار کی پیداوار 2028ء میں شروع کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ٹیسلا کی ویب سائٹ پر ''اپنی روڈسٹر بک کروائیں‘‘ کے عنوان سے موجود صفحے کے مطابق، صارفین کار کی بکنگ کیلئے 50 ہزار ڈالر بطور قابلِ واپسی ڈپازٹ جمع کرا سکتے ہیں۔ صارفین اڑھائی لاکھ ڈالر کے عوض تھرسٹ کی اضافی سہولت والا ماڈل بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ راکٹ کی اضافی سہولت والا ماڈل صرف مخصوص افراد کو ملے گا۔تاہم، گاڑی کی حتمی قیمت کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس کی بعض خصوصیات کے سڑکوں پر قانونی استعمال کے حوالے سے بھی صورت حال واضح نہیں ہے۔ایلون مسک نے اس بارے میں کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ یہ گاڑی ہر ملک اور ہر قانونی دائرہ اختیار میں لازماً قانونی ہوگی‘‘۔مسک کی اڑنے والی گاڑیوں میں دلچسپی نئی نہیں۔2018ء میں انہوں نے روڈسٹر کیلئے اسپیس ایکس کے خصوصی پیکیج کا تصور پیش کیا تھا۔ اس منصوبے میں حقیقی راکٹ ٹیکنالوجی، استعمال کرنے کی تجویز تھی۔ اس وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان تھرسٹرز کی مدد سے گاڑی کی رفتار بڑھانے، اس کے کنٹرول اور سڑک پر توازن بہتر بنانے، حتیٰ کہ مختصر وقت کیلئے اسے فضا میں معلق رکھنے کی صلاحیت بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔

اوسا کاقلعہ

اوسا کاقلعہ

‘ جاپانی تاریخ‘ عظمت اور ثقافت کا درخشاں شاہکارتاریخ قوموں کے عروج و زوال کی داستانوں کو اپنے دامن میں سمیٹے رکھتی ہے لیکن کچھ تاریخی مقامات ایسے ہوتے ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ مٹتے نہیں بلکہ اپنی قوم کی غیرت، حب الوطنی اور ذوقِ تعمیر کی علامت بن کر زندہ رہتے ہیں۔ جاپان کے تاریخی شہر اوساکا میں واقع اوساکا قلعہ بھی ایسی ہی عظیم الشان اور ساحرانہ عمارت ہے، جو جاپانی تاریخ کے گرم و سرد، جنگوں کے طوفانوں اور زلزلوں کے باوجود آج بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ استادہ ہے۔ یہ قلعہ جاپان کے ماضی کا سنہری باب ہونے کے ساتھ ساتھ جاپانی قوم کی اپنے اسلاف کے کارناموں اور تہذیبی ورثوں سے بے پناہ محبت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔اوساکا قلعے کی تعمیر کا آغاز 1580ء کے عشرے میں جاپان کے مشہور و معروف جرنیل اور حکمران ٹوئیوٹومی ہائیڈیوشی کی سربراہی میں ہوا۔ ہائیڈیوشی کا خواب جاپان کو متحد کرنا تھا، اور اس مقصد کیلئے اس نے ایسا قلعہ بنانے کا ارادہ کیا جو اس کی طاقت، جاہ و جلال اور اختیار کی علامت ہو۔ قلعے کی بنیادیں رکھنے کے بعد جاپان بھر سے ماہر معماروں، سنگ تراشوں اور فنکاروں کو بلا کر اس کی تعمیر کا کام سونپا گیا۔ جاپان کی تاریخ میں سیاسی کشمکش اور فوجی بغاوتوں کی وجہ سے اس قلعے نے متعدد بار تباہی اور تجدید کا مرحلہ دیکھا۔ جاپانی ملٹری کے باغیوں اور مخالف دھڑوں نے کئی بار اس تاریخی قلعے میں پناہ بھی لی اور مختلف معرکوں کے دوران اس قلعے کے کچھ حصوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ 1629ء سے 1868ء تک کا طویل عرصہ اس قلعے کی مرحلہ وار تعمیر و تزئین اور بحالی کا دور رہا۔ مختلف ادوار کے شہنشاہوں اور حکمرانوں نے اس کی تعمیر و آرائش میں بے پناہ دلچسپی لی اور اس کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور خوبصورت بنایا۔یہ مسلسل دیکھ بھال اور دوبارہ تعمیر کا عمل اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کی میراث اور تہذیبی ورثوں کا تحفظ کس طرح کرتی ہیں۔ اہل طریقہ اور اہل اقتدار کی یہی حب الوطنی تھی جس نے اس قلعے کو تاریخ کے صفحات سے مٹنے نہیں دیا۔اگر کوئی سیاح یا تاریخ کا شائق اس عظیم قلعے کا نظارہ کرنا چاہے اور اس کے اندر داخل ہونا چاہے تو تھوڑے سے ین خرچ کر کے ایک ایسی حیرت انگیز دنیا کا تجربہ کر سکتا ہے جو عہد رفتہ کی انمٹ تصویر ہے۔قلعے کی تعمیر میں دفاعی حکمت عملی اور جمالیاتی ذوق دونوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ قلعے کے گرد تقریباً 30 میٹر گہری خندق بنائی گئی ہے،جس میں اتر کر اور اس کے پار نظر دوڑائیں تو بالکل نئی اور پرشکوہ دنیا سامنے آتی ہے۔ قلعے کی دیواریں عمودی ڈھلان والے بھاری پتھروں سے مل کر بنی ہیں۔ ان بڑی بڑی چٹانوں کو اتنی صفائی اور مہارت سے جوڑا گیا ہے کہ دشمن کیلئے اس پر چڑھنا ناممکن تھا۔ اندرونی عمارت کا طرزِ تعمیر اپنے دور کے شاہانہ جاہ و جلال کو ظاہر کرتا ہے۔ دیواروں پر جگہ جگہ شیروں کے مجسمے کندہ ہیں جو طاقت اور شجاعت کی علامات ہیں۔ قلعے کی چھتوں پر دلکش آرائشی اینٹیں لگائی گئی ہیں جن کی بناوٹ اور پالش میں سنہرے رنگوں کی آمیزش انتہائی بھلی اور دیدہ زیب دکھائی دیتی ہے۔ قلعے کے مرکزی ٹاور کے اندر موجود عجائب گھر آٹھ منزلوں پر مشتمل ہے جہاں جاپان کی تاریخ، نوادرات، جنگی لباس، تلواریں، خطاطی اور نادر مصوری کے نمونے رکھے گئے ہیں۔ آج جب دنیا بھر سے لاکھوں سیاح چند ین خرچ کر کے اس قلعے کی 30 میٹر گہری خندقوں، بلند و بالا فصیلوں، سنہری چھتوں اور تاریخی عجائب گھر کا نظارہ کرتے ہیں تو وہ نہ صرف جاپان کے شاندار ماضی کو سلام پیش کرتے ہیں بلکہ اس قوم کے جذبہ حب الوطنی کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اوساکا قلعہ کل بھی جاپان کا غرور تھا، آج بھی ہے اور آنے والی صدیوں میں بھی اپنے جاہ و جلال کے ساتھ یوں ہی قائم رہے گا۔

 قومی اقلیتی ہیرو اورسول ایوارڈ

قومی اقلیتی ہیرو اورسول ایوارڈ

پاکستان میں اقلیتوں کے کردار کوریاستی سطح پر ہمیشہ سراہا گیا ہے۔ کھیل،سیاست ، آرمی ،صحت کا شعبہ، گلوکاری ، فن، ادب ،موسیقی و دیگر تمام شعبوں میں اقلیتوں نے اپنے کردار کو ہمیشہ انتہائی خوبصورت انداز سے نبھایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی تاریخ اقلیتوں کے عظیم کارناموں اور منفرد کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ ہر شعبے میں ایسے ایسے نام پیدا ہوئے ہیں، جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ امن و امان صلح و سلامتی خوشحالی کی بات ہو یا قربانی دینے کی اقلیتوں نے وطن عزیز کی خاطر ہمیشہ فرنٹ لائن پر اپنا کردار ادا کیا ہے اور وطن عزیز کی خاطر اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں، جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے اپنے شعبوں کے ذریعے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کرنے والے اقلیتی ہیروز کی خدمات اور جرات کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کیلئے اس برس بھی سول ایوارڈز دینے کا اعلان کیا ہے۔ جن میں ڈاکٹر پال جیکب بھٹی، بشپ ہمفری سرفراز پیٹر ، سائرہ پیٹر اوررضیہ نورین شامل ہیں۔ڈاکٹر پال جیکب بھٹی فیصل آباد کی تحصیل سمندری کے قریب واقع ایک گاؤں خوشپور کے رہائشی ہیں جسے پاکستان کا ویٹی کن سٹی بھی کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر پال جیکب بھٹی نے اٹلی کی پڈوا یونیورسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور پاکستان و یورپ میں طب کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے سابق وفاقی وزیر برائے نیشنل ہارمنی و اقلیتی امور رہے اور وزیر اعظم کے مشیر برائے نیشنل ہارمنی بھی رہے ہیں۔ وہ سابق وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کے بڑے بھائی ہیں۔ وہ آل پاکستان مینارٹیز الائنس پاکستان اور شہباز بھٹی میموریل ٹرسٹ سے بطور چیئرمین وابستہ رہے اور مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی انصاف کیلئے کام کرتے رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا، جو بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کیلئے ان کی طویل خدمات کے اعتراف میں ہے۔ اب آتے ہیں بشپ ہمفری کی طرف ،بشپ ہمفری سرفراز پیٹر ایک مشہور مسیحی مذہبی رہنما ہیں ۔ انسانی حقوق کی ایک معتبر اور توانا آواز ہیں،چرچ آف پاکستان سے وابستگی ہے، بشپ آف پشاور کے مذہبی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق اور انصاف کی خاطر ہر فورم پہ آواز اٹھاتے رہے ہیں، مسیحی برادری کے حقوق، مذہبی آزادی، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے سرگرم رہتے ہیں اقلیتوں کے مسائل اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے بین المذاہب ہم آہنگی پر ہمیشہ زور دیا ہے۔ ہر سو امن کا پرچار کرتے ہیں۔حکومت پاکستان نے انہیں بے سہارا اور بے آواز لوگوں کی آواز بلند کرنے اور امن کے اعتراف میں ''تمغہ امتیاز‘‘ دینے کا اعلان کیا ہے۔کراچی سے تعلق رکھنے والی سائرہ پیٹر برطانیہ میں مقیم ہیں اور گلوکاری میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔صوفیانہ کلام کو اوپرا انداز میں گانے کا ہنر بھی بخوبی جانتی ہیں۔ دنیا بھر میں گلوکاری کے ذریعے پاکستان کی ایک اچھی اور خوبصورت تصویر کو نمایاں رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں گلوکاری کے ذریعے امن اور محبت کے پیغام کو دینا بھی میں پھیلانے کیلئے تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا ہے۔رضیہ نورین پیشے کے لحاظ سے ایک نرس ہیں۔ گزشتہ دنوں پمز ہسپتال اسلام آباد میں نومولود بچوں کی نرسری میں لگنے والی المناک آگ میں سے ایک بچے کی جان بچائی تھی۔ نرس رضیہ کا کہنا ہے کہ میں دیگر بچوں کی بھی جان بچانا چاہتی تھی لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا، جس کا مجھے تاحیات دکھ رہے گا۔ ان کی اس بہادری اور جرات کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے ستارہ خدمت دینے کا اعلان کیا ہے۔جو انہیں 23مارچ کو دیا جائے گا۔

طنز و مزاح:میں ایک شاعر ہوں

طنز و مزاح:میں ایک شاعر ہوں

ابھی ہوش سنبھالا ہی تھا کہ گھر میں شعر و شاعری کے چرچے سنے۔ مشاعروں کے کھیل کھیلے۔ اور آخر پندرہ برس کی عمر ہوگئی کہ پہلی غزل اس شان سے مشاعرے میں پڑھی ہے کہ گھر پر پڑی بوڑھیوں نے نظر اتاری اور باہر اس فن کے بڑے بڑے مشاقوں نے اعتراف کیا کہ صاحبزادے نے پالنے ہی میں پیر دکھائے ہیں۔ مطلب یہ کہ شاعری کی ابتدا اسی عمر میں ہوئی جس کے متعلق شاعر کہہ گیا ہے کہ:برس پندرہ یا کہ سولہ کا سنجوانی کی راتیں امنگوں کے دنداد جو ملی تو حوصلے اور بڑھ گئے۔ اب دن رات بس ایک ہی مشغلہ ہے غزل گوئی اور غزل سرائی۔ جس مشاعرے میں پہنچ گئے بس جھنڈے گاڑ آئے۔ اپنے سامنے کسی کا چراغ نہ جلنے دیا۔ جس طرح، میں غزل کہہ دی اس کو اپنا لیا۔ خاص شہرت حاصل کی گرہ لگانے میں۔ قصہ کوتاہ کچھ ہی دنوں میں مقامی مشاعروں کے علاوہ دور دور سے بلاوے آنے لگے۔ آج یہاں مشاعرہ ہے تو کل وہاں، آج اس شہر میں کل اس شہر میں۔ یہ سچ ہے کہ اس طرح تعلیم ضرور ناقص رہ گئی۔ مگر شاعر ہونا مسلم ہوگیا۔ آواز میں قیامت کا سوز تھا۔ اور دھن بنانے کا سلیقہ خداداد تھا۔ پھر کلام کی لطافتیں۔مختصر یہ کہ سب کچھ مل جل کر مشاعرہ لوٹنے میں مدد دیتا تھا۔ ایک نمائش کے مشاعرہ میں تو تمغہ تک دیا گیا تھا۔ اخباروں میں تصویریں چھاپی گئیں۔ رسالوں کے ایڈیٹروں نے بڑی منت کے خطوط لکھے کہ میں اپنا تازہ کلام بھیجوں۔ بے شمار رسالے اور اخبار مفت آنے لگے۔ اور ان میں میرا کلام بڑے امتیاز کے ساتھ چھپنے لگا۔ بڑے بڑے سالانہ نمبروں میں صرف میری غزل کو جلی حروف میں اور خوشنما حاشیہ کے اندر ایک پورے صفحے میں چھاپا گیا۔ مختصر یہ کہ آپ کی دعا سے شہرت اور مقبولیت کی کوئی کمی نہ رہی۔ یہاں تک کہ کچھ ہی دنوں کے بعد مشق اس قدر بڑھ گئی اور کلام میں کچھ خدا کے فضل سے ایسی پختگی پیدا ہوگئی کہ بہت سے نوجوان اپنی اپنی غزلیں اصلاح کیلئے لانے لگے۔ اور اب ضرورت اس کی پیش آئی کہ ذرا اس فن کا مطالعہ بھی کرلیا جائے کہ یہ فاعلاتن فاعلات آخر کیا بلا ہوتی ہے۔یہ سچ ہے کہ پیدائشی اور فطری شاعروں کیلئے ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ مگر شاگردوں کے سمجھانے اور استاد بننے کیلئے معلومات حاصل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ بہرحال اس سلسلہ میں جتنی کتابیں دیکھیں اتنی ہی طبیعت الجھی کہ یہ ہے کیا خرافات۔ آخر ایک کتابوں کا سیٹ مل گیا۔ شاعری کی پہلی کتاب۔ دوسری کتاب۔ تیسری کتاب۔ ان کتابوں کو سلسلہ وار پڑھنے سے خود تو کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ مگر دوسروں کو سمجھانے کا مواد ضرور مل گیا اور اب شاگردوں کی غزلوں پر اصلاح کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان شاگردوں کا مشاعروں میں چمکنا تھا کہ شاگردوں کی تعداد دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔ یہاں تک کہ عالم یہ ہوگیا کہ ہر مشاعرے کے دن درجنوں شاگرد حلقہ باندھے بیٹھے ہیں۔ اور میں ان کی غزل لکھوا رہا ہوں کہ یہ مطلع تم لکھ لو اور یہ شعر تم لکھ لو۔ شاگردوں سے اور کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو، مگر اتنا ضرور ہوتا ہے کہ خود اپنے کو اوّل تو اساتذہ کی صف میں جگہ ملتی ہے۔ دوسرے استاد کی غزل پر یہ شاگرد داد کا وہ شور مچاتے ہیں کہ مشاعرہ ہی سر پر اٹھالیتے ہیں۔ اور اگر کبھی کوئی بدخواہ اعتراض کربیٹھے تو یہی شاگرد مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ گویا استاد کی اچھی خاصی طاقت ہوتے ہیں یہ شاگرد۔گھر میں اللہ کے فضل و کرم سے کھانے پینے کی کوئی کمی نہ تھی۔ وثیقہ بندھا ہوا تھا۔ اور باپ دادا بھی اتنا چھوڑ گئے تھے کہ چار کو کھلا کر کھا سکیں۔ لہٰذا فکر معاش کا تو کوئی ذکر ہی نہیں۔ لے دے کے بس فکر سخن ہی تھی، شاگردوں کو بھی کبھی کسی خدمت کا کوئی موقع نہ دیا۔ بلکہ ان ہی کی جو خدمت ہوسکی وہ کی۔ یعنی مفت کی غزلوں کے علاوہ اکثر مفت کی روٹیاں بھی مل جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ ایک تنبولی شاگرد نے پانوں کی ڈھولی کی قیمت لینے سے انکار کردیا۔ نتیجہ یہ کہ اگلے مشاعرے میں نہ صرف یہ کہ نہایت زوردار غزل کہہ کر ان کو دی بلکہ ان کا ریل ٹکٹ بھی خود ہی خریدا۔ان ہی حالات میں زندگی بڑے مزے میں بسر ہو رہی تھی کہ ایک دم سے وہ انقلاب آگیا۔ جس نے ساری دنیا زیر وزبر کرکے رکھ دی۔گھر گیا، گرہستی گئی، وثیقہ گیا۔ مختصر یہ کہ آپ ''واحد حاضر‘‘ رہ گئے۔ اور باقی سب کچھ ''جمع غائب‘‘ اور تو اور کھانے پینے کے لالے پڑگئے۔ پردیس میں نہ کوئی جان نہ پہچان۔ ایک نفسا نفسی کا عالم۔ سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ مہاجرین میں کچھ جانی پہچانی شکلیں بھی نظر آئیں مگر سب کو اپنی اپنی فکر، اور یہاں یہ عالم کہ روزبروز حالت پتلی ہوتی جارہی ہے۔ سرچھپانے کو تو خیر ایک آگ لگی ہوئی عمارت کے دوپسماندہ کمرے مل گئے۔ مگر پیٹ کی آگ بجھانے کی سبیل نظر نہ آتی تھی۔

آج تم یاد بے حساب آئے! طافو: ’’کنگ آف ردھم‘‘ (2024-1945ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! طافو: ’’کنگ آف ردھم‘‘ (2024-1945ء)

٭... 1945 میں لاہور کے ایک موسیقار گھرانے میں پیدا ہوئے،اصل نام الطاف حسین تھا، استاد طافو خان کے نام سے شہرت پائی۔٭... طبلہ نوازی پرانہیں کمال مہارت حاصل تھی۔انہیں موسیقی کے حلقوں میں ''طبلہ کا بادشاہ ‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔٭... 1970 میں اپنے کریئر کا آغاز پنجابی فلم ''انورا‘‘‘ سے کیا اور پہلی ہی فلم سے شائقین کے دل موہ لیے۔٭...موسیقار طافو کا فلمی کریئر 50برسوں پر محیط ہے۔اس دوران انہوں نے دو سو سے زائد فلموں کی موسیقی مرتب کی۔٭...پنجابی اور اردوفلموں کے 600 سے زائد گیت بنائے۔٭...متعدد نامور گلوکاروں کو بھی متعارف کرایا۔٭... میڈیم نور جہاں نے ان کے ان گنت گیت گائے۔ طافو خان انہیں ماں کا درجہ دیتے تھے ۔٭...2023ء میں حکومت کی طرف سے انہیں ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ سے نوازا گیا۔٭...طویل علالت کے بعد 26اکتوبر 2024ء کو ان کا انتقال ہوا۔مقبول گیت(1)سن وے بلوری اکھ والیا(2)اک بات کہو ں دلدارا(3)کی دم دا بھروسہ یار(4)سونے دی نتھلی، اصلی تے نقلی(5) میں ہوں وفا تو ہے جان وفا (6)نہ جا میرے دلربا(7) مجھے تم بھول نہ جانا (8) پردیسی سجناں پلکوں پہ تیری(9) دوروں دوروں آنکھیاں مارے منڈا پٹواری دا (10) بڑے تیکھے مزاج سوہنے یار دے (11) بدلے گی دنیا ساتھی (12) منڈا شہر لاہور دا میرے دل دے تیر چلاے(13)ڈھول مکھناں پیار تیرا ہر دم یاد رکھنا (14) لاج محبتاں دی رکھ وے (15) اکھ جدوں کردی اے وار (16) تینوں مجرم کواں گی اج تیرے سمنے (17) تم کو قسم محبوب میرے(18) دلو من لاء تیری بن گئی (19) ساتھی مجھے مل گیا(20) کنڈلہ دے وال والیا

آج کا دن

آج کا دن

ونڈوز8متعارف26 اکتوبر 2012ء کو امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اپنے نئے آپریٹنگ سسٹم ''ونڈوز 8‘‘ کو باضابطہ طور پر عوام کیلئے جاری کر دیا۔ اس موقع پر کمپنی نے اسے نئے کمپیوٹرز پر بھی دستیاب بنایا۔ ونڈوز 8 مائیکروسافٹ کے مقبول آپریٹنگ سسٹمز میں ایک اہم اضافہ تھا، جسے جدید کمپیوٹرز اور ٹچ اسکرین آلات کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا۔پاکستان میں شدید زلزلہ26 اکتوبر 2015ء کو پاکستان میں ایک تباہ کن زلزلہ آیا جس کی شدت 7.5 ریکٹر اسکیل ریکارڈ کی گئی۔ اس زلزلے کا مرکز افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے علاقے ہندوکش پہاڑوں میں زمین کے اندر تقریباً 210 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔پاکستان میں 400 سے زائد افراد جاں بحق اور 2500 سے زیادہ زخمی ہوئے۔اسرائیل اردن معاہدہ26اکتوبر1994ء کو اسرائیل اور اردن کے درمیان46 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے بعد ایک امن معاہدہ ہوا۔ معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میں امریکی صدر کلنٹن نے بھی شرکت کی۔ دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کے علاوہ اس معاہدے نے زمین اور پانی کے تنازعات کو بھی حل کیا۔پاکستان نے پہلا ٹیسٹ جیتا1952ء میں پاکستان نے بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا اور اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز بھارت کے خلاف کھیلی۔ سیریز کا دوسرا میچ لکھنؤ میں 23 سے 26 اکتوبر تک کھیلا گیا، جس میں اسے فتح حاصل ہوئی۔پاکستان نے یہ میچ ایک اننگز اور 43 رنز سے جیتا ۔ پاکستانی بائولر فضل محمود نے اس میچ میں12 وکٹیں حاصل کیں۔ ہنگری کا انقلاب26اکتوبر1956ء کو ہنگری میں ایک انقلاب کی شروعات ہوئی۔اس دوران مظاہرین اور سوویت فوجیوں کی بداپسٹ کی گلیوں میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ایک اندازے کے مطابق اس انقلاب کے دوران3سے 5ہزار افراد ہلاک ہوئے اور ان کی لاشیں کئی روز تک گلیوں اور سڑکوں پر پڑی رہیں۔ کیلیفورنیا کی آگکیلیفورنیا کی آگ کا سلسلہ سانتا ایناونڈز سے شروع ہوا جس نے تقریباً2 لاکھ 80 ہزار 278 ایکٹر رقبہ اور1232 مکانات کو جلا کر راکھ کر دیا۔ایک ہفتے کے دوران 15افراد ہلاک ہوئے،اس آگ کو کیلیفورنیا کی تاریخ کی سب سے خوفناک آتشزدگی سمجھا جاتا ہے۔ہونڈوراس سمندری طوفانجدید دور کا سب سے مہلک طوفان 26 اکتوبر 1998ء کووسطی امریکہ کے متعدد ممالک سے ٹکرایا۔بہت سے علاقے سیلاب میں ڈوب گئے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق اس طوفان میں تقریباً3ہزار افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

ڈیجیٹل دنیا کا سب سے بڑا بحران

ڈیجیٹل دنیا کا سب سے بڑا بحران

70 فیصد انٹرنیٹ کی بندش، دنیا بھر میں ہنگامی حالتکیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک ہی دن میں دنیا بھر کی 70فیصد سے زائد ویب سائٹس یا تو بند ہونے پر مجبور ہو جائیں یا سائبر حملوں کے شدید خطرے کی زد میں آ جائیں؟ یہ حالیہ ڈیجیٹل بحران اس وقت پیدا ہوا جب انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں کچھ ایسی سنگین نقائص اور کمزوریاں سامنے آئیں جن سے پہلے دنیا غافل تھی۔ اس واقعہ نے نہ صرف عالمی سطح پر کاروباری اداروں، حکومتوں اور عام صارفین کو ہلا کر رکھ دیا، بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ ہماری ڈیجیٹل سکیورٹی کتنی نازک ڈور سے بندھی ہے۔ جیسے ہی یہ خامیاں آشکار ہوئیں، دنیا بھر کی بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں میں ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی ہے۔ 21اکتوبر کو دنیا بھر میں سرکاری پورٹلزاور ہزاروں ویب سائٹس بند ہو گئیں، کیونکہ ویب سائٹ آپریٹرز دو انتہائی اہم سوفٹ ویئر خامیوں سے بچاؤ کیلئے ہنگامی اقدامات کر رہے تھے۔ یہ خلل ''پی ایچ پی‘‘ (PHP) نامی پروگرامنگ لینگویج میں موجود کمزوریوں کے باعث پیدا ہوا، جو دنیا کی تقریباً 70 فیصد ویب سائٹس کو چلانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ حملے کے خدشات کے پیش نظر نیدرلینڈز، فن لینڈ، فرانس اور ڈنمارک سمیت کئی ممالک میں ویب سائٹس اور آن لائن خدمات کو عارضی طور پر آف لائن کر دیا گیا۔امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (NSA) اور ایف بی آئی (FBI) نے پی ایچ پی استعمال کرنے والی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ سکیورٹی اپ ڈیٹس فوری طور پر انسٹال نہیں کر سکتیں، تو وہ متاثرہ سسٹمز کو آف لائن کر دیں۔ امریکہ کی بڑی ویب سائٹس اور آن لائن سروسز، بشمول ایٹسی (Etsy)، ویکیپیڈیا (Wikipedia) اور ناسا (NASA) پی ایچ پی پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہیں، جو شاپنگ، معلومات اور سرکاری خدمات میں اس سافٹ ویئر کی وسیع رسائی کو ظاہر کرتی ہے۔ یورپ، آسٹریلیا، جاپان اور برطانیہ کی سائبر سکیورٹی ایجنسیوں نے بھی پی ایچ پی صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپ ڈیٹ کریں یا فکسز (Fixes) لگانے تک متاثرہ ویب سائٹس کو آف لائن کر دیں۔ان خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیکرز کسی پاس ورڈ یا اکاؤنٹ کے بغیر متاثرہ سرورز کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک کامیاب حملہ مجرموں کو سرور پر ذخیرہ شدہ معلومات چوری کرنے یا کسی قابلِ اعتماد ویب سائٹ کو اس کے وزٹرز پر حملے کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور سکیورٹی کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ''کلاؤڈ فلیئر‘‘ (Cloudflare) نے سائبر حملوں کے شواہد کی اطلاع دی ہے، جبکہ دوسری جانب ویب سائٹ آپریٹرز سکیورٹی فکسز (Security Fixes) انسٹال کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ڈروپال ایسوسی ایشن(Drupal Association) کی عبوری چیف ایگزیکٹو ٹفنی فیرس(Tiffany Farriss) کے مطابق ''پچھلے 20 سالوں میں جاری ہونے والے ''پی ایچ پی‘‘ کے کسی بھی ورژن کو استعمال کرنے والے تمام سرورز اس خطرے کی زد میں ہیں۔ یہ مسئلہ انٹرنیٹ کے ایک بہت بڑے حصے کو متاثر کرتا ہے‘‘۔ انٹرنیٹ انٹیلی جنس فرم ''سینسز‘‘ (Censys) کے اعداد و شمار کے مطابق، 26 لاکھ ہوسٹس میں سے تقریباً 15 لاکھ نے رپورٹ کیا ہے کہ وہ پی ایچ پی کا ایسا ورژن چلا رہے ہیں جس کی اصلاح کیلئے فی الحال کوئی اپ ڈیٹ موجود نہیں ہے۔ یہ دونوں خامیاں اس بات سے متعلق ہیں کہ پی ایچ پی سرور کی میموری کو کس طرح ہینڈل کرتا ہے۔ ان میں سے ایک خامی میموری کا مسئلہ پیش آنے پر سافٹ ویئر کو معلومات کی غلط پروسیسنگ پر مجبور کر سکتی ہے، جبکہ دوسری خامی سافٹ ویئر کو میموری کی اس معلومات کو دوبارہ استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے جو پہلے ہی جاری کی جا چکی ہو۔اگرچہ سائبر سکیورٹی پلیٹ فارم ''پیچ سٹیک‘‘ (Patchstack) کا کہنا ہے کہ اسے سائبر حملوں کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، لیکن ان حملوں کی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق پی ایچ پی کی دیکھ بھال کرنے والی سکیورٹی ٹیم نے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے پیچز (Patches) جاری کر دیے ہیں۔ اب ویب سائٹ آپریٹرز کو ہیکرز سے پہلے ان اپ ڈیٹس کو انسٹال کرنے کی ریس کا سامنا ہے، کیونکہ ہیکرز مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ان اپ ڈیٹس کا تجزیہ کر کے ان سسٹمز پر حملے کرنے کا طریقہ ڈھونڈ سکتے ہیں جو ابھی تک غیر محفوظ ہیں۔ ان کمزوریوں کو دریافت کرنے والی سکیورٹی کمپنی ''کیلف‘‘ (Calif) کے چیف ایگزیکٹو تھائی ڈونگ نے ''دی وال سٹریٹ جرنل‘‘ کو بتایا کہ ٹوئٹر (ایکس) پر کوئی بھی شخص ان پیچز کو اٹھا کر اس پر AI کا استعمال کر سکتا ہے اور حملے کا کوئی طریقہ پوسٹ کر سکتا ہے۔اس کے بعد ایک آفت یا تباہی مچ جائے گی۔یورپی یونین کی تکنیکی سائبر سیکیورٹی مشاوارتی باڈی ''سرٹ ای یو‘‘ (CERT-EU) کے مطابق ''تنظیموں کو چاہیے کہ جب تک اصلاحی اپ ڈیٹ (Fix) دستیاب نہ ہو، وہ انٹرنیٹ سے منسلک ایپلی کیشنز کو پبلک نیٹ ورکس سے الگ کرنے پر غور کریں۔نیدرلینڈز میں، قومی سائبر سکیورٹی سینٹر کی پیروی کرتے ہوئے متعدد تنظیموں نے عوام کی رسائی والی ویب سائٹس کو آف لائن کر دیا۔ان میں روٹرڈیم کی بندرگاہ، سرکاری پورٹل Overheid.nl، قومی فٹبال ایسوسی ایشن (KNVB)، ملک کی پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کی ویب سائٹس اور متعدد ہسپتالوں کی ویب سائٹس شامل تھیں۔ڈنمارک کی میونسپل آئی ٹی کمپنی ''کومبٹ‘‘ (Kombit) کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے قومی اسکول کمیونیکیشن پلیٹ فارم سمیت متعدد خدمات کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔یہ خلل فن لینڈ میں اور بھی زیادہ وسیع تھا، جہاں سرکاری آئی ٹی سروسز فراہم کرنے والے ادارے ''والٹوری‘‘ (Valtori) نے کہا کہ حفاظتی تدبیر کے طور پر حکومت کی عوامی نیٹ ورک خدمات کو آف لائن کر دیا گیا ہے۔فرانس کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اپ ڈیٹ کا انتظار کرتے ہوئے مقامی حکومتی انتظامی ویب سائٹس کو عارضی طور پر آف لائن کر دیا گیا ہے۔ کنگز کالج لندن کے وزٹنگ سینئر ریسرچ فیلو، لوکاس اولیجونک کا کہنا ہے کہ حال ہی میں بڑھنے والے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیے جانے والے ہیکنگ کے حملے اس خطرے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔پی ایچ پی (PHP) ایک ایسی پروگرامنگ لینگویج ہے جو ویب سائٹس کو چلانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ جب کوئی وزٹر کوئی پیج لوڈ کرتا ہے، تو PHP چلانے والا سرور مواد کو یکجا کرتا ہے اور اسے براؤزر پر بھیجتا ہے۔