سادگی میں پوشیدہ عظمت کی داستانقلعہ روہتاس وسیع رقبے، بلند و بالا فصیلوں اور ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام کے باعث برصغیر کی عظیم عسکری تعمیرات میں شمار ہوتا ہے۔اسے افغان بادشاہ شیر شاہ سوری نے شمال سے پنجاب کے میدانوں کی طرف آنے والی پرانی جرنیلی سڑک پر تعمیر کیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ معزول مغل بادشاہ ہمایوں کو اپنی سابقہ سلطنت میں واپس آنے سے روکا جائے۔ ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے چوسہ میں شکست دی تھی اور وہ ایران فرار ہو گیا لیکن شیر شاہ کو خدشہ تھا کہ ہمایوں پنجاب واپس آنے میں کامیاب ہو گیا تو اس کی حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ شیر شاہ کی دوسری تشویش گکھڑ قبائل تھے جوپوٹھوہار وادی پر قابض تھے اور مغلوں کے روایتی اتحادی تھے۔ قلعہ روہتاس میں جنوبی سمت، کابلی دروازے کے قریب واقع شاہی مسجد ایک ایسی یادگار ہے جو اپنی سادگی میں ایک پوری تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ یہ مسجد اُس دور کے فنِ تعمیر، عسکری حکمتِ عملی اور طرزِ فکر کی عکاسی کرتی ہے۔پہلی نظر میں یہ مسجد اپنی سادہ ساخت کے باعث توجہ کا مرکز نہیں بنتی۔ نہ اس میں بلند مینار ہیں، نہ رنگین کاشی کاری اور نہ ہی پیچیدہ نقش و نگار۔ لیکن اس کی ساخت اور محلِ وقوع پر غور کیا جائے تو اس کی اہمیت واضح ہونے لگتی ہے۔ مسجد کو قلعے کی دیواروں میں اس مہارت سے ضم کیا گیا ہے کہ یہ دفاعی نظام کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ انداز اس بات کی دلیل ہے کہ اُس دور میں تعمیرات محض جمالیاتی نہیں بلکہ عملی اور دفاعی تقاضوں کے تحت بھی کی جاتی تھیں۔مسجد کا بنیادی ڈھانچہ ایک مختصر صحن اور ایک سادہ ہال پر مشتمل ہے جسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر حصہ محرابی دروازوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ محرابیں نہ صرف تعمیراتی حسن رکھتی ہیں بلکہ اندرونی فضا میں توازن اور وسعت کا احساس بھی پیدا کرتی ہیں۔ چھت پر گنبد سادہ اور بغیر کسی آرائش کے ہیں جو اس دور کے سادہ طرزِ تعمیر کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔اس مسجد کی ایک نہایت دلچسپ اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کے گنبد باہر سے نظر نہیں آتے۔ عام طور پر مساجد کی شناخت ان کے گنبدوں اور میناروں سے ہوتی ہے مگر یہاں ان عناصر کو جان بوجھ کر پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ قلعے کی عسکری نوعیت ہے جہاں ہر تعمیر کو دفاعی حکمتِ عملی کے مطابق ڈھالا جاتا تھا۔ مسجد کو اس انداز میں تعمیر کیا گیا کہ وہ دشمن کی نظروں سے اوجھل رہے اور قلعے کے مجموعی دفاعی ڈھانچے میں خلل نہ ڈالے۔مزید برآں مسجد کا ایک داخلی راستہ ایسا بھی ہے جو قلعے کی دیواروں کے اندر سے گزرتے ہوئے براہِ راست کابلی دروازے کے اندرونی حصے تک پہنچتا ہے۔ یہ راستہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسجد کو قلعے کی روزمرہ زندگی کا لازمی جزو سمجھا گیا تھا۔ قلعے میں موجود سپاہیوں اور عملے کے لیے یہ ایک محفوظ اور قریب ترین عبادت گاہ تھی۔تاریخی لحاظ سے یہ مسجد خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ شہر شاہ سوری کے دور کی چند محفوظ مذہبی عمارتوں میں سے ایک ہے۔ سوری عہد اپنی مضبوط فوجی تعمیرات کے لیے مشہور تھا مگر مذہبی عمارات نسبتاً کم تعمیر کی گئیں۔ اس لیے روہتاس قلعہ کی یہ شاہی مسجد اس دور کے فنِ تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے، جو ہمیں اس عہد کی سادگی، سنجیدگی اور عملی سوچ سے روشناس کراتا ہے۔اگر اس مسجد کا تقابل بعد کے مغل دور کی مساجد سے کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے۔ مغل طرزِ تعمیر میں شان و شوکت، تزئین و آرائش اور جمالیاتی پہلوؤں کو نمایاں اہمیت دی گئی جبکہ اس مسجد میں سادگی اور افادیت کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہی فرق دونوں ادوار کے فکری اور ثقافتی رجحانات کو ظاہر کرتا ہے۔آج جب ہم اس مسجد کو دیکھتے ہیں تو یہ ہمیں ماضی کی ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں سادگی میں حسن اور ضرورت میں حکمت پوشیدہ تھی۔ یہ مسجد بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہے مگر اس کے اندر ایک مکمل داستان چھپی ہوئی ہے،ایک ایسی داستان جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل عظمت ظاہری شان و شوکت میں نہیں بلکہ مقصدیت، توازن اور فکری گہرائی میں ہوتی ہے۔یوں روہتاس قلعہ کی شاہی مسجد نہ صرف ایک تاریخی ورثہ ہے بلکہ ایک فکری علامت بھی ہے جو ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ فنِ تعمیر کا اصل حسن اس کی افادیت اور معنویت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
دنیا بھر میں لوگ طویل اور صحت مند زندگی گزارنے کے راز تلاش کرتے رہتے ہیں مگر بعض اوقات یہ راز نہایت سادہ ہوتا ہے۔ معروف امریکی اداکارDick Van Dyke جو اپنی 100 سالہ عمر کے قریب بھی متحرک اور خوش باش نظر آتے ہیں اپنی لمبی عمر کا راز ایک حیرت انگیز مگر سادہ عادت کو قرار دیتے ہیں اور وہ ہے: غصہ نہ کرنا اور مثبت رہنا۔یہ محض ایک ذاتی تجربہ نہیں بلکہ جدید سائنس بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ڈک وان ڈائک کا کہنا ہے کہ وہ زندگی میں کبھی غصہ نہیں کرتے اور ہمیشہ مثبت سوچ کو اپناتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک عام سی بات لگتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس کا انسانی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل غصہ اور ذہنی دباؤ دل کی بیماریوں، فالج اور ذیابیطس جیسے امراض کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے، جو دنیا میں قبل از وقت اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جو افراد اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہیں اور مثبت اندازِ فکر اپناتے ہیں وہ نہ صرف ذہنی طور پر مطمئن رہتے ہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی زیادہ صحت مند ہوتے ہیں۔سٹریس کے جسم پر اثراتسائنس کے مطابق جب انسان مسلسل ذہنی دباؤ یا غصے کی حالت میں رہتا ہے تو اس کے جسم میں ایک خاص قسم کا کیمیائی ردِعمل پیدا ہوتا ہے جو دل اور خون کی نالیوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ حالت جسم کے خلیات کو بھی متاثر کرتی ہے، خاص طور پرٹیلومیئرز کو جو ہمارے ڈی این اے کی حفاظت کرتے ہیں۔ ٹیلومیئرز کے کمزور ہونے کا مطلب ہے کہ جسم تیزی سے بوڑھا ہونے لگتا ہے۔ اس کے برعکس پرُسکون اور مثبت ذہن رکھنے والے افراد میں یہ عمل سست ہو جاتا ہے جس سے صحت مند عمر میں اضافہ ممکن ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مثبت سوچ رکھنے والے افراد عام طور پر صحت مند عادات اپناتے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں، متوازن غذا کھاتے ہیں اور زندگی کے مسائل کو بہتر انداز میں ہینڈل کرتے ہیں۔خود ڈک وان ڈائک بھی بڑھاپے کے باوجود ہفتے میں کئی بار ورزش کرتے ہیں جو اُن کی جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھنے میں مددگار ہے۔غصہ نکالنا یا قابو کرنا؟عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ غصہ نکال دینا بہتر ہے، مگر تحقیق اس کے برعکس ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح جسم مزید تناؤ کی حالت میں رہتا ہے اور دل پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس کے بجائے بہتر یہ ہے کہ آدمی گہری سانس لینے کی مشق کرے،دعا‘مراقبہ یا یوگا کرے،حالات کو ٹھنڈے دماغ سے سمجھے۔یہ طریقے نہ صرف غصے کو کم کرتے ہیں بلکہ مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتے ہیں۔اگرچہ مثبت سوچ ایک اہم عنصر ہے لیکن لمبی عمر صرف اسی پر منحصر نہیں۔ جینیات، خوراک، ورزش اور طرزِ زندگی بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مثلاً باقاعدہ جسمانی سرگرمی،متوازن غذا،سماجی روابط،ذہنی سکون۔یہ تمام عوامل مل کر ایک صحت مند اور طویل زندگی کی بنیاد بنتے ہیں۔ڈک وان ڈائک کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ لمبی عمر کے لیے کوئی پیچیدہ فارمولا ضروری نہیں۔ ایک سادہ سی عادت،غصے سے بچنا اور مثبت رہنا،انسان کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی لا سکتی ہے۔جدید سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ذہنی سکون اور خوش مزاجی نہ صرف دل کو مضبوط بناتی ہے بلکہ عمر کو بھی بڑھاتی ہے۔ اس لیے اگر ہم واقعی ایک طویل اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ اور رویے پر توجہ دینا ہوگی۔یاد رہے لمبی زندگی کا راز دواؤں میں نہیں بلکہ ہمارے رویے میں چھپا ہوا ہے۔
انڈے اور آلو کے کباباجزا: انڈے تین عدد(ابال کر لمبائی میں دو دو حصے کرلیں)۔ آلو :چار عدد(اُبال کر میش کر لیں)، بریڈ کرمز: ایک پیالی، تیل: حسب ِضرورت، سبز دھنیا: (باریک کٹا ہوا)، دو عدد انڈوں کی سفیدی (اچھی طرح پھینٹ لیں )، نمک اور کالی مرچ: حسب ِذائقہ۔ترکیب: میش کئے ہوئے آلوؤں میں نمک اور کالی مرچ ملائیں، پھر اس میں ابلے ہوئے انڈوں پر آلو کا آمیزہ لگائیں۔ انڈوں کی سفیدی اس وقت تک پھینٹ جب تک کہ جھاگ اٹھ آئے۔ انڈوں کو سفیدی میں ڈبوئیں، پھر ان کے اوپر بریڈ کرمز لگا کر گرم تیل میں تل کر سنہر اکر لیں۔ دھنیے سے سجا کر گرم گرم پیش کریں۔میٹھی سویاں اجزاؔ:سویاں :دو کپ۔کھویا: 50گرام۔دودھ : ایک کپ۔پستہ :چوتھائی کپ ۔ بادام:چوتھائی کپ ۔گھی :ایک کھانے کا چمچ۔ چھوٹی الائچی کا پاوڈر:ایک چائے کا چمچ۔کشمش ـ: تین چمچ۔ترکیب: موٹے پیندے والی دیگچی میں گھی کو گرم کرلیں اور اس میں سویوں کو بھون لیں جب تک کہ اس میں سے خوشبو نہ آنے لگے اور ان کارنگ گولڈن براؤن نہ ہو جائے۔اب آنچ کو بند کردیں اوراسے ایک طرف رکھ دیں۔ایک برتن میں دودھ کو ابال لیں اور چوپ کیے ہوئے بادام پستے اس میں شامل کردیں اور 3،2 منٹ کے لیے پکا لیں۔ اب چینی شامل کر کے انہیں دودھ میں گھلنے دیں۔کھویا بھی دودھ میں شامل کر دیں اور اس وقت تک پکائیں جب تک کہ مکسچر گاڑھا نہ ہوجائے۔اس میں سویاں ڈال دیں اور مزید 5منٹ کے لیے پکائیں۔اب الائچی پاوڈر کو ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں اور کسی سرومگ ڈش میں نکال لیں۔چوپ کئے ہوئے بادام پستے کو اوپر سے چھڑک کر سرو کریں۔
عراق جنگ کا آغاز19 مارچ 2003ء کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اس جنگ کا اعلان کیا اور اسے' عراقی آزادی‘ کے آپریشن کا نام دیا۔اس روز بغداد پر شدید فضائی حملے کیے گئے، جن کا مقصد عراقی قیادت اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔ چند ہفتوں میں صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تاہم اس کے بعد ملک میں بدامنی اور خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔یہ جنگ عالمی سیاست میں ایک متنازع باب بن گئی کیونکہ بعد میں یہ ثابت ہوا کہ عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود نہیں تھے۔ڈے لائٹ سیونگ 19 مارچ 1918ء کو امریکہ میں پہلی بار ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کا قانون نافذ کیا گیا۔ یہ اقدام پہلی عالمی جنگ کے دوران توانائی بچانے کے لیے کیا گیا تھا۔اس نظام کے تحت گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کر دیا جاتا تھا تاکہ دن کی روشنی سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔ بعد میں یہ نظام یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اپنایا گیا۔اگرچہ اس پر تنقید بھی ہوتی رہی لیکن یہ آج بھی کئی ممالک میں استعمال ہو رہا ہے اور جدید معاشی و سماجی نظام کا حصہ بن چکا ہے۔ ''نیرو ڈکری‘‘ حکمنامہ19 مارچ 1945ء کو ایڈولف ہٹلر نے ایک متنازع حکم جاری کیا جسے نیرو ڈکری کہا جاتا ہے۔اس حکم کے تحت جرمنی کے بنیادی ڈھانچے جیسے پل، فیکٹریاں اور ٹرانسپورٹ نظام کو تباہ کرنے کا کہا گیا تاکہ اتحادی افواج کو فائدہ نہ مل سکے۔ تاہم اس حکم پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا کیونکہ کئی جرمن حکام نے اسے نظر انداز کر دیا۔یہ فیصلہ ہٹلر کی مایوسی اور جنگ کے آخری مراحل میں اس کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جب جرمنی شکست کے قریب تھا۔ لیبیا میں فوجی کارروائی19 مارچ 2011ء کو لیبیا میں نیٹو کی قیادت میں فوجی کارروائی شروع کی گئی۔اقوام متحدہ کی منظوری سے شروع ہونے والی اس کارروائی میں فضائی حملے شامل تھے جنہوں نے قذافی حکومت کو کمزور کر دیا۔ بالآخر اسی سال معمر قذافی کا اقتدار ختم ہو گیا۔یہ واقعہ عرب بہار کی تحریک کا ایک اہم حصہ تھا اور اس نے مشرق وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ایویاں معاہدہ19 مارچ 1962ء کو فرانس اور الجزائر کے درمیان ایویاں معاہدہ طے پایا جس کے نتیجے میں الجزائر کی آزادی کی راہ ہموار ہوئی۔یہ معاہدہ کئی سالہ خونی جدوجہد کے بعد طے پایا، جس میں ہزاروں افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس کے بعد الجزائر نے باقاعدہ طور پر آزادی حاصل کی اور ایک خودمختار ریاست کے طور پر ابھرا۔یہ واقعہ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی ایک بڑی مثال ہے اور افریقہ میں آزادی کی تحریکوں کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوا۔
شاہی قلعہ لاہور میں فنِ تعمیر کا شاہکارشاہی قلعہ لاہور میں واقع موتی مسجد مغل دور کی تعمیرات میں ایک نہایت دلکش اور روحانی اہمیت کی حامل مسجد ہے۔ سفید سنگِ مرمر سے تعمیر کی گئی یہ مسجد اپنے حسن، سادگی اور روحانی وقار کے باعث تاریخی و مذہبی دونوں حوالوں سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مغل فنِ تعمیر کی روایت میں یہ مسجد نہ صرف جمالیاتی خوبیوں کی نمائندہ ہے بلکہ اس دور کی مذہبی اور ثقافتی سوچ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔موتی مسجد کی تعمیر 1654ء میں مغل شہنشاہ شاہجہاں کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ شاہجہاں کا زمانہ مغل فنِ تعمیر کے عروج کا دور سمجھا جاتا ہے۔ اسی عہد میں تاج محل جیسی عظیم الشان عمارت تعمیر ہوئی۔ اُس دور کی عمارتوں میں سنگِ مرمر کا استعمال، نفیس نقش و نگار اور متوازن طرزِ تعمیر نمایاں نظر آتے ہیں۔لاہور کے شاہی قلعے کے مغربی حصے میں واقع یہ مسجد نسبتاً چھوٹے سائز کی ہے مگر اس کی خوبصورتی اور نفاست اسے قلعے کی اہم ترین عمارتوں میں شامل کرتی ہے۔ اسے مکمل طور پر سفید سنگِ مرمر سے تعمیر کیا گیا جو راجستھان کے علاقے مکرانہ کی کانوں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ یہ سنگِ مرمر اپنی چمک اور پائیداری کی وجہ سے مغل عمارتوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا تھا۔موتی مسجد کا نام اس کے سفید اور چمکدار سنگِ مرمر سے منسوب ہے۔ سنگِ مرمر کی چمک کسی موتی کی طرح محسوس ہوتی ہے اسی لیے اسے موتی مسجد کہا جاتا ہے۔ مغل دور میں مساجد کو قیمتی پتھروں کے ناموں سے منسوب کرنے کی روایت بھی پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسی نام کی مساجد آگرہ اور دہلی میں بھی موجود ہیں۔موتی مسجد شاہی قلعہ لاہور کے مغربی جانب واقع ہے۔ قلعے کی مجموعی عمارتیں زیادہ تر شمال جنوب سمت میں تعمیر کی گئی ہیں مگر مسجد کی سمت اس اصول سے مختلف ہے۔مسجد تک رسائی ایک چھوٹے سے دروازے کے ذریعے ہے جو شمال مشرقی سمت میں واقع ہے۔ یہ دروازہ قلعے کے مکتب خانہ کے قریب واقع ہے۔ جب کوئی شخص اس دروازے سے مسجد میں داخل ہوتا ہے تو پہلے ایک طویل اورخاموش برآمدہ آتا ہے۔ یہ برآمدہ ماحول میں ایک خاص سنجیدگی اور خاموشی پیدا کرتا ہے۔جب زائر اس برآمدے سے گزر کر مسجد کے صحن میں داخل ہوتا ہے تو اچانک سفید سنگِ مرمر سے بنی روشن اور چمکتی ہوئی عمارت سامنے آ جاتی ہے۔ یہ منظر نہایت دلکش اور روح پرور محسوس ہوتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے باہر کی دنیا سے بالکل مختلف ایک پاکیزہ اور روحانی ماحول میں قدم رکھ دیا گیا ہو۔موتی مسجد کی پیشانی پانچ حصوں یا محرابی دہانوں پر مشتمل ہے۔ درمیان والا حصہ قدرے آگے کی طرف ابھرا ہوا ہے جو اسے نمایاں کرتا ہے۔ پانچ محرابی دہانوں پر مشتمل یہ طرزِ تعمیر مغل فنِ تعمیر کا ایک پسندیدہ انداز تھا۔اس طرز کو مریم زمانی مسجد میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ بعد میں یہی انداز مغل دور کی بیشتر بڑی مساجد میں اختیار کیا گیا۔تاہم موتی مسجد کی ساخت میں ایک اہم فرق بھی ہے۔ اس میں مغربی دیوار کے ساتھ دو عرضی راہداریاں بنائی گئی ہیں جبکہ مریم زمانی مسجد میں صرف ایک راہداری ہے۔ اس تبدیلی نے مسجد کے اندرونی حصے کو زیادہ کشادہ اور متوازن بنا دیا۔موتی مسجد کی بیرونی شکل و صورت نسبتاً سادہ اور غیر نمائشی ہے۔ مغل دور کی کئی عظیم عمارتوں کے برعکس اس مسجد میں زیادہ تزئین و آرائش نظر نہیں آتی۔ لیکن یہی سادگی اس کی اصل خوبصورتی ہے۔ سفید سنگِ مرمر کی سطح سورج کی روشنی میں چمکتی ہے اور عمارت کو ایک خاص وقار عطا کرتی ہے۔مسجد کے صحن اور نماز گاہ میں داخل ہونے کے بعد جو سکون اور خاموشی محسوس ہوتی ہے وہ اس کے روحانی ماحول کو مزید نمایاں کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسجد صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ ایک روحانی مقام بھی سمجھی جاتی ہے۔ثقافتی اور تاریخی اہمیتلاہور کا شاہی قلعہ برصغیر کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ مغل دور میں یہ قلعہ شاہی رہائش گاہ اور حکومتی مرکز کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اس قلعے کے اندر موجود عمارتیں مغل فنِ تعمیر کے مختلف ادوار کی نمائندگی کرتی ہیں۔ موتی مسجد ان عمارتوں میں خاص مقام رکھتی ہے کیونکہ یہ مغل دور کی مذہبی تعمیرات کی بہترین مثال ہے۔ یہ مسجد نہ صرف سیاحوں بلکہ تاریخ اور فنِ تعمیر کے ماہرین کی بھی توجہ کا مرکز ہے۔شاہی قلعہ آنے والے سیاح موتی مسجد کی خوبصورتی اور سکون بخش ماحول سے ضرور متاثر ہوتے ہیں۔ شاہجہاں کے دورِ حکومت میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد نہ صرف مغل فنِ تعمیر کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ لاہور کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کا بھی اہم حصہ ہے۔
شیشے کے ایک ٹکڑے میں دو ملین کتابوں کا ڈیٹادنیا میں ڈیٹا کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہر روز اربوں فائلیں، تصاویر، ویڈیوز اور دستاویزات تخلیق ہو رہی ہیں مگر ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ معلومات آنے والی نسلوں تک محفوظ رہ سکیں گی؟ روایتی سٹوریج ڈیوائسز جیسے ہارڈ ڈرائیوز، میگنیٹک ٹیپس اور SSD عموماً چند سال یا زیادہ سے زیادہ چند دہائیوں تک قابلِ اعتماد رہتی ہیں۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے سائنسدانوں نے ایک حیران کن ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس میں شیشے کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے میں لاکھوں کتابوں کے برابر ڈیٹا ہزاروں سال تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔یہ نئی ٹیکنالوجی امریکی ادارے مائیکروسافٹ ریسرچ کے سائنسدانوں نے تیار کی ہے جسے پروجیکٹ سلیکا کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں عام شیشے کے ایک باریک مربع ٹکڑے میں لیزر کی مدد سے ڈیٹا محفوظ کیا جاتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس چھوٹے سے شیشے میں تقریباً دو ملین کتابوں کے برابر معلومات محفوظ کی جا سکتی ہیں اور تحقیق کے مطابق یہ ڈیٹا کم از کم 10 ہزار سال تک محفوظ رہ سکتا ہے۔شیشے میں ڈیٹا لکھنے کا طریقہاس ٹیکنالوجی میں انتہائی طاقتور اور نہایت مختصر دورانیے کی لیزر شعاعیں استعمال کی جاتی ہیں جنہیں فیمٹو سیکنڈ لیزر کہا جاتا ہے۔ فیمٹو سیکنڈ دراصل وقت کی انتہائی چھوٹی اکائی ہے جو ایک سیکنڈ کے ایک ہزار کھربویں حصے کے برابر ہوتی ہے۔ یہ لیزر شعاعیں شیشے کے اندر نہایت باریک تبدیلیاں پیدا کرتی ہیں جن کے ذریعے ڈیجیٹل معلومات کو کوڈ کیا جاتا ہے۔ لیزر کے ذریعے شیشے کے اندر ننھے ننھے تین جہتی نقاط بنائے جاتے ہیں جنہیں ووکسَل (Voxel) کہا جاتا ہے۔ ہر ووکسل دراصل ایک چھوٹے ڈیجیٹل پکسل کی طرح ہوتا ہے جو ڈیٹا کا ایک حصہ محفوظ کرتا ہے۔ ان ووکسلز کو مختلف گہرائیوں اور تہوں میں ترتیب دے کر بہت زیادہ مقدار میں معلومات ذخیرہ کی جا سکتی ہیں۔ حیران کن گنجائشسائنسدانوں نے تجربے کے طور پر تقریباً 12 مربع سینٹی میٹر کے ایک شیشے کے ٹکڑے میں 4.8 ٹیرابائٹ ڈیٹا محفوظ کیا۔ یہ مقدار تقریباً دو ملین کتابوں یا پانچ ہزار ہائی ڈیفینیشن فلموں کے برابر ہے۔ اس ڈیٹا کو شیشے کے اندر سینکڑوں تہوں میں محفوظ کیا گیا، جس سے سٹوریج کی گنجائش کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ہزاروں سال تک محفوظ ڈیٹااس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ اس کی پائیداری ہے۔ روایتی سٹوریج ڈیوائسز وقت کے ساتھ خراب ہو جاتی ہیں جبکہ شیشے میں محفوظ ڈیٹا کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بجلی یا مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تجربات میں شیشے کو انتہائی درجہ حرارت تک گرم کر کے بھی جانچا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ معلومات 10 ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکتی ہیں۔مزید یہ کہ شیشے کی یہ سٹوریج ٹیکنالوجی پانی، حرارت، مقناطیسی میدان اور دیگر بیرونی اثرات کے مقابلے میں بھی بہت زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے اسے طویل مدتی محفوظ آرکائیوز کے لیے بہترین سمجھا جا رہا ہے۔مستقبل میں ممکنہ استعمالماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد روزمرہ کے کمپیوٹر یا موبائل فون کے لیے اسٹوریج فراہم کرنا نہیں بلکہ طویل مدتی ڈیجیٹل آرکائیوز بنانا ہے۔ مثال کے طور پر: قومی یا عالمی تاریخی ریکارڈ، موسمیاتی اور سائنسی ڈیٹا، ثقافتی اور ادبی ورثہ، حکومتی دستاویزات۔ مستقبل میں ممکن ہے کہ دنیا کی بڑی لائبریریاں اور آرکائیوز لاکھوں کتابوں اور دستاویزات کو شیشے کی چھوٹی پلیٹوں میں محفوظ کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ آج انسانیت بے شمار ڈیجیٹل معلومات تخلیق کر رہی ہے لیکن موجودہ سٹوریج ٹیکنالوجی اس معلومات کو ہزاروں سال تک محفوظ رکھنے کے قابل نہیں۔ اس صورتحال کو بعض ماہرین ڈیجیٹل ڈارک ایج کا خطرہ بھی قرار دیتے ہیں یعنی آنے والی نسلیں ممکن ہے ہمارے دور کی معلومات تک رسائی نہ حاصل کر سکیں۔ شیشے پر مبنی یہ نئی ٹیکنالوجی اس مسئلے کا ممکنہ حل فراہم کر سکتی ہے۔شیشے میں ڈیٹا محفوظ کرنے کی یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل کے ڈیجیٹل آرکائیوز کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک چھوٹے سے شیشے کے ٹکڑے میں لاکھوں کتابوں کے برابر معلومات کو ہزاروں سال تک محفوظ رکھنا سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیران کن پیش رفت ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر استعمال ہونے لگتی ہے تو ممکن ہے کہ آنے والی صدیوں میں انسانی علم و تہذیب کے بڑے ذخیرے شیشے کے ننھے ٹکڑوں میں محفوظ ہوں۔
تکہ سموسہاجزا: چکن بریسٹ: دو عدد، لیموں کا رس: دو چمچ، تکہ مسالہ: دو سے تین چمچ، سموسہ پٹی دس عدد، انڈہ: ایک عدد (پھینٹا ہوا)، لہسن ادرک کا پیسٹ: ایک چمچ، نمک حسب ِضرورت۔ترکیب: چکن بریسٹ پر اچھی طرح تکہ مسالہ لگا کر ایک گھنٹے کے لیے میری نیٹ کر لیں۔ ایک پین میں دو سے تین کھانے کے چمچ تیل گرم کرکے اس میں چکن ڈال کرکے پکائیں یہاں تک کہ چکن گل جائے۔ اب اسے فوڈ پروسیسر میں پیس لیں اور باقی کے تمام اجزابھی شامل کردیں۔پھر سموسہ پٹی میں چکن مکسچر رکھ کر سموسہ کی شکل میں لپیٹ لیں اور انڈا لگا کر کناروں کو بند کر لیں۔ گرم تیل میں سنہرا ہونے تک ڈیپ فرائی کریں۔ کھجور کا شربت کھجور کا شربت تیار کرنے کیلئے حسب ضرورت کھجور لے کر رات بھر پانی میں بھگودیں۔ صبح اُٹھ کر کھجور کو ہاتھوں سے ملیں، اسے اتنی دیر تک ملیں کہ تمام کھجوریں اور ان کے ریشے پانی میں حل ہوجائیں۔ کھجور کے اس شربت میں دودھ بھی ملایا جاسکتا ہے۔ صبح کا بھگویا ہوا شام کو استعمال کریں اور شام کا بھگویا ہوا صبح استعمال کریں۔ کھجور کا شربت معدہ کی تیزابیت، پیاس کی شدت ، ہاتھ پاؤں کی جلن، منہ کی خشکی ، لعاب دہن کا کم ہونا اور قبض وغیرہ کا بہترین علاج ہے۔
پیرس کمیون کا قیام 18 مارچ 1871ء کو پیرس میں ایک انقلابی حکومت قائم ہوئی جسے پیرس کمیون کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب فرانس اورپروشیا جنگ میں فرانس کو شکست ہوئی اور حکومت نے جرمنی کے ساتھ صلح کا فیصلہ کیا۔پیرس کے شہریوں اور قومی محافظ دستے نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور شہر میں ایک انقلابی حکومت قائم کر لی جس نے مزدوروں کے حقوق، مفت تعلیم اور ریاست و کلیسا کی علیحدگی جیسے اصلاحی اقدامات شروع کیے۔یہ حکومت تقریباً دو ماہ تک قائم رہی۔ اس کے باوجود پیرس کمیون کو مزدور تحریکوں اور انقلابی سیاست کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ برلن انقلاب 18 مارچ 1848ء کو برلن میں عوامی بغاوت ہوئی جو جرمن انقلابات 1848ء تا 1849ء کا اہم حصہ تھی۔ اس تحریک کا مقصد آئینی حکومت قائم کرنا، شہری آزادیوں کو بڑھانا اور سیاسی اصلاحات حاصل کرنا تھا۔ اُس وقت پروشیا کے بادشاہ فریڈرک ولیم چہارم حکمران تھے۔ جب عوام نے اصلاحات کا مطالبہ کیا تو مظاہرین اور فوج کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ عوامی دباؤ کے باعث بادشاہ کو اصلاحات کا اعلان کرنا پڑا اور فوج کو وقتی طور پر شہر سے واپس بلانا پڑا۔ یہ تحریک مکمل کامیاب نہ ہو سکی لیکن اس نے جرمنی میں جمہوریت اور قومی اتحاد کی تحریک کو مضبوط کیا۔ پہلی خلائی چہل قدمی 18 مارچ 1965ء کو سوویت خلا باز الیکسی لیونوف نے انسانی تاریخ کی پہلی خلائی چہل قدمی کی۔ لیونوف تقریباً بارہ منٹ تک خلا میں رہے اور ایک حفاظتی رسی کے ذریعے جہاز کے ساتھ منسلک تھے۔مشن کے دوران ایک خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی کیونکہ خلا میں دباؤ کی وجہ سے ان کا خلائی لباس سخت ہو گیا اور وہ آسانی سے جہاز میں واپس داخل نہیں ہو پا رہے تھے۔ بڑی مہارت سے انہوں نے لباس کا دباؤ کم کیا اور محفوظ طریقے سے واپس جہاز میں داخل ہو گئے۔ یہ تجربہ بعد کے خلائی پروگراموں کے لیے بہت اہم ثابت ہوا۔ گیلی پولی کی لڑائی پہلی جنگ عظیم کے دوران 18 مارچ 1915ء کو گیلی پولی مہم کا ایک اہم مرحلہ پیش آیا۔ اس دن اتحادی افواج نے آبنائے داردانیلز پر بڑا بحری حملہ کیا تاکہ استنبول تک راستہ حاصل کیا جا سکے۔اتحادی ممالک جن میں برطانیہ اور فرانس شامل تھے، نے عثمانی سلطنت کے دفاعی مورچوں پر شدید گولہ باری کی تاہم عثمانی افواج نے سخت مزاحمت کی اور کئی اتحادی جنگی جہاز تباہ ہو گئے۔یہ جنگ عثمانی سلطنت کے لیے ایک بڑی دفاعی کامیابی سمجھی جاتی ہے ۔ترکی میں آج بھی 18 مارچ کو اس جنگ کی یاد منائی جاتی ہے۔ کریمیا کا الحاق 18 مارچ 2014ء کو روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا کہ کریمیا کو روس میں شامل کر لیا گیا ہے۔یہ فیصلہ ایک عوامی ریفرنڈم کے بعد کیا گیا تھا جسے یوکرین اور کئی مغربی ممالک نے تسلیم نہیں کیا۔ اس کے نتیجے میں روس اور مغربی ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی اور روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں۔یہ واقعہ بعد میں روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی اور تنازع کا ایک اہم سبب بن گیا۔
ملتان میں فن تعمیر کا شاہکارملتان جو صدیوں سے صوفیا کرام اور اسلامی ثقافت کا مرکز رہا ہے، اپنے تاریخی مقامات اور صوفیانہ ورثے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں متعدد مساجد اور مزار ایسے ہیں جو نہ صرف مذہبی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ فن تعمیر کا شاندار نمونہ بھی پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں مقام خواجہ اویس کھگہ مسجد ہے جو مغلیہ دور کے فن تعمیر کی منفرد خصوصیات کی حامل ہے اور صوفی بزرگ خواجہ اویس کھگہ کے مزار کے ساتھ واقع ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد کی تاریخ کے بارے میں مصدقہ تاریخی معلومات کی کم دستیاب ہیں لیکن مورخین کا اندازہ ہے کہ یہ مسجد غالباً سولہویں سے اٹھارہویں صدی کے دوران تعمیر کی گئی ۔ اس مسجد کے فن تعمیر میں وہ تمام عناصر نمایاں ہیں جو مغلیہ دور کے حسنِ تعمیر کی پہچان ہیں۔ اس کے بلند گوشہ دار مینار، آرائشی کام اور محرابیں عکاسی کرتی ہیں کہ یہ عمارت مغلیہ فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد میں سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہاں کوئی گنبد موجود نہیں، اس کے بجائے مسجد کے گوشوں میں بلند و بالا مینار نصب کیے گئے ہیں جو چھوٹے چھوٹے پویلین یا چتریوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ یہ تکنیک عمارت کے حجم کو بڑا اور باوقار دکھاتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے تاج محل میں بڑے پیمانے پر اس کا استعمال ہوا ہے۔ اس کی بناوٹ اور حجم کی ترتیب مسجد کو نہ صرف دیکھنے میں دلکش بناتی ہے بلکہ کشادہ اور کھلے ماحول کا احساس بھی دلاتی ہے جو روحانی سکون اور عبادت کے لیے موزوں ہے۔مسجد کے اندر کا منظر بھی دلکش ہے۔ محراب نہایت نفیس اور خوبصورت کام سے مزین ہے۔محراب کی آرائش اس بات کا ثبوت ہے کہ مسجد کی تعمیر میں چھوٹی چھوٹی تفصیلات پر بھی کس قدر توجہ دی گئی ہے۔ محراب کے ارد گرد کی دیواروں پر نقش و نگار اور جیومیٹریکل نمونے مسجد کے اندرونی حصے کو روحانی اور جمالیاتی تاثر دیتے ہیں، جو ہر زائر کو متاثر کرتا ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد کی موجودہ حالت اور مرمت کی صورتحال بھی قابلِ ذکر ہے۔کچھ سال پہلے مسجد کی جزوی مرمت کی گئی ہے۔ مرمت کے کام کو نہایت نفاست اور اصل فن تعمیر کی مکمل احتیاط کے ساتھ انجام دیا گیا۔ مرمت کے دوران مسجد کے فن تعمیر کے تمام عناصر کو برقرار رکھا گیا جس سے مسجد کی تاریخی اور جمالیاتی اہمیت محفوظ رہی۔ اس عمل نے نہ صرف عمارت کی حفاظت کی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی تاریخی ورثے کو برقرار رکھا۔خواجہ اویس کھگہ مسجد کا جغرافیائی محل وقوع بھی اس کی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ مسجد ملتان سے ملحقہ بستی دائرہ میں صوفی بزرگ خواجہ اویس کھگہ کے مزار کے بالکل نزدیک واقع ہے۔ مزار کے قرب میں واقع ہونے کی وجہ سے مسجد میں آنے والے زائرین کو عبادت کے ساتھ ساتھ صوفیانہ ماحول کا بھی تجربہ ہوتا ہے جو ملتان کی صوفیانہ روایت کو اجاگر کرتا ہے۔مسجد کا فن تعمیر جو آج بھی زائرین اور تاریخ کے شائقین کو اپنی طرف کھینچتا ہے، مغلیہ دور کے ثقافتی اور مذہبی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والا مواد، آرائش کے انداز اور تعمیراتی تکنیک اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دور میں عمارت سازی محض فعالیت کے لیے نہیں بلکہ جمالیات اور روحانیت کے امتزاج کے لیے کی جاتی تھی۔ مسجد کے کھلے صحن، بلند مینار، اور محراب کی نفاست ایک ایسا توازن پیدا کرتے ہیں جو عبادت کرنے والے کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد نہ صرف مذہبی حوالے سے بلکہ تاریخی اور ثقافتی حوالے سے بھی اہم ہے۔ یہ مسجد اس بات کا ثبوت ہے کہ مغلیہ فن تعمیر کی خصوصیات صرف بڑی شاہی عمارتوں تک محدود نہیں ، صوفیاکے مقامات میں بھی یہ حسن و جمال موجود ہے۔ آج کے دور میں جہاں تاریخی عمارتوں کی حفاظت اور مرمت ایک چیلنج بنی ہوئی ہے خواجہ اویس کھگہ مسجد ایک مثال ہے کہ کس طرح مہارت اور توجہ کے ساتھ تاریخی ورثے کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ملتان کی تاریخی اور روحانی فضا میں خواجہ اویس کھگہ مسجد ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف شہر کے ماضی کی یاد دلاتی ہے بلکہ موجودہ دور میں بھی لوگوں کو روحانی سکون اور جمالیاتی لطف فراہم کرتی ہے۔ اس مسجد کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی فن تعمیر میں جمالیات، اور روحانیت کس قدر اہمیت رکھتے ہیں۔ زائرین، تاریخ کے شائقین اور فن تعمیر کے ماہرین کے لیے یہ مسجد ایک لازمی مقام ہے جہاں وہ مغلیہ دور کے فن تعمیر کی باریکیاں اور صوفیانہ ماحول کو بیک وقت محسوس کر سکتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ خواجہ اویس کھگہ مسجدایک منفرد تاریخی عمارت ہے جو مغلیہ دور کے فن تعمیر کے اہم عناصر، صوفیانہ روحانیت اور خوبصورتی کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ مسجد کا کھلا صحن ہو، بلند مینار ہوں یا نفیس محراب، ہر عنصر اپنے اندر ایک کہانی سناتا ہے جو ملتان کی تاریخی اور روحانی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔یہ مسجد آنے والی نسلوں کے لیے ایک ثقافتی اور تاریخی ورثہ ہے جو مغلیہ فن تعمیر کی عظمت اور صوفیانہ روایت کی گہرائی کو واضح کرتی ہے۔
معاشرتی بہتری میں سماجی کارکنوں کا کرداردنیا بھر میں ہر سال مارچ کے تیسرے ہفتے میں ورلڈ سوشل ورک ڈے منایا جاتا ہے۔ اس سال یہ دن 17 مارچ کو منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد سماجی کارکنوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور معاشرے میں انسانی ہمدردی، سماجی انصاف اور باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ سماجی کارکن وہ افراد ہوتے ہیں جو معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی مدد کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں اور انہیں بنیادی حقوق اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں سماجی خدمت کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، صحت کی سہولیات کی قلت اور دیگر سماجی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں سماجی کارکن معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتے ہیں اور ضرورت مند افراد تک مدد پہنچانے کے لیے مختلف اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔پاکستان میں سماجی خدمت کا تصور نیا نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہماری مذہبی اور ثقافتی روایات میں موجود ہیں۔ اسلام میں انسانیت کی خدمت کو بہت بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے۔ زکوٰۃ، صدقات اور فلاحی سرگرمیوں کی صورت میں پاکستانی معاشرے میں مدد اور تعاون کی روایت ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیمیں بھی سماجی خدمات کے میدان میں سرگرم ہیں۔پاکستان میں کئی معروف سماجی اور فلاحی تنظیمیں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں غریب اور نادار افراد کو طبی سہولیات، تعلیم، خوراک اور مالی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کے دوران بھی امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتی ہیں۔ ان اداروں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ سماجی خدمت کے جذبے کے ساتھ اگر منظم انداز میں کام کیا جائے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔پاکستان میں سماجی کارکنوں کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وسائل کی کمی، بڑھتی ہوئی آبادی، قدرتی آفات اور بعض علاقوں میں سماجی مسائل کی پیچیدگی ان کے کام کو مشکل بنا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ پیشہ ورانہ تربیت اور حکومتی سطح پر مضبوط پالیسیوں کی کمی بھی سماجی شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس کے باوجود ہزاروں سماجی کارکن خاموشی سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے امید کی کرن بنے ہوئے ہیں۔عالمی یومِ سماجی خدمت ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم سماجی کارکنوں کی خدمات کو سراہیں اور ان کے کام کی اہمیت کو تسلیم کریں۔ یہ دن اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ معاشرے کی بہتری صرف حکومت یا چند اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کو اپنی سطح پر کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر ہر شخص اپنے اردگرد موجود ضرورت مند افراد کی مدد کرے اور سماجی مسائل کے حل میں حصہ لے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔پاکستان میں نوجوان آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں، اگر انہیں سماجی خدمت کی طرف راغب کیا جائے تو یہ ملک کے لیے ایک بڑی طاقت ثابت ہو سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں رضاکارانہ سرگرمیوں کو فروغ دینا، کمیونٹی سروس کے پروگرام متعارف کرانا اور سماجی شعور بیدار کرنا اس سلسلے میں اہم اقدامات ہو سکتے ہیں۔ اس طرح نوجوان نسل نہ صرف معاشرے کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکے گی بلکہ ان کے حل میں عملی کردار بھی ادا کرے گی۔ سماجی خدمت دراصل انسانیت کی خدمت ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں بہت سے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، وہاں سماجی کارکنوں کی خدمات بے حد قیمتی ہیں۔ عالمی یومِ سماجی خدمت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمدردی، تعاون اور سماجی انصاف کے اصولوں کو فروغ دے کر ہم ایک زیادہ منصفانہ اور خوشحال معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
چکن قیمہ کچوریاجزا:میدہ: 2 کپ،گھی یاتیل: 3،4 کھانے کے چمچ،نمک: آدھا چائے کا چمچ،چکن کا قیمہ: 250 گرام،پیاز (باریک کٹی ہوئی): 1 عدد،ادرک لہسن پیسٹ: ایک چائے کا چمچ،لال مرچ (پسی ہوئی): ایک چائے کا چمچ،زیرہ، دھنیا (بھنا اور کٹا ہوا): ایک چائے کا چمچ،ہرا دھنیا،ہری مرچ: حسب ذائقہ،تیل: فرائی کے لیےترکیب: میدے میں گھی اور نمک ملا کر اچھی طرح مکس کریں، سخت آٹا گوندھ کر 30 منٹ کے لیے ڈھانپ دیں۔ پین میں تیل گرم کر کے پیاز اور ادرک لہسن بھونیں۔ قیمہ اور تمام مصالحے ڈال کر قیمہ گلنے تک پکائیں۔ آخر میں ہرا دھنیا ڈال کر ٹھنڈا کر لیں۔ گوندھے ہوئے آٹے کے پیڑے بنائیں، انہیں بیلن سے بیلیں، درمیان میں فلنگ بھریں اور کناروں کو اچھی طرح بند کر دیں۔ کڑاہی میں درمیانی آنچ پر تیل گرم کریں اور کچوریوں کو ہلکی آنچ پر سنہری ہونے تک تل لیں۔منٹ مارگریٹااجزا :تازہ پودینہ ایک چھوٹی گٹھی،لیموں کا رس : چار چائے کے چمچ ، کالا نمک : حسبِ ذائقہ،چینی : چھ چائے کے چمچ ( حسبِ ذائقہ زیادہ یا کم بھی کی جاسکتی ہے)،سیون اپ یا سپرائٹ : تین گلاس،برف (چھوٹی ٹکڑیوں کی صورت میں ضرورت کے مطابق)۔ترکیب: پودینے کے پتے الگ کر لیںاور انہیں اچھی طرح دھو لیں۔ پھر بلینڈر میں پودینے کے پتے، لیموں کا رس، چینی اور برف ڈال دیں اور اچھی طرح بلینڈکر لیں۔ جب پودینہ بالکل باریک ہو جائے تو بلینڈر میں تین گلاس سیون اپ یا سپرائٹ جو بھی ہے ڈال کر دوبارہ بلینڈ کر لیں۔تقریباًچار گلاس منٹ مارگریٹا تیار ہے۔
سینٹ پیٹرک ڈے17 مارچ کو منایا جانے والا سینٹ پیٹرک ڈے آئرلینڈ کے سینٹ پیٹرک کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق سینٹ پیٹرک کا انتقال 17 مارچ 461ء کو ہوا تھا اور اسی نسبت سے یہ دن ان کے نام سے منسوب ہو گیا۔ یہ دن صرف ایک مذہبی یادگار تک محدود نہیں رہا بلکہ آئرلینڈ کی قومی اور ثقافتی شناخت کی علامت بن گیا۔ اس دن آئرلینڈ میں جلوس، مذہبی تقریبات اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ لوگ سبز لباس پہنتے ہیں جو آئرلینڈ کی علامتی رنگت ہے۔ اٹلی کے اتحاد کا اعلان17 مارچ 1861ء کو متحدہ اٹلی کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس دن ساردینیا کے بادشاہ وکٹر ایمانوئل دوم کو متحدہ اٹلی کا بادشاہ تسلیم کر لیا گیا اور ایک نئی قومی ریاست وجود میں آئی۔انیسویں صدی کے آغاز تک اٹلی کئی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا۔ اس صورتحال نے اطالوی قوم پرست رہنماؤں کو متحدہ اٹلی کے قیام کی تحریک شروع کرنے پر مجبور کیا۔ اس تحریک کو ریسورجیمنٹو کہا جاتا ہے۔17 مارچ 1861ء کو اطالوی پارلیمنٹ نے متحدہ مملکتِ اٹلی کے قیام کا اعلان کیا۔ اگرچہ روم اور وینس بعد میں اس ریاست کا حصہ بنے لیکن یہ دن اطالوی اتحاد کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ چین میں ثقافتی انقلاب 17 مارچ 1966ء کو چین میں ایک سیاسی مہم کا آغاز ہوا جسے بعد میں ثقافتی انقلاب کے ابتدائی مرحلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ تحریک چینی رہنما ماؤ زے تنگ کی قیادت میں شروع ہوئی اور اس کا مقصد کمیونسٹ نظریات کو مزید مضبوط بنانا اور پارٹی کے اندر موجود مخالف عناصر کو ختم کرنا تھا۔اس تحریک کے دوران چینی معاشرے میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ثقافتی انقلاب تقریباً ایک دہائی تک جاری رہا اور اس نے چین کی سیاست، تعلیم اور معاشرت پر گہرے اثرات مرتب کیے ، چین کی معیشت اور سماجی ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلیاں آئیں۔ دلائی لامہ کی منتقلی 17 مارچ 1959ء کو تبت کی تاریخ میں ایک اہم موڑ آیا جب تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے دارالحکومت لہاسا چھوڑ دیا۔چین نے 1950ء میں تبت پرکنٹرول قائم کیا تھا لیکن تبتی عوام اور مذہبی قیادت اس صورتحال سے مطمئن نہیں تھی۔ مارچ 1959ء میں لہاسا میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا ۔ اسی وجہ سے 17 مارچ کو انہوں نے خفیہ طور پر لہاسا چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ دشوار گزار پہاڑی راستوں سے سفر کرتے ہوئے چند دن بعد بھارت پہنچ گئے۔ مصر اسرائیل امن معاہدہ17 مارچ 1979ء کو اسرائیل کی پارلیمنٹ نے مصر کے ساتھ امن معاہدے کی منظوری دی۔یہ معاہدہ امریکی صدر جمی کارٹر کی ثالثی میں ہونے والے کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کا نتیجہ تھا۔ مصر کے صدر انور سادات اور اسرائیل کے وزیر اعظم بیگن نے مذاکرات کے بعد امن معاہدے پر اتفاق کیا۔اسرائیلی پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد 26 مارچ 1979ء کو واشنگٹن میں اس معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
ایران کے شہرمشہد میں واقع مسجد گوہر شاہ اسلامی فن تعمیر، روحانیت اور تاریخ کا ایک شاندار سنگم ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد دراصل امام رضا کے روضہ مبارک کے وسیع و عریض احاطے میں واقع ہے اور اسے خطے کی اہم ترین مذہبی اور تاریخی عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس مسجد کی تعمیر 15ویں صدی میں تیموری سلطنت کے دور میں ہوئی اور اس کی بنیاد تیموری فرمانروا شاہ رخ کی اہلیہ بیگم گوہر شاہ نے رکھی تھی، جن کے نام پر اس مسجد کو گوہر شاہ یا گوہرشاد مسجد کہا جاتا ہے۔گوہرشاہ بیگم اپنے دور کی نہایت بااثر اور صاحب ذوق خاتون تھیں۔ انہوں نے 1418ء میں اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا تاکہ زائرین حرم کو عبادت کیلئے ایک وسیع اور خوبصورت مقام میسر آسکے۔ اس مسجد کی تعمیر کیلئے اس دور کے ممتاز معمار شیرازی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ استاد شیرازی کی زیر نگرانی یہ مسجد بارہ سال میں مکمل ہوئی۔ مسجد سمر قندی طرز تعمیر سے تیار کی گئی۔تیموری دور اسلامی فن تعمیر کے عروج کا زمانہ تھا، چنانچہ مسجد کی تعمیر میں اس دور کی جمالیاتی روایات پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں نظر آتی ہیں۔ خط کوفی میں قرآنی آیات اتنی خوشخطی سے تحریر کی گئی ہیں کہ چھ صدیاں گزرنے کے بعد بھی زمانے کے حوادث ان کی آب و تاب میں سرموفرق نہیں لا سکے۔ گوہر شاہ مسجد کا فن تعمیر اپنی دلکشی اور نفاست کے باعث بے مثال سمجھا جاتا ہے۔ مسجد کا وسیع صحن، بلند و بالا ایوان، دلکش گنبد اور باریک و نفیس نیلی ٹائلوں کی آرائش دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ پیازی طرز کا گنبد مسجد کی شان ہے۔ گنبد کا رنگ فیروزی ہے، مسجد کا کل رقبہ 101292مربع فٹ ہے اور صحن 180فٹ لمبا اور 160فٹ چوڑا ہے۔ مسجد کے صحن میں سنگ مر مر استعمال کیا گیا ہے صحن کے تینوں اطراف میں برآمدے بنائے گئے ہیں۔ مسجد کے دو مینار ہیں جو 131فٹ بلند ہیں۔ گنبد کا قطر49فٹ اور اس کا محیط207فٹ ہے صحن سے مسجد کے اندر ہال میں داخل ہونے کیلئے نو محرابی دروازے ہیں۔ گنبد کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ دہری تہہ میں بنایا گیا ہے۔ مسجد کی تعمیر میں سرخ اینٹوں، ٹائلوں اور سنگ مر مر کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس مسجد کے چار بڑے ایوان ہیں جو ایرانی طرزِ تعمیر کی کلاسیکی روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔ مسجد کے گنبد اور دیواروں پر بنے نقش و نگار، قرآنی آیات اور خطاطی کے نمونے اسلامی فنونِ لطیفہ کی اعلیٰ مثالیں پیش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ مسجد کے اندرونی حصے میں موجود محراب اور منبر بھی نہایت خوبصورتی سے آراستہ ہیں۔ مسجد کا منبر اخروٹ کی لکڑی سے تیار کیا گیا ہے۔ منبر کی تیاری میں کہیں بھی لوہے کی میخ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ رنگین ٹائلوں، جیومیٹرک نقشوں اور نفیس خطاطی کے امتزاج نے اس مسجد کو فن تعمیر کا ایک زندہ عجائب گھر بنا دیا ہے۔چونکہ یہ مسجد امام رضا کے روضہ مبارک کے قریب واقع ہے، اس لیے یہاں دنیا بھر سے آنے والے زائرین بڑی تعداد میں نماز اور عبادت کیلئے حاضر ہوتے ہیں۔ صدیوں سے یہ مسجد نہ صرف عبادت کا مرکز رہی ہے بلکہ اسلامی ثقافت، تعلیم اور روحانی اجتماع کا بھی اہم مقام رہی ہے۔ رمضان المبارک، محرم اور دیگر مذہبی مواقع پر یہاں خصوصی اجتماعات اور عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔مسجد کے ہال میں ہاتھ سے تیار کردہ خوبصورت ایرانی قالین بچھائے گئے ہیں۔ مسجد سے ملحق ایک بڑی لائبریری ہے جس میں 35ہزار کتب رکھی گئی ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ مسجد زلزلوں اور بعض سیاسی ہنگاموں سے متاثر بھی ہوئی، تاہم ہر بار اس کی مرمت اور بحالی کا کام کیا گیا۔ ایرانی حکومت اور مذہبی اداروں نے اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کیلئے مسلسل اقدامات کیے ہیں تاکہ یہ آئندہ نسلوں کیلئے بھی باقی رہے۔ صفوی حکمران شاہ عباس نے مسجد گوہر شاہ کی مرمت اور تزئین و آرائش پر خاص توجہ دی۔1803ء میں زلزلے نے اس مسجد کے کچھ حصے کو نقصان پہنچایا جس کی بعد میں مرمت کر دی گئی۔مسجد گوہر شاہ نہ صرف ایک عبادت گاہ ہے بلکہ اسلامی تہذیب، فن تعمیر اور روحانی روایت کی عظیم علامت بھی ہے۔ اس کی دلکش عمارت، تاریخی پس منظر اور مذہبی اہمیت اسے عالم اسلام کی ممتاز مساجد میں شامل کرتی ہے۔ آج بھی جب زائرین اس مسجد کے صحن میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں تاریخ، روحانیت اور فن کے حسین امتزاج کا دلنشیں منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔
ڈیٹ ڈئیلائٹ اجزاء :کھجوریں دو پیالی( درمیان میں سے گٹھلی نکال کر گودا بنالیں) ۔ میری بسکٹ ایک پیکٹ، ناریل گری آدھی پیالی ،چینی آدھی پیالی، فریش کریم ایک پیالی۔ مارجرین چار کھانے کے چمچترکیب :سب سے پہلے ایک دیگچی میں مارجرین کو ہلکا سا گرم کریں، پھر اس میں کھجوروں کا گودا ڈال کر ہلکا سا بھون لیں۔ تاکہ اچھاسا پیسٹ بن جائے پھر شکر اور ناریل کی گری ڈال کر پانچ سے دس منٹ تک بھونیں بسکٹ کو توڑ کر چورا کرلیں پھر سب چیزوں کے ساتھ بسکٹ بھی ڈال دیں۔ دوتین منٹ بھون کر ایک تھالی میں ذرا سی چکنائی لگاکر کھجور اور بسکٹ کے آمیزے کو پھیلا کر رکھ دیں۔ ٹھنڈا ہونے دیں فریش کریم کو خوب پھینٹیں، جب وہ گاڑھی ہو جائے تو اس کے اوپر ڈال دیں، چوکور ٹکڑے کاٹ کر پیش کریں۔ نوٹ:یہ ڈش چار سے چھ افراد کے لیے کافی ہے۔ منچ ویج کباباجزاء : قیمہ آدھا کلو،شملہ مرچ ایک عدد ، گاجر ایک عدد، آلو 3 عدد، نمک ایک ٹیبل سپون، کالی مرچ ایک ٹیبل سپون،کٹی لال مرچ ایک ٹیبل سپون، لہسن ادرک 2 ٹیبل سپون، انڈا ایک عدد ، ڈبل روٹی کا چور آدھا کپترکیب:آلو ابال کر میش کرلیں۔گاجر کو بھی باریک چوپ کر کے ابال لیں۔شملہ مرچ کو بھی باریک کٹ لگا لیں۔اب تما م سبزیوں میں سارے مصالحے ڈا ل کر مکس کریں۔انڈا اور چورا ڈال کر مکس کریں اور کباب بنا کر پیش کریں۔
کرائسٹ چرچ حملہ15مارچ 2019ء کو کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا۔ دہشت گرد مسجد النور میں دوپہر 1بجکر 40منٹ پر داخل ہوا اور اندھادھند فائرنگ شروع کر دی۔ کچھ لوگ نماز پڑھ کر فارغ ہو چکے تھے جبکہ کچھ نماز پڑھ رہے تھے۔ حملہ آور مسجد سے گزرتا ہوا اسلامک سینٹر میں داخل ہوا۔ اس نے وہاں بھی فائرنگ جاری رکھی اور یہ سلسلہ1بجکر52منٹ تک چلتا رہا۔ اس قتل عام میں 51افراد شہید جبکہ40افراد زخمی ہوئے۔ یہ واقع اسی اسلاموفوبیا کا نتیجہ تھا جو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف مغربی میڈیا کی جانب سے پھیلایا جاتا تھا۔خواتین کی پہلی بوٹ ریسخواتین کی بوٹ ریس کا ہر سال انعقاد کیا جاتا ہے۔ پہلی مرتبہ یہ ریس آکسفورڈ یونیورسٹی وومن بوٹ کلب اور کیمبرج یونیورسٹی بوٹ کلب کے درمیان15مارچ1927ء میں ہوئی۔ 1964ء کے بعد سے اب تک اس ریس کا ہر سال انعقاد کیا جاتا ہے جس میں دونوں یونیورسٹیوں کی طالبات شریک ہوتی ہیں۔ یہ ریس لندن میں موجود دریائے تھامس میں پٹنی سے مورٹ لیک تک کھیلی جاتی ہے اور اس کا کل فاصلہ4.2میل ہے۔دُنیا کا پہلا ٹیسٹ میچآسٹریلیا اور برطانیہ کے درمیان کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا گیا۔1876ء میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دورے کوفرسٹ کلاس کرکٹ کا پہلا آفیشل دورہ بھی مانا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی برطانیہ کی کالونیاں آپس میں کرکٹ دورے کرتی تھیں لیکن 1876ء میں ہونے والے دورے کوآفیشل ہونے کی وجہ سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ اسی دورے کے دوران برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں دنیا کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا گیا۔فن لینڈ میں خانہ جنگی1918ء کو فن لینڈ میں شروع ہونے والی خانہ جنگی نے شدت اختیار کر لی اور آج کے دن ٹیمپیر کے مقام پر ایک نئی جنگ کا آغاز ہوا۔ یہ جنگ فن لینڈ کے دو گروہوں کے درمیان لڑی گئی اور 6اپریل تک جاری رہی۔ٹیمپیر کے مقام پر ہونے والی اس جنگ میں بہت زیادہ خون بہایا گیا ، فن لینڈ کی تاریخ میں اسے آج بھی بطور سیاہ دن یاد کیا جاتا ہے۔اس خوفناک لڑائی میں تقریباً30ہزار افراد نے حصہ لیا۔
چین میں اسلام کی قدیم اور روشن علامتچین کا دارالحکومت بیجنگ صدیوں پرانی تہذیب، ثقافت اور تاریخ کا امین شہر ہے۔ اسی تاریخی شہر میں واقع نیوجی(niujie) مسجد چین کی قدیم ترین اور اہم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہ مسجد نہ صرف چینی مسلمانوں کیلئے ایک روحانی مرکز ہے بلکہ چین میں اسلام کی قدیم موجودگی اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک روشن مثال بھی ہے۔ اپنی منفرد تعمیر، تاریخی اہمیت اور مذہبی تقدس کی وجہ سے نیوجی مسجد کو چین میں اسلامی ورثے کی نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔نیوجی مسجد کی تعمیر تقریباً ایک ہزار سال قبل 996ء میں عمل میں آئی۔ اس زمانے میں چین کے مختلف علاقوں میں مسلمان تاجروں اور مبلغین کی آمد و رفت جاری تھی، جس کے نتیجے میں اسلام یہاں پھیلتا گیا۔ بیجنگ میں آباد مسلمان تاجروں اور مقامی مسلمانوں کی عبادت کیلئے اس مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔وقت کے ساتھ ساتھ مختلف چینی سلطنتوں کے ادوار میں اس مسجد کی مرمت اور توسیع ہوتی رہی۔ خصوصاً ''منگ ڈائنیسٹی‘‘(Ming Dynasty)اور چنگ ڈائنیسٹی (Qing Dynasty) کے زمانے میں اس مسجد کی عمارت کو مزید وسعت دی گئی اور اس کی تزئین و آرائش کی گئی۔ اس طرح نیوجی مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ بلکہ چین میں اسلام کی تاریخی یادگار بھی بن گئی۔بیجنگ میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ نیوجی مسجد ان مسلمانوں کیلئے نہ صرف عبادت کا مرکز ہے بلکہ ایک مذہبی، ثقافتی اور سماجی مرکز کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔یہاں باقاعدگی سے نمازِ جمعہ، عیدین کی نمازیں اور دیگر دینی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران مسجد میں خصوصی عبادات اور افطار کے اجتماعات بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں اسلامی تعلیمات کی ترویج اور مذہبی رہنمائی کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔منفرد طرزِ تعمیراس مسجد کا کل رقبہ ڈیڑھ ایکڑ ہے جبکہ اندرونی رقبہ64600مربع فٹ ہے۔ اس میں ایک ہی وقت میں ایک ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔نیوجی مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا منفرد فن تعمیر ہے۔ بظاہر یہ مسجد ایک روایتی چینی عمارت کی طرح دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اس کی تعمیر میں چینی طرزِ تعمیر کے اصولوں کو اختیار کیا گیا ہے۔ مسجد کی چھتیں خمیدہ انداز میں بنی ہوئی ہیں، لکڑی کی نفیس نقاشی اور سرخ ستون چینی فن تعمیر کی جھلک پیش کرتے ہیں۔تاہم اندر داخل ہونے پر اسلامی فن تعمیر کے نمایاں عناصر نظر آتے ہیں۔ مسجد کے اندرونی حصے میں عربی خطاطی، قرآنی آیات اور اسلامی نقش و نگار موجود ہیں۔ قبلہ کی سمت میں محراب نہایت خوبصورت انداز میں بنائی گئی ہے، جبکہ نماز کیلئے وسیع ہال بھی موجود ہے جہاں سینکڑوں نمازی بیک وقت عبادت کرسکتے ہیں۔ اس طرح یہ مسجد چینی اور اسلامی فن تعمیر کے حسین امتزاج کی مثال ہے۔ثقافتی اور سیاحتی اہمیتنیوجی مسجد مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاحتی لحاظ سے بھی خاصی شہرت رکھتی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے سیاح اس تاریخی مسجد کو دیکھنے اور اس کے منفرد فن تعمیر کا مشاہدہ کرنے کیلئے بیجنگ کا رخ کرتے ہیں۔ مسجد کے اطراف کا علاقہ بھی مسلمانوں کی ثقافت اور طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں حلال کھانوں کے ریستوران اور اسلامی مصنوعات کی دکانیں موجود ہیں۔یہ مسجد اس حقیقت کی علامت ہے کہ مختلف تہذیبیں اور مذاہب ایک ہی معاشرے میں باہمی احترام اور ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ چینی طرزِ تعمیر اور اسلامی روحانیت کا امتزاج اس مسجد کو دنیا کی منفرد مساجد میں شامل کرتا ہے۔نیوجی مسجد بیجنگ نہ صرف چین کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے بلکہ اسلام کے عالمی تاریخی ورثے کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال سے یہ مسجد مسلمانوں کی عبادت، روحانیت اور اجتماعیت کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس کی تاریخی عظمت اور فن تعمیر کی خوبصورتی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اسلام نے دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی اقدار اور ثقافت کے ساتھ مقامی تہذیبوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی ہے۔