16جون:خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن

16جون:خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن

سمندر پارکارکن،معیشت کے خاموش ہیروہر سال 16 جون کو دنیا بھر میں خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن (International Day of Family Remittances) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان تارکینِ وطن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو اپنے وطن سے دور رہ کر نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ اپنے ملکوں کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (IFAD) کے مطابق ترسیلاتِ زر دنیا بھر میں غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ملک عزیزپاکستان کے لیے بھی اس دن کی خاص اہمیت ہے کیونکہ سمندر پار پاکستانی کارکنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار رکھتی ہیں۔قومی معیشت کا مضبوط سہارااس وقت ایک کروڑ سے زائد پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔ ان میں بڑی تعداد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، برطانیہ اور امریکہ میں کام کر رہی ہے۔ ان پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر لاکھوں خاندانوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کے استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔پاکستان کی معیشت کو گزشتہ چند برسوں سے بلند درآمدی بل، بیرونی قرضوں کی ادائیگی، تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ایسے میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر ملک کے لیے ایک مضبوط معاشی ڈھال ثابت ہوئی ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق ترسیلاتِ زر نہ صرف جاری کھاتوں کے خسارے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ روپے کے استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 ء کے پہلے گیارہ ماہ، یعنی جولائی 2025ء سے مئی 2026ء تک، بیرونِ ملک پاکستانی 38.1 ارب ڈالر وطن بھیج چکے ہیں۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ رواں مالی سال ترسیلاتِ زر ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کر سکتی ہیں۔صرف مئی 2026ء میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 4.3 ارب ڈالر وطن بھیجے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی مہینے کے دوران موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کی بلند ترین سطح ہے۔ اس سے قبل مارچ 2025 میں 41 کروڑ ڈالر کی ترسیلات ریکارڈ کی گئی تھیں، تاہم مئی 2026ء میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔گزشتہ مالی سال میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے مجموعی طور پر38.3 ارب ڈالر وطن بھیجے تھے جو اُس وقت تک ملکی تاریخ کی بلند ترین سالانہ ترسیلات تھیں۔ تاہم موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا رہی ہے کہ مالی سال 2025-26 ء کے اختتام تک یہ ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔ترسیلاتِ زر کے معاشی اور سماجی فوائدترسیلاتِ زر کے فوائد صرف زرمبادلہ کے ذخائر تک محدود نہیں، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم لاکھوں خاندانوں کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ان رقوم سے بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، رہائش، کاروبار اور دیگر ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں چھوٹے کاروباروں کے فروغ، گھروں کی تعمیر اور غربت میں کمی میں ترسیلاتِ زر کا بنیادی کردار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ہنرمند افرادی قوت کی بیرونِ ملک برآمد میں اضافہ کرے اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے مزید سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے تو ملک کو سالانہ کئی ارب ڈالر اضافی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ نے بھی قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کی حوصلہ افزائی کی ہے۔سمندر پار پاکستانی قومی ہیروخاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی صرف اپنے خاندانوں کے کفیل نہیں بلکہ ملکی معیشت کے بڑے معاون بھی ہیں۔ ان کی محنت، قربانی اور وطن سے محبت کی بدولت پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کو قومی سرمایہ سمجھتے ہوئے ان کے لیے بہتر سہولتیں، سرمایہ کاری کے مواقع اور مؤثر قونصلر خدمات فراہم کرے۔آج جب پاکستان معاشی استحکام کی جانب سفر کر رہا ہے تو اس میں سمندر پار پاکستانیوں کا کردار کسی بھی شعبے سے کم نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پاکستانی اپنے وطن سے دور رہ کر بھی پاکستان کی معیشت کے خاموش مگر مضبوط ہیرو ہیں۔

کائنات کے پراسرار ذرات کی نئی کہانی

کائنات کے پراسرار ذرات کی نئی کہانی

چین کے تجربے نے سائنس کو کیا بتایا؟کائنات بے شمار راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ انسان صدیوں سے ستاروں، کہکشاؤں اور مادے کی بنیادی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن بعض ایسے ذرات بھی ہیں جو آج تک سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے پراسرار ذرات نیوٹرینو (Neutrinos) ہیں جنہیں اکثر گھوسٹ پارٹیکلز بھی کہا جاتا ہے۔ حال ہی میں چین میں قائم ایک دیوقامت زیرِ زمین تجربہ گاہ نے ان ذرات کے بارے میں اپنے پہلے اہم تحقیقاتی نتائج جاری کیے ہیں جنہیں فزکس کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔وہ ذرات جو ہمارے جسم سے گزر جاتے ہیںنیوٹرینو کائنات کے سب سے زیادہ پائے جانے والے ذرات میں شمار ہوتے ہیں۔یہ ذرات تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ہونے والے عظیم دھماکے یعنی بگ بینگ کے فوراً بعد وجود میں آئے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہر لمحے کھربوں نیوٹرینو ہمارے جسموں سے گزر رہے ہوتے ہیں مگر ہمیں ان کا احساس تک نہیں ہوتا کیونکہ یہ مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ان ذرات کا وزن انتہائی کم ہے یہاں تک کہ کئی دہائیوں تک سائنسدان سمجھتے رہے کہ شاید ان کا کوئی وزن ہے ہی نہیں۔ تاہم بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کا وزن ضرور ہے مگر یہ اتنا کم ہے کہ اسے ناپنا انتہائی مشکل ہے۔نیوٹرینو تین اقسام یا فلیورز میں پائے جاتے ہیں: الیکٹران نیوٹرینو، میون نیوٹرینو اور ٹاؤ نیوٹرینو۔ ان کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ سفر کے دوران یہ ایک قسم سے دوسری قسم میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں، جسے نیوٹرینو آسلیشن کہا جاتا ہے۔چین کا زیرِ زمین تجربہ کیا تھا؟چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر کائی پنگ میں قائم جیانگ مین انڈر گراؤنڈ نیوٹرینو آبزرویٹری (JUNO) دنیا کے جدید ترین سائنسی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ تجربہ گاہ زمین کی سطح سے تقریباً 700 میٹر نیچے تعمیر کی گئی ہے تاکہ کائناتی شعاعوں اور دیگر بیرونی اثرات سے اسے محفوظ رکھا جا سکے۔اس عظیم تجربہ گاہ کے مرکز میں 20 ہزار ٹن مائع پر مشتمل ایک دیوقامت کروی ڈٹیکٹر نصب ہے۔ یہ ڈیٹیکٹر قریبی جوہری بجلی گھروں سے خارج ہونے والے اینٹی نیوٹرینو کو ریکارڈ کرتا ہے۔ جب یہ اینٹی نیوٹرینو ڈیٹیکٹر کے اندر موجود ذرات سے ٹکراتے ہیں تو روشنی کی معمولی سی چمک پیدا ہوتی ہے جسے حساس آلات ریکارڈ کر لیتے ہیں۔یہ روشنی کی معمولی چمک سائنسدانوں کے لیے انتہائی قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے کیونکہ اسی کے ذریعے وہ نیوٹرینو کی خصوصیات اور رویوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔پہلی تحقیق سے کیا انکشاف ہوا؟جونو آبزرویٹری نے گزشتہ سال اگست میں اپنے مشاہداتی کام کا آغاز کیا تھا اور صرف دو ماہ کے ڈیٹا کے بعد اس کے ابتدائی نتائج سامنے آگئے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن اس نے نیوٹرینو کے رویوں کی اب تک کی سب سے درست پیمائشوں میں سے بعض فراہم کی ہیں۔سائنسدان کئی دہائیوں سے ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ تینوں نیوٹرینو اقسام میں سے سب سے زیادہ وزنی کون سی ہے اور سب سے ہلکی کون سی؟ موجودہ معلومات کے مطابق دو نیوٹرینو تقریباً ایک جیسا وزن رکھتے ہیں جبکہ تیسرا ان سے مختلف ہے، مگر ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا دو بھاری ہیں اور ایک ہلکا ہے یا معاملہ اس کے برعکس ہے۔JUNO کے ابتدائی نتائج نے اس سوال کا جواب تو نہیں دیا لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ تجربہ گاہ مستقبل میں اس معمہ کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔کائنات کے رازوں تک رسائی کی امیدنیوٹرینو کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا محض ایک سائنسی تجسس نہیں بلکہ یہ کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے کی کنجی بھی ہو سکتا ہے۔اگر نیوٹرینو کی درست کمیت اور ان کے رویوں کو سمجھ لیا جائے تو اس سے یہ سوال حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کائنات میں مادہ،اینٹی میٹر (Antimatter) کے مقابلے میں زیادہ کیوں موجود ہے۔اسی طرح یہ تحقیق کائنات کی ابتدائی ساخت، ستاروں کے ارتقا اور بنیادی طبیعیاتی قوانین کے بارے میں ہمارے موجودہ نظریات میں بھی بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔JUNO کے نتائج کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ آئندہ برسوں میں جاپان کا ہائپر کامی اوکانڈے اور امریکہ کا ڈیپ انڈر گراؤنڈ نیوٹرینو ایکسپیریمنٹ بھی اپنے تجربات شروع کریں گے۔ مختلف ممالک میں ہونے والی یہ تحقیقات ایک دوسرے کے نتائج کی تصدیق کریں گی اور ممکن ہے کہ آنے والے دس برسوں میں نیوٹرینو کے کئی بڑے راز بے نقاب ہو جائیں۔سائنس کی تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات بظاہر معمولی ذرات پوری کائنات کے بارے میں ہمارے نظریات بدل دیتے ہیں۔ نیوٹرینو بھی شاید ایسا ہی ایک ذرہ ہے۔ چین کی یہ زیرِ زمین تجربہ گاہ اس بات کی امید دلا رہی ہے کہ انسان جلد ہی کائنات کے ان ذرات کی پراسرار دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو جائے گا اور ممکن ہے کہ انہی ذرات کی بدولت ہمیں کائنات کی تخلیق اور اس کے ارتقا کے کئی پوشیدہ رازوں تک رسائی حاصل ہو جائے۔

آج کا دن

آج کا دن

سپین کی برطانیہ کے خلاف جنگ 16 جون 1779ء کو سپین نے برطانیہ کے خلاف جنگ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی اور یوں اس جنگ کا آغاز ہوا جو1783ء تک جاری رہی۔ اس جنگ کا تعلق امریکی جنگِ آزادی کے وسیع تر عالمی تناظر سے بھی تھا، جہاں یورپی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف محاذوں پر سرگرم تھیں۔ سپین نے فرانس کے ساتھ اتحاد کیا تاکہ برطانیہ کی بحری اور نوآبادیاتی طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔سپین کی شمولیت نے جنگ کا دائرہ مزید وسیع کر دیا اور برطانیہ کو ایک سے زیادہ محاذوں پر لڑنے پر مجبور کر دیا۔ ہسپانوی بحریہ نے بحرِ اوقیانوس اور بحیرہ روم میں برطانوی مفادات کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ سپین جبرالٹر واپس حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا تاہم اس نے فلوریڈا جیسے اہم علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ پہلی خاتون کا خلا میں سفر16 جون 1963ء کو سوویت یونین نے خلائی مشن وستوک 6 کامیابی سے خلا میں روانہ کیا۔ اس مشن کی پائلٹ ویلنٹینا ٹیرشکووا تھیں جو خلا میں جانے والی دنیا کی پہلی خاتون بنیں۔انہوں نے تقریباً تین دن خلا میں گزارے اور زمین کے گرد 48 چکر لگائے۔ اس دوران انہوں نے سائنسی تجربات کیے اور انسانی جسم پر خلائی ماحول کے اثرات کے بارے میں اہم ڈیٹا جمع کیا۔ یہ مشن سوویت یونین کے لیے ایک بڑی سائنسی اور سیاسی کامیابی تھا۔یہ واقعہ خواتین کے لیے سائنس اور خلائی تحقیق کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بنا اور آج بھی عالمی خلائی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سوویٹو بغاوت 16 جون 1976ء کو جنوبی افریقہ کے علاقے سوویٹو میں ہزاروں سیاہ فام طلبہ نے نسل پرستانہ تعلیمی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ حکومت نے طلبہ کو افریقی زبان میں تعلیم دینے کا فیصلہ کیا تھا جسے انہوں نے اپنی ثقافتی شناخت پر حملہ قرار دیا۔پرامن احتجاج کے دوران پولیس نے فائرنگ کر دی جس سے متعدد طلبہ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس واقعے کی تصاویر پوری دنیا میں پھیل گئیں اور جنوبی افریقہ کی حکومت کو شدید عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔یہ احتجاج بعد میں نسل پرستی کے خلاف عالمی تحریک کی علامت بن گیا اور جنوبی افریقہ میں آزادی کی جدوجہد کو مزید تقویت ملی۔ بلومز ڈے 16 جون کو دنیا بھر میں Bloomsday منایا جاتا ہے۔ یہ دن آئرش ادیب جیمز جوائس کے مشہور ناول Ulysses کے مرکزی کردار لیوپولڈ بلوم کے ایک دن (16 جون 1904) کی یاد میں منایا جاتا ہے۔یہ ادبی دن پہلی بار 1954ء میں منایا گیا اور بعد میں دنیا کے مختلف ممالک تک پھیل گیا۔ اس دن ادبی تقریبات، ریڈنگ سیشنز اور جیمز جوائس کے ناول کے اقتباسات پڑھے جاتے ہیں۔یہ واقعہ ادب کی دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد تہوار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ کسی افسانوی دن کو عالمی سطح پر یادگار بنانے کی مثال ہے۔ شین ذو 9 مشن 16 جون 2012 ء کو چین نے خلائی مشنShenzhou 9 لانچ کیا۔ اس مشن میں لیو یانگ شامل تھیں جو خلا میں جانے والی چین کی پہلی خاتون بنیں۔اس مشن کے دوران خلائی سٹیشن کے ماڈیول کے ساتھ ڈاکنگ اور مختلف سائنسی تجربات کیے گئے۔ یہ چین کے خلائی پروگرام کی بڑی کامیابی تھی اور اس نے ملک کی تکنیکی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔۔لیو یانگ کی کامیابی نے چین میں خواتین کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئے امکانات پیدا کیے۔

خلا کے عظیم گھر کا آخری سفر!

خلا کے عظیم گھر کا آخری سفر!

2030ء تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو محفوظ طریقے سے تباہ کرنے کا منصوبہدو دہائیوں سے زائد عرصے تک انسان کی خلائی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کی علامت رہنے والا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اب اپنی عمر کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ دنوں میں خلائی اسٹیشن میں ہونے والی ایک نئی لیک کے بعد اس کی سلامتی اور مستقبل کے حوالے سے خدشات نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔ انہی خدشات کے درمیان امریکی خلائی ادارے ناسا نے 2030ء تک آئی ایس ایس کو باقاعدہ طور پر مدار سے نکال کر زمین کے ماحول میں تباہ کرنے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے، جس پر تقریباً ایک ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور غیر معمولی آپریشن ہو گا، جس کا مقصد خلائی اسٹیشن کے ملبے کو محفوظ انداز میں زمین کے ایک دور افتادہ سمندری علاقے میں گرانا ہے تاکہ انسانی آبادی اور ماحول کو کسی قسم کے خطرے سے بچایا جا سکے۔بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہلے خلابازوں کی آمد کو 25 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اور اب زمین کے گرد مدار میں گردش کرنے والی اس خلائی چوکی کیلئے وقت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ناسا کے خلابازوں کو ہنگامی انخلا کی تیاری کا حکم دیا گیا، جبکہ روسی خلانورد نے لیک کو درست کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ بالآخر کسی ہنگامی فرار کی ضرورت پیش نہیں آئی، تاہم اس خطرناک صورتحال نے یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ خلائی سٹیشن اب اپنی عمر کے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔خلائی ماہرین نے اس ایک ارب ڈالر مالیت کے منصوبے کی تفصیلات بیان کی ہیں جس کے تحت خلائی اسٹیشن کو زمین پر واپس لا کر تباہ کیا جائے گا۔ فضائی و خلائی شعبے کی کانفرنس ''ایسنڈ 2026ء‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ناسا کے آپریشنز ڈائریکٹر ریان لینڈن نے کہا کہ آئی ایس ایس کو 2028ء کے دوران بتدریج زمین کی جانب دھکیلا جائے گا۔4لاکھ 50ہزار کلوگرام وزن رکھنے والے اس خلائی اسٹیشن کو اگر وقتاً فوقتاً اوپر کی جانب دھکیلا نہ جائے تو یہ آہستہ آہستہ اپنے مدار سے نیچے آنے لگتا ہے۔ خلائی اسٹیشن کو قدرتی طور پر مدار سے خارج ہونے دینا ایک بے قابو واپسی کا سبب بن سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کا ملبہ زمین کے مختلف حصوں میں بکھرنے سے جانی و مالی نقصان کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔اسی لیے ناسا منصوبہ بندی کے تحت خلائی اسٹیشن کو مدار سے باہر دھکیلے گا، تاکہ اس کا ملبہ بحرالکاہل کے دور افتادہ اور غیر آباد سمندری علاقے میں گرایا جا سکے۔بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اور اس میں موجود سات خلاباز زمین سے تقریباً 250 میل (400 کلومیٹر) کی بلندی پر مدار میں گردش کر رہے ہیں۔اس نسبتاً کم بلندی والے مدار کو برقرار رکھنے کیلئے خلائی اسٹیشن کو انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کرنا پڑتی ہے۔ یہ تقریباً 28ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے اور روزانہ 16 مرتبہ زمین کا چکر لگاتا ہے۔ اس دوران اسے مدار میں رکھنے کیلئے کئی بار اوپر کی جانب دھکیلا جاتا ہے تاکہ وہ نیچے نہ گرنے لگے۔ تاہم ناسا کا منصوبہ ہے کہ 2028ء سے اس عمل کو قدرتی انداز میں جاری رہنے دیا جائے۔ اگر اس عمل کو بغیر مداخلت کے جاری رہنے دیا جائے تو بالآخر خلائی اسٹیشن زمین کی فضا میں داخل ہو جائے گا، جہاں رگڑ کے باعث پیدا ہونے والی شدید حرارت اس کے بیشتر حصوں کو جلا کر ختم کر دے گی۔لیکن آئی ایس ایس جیسے بڑے حجم کے حامل خلائی ڈھانچے کیلئے اس قسم کی بے قابو واپسی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔برطانیہ میں قائم خلائی مشاورتی ادارے بیلسٹیڈ ریسرچ (Belstead Research) کے ڈائریکٹر اور خلائی ملبے کے ماہر ڈاکٹر جیمز بیک کے مطابق یہ یقینی ہے کہ اس کے کچھ حصے زمین کی سطح تک پہنچ جائیں گے، اور غالب امکان ہے کہ ایسے حصوں کی تعداد خاصی زیادہ ہو گی۔اب بھی سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ خلائی اسٹیشن کے کتنے حصے زمین تک پہنچیں گے اور آیا ان پر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے گا یا نہیں۔ ڈاکٹر جیمز بیک کے مطابق خلائی جہازوں کی زمین پر واپسی کیلئے بین الاقوامی سطح پر حادثاتی جانی نقصان کے خطرے کی ایک حد مقرر ہے، جو دس ہزار میں ایک سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ عام طور پر یہ حد اس وقت اہم ہو جاتی ہے جب کسی خلائی جہاز یا مصنوعی سیارے کا وزن تقریباً 500 سے ایک ہزارکلوگرام کے درمیان ہو، جبکہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا وزن تقریباً 450 ٹن ہے۔ڈاکٹر بیک کا کہنا ہے کہ یہ توقع کی جانی چاہیے کہ اس عمل کے نتیجے میں چند سو ایسے ٹکڑے پیدا ہوں گے جو زمین پر گرنے کی صورت میں جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ چونکہ خلائی ادارے اس بات کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکتے کہ کتنا ملبہ زمین تک پہنچے گا، اس لیے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ملبہ کس مقام پر گرے، اس پر مکمل اور درست کنٹرول رکھا جائے تاکہ کسی انسان کو نقصان نہ پہنچے۔اسی مقصد کیلئے خلائی اسٹیشن کو اس کے مدار میں ایک مخصوص مقام پر پیچھے کی جانب دھکا دیا جائے گا، جس سے اس کی رفتار کم ہو جائے گی اور وہ بتدریج زمین کی طرف اترتے ہوئے بحرالکاہل کے ایک غیر آباد اور دور افتادہ علاقے میں جا گرے گا۔آئی ایس ایس کو زمین پر واپس کیسے لایا جائے گا؟٭...2028ء سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کو بتدریج اپنے مدار سے نیچے آنے دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں اس کی بلندی زمین سے 250 میل سے کم ہو کر تقریباً 200 میل رہ جائے گی۔٭...2029ء میں خلائی اسٹیشن پر موجود آخری انسانی عملہ اسے چھوڑ دے گا اور اپنے ساتھ وہ تمام اشیا لے جائے گا جو تاریخی اہمیت کی حامل ہوں اور جنہیں لے جانا ممکن ہو۔٭...اس کے بعد جب آئی ایس ایس کی بلندی 200 میل سے کم ہو کر 175 میل تک پہنچ جائے گی تو اسپیس ایکس کے ترمیم شدہ ڈریگن (Dragon) خلائی کیپسول کو اسٹیشن کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔٭...جب خلائی اسٹیشن 175 میل کی اس بلندی پر پہنچ جائے گا، جسے واپسی کے ''ناقابلِ واپسی مرحلے‘‘(Point Of No Return) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تو ڈریگن کیپسول آئی ایس ایس کو ایک بیضوی (Elliptical) مدار میں لے جانے کا عمل شروع کرے گا۔٭...مناسب وقت آنے پر یہ خلائی گاڑی خلائی اسٹیشن کو آخری طاقتور دھکا دے گی، جس کے نتیجے میں یہ نصف مدار سے بھی کم وقت میں زمین کی فضا کی جانب بڑھنے لگے گا۔٭...آخرکار آئی ایس ایس اور اسے نیچے لانے والی خلائی گاڑی تقریباً 17ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی فضا میں داخل ہوں گے، جہاں شدید حرارت اور رگڑ کے باعث دونوں بڑی حد تک تباہ ہو جائیں گے۔

مقبرہ جہانگیر۔۔ مغلیہ سلطنت کا خاموش امین

مقبرہ جہانگیر۔۔ مغلیہ سلطنت کا خاموش امین

لاہور کے نواح میں واقع مقبرہ جہانگیر مغلیہ دور کی عظمت، شان و شوکت اور فن تعمیر کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔ صدیوں پر محیط تاریخ کا یہ خاموش امین آج بھی اپنے بلند و بالا میناروں، نفیس سنگِ مرمر کی نقش و نگاری اور دلکش باغات کے ذریعے ماضی کی داستانیں سناتا دکھائی دیتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی آخری آرام گاہ کے طور پر تعمیر کیا گیا یہ مقبرہ نہ صرف ایک تاریخی یادگار ہے بلکہ برصغیر کی تہذیبی اور ثقافتی وراثت کا قیمتی سرمایہ بھی شمار ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود اس کی دلکشی اور تاریخی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی، یہی وجہ ہے کہ یہ مقام ملکی و غیر ملکی سیاحوں، محققین اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا۔ 1605ء میں تخت نشین ہوا اورتقریباً ساڑھے اکیس سال حکومت کر کے8 نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا۔ اُسے دریائے راوی کے کنارے واقع ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا کے وسط میں دفن کیا گیا۔ اس باغ کو باغ دلاآمیز بھی کہا جاتاہے۔ جہانگیر کا مقبرہ اُس کے بیٹے شاہجہاں نے بنوایا تھا۔مقبرہ جہانگیر کو مغلیہ عہد میں تعمیر کئے گئے مقابر میں اہم مقام حاصل ہے۔ دریائے راوی کے دوسرے کنارے یعنی شاہدرہ کی طرف سے لاہور آئیں تو مغلیہ دور کی تعمیرات میں سے مقبرہ جہانگیر، مقبرہ آصف جاہ اور ملکہ نور جہاں کا مقبرہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کا شمار مغلوں کی تعمیر کردہ حسین یادگاروں میں ہوتا ہے۔مقبرہ جہانگیر باغ ''دلکشا‘‘ میں واقع ہے۔ باغ دلکشا نواب مہدی قاسم کی ملکیت تھا جو اکبر بادشاہ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا۔ اس نے یہ باغ 1556ء میں دریائے راوی کے پار بنوایا تھا۔ نواب مہدی خاں کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اب لوگ باغ دلکشا کا نام بھول چکے ہیں اور اس ساری جگہ کو مقبرہ جہانگیر ہی کہا جاتا ہے۔ مقبرہ جہانگیر کی تعمیر کا آغاز ملکہ نور جہاں نے کیا تھا اور شاہ جہاں نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ شہنشاہ اکبر کی وفات 1605ء میں ہوئی تو اس کا بیٹا جہانگیر ''نور الدین جہانگیر‘‘ کے لقب کے ساتھ تخت نشیں ہوا۔ اس نے کئی اصلاحات کیں۔ فریادیوں کی داد رسی کیلئے اپنے محل کی دیوار کے ساتھ ایک زنجیر لگوا دی جسے '' زنجیرِ عدل‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس کے ذریعے ہر کوئی اپنی شکایت باآسانی بادشاہ تک پہنچا سکتا تھا۔ شہنشاہ جہانگیر نے حکم دیا کہ شاہراہوں پر سرائے، کنویں اور مساجد تعمیر کی جائیں۔شہنشاہ جہانگیر کو بھی اپنے باپ اکبر کی طرح لاہور سے بہت زیادہ لگائو تھا۔ 1624ء میں جب کشمیر کے سفر کے دوران اس کی وفات ہوئی تو اس نے وفات سے قبل لاہور میں دفن کیے جانے کی خواہش ظاہر کی تھی چنانچہ اسے چہیتی بیگم ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا میں دفن کیا گیا۔ شاہ جہاں نے مقبرے کی تعمیر پر دس لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔ قرآن پاک پڑھنے کیلئے حفاظ مقرر کئے گئے جو باری باری ہر وقت مزار پر قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔ مقبرہ جہانگیر کی حدود میں ملکہ نور جہاں نے ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی تھی۔ یہاں نور جہاں نے کافی عرصہ رہائش بھی اختیار کی اس لیے یہاں رہائشی عمارات بھی تعمیر کی گئی تھیں۔ ملکہ نور جہاں اور شہنشاہ جہانگیر کے مقبرے ایک ہی رقبے میں تھے لیکن جب انگریزوں نے ان کے درمیان ریلوے لائن بچھائی تو مقبرہ جہانگیر اور مقبرہ نور جہاں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔مقبرہ جہانگیر کے چاروں کونوں پر خوبصورت مینار موجود ہیں۔ ہر مینار سو فٹ بلند ہے اور اس کی اکسٹھ سیڑھیاں ہیں۔ مقبرہ کی عمارت ایک مربع نما چبوترے پر ہے۔ قبر کا تعویز سنگ مرمر کا ہے اور اس پر عقیق، نیلم، مرجان اور دیگر قیمتی پتھروں سے گلکاری کی گئی ہے۔ دائیں اور بائیں اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام کندہ ہیں۔ سرہانے کی طرف بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہے۔ مزار کے چاروں جانب سنگ مرمر کی جالیاں لگی ہوئی ہیں۔ مقبرے کا اندرونی فرش سنگ مرمر، سنگ موسیٰ اور سنگ ابری جیسے مختلف قیمتی پتھروں سے مزین ہے۔ مقبرہ جہانگیر کا غربی دروازہ جس میں سے ہاتھی بمعہ سوار کے گزر سکتا تھا اور چار دیواری کے باہر جو کنویں تھے دریا برد ہو چکے ہیں صرف ایک کنواں موجود ہے۔ باغ کے اندر آج بھی کھجور کے قدیم درخت موجود ہیں۔ باغ کی دیواروں کے ساتھ کمروں کی ایک لمبی قطار موجود ہے جہاں شاہی محافظ، سپاہی اور خدام رہا کرتے تھے۔نادر شاہ اور احمد شاہ کے حملوں اور سکھوں کے دور میں مقبرہ جہانگیر کو بہت نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود یہ عمارت آج بھی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنی عہدِ رفتہ کی یاد دلاتی ہے۔

بیمار غوطہ خور نے تاریخ رقم کر دی

بیمار غوطہ خور نے تاریخ رقم کر دی

ایک سانس میں پانی کے اندر طویل ترین چہل قدمیاپنی جسمانی کمزوری اور بیماری کے باوجود ایک غوطہ خور نے انسانی حوصلے اور عزم کی نئی مثال قائم کر دی ہے۔ اس نے ایک ہی سانس میں پانی کے اندر طویل ترین پیدل چہل قدمی کا اپنا ہی سابقہ عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ یہ کارنامہ نہ صرف اس کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ مسلسل محنت اور مضبوط ارادے کے ذریعے ناممکن دکھائی دینے والے ہدف بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اس حیران کن کامیابی نے عالمی سطح پر کھیلوں کے شائقین اور ماہرین کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔پولینڈ سے تعلق رکھنے والے غوطہ خور سٹانسلاء اوبڈیزیلک (Stanislaw Odbiezalek) نے ایک ہی سانس میں پانی کے اندر طویل ترین چہل قدمی کا اپنا سابقہ ریکارڈ 110.70 میٹر (363.18 فٹ) سے بڑھا کر 120.10 میٹر (394 فٹ) کر دیا۔یہ کارنامہ اس وقت اور بھی زیادہ متاثر کن ہو جاتا ہے جب معلوم ہو کہ سٹانسلاء اس وقت برونکائٹس (bronchitis) جیسے مرض میں مبتلا ہیں۔انہوں نے مارچ میں اپنی تازہ کوشش کی تیاری کے دوران کہا تھا کہ میں خود کو 100 فیصد ٹھیک محسوس نہیں کر رہا لیکن اتنی زیادہ تیاری کے بعد میں اس موقع کو ضائع نہیں کر سکتا۔ میرا خیال ہے کہ جسم اس برونکیل انفیکشن پر قابو پانے کیلئے کافی مضبوط ہے، اور ہم بس جا کر یہ کر دیں گے۔ مجھے یہ کرنا ہے۔ سٹانسلاء نے بتایا کہ وہ تقریباً ڈیڑھ سال سے اس مقابلے کی تیاری کر رہے تھے اور اس دوران وہ سخت محنت کرتے رہے تاکہ اپنے پھیپھڑوں کی صلاحیت کو مزید بڑھا سکیں اور ایک سانس میں زیادہ طویل فاصلہ طے کر سکیں۔اس ریکارڈ کو حاصل کرنے کیلئے سٹانسلاء کو ایک سوئمنگ پول کی تہہ تک ڈوبنا پڑتا ہے اور ایک ہی سانس روک کر زیادہ سے زیادہ لمبائی تک چلنا ہوتا ہے۔ جس لمحے وہ سانس لینے کیلئے پانی کی سطح پر واپس آتا ہے اور سانس لیتا ہے، اسی وقت اس کی کوشش ختم ہو جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹریننگ ضرورت سے زیادہ سخت تھی اور یہ ایک اچھی بات ثابت ہوئی، کیونکہ معلوم ہوا کہ گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے سے ایک ہفتہ پہلے مجھے برونکائٹس ہو گیا تھا۔ اس لیے مجھے یہ کوشش اب اسی وقفے میں کرنی ہے جب مجھے کھانسی نہیں آ رہی۔ یہ مشکل ہوگا، لیکن میں کوشش کروں گا۔ میں خوش ہوں کیونکہ آج جو کچھ ہوا وہ واقعی ناقابلِ یقین ہے۔ غوطہ لگانے سے بہت پہلے میں توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا اور اس بات کیلئے جدوجہد کر رہا تھا کہ کھانسی کچھ دیر کیلئے رک جائے اور گلے میں ہونے والی خراش کا احساس ختم ہو۔ جب ایسا مختصر وقفہ آیا اور سب کچھ تھوڑا بہتر ہوا تو میں نے کہا ''یہی لمحہ ہے‘‘۔ میں نے جا کر یہ کر دکھایا، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ میرے پاس تھوڑا سا اضافی مارجن موجود تھا۔ میں اس سے بھی آگے جا سکتا تھا، لیکن کون جانتا ہے، شاید ہم اگلے سال اس میں مزید بہتری لے آئیں۔اس نے وہی تکنیک استعمال کی جو اس نے پہلی بار ریکارڈ بنانے کیلئے اپنائی تھی، یعنی کولہوں سے جھک کر اپنے دھڑ کو افقی (horizontal) حالت میں رکھنا جب وہ چل رہا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے پر رکھ کر آگے کی طرف پھیلائے رکھے تاکہ پانی کی مزاحمت کم ہو سکے۔ اور وہ اپنے گھٹنوں کو موڑ کر پوری طاقت سے دھکا لگاتا تھا تاکہ آگے بڑھ سکے، اور ہر بار جب وہ پول کی دیوار تک پہنچتا تو اپنے ہاتھوں کی مدد سے خود کو موڑ لیتا تھا۔ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی ایک اسکوبا غوطہ خور ہر وقت اس کے ساتھ پانی کے اندر موجود تھا تاکہ اس کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کی کوشش کی ویڈیو بھی ریکارڈ کر سکے۔

اتوار

اتوار

وہ مبارک ومسعود دن جس کی قدر شاہ داند یا بداندجوہری ''یعنی یا تو عیسائی سمجھ سکتے ہیں یا ہمارے ایسے ملازمت پیشہ ان لوگوں کا یہاں ذکر ہی نہیں جو گھر بیٹھے شنبہ دوشنبہ‘‘ سب کو ایک ہی لاٹھی ہانکا کرتے ہیں اور ان کو خبربھی نہیں ہوتی کہ ہفتہ کے بعد کون سا دن آنے والا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ لوگ اتوار کی کیا قدر کرسکتے ہیں۔ ان کے نزدیک جیسے بدھ اور منگل ویسے ہی اتوار۔ اس اتوار کی قدر تو کوئی ہمارے دل سے پوچھے کہ یہی وہ دن ہے: ''دن گنے جاتے تھے جس دن کیلئے‘‘یقین کیجئے کہ اس دن کا انتظار پیر کے دن سے شروع ہوجاتا ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ ہمارے ایسے بیچارے ملازمت پیشہ خدا کے بندے اپنی ذاتی زندگی کا دن تمام ہفتہ صرف اتوار ہی کو سمجھتے ہیں، اس کے علاوہ باقی تمام دن کی بندگی اوربیچارگی میں اس طرح گزارتے ہیں کہ ہم کو اپنے انسان ہونے کا ایک دفعہ بھی احساس نہیں ہوتا، معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مشین ہے، اگر لکھنے والا بٹن دبا دیا گیا تو لکھ رہے ہیں، اگر بیٹھنے والا پرزہ چلا گیا تو بیٹھے ہوئے ہیں، مختصر یہ کہ صبح ہوتے ہیں دفتر آنا، دفتر میں ایک مقررہ خدمت انجام دینا شام کو دفتر سے جانا سب کچھ اس طرح ہوتا ہے کہاپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلےکی ایک متحرک تصویر معلوم ہوتے ہیں۔ ہم نے کبھی یہ غور نہیں کیا کہ علاوہ اتوار کے ہم انسان بھی رہتے ہیں یا نہیں اور نہ اس مسئلہ پر غور کرنے کا موقع ملا لیکن جب کبھی اتوار کے دن ہم نے اپنی زندگی پر غور کیا تو یہی نتیجہ نکلا کہ ہماری زندگی کے دن شمار کرنے والے جو چاہیں شمار کریں لیکن ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ بس اتوار کا دن تو ہماری زندگی کے دنوں میں شمار کئے جانے کے قابل ہے اس کے علاوہ باقی دن تو خدا جانے ہم زندگی بسرکرتے ہیں یا زندگی ہم کو بسر کرتی ہے اب اس سے اندازہ فرمائیے اگر بجائے بہادر شاہ ظفر کے آپ کے جناب غالب صاحب قبلہ ہم کو یہ دعا دیتے ہیں کہتم سلامت رہو ہزار برسہر برس کے ہوں دن پچاس ہزارتو یا تو ہم ان سے کہتے کہ قبلہ عالم یہ دعا آپ ہی کو مبارک رہے۔ ہم کو تو ایسی دعا دیجئے کہ ہماری جتنی زندگی بھی ہے اس میں چاہے کچھ تخفیف کردی جائے لیکن ہر دن اتوار بن جائے یا کم از کم ہفتہ میں دوتین مرتبہ تو اتوار آیا کرے۔ذرا غور تو فرمائیے کہ ایک اتوار کا دن ہفتہ بھر کے بعد آتا ہے جس میں معمولی دنوں کی طرح بارہ گھنٹے ہوتے ہیں۔ ان ہی بارہ گھنٹوں میں اپنی خوشی کھانا کھائے، اپنی خوشی نہائے، اپنی خوشی بال بنوائے، اپنی خوشی سیر کو جائیے اوراگر کہیں اپنی خوشی سے سو رہے تو تمام کام آئندہ اتوار تک ملتوی یا اگر بیگم صاحبہ نے موقع غنیمت جان کر اور وقت کی قدر کرتے ہوئے اپنی خوشیاں پوری کرانا شروع کر دیں تو بس دن بھر گھر سے بزاز کی دکان، گھر سے اناج کی منڈی، گھر سے جوتے والے کی دکان، گھر سے گوٹا کناری، لیس، بانکڑی والے کی دکان کے سو سو چکر کاٹنے اور چورن چٹنی دال کا مسالہ فراہم کرتے کرتے شام کو اس طرح تھک کر پڑے رہیے گویا دن بھر ہل جوتا ہے۔ قصہ یہ کہ ہمارا تمام پروگرام ہفتہ بھر اتوار کے دن کیلئے ملتوی رہتا ہے اور اسی طرح بیگم صاحبہ بھی اتوار کی تاک میں لگی رہتی ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اتوار کے دن ہمارا ذاتی پروگرام ایسا ہوجاتا ہے کہ ہفتہ بھرکا کھایا یا پیا نکلوا کر چھوڑتا ہے۔ ہم تو تمام ہفتہ یہ کرتے ہیں کہ بالوں پر ہاتھ پھیرا اور زیر لب کہہ دیا اب کی اتوار کو بنوائیں گے، جوتے پرنظر پڑی اور طے کر لیا اب کی اتوار کو پالش ہوگی، کپڑوں کو دیکھا اور ارادہ کرلیا کہ ''اب کی اتوار کو نہا کر بدلیں گے‘‘۔ کسی نے نہ ملنے کی شکایت کی تو وعدہ کر لیا کہ اب کی اتوار کو حاضر ہوں گا، کوئی مر گیا تو تعزیت کیلئے بھی اتوار کا دن مقرر کیا گیا، کسی نے ہم سے ملنے کو کہا تو اتوار کا دن دیا، کہیں سفر کو جانا ہے تو اتوار کے دن کی سفر کی ٹھہری، شکار کو دل چاہا تو اتوار پر اٹھا رکھا۔غرضیکہ تمام ہفتہ جو جو باتیں ہم کو اپنی زندگی کے متعلق یاد آئیں ہم نے سب کو اتوار کے سپرد کردیا لیکن ہم کو یہ خبر نہیں ہوتی کہ اسی طرح بیگم صاحبہ نمک ختم ہونے پر، کپڑے پھٹنے پر، زیور ٹوٹنے پر، غرضیکہ ہر بات پر اتوار کو یاد کیا کرتی ہیں اور اتوارکے دن ان کووہ باتیں سوجھتی ہیں کہ ہمارے فرشتوں کو بھی نہیں سوجھ سکتیں۔ وہ تو کہئے اس دن ہمارے دفتر کی طرح ہسپتال کچہریاں، ڈاک خانہ، مدرسے وغیرہ سب بند ہوتے ہیں ورنہ بچوں کو ہسپتال لے جانا، سکول میں نام لکھوانا وغیرہ بھی اسی دن پر اٹھا رکھا جاتا اور اب شکر ہے کہ ہم کو اس سے ایک طرح کی یکسوئی حاصل ہے اس میں شک نہیں کہ اتوار کے دن کی مشغولتیں معمولی دنوں سے دگنی اور چوگنی ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اتوار کے عاشق صرف اس لئے ہیں کہ وہ تمام مشغولتیں ہم کو اپنی او ر اپنی ذاتی زندگی سے متعلق معلوم ہوتی ہیں اور باقی دنوں میں تو نہیں معلوم ہم کس طرح اور کس کیلئے جیتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

یورپ کا خلائی کارنامہ15جون 1988ء کو یورپی خلائی پروگرام کیلئے ایک اہم سنگِ میل اس وقت عبور کیا گیا جب اریانے 4 راکٹ نے اپنی پہلی کامیاب پرواز بھری۔ یہ راکٹ مصنوعی سیاروں کو مدار میں پہنچانے کیلئے تیار کیا گیا تھا اور اس کی لانچنگ نے یورپ کی خلائی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا۔ پہلی پرواز کی کامیابی نے اریانے 4 کو دنیا کے قابلِ اعتماد ترین تجارتی خلائی راکٹوں میں شامل ہونے کی راہ ہموار کی۔ بعد ازاں اس راکٹ نے متعدد مواصلاتی، سائنسی اور موسمیاتی سیارچوں کو خلا میں پہنچایا۔فلپائن:قدرتی آفت کی ہولناکی1991ء میں آج کے روز فلپائن میں واقع ماؤنٹ پیناٹوبو آتش فشاں اچانک دھماکے کے ساتھ پھٹ پڑا۔ یہ بیسویں صدی کے دوسرے بڑ ے آتش فشانی دھماکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس تباہ کن قدرتی آفت سے 800 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ، دھواں اور گرم مادے نے قریبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔ جاپان میں زلزلہ15جون 1896ء میں جاپان کی تاریخ کے مہلک ترین سونامیوں میں سے ایک نے ملک کے شمال مشرقی ساحلی علاقوں کو شدید تباہی سے دوچار کر دیا۔ زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی دیوقامت سمندری لہریں تیزی سے ساحلوں سے ٹکرائیں اور اپنے راستے میں آنے والی بستیوں، گھروں اور کشتیوں کو بہا لے گئیں۔ اس ہولناک قدرتی آفت کے نتیجے میں 22 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ہزاروں زخمی اور بے گھر ہوئے۔یہ واقعہ آج بھی تاریخ کے المناک ترین سونامیوں میں شمار ہوتا ہے۔پیٹرز برگ کی جنگ1864ء میں آج کے روز امریکی خانہ جنگی کے دوران پیٹرزبرگ کی دوسری جنگ کا آغاز ہوا، جو جنگ کے اہم ترین معرکوں میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ لڑائی ریاست ورجینیا کے شہر پیٹرزبرگ کے قریب لڑی گئی، جہاں وفاقی (یونین) افواج نے کنفیڈریٹ فوج کے مضبوط دفاعی مورچوں پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی۔ اس جنگ کا مقصد پیٹرزبرگ کی اہم رسد گاہوں اور ریلوے رابطوں پر قبضہ حاصل کرنا تھا۔ اوریگون معاہدہ15جون1846ء کو برطانیہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جسے اوریگون معاہدہ کہا جاتا ہے۔ اوریگون کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان غیر یقینی کی صورتحال پائی جاتی تھی ۔اس معاہدے میں دونوں ممالک نے مشترکہ حل تلاش کیا اور تنازع ختم کر لیا۔اس علاقے پر1818ء کے معاہدے کے بعد سے برطانیہ اور امریکہ دونوں نے مشترکہ قبضہ کر رکھا تھا۔عثمانی تاریخ کا سنگ میل1826ء میں سلطنتِ عثمانیہ میں ایک اہم تاریخی واقعہ پیش آیا۔ جسے ''Auspicoius Incident‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس دوران عثمانی فوج کے طاقتور دستے نے سلطان محمد دوم کی اصلاحات کے خلاف بغاوت کر دی۔ سلطان نے اس بغاوت کو کچلنے کیلئے وفادار افواج اور توپ خانے کا استعمال کیا۔ بغاوت کی ناکامی کے بعد جنیسری فوج کو مکمل طور پر تحلیل کر دیا گیا، جس سے ان کی صدیوں پر محیط سیاسی و عسکری طاقت کا خاتمہ ہوگیا۔

 عمر بڑھانے کا راز ویٹ لفٹنگ میں پوشیدہ

عمر بڑھانے کا راز ویٹ لفٹنگ میں پوشیدہ

ہفتہ میں ایک بار وزن اٹھانے سے قبل از وقت موت کے خطرہ کم ہوجاتاہے: ماہرینصحت مند اور طویل عمر کی خواہش رکھنے والے افراد کیلئے نئی سائنسی تحقیق نے ایک اہم اور حوصلہ افزا نکتہ سامنے رکھا ہے۔ حالیہ مطالعات کے مطابق ہفتے میں کم از کم ایک بار وزن اٹھانے (ویٹ لفٹنگ)کی ورزش کرنے کا تعلق لمبی عمر کے امکانات میں نمایاں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عادت نہ صرف جسمانی طاقت کو برقرار رکھتی ہے بلکہ دل، ہڈیوں اور مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ یہ تحقیق اس خیال کو مزید تقویت دیتی ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی صحت مند زندگی کی کلید ہے۔ایک نئی تحقیق کے مطابق ہر ہفتے 90 سے 120 منٹ تک وزن اٹھانے یا طاقت بڑھانے والی ورزش کرنے سے قبل از وقت موت کے خطرے میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے امریکہ میں ایک لاکھ 47ہزار 373 افراد کا 30 سال تک جائزہ لیا اور معلوم کیا کہ جو لوگ ہفتے میں تقریباً دو گھنٹے ویٹ لفٹنگ کرتے تھے، ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 13 فیصد کم تھا۔یہ شرح 19 فیصد تک بڑھ گئی جب دل کی بیماری یا فالج سے موت کے خطرے کو مدنظر رکھا گیا۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ وزن اٹھانے کی ورزش یا مزاحمتی پٹیاں(resistance bands)استعمال کرنے والے افراد میں اعصابی بیماریوں سے موت کا خطرہ 27 فیصد کم تھا۔تاہم محققین نے یہ بات بھی دریافت کی کہ ہفتے میں دو گھنٹے سے زیادہ ویٹ لفٹنگ کرنے سے اضافی صحت بخش فوائد حاصل نہیں ہوتے۔یہ نتائج ''برٹش جرنل آف سپورٹس میڈیسن‘‘ میں شائع ہوئے، جن میں سفارش کی گئی کہ لمبی اور صحت مند زندگی کیلئے ایروبک ورزش اور طاقت بڑھانے والی مشقوں کا امتزاج اختیار کرنا چاہیے۔ٹام برٹن جو سپورٹ انگلینڈ میں صحت اور فلاح و بہبود کی پالیسی کے اسٹریٹجک سربراہ ہیں، نے بھی اس خیال کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ طاقت پر مبنی جسمانی سرگرمیاں صحت مند بڑھاپے کیلئے ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ یہ نہ صرف خراب صحت کو روکنے یا اس میں تاخیر کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ ہمیں متحرک اور خودمختار رکھنے کے ساتھ ساتھ صحت اور نگہداشت کی خدمات پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو بھی کم کرتی ہیں۔اسپورٹ انگلینڈ کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فعال طرزِ زندگی ہر سال دائمی بیماریوں کے تقریباً 33 لاکھ کیسز کی روک تھام کرتا ہے، جبکہ صحت کی دیکھ بھال کی خدمات پر آنے والے اخراجات میں سالانہ 8 ارب پاؤنڈ کی بچت بھی ممکن بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن یہ ہے کہ جسمانی سرگرمی کو ہر فرد کیلئے قابلِ رسائی بنایا جائے، کیونکہ یہی صحت مند، خوشحال اور زیادہ مسرور معاشروں کی بنیاد ہے۔ماہرین کی موجودہ ہدایات کے مطابق بالغ افراد کو چاہیے کہ وہ ہفتے میں کم از کم دو دن ایسی طاقت والی ورزشیں کریں جو جسم کے تمام بڑے عضلاتی حصوں، یعنی ٹانگوں، کولہوں، کمر، پیٹ، سینے، کندھوں اور بازوؤں کو متحرک اور مضبوط بنائیں۔بالغ افراد کو یہ بھی چاہیے کہ وہ ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل شدت کی جسمانی سرگرمی یا 75 منٹ زیادہ شدت کی جسمانی سرگرمی انجام دیں۔معتدل شدت کی سرگرمیوں میں تیز رفتاری سے چہل قدمی (فی گھنٹہ 4 میل یا اس سے زیادہ)، 10 سے 12 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سائیکل چلانا، یا بیڈمنٹن کھیلنا شامل ہیں۔زیادہ شدت کی سرگرمیوں میں پہاڑی علاقوں میں پیدل سفر (ہائیکنگ)، 6 میل فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار سے دوڑنا یا جاگنگ کرنا، تیز رفتار سائیکل چلانا، باسکٹ بال اور ٹینس کھیلنا شامل ہیں۔نئی تحقیق میں شرکاء سے ہر دو سال بعد یہ سوال کیا گیا کہ وہ طاقت بڑھانے والی ورزشوں اور ایروبک ورزشوں کیلئے کتنا وقت صرف کرتے ہیں۔اس تحقیق میں ایروبک ورزشوں میں تیز چہل قدمی، دوڑنا، جاگنگ، تیراکی، سائیکلنگ، ٹینس اور اسکواش شامل تھے، جبکہ طاقت بڑھانے والی ورزشوں میں وزن اٹھانے یا جسمانی وزن کے ذریعے کی جانے والی مشقیں، مثلاً ڈمبل ورزش، اسکواٹس اور لنجز شامل تھیں۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ بیماریوں اور قبل از وقت موت کے سب سے کم خطرات اُن افراد میں دیکھے گئے جو ایروبک سرگرمیوں اور طاقت بڑھانے والی ورزشوں، دونوں میں زیادہ سرگرم تھے۔ سب سے زیادہ متحرک افراد میں یہ خطرات 58 فیصد تک کم ہو گئے۔جدید تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ طویل اور صحت مند زندگی کیلئے صرف دوڑنا یا چہل قدمی ہی کافی نہیں، بلکہ عضلات کو مضبوط بنانے والی ورزشیں بھی یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔ ہفتے میں محض ایک یا دو بار ویٹ لفٹنگ یا طاقت بڑھانے والی مشقیں نہ صرف جسمانی قوت اور توازن کو بہتر بناتی ہیں بلکہ دل کے امراض، فالج اور قبل از وقت موت کے خطرات میں بھی نمایاں کمی لاتی ہیں۔ مصروف طرزِ زندگی میں اگر ہم ورزش کو اپنی ترجیحات میں شامل کرلیں تو بڑھتی عمر کے باوجود صحت، توانائی اور خود اعتمادی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت مند بڑھاپا کسی جادو کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل جسمانی سرگرمی اور متوازن طرزِ زندگی کا ثمر ہے، اور ویٹ لفٹنگ اس سفر کا ایک مؤثر اور قابلِ عمل ذریعہ ثابت ہو رہی ہے۔

بالی: قدرتی حسن سے مالامال جزیرہ

بالی: قدرتی حسن سے مالامال جزیرہ

بالی نہ تو کسی ناول کا نام ہے اور نہ کسی افسانے کا عنوان اور نہ ہی یہ کسی ناول یا افسانے کا مرکزی کردار، بلکہ بالی نام ہے انڈونیشیا کے 17ہزار جزیروں میں سے ایک جزیرے کا جس کو زندگی میں ایک دفعہ دیکھنے کیلئے دُنیا کے سیاحوں کے دل میں ایک حسرت رہتی ہے۔ اگر ایک دفعہ سیاح اس خوبصورت جزیرے کو بچشم خود دیکھ لیں تو دوبارہ دیکھنے کی کسک سینے میں دھڑکتی رہتی ہے۔بالی کا شمار دُنیا کے ٹاپ ٹین سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے بالی کا جزیرہ یونان کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیا کے آٹھ پر کشش اور خوبصورت مقامات میں بالی کا مقام سب سے اوّل نمبر پر ہے۔ اس عالمی رینکنگ سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ بالی کے جزیرہ میں دُنیا بھر کے سیاحوں کیلئے کشش کے بے پناہ لوازمات موجود ہیں۔ جن کی ہر زبان کے سفرنامہ نگار اپنے الفاظ میں تصویر کشی تو ضرور کرتے ہیں مگر پھر بھی بالی کی خوبصورتی کا مکمل احاطہ کرنے کیلئے ان کے پاس الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔بالی کا جزیرہ انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے مشرق میں واقع ہے۔ جزیرہ جاوا پر انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ واقع ہے۔ بالی کا جزیرہ جاوا سے 3.2 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے اور آبنائے بالی دونوں جزیروں کو ایک دوسرے سے جُدا کرتی ہے۔بالی کے مشرق میں لومباک (Lombak ) کا جزیرہ واقع ہے۔ بالی کا جزیرہ شرقاً غرباً 140 کلو میٹرلمبا اور جنوباً شمالاً 90 کلو میٹر چوڑا ہے۔ اس کا کل رقبہ 5633 مربع کلو میٹر ہے۔ یہ جزیرہ خط ِاستوا سے 8 ڈگری جنوب میں واقع ہے۔ بالی کا اوسط درجہ حرارت سارا سال 26 سے 28 ڈگری کے درمیان رہتا ہے۔ انڈونیشیا کے 32 انتظامی صوبوں میں سے بالی کا جزیرہ بھی ایک مکمل صوبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ بالی جزیرے کی کل آبادی تقریباً چالیس لاکھ ہے۔ جزیرے کے جنوبی حصہ میں ڈینپاسر (Denpasar) کا شہر صوبے کا صدر مقام ہے، جس کی آبادی پانچ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ صوبے کے گورنر کی رہائش بھی اسی شہر میں ہے۔ یہ بالی جزیرے کا انتظامی مرکز اور نہایت پر رونق شہر ہے۔ بالی کا بڑا بین الاقوامی ائیر پورٹ اسی شہر کے قریب پندرہ کلو میٹر جنوب میں واقع ہے۔ بالی کے شمالی سمت سنگارا جابالی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ سنگاراجا بالی کا بندر گاہی شہر (پورٹ سٹی) ہے۔ بالی کی تمام درآمدات و برآمدات اسی بندر گاہ سے ہی کی جاتی ہیں۔ یہ بالی جزیرے کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ سنگاراجا کی آبادی ایک لاکھ ہے۔اوبود بالی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ جو ڈینپاسر کے شمال میں آدھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ پہاڑی پر واقع ہے۔ اوبودکا شہر بالی جزیرے کے کلچر اورہر طرح کے فن ِ ثقافت کا جیتا جاگتا شہر ہے۔ یہ شہر ہے جزیرہ بالی کے مشہور فن کاروں اور مجسمہ سازوں کا۔ لکڑی میں کھدائی کر کے خوبصورت بیل بوٹے بنائے جاتے ہیں۔ مصور شاعر، سنگ تراش اور ماہر رقاص اسی شہر میں قیام پذیر ہیں۔ پورا شہر ایک طرح کا عجائب گھر معلوم ہوتا ہے۔ بڑے شہر ڈینپاسر کے مقابلہ میں یہاں پر افراتفری دکھائی نہیں دیتی۔ بلکہ بہت پر سکون شہر ہے۔ فن ِ وثقافت کے شائقین سیاح ائیر پورٹ سے باہر آتے ہی اسی شہر کا رُخ کرتے ہیں۔ ڈینپاسر کے بعد بالی کا دوسرا بڑا شہر اوبود ہی ہے۔ ایک صوبہ ہونے کی حیثیت سے بالی جزیرے کی اپنی صوبائی انتظامی حکومت ہے۔ گورنر صوبے کا نگران اعلیٰ ہوتا ہے۔ صوبہ بالی کی معیشت کا زیادہ تر حصہ جکارتہ میں مرکزی حکومت ہی کے کنٹرول میں ہے۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے بالی 1000 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے اور پرواز کا دورانیہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ہے۔ جبکہ بالی سنگاپور سے سوا دو گھنٹے، ہانگ کانگ سے 4.5 گھنٹے اور سڈنی اور ملبورن سے بالی پانچ چھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ نگورا رائے بالی کا انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہے جو دارالحکومت ڈینپاسر سے جنوب میں شہر سے پندرہ کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اس بین الاقوامی ائیرپورٹ پر دُنیا کی تیس سے زائد ائیر لائنزکے جہاز لینڈ کرتے ہیں۔ سڈنی، ملبورن، نیویاک، لاس اینجلز، سان فرانسسکو، لندن، پیرس، شنگھائی، بیجنگ، فرنیکفرٹ اور ٹوکیو سے پروازیں براہِ راست بالی کے ائیر پورٹ پر اُترتی ہیں۔ہر سال 28 لاکھ سے زائد سیاح بالی آتے ہیں۔ سب سے زیادہ سیاح چین سے آتے ہیں۔٭...بالی میں ایک بندروں کا جنگل بھی ہے، یہاں کے ہندو لوگ اسے بہت مقدس مانتے ہیں۔ ٭...کبھی یہ جزیرہ ہاتھیوں، چیتوں اور شیروں کی آماجگاہ تھا لیکن اب یہ جانور ناپیدہوچکے ہیں۔٭...چاول یہاں کی بڑی فصل ہے جو سال میں دو دفعہ کاشت کی جاتی ہے۔٭... اس کے پھل دار باغات میں پپیتا، ناریل، انناس کی پیداوار بہت زیادہ ہے۔ ٭...شمالی علاقہ میں کافی بھی پیدا ہوتی ہے۔٭...سمندر سے بڑی مقدار میں مچھلی،مرجان، مونگا اور سیپ حاصل کیا جاتا ہے۔ ٭...بالی جزیرے میں چار زندہ آتش فشاں پہاڑ موجود ہیں۔٭...مائونٹ آگنگ یہاں کا سب سے بلند پہاڑ ہے،جو 10328 فٹ بلند ہے۔بالی میں فلموں کی عکس بندییوں توبالی جزیرے میں دُنیا کی کئی فلموں کی عکسبندی کی جا چکی ہے۔ لیکن اس جزیرے کو زیادہ شہرت اُس ناول سے ملی جسے الزبتھ گلبرٹ نے تحریر کیا اور پھر بعد میں اس ناول کی عکس بندی کا بیشتر حصہ بالی کے پہاڑوں، میدانوں اور بیچز (Beaches ) پر فلمایا گیا۔ اس ناول اور فلم کا نام Eat, Pray, Love تھا۔ اس فلم نے ریلیز ہونے کے بعد بہت رش لیا اور ناظرین نے اس فلم کو بے حد پسند کیا۔ اس فلم کی بے پناہ مقبولیت کے بعد دُنیا کی کئی فلمی کمپنیوں نے بالی میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

خلائی مشن ''میرینر 5‘‘ کی روانگی1967ء میں میرینر خلائی پروگرام کے تحت ''میرینر 5‘‘ کو سیارہ زہرہ (وینس) کی جانب روانہ کیا گیا۔ یہ خلائی جہاز ناسانے 14 جون 1967ء کو لانچ کیا تھا۔ اس مشن کا مقصد زہرہ کے ماحول، درجہ حرارت، فضائی دباؤ اور مقناطیسی میدان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا۔ میرینر 5 نے کامیابی سے زہرہ کے قریب سے پرواز کرتے ہوئے اہم سائنسی مشاہدات کیے اور زمین پر قیمتی اعداد و شمار بھیجے۔امریکہ کا ''یوم پرچم‘‘ریاستہائے متحدہ امریکہ میں 14 جون کو ''یوم پرچم‘‘ منایا جاتا ہے۔ یہ دن 14جون 1777ء کو دوسری کانٹی نینٹل کانگریس کی قرارداد کے ذریعے ریاستہائے متحدہ کے جھنڈے کو اپنانے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ بہت سی ریاستوں میں کافی عرصے تک یہ دن نہیں منایا جاتا تھا لیکن جیسے جیسے امریکہ کی ریاستوں میں پرچم کو اپنا یا جاتا رہا اس کے ساتھ ساتھ یہ دن بھی وہاں منایا جانے لگا۔خون عطیہ کرنے کا عالمی دنہر سال 14جون کوخون عطیہ کرنے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد خون کی محفوظ منتقلی کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ان افراد کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو اپنا خون دوسروں کی زندگی بچانے کیلئے عطیہ کرتے ہیں۔دراصل یہ دن کارل لینڈسٹائنر کی یاد میں منایا جاتا ہے جس نے خون کے گروپ دریافت کرنے کے ساتھ اس تھیوری کی بنیاد رکھی تھی کہ ایک جیسے بلڈ گروپ آپس میں ملائے جا سکتے ہیں۔ اس تھیوری پر ایک ہی گروپ کے خون کو ملانے کا کامیاب تجربہ 1907ء میں کیا گیاتھا۔برطانیہ میں بدترین آتشزدگی14 جون 2017ء کو ویسٹ لندن میں واقع 24منزلہ رہائشی عمارت گریفل ٹاور میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس خوفناک حادثے میں 72 افراد ہلاک ،70زخمی جبکہ223افراد اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے۔ یہ 1988ء کے پائپر الفا آئل پلیٹ فارم کی تباہی کے بعد برطانیہ میں سب سے مہلک آتشزدگی تھی۔ فریج میں خرابی کی وجہ سے لگنے والی آگ تقریباً60گھنٹے تک لگی رہی، لندن فائر بریگیڈ کے 250 سے زیادہ فائر فائٹرز اور 70 فائر انجن آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں شامل تھے۔جاپان: فضائی حادثہ1972ء میں جاپان ایئر لائنز کی پرواز 471 بھارت کے شہر نئی دہلی کے ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوگئی۔ یہ المناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ رن وے کے قریب پہنچتے ہوئے گر کر تباہ ہوگیا۔ حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار 87 افراد میں سے 82 جان کی بازی ہار گئے، جبکہ زمین پر موجود مزید چار افراد بھی ہلاک ہو گئے۔ اس سانحے نے جاپان اور بھارت سمیت دنیا بھر میں غم و افسوس کی لہر دوڑا دی۔ یہ حادثہ اس دور کے مہلک ترین فضائی سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔''جنگ فریڈلینڈ‘‘1807ء میں فرانسیسی شہنشاہ نپولین بوناپارٹ کی عظیم فوج نے پولینڈ کے مقام فریڈلینڈ میں روسی فوج کو فیصلہ کن شکست دی۔ یہ معرکہ ''فریڈلینڈ جنگ‘‘کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ میں فرانسیسی افواج کی شاندار حکمت عملی اور فوجی مہارت نے روسی لشکر کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ فریڈلینڈ کی فتح نے نپولین کی یورپ میں سیاسی و عسکری برتری کو مزید مضبوط بنایا۔ یہ جنگ نپولینی دور کی اہم ترین فتوحات میں شمار کی جاتی ہے۔

ایل نینو کی واپسی

ایل نینو کی واپسی

کیا پاکستان شدید موسموں کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے؟دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موسمی رجحان کے اثرات کی طرف بڑھ رہی ہے جس نے ماضی میں کئی ممالک کو شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور قدرتی آفات سے دوچار کیا تھا۔ عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو نامی موسمیاتی نظام دوبارہ فعال ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کے معمولات بری طرح متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو اس عالمی موسمیاتی تبدیلی کے زیر اثر آ سکتے ہیں۔ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے لیکن موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ اس کے اثرات کو مزید شدید بنا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے مسلسل حکومتوں اور عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ایل نینو کیا ہے ؟ایل نینو(El Niño) بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کے پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کو کہا جاتا ہے۔ جب سمندر کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے تو دنیا بھر میں ہوا کے دباؤ، بارشوں کے نظام اور درجہ حرارت کے توازن میں تبدیلی آتی ہے۔یہ رجحان عام طور پر ہر چند سال بعد نمودار ہوتا ہے اور کئی مہینوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ اس دوران بعض علاقوں میں شدید بارشیں اور سیلاب آتے ہیں جبکہ دیگر خطوں میں خشک سالی اور گرمی کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ ایل نینو ایک قدرتی عمل ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے باعث اس کے اثرات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔پاکستان کیلئے ممکنہ خطراتپاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک شدید گرمی کی لہروں، غیر معمولی بارشوں، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور تباہ کن سیلابوں کا سامنا کر چکا ہے۔ایل نینو کی صورت میں پاکستان میں مون سون بارشوں کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس رجحان کے دوران جنوبی ایشیا کے کئی علاقوں میں بارشیں معمول سے کم ہو جاتی ہیں جس سے پانی کی قلت اور زرعی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب بعض خطوں میں اچانک اور شدید بارشوں کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے، جو سیلابی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب،سندھ اور بلوچستان جیسے علاقے پہلے ہی پانی کی کمی اور شدید گرمی کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر ایل نینو کے باعث درجہ حرارت مزید بڑھتا ہے تو ان علاقوں میں خشک سالی کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں بجلی کی طلب بڑھنے سے توانائی کا بحران بھی شدت اختیار کر سکتا ہے۔زراعت اور معیشت پر اثراتپاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ چاول، کپاس، گندم اور گنے جیسی فصلیں موسمی حالات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ اگر بارشوں کے نظام میں تبدیلی آتی ہے یا گرمی کی شدت غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے تو زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔پانی کی قلت نہ صرف فصلوں بلکہ مویشیوں کے شعبے کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ زرعی پیداوار میں کمی کا براہ راست اثر خوراک کی قیمتوں پر پڑتا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی ماہرین کسانوں کو جدید زرعی طریقوں اور پانی کے بہتر استعمال کی طرف توجہ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔عالمی سطح پر بھی ایل نینو غذائی اجناس کی پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ ایسے حالات پاکستان جیسے درآمدی ضروریات رکھنے والے ممالک کے لیے معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔صحت اور زندگی کیلئے چیلنجزشدید گرمی کی لہریں انسانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان میں ہر سال گرمی کے موسم میں ہیٹ سٹروک اور پانی کی کمی کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ اگر ایل نینو کے باعث درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ شدید بارشیں اور سیلاب مختلف متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ صحت کے شعبے کو ان ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔ تیاری اور احتیاط موسمیاتی خطرات سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں لیکن بہتر منصوبہ بندی سے نقصانات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو موسمیاتی نگرانی کے نظام، ارلی وارننگ سسٹمز اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہوگا۔زرعی شعبے میں پانی بچانے والی ٹیکنالوجی، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے اور موسمی پیش گوئیوں کی بنیاد پر کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ دینا ہوگا۔ اسی طرح شہری علاقوں میں درخت لگانے، پانی کے ضیاع کو روکنے اور توانائی کے متبادل ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ایل نینو کی متوقع واپسی صرف ایک موسمی خبر نہیں بلکہ ایک ایسا انتباہ ہے جس کے اثرات پاکستان کے ماحول، معیشت، زراعت اور عوامی زندگی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اس کے حتمی اثرات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے لیکن عالمی اداروں کی وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے مہینوں میں غیر معمولی موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایسے میں حکومت، متعلقہ اداروں اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں بروقت تیاری ہی مستقبل کے نقصانات کو کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

تہذیبوں میں مکالمے کا عالمی دن

تہذیبوں میں مکالمے کا عالمی دن

امن اور باہمی احترام کی ضرورتدنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، ذرائع ابلاغ اور گلوبلائزیشن نے مختلف ممالک، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان فاصلے کم کر دیے ہیں۔ آج مختلف پس منظر کے حامل لوگ ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف رابطے میں ہیں بلکہ تجارت، تعلیم، کاروبار، سیاحت اور دیگر شعبوں میں مسلسل تعاون بھی کر رہے ہیں۔ تاہم اس قربت کے باوجود دنیا کو تعصب، نفرت، نسلی امتیاز اور ثقافتی تنازعات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہی چیلنجز کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ نے 10 جون کوInternational Day for Dialogue among Civilization کے طور پر منانے کا اعلان کیا تاکہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان افہام و تفہیم، احترام اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی اہمیتانسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مختلف تہذیبوں کے درمیان رابطے اور تبادلہ خیال نے ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں۔ علم، ادب، فنونِ لطیفہ، سائنس اور فلسفے کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت مختلف معاشروں کے باہمی تعامل کا نتیجہ رہی ہے۔ جب قومیں ایک دوسرے کے تجربات اور خیالات سے استفادہ کرتی ہیں تو نہ صرف علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ باہمی اعتماد بھی فروغ پاتا ہے۔تہذیبوں میں مکالمہ مختلف ثقافتی اور فکری پس منظر رکھنے والے افراد اور معاشروں کے درمیان تعمیری گفتگو کا نام ہے۔ اس کا مقصد اختلافات کو ختم کرنا نہیں بلکہ انہیں سمجھنا اور ان کے باوجود باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔آج دنیا کو متعدد سماجی اور ثقافتی چیلنجز درپیش ہیں۔ نسلی امتیاز، ثقافتی تعصبات، انتہا پسندانہ رویے، پناہ گزینوں کے مسائل اور نفرت انگیز بیانیے عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہیں۔ ایسے مسائل صرف سیاسی یا قانونی اقدامات سے مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتے بلکہ مختلف معاشروں کے درمیان اعتماد سازی اور مسلسل مکالمہ بھی ضروری ہے۔جب لوگ ایک دوسرے کی تاریخ، ثقافت اور نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو غلط فہمیاں کم ہوتی ہیں اور تنازعات کے امکانات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے مکالمے کو امن کے قیام کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہیں۔پاکستان میں تہذیبی ہم آہنگی پاکستان ایک متنوع معاشرہ ہے جہاں مختلف زبانیں، ثقافتیں اور علاقائی روایات پائی جاتی ہیں۔ پنجابی، سندھی، پشتون، بلوچ، سرائیکی، کشمیری اور دیگر ثقافتی اکائیاں ملک کی اجتماعی شناخت کو مضبوط بناتی ہیں۔ اس تنوع کو مثبت انداز میں قبول کرنا قومی یکجہتی اور سماجی استحکام کے لیے ضروری ہے۔پاکستان میں تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور ذرائع ابلاغ مختلف ثقافتوں کے درمیان احترام اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر نوجوان نسل کو برداشت، احترامِ اختلاف اور مکالمے کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے تو زیادہ پُرامن اور متحد معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔نوجوانوں اور میڈیا کا کردارڈیجیٹل دور میں نوجوان نسل اور میڈیا معاشرتی رویوں کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا مختلف معاشروں کو قریب لانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے لیکن اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال نفرت اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بھی بنتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اور میڈیا مثبت گفتگو، تحقیق پر مبنی معلومات اور تعمیری خیالات کو فروغ دیں۔ ثقافتی تبادلوں، آن لائن مباحثوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے مختلف معاشروں کے درمیان بہتر روابط قائم کیے جا سکتے ہیں۔تہذیبوں کے مابین مکالمے کا بین الاقوامی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اختلافات انسانی معاشروں کا فطری حصہ ہیں لیکن ان اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کرنا ہی دانشمندی ہے۔ موجودہ دور میں امن، ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان احترام، برداشت اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔ یہی اس عالمی دن کا بنیادی مقصد ہے اور یہی ایک بہتر، محفوظ اور پُرامن دنیا کی ضمانت بھی۔

آج کا دن

آج کا دن

فریڈرک بارباروسا کی موت 10 جون 1190ء کورومی سلطنت کا شہنشاہ فریڈرک اول جو بارباروسا کے نام سے مشہور تھا تیسری صلیبی جنگ کے دوران دریائے سیلیف (موجودہ ترکی) عبور کرتے ہوئے ڈوب گیا۔ یہ واقعہ قرونِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک نہایت اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ بارباروسا اس وقت یورپ کے طاقتور ترین حکمرانوں میں شمار ہوتا تھا۔اس کی فوج ہزاروں سپاہیوں پر مشتمل تھی اور یورپ سے مشرقِ وسطیٰ کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی تاہم دریائے سیلیف کو عبور کرتے ہوئے وہ پانی کے تیز بہاؤ کا شکار ہو گیا اور ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ اس کی اچانک موت نے صلیبی فوج کے حوصلے شدید متاثر کیے۔ بہت سے سپاہی واپس لوٹ گئے جبکہ باقی منتشر ہو گئے۔ سیلم وِچ ٹرائلز10 جون 1692ء کو بریجٹ بشپ نامی عورت کو امریکی نوآبادیاتی تاریخ کے مشہور سیلم وِچ ٹرائلز (Salem witch trials) کے دوران پھانسی دی گئی۔ وہ اس سلسلے میں سزائے موت پانے والی پہلی شخص تھی۔یہ مقدمات میساچوسٹس کی نوآبادی میں اس وقت شروع ہوئے جب چند نوجوان لڑکیوں نے دعویٰ کیا کہ وہ جادو کے اثر میں ہیں۔ اس کے بعد خوف اور افواہوں کا ایسا ماحول پیدا ہوا کہ تقریباً دو سو افراد پر جادوگری کے الزامات لگائے گئے۔ ان میں سے متعدد افراد کو قید کیا گیا اور بیس افراد کو موت کی سزا دی گئی۔بعد ازاں مؤرخین نے اس واقعے کو اجتماعی خوف، مذہبی انتہاپسندی اور عدالتی غلطیوں کی ایک مثال قرار دیا۔ اٹلی دوسری جنگِ عظیم میں شامل 10 جون 1940ء کو اٹلی کے آمر مسولینی نے برطانیہ اور فرانس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور یوں اٹلی باضابطہ طور پر دوسری جنگِ عظیم میں شامل ہو گیا۔ اس وقت جرمنی یورپ میں تیزی سے کامیابیاں حاصل کر رہا تھا اور مسولینی کو یقین تھا کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اٹلی کو بھی فتح کے ثمرات حاصل ہوں گے۔جنگ میں شمولیت کے بعد اٹلی نے شمالی افریقہ، بحیرہ روم اور یورپ کے مختلف محاذوں پر کارروائیاں شروع کیں تاہم اٹلی کی فوجی تیاری جرمنی کے مقابلے میں کمزور تھی اور اسے متعدد محاذوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں جرمنی کو اپنے اتحادی کی مدد کے لیے کئی علاقوں میں مداخلت کرنا پڑی۔ اورادورسرگلان قتلِ عام 10 جون 1944ء کو فرانس کے گاؤں اورادورسرگلان (Oradour-s ur-Glane) میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمن فوجیوں نے ایک ہولناک قتلِ عام کیا۔ اس واقعے میں 642 شہریوں کو قتل کر دیا گیا۔گاؤں کو گھیر کر تمام لوگوں کو جمع کیا گیا۔ مردوں کو الگ کر کے گولیوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ خواتین اور بچوں کو ایک چرچ میں بند کر کے آگ لگا دی گئی۔ چند افراد ہی زندہ بچ سکے۔ یہ واقعہ نازی جرائم کی بدترین مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔جنگ کے بعد فرانسیسی حکومت نے گاؤں کے کھنڈرات کو اسی حالت میں محفوظ رکھا تاکہ آنے والی نسلیں اس سانحے کو یاد رکھ سکیں۔

مصنوعی ذہانت اور پانی کی کھپت

مصنوعی ذہانت اور پانی کی کھپت

اقوام متحدہ نے خبر دار کر دیامصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نے حالیہ کچھ عرصے میں دنیا کو حیران کن رفتار سے بدل دیا ہے۔ تعلیم، طب، صنعت، تجارت، صحافت اور تحقیق سمیت زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں AI کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ کچھ ایسے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں جن پر ابھی تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ حال ہی میں یونائیٹڈ نیشنز یونیورسٹی کے محققین کی ایک رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر AI کا پھیلاؤ اسی طرح جاری رہا تو 2030 ء تک اس سے وابستہ ڈیٹا سینٹرز اتنا پانی استعمال کر سکتے ہیں جو دنیا بھر کے انسانوں کیلئے مجموعی پینے کے پانی کی مقدار سے بھی زیادہ ہو گا۔ یہ پیشگوئی ماہرینِ ماحولیات، پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے۔مصنوعی ذہانت اور پانی کا تعلقعام طور پر جب ہم AI کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں کمپیوٹر، سافٹ ویئر اور جدید الگورتھمز آتے ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک مکمل ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہے جس کا قدرتی وسائل سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔AI ماڈلز کو چلانے اور تربیت دینے کے لیے ہزاروں طاقتور سرورز پر مشتمل ڈیٹا سینٹرز درکار ہوتے ہیں۔ یہ سرورز مسلسل کام کرتے ہوئے بڑی مقدار میں حرارت پیدا کرتے ہیں۔ اس حرارت کو کم کرنے کے لیے جدید کولنگ سسٹمز استعمال کیے جاتے ہیں جن میں پانی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ان مراکز کو بجلی فراہم کرنے والے پاور پلانٹس بھی پانی استعمال کرتے ہیں جبکہ کمپیوٹر چپس کی تیاری میں بھی بڑی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔بڑھتی ہوئی طلب اور ماحولیاتی دباؤدنیا بھر میں AI کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ روزانہ کروڑوں افراد مختلف AI ٹولز کے ذریعے سوالات پوچھتے ہیں، تصاویر بناتے ہیں، ویڈیوز تیار کرتے ہیں اور پیچیدہ ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ہر پرامپٹ کے پیچھے طاقتور کمپیوٹرز کی ایک وسیع دنیا کام کر رہی ہوتی ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگر AI کے استعمال میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو 2030 ء تک اس سے وابستہ انفراسٹرکچر کھربوں لیٹر پانی استعمال کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک تخمینہ ہے لیکن اس سے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔ٹیکنالوجی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر نئی ایجاد اپنے ساتھ فوائد اور نقصانات دونوں لاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی اس سے مختلف نہیں۔ ایک طرف AI بیماریوں کی تشخیص بہتر بنا رہی ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ کر رہی ہے اور کاروباری کارکردگی کو بہتر بنا رہی ہے، تو دوسری طرف اس کے ماحولیاتی اثرات نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف توانائی اور پانی کے مؤثر استعمال سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی ٹیکنالوجی زیادہ مؤثر اور سستی ہو جاتی ہے تو اس کا استعمال بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے، نتیجتاً مجموعی وسائل کی کھپت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہی رجحان AI کے معاملے میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔پانی کی کمی اور چیلنجپانی کی قلت پہلے ہی دنیا کے کئی ممالک کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، غیر مؤثر آبی انتظام اور زرعی ضروریات پانی کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ایسے حالات میں اگر عالمی سطح پر AI انفراسٹرکچر کی وجہ سے پانی اور توانائی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات بالواسطہ طور پر ترقی پذیر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب توانائی کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے جبکہ پانی کے وسائل کے بہتر انتظام کی ضرورت مزید بڑھ جائے گی۔کیا اس مسئلے کا حل موجود ہے؟خوش آئند بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس چیلنج سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں ایسے ڈیٹا سینٹرز تیار کر رہی ہیں جو کم پانی استعمال کرتے ہیں۔ بعض مقامات پر سمندری پانی، ری سائیکل شدہ پانی اور جدید کولنگ ٹیکنالوجیز کو بھی آزمایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کی بچت کرنے والے AI ماڈلز اور زیادہ مؤثر کمپیوٹر چپس پر بھی کام جاری ہے۔حکومتیں بھی ماحول دوست ڈیٹا سینٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے نئی پالیسیاں تشکیل دے سکتی ہیں۔ اگر صنعت، حکومت اور سائنسی ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو AI کی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان بہتر توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت بلاشبہ اکیسویں صدی کی سب سے اہم ٹیکنالوجی بن چکی ہے اور اس کے فوائد سے انکار ممکن نہیں تاہم اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہر تکنیکی انقلاب کی ایک ماحولیاتی قیمت بھی ہوتی ہے؛چنانچہ AI کے بڑھتے استعمال کے ساتھ پانی، توانائی اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کو روکا جائے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اسے کس طرح اس انداز میں فروغ دیا جائے کہ انسانی ترقی کے ساتھ ساتھ زمین کے وسائل بھی محفوظ رہ سکیں۔ اگر آج سے منصوبہ بندی کی جائے تو AI مستقبل کی ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور ماحول کے لیے خطرہ بننے سے بھی بچ سکتی ہے۔

بین الاقوامی یومِ آرکائیوز

بین الاقوامی یومِ آرکائیوز

قومی یاداشت کے تحفظ کا عالمی دنہر قوم کی تاریخ اس کی شناخت، ثقافت اور اجتماعی شعور کی بنیاد ہوتی ہے۔ ماضی کے واقعات، سرکاری دستاویزات، تاریخی تصاویر، اخبارات، نقشے، عدالتی ریکارڈز اور اہم شخصیات کے خطوط کسی بھی ملک کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان قیمتی تاریخی ریکارڈز کو محفوظ رکھنے کے لیے آرکائیوز کا نظام قائم کیا جاتا ہے۔ اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے دنیا بھر میں ہر سال 9 جون کو بین الاقوامی یومِ آرکائیوز (International Archives Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد تاریخی اور سرکاری ریکارڈز کے تحفظ، ان کی افادیت اور مستقبل کی نسلوں کے لیے ان کی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ یومِ آرکائیوز ، پس منظربین الاقوامی یومِ آرکائیوز پہلی بار 2008ء میں منایا گیا۔ اس تاریخ کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ 9 جون 1948ء کو انٹرنیشنل کونسل آن آرکائیوز (ICA) کا قیام عمل میں آیا تھا۔ یہ ادارہ آرکائیوز کے تحفظ، ترقی اور پیشہ ورانہ معیار کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک اس دن کو سیمینارز، نمائشوں، کانفرنسوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے مناتے ہیں تاکہ لوگوں کو تاریخی دستاویزات کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔آرکائیوز اور ان کی اہمیتآرکائیوز ایسے ریکارڈز اور دستاویزات کا منظم ذخیرہ ہوتے ہیں جنہیں تاریخی، قانونی، انتظامی یا ثقافتی اہمیت کی وجہ سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ ان میں سرکاری فائلیں، مردم شماری کے ریکارڈ، عدالتی فیصلے، تاریخی تصاویر، اخبارات، صوتی و بصری مواد اور اہم شخصیات کی تحریریں شامل ہوتی ہیں۔اگر آرکائیوز موجود نہ ہوں تو قومیں اپنے ماضی سے محروم ہو جا ہیں۔ تاریخ کے بہت سے اہم واقعات، حکومتی فیصلے اور سماجی تبدیلیاں صرف انہی محفوظ ریکارڈز کے ذریعے ہمارے علم میں آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنے آرکائیوز کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور انہیں قومی ورثے کا حصہ تصور کرتے ہیں۔پاکستان میں آرکائیوزپاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس کی تاریخ برصغیر کی صدیوں پر محیط تہذیبی اور سیاسی روایات سے جڑی ہوئی ہے۔ تحریک پاکستان ، قراردادِ لاہور، تقسیمِ ہند اور قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی جدوجہد سے متعلق بے شمار تاریخی دستاویزات آج بھی قومی آرکائیوز میں محفوظ ہیں۔ یہ ریکارڈ نہ صرف محققین بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی قومی تاریخ کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔پاکستان میں قومی آرکائیوز، صوبائی ریکارڈ دفاتر، یونیورسٹی لائبریریاں اور تحقیقی ادارے اہم تاریخی مواد محفوظ کر رہے ہیں۔ تاہم اب بھی بہت سی قیمتی دستاویزات، مخطوطات اور مقامی تاریخ سے متعلق ریکارڈ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آرکائیوز کے شعبے کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنایا جائے۔تعلیم، تحقیق اور شفافیت میں کردارآرکائیوز صرف پرانی دستاویزات کا ذخیرہ نہیں بلکہ علم اور تحقیق کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ، اساتذہ، صحافی اور تاریخ دان تحقیق کے لیے انہی محفوظ ریکارڈز سے استفادہ کرتے ہیں۔ اصل دستاویزات کی موجودگی تحقیق کو مستند اور قابلِ اعتماد بناتی ہے۔اس کے علاوہ آرکائیوز جمہوری نظام میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب سرکاری فیصلوں اور پالیسیوں کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے تو عوام اور محققین ان کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس طرح حکومتی اداروں کی کارکردگی کا تجزیہ ممکن ہوتا ہے اور شفاف حکمرانی کو فروغ ملتا ہے۔ڈیجیٹل دور اور آرکائیوز کا مستقبلٹیکنالوجی کی ترقی نے آرکائیوز کے شعبے میں نئی جہتیں پیدا کی ہیں۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک اپنے تاریخی ریکارڈز کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل آرکائیوز کے ذریعے قیمتی دستاویزات کو طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور دنیا بھر کے محققین ان تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستان میں بھی اس سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے، لیکن مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر قومی اور صوبائی سطح پر آرکائیوز کی ڈیجیٹائزیشن کو تیز کیا جائے تو تاریخی ورثے کے تحفظ اور تحقیق و تعلیم کے مواقع میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ جدید دور میں صرف کاغذی ریکارڈ محفوظ رکھنا کافی نہیں، انہیں ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا بھی ضروری ہے۔ چیلنجزآرکائیوز کو مختلف قسم کے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ نمی، آگ، سیلاب، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات تاریخی دستاویزات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اسی طرح مناسب وسائل، تربیت یافتہ عملے اور جدید آلات کی کمی بھی آرکائیوز کے تحفظ میں رکاوٹ بنتی ہے۔پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں مالی وسائل کی محدود دستیابی کے باعث آرکائیوز کے شعبے کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جس کا وہ مستحق ہے۔ تاہم قومی تاریخ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اس شعبے میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔بین الاقوامی یومِ آرکائیوز ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آرکائیوز نہ صرف تاریخی دستاویزات کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت، ثقافت اور قومی ورثے سے جوڑے رکھتے ہیں۔ ہماری تاریخ، تحریکِ پاکستان سے متعلق قیمتی ریکارڈز محفوظ رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔