نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- شیخوپورہ:جاں بحق افرادمیں 7 بچےاورخواتین بھی شامل
  • بریکنگ :- شیخوپورہ:خانقاہ ڈوگراں میں مسافروین نہرمیں جاگری
  • بریکنگ :- شیخوپورہ:حادثے میں ایک ہی خاندان کے 11 افرادجاں بحق
Coronavirus Updates
انگریز جج اور مولانا تھانیسری کا عجیب قصہ  ،  سزائے موت سنانے والا انگریز جج ہلاک، کسی افسر کو پھانسی دینے کی جرأت نہ ہوئی

انگریز جج اور مولانا تھانیسری کا عجیب قصہ ، سزائے موت سنانے والا انگریز جج ہلاک، کسی افسر کو پھانسی دینے کی جرأت نہ ہوئی

بارہویں صدی ہجری کے آغاز میں برصغیر پاک و ہند کے افق پرگہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے،جہالت وبربریت کے بادل، وہ مسلمان جن کے دم سے یہاں صدیوں اللہ اور رسول پاک ﷺ کے نغمے گونجتے تھے وہ خود بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دور ہو چکے تھے ،وہ مسلمان مدتوں جن کی عظمت کے قصے سنائے جاتے تھے ،جن کی عظمت و شہرت کے پرچم لہراتے رہے ،در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے۔ان کی سلطنت کا چراغ گل ہو چکا تھا، مسلمان بے انتہا زوال کا شکار ہو چکے تھے ۔ان حالات میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ نے تاریکیوں و گمراہیوں کے اس ظلمت کدہ میں حق کے چراغ روشن کئے۔لیکن دنیا ابھی ایک او رمرد میداں کی منتظر تھی اور وہ تھے حضرت مقام محمد اسمعٰیل شہید۔ان کی تحریک زور پکڑنے لگی اور انگریزوں نے گھبرا کر چن چن کر مسلمانوں کو شہید کرنا شروع کر دیا ، انڈیا ان کی قتل گاہ بنتا جا رہا تھا لیکن جانثاروں کے قدم ڈگمگائے نہ کوئی لغزش آئی۔ان رہنمائوں کے دم سے 1863ء میں ایک تحریک شروع ہوئی۔جسے معرکہ ''معرکہ امبیلا‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ امبیلے میں ہونے والی یہ لڑائی کئی مہینے تک جاری رہی، انگریز فوج کے سپاہ سالار جنرل چیمبرلین پرمجاہدین نے چاروں طرف سے دھاوا بول دیا اور وہ امبیلے کی ایک گھاٹی میں محصور ہو کر رہ گئے،انہوں نے پنجاب کی تمام چھائونیوں سے فوج طلب کرلی ،لیکن عوام کے سامنے بے بس رہے ، ان کے سات ہزار تربیت یافتہ گورے سپاہی ،غیر تربیت یافتہ مسلمان دیہاتیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔جنرل چیمبرلین خود بھی زخموں سے چور چور تھا۔ اس جنگ میں جگ ہنسائی کے بعد انگریز وائسرائے لارڈ ایلجن انڈیا سے لندن پدھار گیا۔1864ء میں انگریز انتظامیہ نے اس تحریک کے رہنمائوں کو چن چن کر گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ مولانا محمد جعفر تھانیسری بھی انگریزوں کی نظروں میں کھٹکنے لگے۔ وہ بھی تحریک میں پیش پیش تھے۔ ان کے خلاف ایک سپاہی نے انگریز افسروں کے کان بھر دیئے تھے ۔غزن خان نامی ایک افغان پانی پتی کرنال چوکی میں بطور سپاہی تعینات تھا ۔ اس نے ترقی کے لالچ میں جعفر تھانیسری کے بارے میں کہانی گھڑ کر آگے بیان کر دیں۔ڈپٹی کمشنر نے اطلاع ملتے ہی تھانیسری کی تلاشی کا پروانہ روانہ کر دیا ۔تار کے انبالہ پہنچتے ہیڈ سپرٹنڈنٹ بھاری جمعیت کے ساتھ گھر کے دروازے پر کھڑا تھا۔ پولیس کو وہاں سے دینی رہنمائوں کے کچھ خطوط ملے جنہیں وہ مشکوک جان کر ساتھ لے گئے۔بعد ازاں ان خطوط کی بناء پر ان کی گرفتاری کا بھی فیصلہ ہوا۔مگر اس وقت تک وہ فرار ہو چکے تھے۔ حکومت نے گرفتاری کیلئے سر کی قیمت دس ہزار روپے مقرر کر دی۔قیمت بہت زیادہ تھی، مخبری ہو نے پر جلد ہی علی گڑھ میں دھر لئے گئے ۔جیل کا کھانا دو روٹیوںاور ساگ پر مشتمل تھا، ساگ میں ڈنٹھل زیادہ تھے جنہیں چبانا بھی مشکل تھا۔ اسی لئے جب قیدیوں کو پیسنے کے لئے گندم دی جاتی تھی تو یا تو سیروں گندم ہی کچی چبا جاتے تھے یا پھر آتے کو پانی میں ملا کر پی لیتے تھے۔ اگلے روز تھانیسری کو ڈی سی کے بنگلے پر پیش کیا گیا۔انہوں نے سرکاری گواہ بنانے کے لئے ساتھیوں کے نام پوچھے ، اور رہائی کے بعد ایک بڑے عہدے پر لگانے کی پیش کش بھی کی مگر تھانیسری نے صاف انکار کیا۔ہر طرح سے مایوس ہونے کے بعد ڈی سی نے انہیں رات آٹھ بجے واپس جیل بھجوا دیا ۔علی گڑھ میں مظاہروں کا اندیشہ تھا لہٰذا مقدمہ انبالہ میں چلایا۔ان کے مقدمے کی کہانی بھی عجیب ہے، جعفر تھانیسری جو کچھ بھی کہتے، ریکارڈ کاحصہ ہی نہیں بنایا جاتا، جبکہ بے سر و پاء الزامات ان کے سر تھوپ دیئے گئے۔اس دوران ایشری پرشاد (استغاثہ)نے انہیںنپولین اور مہدی سوڈانی جیسا انگریزوں کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی۔کچھ عرصے بعد یہ مقدمہ سیشن کورٹ میں پیش ہوا۔عدالت میں پیروی کے لئے مولاناعبدالرحیم، الہٰی بخش، میاں جان منشی عبدالغفور اور کئی دیگر قیدیوںنے حکومت کی جانب سے پیش کردہ وکیلوں کے وکالت ناموں پر دستخط کر دیئے مگر تھانیسری نے خود مقدمہ لڑنے کا قصد کیا۔جبکہ سرکاری وکیل میجرنکفیل اور پارسن تھے۔ان کے پاس تھانیسری کے کسی سوال کا جواب نہ تھا۔لوگ سرکاری وکلاء کی بے بسی پر ہنستے تھے۔جب کچھ نہ بن پڑا تو جج صاحب نے کہا، ''تمہارے جواب کا کوئی فائدہ نہیں ہے بہتر ہے کہ تم اپنا گناہ تسلیم کر لواور عدالت سے مہربانی اور رحم کی اپیل کر کے معافی مانگو‘‘۔ہمارے ساتھیوں کے وکیل بہت قابل تھے انہوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ جس جگہ کو وقوعہ کا مقام بتایا جا رہا ہے وہ حکومت کے دائرہ کار میں شامل ہی نہیں ہے۔اس لئے اسے کیس کی سماعت کا سرے سے اختیار ہی نہیں ہے۔ اس دوران وائسرائے سے بھی مشورہ کیا گیا انہوں نے ہر صورت میں سزا دینے پر زور دیا۔طریق کار کے مطابق 2مئی 1864ء کو تھانیسری نے اپنے گواہ پیش کئے تو انہیں سننے کی بجائے اچانک فیصلہ سنا دیا گیا۔ پھانسی کی سزا ہوئی، انگریز جج نے تمام جائیدادوں (جو زیادہ نہ تھیں) کی ضبطی کا حکم بھی صادر کیاتاکہ بچے بھی سڑکوں پر آجائیں اور کوئی کچھ نہ کر سکیں ۔ یوں اپیل کے راستے بھی بند کر دئیے گئے۔جج نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ '' تم بہت ذہین فطین، صاحب علم اور قانون دان ہو، شہر کے نمبردار اور رئیس ہونے کے باوجود تم نے اپنا علم وہنر اور دھن دولت کو سرکار کے خلاف استعمال کیا، اور عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کی بجائے صرف انکار سے کام چلایا ۔لہٰذا پھانسی کے حقدار ہو، اور میں تمہیں پھانسی گھاٹ پر لٹکتا ہوا دیکھ کر خوشی سے پھولا نہیں سمائوں گا‘‘۔جعفر تھانیسری سزا سننے کے بعد پرسکون رہے۔ بلکہ جج کی خوشی میں وہ خود بھی شریک تھے، انگریز حیران تھے کہ دنیامیں ایک شخص ایسابھی ہے جسے سزائے موت کا کوئی خوف نہیں بلکہ وہ اس حالت میں بھی مسکرا رہا ہے جس حالت میں دوسروں کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں ۔تھانیسری نے عدالت میں صرف اتنا کہا......''تم کیا میری جان لو گے ، جان دینا اور لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے،وہ رب العزت ہر چیز پر قادر ہے اس بات پر بھی کہ وہ میری موت سے پہلے تمہاری جان نکال لے‘‘۔ان کے اس جملے کی گونج دور دور تک سنی گئی۔ہر جگہ ان کی ہمت کے چرچے ہوئے۔اپیل کا حق بنتا تھا لیکن کرتے کس کے پاس؟ اور پیسے کہاں سے لاتے؟ پھر ہر جگہ ان کا سامنا الزامات سے کم اور ایک سوچ سے زیادہ تھا۔مسلمانوں کو کچلنے کی سوچ۔ پھانسی کی سزا سنانے کے بعد بھی انگریزوں نے معافی کی گنجائش رکھی، کئی طرح کے لالچ دیئے گئے، ساتھ دینے پر سزا کا پروانہ پھاڑنے کا بھی ذکر ہوا لیکن تھانیسری کہتے ہیں کہ ''میں گرفتاری کے خوف سے بھاگ نکلا تھا ،میرے اللہ کو اسلام کی راہ میں میرا ڈرجانااچھا نہیں لگا اور اس نے مجھے پکڑوا دیا۔ لہٰذ ا دوبارہ میں نے یہ حرکت نہ کرنے کی ٹھان لی تھی‘‘۔ان کی دلیری کا سن کر جیل میں انہیں دیکھنے کیلئے آنے والوں کاتانتا بندھ گیا۔ایک گورے نے سوال کیا کہ '' پھانسی کی سزا سننے کے بعد یہ مسرت کیسی؟ آپ نے کہا.... ''اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ مجھے اللہ کی راہ میں شہادت نصیب ہو رہی ہے ؟اسی دوران ایک انہونی ہو گئی۔پھانسی کی سزا سنانے والا جج چند ہی دنوں میں قضائے الہٰی سے ہلاک ہو گیا۔اب پھانسی کی سزا پر عمل کرنے کی ہمت کسی انگریز میں نہ ہوئی ۔چنانچہ سزا کو فوراََ ہی عمر قید میں بدل دیا گیا۔فروری 1865ء تک انبالہ جیل میں رکھنے کے بعد لاہورکی جیل میں منتقل کر دیئے گئے۔ یہاں سے 22فروری کوملتان منتقل کئے گئے لیکن پھر سکھر ٹھٹھہ، کوٹری اور کراچی کی جیلوں کے رنگ بھی دیکھے ۔ ایک ہفتہ کراچی میں رکھنے کے بعد بذریعہ سمندری جہاز ممبئی روانہ کئے گئے۔ 8 دسمبر 1865 ء کو وہاں سے کہیں اور منتقل کرنے کے بعد 22جنوری 1868ء کو کالا پانی بھجوا دیئے گئے ۔ کالا پانی سے 17سال 10ماہ بعد ایک بیوی اور دس بچوں کے ساتھ ہندوستان روانہ ہوئے اور 20نومبر کو انبالہ پہنچئے!(مولانا جعفر محمد تھانیسری کی کتاب ''کالا پانی سے منقبس)

ہوائی جہازوں کی ریس، خواتین پائلٹس کی ریس کو سرخی پاؤڈر ریس کہا جانے لگا

ہوائی جہازوں کی ریس، خواتین پائلٹس کی ریس کو سرخی پاؤڈر ریس کہا جانے لگا

ہوائی جہازوں کی ریس کا کبھی آپ نے سنا ہے ؟12مارچ 2021ء کوسماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ہوائی جہازوں کی ایک ریس اپ لوڈ ہوئی جسے ایک کروڑ پندرہ لاکھ افراد نے دیکھا۔ ایک مسافر ٹوہے میٹ ( TahoeMatt) نے دو جہازوں کی ریس کی وڈیو کو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا کہ ''دو طیاروں کی فضا میں ریس ابھی ابھی ختم ہوئی ہے‘‘۔ مسافر میٹ شیشے کے ساتھ تونہیں بیٹھے تھے لیکن بیرونی مناظر صاف نظر آ رہے تھے۔پھر ان کا شعبہ بھی ریکارڈنگ کرنا ہے اس لئے انہوں نے ریس بھی ریکارڈ کر لی۔اس روز وہ بوئنگ 787-8 میں سوار تھے،ان کے طیارے نے حسب معمول سان فرانسسکو کے ہوائی اڈے سے ٹیک آف کیا۔کیا دیکھتے ہیں کہ اسی ہوائی اڈے سے ٹیک آف کرنے والا ایک اور بوئنگ طیارہ بھی قریب ہی پرواز کر رہا ہے۔ ابھی وہ اسے نوٹ کر ہی رہے تھے کہ ایک آواز گونجی:'' لیڈیز اینڈ جینٹل مین !میری بات سنو ،میں طیارے کا کپتان ہوں۔اگر آپ مڑ کر اپنے دائیں جانب دیکھیں تو ایک اور طیارہ آپ کے سامنے ہو گا، یہ ہے فلائٹ 198 .... اس پرواز کا کپتان ہمیں ریس لگانے کے لئے چیلنج دے رہا ہے، کیا آپ تیار ہیں؟ سیٹ بیلٹ باندھ لیجئے، کیونکہ یہ سب کچھ حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے‘‘۔اس کے ساتھ ہی طیارے میں سیٹ بیلٹ باندھنے کی بتیاں روشن ہو گئیں۔بس پھر کیا تھا دونوں طیارے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ،پہلو بہ پہلو ہوا میں اڑنے لگے ۔کچھ منٹ کے مقابلے کے بعددونوں اپنی الگ ہو گئے ۔اس ریس کے بارے میں سینڈرا پیڈرسن نے لکھا کہ ''مسافر ہوتی تو میرا دل ہی بند ہو جاتا‘‘ ۔انتیا نے ریمارکس دیئے کہ '' سبھی نے جہاز سے اترنے کے بعد شکرادا کیا ہوگا ،زندگی بچ گئی اور خطرناک سفر سے بھی لطف اندوز ہوئے ، ٹکٹ میں یہ نیا اضافہ ہے‘‘۔ہوائی جہازوں کی ریسیں کیوں بند ہوئیں : 2019ء تک ہوائی جہازوں کی ریسیں ہوا کرتی تھیں۔کورونا کی وجہ سے روک دی گئی ہیں۔کورونا وباء کے خاتمے کے ساتھ ہی ہوائی جہازوں کی ریسوں کا دوبارہ آغاز ہوگا ، پھر ''پائلٹ آف دی ایئر‘‘ کے انعامات دیئے جائیں گے۔دوسرے مقابلوں کی طرح اس کھیل میں بھی کئی پائلٹس نے جانیں گنوائیں ،کئی طیارے تباہ ہوئے لیکن کسی نے ہمت نہیں ہاری ۔سرخی پائوڈر ریس: کئی خواتین نے بھی عالمی سطح پر نام کمایا ۔ 1929ء میں ''ویمنز ڈربی ‘‘ کے نام سے خواتین کے مقابلے شروع کئے گئے تھے۔بعض افراد نے ان مقابلوں کو '' میک اپ ڈربی‘‘ کہنا شروع کر دیا اور کچھ نے ''سرخی پائوڈر ڈربی‘‘ کے نام سے یاد کیا۔ یہ مقابلے 1949ء تک جاری رہے۔1947ء میں ''آل وویمنز بین البراعظمی ایئر ریس ‘‘ بھی شروع ہو گئی۔یہ مقابلے 1977 تک جاری رہے ۔ جہازوں کی بربادی کے باوجود خواتین حصہ لیتی رہیں، ہوا باز فلورنس لوو پنچو بارنس نے بہت نام کمایا۔جہازوں کی پہلی ریس:پہلی دوڑ 23مئی 1909ء کو فرانس میں ''ایوی ایشن ائرپورٹ ‘‘پر ہوئی تھی، جس میں چار ہوا بازوں نے حصہ لیا تھا۔اس ریس میں لیپس فاتح قرار پائے۔ 22سے 29 اگست 1909ء تک فرانس کے ایک اور ہوئی اڈے پر بھی فضائی ریس کے مقابلے منعقد ہوئے جس میں مالی تعاون کیلئے طیارہ ساز کمپنیاں بھی شریک ہوئیں۔ چنانچہ پہلا اہم مقابلہ '' فرسٹ گارڈن بینٹ ٹرافی کمپی ٹیشن‘‘ کہلاتا ہے۔گلن کرٹس اس مقابلے کے فاتح قرار پائے۔لوئیس بلیرئٹ صرف پانچ سیکنڈ پیچھے رہنے کی وجہ سے مات کھا گئے۔چنانچہ کرس کو '' چیمپئن آف دی ایئر ریسر ورلڈ ‘‘ کا ٹائٹل مل گیا۔امریکہ میں جہازوں کی پہلی ریس: پہلی ریس 10 سے20جنوری 1910ء تک لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر منعقد ہوئی۔ریس کا اہتمام پائلٹس رائے نیبن شو اور چارلس وللرڈ نے ریلوے بزنس کے ٹائیکون ہنری ہنگٹن اورلاس اینجلس مرچنٹ اینڈ مینوفیکچررز ایسوسی ا یشن کے اشتراک سے کیا تھا۔43پائلٹس نے نام لکھوائے مگر مقابلے کے دن 16پائلٹس پیش ہوئے۔جنگ عظیم اول سے پہلے کا کھیل: جنگ عظیم اول سے پہلے یورپ میں ہوائی جہازوں کی ریسیں کافی مقبول ہو چکی تھیں ۔ان مقابلوں میں 1911ء میں شروع ہونے والے ''سرکٹ آف یورپ ریس ‘‘، ''دی ڈیلی میل سرکٹ آف بریٹن ایئر ریس ‘‘ اور ''ایرئیل ڈربی‘‘ کے مقابلے بھی شامل تھے ۔ 1913ء میں ''سی پلین ریس ‘‘ کے اولین مقابلے بھی منعقد ہوئے۔پہلی جنگ عظیم کے دوران کچھ تعطل آ گیا۔جنگ بند ہوتے ہی مقابلے پھر شروع ہو گئے ،یہی وجہ ہے ، یورپ کو دوسری جنگ عظیم میں بہترین پائلٹس مل گئے تھے ۔بین البراعظمی ریس:19اکتوبر 1919ء میں بین البراعظمی ریس کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ ہوابازوں نے نیو یارک سے سان فرانسسکو تک 2700میل (4345کلومیٹر) کا فاصلہ طے کرنا تھا ۔ 1924ء میں امریکہ میں پہلی ''نیشنل ایئر ریس‘‘ کے مقابلے شروع ہوئے۔بعد ازاں کئی دیگر ممالک میں بھی قومی مقابلے شروع ہو گئے۔ 1970ء میں امریکہ کی ''فارمولہ ون ریسنگ ‘‘کو یورپ نے بھی اپنا لیا۔ اس میں ہر طیارے کو الگ الگ اڑانے کے بعد ان کا وقت نوٹ کیا جاتا ہے۔ 2019ء میں ''ریڈ بل ایئر ریس ورلڈ چیمپئن شپ ‘‘ اہم مقابلوں میں شامل تھی۔اہم ''ریسر‘‘:فضائی ریسنگ کے حوالے سے اینتونیو دی سینٹ، فلورنس ، پنجو بارنس ، لوول بیلز، آندرے بیومنٹ، جیکولین ککران، گلین کرٹس، پیٹر بیسینئی، ایلن کوبہن، جیفرے ڈی واوی لینڈ، پائول بونہومی، جمی ڈولٹل، ایملیا ایئرہارٹ، رولینڈ گراس، یوگین گلبرٹ، کلاڈ گراہم، ہنری ہاکر، فرینک ہاکس، ایلیکس ہین شاء، سکپ ہوم، ایمی جانسن،مارٹن سونکا، فلوریان برگر، مائیکل بریکجٹ، نائجل لیمب، مائیک مین گولڈ میتھیاز گوڈرر اور ہینس آرچ نامی پائلٹس اہم ہیں ۔

تھکن سے بچنے کے آسان طریقے

تھکن سے بچنے کے آسان طریقے

مسلسل کام کرنے سے تھکن اور اکتاہٹ فطری بات ہے، کام کرتے کرتے تھک جانا کوئی نئی بات نہیں ،لیکن مسلسل کام کرتے چلے جانا اچھی علامت نہیں ہے، یہ دراصل ایک ایسے مرض کی علامت ہے جس میں فرد یوں محسوس کرنے لگتا ہے کہ جیسے اسے کسی کام یا ادارے سے محبت سی ہو گئی ہے اور وہ وہی کام کرتا چلا جاتا ہے،تھک جاتیا ہے لیکن کرتا رہتا ہے۔ آپ اسے ''برن آئوٹ کی شروعات بھی کہہ سکتے ہیں۔بیماری کی علامت: ''عالمی ادارہ صحت‘‘ نے اس نئے مرض ''برن آئوٹ ‘‘ سے خبردار کیا ہے۔ اس مرض کا شکار لوگ کام کے دوران تھک جاتے ہیں لیکن کام ترک نہیں کرتے۔فرض کیجئے کہ ان کے ہاتھ میں موبائل ہے تو وہ موبائل پر کام کرتے ہی رہیں گے ۔خواہ کھانا کھا رہے ہوں یا پھر واش روم میں چلے جائیں، لیکن وہ موبائل کو نہیں چھوڑیں گے۔ یہ محنتی ہونے کی نہیں بلکہ بیماری کی علامت ہے۔ کچھ اداروں نے اسے ''عالمی وبائی مرض ‘‘ قرار دیا ہے۔برن آؤٹ دراصل ایک وارننگ ہے جو دماغ دے رہا ہوتا ہے کہ اب کام روک دیا جائے ۔یہ مرض یکدم لاحق نہیں ہوتا ماہرین نے اس کے پانچ مرحلے بتائے ہیں۔مسلسل ذہنی دباؤ کا احساس: اس صورت میں فرد محسوس کرتا ہے کہ ابھی ڈھیر سارا کام باقی ہے، اسی خیال کے ساتھ آنکھ کھلتی ہے۔ نیند بھی اسی کیفیت میں آتی ہے۔دوسرا مرحلہ: فرد کام کر درمیان وقفہ لینا بند کر دیتا ہے ۔گھر میں اور چھٹی کے دن بھی کام جاری رہتا ہے۔تیسرا مرحلہ: جسمانی علامات آہستہ آہستہ بڑھنے لگتی ہیں۔ سر درد ،مگرین کی شکایت، جسم میں درد رہنااور بار بار زکام ہونا۔چوتھا مرحلہ:فرد غصے اور بے صبری کا شکار ہو جاتا ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض یا بحث میں پڑ جاتاہے۔ زیادہ غلطیاں کرنے لگناہے ۔ پیٹھ، کمر اور گردن میں درد بھی ہونے لگتا ہے۔پانچواں مرحلہ: گھبراہٹ ،تھکن ،ڈیپریشن پیدا ہو جاتی ہے۔تھکن کے باوجود کام کرنے کے نقصانات :یہ مرض فرد کوایسے کھوکھلا کر دیتا ہے جیسے لکڑی جل کر بھربھری ہو جاتی ہے۔مرض اگر بڑھنے لگے تو ڈپریشن یا دائمی سٹریس میں بدل سکتا ہے ۔ جاپان میں ا سی مرض کو خود کشی کا بڑا سبب سمجھا جا رہا ہے۔ایک سروے کے مطابق اس مرض یعنی ''برن آئوٹ ‘‘ کا سب سے زیادہ نشانہ برطانوی شہری بن رہے ہیں۔جہاں 57فیصد ملازمین نے یہ شکایت کی ہے۔پاکستان میں بھی یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔اس سے متلی کے علاوہ مگرین ،پیٹ میں شدید درد، جلد پر خراشوں اور ایکزیما کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔تھکن کا علاج:ماہرین نے ''برن آئوٹ‘‘ کا آسان سا حل ڈھونڈ لیا ہے ان کا کہنا ہے کہ کئی طریقوں سے آپ تھکے بغیر کام کی مقدار اور معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ہی ضروری ہیں۔ اس بات کا بھی خیال رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف بنایا ہے لہٰذا ہر کلیہ آپ پر فٹ نہیں آئے گا،بلکہ ہر ایک کو نیا انداز اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ٹھنڈے ملک میں رہنے والے لوگ ٹھنڈے پانی کا شاورلینا شروع کر دیں تو وہ خود کو مشکل میں ڈال دیں گے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے مقدار پر زور دیجئے کیونکہ مقدار بڑھنے کے باعث وقت کے ساتھ ساتھ میعار خود ہی بہتر ہو جائے گا اس میں پختگی آجائے گی،سب سے پہلے وہ کام کیجئے جس میں آپ کی دلچسپی زیادہ ہو۔گھریلو کام کے دوران آرام کیسے؟: گھروں میں بچوں کے ساتھ والدین کو کسی نہ کسی حد تک ملٹی ٹاسکنگ کرنا ہی پڑتی ہے ،وہ اس سے بچ نہیں سکتے۔پھر چھوٹے گھروں یا چھوٹے کمروں میں کام مسلسل کرنے سے بھی گریز کیجئے،آپ کام کی جگہ بھی بدل سکتے ہیں، ایک ہی چھوٹی سی جگہ جم کر کام کرنے سے تھکن ہو سکتی ہے۔اگر آپ کمپیوٹر پر کام کرتے ہیں تو گھر جاتے (یا آتے ) وقت کچھ دیر کسی باغ میں بیٹھ کر بھی کام کر سکتے ہیں جیسا کہ سوشل میڈیا کا استعمال یا وڈیوز کی اپ لوڈنگ۔ اپنی کوئی بات کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لیجئے،اچھا لگے گااور کام کی مقدار بھی بڑھ جائے گی۔صاف ستھری اور ہوا دار جگہ پر کام :اگر آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آفس یا گھر میں کام کی جگہ زیادہ صاف نہیں ہے تو کتنی دیر لگے گی؟آپ خود صاف کرلیجئے۔ گھرکے کچن کو بھی صاف ستھرا بنا ئیں گے تو آپ کا دل بھی وہاں کام کرنے کو چاہے گا۔ صرف پانچ منٹ میں آپ کے سامنے ایک اچھا صاف ستھرا کچن ہو گا۔اسی طرح آپ چند ایک برتنوں کی صفائی بھی کر سکتے ہیں ورنہ یہ سارا سارا دن (اگرآپ گھر پر کام کر رہے ہیں تو )آپ کا موڈ آف کرتے رہیں گے۔ آپ کی چھٹی خراب ہو گی۔ کام کی مقدار اور معیار کو بہتر بنانے کے لئے سب سے پہلے کام کی جگہ کو صاف ستھرا، ہوا دار اور اچھا رکھنا ضروری ہے۔گھٹن آپ کو تھکا دے گی۔ انجوائے منٹ بھی لازمی ہے اسے کام کاحصہ جانیے۔کام کے دوران وقفہ لے کر انٹرنیٹ پر ڈرامہ یا فلم بھی انجوائے کر سکتے ہیں، اس سے کام کی رفتار بھی بہترہو جائے گی اور خود کو وقت دینے کا موقع بھی مل جائے گا ۔گھریلو کام کرنے والوں کی صلاحیت میں اضافہ:میں آپ کو یونیورسٹی آف انڈیانا کی ایک شاندار تحقیق سے آگاہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں ۔ ان کی تحقیق سے ثابت ہوا کہ '' گھروں میں کام کرنے والے افراد دوسروں کی بہ نسبت زیادہ متحرک اور خوشگوار موڈ میں رہتے ہیں۔ کیونکہ بے ترتیبی سے سٹریس ہارمونز کارٹیسول (cortisol) کا اخراج بڑھنے سے اہل خانہ کا موڈآف ہو سکتا ہے ، ڈپرپشن کا بھی اندیشہ ہے ۔ یہ ہارمونز خون میں شوگر کی مقدار میں اضافے کا موجب بنتے ہیں ۔40منٹ کام کے بعد 5منٹ کا آرام :ہر 40منٹ کام کے بعد 5منٹ آرام کیجئے۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ کمپیوٹر اور موبائل فون کی نیلی روشنی آنکھوں کے لئے نقصاندہ ہے ، پانچ منٹ کے وقفے کے دوران آدھے منٹ کے لئے کسی دور کی شے کو دیکھئے، اس سے نیلی روشنی کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔اس ضمن میں فون میں ٹائمر بھی لگا سکتے ہیں۔

روم۔۔عظیم سلطنت سے شہر کیسے بنا؟    کئی موجودہ ممالک انگلستان ، اسپین ، فرانس، اٹلی ، یونان ، ترکی اور مصر اس میں شامل ہوا کرتے تھے

روم۔۔عظیم سلطنت سے شہر کیسے بنا؟ کئی موجودہ ممالک انگلستان ، اسپین ، فرانس، اٹلی ، یونان ، ترکی اور مصر اس میں شامل ہوا کرتے تھے

روم تاریخ عالم کا ایک قدیم ترین اور مختلف ثقافتوں کا حامل عظیم شہر گرداناجاتا تھا۔یہ مرکزی اٹلی کے علاقے لازیو میں واقع تھا۔ قدیم روایتوں کے مطابق 753 قبل مسیح میں روم کا شہر دیوتا مارس کے بیٹے رومولس نے اپنے بھائی ریموس کو قتل کر کے دریائے ٹیبر اور دریائے آنییے کے کنارے سات پہاڑوں پر بسایا تھا۔اس کی آبادی 5.7 کروڑ اور رقبہ 59 لاکھ مربع کلو میٹر تھا۔ وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی موجودہ ممالک جن میں انگلستان ، اسپین ، فرانس، اٹلی ، یونان ، ترکی اور مصر اس میں شامل تھے اس عظیم سلطنت کا حصہ ہوا کرتے تھے۔لیکن 286 قبل مسیح کے بعد سلطنت روم میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں تو شام اور مصر سلطنت روم کی دست برد سے باہر ہو گئیں۔ یہ یورپ میں سب سے قدیم اور مسلسل زیر قبضہ شہروں میں تصور ہوتا ہے۔اسکی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یونیسکو نے اسے عالمی ورثے میں شامل کر رکھا ہے۔509 قبل مسیح میں یہ رومن جمہوریہ میں تبدیل ہوا جس کی پارلیمنٹ دو منتخب شورائی نظام سینیٹ اور کونسل سے تشکیل پائی۔یہ دراصل جمہوریت کی ابتدائی شکل تھی جو آج بھی دنیا کے بیشتر ممالک میں ملتے جلتے ڈھانچے کے ساتھ نافذ ہے۔ سینیٹ ،اسمبلیاں ، ووٹنگ سسٹم اور ویٹو پاور روم ہی کی اختراع تھی۔27قبل مسیح میں اس سلطنت کا پہلا بادشاہ آگسٹس سیزر تھاورنہ اس سے پہلے روم ایک جمہوری ملک تھا جو سیزر اور پومپئے کی خانہ جنگی اور گائس مارئیس اور سولا کے بڑھتے ہوئے تنازعات کے باعث کمزور ہوتا چلا گیا ۔مغربی رومی سلطنت 4 ستمبر 476 عیسوی کو جرمنوں کے ہاتھوں تباہ ہوئی جبکہ بازنطینی سلطنت 29 مئی 1453 ء کو عثمانیوں کے ہاتھوں فتح قسطنطنیہ کے ساتھ ختم ہو گئی ۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک زمانے میں روم جو ایک وسیع و عریض ملک اور سلطنت کی حیثیت سے اعلیٰ درجے کی تہذیب و تمدن کی شناخت رکھتا تھا اب نہ ہی ایک سلطنت اور نہ ہی ایک ملک رہا ہے بلکہ سکڑتے سکڑتے اٹلی کے دارالحکومت تک محدود ہو کے رہ گیا ہے۔روم اب ایک میٹروپولیٹن شہر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک سے شہر میں تبدیل ہو جانے والے شہر کے اندر ہی دو نئے خود مختار ملکوں '' ویٹی کن سٹی‘‘ '' ہولی سی ‘‘ نے جنم لیا ۔قدیم مذہب:قدیم رومی مذہب ریلیجیو رومانا تھا ۔ بعد میں جوں جوں روم کے اندر دوسری تہذیبیں ضم ہوتی چلی گئیں تو کئی دیگر مذاہب بھی شامل ہوتے چلے گئے۔اسی طرح تاریخ کی کتابوں میں قدیم ترین مذہب یہودیت کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ جب مسیحیت کا آغاز ہوا تو پہلے پہل اسے زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن چوتھی صدی عیسوی تک مسیحیت خاصی پھیل چکی تھی۔جبکہ روم میں 313 ء کے اوائل میں اسے قانونی تحفظ تو دے دیا گیا لیکن طویل عرصے تک مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 380 عیسوی میں عیسائیت کو باضابطہ مذہب کا درجہ ملنے سے یہ شہر عیسائیت کاپہلا اہم مرکز بنا۔ کچھ روایات کے مطابق یہیں پر پہلی صدی عیسوی میں سینٹ پیٹر ( پطرس)اور سینٹ پاول (پولس)کا قتل ہوا تھا۔ یہیں سے روم کے لاٹ پادری نے بعد میں پوپ یا پاپائے روم کا لقب اپنایا۔اور اس کو باقی تمام پادریوں پر برتری حاصل ہوئی۔رومی سلطنت کے زوال کے اسباب :رومی سلطنت کے زوال پر مور خین اور ناقدین بہت عرصے سے تجزئیے کرتے آ رہے ہیں لیکن سب سے اہم تجزیہ ایڈون گبن کاہے۔جس نے رومی دور کے کھنڈرات کی ''عظمت‘‘ سے متاثر ہو کر تباہی کی وجوہات جاننے کا تہیہ کیا تھا۔وہ جاننا چاہتا تھا کہ اپنے زمانے کی وسیع و عریض اور مضبوط سلطنت رفتہ رفتہ کھنڈرات میں کیوںبدلتی چلی گئی؟۔وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اداروں کی سیاست میں بے جا مداخلت، اپنی مرضی کے حکمرانوں کومنتخب کرانے ، رومی شہنشاہوں کے یکے بعد دیگرے قتل ، سرحدوں پر حملوں اور زراعت کی تباہی کی وجہ سے یہ سلطنت سکڑتی چلی گئی۔ بے روزگار کسانوں کی شہروں کی طرف نقل مکانی اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے شہروں میں صفائی کا نظام قائم نہ کیا جا سکا ۔ رہی سہی کسر عوامی جھگڑوں اور فسادات نے پوری کر دی جن سے شہری غیر محفوظ ہوگئے تھے۔ امراء نے دیہات میں محلات بنا لئے تھے جس سے ریاست روم کی جڑیں کھوکھلی کرتے چلے گئے۔اس تبدیلی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک جانب رومی معاشرہ ذہنی طور پربنجر ہو گیا تو دوسری طرف اس کی افواج اس قابل نہ رہیں کہ وہ باربیرین قبائل کا مقابلہ کرسکتیں۔چنانچہ 410 عیسوی میں ویزو گوتھ روم پر قابض ہوئے اور مغربی رومی ایمپائر کا خاتمہ ہو گیا۔کتنی عجیب بات ہے کہ ایک وقت میں رومیوں سے شکست کھانے والے شہر میں فاتح بن کر آئے۔اور یوں اپنے وقتوں کی وسیع و عریض رومن سلطنت اپنے انجام کو پہنچی۔ اپنے وقت کی ترقی یافتہ سلطنت نے دوسرے ملکوں کو بھی سائنس ، فن تعمیر، ریاستی ڈھانچے کے علوم اور فن حرب سمیت بے شمار شعبوں میں رہنمائی مہیا کی۔ لیکن تاریخ دان یورپ کے اس کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پڑوسی قبائل کو غیر مہذب اور وحشی کا لقب دے کر ان کا قتل عام کیا ۔ ان کو اپنا غلام بنایا اور ان کی دولت لوٹ کر محلات اور پر شکوہ عمارات تعمیر کیں ۔ یہ تاریخ کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ ان کے پرامن ہمسایہ قبائل غیر مہذب ٹھہرے جبکہ بلا اشتعال حملے کر کے لوٹ مار کا بازارگرم کرنے والے مہذب گردانے گئے۔

دنیا کا سب سے بڑا گول مقبرہ

دنیا کا سب سے بڑا گول مقبرہ

دنیا کا سب سے بڑا گول مقبرہ کسی اور کا نہیں روم کے بادشاہ بادشاہ آگسٹس کا ہے جو اس نے 31سے 28قبل مسیح میں خود اپنے لئے بنوایاتھا۔31قبل مسیح میں ''جنگ آکٹیم‘‘ (Actium) میں کامیابی کے بعد اس نے دیگر منصوبوں کے ساتھ یہ منصوبہ بھی شروع کرایا۔ اس نے اس خوبصورت مقبرے کی تعمیر کے لئے دنیا بھر سے کے ماہرین سے مشورے بھی کئے تھے۔ مقبرے کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کی تعمیر میں بادشاہ نے اپنے تمام مقبوضہ علاقوں سے مٹی منگواکر ڈلوائی۔وہ کہتا تھا کہ ''میرے مقبوضہ علاقوں کی مٹی بھی آخری وقت تک میرے ساتھ رہے۔کیونکہ مجھے پتھروں کا شہر ملا تھا اور میں سنگ مرمر کا شہر چھوڑ کر جا رہا ہوں‘‘۔بد قسمتی سے اس مقبرے کا بھی انجا م اچھا نہیں ہوا۔ 410 میں بہت لوٹ مار ہوئی۔ سونے کے کوزے بھی لوٹ لئے گئے۔ہر طرف راکھ بکھری ہوئی تھی ۔ 10ویں صدی عیسوی میں مقبرہ زمین میں دھنس گیا تھا ۔ 12 ویں صدی میں اسے قلعے میں بدل دیا گیا۔ 1167ء میں ہونے والی جنگ یہاں خاصی تباہی مچی، ایک بادشاہ نے یہاں باغ بنا دیا جبکہ 19ویں صدی میں یہ مقبرہ سرکس اور 20صدی میں اس کا مرکزی حصہ کنسرٹ ہال کے طور پر بھی استعمال ہوا۔مقبرے کا قطر 90میٹر(295فیٹ)اور اونچائی 42 میٹر (137) ہے۔زیریں حصے کے قریب پہنچتے ہی ایک بڑا سا راستہ نظرآئے گا جو سیدھا مقبرے کے اندر لے جائے گا۔یہاں دور سے ہی بلند و بالا طاق پر رکھے ہوئے سونے کے کوزوں میں شاہی خاندان کے افراد کی راکھ نظرآئے گی۔ ستونوں پر بادشاہ کا نام ''ریس گیسٹو ڈیوی آگسٹی ‘‘ جلی حروف میں کندہ ہے ۔جس کے نیچے اس کے کارہائے نمایاں اور فتوحات درج ہیں۔مرکزی حصے کے عین اوپر مخروطی چھت پرپیتل کا قد آور مجسمہ نصب ہے۔نیچے خود دفن ہے اور اوپر مجسمہ ہے تا کہ پتہ چل سکے کہ مرنے والا کس شکل کا تھا۔بادشاہ نے خوبصورتی کو چار چاند لگانے کے لئے ہر وقت شاداب رہنے والے خاص قسم کے درخت (cypresses) منگوا کر لگوائے۔ زیریں حصے کے قریب مشہور عجاب گھر ''میوزیم آف آراء پیسس‘‘ بھی واقع ہے۔یہ ''پیازہ آگسٹو امپیریٹور‘‘ کے مشہور مقام پر واقع ہے اور چاروں اطراف سے درختوں اور پھر مکانات میں گھرا ہوا ہے ،اس علاقے میں یہی واحدسرسبز جگہ ہے جس کے چاروں طرف درختوں کی بہار ہے۔میسو لینی نے بحالی کے لئے اسے عارضی طور پر بند کرنے کا حکم جاری کیاتھا،لیکن وہ آرئش نیہ کروا سکا۔ میسولینی کہتا تھا کہ ''آگسٹس نے میری شکل میں دوبارہ جنم لیا ہے‘‘۔ جنوری 2017ء میں آرائش و تزئین کی گئی لیکن اپریل 2019ء تک نا مکمل رہی ، اس لئے عوام کے لئے نہیں کھولاجا سکا،بلکہ اونچے درختوں کی اوٹ میں چھپنے کی وجہ سے دنیا کی نظروں سے بھی اوجھل ہو گیا تھا۔ 13سال سے جاری آرائش وتزئین کا کام یکم مارچ 2021ء کو مکمل ہوا۔کئی شاعروں نے مقبرے کی خوبصورتی پر اشعار کہے ہیں۔ ایک شاعر کی نظم کا ترجمہ کچھ یوں ہے ،'' یہ مقبرہ ہر وقت خوشبوئوں سے مہکتا رہتا ہے،دل کرتا ہے کہ میں بھی اپنے بالوں میں ان خوشبوئوں کو سمیٹ لوں۔ گرمیوں میں برف کا دلربا نظارہ اور پھولوں کی سیج دل کو کھینچ لیتی ہے۔منظر اس قدر کشش ہوتا ہے کہ آنے والے کا جانے کو من نہیں چاہتا لیکن اس میں ایک سبق بھی ہے وہ یہ کہ جودنیا میں آیا ہے ،خواہ وہ دیوتاہی کیوں نہ ہو،اس نے ایک نہ ایک دن مرنا بھی ہے‘‘۔

غربت ایک چڑیل ہے اپنی بستی میں

غربت ایک چڑیل ہے اپنی بستی میں

ہمارے آبائی گاؤں سکھوچک کے پاس سے ''بئیں ندی‘‘ کے نام سے ایک ندی بہتی ہے جو تحصیل شکرگڑھ اور اسکے مضافات سے ہوتی ہوئی کرتارپور کے نزدیک دریائے راوی سے مل جاتی ہے ہمارے پورے علاقے میں بئیں ندی کے متعلق مشہور ہے کہ یہ ہر سال ایک بندہ کھا جاتی ہے یعنی کہ برسات کے ایام میں اکثر کوئی نہ کوئی اس ندی میں ڈوب کر مر جاتا ہے۔کْچھ ایسی ہی صورتحال تھرڈ ورلڈ کے مختلف ممالک میں روائتی تہواروں کے دوران پیش آتی ہے جہاں پر غربت کے سبب کئی لوگ اپنے بچوں کی فرمائشیں پوری نہ کرنے کے غم میں خودکشی کر لیتے ہیں بلکہ اکثر اوقات تو پورے خاندان کو مار کر خود کو مار لینے کی خبریں مِلتی ہیں ۔ ہر سال ہر تہوار کوئی نہ کوئی خاندان ہڑپ کر جاتا ہے یا یوں کہہ لیجئےغربت ایک چڑیل ہے اپنی بستی میںجسکی ہر تہوار پہ آنکھیں ہوتی ہیںپچھلے دنوں شیخوپورہ میں پیش آنے والے ایسے ہی ایک حادثے نے دردِ دل رکھنے والوں کو رلا کر رکھ دیا کہ عید پر نئے کپڑوں کی فرمائش بچوں کی زندگی کی آخری فرمائش بن کر رہ گئی ۔خاوند کی بیوی سے پہلے ہی نوک جھونک رہتی تھی اوپر سے بے روزگاری نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔گھریلو جھگڑے، غربت اور بدحالی... ایسی صورت حال میں کْچھ بھی ہو سکتا ہے ۔تو وہی ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا ۔فیصل آباد کے رہائشی علاقے بنڈالہ کے محنت کش باپ نے تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کو شیخوپورہ کے قریب نہر میں پھینک دیا اور پولیس کے سامنے اعتراف جرم بھی کرلیا ۔یہاں پر یہ کہنا بالکل بھی بے جا نہ ہوگا کہ اس جْرم کا اعتراف اس علاقے کے مخیر حضرات اور کرتا دھرتاؤں کو بھی کر لینا چاہئے جن کی ناک کے نیچے ایک گھر میں غربت کی وجہ سے لڑائی جھگڑا جاری رہا ، نوبت انتہائی اقدام تک آگئی اور کسی کو پتہ تک نہ چلا اگر اسی محلے کا کونسلر اور مخیر حضرات چاہتے تو اس خاندان کو بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے اسی طرح اور بھی بے شمار لوگ ایسی صورت حال سے دوچار ہیں، ان کو بچانے کے لئے بھی کردار ادا کیا جا سکتا ہے وہ کردار بے روزگار شخص کو روزگار دلا کر بھی ادا کیا جا سکتا ہے یا پھر اس شخص کے اخراجات اس کی آمدن سے کہیں زیادہ ہیں تو اسے بیت المال سے وظیفہ دلوا کر بھی ادا کیا جاسکتا ہے یا کسی مخیر شخص سے اس کی چْپ چاپ مدد کروا کر بھی کیا جاسکتا ہے۔اچھا ایک اور بات کہ ایسے لوگوں کی تعداد کوئی اتنی زیادہ بھی نہیں ہوتی ،مثال کے طور پر اگر ایک محلے میں پانچ گھر ایسے ہیں تو بیس گھر ایسے بھی ہیں جو کروڑ پتی ہیں جن کی سینکڑوں ایکڑ زمینیں ہیں یا انکم کے اور بھی کئی پوشیدہ ذرائع ہیں تو کیا بیس کروڑ پتی اپنے محلے کے پانچ مجبوروں کا بوجھ بھی برداشت نہیں کر پاتے؟ میں اکثر ان سے ہاتھ باندھ کر گزارش کرتا ہوں کہ دو دو چار چار سو روپیہ بانٹنے کے لئے میلہ لگانے سے بہتر ہے کہ چار پانچ افراد کو اکٹھی رقم دی جائے تاکہ وہ عید کے تہوار کو بخوشی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ منا سکیں ۔پھر اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ مختلف باتیں بناتے ہیں، کوئی اسکی بیوی پر بدچلنی کا الزام لگاتا ہے کا تو کوئی مرد کے نشئی ہونے کا دعویٰ کرتاہے،میں نے خود اپنے کانوں سے لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ یہ لوگ حالات کامقابلہ کرنے کی بجائے مرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔کیا دو روٹی کھا لینا اور پڑے رہنا یہی ایک اشرف المخلوقات کی زندگی ہے ؟ کیا اچھا لباس اوررہائش وغیرہ انسان کی ضرورت نہیں ہیں؟کیا تمام انسانوں کے سینوں میں دھڑکتے دلوں میں خواہشات نہیں ہوتیں؟ اگر ہوتی ہیں تو پھر اْن کے پورا نہ ہونے سے جو احساس محرومی پیدا ہوتا ہے وہ آہستہ آہستہ احساس کمتری میں بدل جاتا ہے، احساسِ کمتری کا شکار انسان ذہنی مریض بن جاتا ہے اور ذہنی مریض سے آپ کسی بھی عمل کی توقع رکھ سکتے ۔اگر یہ ظاہری اور پوشیدہ دولت مند حضرات ایک طریقہ کار پر چلتے ہوئے زکوٰۃ کی ادائیگی کو ہی احسن طریقے سے سرانجام دیں تو یقین کیجئے، پورے پاکستان میں کوئی بھی تہوار کوئی بندہ نہ کھائے۔آخر میں نہر برد ہونے والے بچوں اور اْن کے جیسے لاکھوں کروڑوں ننھے منے بھوکے پیاسے بچوں کے لئے عید الفطر کے چاند کی آنسوؤں سے لبریز لوریچندا ماموں دور سےدیکھ رہے ہیں گھور کےکس نے روٹی کھا لی ہےقسمت کے تندور سےچندا ماموں روتے ہیںاور رو رو کر کہتے ہیںمیرے لاکھوں بھانجھے ہیںاکثر بھوکے رہتے ہیںخالی فیڈر ہوتا ہےآنکھ سے آنسو بہتے ہیںدیکھ کے مْنا روتا ہےماں پانی سے بھرتی ہےپی کر مْنا سوتا ہےہر شب ایسا ہوتا ہےچندا ماموں دور سےدیکھ نہ پائیں گھور کےاْن کا بھانجا روتا ہےپی کر پانی سوتا ہےچندا ماموں دور سےدیکھ نہ پائیں گھور کے......!

 جنگجو ملکہ زنوبیا مصر ، شام، اناطولیہ ،فلسطین اور لبنان کی فاتح

جنگجو ملکہ زنوبیا مصر ، شام، اناطولیہ ،فلسطین اور لبنان کی فاتح

''پیلمائرا‘‘ کی جنگجو ملکہ زنوبیا انتہائی حسین و جمیل حکمران تھی۔جس نے اپنی قائدانہ اور سپہ سالارانہ صلاحیتوں کی بنا ء پر 268ء سے 272 ء کے درمیان میں مصر ، شام، اناطولیہ ،فلسطین اور لبنان کو اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیا تھا۔وہ شام سے مصر پر حملہ آور ہوئی اور اس پر قابض ہونے میں کامیاب رہی۔ ان فتوحات کے ذریعے وہ بالآخر اپنا ایک دیرینہ خواب پورا کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔وہ ان علاقوں کو فتح تو کرنا چاہتی تھی لیکن اتنی جلدی تسلط قائم ہو جائے گا اس کا شاید اس نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا ۔ اپنی موت کے بعد وہ اپنے بیٹے کو تخت نشین کرنے کی آرزو مند تھی لیکن یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔زنوبیااور قلو پطرہ میں کئی باتیں مشترک تھیں ،حیرت انگیز اتفاق یہ تھا کہ دونوں کا انجام ایک جیسا تھا۔ بلندیوں کو چھو کر دونوں کو زندگی کے آخری ایام پس زنداں گزارنے پڑے۔اب ہم کچھ باتیں پیلمائرا کے بارے میں بتاتے ہیں۔پیلمائرا کہاں واقع ہے:دوسری صدی عیسوی میں رومن سلطنت کو بہت وسعت ملی ۔ وہ یورپ ، مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ کے بڑے حصوں پر مشتمل تھی ۔ اس وسیع و عریض سلطنت کے اہم شہروں میں سے '' تدمر‘‘ جسے بعد میں پیلمائرا کے نام سے شہرت ملی ، بھی شامل تھا۔یہ عسکری نقطہَ نظر سے انتہائی اہم شہر تھا۔مغرب میں بحیرہَ روم اور مشرق میں دریائے فرات تھا ۔ یہ رومن سلطنت کے سب سے بڑے حریف اور ہمسایہ سلطنت فارس (اس وقت ''ساسانی سلطنت ‘‘ کہلاتی تھی)کے درمیان ایک دیوار کی مانند واقع تھا۔ملکہ زنوبیا کون تھی؟: تاریخ کی کتابوں میں دوسری صدی میں ایک بادشاہ ''اودیناتو ‘‘ کا ذکر ملتا ہے۔ جسے سلطنت فارس کے خلاف کئی کامیاب مہمات کے بعد 260ء میں خدمات کے اعتراف کے طور پر رومن سلطنت کی بادشاہت دی گئی تھی۔ ہیران بادشاہ اودیناتو کی پہلی بیوی سے بیٹا اور جانشین تھا۔جبکہ دوسری بیوی ، زنوبیاکے بطن سے بھی ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام وابالاتو تھا ۔ شادی کے وقت زنوبیا کی عمر پچیس سال تھی۔اس کے والد رومن سلطنت میں گورنر تھے۔کہتے ہیں زنوبیا ایک مہذب اور تعلیم یافتہ لڑکی تھی جسے متعدد زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ تاریخ دان یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی تعلیم و تربیت شاہی خاندان کے افراد کی طرح کی گئی۔یہ اعلیٰ اخلاق کے باعث بہت جلد دوسروں کو اپنا گرویدہ بنانے میں بھی ثانی نہیں رکھتی تھی۔267ء میں حمص شہر میں اودیناتو اور اس کے بڑے بیٹے ہیران کو سازش کے تحت بھتیجے نے قتل کر دیا۔ چنانچہ اودیناتو کی وفات کے بعد اس کی دوسری بیوی زنوبیا کے چھوٹے بیٹے وابا لاتو کو تخت پر بٹھا دیا گیا ۔وابالاتو کی کم عمری اور نابالغ پن کے سبب اودیناتو کی بیوہ زنوبیا نے سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالی اور اپنے نابالغ بیٹے کے نام پر کامیابی سے حکومت کی۔زنوبیا نے اپنے ملک کو شاندار سلطنت بنا دیا ۔ اس نے اپنی حکمرانی میں پیلمائرا میں جس کمال مہارت سے ترقیاتی کام کرائے ، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے گئے ہیں۔ ایک عرصہ تک پیلمائرا اپنی خوبصورت عمارتوں ، مجسموں اور باغیچوں کی وجہ سے مشہور رہا ہے ۔وہ نڈر ،ذہین اور بے باک تو تھی ہی ،چنانچہ اس نے نہ صرف پیلمائرا سلطنت کی خود مختاری کا تحفظ کیا بلکہ رومن سلطنت کو بھی چیلنج کیا۔ان دنوں پیلمائرا کی طاقت اور اہمیت اتنی بڑھ چکی تھی کہ جب 268ء میں رومن سلطنت کو زبردست بحران کا سامنا ہوا تو زنوبیا نے خود اپنی الگ سلطنت قائم کر لی تھی۔چونکہ اس میں ایک بہترین فوجی کے تمام تر اوصاف موجود تھے اس لئے وہ ان علاقوں کو بھی فتح کرنے میں کامیاب ہوئی جو رومن سلطنت کا حصہ تھے۔270ء میں زنوبیا نے مصر کی ملکہ کے طور پر اپنی تصویر کے ساتھ مصر کے سکے جاری کئے ۔اس نے اپنے شوہر اودیناتو کے منصوبوں کو جاری رکھا ۔زنوبیا نے شدید بحران سے دوچار رومن بادشاہ کلا ڈئیس دوئم گوتھک کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا ۔اسے ابھی تخت پربیٹھے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا اور اسے ہر لمحہ گوتھس ، غول اور جرمن ایلمانی قبیلے سے سلطنت کے تینوں اطراف سے حملوں کا خطرہ رہتاتھا۔زنوبیا نے اس کا بھی فائدہ اٹھایا۔اور ان کی سلطنت میں مداخلت کرتی رہی ۔ تاہم 270 ء میں روم کی بادشاہت کلاڈئیس سے اوریلیانو کو منتقل ہو گئی۔کلا ڈئیس ،اوریلیانو سے یکسر مختلف تھا۔اس نے زنوبیا کے منصوبوں کو بھانپ لیا تھا ، اور سب سے پہلے گوتھک، غول اور ایلمانی قبیلوں کے خلاف کامیابی حاصل کی۔ پھر مصر پر قبضہ کرنے کے بعد مشرق میں دوبارہ رومی سلطنت کا پرچم لہرانے کا ارادہ کر لیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اوریلیانو کی کمان میں رومی فوجیں یکے بعد دیگرے وہ تمام علاقے آزاد کراتی گئیں جن پر زنوبیا کی فوجیں قبضہ کر چکی تھیں۔تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال میں زنوبیا کو اپنی فوجیں واپس بلانا پڑیں اور اسے اپنے آپ کو پیلمائرا تک محدود کرنا پڑا۔اوریلیانو نے پیش قدمی جاری رکھی اور زنوبیاکا پیچھا کرتا ہوا پیلمائرا تک آن پہنچا ۔اس کی فوجوں نے پیلمائرا کوچاروں طرف سے گھیر لیا۔اسی دوران 272 ء میں زنوبیا اور اس کے بیٹا وابالاتونے سلطنت فارس کی جانب فرار ہونے کی کوشش کی لیکن رومی فوج نے دونوں کو گرفتار کر کے روم پہنچا دیا۔روم میں اوریلیانو نے فتح کا جشن منایا اور زنوبیا اور اس کے قیدی بیٹے کو روم کی سڑکوں پر گھما کر دونوں کی بے عزتی کی۔ان کی زندگی کے بارے میں بہت سی باتیں مستند نہیں ہیں، کچھ روایات کے مطابق انہیں زنداں میں رکھا گیا ،سب سے مقبول روایت کے مطابق زنوبیا اور اس کے بیٹے وابالاتو کو کچھ عرصہ بعد معاف کر کے زنداں سے نکال کر روم کے شمال مشرقی شہر تبور میں جلاوطن کر دیا گیا۔

شوال کا چاند اور خوبصورت ’’بلڈ مون‘‘

شوال کا چاند اور خوبصورت ’’بلڈ مون‘‘

غیر ملکی جریدے ''فوربس ‘‘ میگزین نے چاند کے بارے میں ایک دلچسپ تحریر شائع کی ہے، جریدے نے بتایا ہے کہ '' 1.80ارب مسلمان شوال کی پہلی تاریخ کو عید کی خوشیاں منائیں گے۔ چاند سعودی عرب سے افریقہ تک مختلف دنوں ایام نظرآئے گا۔ زیادہ تر ممالک میں 12مئی اور 13 مئی کو نظرآسکتا ہے لہٰذا عید الفطر 13 یا 14 مئی کو ہو سکتی ہے۔ 12مئی کو مکہ میں چاندنظر آنے کے قوی امکانات ہیں کیونکہ اس وقت اس کی عمر اتنی ہو گئی ہو گی کہ نظر آجائے،لیکن سعودی عرب کے کسی اور شہر میں نظرآنے کے امکانات کم ہیں۔اس وقت یہ 0.6فیصد روشن ہو گا۔11مئی کو برج ثور میں 'نیو ن مون‘ زمین اور سورج کے درمیان میں ہو رہا ہے اس لئے چاند کے نظر آنے کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔کم از کم پندرہ گھنٹے بعد چاند سورج کے مشرق کی جانب گردش کرے گا، اس وقت قدرے دھندلا ہو گا مگر نظر آ جائے گا۔ اس وقت یہ مکہ مقدسہ کے عین اوپر ہو گا۔ اگلے روز 13مئی کو چاند 1.7دن کا ہو جائے گا اور 2.9 فیصد حصہ روشن ہو گا۔تب کئی ممالک میں آنکھوں سے بھی دیکھا جا سکے گا۔'سپر فلاور بلڈ مون‘26مئی کو ہو گا اور یہ آسٹریلیا، امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیاء کے کئی حصوں میں دیکھا جا سکے گا۔تیسرا سپر مون بلڈ مون بھی کہلاتا ہے۔ اس دوران کئی حصوں میں 15 منٹ کے لئے سرخی مائل روشنی پھیل جائے گی۔جبکہ 10جون کو 'رنگ آف فائر‘ نامی سورج گرہن 3منٹ 33سیکنڈ برقرار رہے گا‘‘۔شوال کا چاند نظر آنے کے کچھ دنوں کے بعد دنیا میں دلچسپی سے دیکھا جانے والا ' بلڈ مون‘ ہو گا جبکہ 10جون کو سورج گرہن بھی لگنے والا ہے، جسے ''رنگ آف فائر ‘‘کہتے ہیں، یہ کینیڈا، امریکہ ، گریس لینڈ اور روس کے بعض حصوں میں بہتر طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔''رنگ آف فائر ‘‘ کہلانے والا سورج گرہن دیکھنے کے لئے شوقین حضرات مختلف ممالک کا سفر کرتے ہیں جس خطے میں بھی زیادہ دیر کے لئے نظرآئے ،وہیں ڈیرے ڈال لیتے ہیں‘‘۔ ان دنوں عالمی ٹریفک پر کئی پابندیاں ہیں ، لہٰذا نقل و حمل آسان نہیں ہو گی ۔مضمون نگار جمی کارٹر کے مطابق ''چاند دیکھنے کا عمل میرے دل میں بھی جنون پیدا کرتا ہے،اس کا بھی مزہ ہے۔چاند دیکھ کر دنیا بھر کے مسلمان رمضان کے روزے ختم کریں گے ۔باریک اور کم عمر ترین چاند کو دیکھتے کے لئے میں آپ کو ایک مشورہ دیتا ہوں ۔ سب سے پہلے سیارہ زہرہ کو تلاش کیجئے، یہ آسمان کا چمکتا ترین ستارہ ہے۔اس کے قریب ہی آپ کو چاند بھی ملے گا،باریک لکیر کی صورت میں ۔ بلڈ مون :جب بلیو مون کے دن مکمل چاند گرہن بھی ہوجائے تو اس وقت چاند گہرے مٹیالے رنگ کا نظرآتا ہے۔اسے بلڈ مون (Blood Moon) یا سپر بلڈ مون کہتے ہیں۔ سپر مون اس پورے چاند کو کہتے ہیں جو زمین کے قریب تر ہو ۔ چاند کا مدار بیضوی شکل میں ہوتا ہے لہٰذا اس کے بیضوی کونوں پر چاند کا زمین سے فاصلہ 50 ہزار کلومیٹر تک کم ہو جاتا ہے۔زمین کے قریب تر ہونے کی وجہ سے 14فیصد بڑا اور 30 فیصد زیادہ روشن نظرآتا ہے۔''سپر مون‘‘ کا نام پہلی مرتبہ 1979ء میں ماہر فلکیات رچرڈ نولے (Richard Nolle) نے استعمال کیا تھا۔کئی امریکی شہری نیلا چاند دیکھنے کا دعویٰ بھی کر چکے ہیں۔ ایک مہینے میں دو مرتبہ نظرآنے والے پورے چاند کو بلیو مون کہتے ہیں۔ ہر دو سے تین سال کے اندر ایسا ہوتا ہے۔گزشتہ بلیو مون 31 مارچ 2018 ء کو نظرآیا تھا۔اگلا بلیو مون 22 اگست 2021ء کو ہوگا۔اس کی ایک اور بھی توجیح ہے، کسی بھی موسم میں چار سے زیادہ پورے چاند نہیں ہوتے ، کسی ایک سیزن میں چار میں سے تیسرے پورے چاند کو بھی بلیو مون کہتے ہیں۔''مین فارمرز المانک ‘‘ (Maine Farmer's Almanac) کے مطابق اس قسم کے چاند کا سب سے پرانا نام بلیو مون ہی ہے۔ امریکہ میں کیلنڈر سال کے آخری تین مہینوں میں تین فل مون ہو سکتے ہیں۔لیکن زمانہ جدیدمیں کسی بھی ایک مہینے میں ہونے والے دو فل مون میں سے دوسرے فل مون کو بلیو مون کہا جاتا ہے۔ دستیاب تاریخ کے مطابق پہلا بلیو مون 21 اگست 1937ء کو ہوا تھا۔ 1937ء میں صرف 13فل مون ہوئے تھے۔''ریڈ مون‘‘ کا رنگ؟چندا ماما کو '' سرخ مون ‘‘ یا ریڈ مون بھی کہتے ہیں ۔ چاند اور زمین کے درمیان میں گرد آلود فضاء کے باعث ایسا ہو سکتا ہے، گرد کی وجہ سے کبھی کبھی چاند ''خوں رنگ ‘‘ دکھائی دیتا ہے ،لیکن آپ تو جانتے ہیں کہ چندا ماماکا خون کے رنگوں سے کیا تعلق۔شکاری کا چاند:اب ایک اور بات سن لیجئے۔ امریکہ اور کئی یورپی ممالک میں اکتوبر کے فل مون کو ''ہنٹرز مون‘‘ یعنی ''شکاری کا چاند‘‘ (Hunter's Moon)بھی کہا جاتا ہے ۔اس کا تعلق شکاراور کاشتکاری سے ہے ، ان ممالک میں اس موسم میں شکاریوں کی اور کاشت کاروں کی سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں اس لئے اسے شکاری کا چاند کہا جاتا ہے۔کاشت کاری کی نسبت سے اسے ''ہار ویسٹ مون ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔غیر ملکی ویب سائٹ ''ایسٹرومنی .کام‘‘ کے مطابق امریکہ میں اس ''ہارویسٹ مون ‘‘ کو فل مون کو کہا جاتا ہے جو موسم خزاں کے قریب ترہوا ہو ۔ امریکہ میں یہ ستمبر سے دسمبر تک ہوسکتا ہے۔بلیو مون کی ایک ہی تاریخ :ہر 19برس کے بعدبلیو مون ایک ہی تاریخ میں آتے ہیں۔ 2039ء کا بلیو مون بھی رواں سال کی طرح 31 اکتوبرکو ہی ہو گا۔مستقبل میں آنے والے بلیو مون کے چارٹ پر ایک نظر ڈال لیجئے ۔2023:1اگست اور31 اگست2026ء :2اور31 مئی2028ء :3اور31دسمبر2031ء :4اور30ستمبر2034ء :5اور31جولائی2037ء : 6اور31جنوری2037ء:7اور31 مارچ2039ء:8اور31اکتوبر

4 ہزار سال پرانی ’’ تختی ‘‘

4 ہزار سال پرانی ’’ تختی ‘‘

انسان نے کب لکھنا سیکھا ،سب سے پہلے کیا لکھا؟ اس بارے میں کچھ بھی وثوق سے کہنا مشکل ہے ۔ کہا جاتا تھا کہ میسو پوٹیمیا کے جنوب میں ناپید ہونے والی قدیم ترین ''سمرائی تہذیب‘‘ (Sumer Civilization)نے 3200قبل مسیح میں ''لکھنا‘‘ سیکھ لیا تھا۔ماہرین کا یہ بھی مانناتھا کہ اصل لکھائی اسی تہذیب کے لوگوں کی ایجاد ہے۔''مونوجینسس‘‘ (monogenesis) تھیوری سے بھی یہی ثابت ہوتا تھاکہ یہیں سے''لکھائی‘‘ دوسری تہذیبوں میں منتقل ہوئی۔پھر بعد میں مشرق وسطیٰ سے کوسوں دور ''میسو امریکن‘‘ لکھائی کی دریافت کے بعد نظریہ بدل گیا۔اب ماہرین نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ہر تہذیب میں زبان و تحریر کا عمل الگ الگ پروان چڑھا۔ہر تہذیب میں علامات یعنی ''رسم الخط‘‘ منفرد اور اس خطے کی مجموعی سوچ کا عکاس تھا ۔ تاہم ،ہم جسے رسم الخط کہتے ہیں ،جن میں با معنی الفاظ ہوں اور دوسرے لوگ بھی سمجھ سکیں ، یہ بہت بعد کے دور کی بات ہے ۔انسان کئی ''تحریروں‘‘کے معنی اب تک سمجھ سکا۔اب کہا جا رہا ہے کہ '' رسم الخط ‘‘ چار تہذیبوں میں ایک تدریجی عمل کے ذریعے پروان چڑھے۔ میسوپوٹیمیا میں 3400 تا3100قبل مسیح، مصر میں 3250قبل مسیح کے لگ بھگ ،چین میں1200قبل مسیح کے لگ بھگ اور جنوبی میکسیکو اور گوئٹے مالا میں 500قبل مسیح میں الگ الگ رسم الخط پروان چڑھے۔جہاں تک میسو پوٹیمیا اور مصر سے ملنے والے تاریخی آثار کا تعلق ہے ، تو دونوں میں کئی بنیادی فرق پایا جاتا ہے ۔ اسی طرح چین سے ملنے والے نمونے الگ پہچان رکھتے ہیں۔یہ مشرق قریب یا دوسرے ممالک سے ملنے والے نمونوں سے کوئی مماثلت نہیں رکھتے ۔تاہم وادی سندھ کی تہذیب اور'' مشرقی جزیرہ‘‘ میں ملنے والے '' رنگو رنگو رسم الخط ‘‘ (Rongorongo script ) 5500ہزار برس قبل مسیح کے بھی ہیں۔دنیاانہیں سمجھنے سے قاصر ہے۔400قبل مسیح کے انسانوں نے ''سیکسا جیسیمل سسٹم ‘‘ (60، 600، 3600) وغیرہ کو سمجھنا سیکھ لیا تھا۔ اس ضمن میں سمرائی تہذیب کی ''کش تختی ‘‘(Kish tablet) بھی اہمیت کی حامل ہے۔اس میں ''رسم الخط‘‘ کی تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں یعنی الفاظ کے معنی سمجھے جا سکتے تھے۔اس تہذیب کے باشندے لائیو سٹاک اور زرعی مصنوعات کا ریکارڈ رکھنے کے لئے مٹی کے پتھر استعمال کیا کرتے تھے۔بعد ازاں اس کی جگہ ہموار تختی نے لے لی۔3500قبل مسیح کی ایک نادر تختی ''ایشمولیان ‘‘ (Ashmolean) نامی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔حال ہی میں چار ہزار 65برس پرانی ایک تختی ملی ہے۔اس کا زمانہ 2044قبل مسیح کا ہے، ہاتھ کی ہتھیلی کے برابر اس تختی میں ریکارڈ بھی رکھا جاتا تھا اور''امتحانات‘‘ بھی لئے جاتے تھے۔یہ شائد بڑی تعداد میں بنائی جاتی تھیں۔اور انہیں ایک دن یا چند گھنٹوں کے بعد ضائع کر دیا جاتا تھا۔ ایک تختی ایسی بھی ملی ہے جس پر گہرے سرخی مائل رنگ کے چند نشانات لگائے گئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تختی غالباََکسی طالب علم کی ہے جس پر ''استاد‘‘ نے چیک کرنے کے بعداغلاط کو دوسرے رنگ میں ظاہر کیاتھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے لوگ نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں کتنی دلچسپی رکھتے تھے۔ قدیم عراق میں ''انتظامی افسروں ‘‘ کی تختیاں بھی ملی ہیں جن پر کچھ حسابات درج ہیں یا مہریں (دیوتائوں کی اشکال )بنی ہوئی ہیں۔

احمد راہی کی اردو شاعری

احمد راہی کی اردو شاعری

احمد راہی کا شمار ان شعرا ء میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شاعری کی ان کی پنجابی شاعری کے حوالے سے تو بات کی جاتی ہے لیکن اردو شاعری کو نظرانداز کر دیا جاتاہے، یہ بہت افسوسناک رویہ ہے۔ احمد راہی نے پنجابی میں بہت خوبصورت نظمیں لکھیں اور ان کا مجموعہ ''ترنجن‘‘ ابھی تک مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پنجابی فلمی گیتوں کا بھی کوئی جواب نہیں۔ حزیں قادری کے بعد جس پنجابی گیت نگار کے نغمات سب سے زیادہ مقبول ہوئے اس کا نام احمد راہی ہے۔ ویسے تو وارث لدھیانوی نے بھی پنجابی نغمہ نگاری میں بڑا نام کمایا لیکن حزیں قادری اور احمد راہی نے جو مقام و مرتبہ حاصل کیا وہ کسی اور کا نہیں۔اس خاکسار کی احمد راہی مرحوم سے دو ملاقاتیں ہوئیں۔ ان دنوں وہ ریواز گارڈن لاہور میں رہائش پذیر تھے۔ وہ اس بات پر بہت رنجیدہ تھے کہ ان کی اردو غزلوں اور فلمی گیتوں کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے جل کر کہا ''جو آتا ہے وہ مجھے ''ترنجن‘‘ کی نظمیں اور ''ہیر رانجھا‘‘ کے نغمات سنانے لگتا ہے۔کیا میں نے عمر بھر یہی دو کام کیے ہیں۔ میں نے فلموں کے سکرپٹ بھی لکھے ''ہیر رانجھا‘‘ کے علاوہ اور بھی کئی پنجابی فلمیں ہیں جن میں میرے گیت شامل ہیں اور ان گیتوں کو بھی بڑی شہرت ملی۔ کیا ''مرزا جٹ‘‘ کے گیتوں کو کوئی بھول سکتاہے۔ اسی طرح جو میں نے اردو فلموں کیلئے نغمات لکھے ہیں ان کے معیاری ہونے میں کیا کسی کو شک ہے؟ میں نے فلم ''باجی‘‘ کی جو گیت لکھے وہ لافانی ہیں۔ ایسے گیت کوئی لکھ کر دکھائے اور پھر میری غزلوں پر کوئی لب کشائی کیوں نہیں کرتا‘‘۔راہی صاحب کی باتیں مبنی برحقیقت تھیں ایک تو وہ ویسے ہی سخت گیر آدمی تھے اورپھر اس ناانصافی نے ان کے لہجے میں تلخیوں کا زہر بھر دیا تھا۔ بہرحال اس کا گلہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کچھ اور بھی بڑی تلخ باتیں کیں جو اس مضمون میں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے غالب کی طرح یہ بھی نہیں کہا۔رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی سے معافآج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہےاگر زندگی نے وفا کی تو احمد راہی کے اردو نغمات پر یہ خاکسار پھر کبھی خامہ فرسائی کرے گا لیکن اس مضمون میں مرحوم کی اردو شاعری پر اپنے خیالات ضرور پیش کرے گا۔احمد راہی کی اردو شاعری سادگی اور سلاست سے بھرپور ہے۔ انہوں نے چھوٹی بحر میں جو غزلیں لکھیں وہ بھی تاثریت سے خالی نہیں۔ ان کی غزلوں میں رومانویت بھی ملتی ہے اور غم دوراں کی پرچھائیاں بھی۔ انہوں نے کلاسیکل شاعری کی روایت کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا اور جدید طرز احساس کو بھی رد نہیں کیا۔ وہ ترقی پسند سوچ رکھتے تھے اس لئے ان کی شاعری میں حیات افروز رجائیت بھی ملتی ہے۔ اگرچہ کبھی کبھی وہ مایوسی کی تاریکیوں میں بھی ڈوب جاتے ہیں لیکن پھر امید کی گھنگھور گھٹائیں برستی ہیں۔ جمالیاتی طرز احساس کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ یہ بات کبھی کبھی محسوس ہوتی ہے کہ ان کی شاعری میں تاثریت کی کمی ہے لیکن مجموعی طور پر ایسا نہیں۔ چونکہ انہوں نے اردو میں کم شاعری کی اور گیت بھی کم لکھے اس لئے شاید ان کو وہ شہرت نہیں ملی جو ان کی پنجابی شاعری کا مقدر بنی لیکن اگر یہ سمجھا جائے کہ ان کی اردو شاعری معمولی سطح کی ہے تو یہ درست نہیں۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ عمدہ شاعری کے تمام لوازمات احمدراہی کی اردو غزلوں میں موجود ہیں تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی اردو شاعری کا معیار کسی بھی حوالے سے پست ہے۔مندرجہ ذیل تین اشعار ملاحظہ کریں۔بات چھوٹی سی کبھی پھیل کے افسانہ بنےکوئی دیوانہ بنائے‘ کوئی دیوانہ بنےحال دل کہتے ہوئے ان سے خیال آتا ہےکہیں اظہار تمنا بھی تماشا نہ بنےآگے کچھ لوگ ہمیں دیکھ کے ہنس دیتے تھےاب یہ عالم ہے کوئی پوچھنے والا بھی نہیںرومانوی شاعری کو نئے زاوئیے دینے والے بھی کئی شاعر ہیں جن میں داغ دہلوی‘ اختر شیرانی اور قتیل شفائی کے نام سر فہرست ہیں لیکن اس حوالے سے ذرا احمد راہی کے ان اشعار پر غور کیجئے۔تری وفا تری مجبوریاں بجا لیکنیہ سوزش غم ہجراں یہ سرد تنہائیغم حیات میں کوئی کمی نہیں آئینظر فریب تھی تیری جمال آرائیمرے حبیب میری مسکراہٹوں پہ نہ جاخدا گواہ مجھے آج بھی ترا غم ہےاگر سہل متمنع (Deceptive Simplicity) کی بات کی جائے تو مندرجہ ذیل اشعار دیکھئے۔لمحہ لمحہ شمار کون کرےعمر بھر انتظار کون کرےدوستی ایک لفظ بے معنیکس پہ اب انحصار کون کرےکوئی بتلائو کہ کیا ہیں یاروہم بگولے کہ ہوا ہیں یاروجن کے قدموں سے ہیں گلزار یہ دشتہم وہی آبلہ پا ہیں یارواب ذرا ندرت خیال دیکھئےہم جو کرتے ہیں کہیں مصر کے بازار کی باتلوگ پا لیتے ہیں یوسف کے خریدار کی باتجیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ ا حمد راہی نے سادگی اور سلاست پر توجہ دی ہے اور براہ راست ابلاغ کی شاعری کی ہے۔ انہوں نے تراکیب کا استعمال کم سے کم کیا ہے۔ شاعری کے سب رنگ ان کے ہاں موجودہیں۔ جہاں تک قوت متخیلہ کا تعلق ہے تو وہ بھی ان کے اکثر اشعار میں بلندیوں پر نظر آتی ہے۔ ذرا ان دو اشعار پر غور کیجئے۔گلہ نہیں تجھ سے زندگی کے وہ نظریے بدل گئے ہیںمری وفا‘ وہ تیرے تغافل کی نوحہ خواں تھک کے سو گئی ہےدل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گادرد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گارجائیت پسند ہونے کے باوجود جب شاعر ناامیدی کے صحرا میں بھٹکنے لگتا ہے تو قاری کو حیرت تو ہوتی ہے لیکن اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ناامیدی اور مایوسی کی دھوپ بھی برداشت کرنی پڑتی ہے۔ احمد راہی کہتے ہیں۔سحر سے رشتہ امید باندھنے والےچراغ زیست کی لو شام ہی سے مدھم ہےاحمد راہی کی غزلیں پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ اہل ادب سے ان کا گلہ جائز تھا۔ اس خاکسار کی رائے سے اختلاف کرنے کا سب کو حق ہے لیکن غیر جانبدار ہو کے ان کی اردو شاعری کا تجزیہ کیا ہے۔ راہی صاحب کے کچھ اور اشعار پیش خدمت ہیں۔دن گزرتا ہے کہاں رات کہاں ہوتی ہےدرد کے ماروں کی اب بات کہاں ہوتی ہےزندگی کے وہ کسی موڑ پہ گاہے گاہےمل تو جاتے ہیں ملاقات کہاںہوتی ہےتمہارے ہاتھ سہی فیصلہ مگر پھر بھیذرا اسیر کی روداد بھی سنی جائےاب اس سے بڑھ کے بھلا اور کیا ستم ہوگازبان کھل نہ سکے آنکھ دیکھتی جائےاس مضمون کا ہر گزیہ مطلب نہیں کہ احمد راہی کی پنجابی اور اردو شاعری کا تقابلی جائزہ لیا جائے صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ راہی صاحب کو محض پنجابی زبان کے شاعر کی حیثیت سے یاد نہ رکھا جائے وہ اردو کے بھی بہت عمدہ شاعر تھے۔ 

پہلے اپنے دل کا آئینہ صاف کیجیے

پہلے اپنے دل کا آئینہ صاف کیجیے

ایک شادی شدہ جوڑے کے گھر کے سامنے نئے پڑوسی آ کررہنے لگے-اس جوڑے کے گھر کی کھڑکیوں سے نئے آنے والے پڑوسیوں کا گھر صاف دکھائی دیتا تھا۔ یہی وجہ تھی اس جوڑے کی بیوی ان کے گھر تانک جھانک کیے رکھتی اور گاہے بگاہے اس گھر کے مختلف معاملات پر اپنے شوہر کو خبر بھی دیتی اور بلا روک ٹوک تبصرہ بھی کرتی۔ ایک دن جب یہ دونوں میاں بیوی ناشتے میں مشغول تھے تو سامنے گھر کی خاتون نے کپڑے دھو کر تاروں پر ڈالے۔ بیوی کی نظر کپڑوں پر پڑی تو تبصرہ کرتے ہوئے کہنے لگی یہ کیسے لوگ ہیں کپڑے بھی صحیح سے نہیں دھونے آتے۔ابھی تک گندے ہی کپڑے تار پر ڈال دئیے ہیں۔ شوہر بیوی کی ایسی باتوں کو نظر اندازکر دیا کرتا۔ کچھ دن گزرے پھر ایسا ہی ہوا تو عورت نے اپنے شوہر سے اس پر تبصرہ کیا کہ دیکھیں کیسے لوگ ہیں ابھی تک ان کو کپڑے دھونے نہیں آتے۔انہیں چاہیے یا تو کچھ خرچہ کر کے اچھا صابن لے آئیں یا کسی عقل مند سے کپڑے دھونا سیکھ لیں۔خیر شوہر نے معمول کی مسکراہٹ بکھیری اور ناشتہ کرنے لگا۔ اب جب بھی پڑوسی کپڑے دھوتے تب ہی یہ خاتون ایسے مبالغہ آمیز تبصرے کرتیں اور شوہر ہر دفعہ معمول کی مسکراہٹ بکھیر کر دفتر چلا جاتا۔ کافی دنوں بعد ایک صبح پھر ایسا ہوا لیکن اس مرتبہ تبصرہ نگار خاتون کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا کہ یہ کیا آج تو انہوں نے بڑے صاف کپڑے دھوئے ہیں۔ آج تو لگتا ہے کسی سے کپڑے دھونا سیکھ لیا ہے یا صابن اچھے والا لے آئے ہیں۔ او ہو آپ دیکھیں نہ۔ شوہر کو متوجہ کرتے ہوئے وہ خاتون بولے جا رہی تھی۔ شوہر نے سکوت توڑا مسکرایا اور کہا آج صبح میں جلدی اٹھ گیا تھا تو میں نے اپنی کھڑکی کا شیشہ صاف کر دیا جس سے تم پڑوسیوں کے گھر دیکھتی ہو۔جی ہاں! یہ کہانی انسان کی مکمل زندگی کی عکاسی ہے ناکامی کی علامات میں سے بے جا تنقید کرنا بھی شامل ہے۔ ہم اپنے دل کے آئینے سے گرد صاف نہیں کرتے اسی لیے لوگ ہمیں میلے عیب دار خراب بے عقل نظر آتے ہیں۔ پٹی ہماری آنکھوں پر بندھی ہوتی ہے اور ہم دوسروں کو اندھیرے میں سمجھتے ہیں ابھی ہماری عقل اور سوچ پختہ نہیں ہوتی ہم دوسروں کوکم عقل اور کند ذہن سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ تو ایسا ہی ہوا کہ یرقان کا مریض جس کی آنکھیں بیماری کی وجہ سے پیلی ہو چکی ہوتی ہیں اسے ساری دنیا ہی پیلی نظر آتی ہے ہر چیز زرد نظر آتی ہے۔ ہم لوگوں کا فی زمانہ سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہم خود سکون سے جی نہیں رہے ہوتے اور دوسروں کی زندگی کے مسائل کو موضوع بحث بنایا ہوتا ہے کبھی بیٹھ کر اپنے عیبوں اور کمی کجیوں کی فہرست نہیں بنائی دوسروں کا لمحہ لمحہ نوٹ کر رہے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہماری زندگیاں بے سکون ہوئی پڑی ہیں ہر شخص دوسرے کے عیبوں کی تلاش میں ہے اور اپنے گناہوں کو سرشت آدم سمجھ کر ٹال رہا ہے اپنی آنکھوں کی کھڑکی کے سامنے سے افسانے گمان خوش فہمیاں تکبر اوور کانفیڈینس جیسی پٹیاں اتارنا ہوں گی تبھی ہی زندگی کا لطف لیا جا سکتا ہے ورنہ یہ عیوب ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گے۔ اصلاح کا سفر اپنے آپ سے اپنے اندر کی تبدیلی سے شروع ہو گا دوسروں میں جھانکنے سے پہلے اپنے من میں جھانکیے۔ جب اپنے دل کا آئینہ صاف ہو گا تو ہر چیز صاف دکھائی دے گی۔سب اچھے دکھائی دیں گے۔ کتاب'' کامیابی کے راز ‘‘سے انتخاب

اڑھائی کروڑ افراد کا مستقبل

اڑھائی کروڑ افراد کا مستقبل

کچھ دنوں سے زراعت پر طبع آزمائی کررہا تھا ملک میں دیگر شعبوں کی طرح یہ شعبہ بھی تنزلی کا شکار نظر آیا۔ دوران مطالعہ زراعت کے کچھ اعدادو شمار نظر سے گزرے تو ششدر رہ گیا کہ زراعت تو ہماری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے مگر اب حالت نزع میں ہے۔ نزع کا لفظ گو کہ نامناسب بھی ہے اور خطرے کی علامت بھی مگر جب کپاس کے شعبے کی کارکردگی پر نظر پڑی تو حقیقتاً حالت نزع ہی تھی۔ ہماری برآمدات میں کپاس کابہت بڑا حصہ ہے اور یہ پڑھ کر تو تشویش اور بڑھ گئی کہ اڑھائی کروڑ سے زائد آبادی کسی نہ کسی شکل میں اس شعبے سے منسلک ہے جس کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ ناقص حکمت عملی نے کاشکاروں کو دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے خصوصاً کپاس کے کاشتکار سخت مشکل کا شکار ہیں اور وہ کپاس کے بدلے چاول، گندم اور مکئی کی کاشتکاری کو اولیت دے رہے ہیں۔ ہماری معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے۔ اس شعبے کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ شعبہ ملکی آبادی کے 80 فیصد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔صنعت کیلئے خام مال فراہم کرتا ہے اورہماری غیر ملکی تجارت کی بنیاد ہے۔تجارتی سامان کی برآمدات سے حاصل ہونیوالا زرمبادلہ ملک کی مجموعی برآمدات کا 45 فیصد ہے۔67.5 فیصد افراد دیہی علاقوں میں رہ رہے ہیں جو کہ اس میں براہ راست شامل ہیں۔وطن عزیز میں فصلوں کے دو اہم سیزن ہیں یعنی ربیع اور خریف، اہم اور نقدفصلیں گندم، چاول مکئی، کپاس ہیں جس میں کپاس سرفہرست ہے۔پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2020-21ء میں کپاس کی پیداوار 34.35 فیصد کی کمی سے 5.571 ملین بیلزپر آ گئی ۔ گذشتہ سال ملک میں کی پیداوار 8.487 ملین بیلز تھی۔2.9 ملین گانٹھوں کی کمی ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے ایک تشویشناک صورتحال تھی جو کہ برآمدی شعبوں میں سے ایک بڑا شعبہ ہے اور ملک کی مجموعی سالانہ برآمدی آمدنی کا 60 فیصد ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے کئی برسوں سے نقد کی بڑی فصل کے بارے میں غفلت برتی جارہی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گذشتہ 30 سال میں کپاس کی سب سے کم پیداوار ریکارڈ کی گئی ۔ اگر ریگولیٹر کے طور پر کام کرنیوالی حکومت حرکت میں نہ آئی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔بیج سے متعلق مسائل، مناسب قیمتوں کے فقدان اور بڑھتی ہوئی لاگت اور ناقص کیڑے مار ادویات کے استعمال کی وجہ سے کپاس کی نمو میں کمی کا معاملہ جلد ہی حل ہوتا نظر نہیں آرہا۔موجودہ حکومت نے کپاس کے کاشتکاروں کو سبسڈی والا بیج دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کا یہ بھی ارادہ ہے کہ کسانوں کو دوسری فصلوں کی طرف متوجہ ہونے سے روکنے کیلئے مراعات دی جائیں۔لیکن ہائبرڈ ہائی پیداوار کے بیج، کیڑوں پر قابو پانے کے بہتر طریقے اور کسانوں کو بہتر سپورٹ پرائس دینے کی تجویز کردہ مراعات اور پالیسیاں ہماری پیداوار بڑھانے کیلئے کافی ثابت نہیں ہوں گی۔حکومت کو کسانوں کو کریڈٹ کی سہولیات بھی فراہم کرنی چاہئے کپاس جنوبی پنجاب ریجن کی بڑی فصل رہی ہے۔لیکن جنوبی پنجاب کے اضلاع میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران کپاس کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) نے اپنی جاری کردہ 15روزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ گذشتہ سال کے اسی عرصے میں پیدا ہونیوالی 8.487 ملین بیلز کے مقابلے میں ملکی کپاس کی پیداوار 31 جنوری تک 34.35 فیصد کمی کے ساتھ 5.571 ملین بیلز تک پہنچ گئی۔کاٹن ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ 30 سال کے دوران کپاس کی یہ سب سے کم پیداوار ہے جو ٹیکسٹائل سیکٹر کے ساتھ ساتھ برآمدات کیلئے بھی تشویشناک ہے۔ 

زندگی کی کرن

زندگی کی کرن

آدھی رات ڈھل چکی تھی سب لوگ سکون سے سو رہے تھے لیکن ایک طرف ضعیف العمر محمد مقبول ہسپتال میں پڑا درد کے مارے کرارہا تھا اس کی دردناک آواز پورے ہسپتال کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی بوڑھے مقبول کو اس کی سگی اولاد بے آسرا اور بے یارومدد گار چھوڑ چکی تھی ۔ ایک طرف خدمت کے جذبے سے سرشارحوا کی بیٹیاں بوڑھے مقبول کی خدمت میں مشغول ہیں ان کو'' سسٹر ‘‘پکارا جاتا ہے یہ نرسنگ کے ایک باوقار پیشہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔اس شعبہ سے منسلک خواتین کورونا جیسے حالات کے باوجود اپنے فرض کو خوش اسلوبی سے ادا کرتی ہیں جب مریض کی جان لبوں پر ہوتی ہے تو یہ مریض کی ڈھارس بندھاتی ہیں اور ان کیلئے زندگی کی کرن ثابت ہوتی ہیں ۔نرسنگ کا آغاز اسلام کے اولین دور سے ہی شروع ہوچکا ہے جب مختلف غزوات میں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ میدان جنگ میں لڑنے کی اجازت نہ ملی تو وہ میدان جنگ میں زخمیوں کو پانی پلاتی اور ان کی مرہم پٹی کرتی تھیں اس طرح غازیان اسلام کی خدمت کرکے اپنے تیئں جنگ میں شرکت کرتی تھیں۔ حضرت ام عمارہؓ جنگ احد میں شریک ہوئیں اور ان کے بیٹے اسی جنگ میں شہید ہوئے انہوں نے جنگ میں زخمیوں کو پانی پلاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ انہی مثالوں میں ایک خوبصورت مثال حضرت فاطمہ بنت عبداللہؓ کی ہے جنہیں جہاد میں حصہ لینے کی بہت تڑپ تھی ، انہوں نے بھی شہادت کا مرتبہ پا کر اپنے مشن کو مکمل کرلیا یہ وہ بہادر خواتین ہیں جنہوں نے اسلام کا بول بالا کیا اور نرسنگ جیسے مقدس پیشے کی بنیاد رکھی۔ جنوری 1974 میں 12 مئی کے دن کو جدید نرسنگ کی بانی، فلورنس نائٹینگیل کی پیدائش والے دن منانے کیلئے منتخب کیا گیا ،فلورنس نائٹینگیل 12 مئی 0 182 کو اٹلی کے شہر فلورنس میں پیدا ہوئیں وہ جدید نرسنگ کی ترقی میں بااثر شخصیت تھیں۔ کریمین جنگ ((1853-1856 کے دوران نائٹینگیل کو ملازمت پر رکھا گیا۔ نرسنگ اور تعلیم دونوں کے کردار کی تعریف پہلے نائٹینگیل نے کی ۔ فلورنس نائٹینگیل نے جنگ کے بعد پیشہ ورانہ نرسنگ کی بنیاد رکھی، پیشہ ورانہ تعلیم کے نائٹینگیل ماڈل نے، نرسنگ کا پہلا سکول قائم کیا جو ایک مسلسل آپریٹنگ ہسپتال اور میڈیکل سکول سے منسلک ہے، جو 1870 ء کے بعد یورپ اور شمالی امریکہ میں وسیع پیمانے پر پھیل گیا۔ فلورنس نائٹینگیل کو معاشرتی اصلاح کار، شماریاتی ماہر اور جدید نرسنگ کی بانی کہا جاتا ہے۔آج بھی دنیا بھر میں لاکھوں نرسیں اپنے فرائض انتہائی محنت اور جذبے سے ادا کر رہی ہیں اور دکھی انسانیت کیلئے زندگی کی کرن ثابت ہو رہی ہیں۔ 

 عدنان میندریس ،ترکی کے سابق وزیراعظم کو 1961میں پھانسی دی گئی

عدنان میندریس ،ترکی کے سابق وزیراعظم کو 1961میں پھانسی دی گئی

ترکی میں سلطنت عثمانیہ 600برس تک قائم رہی۔ ان 6 صدیوں میں 36 حکمران آئے۔ سلطنت عثمانیہ کے پہلے سلطان عثمان بن غازی تھے ان کے نام پر ہی اس سلطنت کو سلطنت عثمانیہ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ یہ سلطنت 1299میں قائم ہوئی اور ترکوں کے قبائلی رہنما عثمان 1نے اس کی بنیاد رکھی۔ یکم نومبر 1922کو یہ سلطنت اختتام پذیر ہوگئی۔ ترک قوم پرستوں نے ملک کا انتظام سنبھال لیا۔ 1923 میں مصطفی کمال پاشا (کمال اتاترک) ترکی کے فیلڈ مارشل اور جمہوریہ ترکی کے بانی تھے ملک کے پہلے صدر بن گئے۔ وہ 1938 تک صدر رہے اور اسی سال ان کا انتقال ہو گیا۔ کمال اتاترک سیکولر ذہنیت کے مالک تھے اور کہا جاتا ہے کہ ان کے دور میں دینی مدرسوں کو بند کر دیا گیا تھا۔عدنان مندریس ترکی کے ایک قابل سیاستدان تھے۔ وہ 1699 میں کوکرلی (صوبہ ایادین) میں پیدا ہوئے،پرائمری سکول کے بعد امریکن کالج ازمیر سے تعلیم حاصل کی۔ ترکی کی جنگ آزادی کے دوران یونان کی حملہ آور فوج کے خلاف پامردی سے لڑے اور انہیں میڈل دیا گیا۔ 1930میں انہوں نے انقرہ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔میندریس نے لبرل ری پبلکن پارٹی قائم کی جو تھوڑے عرصے بعد ہی ختم ہو گئی۔ اس کے بعد کمال اتاترک نے انہیں خود حکمران ری پبلکن پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔ 1931میں میندریس کو آئے دین کا ڈپٹی بنا دیا گیا۔ 1945 میں انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ اس کی وجہ پارٹی کے اندر عصمت انونو کی ان پالیسیوں کی مخالفت تھی جن کے تحت وہ سب کچھ قومی تحویل میں لینا چاہتے تھے۔ 1946 میں عدنان میندریس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ڈیموکریٹک پارٹی (DP) بنا لی۔ 1946 کے پارٹی انتخابات میں میندریس کو ڈیمو کریٹک پارٹی کا ڈپٹی منتخب کر لیا گیا۔ انہیں پارٹی کے اس حصے کا ڈپٹی بنایا گیا جو کٹاہیا کی نمائندگی کر رہا تھا۔ 14مئی1955 کو ترکی میں پہلی دفعہ آزادانہ انتخابات ہوئے جس میں ڈیمو کریٹک پارٹی نے 52فیصد ووٹ حاصل کیے۔ یہ وہ انتخابات تھے جن میں ووٹ خفیہ طریقے سے ڈالے گئے لیکن ووٹوں کی گنتی سب کے سامنے ہوئی۔ عدنان میندریس ترکی کے وزیراعظم بن گئے اور 1950میں انہوں نے وزارت خارجہ کا قلمدان بھی سنبھال لیا۔ انہوں نے 2 مزید آزادانہ انتخابات (1954 اور 1957)میں بھی فتح حاصل کی۔ انکے10 سالہ دور حکومت میں ترکی کی معیشت 9فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کر رہی تھی۔ ان کے دور میں ترکی نیٹو (NATO) کا رکن بن گیا اور امریکہ کی معاشی امداد کی بدولت ملک کا ہر شعبہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن تھا۔ یہ سب کچھ ''مارشل پلان‘‘ کے ذریعے ہو رہا تھا۔ڈیمو کریٹک پارٹی نے شہری اور دیہی علاقوں میں قربت بڑھائی جس سے دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کی طرز زندگی کے بارے میں بہت کچھ علم ہوا۔1955 میں ترکی اور یونان کے درمیان قبرص کے مسئلے پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے۔عدنان میندریس نے دعویٰ کیا کہ یونان سے تعلق رکھنے والے قبرص کے لوگ ترکی نژاد قبرص کے لوگوں کا قتل عام کرنا چاہتے ہیں۔ قبرص کی طرف توجہ دلانا میندریس حکومت کے لیے سیاسی طور پر آسان تھا۔ عدنان میندریس روایتی طرز زندگی کو پسند کرتے تھے۔ وہ اسلامی طرز حیات اور اصولوں کے بھی حامی تھے۔ انہوں نے 1950کے انتخابات میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اذان کی اجازت دیدیں گے بلکہ اسے قانونی شکل دیں گے جبکہ اتاترک کے زمانے میں ایسا نہیں تھا۔ انہوں نے ملک کے اندر ان ہزاروں مسجدوں کو کھول دیا جنہیں بند کر دیا گیا تھا۔ اس پر ان کے مخالفین نے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ مذہب کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ عدنان میندریس نے عصمت انونو کی تصویر کو ترکی کے بینکوں کے نوٹوں سے ہٹا دیا۔ اس کے علاوہ ان کی تصاویر کو ڈاک کی ٹکٹوں سے بھی ہٹا دیا گیا۔ اس کی جگہ اتاترک کی تصاویر دوبارہ لگا دی گئیں۔ اس کی وجہ عوام کا دبائو تھا۔ اپنی ایک تقریر میں عدنان میندریس نے یہ بھی کہہ دیا کہ پارلیمینٹ کے ارکان اگر چاہیں تو وہ خلافت دوبارہ لا سکتے ہیں۔ اپنے پیش روئوں کی طرح وہ بھی مغرب نواز تھے لیکن وہ مسلمان ریاستوں کے ساتھ بھی بہتر تعلقات کے خواہش مند تھے۔ ان کی معاشی پالیسیوں سے ترکی کے کسان بڑے خوش تھے۔لیکن ان سب کے باوجود ان میں یہ خامی تھی کہ وہ تنقیدبرداشت نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے پریس پر سنسرشپ لگائی اور صحافیوں کو گرفتار کیا۔ اس کے علاوہ مخالف سیاسی جماعتوں کو دبانے کی بھی کوشش کی گئی۔ انہوں نے یونیورسٹیوں کو بھی اپنے کنٹرول میں لینے کی سعی کی۔ میندریس کو لوگ پسند کرتے تھے اور انہیں اس وقت کے آرمی چیف جمال گرسل کی حمایت بھی حاصل تھی۔ جمال گرسل کا مؤقف یہ تھا کہ عدنان میندریس کو قومی اتحاد کیلئے صدر بننا چاہیے۔ ان کے اس مؤقف کی دانشوروں‘ یونیورسٹی کے طلبا ء اور فوج کے نوجوان انقلابی افسروں نے مخالفت کی اور کہا کہ اتاترک کے نظریات کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔عدنان میندریس نے انکوائری کمیشن بنائے، کمیشن میں صرف ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان شامل تھے اور ان ارکان کو مقدمات چلانے اور فیصلہ سنانے کے اختیارات بھی دیدئیے گئے۔یہ اختیارات کی علیٰحدگی کے اصول کے خلاف تھا۔ ارکان پارلیمینٹ کو مقدمہ چلانے اور جج بننے کے اختیارات مل گئے۔ علاوہ ازیں کمیشن کے فیصلوں کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی تھی۔ 27مئی 1960 کو ترکی میں فوجی بغاوت ہو گئی، اس بغاوت کے پیچھے ترک فوج کے 37فوجی افسر تھے حکومت کو معزول کر دیا گیا۔ میندریس اور صدر بیار کو گرفتار کر لیا گیا اس کے علاوہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے تمام اہم ارکان بھی گرفتار کر لیے گئے، ان پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے ''استنبول پوگروم‘‘ کا حکم دیا جس میں 57 یونانیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ ایک الزام یہ بھی عائد کیا گیا کہ ریاستی فنڈز کا بہت زیادہ پیسہ غبن کر لیا گیا ہے۔لیبادیا کے جزیرے میں عدنان میندریس اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے اہم ارکان پر فوجی عدالت نے مقدمہ چلایا۔ میندریس‘ بیار اور کابینہ کے2 سابق وزراء کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ میندریس نے نیند کی گولیاں زیادہ مقدار میں کھا کر خودکشی کی کوشش کی۔ دراصل میندریس نے اپنی پھانسی میں تاخیر کیلئے یہ حربہ استعمال کیا۔ عدنان میندریس کی سزا معاف کرنے کیلئے دنیا کے بڑے بڑے رہنمائوں نے اپیلیں کیں۔ ان میں امریکہ کے صدر جان ایف کینیڈی اور ملکہ الزبتھ دوم بھی شامل تھیں۔ سب غیرملکی رہنمائوں کی اپیلیں مسترد کردی گئیں اور عدنان میندریس کو 17ستمبر 1961 کو امرالی میں پھانسی دیدی گئی۔ہم اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ پھانسی سے پہلے عدنان میندریس کے الفاظ تھے ''یااللہ میرے ملک پر رحمت کر‘‘۔ آج ترکی میں 27مئی 1960 ''یوم سیاہ‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کمال اتاترک کی طرح عدنان میندریس کا بھی مقبرہ تعمیر کیا گیا۔

انسان سازی

انسان سازی

تخلیق اور ترقی کے لیے دو چیزیں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں ، اول استاد اور دوم ادارہ۔ان کے ذریعے انسان کے رویوں اور کردار کی تنقیح ہوتی ہے۔تعلیم وتربیت کی ذمہ داری والدین کے بعد اساتذہ پر عائد ہوتی ہے۔یہ پیغمبرانہ شیوہ ہے۔استاد کا فریضہ محض اپنے مضمون پر توجہ مرکوز رکھنا نہیں بلکہ اس پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ انسان کی شخصیت کو متوازن بنانے کے لیے وہ اس کی اخلاقی تربیت کرے۔ پیشہ ورانہ مہارت کے چکر میں ہم نے انسان کی کردار سازی اور اخلاقی تربیت کے معاملات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔زیادہ سے زیادہ نمبروں کے حصول کیلئے والدین اپنے بچوں کو اچھے سے اچھے اداروں میں بھیجتے ہیں ،اکیڈمیوں میں داخلہ دلواتے ہیں تاکہ ان کے بچوں کو امتحانات میں اچھے نمبر ملیں اور معاشرے میں ان کی بدولت بہتر مقام حاصل کیا جاسکے۔ گویا اساتذہ اور والدین دونوں اپنے فرائض سے سبکدوش ہو گئے ہیں اور ان کا مطمع نظر انسان سازی کی بجائے محض پیشہ ورانہ مہارت کا حصول رہ گیا ہے۔جب انسان سازی کے فریضہ سے سبکدوشی اختیار کر لی جائے تو یہ توقع رکھنا کہ سماج میں رواداری اور ہم آہنگی نظر آئے تو یہ کافی مشکل ہے۔ ہمارا معاشرہ ایک متنوع معاشرہ ہے۔اس میں سماجی تنوع کی طرح مذہبی تنوع بھی وجود رکھتا ہے۔ہمیں دنیا میں سوائے ایک دو مسلم ممالک کے اس قدر تنوع کہیں اور نہیں ملتا۔اس قدرمتنوع معاشرے میں اساتذہ پر ذمہ داریاں زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ استاد کی زبان سے نکلا ہوا کوئی بھی جملہ طالب علم کے ذہن پر نقش ہوجاتا ہے۔اسی لیے جب اساتذہ اپنی مسلکی یا فکری وابستگیاں ظاہر کرتے ہیں تو یہ اظہار طلبہ کے اذہان پر اپنے اثرات ضرورمرتب کرتا ہے۔ بدقسمتی سے اساتذہ کا مقصد صرف اپنے مسلک یا مذہب کے حلقے کو وسعت دینا ہوتا ہے اور پڑھنے آنے والے طلبہ کو تبلیغ کرکے اپنے حلقے میں شامل کرنے کو وہ اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں تاکہ اپنے ہم خیال یا ہم مسلک افراد کی تعداد میں اضافہ ممکن بنایا جاسکے۔مقامِ افسوس ہے کہ اساتذہ اخلاقی تربیت نہیں کر رہے اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ اپنے مسالک کے مبلغ بھی بنے ہوئے ہیں۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ اساتذہ وہ لوگ بن رہے ہیں جنہیں کوئی اور نوکری نہیں ملتی۔ نظریۂ ضرورت انہیں استاد بنا تا ہے اور یہ رویہ کسی طور اس پیشے کے شایانِ شان نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ اساتذہ کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟نبی کریم ﷺکا فرمان ہے کہ'' میں تمہارے لیے والد کی طرح ہوں اور میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں جس طرح ایک والد اپنے بچے کو تعلیم دیتا ہے۔‘‘امام ابویوسف ؒ کہتے ہیں کہ اگر ایک استاد کو جانچنا ہے کہ وہ کتنا اچھا ہے تو دیکھوکہ کیاوہ دوسروں کے بچوں کو اسی طرح پڑھاتا ہے جیسے اپنے بچے کو پڑھایا جاتا ہے ۔ اگر وہ ایسے پڑھاتا ہے تو سمجھو وہ ایک اچھا استاد ہے ورنہ نہیں۔نبی کریمﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ''جس آدمی کو مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنایا گیا اور اگر اس نے اپنی تمام تر کاوشیں صرف کرکے اس میں بہتری کی کوشش نہ کی تو اسے قیامت کے روز منہ کے بل جہنم میں گرایا جائے گا‘‘۔ یہ حدیث عمومی ہے لیکن اس میں اساتذہ بھی شامل ہیں۔ اساتذہ کو نظر ثانی کرنی چاہیے کہ وہ کتنی خیر خواہی کے جذبات کے ساتھ تعلیم کے پیشے کو اپنائے ہوئے ہیں۔ مقصد اساتذہ کرام کی حوصلہ شکنی کرنا ہرگزنہیں ہے۔ یہ بھی قطعاًمقصود نہیں کہ وہ اس پیشے سے الگ ہوجائیں بلکہ کچھ اچھے اساتذہ بھی ہیں۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نظرثانی کریں کہ ہمارے کردار اور عمل میں کوئی کجی تو موجود نہیں۔ اگر ایسی کوئی بات ہے تو اساتذہ کو اپنے مقصدِ حقیقی کا اعادہ کرنا چاہیے۔

بات کرنے کا ڈھنگ, الفاظ کا درست چنائو ہمیں بہت سی مشکلات سے بچا سکتا ہے

بات کرنے کا ڈھنگ, الفاظ کا درست چنائو ہمیں بہت سی مشکلات سے بچا سکتا ہے

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ کسی ملک کے بادشاہ نے خواب دیکھا کہ اس کے سارے دانت ٹوٹ گئے ہیں ۔بادشاہ اس خواب سے خاصا پریشان ہوا۔ خواب کی تعبیر جاننے کے لیے وزیر کو حکم دیا کہ تمام شہروں سے ان ماہرین کو جمع کرے جو خوابوں کی تعبیر جانتے ہیں۔بادشاہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ماہرین کی ایک جماعت کے سامنے خواب سنایا گیا۔ ماہرین نے خواب سن کر ایک دوسرے کی طرف پریشانی کے عالم میں دیکھا اور کہا حضور خواب کی تعبیر کچھ اچھی نہیں۔ بادشاہ نے کہا پھر بھی مجھے جاننا ہے۔چنانچہ ماہرین کی جماعت نے کہا بادشاہ سلامت خواب کا مطلب ہے کہ آپ کا سارا خاندان آپ کی آنکھوں کے سامنے وفات پا جائیگا۔بادشاہ کو سن کر حیرت بھی ہوئی اور شدید غصہ بھی آیا۔ بادشاہ نے سب کے سر قلم کرنے کا حکم دے دیا۔ابھی چند روز بھی نہ گزرنے پائے تھے کہ بادشاہ نے پھر خواب دیکھا کہ اس کے سارے دانت ٹوٹ گئے ہیں اب پھر بادشاہ نے پریشانی کے عالم میں وزیر کو بلایا اور کہا اس کی تعبیر جاننا چاہتا ہوں۔وزیر نے عرض کیا عالیجاہ !ماہرین کے سر تو آپ نے قلم کروا دیئے۔ اب ایک دانا ہی بچا ہے جو اس کی تعبیر بتا سکتا ہے۔چنانچہ بادشاہ کے حکم پر اس دانا کو بلا کر جب خواب سنایا گیا تو اس کے چہرے پر بھی اسی طرح پریشانی کے آثار نمودار ہو گئے۔ مگر شخص دانا تھا۔ اس نے وہی تعبیر بتائی مگر الفاظ کے چنائو میں مہارت کا استعمال کیا۔ کہا بادشاہ سلامت خواب بہت عمدہ ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ آپ اپنے خاندان میں سب سے لمبی عمر پائیں گے۔ بادشاہ اس تعبیر کو سن کر خوش ہوا اور اس دانا کو انعامات سے نوازا۔ جی ہاں۔ دانائی اوربہادری اس بات میں نہیں کہ آپ سچ بول لیتے ہیں بلکہ اصل عقل مندی اور دانشمندی یہ ہے کہ آپ سچائی کے بیان کے لیے الفاظ کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ ہماری بہت سی ناکامیاں اور بے جا دشمنیاں فقط اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ ہم سچ تو بولتے ہیں مگر ہمارا انداز برا ہوتا ہے ۔ہمارے الفاظ کا چنائو درست نہیں ہوتا۔ اسی طرح نصیحت کے لیے خیر خواہی کے لیے بھی ہم جو الفاظ استعمال کرتے ہیں سارے اخلاص کے باوجود اس کے اثرات الٹ ہوجاتے ہیں۔ جب آپ کسی سے مخلص ہیں تو تھوڑی سے کوشش اور کریں لہجہ نرم اور مٹھاس والا ہو جھوٹے لوگ اسی وجہ سے اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ وہ جھوٹ کو سچ کے لہجے میں بولتے ہیں اور سچے لوگ اس لیے ناکام کے وہ سچ کو جھوٹے کے لہجے میں بولتے ہیں۔ آپ کے الفاظ کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتے ہیں اور سنوار بھی سکتے ہیں اسی طرح آپ کے الفاظ کا چناو آپ کو عزت و مرتبہ بھی دے سکتا ہے ۔