13 ہزار اشیاء جمع کر کے نیا عالمی ریکارڈ بنا دیادنیا میں شوق رکھنے والوں کی کمی نہیں، مگر بعض افراد کا شوق اس قدر منفرد ہوتا ہے کہ وہ ان کی پہچان بن جاتا ہے۔ امریکا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے مینڈکوں سے اپنی غیر معمولی محبت کو محض پسند تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے زندگی بھر کے شوق میں بدل دیا۔ انہوں نے برسوں کے دوران مینڈکوں سے متعلق 13 ہزار سے زائد اشیاء جمع کرلیں، جن میں مختلف نوعیت کی یادگاری اور آرائشی چیزیں شامل ہیں۔ ان کا یہ حیرت انگیز ذخیرہ دنیا کے سب سے بڑے مینڈکوں سے متعلق مجموعوں میں شمار ہوتا ہے، جو ان کے منفرد ذوق، محنت اور غیر معمولی لگن کی دلچسپ داستان بیان کرتا ہے۔مینڈک عام طور پر ایسے جانوروں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر بہت سے لوگ خوش ہونے کے بجائے گھبرا جاتے ہیں، لیکن اس امریکی خاتون کیلئے مینڈک محض ایک جانور نہیں بلکہ دلچسپی اور خوشی کا ذریعہ ہیں۔ ان کی زندگی میں مینڈکوں کی موجودگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ان سے متعلق مختلف اشیاء ان کے گھر اور ذاتی مجموعے کا نمایاں حصہ بن چکی ہیں۔ چھوٹی بڑی یادگاری اشیاء جمع کرنے کے اس منفرد شوق نے انہیں ایک ایسے مقام تک پہنچا دیا جہاں ان کا مجموعہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔سوزن برگوس (Susan Burgos) مینڈکوں کی دیوانی ہیں اور وہ بھی اس حد تک کہ ان کے گھر میں مینڈک ہی مینڈک دکھائی دیتے ہیں۔ درحقیقت انہیں مختلف اقسام کی مینڈکوں سے متعلق اشیاء جمع کرنے کا جنون ہے۔خاتون کے پاس باضابطہ طور پر دنیا میں مینڈکوں سے متعلق اشیاء کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ان کے پاس ایسی حیرت انگیز طور پر 13,201 اشیاء ہیں، جنہیں انہوں نے کیلیفورنیا کے شہر کیمارِیلو میں واقع اپنے گھر میں جمع کر رکھا ہے۔یہ ذخیرہ اتنا بڑا ہے کہ ان کے گھر میں ننھے سبز مینڈکوں سے متعلق اشیاء ہر طرف نظر آتی ہیں۔درحقیقت ان کا ذخیرہ اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ تمام اشیاء رکھنے کیلئے انہیں ایک دوسرا گھر خریدنا پڑا، جس میں ایک بڑا گیراج بھی موجود ہے، تاکہ ان کی پوری کلیکشن کو مناسب جگہ مل سکے۔جنوری میں اس ریکارڈ کی باضابطہ تصدیق کی گئی، جس کے بعد سوزن برگوس نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔ اس سے پہلے دنیا میں مینڈکوں سے متعلق اشیاء کا سب سے بڑا ذخیرہ 10,502 اشیا پر مشتمل تھا، جو برطانیہ کی شیلا کراؤن(Sheila Crown) کے پاس تھا۔ یہ ریکارڈ آج نمایاں کرنے کیلئے بھی نہایت موزوں ہے، کیونکہ آج ہی گنیز ورلڈ ریکارڈز 2027ء کی باضابطہ اشاعت کا دن ہے۔ اس کتاب کا سرورق بھی انتہائی دلکش چمکدار سبز رنگ کا ہے، جو مینڈکوں کی اس حیرت انگیز دنیا کی خوب یاد دلاتا ہے۔سوزن نے 1983ء میں مینڈکوں سے متعلق اشیاء جمع کرنا شروع کیں، جب ایک روز انہیں اپنے باورچی خانے میں درخت پر رہنے والا ایک ننھا سا مینڈک نظر آیا۔انہوں نے بتایا کہ اس ننھے مینڈک نے میرا دل موہ لیا۔ اس نے مجھے تحریک دی اور میں نے اپنی کلیکشن کی پہلی چیز خریدی، جو زمرد جیسی سبز آنکھوں والی سونے کی مینڈک کی انگوٹھی تھی۔ اس کے بعد سے سوزن جہاں بھی جاتی ہیں، اپنی کلیکشن میں شامل کرنے کیلئے نئی اشیاء تلاش کرتی رہتی ہیں۔ سفر کے دوران بھی ان کی نظر ایسی منفرد چیزوں پر رہتی ہے، جبکہ اکثر مختلف کیٹلاگز کے صفحات بھی الٹتی رہتی ہیں تاکہ اپنے مینڈکوں کے منفرد خاندان میں شامل کرنے کیلئے بہترین اشیاء تلاش کر سکیں۔نرم و ملائم کھلونوں سے لے کر آرائشی اشیاء، گھریلو استعمال کی چیزوں اور ملبوسات تک، سوزن نے تقریباً ہر قابلِ تصور چیز کا مینڈکوں کی تھیم والا نمونہ تلاش کرلیا ہے۔یہی نہیں، ان کے پاس مینڈکوں سے متعلق کرسمس کی اتنی زیادہ سجاوٹی اشیاء بھی موجود ہیں کہ وہ اپنے کرسمس ٹری کو مکمل طور پر ان ہی سے سجا سکتی ہیں۔تاہم، ان ہزاروں اشیاء میں سوزن کی ایک پسندیدہ چیز بھی ہے۔جب ان سے کہا گیا کہ وہ اپنی کلیکشن میں سے صرف ایک پسندیدہ چیز کا انتخاب کریں تو انہوں نے بتایاکہ میرے ذہن میں فوراً ایک موٹر سائیکل پر سوار گانے والے اینیمیٹڈ مینڈک کا خیال آتا ہے، جو 'کوکومو‘ گانا بجاتا ہے۔ یہ گانا معروف امریکی میوزک بینڈ دی بیچ بوائز کا ہے۔13 ہزار سے زائد مینڈکوں سے متعلق اشیاء کی مالک سوزن کیلئے، جیسا کہ توقع کی جا سکتی ہے، اپنی اس وسیع و عریض کلیکشن کو محفوظ رکھنے اور اس کیلئے مناسب جگہ بنانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور نئی نسل کے رجحانات بھی اس تبدیلی کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی سے گہری وابستگی رکھنے والی جنریشن زی کے نوجوان اب نقل و حمل کے روایتی ذرائع کو بھی نئے زاویے سے دیکھنے لگے ہیں۔ ایک حالیہ جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً ایک چوتھائی نوجوانوں کے نزدیک پیٹرول سے چلنے والی گاڑی رکھنا اب اتنا ہی فرسودہ تصور ہے جتنا کسی گھر میں لینڈ لائن فون رکھنا۔ یہ نوجوان ماحول دوست ٹیکنالوجی اور جدید طرزِ زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں کو مستقبل کی سواری سمجھتے ہیں، جس سے گاڑیوں کی دنیا میں آنے والی بڑی تبدیلی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔جینزی کے نوجوان مقبول اشیاء کو ''رد‘‘ کرنے کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں، اور اب ان کا تازہ فیصلہ شاید سب سے زیادہ اختلاف پیدا کرنے والا ہو۔ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً ایک چوتھائی نوجوانوں کا خیال ہے کہ پیٹرول سے چلنے والی گاڑی رکھنا اتنا ہی فرسودہ ہوچکا ہے جتنا لینڈ لائن فون رکھنا۔''ای اون نیکسٹ‘‘ کی جانب سے کرائے گئے اس سروے میں 1,500 نوجوان ڈرائیوروں سے گاڑیوں کے بارے میں ان کی آرا معلوم کی گئیں۔نتائج سے معلوم ہوا کہ اب نصف سے زیادہ، یعنی 55فیصد نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کی پہلی گاڑی الیکٹرک وہیکل (ای وی) ہو۔ الیکٹرک گاڑیوں کے ماہر رابرٹ لیولین کا کہنا ہے کہ یہ نسل اس مفروضے کے ساتھ بڑی نہیں ہو رہی کہ ان کی پہلی گاڑی لازماً پیٹرول سے چلنے والی ہوگی۔ وہ آج دستیاب سہولتوں اور گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے عملی انتخاب کر رہے ہیں۔آج پہلے کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں کے کہیں زیادہ ماڈلز دستیاب ہیں، گاڑی حاصل کرنے کیلئے نسبتاً سستے طریقے موجود ہیں اور گھر پر چارجنگ کے ذریعے اخراجاتِ سفر کم رکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔بہت سے نوجوان ڈرائیوروں کیلئے الیکٹرک گاڑی رکھنا مستقبل کے حوالے سے محض ایک علامتی فیصلہ نہیں بلکہ آج کے حالات میں سب سے زیادہ مناسب اور معقول انتخاب ہے۔سروے کیلئے ای اون نیکسٹ نے 17 سے 20 سال عمر کے 1,500 برطانوی نوجوانوں سے الیکٹرک اور پیٹرول گاڑیوں کے بارے میں ان کی رائے دریافت کی۔الیکٹرک گاڑی خریدنے کی خواہش کی سب سے بڑی وجہ اخراجات میں کمی تھی، جس کا ذکر 20 فیصد نوجوانوں نے کیا، جبکہ 19 فیصد نے گھر پر آسانی سے گاڑی چارج کرنے کی سہولت کو اہم وجہ قرار دیا۔پانچ میں سے ایک نوجوان نے کہا کہ وہ خود کو کبھی پیٹرول گاڑی چلاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے، جبکہ تقریباً دو تہائی نوجوانوں کا خیال ہے کہ ان کی زندگی ہی میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیاں ختم ہوجائیں گی۔24 فیصد نوجوانوں نے یہاں تک کہا کہ وہ نئی پیٹرول یا ڈیزل گاڑی نہیں خریدیں گے، جبکہ 53 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ شاید ایسی گاڑیاں معمول کے مطابق چلانے والی آخری نسل ہوں گے۔''ای اون نیکسٹ‘‘ کی پروپوزیشنز ڈائریکٹر گرین ریگن کے مطابق نصف سے زیادہ نوجوان ڈرائیور اپنی پہلی گاڑی الیکٹرک چاہتے ہیں اور واضح طور پر ایسا لگتا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ درست سمت میں ہے۔ ایندھن کے مقابلے میں پہلے سال میں 890 پاؤنڈ تک بچت اور رات کے وقت گھر پر صرف 8 پاؤنڈ میں چارجنگ کی سہولت کے باعث الیکٹرک گاڑی نئی نسل کے ڈرائیوروں کیلئے بتدریج زیادہ قابلِ رسائی انتخاب بنتی جا رہی ہے۔یہ نتائج حیران کن بھی ہوسکتے ہیں، کیونکہ ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا تھا کہ جینزی کے بہت سے نوجوان گاڑی چلانے سے خوفزدہ ہیں۔ٹیمپ کور کی جانب سے ماہرین نے نوجوانوں سے ان عام ڈرائیونگ اور موٹرنگ کے کاموں کے بارے میں سروے کیا جنہیں وہ سب سے زیادہ مشکل اور خوفناک سمجھتے ہیں۔پنکچر ہونے کی صورت میں ٹائر تبدیل کرنا نوجوان ڈرائیوروں کا سب سے بڑا خوف سامنے آیا، جبکہ متوازی پارکنگ، چڑھائی پر گاڑی اسٹارٹ کرنا اور موٹروے پر دوسری سڑک سے شامل ہونا بھی سیکڑوں نوجوان ڈرائیوروں کیلئے انتہائی خوفناک ثابت ہوا۔یہ نتائج جینزی کے بہت سے نوجوانوں کیلئے حیران کن نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ باقاعدگی سے ٹک ٹاک پر گاڑی چلانے سے متعلق اپنے خوف اور پریشانیوں کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔آرٹیمس الیکسس کے مطابق''جب آپ کسی نئی جگہ گاڑی لے جانے والے ہوں اور آپ کو وہاں پارکنگ کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو تو اچانک گھبراہٹ طاری ہوجاتی ہے‘‘۔روملی جین نے کہا: ''لوگ ہمیشہ سمجھتے ہیں کہ میں بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہوں، لیکن یہ واقعی بہت خوفناک ہے۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں‘‘۔''جن زی‘‘ کو گاڑی چلانے کے دوران سب سے زیادہ خوفپنکچر ٹائر تبدیل کرنا 36 فیصدبیٹری ختم ہونے پر گاڑی اسٹارٹ کرنا 36 فیصدمتوازی پارکنگ کرنا 24 فیصدگیراج میں ٹائر کا دباؤ چیک کرکے ہوا بھرنا 22 فیصدچڑھائی پر گاڑی اسٹارٹ کرنا 22 فیصدانجن آئل کی سطح چیک کرنا 20 فیصدانشورنس کمپنی کو فون کرنا یا کلیم دائر کرنا 19 فیصدموٹروے پر گاڑی چلانا 18 فیصدموٹروے پر دوسری سڑک سے شامل ہونا 18 فیصدگاڑی خراب ہونے کی صورت میں امدادی کمپنی کو فون کرنا 18 فیصد
٭... 6اگست1928ء کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے۔٭...ان کے والد رائو عبداللہ ہانگ کانگ میں پولیس میں ملازمت کرنے کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کے شعبے سے منسلک تھے ۔بڑے بھائی نذیر احمد بھٹی بھی ایک استاد تھے۔ ٭...میٹرک تک تعلیم ہانگ کانگ میں حاصل کی، بعد میں کوئنز کالج میں داخلہ لے لیا۔٭...قیام پاکستان سے قبل ان کے خاندان نے ضلع گجرات کے گاؤں لادیاں میں رہائش اختیار کی۔٭...21 جنوری 1948ء کو پنجاب رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ ٭...1950ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے پہلے ریگولر کورس کی پاسنگ آوٹ پریڈ میں انہیں بہترین کیڈٹ کے اعزازکے ساتھ شمشیر اعزازی اور نارمن گولڈ میڈل کے اعزاز سے نوازا گیا۔٭... 1952 ء میں اعلیٰ فوجی ٹریننگ کیلئے کینیڈا بھی گئے۔ ٭...1957ء سے 1959ء تک جی ایس سیکنڈ آپریشنز کی حیثیت سے جہلم اور کوہاٹ میں خدمات سر انجام دیں۔ ٭...1960ء سے1962ء تک پنجاب رجمنٹ جبکہ 1962ء سے1964ء تک انفنٹری سکول کوئٹہ سے وابستہ رہے۔ ٭...جنوری 1965 ء سے مئی 1965ء تک سیکنڈ کمانڈر کے طورپر خدمات سرانجام دیں۔٭...6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے۔ ٭...میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے سترہ پنجاب رجمنٹ کے اٹھائیس افسروں سمیت پانچ دن اور پانچ راتوں تک دشمن کے ہر وار کو ناکام بنائے رکھا۔٭...12ستمبر کو ایک گولہ ان کے سینے کے آرپار ہوگیا۔ جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔٭...وطن کی خاطر اپنی جان نثار کرنے پر انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر دیا گیا، جو 23 مارچ 1966ء کو ان کی اہلیہ نے وصول کیا۔ عزیز بھٹی شہید یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے تیسرے سپوت تھے۔
جنگ ستمبر: ٹینکوں کا حملہ پسپا 1965ء میں آج کے روز پاک بھارت جنگ کے دوران افواج پاکستان نے چونڈہ (پسرور) کے محاذ پر ٹینکوں کا بڑا حملہ پسپا کیا ، اس لڑائی میں دشمن کے 187 ٹینک تباہ ہوئے۔ بین الاقوامی مبصرین نے جنگ عظیم کے بعد اسے ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ قرار دیا۔آج ہی کے دن کھیم کرن میں بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اننت سنگھ نے تین سو سپاہیوں کے ساتھ پاکستانی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ خلائی تحقیق کا نیا سنگ میل2013ء میں ناسا نے تصدیق کی کہ خلائی تحقیقاتی مشن ''وائجر 1‘‘ نظامِ شمسی سے باہر بین النجمی خلا میں داخل ہونے والی انسان کی بنائی ہوئی پہلی شے بن گیا ہے۔ یہ تاریخی کامیابی خلائی تحقیق کے میدان میں اہم سنگ میل قرار دی گئی۔ اس کامیابی سے سائنسدانوں کو نظامِ شمسی کی حدود اورماحول کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئیں۔فرانس:قدیم غار دریافتفرانس میں12 ستمبر 1940ء کو 17 ہزار سالہ پرانا غار ''لاسکاو‘‘ دریافت ہوا۔یہ قدیم فن پاروں کی سب سے محفوظ شکلوں میں سے ایک ہے۔ غار میں600 پینٹگز اور ایک ہزار نقش نگاریاں ملیں۔1963ء میں دیواروں پر فنگس آنے کی وجہ سے اسے بند کر دیا گیا ۔ 1979ء میں اس غار کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ انڈونیشیا کے زلزلے12ستمبر2007ء کو انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں دو شدید زلزلے آئے، جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر بالترتیب 8.4 اور 7.9 ریکارڈ کی گئی۔ ان طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور عمارتوں و دیگر املاک کو نقصان پہنچا۔ قدرتی آفت کے باعث 25 افراد جاں بحق جبکہ 161 زخمی ہوئے۔ بارودفیکٹری تباہ12ستمبر1634ء کو مالٹا کے شہر والیٹا میں بارود بنانے والی ایک فیکٹری دھماکے سے تباہ ہو گئی۔ اس دھماکے میں 22افراد ہلاک اور متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔یہ کارخانہ شہر میں غلاموں کی جیل کے قریب بنایا گیا تھا۔ دھماکے سے قریبی جیسوئٹ چرچ اور کالج کو نقصان پہنچا۔ چرچ کو 1647ء میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ائیر فرانس حادثہ12 ستمبر 1961ء کی ایئر فرانس کی پرواز 2005ء اورلی ہوائی اڈے سے کاسا بلانکا ہوائی اڈے کیلئے ایک طے شدہ بین الاقوامی مسافر پرواز تھی۔جہا ز رن وے سے تقریباًآٹھ کلومیٹر دور گر کر تباہ ہو گیا۔جہاز میں موجود تمام77افراد ہلاک ہو گئے۔ جہاز میں عملے کے 6ارکان بھی سوار تھے۔ یہ حادثہ موسم خراب ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔سارہ گڑھی کی لڑائیسارہ گڑھی کی لڑائی برطانوی راج اور افغان قبائلیوں کے درمیان لڑی گئی۔12ستمبر 1897ء کو 12 سے24 ہزار افغانیوں نے سارہ گڑھی کی چوکی پر حملہ کیا اور قلعہ کو گھیرے میں لے لیا۔ قلعہ میں موجود 21 سپاہیوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ دو دن بعد برطانوی ہندوستانی دستہ نے دوبارہ قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ ان 21 فوجیوں کو بعد از مرگ ''انڈین آرڈر آف میرٹ‘‘ سے نوازا گیا، جو اس وقت ایک ہندوستانی فوجی کو ملنے والا سب سے بڑا بہادری اعزاز تھا۔
ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے والا دنہر سال 9 ستمبر کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے (International Sudoku Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا کے مقبول ترین ذہنی کھیلوں میں شمار ہونے والے سوڈوکو کی اہمیت، مقبولیت اور ذہنی سرگرمی کے طور پر اس کے کردار کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سوڈوکو بظاہر اعداد کاایک سادہ سا کھیل ہے لیکن اسے حل کرنے کے لیے توجہ، منطقی سوچ، صبر اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کا انتخاب بھی دلچسپ وجہ سے کیا گیا۔ روایتی سوڈوکو 9×9 خانوں پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے 9 ستمبر یعنی 9؍9 اس کھیل کے لیے ایک علامتی تاریخ بن جاتی ہے۔ ورلڈ پزل فیڈریشن نے 2013ء میں 9 ستمبر کو انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کے طور پر مقرر کیا تھا۔سوڈوکو کیا ہے؟سوڈوکو ایک منطق پر مبنی عداد کا کھیل ہے جس میں 9×9 کا گرڈ ہوتا ہے۔ یہ گرڈ مزید نو چھوٹے 3×3 خانوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ کھلاڑی کو ایک سے 9 تک کے اعداد اس طرح رکھنے ہوتے ہیں کہ ہر قطار، ہر کالم اور ہر 3×3 خانے میں کوئی عدد دوبارہ نہ آئے۔ کچھ اعداد پہلے سے درج ہوتے ہیں اور انہی اشاروں کی مدد سے باقی خانے مکمل کیے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوڈوکو کو حل کرنے کے لیے ریاضی کے پیچیدہ فارمولوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اصل ضرورت منطق اور مشاہدے کی ہوتی ہے۔ یہی خصوصیت اسے بچوں، نوجوانوں اور بڑوں سب کے لیے قابلِ رسائی بناتی ہے۔سوڈوکو کی تاریخاگرچہ سوڈوکو کی موجودہ شکل نسبتاً جدید ہے لیکن اس کے بنیادی تصورات کا تعلق عداد پر مبنی پرانے کھیلوں سے ملتا ہے۔ 19ویں صدی کے آخر میں فرانس کے اخبارات میں ایسے معمے شائع ہوتے تھے جن میں موجودہ سوڈوکو سے کچھ مماثلت پائی جاتی تھی۔جدید سوڈوکو کے قریب ترین معمے کو Howard Garnsنے 1979ء میں Number Placeکے نام سے تخلیق کیا۔ بعد میں یہ جاپان پہنچا جہاں اسےSudoku کا نام دیا گیا۔ جاپانی پزل پبلشر اور سوڈوکو کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والےMaki Kaji نے اس کھیل کو جاپان میں مقبول بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔1990ء کی دہائی کے آخر اور 2000ء کی دہائی کے آغاز میں سوڈوکو نے برطانیہ سمیت مغربی دنیا میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔ اخبارات نے اسے روزانہ شائع کرنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک عالمی سطح پر معروف ذہنی کھیل بن گیا۔انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کی اہمیتاس دن کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ لوگوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ ذہنی سرگرمی میں حصہ لینے کی ترغیب دیتا ہے۔ آج کے دور میں جب موبائل فون، سوشل میڈیا اور مختصر ویڈیوز نے ہماری روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ لے لیا ہے، سوڈوکو جیسی سرگرمی انسان کو کچھ دیر کے لیے پرسکون انداز میں سوچنے اور توجہ مرکوز کرنے کا موقع دیتی ہے۔سوڈوکو حل کرتے ہوئے کھلاڑی کو ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے۔ ایک غلط عدد کئی دوسرے خانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ کھیل انسان کو جلد بازی کے بجائے غور و فکر اور صبر سے کام لینے کی عادت ڈالتا ہے۔یہ بچوں کے لیے بھی مفید سرگرمی ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ منطقی انداز میں مسائل کو حل کرنے، امکانات کا جائزہ لینے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی مشق کرتے ہیں۔ بالغ افراد بھی اسے اپنے فارغ وقت میں ایک دلچسپ ذہنی مشق کے طور پر اختیار کرتے ہیں۔سوڈوکو صرف اعداد کا کھیل نہیںبہت سے لوگ سوڈوکو کو ریاضی کا کھیل سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں اسے حل کرنے کے لیے اعلیٰ درجے کی ریاضی ضروری نہیں۔ اس کا اصل تعلق منطق سے ہے۔مثلاً اگر کسی قطار میں ایک سے 9 تک آٹھ اعداد موجود ہوں تو کھلاڑی آسانی سے معلوم کر سکتا ہے کہ خالی خانے میں کون سا عدد ہونا چاہیے۔ مشکل پہیلیوں میں یہی عمل متعدد قطاروں، کالموں اور 3×3 خانوں کے درمیان تعلق کو سمجھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔اس طرح سوڈوکو توجہ، یادداشت، مشاہدے اور مسئلہ حل کرنے کی ذہنی مشق فراہم کرتا ہے۔ انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کیسے منایا جاتا ہے؟سوڈوکو ڈے منانے کے لیے کسی بڑی تقریب یا خاص انتظام کی ضرورت نہیں، اس دن کو انتہائی سادہ انداز میں بھی منایا جا سکتا ہے۔ سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ایک سوڈوکو پزل حل کیا جائے۔ سکولوں میں سوڈوکو مقابلے بھی منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ طلبہ کو مختلف سطح کے پزل دیے جا سکتے ہیں۔ اس سے بچوں میں منطقی سوچ اور مسائل حل کرنے کا شوق پیدا ہو گا ۔گھروں میں والدین اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر سوڈوکو حل کر سکتے ہیں۔ یہ خاندان کے افراد کو ایک مشترکہ ذہنی سرگرمی میں شامل کرنے کا اچھا طریقہ ہے۔آج سوڈوکو صرف اخبارات اور کتابوں تک محدود نہیں رہا، موبائل فون اور کمپیوٹر پر بے شمار سوڈوکو ایپس اور آن لائن پلیٹ فارم دستیاب ہیں جہاں آسان سے لے کر انتہائی مشکل پزل تک حل کیے جا سکتے ہیں۔انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تفریح ہمیشہ سکرین، ویڈیو یا گیمز تک محدود نہیں ہوتی۔ ایک کاغذ پر بنے 81 خانے بھی انسان کو گھنٹوں مصروف رکھ سکتے ہیں اور اسے سوچنے، غور کرنے اور مسئلہ حل کرنے کا موقع دے سکتے ہیں۔
ملبے سے ملنے والے نئے راز6 اگست 1945ء کو جاپانی شہر ہیروشیما پر گرایا جانے والا ایٹم بم انسانی تاریخ کے تباہ کن ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس ایک دھماکے نے ہزاروں جانیں لیں، شہر کا بیشتر حصہ تباہ کردیا اور انسانی تاریخ پر ایک ایسا زخم چھوڑا جو آج بھی تازہ ہے۔ لیکن آٹھ دہائیوں بعد سائنسدانوں نے اس سانحے کے ملبے میں ایک ایسا غیر معمولی مادہ دریافت کیا ہے جو اس دھماکے کے انتہائی عجیب و غریب طبعی اثرات کی نئی تصویر پیش کرتا ہے۔محققین نے ہیروشیما کے ساحل کی ریت میں موجود شیشے جیسے انتہائی چھوٹے ذرات کا تجزیہ کیا۔ ان ذرات میں ایک تقریباً 10 مائیکرومیٹر چوڑا دھاتی دانہ ملا جس کی کیمیائی ترکیب اور ایٹمی ساخت پہلے کسی معلوم صنعتی مرکب یا سابقہ ایٹمی دھماکے کے ملبے میں رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایٹمی دھماکے صرف تباہی ہی نہیں بلکہ انتہائی مختصر وقت کے لیے ایسے حالات بھی پیدا کرسکتے ہیں جن میں غیر معمولی مادے وجود میں آجاتے ہیں۔ہیروشیما کے ملبے میں چھپے شیشے کے ذراتایٹمی دھماکے کے دوران پیدا ہونے والی شدید حرارت نے شہر کی عمارتوں، دھاتوں، مٹی، شیشے اور دیگر مواد کو پگھلا کر یا بخارات میں تبدیل کرکے ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا۔ دھماکے کے بعد یہ مواد ٹھنڈا ہوا اور انتہائی چھوٹے شیشے جیسے ذرات کی شکل میں زمین پر واپس آیا۔ ان ذرات کو سائنسدان Hiroshimaites کہتے ہیں۔یہ ذرات دراصل ماضی کے اس تباہ کن لمحے کا ایک طرح کا مادی ریکارڈ ہیں۔ ان کے اندر مختلف دھاتوں اور دیگر مواد کے ذرات محفوظ رہ گئے جن سے سائنسدان یہ سمجھ سکتے ہیں کہ دھماکے کے دوران مادے کے ساتھ کیا ہوا تھا۔حالیہ تحقیق میں ماہرین نے ایسے 34 شیشہ نما ذرات کا جائزہ لیا۔ ان میں زیادہ تر دھاتی ٹکڑے لوہے اور کرومیم پر مشتمل تھے اور ان کی ساخت عام فولاد سے مشابہ تھی۔ لیکن ایک چھوٹا سا دانہ باقی سب سے مختلف نکلا۔اس دانے میں بنیادی طور پر آئرن، کرومیم، سلیکان، نکل، مولیبڈینم، مینگنیز اور ایلومینیم موجود تھے۔ صرف یہ بات اسے غیر معمولی نہیں بناتی کیونکہ مختلف دھاتوں پر مشتمل مرکبات پہلے بھی بنائے جاچکے ہیں۔ اصل حیرت اس وقت سامنے آئی جب سائنسدانوں نے دیکھا کہ ان عناصر کے ایٹم کس انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ منظم ہوئے تھے۔عام فولاد سے بالکل مختلف ایٹمی ترتیبمحققین نے ان انتہائی چھوٹے ذرات کو خصوصی آلات کی مدد سے الگ کیا اور پھر ان کی اندرونی ساخت کا جائزہ لیا اور ایسے عناصر کا ایک ایسا غیر معمولی امتزاج اور ایٹمی انتظام دریافت کیا جو پہلے معلوم نہیں تھا۔سائنسدانوں کے مطابق اس غیر معمولی مرکب کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے دھماکے کے چند لمحوں کے دوران پیدا ہونے والے حالات کو دیکھنا ہوگا۔ہیروشیما کے ایٹمی دھماکے میں درجہ حرارت ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا۔ اس شدید توانائی نے آس پاس موجود مختلف مواد کو پگھلا دیا یا بخارات میں تبدیل کردیا۔ مختلف ذرائع سے آنے والے دھاتی ایٹم ایک انتہائی گرم بادل میں آپس میں مل گئے۔عام حالات میں مختلف عناصر کو اس طرح یکجا کرکے ایک خاص کرسٹل ساخت بنانا مشکل ہوسکتا ہے ۔ ایٹمی دھماکے کے بعد بننے والا آگ کا گولا تیزی سے پھیلنے اور ٹھنڈا ہونے لگا، اس عمل میں مخلوط دھاتی بخارات دوبارہ ٹھوس ذرات میں تبدیل ہوئے اور انتہائی تیز رفتار ٹھنڈک نے ان کے ایٹمی نظم کو تقریباً اسی حالت میں منجمد کردیا جس میں وہ اس مختصر لمحے میں موجود تھا۔ اسی عمل کوUltrafast quenching کہا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق نیا مرکب غالباً مخلوط دھاتی بخارات کے گاڑھے ہونے اور پھر انتہائی تیزی سے ٹھنڈا ہونے کے نتیجے میں تشکیل پایا۔ ایٹمی دھماکہ اگرچہ ایک تباہ کن تجربہ تھا لیکن طبیعیات کے نقطہ نظر سے اس نے انتہائی کم وقت کے لیے ایسے حالات پیدا کیے جو عام تجربہ گاہ میں پیدا کرنا بہت مشکل ہیں۔ایک تباہ کن واقعے سے مستقبل کی سائنس تکاس دریافت کی اہمیت صرف اس عجیب و غریب دھاتی دانے تک محدود نہیں، یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ انتہائی شدید توانائی، درجہ حرارت اور تیز رفتار ٹھنڈک کے امتزاج سے مادے کی ایسی شکلیں پیدا ہوسکتی ہیں جو عام حالات میں نظر نہیں آتیں۔تحقیق کی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں جب کسی ایٹمی دھماکے کے ملبے میں غیر معمولی مادہ دریافت ہوا ہو، اس سے قبل امریکی ریاست نیو میکسیکو میں 1945ء کے ٹرینٹی نیوکلیئر ٹیسٹ سے بننے والے شیشے نما ملبہ، جسے trinitite کہا جاتا ہے، میں بھی ایک غیر معمولی کرسٹل دریافت کیا جاچکا ہے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے ملبے میں مزید ایسے نایاب اور انتہائی چھوٹے مادے موجود ہوسکتے ہیں جنہیں ابھی سائنسدانوں نے دریافت نہیں کیا۔تاہم اس دریافت کو فوری طور پر کسی نئے صنعتی مادے یا مستقبل کی ٹیکنالوجی کا حل سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔اس دریافت کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ مادہ ہماری توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک ہی عنصر مختلف حالات میں مختلف ساختیں اختیار کرسکتا ہے جبکہ کئی معروف عناصر انتہائی غیر معمولی حالات میں مل کر ایسی ترتیب بنا سکتے ہیں جو پہلے کبھی مشاہدے میں نہ آئی ہو۔ہیروشیما کا ملبہ انسانی تباہی کی ایک دردناک یادگار ہے لیکن اس میں محفوظ یہ خوردبینی ذرات سائنسدانوں کو یہ سمجھنے کا ایک نیا موقع فراہم کررہے ہیں کہ انتہائی شدید حالات میں مادہ کیسے تبدیل ہوتا ہے۔ تقریباً 81 سال پہلے رونما ہونے والے ایک تباہ کن واقعے کے اندر چھپا یہ 10 مائیکرومیٹر کا ذراتی راز آج جدید مواد کی سائنس کے لیے ایک حیران کن سوال بن چکا ہے۔
امریکہ کا نیا نام9 ستمبر 1776ء کو دوسری کانٹی نینٹل کانگریس نے نئی قائم ہونے والی ریاست کے لیے سرکاری طور پر یونائیٹڈ سٹیٹس کا نام اختیار کیا۔ اس سے پہلے امریکی نوآبادیوں کے اتحاد کے لیے یونائیٹڈ کالونیزکی اصطلاح استعمال ہوتی تھی۔ جولائی 1776ء میں تیرہ برطانوی نوآبادیوں نے برطانیہ سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اعلانِ آزادی میں بھی ''یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی تھی لیکن 9 ستمبر کو کانگریس کے فیصلے نے اسے سرکاری استعمال کے لیے واضح طور پر اختیار کرلیا گیا۔ نام کی تبدیلی اس بات کی علامت تھی کہ یہ علاقے اب خود کو برطانوی سلطنت کی نوآبادیاں نہیں بلکہ آزاد اور متحد ریاستیں سمجھ رے تھے۔ کیلیفورنیا 31ویں ریاست 9 ستمبر 1850ء کو کیلیفورنیا امریکہ کی 31ویں ریاست بن گیا۔ یہ واقعہ امریکی تاریخ میں اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ کیلیفورنیا نے عام نوآبادیاتی یا علاقائی مرحلے سے گزرے بغیر نسبتاً مختصر مدت میں ریاست کا درجہ حاصل کرلیا۔ اس وقت کیلیفورنیا میں سونے کی دریافت کے نتیجے میں آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی تھی اور دنیا کے مختلف حصوں سے ہزاروں لوگ دولت اور نئے مواقع کی تلاش میں وہاں پہنچنے لگے۔ اس عمل کو ''کیلیفورنیا گولڈ رش‘‘ کہا جاتا ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافے نے علاقے کو باقاعدہ ریاست بنانے کی ضرورت پیدا کردی۔ 9 ستمبر کو ریاست بننے کے بعد کیلیفورنیا نے امریکی سیاست، معیشت اور مغربی علاقوں کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ شمالی کوریا کا قیام9 ستمبر 1948ء کو جزیرہ نما کوریا کے شمالی حصے میں ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا یعنی شمالی کوریا کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ یہ واقعہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی عالمی سیاسی کشمکش اور سرد جنگ کے اہم نتائج میں شمار ہوتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام سے پہلے پورا کوریا جاپانی قبضے میں تھا۔ 1945ء میں جاپان کی شکست کے بعد کوریا کو عارضی طور پر 38ویں متوازی لکیر کے قریب دو انتظامی علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔ شمالی حصے میں سوویت یونین کا اثر قائم ہوا جبکہ جنوبی حصے میں امریکہ کا اثر بڑھ گیا۔اگست 1948ء میں جنوبی حصے میں جمہوریہ کوریا قائم ہوئی تو اس کے تقریباً ایک ماہ بعد 9 ستمبر کو شمالی حصے میں نئی ریاست کے قیام کا اعلان کردیا گیا۔ کِم اِل سنگ اس نئی ریاست کے مرکزی رہنما بنے۔اٹیکا جیل بغاوت9 ستمبر 1971ء کو امریکہ کی ریاست نیویارک میں واقع اٹیکا جیل میں قیدیوں کی ایک بڑی بغاوت شروع ہوئی۔ یہ واقعہ بعد میں امریکی تاریخ میں قیدیوں کے حقوق، جیلوں کے حالات اور ریاستی طاقت کے استعمال کے حوالے سے ایک انتہائی اہم مثال بن گیا۔ اس روز قیدیوں نے جیل کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیا اور درجنوں جیل اہلکاروں کو یرغمال بنالیا۔ بغاوت کے پیچھے جیل کے خراب حالات اور قیدیوں کی شکایات بنیادی عوامل تھے۔ قیدی بہتر طبی سہولتوں، مناسب رہائش، مذہبی آزادی، ملاقات اور خط و کتابت کی سہولت، بہتر خوراک اور انسانی سلوک کا مطالبہ کر رہے تھے۔اٹیکا بغاوت کے بعد امریکی جیلوں کے نظام، قیدیوں کے بنیادی حقوق اور پولیس و ریاستی اداروں کے اختیارات پر طویل بحث شروع ہوئی۔ ماؤ زے تنگ کا انتقال9 ستمبر 1976ء کو چین کے انقلابی رہنما اور عوامی جمہوریہ چین کے بانی ماؤ زے تنگ کا انتقال ہوگیا۔ وہ 20ویں صدی کی عالمی سیاست کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت نے چین کی سیاست، معیشت، سماج اور خارجہ پالیسی پر کئی دہائیوں تک گہرا اثر ڈالا۔ماؤ زے تنگ چینی کمیونسٹ تحریک کے اہم رہنما تھے۔ چینی خانہ جنگی کے دوران انہوں نے کمیونسٹ تحریک کی قیادت کی اور 1949ء میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد ملک کے سب سے طاقتور سیاسی رہنما بن گئے۔ ان کی حکومت نے چین کے معاشی اور سماجی نظام میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ماؤ کے دور کی دو بڑی مہمات ''گریٹ لیپ فارورڈ‘‘ اور ''کلچرل ریوولوشن‘‘ تھیں۔
پاکستان میں تعلیم کی روشنی کہاں تک؟ہر سال 8 ستمبر کو عالمی یومِ خواندگی (International Literacy Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا کو یہ یاد دلانا ہے کہ پڑھنے لکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت محض ایک تعلیمی ہنر نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ یونیسکو کے مطابق خواندگی انسان کو اپنے حقوق سمجھنے، بہتر فیصلے کرنے، معاشی مواقع حاصل کرنے اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ عالمی یومِ خواندگی کا آغاز 1967ء میں ہوا اور رواں سال اس دن کی 60ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔اس سال دنیا بھر میں خواندگی کو بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔ آج صرف حروف پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ انسان کے لیے معلومات کو سمجھنا، درست اور غلط خبر میں فرق کرنا، ڈیجیٹل ذرائع کا ذمہ دارانہ استعمال اور بنیادی حساب کتاب جاننا بھی ضروری ہو چکا ہے۔ پاکستان میں خواندگی کی صورتحالپاکستان کے لیے عالمی یومِ خواندگی محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک اہم قومی یاد دہانی ہے۔ ملک نے گزشتہ برسوں میں خواندگی کے میدان میں کچھ پیش رفت ضرور کی ہے تاہم مجموعی صورتحال اب بھی حالات تشویش کا باعث ہیں۔پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق 10 سال یا اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں پاکستان کی شرحِ خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مردوں میں شرحِ خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین میں 54 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تعلیمی مواقع میں صنفی فرق اب بھی واضح ہے۔شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ شہری علاقوں میں شرحِ خواندگی 74 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 55 فیصد ہے۔ خواتین کے معاملے میں یہ فرق مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ شہری خواتین میں خواندگی 68 فیصد ہے جبکہ دیہی خواتین میں یہ شرح تقریباً 44 فیصد ہے۔صوبائی سطح پر بھی صورتحال یکساں نہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب تقریباً 68 فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ سب سے آگے ہے، سندھ اور خیبر پختونخوا تقریباً 58 فیصد کے قریب ہیں جبکہ بلوچستان تقریباً 49 فیصد کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔لڑکیوں کی تعلیم اور دیہی علاقوں کے چیلنجزپاکستان میں خواندگی کے فروغ کی سب سے بڑی ضرورت دیہی علاقوں اور خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے محسوس ہوتی ہے۔ غربت، سکولوں کا دور ہونا، محفوظ سفری سہولیات کی کمی، اساتذہ کی کمی، کمزور تعلیمی انفراسٹرکچر اور بعض علاقوں میں سماجی رکاوٹیں بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی اہم وجوہات ہیں۔لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینا صرف صنفی مساوات کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کا مسئلہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی صحت، صفائی، تعلیم اور مستقبل کے بارے میں زیادہ بہتر فیصلے کر سکتی ہے اس لیے خواتین کی خواندگی میں اضافہ اگلی نسل کی تعلیم پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔پاکستان میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکنامک سروے 2025-26 ء کے مطابق پانچ سے 16 سال کی عمر کے سکول سے باہر بچوں کا تناسب 2023 ء کے 38 فیصد سے کم ہو کر 2025ء میں 28 فیصد رہ گیا۔تاہم یہ صورتحال اب بھی تشویش کا باعث ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر ڈھائی کروڑ بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں اور اس حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔اس لیے صرف نئے سکول بنانے، بچوں کو سکول تک لانے، انہیں سکول میں برقرار رکھنے اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کا کڑا چیلنج درپیش ہے۔خواندگی کی نئی توجیہاتموجودہ دور میں خواندگی کا تصور روایتی پڑھنے لکھنے سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ ایک شخص اگر اپنا نام لکھ سکتا ہے لیکن کسی بینک فارم، دوا کی ہدایت، سرکاری دستاویز یا آن لائن معلومات کو سمجھنے سے قاصر ہے تو اس کی عملی خواندگی محدود ہے۔پاکستان جیسے ملک میں صحت، مالیات اور ڈیجیٹل خواندگی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے معلومات تک رسائی آسان تو کی ہے لیکن غلط معلومات، جعلی خبروں اور آن لائن فراڈ کے خطرات بھی بڑھا دیے ہیں لہٰذا نئی نسل کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ وہ معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت اور درستگی کو جانچ سکے۔ کیا کرنا ہوگا؟پاکستان میں خواندگی بڑھانے کے لیے سب سے پہلے تعلیم کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ حکومت کو سرکاری سکولوں کے معیار، اساتذہ کی تربیت، نصاب، بنیادی سہولیات اور سکولوں تک رسائی پر مسلسل سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔دیہی علاقوں میں بالخصوص لڑکیوں کے لیے قریبی سکول، محفوظ ٹرانسپورٹ، وظائف اور والدین کی حوصلہ افزائی مؤثر اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔ جو بچے کسی وجہ سے رسمی سکول کا حصہ نہیں بن سکے ان کے لیے بالغ خواندگی مراکز، غیر رسمی تعلیم اور کمیونٹی لرننگ پروگراموں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ عالمی یومِ خواندگی ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے میدان میں پیش رفت کو تیز کیسے کیا جائے۔ایک ایسا پاکستان جہاں ہر بچہ سکول جائے، ہر نوجوان کو معیاری تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کا موقع ملے، ہر عورت پڑھ لکھ سکے اور ہر شہری جدید معلومات کو سمجھ کر اپنے فیصلے کر سکے، صرف ایک تعلیمی خواب نہیں بلکہ مضبوط، خوشحال اور بااختیار معاشرے کی بنیاد ہے۔
مصنوعی ذہانت نے اندرونی دنیا کا نیا نقشہ کیسے بنایاہم جس زمین پر رہتے ہیں اس کا بڑا حصہ آج بھی انسان کے لیے ایک راز ہے۔ ہم نے سمندروں کی تہہ، بلند ترین پہاڑوں اور خلا کے دور دراز حصوں تک تحقیق کی ہے لیکن زمین کے اندر چند ہزار کلومیٹر کی گہرائی میں موجود دنیا تک براہِ راست پہنچنا اب بھی ہماری ٹیکنالوجی کی پہنچ سے باہر ہے۔ سائنسدان زمین کے اندرونی حصے کو سمجھنے کے لیے زلزلوں سے پیدا ہونے والی لہروں کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ یہ لہریں زمین کے مختلف طبقات سے گزرتے ہوئے اپنے راستے اور رفتار میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔اب چینی سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق نے زمین کے انتہائی گہرے حصے کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ محققین نے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کی مدد سے 1990ء سے 2024ء کے دوران دنیا بھر میں ریکارڈ کیے گئے بیس لاکھ سے زائد زلزلوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ اس تجزیے کے دوران تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار ایسے انتہائی کمزور زلزلہ سگنلز شناخت کیے گئے جنہیں ''PKP precursors‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان سگنلز کی مدد سے زمین کے مینٹل اور کور کے درمیان موجود خطے میں چھ ایسی ممکنہ ساختوں کی نشاندہی ہوئی ہے جنہیں پہلے اس انداز میں دستاویزی شکل نہیں دی گئی تھی۔زمین کے اندر 2,900 کلومیٹر کی گہرائی میں کیا ہو رہا ہے؟زمین کی اندرونی ساخت کئی بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔ بیرونی پرت یا کرسٹ، مینٹل، مائع بیرونی کور اور ٹھوس اندرونی کور۔ نئی تحقیق کا مرکز زمین کے مینٹل اور بیرونی کور کے درمیان واقع وہ انتہائی گہرا علاقہ ہے جو سطح سے تقریباً 2900 کلومیٹر نیچے ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں ٹھوس مینٹل کے نیچے انتہائی گرم اور مائع دھاتی بیرونی کور موجود ہے۔ یہاں درجہ حرارت اور دباؤ اس قدر شدید ہوتاہے کہ سطح زمین پر پائی جانے والی چٹانیں ان حالات میں بالکل مختلف خصوصیات اختیار کرسکتی ہیں۔ جب زلزلے کی لہریں ان سے گزرتی ہیں تو ان کی سمت اور رفتارمیں تبدیلی آتی ہے۔ یہ تبدیلیاں محققین کو زمین کے اندر چھپی ساختوں کا سراغ فراہم کرتی ہیں۔مصنوعی ذہانت کا استعمالاس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اتنے بڑے ڈیٹا سیٹ کا تجزیہ روایتی طریقوں سے کرنا انتہائی مشکل تھا۔ PKP precursorsانتہائی کمزور ہوتے ہیں اور انہیں الگ شناخت کرنامحنت طلب کام ہے۔اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے محققین نے مشین لرننگ کا استعمال کیا۔ الگورتھم کو لاکھوں زلزلہ جاتی لہروں کا تجزیہ کرنے کے لیے تربیت دی گئی تاکہ وہ ان انتہائی کمزور سگنلز کو شناخت کرسکے۔ محققین نے مصنوعی ذہانت کے نتائج کی جانچ اور تصحیح بھی کی جس سے نظام کو مزید بہتر بنایا گیا۔نتیجہ حیران کن تھا۔ الگورتھم نے تقریباً 175,000 اعلیٰ معیار کےPKP precursors سگنلز شناخت کیے جو سابقہ مطالعات میں مجموعی طور پر شناخت کیے گئے سگنلز سے تقریباً دس گنا زیادہ ہیں۔ اس وسیع ڈیٹا سے سائنسدان زمین کے نچلے مینٹل اور کور کے قریب موجود غیر معمولی علاقوں کا پہلے سے کہیں زیادہ جامع نقشہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔اس نئے نقشے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں زمین کے اندر موجود یہ غیر معمولی علاقے الگ الگ، چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں دکھائی دیتے تھے۔ نئے ڈیٹا سے اشارہ ملتا ہے کہ ان میں سے بعض ممکنہ طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے وسیع علاقوں یا مسلسل پٹیوں کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ یہ قدیم براعظموں یا سمندری تہہ کے ٹکڑے ہیں؟محققین کے مطابق یہ ساختیں مختلف ارضیاتی عملوں کا نتیجہ ہوسکتی ہیں۔ ایک اہم امکان زمین کی ٹیکٹونک پلیٹس سے متعلق ہے کہ جب ایک سمندری ٹیکٹونک پلیٹ دوسری پلیٹ کے نیچے دھنس جاتی ہے تو اسے subduction کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں سمندری پرت، تلچھٹ اور دیگر مادّہ لاکھوں سال کے دوران زمین کے اندر بہت زیادہ گہرائی تک پہنچ سکتا ہے۔ انتہائی دباؤ اور درجہ حرارت کے باعث یہ مادہ کیمیائی اور معدنیاتی طور پر تبدیل ہوسکتا ہے اور اردگرد کے مینٹل سے مختلف خصوصیات اختیار کرسکتا ہے۔زمین کے اندرونی رازوں کی طرف ایک قدمیہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کہ انسان زمین کے اندر چند ہزار کلومیٹر گہرائی تک براہِ راست مشاہدہ نہیں کرسکتا۔ اس کے باوجود زلزلوں کی لہریں ہمیں ایک طرح کا قدرتی سکین فراہم کرتی ہیں۔ ہر زلزلہ زمین کے اندر سے گزرنے والی بے شمار لہروں کے ذریعے اس کے اندرونی ڈھانچے کے بارے میں معلومات چھوڑ جاتا ہے۔مصنوعی ذہانت نے اب ان بے شمار کمزور سگنلز کو ایک ساتھ سمجھنے کی صلاحیت میں بڑا اضافہ کردیا ہے۔ تقریباًایک لاکھ 75ہزار PKP precursors کی شناخت اور چھ نئے ممکنہ علاقوں کا سامنے آنا اس بات کی مثال ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈیٹا اور جدید کمپیوٹنگ زمین کے اربوں سال پرانے رازوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان ساختوں کی اصل نوعیت جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔ زمین کے اندرونی حصے کا نقشہ جتنا بہتر ہوگا سائنسدان اتنا ہی بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے کہ ہمارے سیارے کی موجودہ ساخت کیسے بنی، ٹیکٹونک پلیٹیں کروڑوں سال کے دوران کہاں گئیں، زمین کے مینٹل میں مادہ کس طرح گردش کرتا ہے اور سطح پر نظر آنے والی ارضیاتی سرگرمیوں کے پیچھے کون سے گہرے عوامل کارفرما ہیں۔
مائیکل اینجلو کے شاہکار کی رونمائی 8 ستمبر 1504ء کو اٹلی کے شہر فلورنس میں عظیم اطالوی فن کار مائیکل اینجلو کا مشہور مجسمہ ''ڈیوڈ‘‘ پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ مجسمہ سنگِ مرمر کے ایک ہی بڑے ٹکڑے سے تراشا گیا تھا جسے اس سے پہلے دوسرے فن کار مشکل سمجھ کر چھوڑ چکے تھے۔اصل منصوبہ یہ تھا کہ مجسمے کو فلورنس کے گرجا گھر کی عمارت کے ایک بلند حصے پر دیگر مجسموں کے ساتھ نصب کیا جائے لیکن شہر کے حکام اور فنکاروں پر مشتمل ایک کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اتنا شاندار مجسمہ ایسی جگہ رکھا جائے جہاں عوام اسے قریب سے دیکھ سکیں؛ چنانچہ اسے فلورنس کے مشہور چوک پیاتسا دَلا سینیوریا میں نصب کیا گیا۔بعد میں اصل مجسمے کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے فلورنس کی اکیڈیمیا گیلری میں منتقل کر دیا گیا جبکہ اس کی نقل پیاتسا دَلا سینیوریا میں نصب ہے۔ سینٹ آگسٹین کی بنیاد 8 ستمبر 1565ء کو ہسپانوی مہم جُو پیڈرو مینیندیز دے آویلیس نے موجودہ امریکی ریاست فلوریڈا میں سینٹ آگسٹین شہر کی بنیاد رکھی۔پیڈرو مینیندیز کو سپین کے بادشاہ فلپ دوم نے فلوریڈا میں ہسپانوی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری دی تھی۔ اُس وقت فرانس کے کچھ آباد کار بھی فلوریڈا کے علاقے میں موجود تھے اور انہوں نے وہاں اپنی بستی قائم کر رکھی تھی۔ سپین کو خدشہ تھا کہ فرانسیسی آباد کار شمالی امریکہ کے اس حصے میں مستقل قدم جما سکتے ہیں۔ مینیدیز اپنی مہم کے ساتھ فلوریڈا پہنچا اور 8 ستمبر کو وہاں اترنے کے بعد ایک مذہبی تقریب منعقد کی اور اس موقع پر نئی بستی کی بنیاد رکھی گئی۔ بعد میں یہ علاقہ برطانیہ اور پھر امریکہ کے زیرِ اقتدار آیالیکن سینٹ آگسٹین اپنی تاریخی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ اٹلی کی جنگ بندی8 ستمبر 1943ء دوسری جنگِ عظیم کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن تھا۔ اسی روز اٹلی اور اتحادی طاقتوں کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ اٹلی اس سے پہلے جرمنی اور جاپان کے ساتھ محوری طاقتوں کے اتحاد میں شامل تھا لیکن 1943ء میں جنگ کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوگئی۔اتحادی افواج نے جولائی 1943ء میں سسلی پر حملہ کیا۔ اس شکست کے بعد اٹلی میں فاشسٹ حکومت کے خلاف شدید سیاسی دباؤ پیدا ہوا۔ بینیٹو مسولینی کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور ایک نئی حکومت قائم ہوئی جس نے اتحادی طاقتوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات شروع کیے۔3 ستمبر 1943ء کو سسلی کے قصبے کاسیبیلے میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ لینن گراڈ کا محاصرہ8 ستمبر 1941ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمن افواج نے سوویت شہر لینن گراڈ، جسے آج سینٹ پیٹرزبرگ کہا جاتا ہے، کا محاصرہ شروع کیا۔ یہ انسانی تاریخ کے طویل ترین اور انتہائی تباہ کن فوجی محاصروں میں سے ایک تھا۔لینن گراڈ سوویت یونین کا ایک اہم صنعتی، ثقافتی اور سیاسی مرکز تھا۔ محاصرے کے دوران خوراک، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔ خاص طور پر 1941ء اور 1942ء کی سخت سردیوں میں حالات انتہائی سنگین ہوگئے۔ بہت سے لوگ بھوک، سردی، بیماری اور مسلسل بمباری کے باعث ہلاک ہوئے۔اس کے باوجود شہر نے جرمن افواج کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔محاصرہ تقریباً 872 دن جاری رہا اور جنوری 1944ء میں سوویت افواج نے اسے توڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ رچرڈ نکسن کو معافی 8 ستمبر 1974ء کو امریکی صدر جیرالڈ فورڈ نے سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کو مکمل اور غیر مشروط صدارتی معافی دے دی۔ یہ واقعہ جدید امریکی سیاسی تاریخ کے انتہائی متنازع واقعات میں شمار ہوتا ہے اور اس کا تعلق واٹرگیٹ سکینڈل سے تھا۔واٹرگیٹ سکینڈل امریکی سیاست کا ایک بڑا بحران تھا۔ اس سکینڈل کے نتیجے میں نکسن پر سیاسی دباؤ مسلسل بڑھتا گیا۔ امریکی کانگریس میں ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی آگے بڑھ رہی تھی۔ بالآخر 9 اگست 1974ء کو رچرڈ نکسن نے امریکی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے استعفے کے بعد نائب صدر جیرالڈ فورڈ نے صدر کا منصب سنبھال لیا۔
ڈائیسن کی جدید پیشرفتدانتوں کی صفائی کیلئے استعمال ہونے والا عام ٹوتھ برش اب مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو کر ایک اسمارٹ ڈیوائس کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ معروف ٹیکنالوجی کمپنی ڈائیسن نے یہ برش متعارف کرایا ہے، جس میں اے آئی سے لیس کیمرا نصب ہے۔ یہ جدید ٹوتھ برش دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی کا جائزہ لینے کے ساتھ صارف کو بہتر برشنگ کیلئے رہنمائی فراہم کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ تاہم اس کی420 پاؤنڈ قیمت نے اسے عام ٹوتھ برش کے مقابلے میں خاصا مہنگا بنا دیا ہے۔ برطانوی کمپنی ڈائیسن اپنے اعلیٰ معیار کے ویکیوم کلینرز کیلئے مشہور ہے، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے اس نے ذاتی نگہداشت کی مصنوعات کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ کمپنی پہلے ہی ہیئر ڈرائیر، ہیئر اسٹریٹنرز، ہاتھ میں پکڑے جانے والے پنکھے اور ایئر پیوریفائر جیسی مصنوعات مارکیٹ میں پیش کرچکی ہے۔ اب ڈائیسن نے ''کیمرہ جیٹ‘‘ کے ذریعے ڈینٹل مصنوعات کی مارکیٹ میں قدم رکھا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ دانت صاف کرنے کا ''بالکل نیا طریقہ‘‘ ہے، جس میں دانتوں کی صفائی اور فلاسنگ کے عمل کو ایک ہی ڈیوائس کے ذریعے انجام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔اس ٹوتھ برش کی سب سے نمایاں خصوصیت اس میں نصب کیمرا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے دانتوں کے درمیان موجود انتہائی باریک خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ جیسے ہی ڈیوائس کسی خلا کا سراغ لگاتی ہے، وہاں منہ صاف کرنے والے محلول کی ایک انتہائی باریک دھار پہنچائی جاتی ہے۔ ڈائیسن کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے منہ کے ان حصوں کی صفائی بھی ممکن ہوتی ہے جہاں عام برش کی رسائی مشکل ہوتی ہے اور یہ عمل فلاسنگ جیسا کام کرتا ہے۔کمپنی کے مطابق اس ٹوتھ برش کی تیاری میں چھ سال لگے ہیں اور یہ مارکیٹ میں دستیاب معروف پریمیم الیکٹرک ٹوتھ برشز کے مقابلے میں 69 فیصد تک زیادہ پلاک ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈائیسن کے بانی اور چیف انجینئر سر جیمز ڈائیسن کا کہنا ہے کہ کمپنی کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ لوگ عموماً ان مقامات کی صفائی نظرانداز کردیتے ہیں جہاں پلاک زیادہ بنتا ہے، یعنی دانتوں کے درمیان موجود خلا۔ ان کے مطابق کمپنی نے تین بنیادی مسائل حل کرنے کی کوشش کی، دانتوں کے درمیان موجود خلا کو دیکھنا، وہاں سے پلاک ختم کرنا اور برشنگ کے مجموعی عمل کو مزید مؤثر بنانا۔سر جیمز ڈائیسن کے مطابق کیمرے، مشین لرننگ، انتہائی درست سیال ٹیکنالوجی، جدید برشنگ ٹیکنالوجی، کنیکٹیویٹی اور وائی فائی کو یکجا کرکے ڈائیسن کیمرہ جیٹ منہ کی صحت برقرار رکھنے کا ایک بالکل نیا طریقہ پیش کرتا ہے۔تاہم 420 پاؤنڈ کی قیمت نے اس نئی ایجاد کو خاصی مہنگی مصنوعات بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ صارفین کو دو متبادل برش ہیڈز کیلئے مزید 25 پاؤنڈ جبکہ ڈائیسن کے تیار کردہ غیر جھاگ دار ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ رِنس کیلئے 8.49 پاؤنڈ اضافی ادا کرنا ہوں گے۔اگرچہ بہت سے لوگ ایک ٹوتھ برش پر 420 پاؤنڈ خرچ کرنے سے گریز کرسکتے ہیں، لیکن قیمتوں کے حوالے سے ڈائیسن کی مصنوعات پہلے بھی توجہ کا مرکز بنتی رہی ہیں۔ اس سے قبل کمپنی نے 820 پاؤنڈ مالیت کے ہیڈ فونز بھی متعارف کرائے تھے، جن میں ہوا صاف کرنے کا ایک غیر معمولی نظام نصب کیا گیا تھا۔زیادہ تر دندان ساز روزانہ دانتوں کو فلاس کرنے کی تجویز دیتے ہیں، تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عملی طور پر برطانیہ کے صرف 10 فیصد افراد روزانہ فلاسنگ کرتے ہیں۔ فلاسنگ کو آسان بنانے کیلئے ڈائیسن نے اپنا ٹوتھ برش تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے میں 661 انجینئرز کی ٹیم کو چھ سال لگے۔ ٹوتھ برش میں نصب کیمرا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے دانت صاف کرتے وقت ہر سیکنڈ میں 28 براہِ راست تصاویر اسکین کرتا ہے۔ جیسے ہی دانتوں کے درمیان کسی خلا کی نشاندہی ہوتی ہے، تقریباً فوری طور پر، یعنی صرف 0.1 سیکنڈ کے اندر، ایک مخروطی شکل کی باریک دھار فعال ہوجاتی ہے، جو اس خلا میں ماؤتھ رِنس اسپرے کرتی ہے۔ تاہم ڈائیسن کے مطابق زیادہ تر واٹر فلاسرز میں سوئی نما دھار استعمال ہوتی ہے، جو دانتوں پر جمی ہوئی ضدی پلاک کو مؤثر طریقے سے ہٹانے میں مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔کمپنی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈائیسن کے تیار کردہ مصنوعی پلاک پر جب اس قسم کی دھار کا تجربہ کیا گیا تو اس نے پلاک میں سوراخ تو کردیا، لیکن اس کی چپچپاہٹ پر قابو پانے اور اسے مکمل طور پر ہٹانے میں ناکام رہی۔اس کے برعکس ڈائیسن کی مخروطی دھار ایک منفرد، وسیع مخروطی شکل کا اسپرے استعمال کرتی ہے۔ اس کا وسیع پھیلاؤ ایک ہی وقت میں زیادہ حصے کو صاف کرتے ہوئے پلاک کو ہٹا دیتا ہے، جبکہ اسے نسبتاً کم دباؤ پر استعمال کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے تاکہ مسوڑھوں اور دانتوں کی بیرونی تہہ (اینامل) پر زیادہ نرمی سے اثر پڑے۔ماؤتھ رِنس ایک خصوصی 'اینٹی گریوٹی ٹینک‘ میں محفوظ رہتا ہے، جو ٹوتھ برش کو کسی بھی زاویے پر رکھنے کے باوجود مسلسل ماؤتھ رِنس کی دھار خارج کرتا رہتا ہے۔ڈائیسن کے مطابق، ''ہمارا اینٹی گریوٹی ٹینک اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اس میں ہوا کے خلاکو ختم کیا جاسکے اور ڈیوائس کو خالی فائر کرنے سے روکا جا سکے۔یہ خصوصیت خاص طور پر دانتوں کے پچھلے حصے کی صفائی کے دوران اہم ہے، کیونکہ اس وقت ڈیوائس عموماً افقی پوزیشن میں ہوتی ہے‘‘۔ جب ماؤتھ رِنس کم ہونے لگتا ہے تو ٹوتھ برش کو اس کے ڈاکنگ اسٹیشن پر رکھتے ہی یہ خودکار طور پر دوبارہ بھر جاتا ہے۔ یہی ڈاکنگ اسٹیشن ٹوتھ برش کو چارج کرنے کا کام بھی انجام دیتا ہے۔جہاں تک برش ہیڈ کا تعلق ہے، سر جیمز ڈائیسن نے اس میں دوہری برسلز پر مشتمل ڈیزائن استعمال کیا ہے، جس میں دو مختلف اقسام کے برسلز شامل ہیں۔اندرونی برسلز قدرے سخت ہیں اور دانتوں پر موجود داغ دھبے دور کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ بیرونی برسلز نرم رکھے گئے ہیں تاکہ مسوڑھوں پر تکلیف یا خراش پیدا نہ ہو۔ لائیو ویونگ کا آپشن آپ مائی ڈائیسن ایپ کے ذریعے لائیو ویونگ کا آپشن منتخب کرسکتے ہیں، جس سے آپ اپنے منہ کے اندر کی براہِ راست ویڈیو دیکھ سکیں گے۔ ایپ پر صارفین کو رہنمائی کے ساتھ دانتوں کی صفائی، طریقہ استعمال کی ویڈیوز، برشنگ اور فلاسنگ سے متعلق معلومات، صفائی کے احاطے کی نقشہ بندی اور ذاتی نوعیت کی رہنمائی بھی دستیاب ہوگی۔
''میراتھن کی دنیا کا ساتواں عجوبہ‘‘سڈنی میراتھن 2026ء نے دوڑ کے شائقین کو نہ صرف شاندار کھیل کا نظارہ فراہم کیا بلکہ متعدد نئے ریکارڈز کے باعث تاریخ کا حصہ بھی بن گئی۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والی اس عالمی سطح کی دوڑ میں ہزاروں ایتھلیٹس نے شرکت کی، جبکہ ایتھوپیا کے اَدی سو گوبینا نے 2 گھنٹے 4 منٹ 42 سیکنڈ میں دوڑ مکمل کرکے نیا کورس ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے ساتھ خواتین کی دوڑ میں کینیا کی پیرس جیپچیرنے کامیابی حاصل کی، جبکہ مختلف کیٹیگریز میں بھی نمایاں ریکارڈز قائم ہوئے۔ مجموعی طور پر سڈنی میراتھن 2026ء نے ثابت کردیا کہ یہ مقابلہ اب صرف ایک میراتھن نہیں بلکہ دنیا کے ممتاز ترین رننگ ایونٹس میں اپنی جگہ مضبوط کرچکا ہے۔مسلسل تیسرے سال گنیز ورلڈ ریکارڈز نے سڈنی میراتھن میں غیر معمولی کارنامے انجام دینے والے ریکارڈ ساز رنرز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ دن طویل فاصلے کی دوڑ کے تازہ ترین ایڈیشن کا موقع تھا، جبکہ سڈنی نے دنیا کی سات ایبٹ ورلڈ میراتھن میجرز میں شامل ہونے کی دوسری سالگرہ بھی منائی۔ دنیا کے 140 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے کھیلوں کے نامور کھلاڑی اور شوقیہ رنرز آسٹریلیا کے اس شہر میں جمع ہوئے تاکہ اپنی جسمانی برداشت اور صلاحیتوں کو آزما سکیں۔ اس مقابلے کو ''میراتھن کی دنیا کا ساتواں عجوبہ‘‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ایڈجوڈی کیٹر برائن سوبل بھی موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے میراتھن کے دوران قائم یا توڑے جانے والے ریکارڈز کی باضابطہ تصدیق کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان تمام رنرز کی حوصلہ افزائی اور حوصلہ بلند کیا جنہوں نے اپنی دوڑ کو ایک اضافی چیلنج کے ذریعے مزید یادگار اور غیر معمولی بنانے کا فیصلہ کیا۔برائن نے کہا کہ کینسر کے علاج کے چیلنجز پر قابو پانے، ماحولیاتی مسائل کے بارے میں شعور اجاگر کرنے یا غیر روایتی لباس میں میراتھن میں حصہ لینے جیسے مختلف کارناموں کے ذریعے ان رنرز نے ثابت کردیا ہے کہ ریکارڈ قائم کرنا کس قدر خاص اور غیر معمولی تجربہ ہوسکتا ہے۔ ان کامیابیوں کا مشاہدہ کرنا اور یہ دیکھنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ یہ رنرز گنیز ورلڈ ریکارڈز کے تاریخی صفحات میں اپنے لیے جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔سڈنی میراتھن 2026ء کے اختتام پر ریکارڈ قائم کرنے کی چھ کوششوں میں سے تمام چھ کامیاب رہیں۔40 ہزار سے زائد ایتھلیٹس شمالی سڈنی کی ملر اسٹریٹ پر جمع ہوئے، جہاں میراتھن کا آغاز صبح 6 بج کر 15 منٹ پر ہوا۔ رنرز 42.195 کلومیٹر طویل میراتھن کورس مکمل کرنے کیلئے تیار تھے۔ ان کا مقصد میڈل کے ساتھ گنیز ورلڈ ریکارڈز کا اعزاز اپنے نام کرنا تھا۔ فنِش لائن عبور کرنے والا پہلا رنر آسٹریلوی ایتھلیٹ اور سابق پیشہ ور سائیکلسٹ ٹوبی فلر تھا۔غیر معمولی عزم، استقامت اور متاثر کن جسمانی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹوبی فلر نے ملٹی پل مائیلوما کے مرض میں مبتلا مرد کی جانب سے تیز ترین میراتھن مکمل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے یہ فاصلہ 3 گھنٹے، 18 منٹ اور 1 سیکنڈ میں طے کیا۔ ٹوبی کو 23 برس کی عمر میں ملٹی پل مائیلوما کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ ہڈیوں میں موجود پلازما خلیوں کو متاثر کرنے والی ایک ناقابلِ علاج قسم کی کینسر کی بیماری ہے۔ وہ گزشتہ پانچ برس سے اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ٹوبی تسلیم کرتے ہیں کہ بیماری کی وجہ سے مستقل بنیادوں پر تربیت کرنا مشکل ہے، تاہم انہوں نے کبھی کوشش ترک نہیں کی اوردوڑ جاری رکھی۔ ٹوبی نے آج یہ ریکارڈ قائم کرکے ایک منفرد مثال قائم کر دی۔ ان کا مقصد کینسر کے ساتھ زندگی گزارنے والے دوسرے افراد کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ اپنی بیماری کے باوجود اپنے خوابوں کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں۔برسبین سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹ کینٹ اوہوری نے دن کا دوسرا ریکارڈ اپنے نام کیا۔ انہوں نے بیئر کین کا لباس پہن کر تیز ترین میراتھن مکمل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ کینٹ نے یہ دوڑ 3 گھنٹے، 28 منٹ اور 27 سیکنڈ میں مکمل کی۔کینٹ اوہوری اپنی غیر معمولی ایتھلیٹک صلاحیتوں اور کھیلوں و صحت مند طرزِ زندگی کے فوائد اجاگر کرنے کے مشن کے باعث اس سے قبل بھی خبروں کی زینت بن چکے ہیں۔ اس مرتبہ انہوں نے سڈنی کے مشہور اوپیرا ہاؤس کے سامنے فنش لائن عبور کی تو وہ نارنجی اور سفید رنگ کے بیئر کین کے لباس میں ملبوس تھے۔ کینٹ برسبین میں قائم معروف رننگ کمیونٹی ری باؤنڈ کلب کے بانی ہیں، جو رنرز، ٹرائیتھلیٹس اور کھیلوں سے وابستہ افراد کیلئے ایک کمیونٹی ہے۔دن کی ایک اور نمایاں کامیابی فل برینٹ کی تھی، جو سڈنی سے تعلق رکھنے والے ڈیجیٹل اور کمیونیکیشنز کے ماہر ہیں۔ انہوں نے کچھوے کا روپ دھارتے ہوئے رینگنے والے جانور کے لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے (مرد) کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ فل برینٹ نے دلکش سبز رنگ کا کچھوے کا لباس پہن کر میراتھن 3 گھنٹے، 45 منٹ اور 52 سیکنڈ میں مکمل کی۔ سڈنی میراتھن کے ریکارڈ ہولڈرزٹوبی فلرملٹی پل مائیلوما کے مرض میں مبتلا مرد کی جانب سے تیز ترین میراتھن کا ریکارڈ قائم کیا گیا،انہوں نے مطلوبہ فاصلہ 3 گھنٹے 18 منٹ 1 سیکنڈمیں طے کیا۔کینٹ اوہوری بیئر کین کے لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد،انہوں نے مطلوبہ فاصلہ 3 گھنٹے 28 منٹ 27 سیکنڈمیں طے کیا۔کرس فائیویجسم کے اندر نصب ذیلی جلدی ڈیفبریلیٹر کے ساتھ تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد، فاصلہ3 گھنٹے 36 منٹ 27 سیکنڈمیں طے کیا۔فل برینٹرینگنے والے جانور کے لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد، 3 گھنٹے 45 منٹ 52 سیکنڈمیں فاصلہ کیا۔ربیکا جوئنر اسکاؤٹ یونیفارم میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والی خاتون، 3 گھنٹے 55 منٹ 37 سیکنڈمیں فاصلہ مکمل کیا۔نلہاری بھنڈاری روایتی بھوٹانی لباس میں تیز ترین میراتھن مکمل کرنے والا مرد ، 4 گھنٹے 7 منٹ 6 سیکنڈمیں مطلوبہ فاصلہ طے کیا۔
چین میں ہلاکت خیز زلزلہ5ستمبر 2022ء کو چین کے صوبہ سیچوان میں 6.8 شدت کا شدید زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ زلزلے کے جھٹکوں سے متعدد عمارتیں منہدم ہوئیں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جبکہ کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔ اس قدرتی آفت کے باعث کم از کم 93 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 25 افراد لاپتا ہوگئے۔ '' ڈسکوری‘‘ کا پہلا خلائی سفر1984ء میں آج کے روز اسپیس شٹل ڈسکوری نے اپنا پہلا خلائی مشن ''ایس ٹی ایس 41ڈی‘‘ مکمل کیا اور کامیابی سے زمین پر واپس آئی۔ یہ ڈسکوری کا اوّلین خلائی سفر تھا، جس کے دوران خلائی شٹل نے مختلف سائنسی اور تکنیکی سرگرمیاں انجام دیں۔ مشن کی کامیاب تکمیل کے بعد اس کی بحفاظت واپسی خلائی تحقیق اور قابلِ استعمال خلائی شٹل ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔پین ایم فلائٹ 73 ہائی جیک5ستمبر 1986ء کو بھارت سے پاکستان آنے والی ''پین ایم فلائٹ 73‘‘ کو کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہائی جیک کر لیا گیا۔ طیارے میں عملے سمیت 358 افراد سوار تھے۔ ہائی جیکنگ کے دوران مسافروں اور عملے کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا گیا۔ یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ میں پیش آنے والے اہم اور المناک فضائی واقعات میں شمار ہوتا ہے، جس نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔سری لنکا میں قتل عام5 ستمبر 1990ء کو سری لنکن خانہ جنگی کے دوران ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ سری لنکن فوج کے اہلکاروں نے ایسٹرن یونیورسٹی قتل عام کے دوران 158 شہریوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ ملک میں جاری طویل خانہ جنگی کے دوران ہونے والی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شمار ہوتا ہے۔ترکی : اسلحہ خانے میں دھماکہ 5 ستمبر 2012 ء کو افون کاراحسار، ترکی میں اسلحہ خانے میں دھماکہ ہوا۔ ترک مسلح افواج کے مطابق حادثے میں 25 فوجی ہلاک اور تین شہری زخمی ہوئے۔دھماکے کے بعد علاقے میں آگ لگ گئی۔ آگ بجھانے کے بعد دو نان کمیشنڈ افسران، دو اسپیشل سارجنٹس اور 21 پرائیویٹ گارڈز کو مردہ حالت میں نکالا گیا۔ اس حادثے کی بعد کئی تحقیقاتی کمیشن بنائے گئے۔محمد علی کا اولمپک طلائی تمغہ 1960ء میں آج کے روز امریکا کے عظیم باکسر محمد علی، جو اس وقت کیسیئس کلے کے نام سے جانے جاتے تھے، نے روم میں منعقدہ اولمپک کھیلوں میں لائٹ ہیوی ویٹ باکسنگ مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ جیتا۔ بعد ازاں وہ دنیا کے عظیم ترین باکسرز میں شمار ہوئے۔
کیا انسان بھی روبوٹ جیسا بن رہاہے؟مصنوعی ذہانت (AI) ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ ہم معلومات حاصل کرنے، لکھنے، خریداری کرنے، کسٹمر سروس لینے، تعلیم حاصل کرنے اور حتیٰ کہ ذاتی مشورے کے لیے بھی AI سے بات کرتے ہیں۔ جدید AI صرف سوال کا جواب نہیں دیتی بلکہ ہماری زبان، اندازِ گفتگو اور ترجیحات کو سمجھ کر اپنے جواب کو ہمارے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے۔ بظاہر یہ سہولت انسان اور مشین کے درمیان فاصلے کو کم کرتی ہے، لیکن ایک تحقیق نے ایک دلچسپ اور قدرے تشویشناک سوال اٹھایا ہے: کیا مشینیں انسانوں جیسا بننے کے ساتھ ساتھ انسانوں کو بھی مشین جیسا بنا رہی ہیں؟ انسان مشین کے انداز کو کیوں اپناتا ہے؟یونیورسٹی آف برمنگھم کے محققین کے مطابق انسان سماجی ماحول میں دوسروں کے رویوں کی لاشعوری طور پر نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے نفسیات میں mirroring کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر سامنے والا شخص مسکرائے تو ہم بھی مسکرا دیتے ہیں، اگر وہ مخصوص انداز میں گفتگو کرے تو ہم بھی غیر محسوس طور پر اپنا انداز بدل سکتے ہیں۔اب یہی عمل AI یا سماجی روبوٹس کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ جدید AI صارف کی گفتگو کے مطابق اپنے الفاظ، انداز اور ردعمل کو تبدیل کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک دو طرفہ عمل پیدا ہو سکتا ہے کہ روبوٹ انسان جیسا بنتا ہے اور انسان روبوٹ کے انداز کو اپنانا شروع کر دیتا ہے۔ محققین نے اسی تصور کو ''Robotoid Humanness‘‘ کا نام دیا ہے۔ روبوٹ جیسا ہونے سے مراد کیا ہے؟یہاں روبوٹ جیسا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اچانک جذبات سے عاری مشین بن جائے گا۔ اس سے مراد زیادہ تر بات چیت، رویے اور سوچ کے انداز میں تبدیلی ہے ،مثلاً اگر کوئی شخص مسلسل ایسے AI سسٹم سے گفتگو کرے جو مختصر، براہِ راست، حکم یا معلومات پر مبنی جملوں کو ترجیح دیتا ہو تو ممکن ہے کہ وہ خود بھی گفتگو میں زیادہ مختصر، رسمی اور مشینی انداز اختیار کرنے لگے۔ بار بار ایسا ہونے سے انسان اپنی گفتگو کو جذبات، غیر ضروری تفصیل اور انسانی اشاروں سے کم کر سکتا ہے۔یہ اثر خاص طور پر ان ماحول میں اہم ہو سکتا ہے جہاں انسان کا AI سے مسلسل رابطہ ہو، جیسے کسٹمر سروس، صحت، ریٹیل اور دیگر خدمات۔ تحقیق کے مطابق بار بار ہونے والی ایسی تعاملات انسان کے اپنے بارے میں تصور کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ اصل خطرہ AI نہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ انحصار ہےاس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ AI استعمال کرنا خطرناک ہے یا ہر وہ شخص جو ChatGPT سے بات کرتا ہے روبوٹ بن جائے گا۔ یہ تحقیق بنیادی طور پر ایک تصوری اور نظریاتی فریم ورک پیش کرتی ہے کہ انسان اور مشین کے درمیان مسلسل تعامل کس طرح رویوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے اس خبر کو یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ AI ہر انسان کی شخصیت تبدیل کر دیتی ہے۔اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب انسان AI کے ردعمل کو اپنی شخصیت یا فیصلوں کا مستقل پیمانہ بنانا شروع کر دے۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ الگورتھم کی مسلسل توثیق انسان میں Confirmation bias پیدا کر سکتی ہے؛ یعنی انسان صرف وہی ردعمل قبول کرنے لگے جو اس کے پہلے سے موجود خیالات کی تصدیق کرے۔ اسی طرح مسلسل مثبت یا منفی فیڈ بیک انسان کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ انسانی پہلو کو زندہ رکھنا ضروری ہےAI ایک کارآمد ٹیکنالوجی ہے لیکن اسے انسان کا متبادل نہیں بلکہ معاون سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ AI ہمیں معلومات جلد فراہم کر سکتی ہے اور پیچیدہ کام آسان کر سکتی ہے مگر انسانی تعلقات میں ہمدردی، غیر لفظی اشارے، جذبات، تجربہ اور اخلاقی ذمہ داری کی اپنی اہمیت ہے،لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ ہم AI سے بات کیوں کرتے ہیں اصل سوال یہ ہے کہ ہم AI کے ساتھ بات کرنے کے بعد انسانوں سے کیسے بات کرتے ہیں۔ اگر AI ہماری زندگی کو آسان بنائے، ہماری سوچ کو وسیع کرے اور ہمیں زیادہ مؤثر بنائے تو یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ لیکن اگر ہم انسانی گفتگو، تنقیدی سوچ اور حقیقی تعلقات کو چھوڑ کر ہر معاملے میں الگورتھم کی منظوری تلاش کرنے لگیں تو یہ تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔آخرکار، ٹیکنالوجی کا مقصد انسان کو مشین بنانا نہیں بلکہ انسان کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ AI جتنی زیادہ انسانی ہوتی جائے اتنا ہی ضروری ہے کہ انسان اپنی انسانیت کو برقرار رکھنے کے بارے میں زیادہ باشعور رہے۔
دو بڑے سمندروں کے درمیان موسمیاتی تعلق بدل گیا سمندر صرف پانی کے وسیع ذخیرے نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی نظام کے بنیادی ستون ہیں۔ ایک سمندر میں ہونے والی تبدیلی اکثر ہزاروں کلومیٹر دور دوسرے سمندر، فضا، بارش اور درجہ حرارت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اب سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ اس قدرتی نظام کے ایک اہم اور دیرینہ تعلق کو تبدیل کر رہی ہے۔'نیچر کمیونیکیشنز ‘میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے درمیان صدیوں سے قائم ایک اہم موسمیاتی تعلق حالیہ دہائیوں میں نمایاں طور پر کمزور بلکہ اپنی نوعیت میں تبدیل ہو گیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ تبدیلی صرف سمندروں کے گرم ہونے تک محدود نہیں بلکہ ان کے درمیان موجود موسمیاتی رابطے کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ بحرِ ہند کا درجہ حرارت ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا کے بڑے حصوں میں بارش اور موسم کے حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔بحرالکاہل ، بحرِ ہند موسمیاتی پل کیسے کام کرتا ہے؟بحرالکاہل اور بحرِ ہند بظاہر ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں لیکن فضا ان دونوں کے درمیان ایک قدرتی پل کا کام کرتی ہے۔ اس تعلق میں بحرالکاہل کے اوپر موجودPacific Walker Circulation انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ ایک وسیع فضائی گردش ہے جو سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں فرق کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ گرم سمندری پانی کے اوپر ہوا گرم ہو کر اوپر اٹھتی ہے، فضا میں حرکت کرتی ہے، دوسرے علاقوں میں نیچے آتی ہے اور یوں ہواؤں اور بارش کے بڑے نظام تشکیل پاتے ہیں۔عام حالات میں بحرالکاہل میں ہونے والی تبدیلیاں اس فضائی نظام کے ذریعے بحرِ ہند کے درجہ حرارت کو بھی متاثر کرتی رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ایل نینو جیسے واقعات کے دوران یہ گردش کمزور ہو سکتی ہے اور اس کا اثر بحرِ ہند تک پہنچ سکتا ہے۔ماضی میں بحرالکاہل کی اس فضائی گردش میں تبدیلی اور بحرِ ہند کے وسیع پیمانے پر درجہ حرارت میں تبدیلی کے درمیان ایک نسبتاً مستحکم تعلق موجود تھا۔ سائنسدان اسی تعلق کو موسمی حالات کی پیش گوئی کے لیے بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب یہ تعلق پہلے جیسا نہیں رہا۔گلوبل وارمنگ نے کیا تبدیل کیا؟تحقیق کے مطابق 1950ء کی دہائی سے اب تک بحرِ ہند کے گرم ہونے کی رفتار تقریباً 0.1 ڈگری سیلسیس فی دہائی رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 1980ء کی دہائی کے بعدPacific Walker Circulation میں بھی مضبوطی دیکھی گئی۔بظاہر یہ دونوں تبدیلیاں الگ الگ عوامل معلوم ہوتی ہیں لیکن ان کے باہمی اثرات نے سمندروں کے درمیان روایتی موسمیاتی تعلق کو تبدیل کر دیا ہے۔ تحقیق کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ حالیہ دہائیوں میں بحرالکاہل کی فضائی گردش اور بحرِ ہند کے درجہ حرارت کے درمیان تعلق کی سمت ہی تبدیل ہو گئی ہے۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو بحرِ ہند اب پہلے کی طرح بحرالکاہل کی تبدیلیوں کی پیروی نہیں کر رہا۔ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی گرین ہاؤس گیسوں اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی طویل مدتی گرمی اب بحرالکاہل کے قدرتی اثرات پر غالب آ رہی ہے۔یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کیونکہ اگر دو بڑے سمندروں کے درمیان پرانا تعلق تبدیل ہو جائے تو صرف سمندری درجہ حرارت ہی متاثر نہیں ہوگا بلکہ وہ موسمی نظام بھی بدل سکتے ہیں جن پر کروڑوں انسانوں کی زندگی اور معیشت منحصر ہے۔400 سالہ موسمیاتی ریکارڈ نے کیا بتایا؟یہ سوال اہم تھا کہ موجودہ تبدیلی واقعی غیر معمولی ہے یا ماضی میں بھی قدرتی طور پر ایسی صورتحال پیدا ہوتی رہی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ جدید آلات کے ذریعے سمندروں کے درجہ حرارت اور فضائی گردش کی قابلِ اعتماد پیمائش کا ریکارڈ تقریباً ایک صدی تک ہی محدود ہے۔ اس لیے محققین نے ماضی کے موسمی حالات جاننے کے لیے قدرتی ریکارڈز سے مدد لی۔شاون وانگ اور ان کے ساتھیوں نے 35 مرجانی ریکارڈز، تین درختوں کے حلقوں کے ریکارڈز اور ایک غار میں بننے والی معدنی تہہ سے حاصل ہونے والے شواہد استعمال کیے۔ ان قدرتی ریکارڈز کی مدد سے محققین نے 1631ء سے 1990 ء تک بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے موسمیاتی حالات کو دوبارہ سمجھنے کی کوشش کی۔نتائج حیران کن تھے۔ تقریباً چار صدیوں کے زیادہ تر عرصے میں دونوں سمندروں کے موسمیاتی نظام ایک دوسرے کے ساتھ نسبتاً مضبوط تعلق رکھتے تھے۔البتہ 1810ء سے 1850ء کے درمیان یہ تعلق خاصا کمزور ہوا تھا۔ اس دور میں کئی بڑے آتش فشانی دھماکے ہوئے جن میں 1815 ء میں انڈونیشیا کے ماؤنٹ تمبورا کا تباہ کن دھماکا بھی شامل تھا۔بڑے آتش فشانی دھماکوں سے سلفر پر مشتمل ذرات فضا کی بلند تہوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ذرات سورج کی روشنی کا کچھ حصہ واپس خلا میں منعکس کر دیتے ہیں جس سے زمین کا درجہ حرارت عارضی طور پر کم ہو سکتا ہے۔ چونکہ یہ ٹھنڈک دنیا کے مختلف حصوں میں یکساں نہیں ہوتی اس لیے سمندری درجہ حرارت، ہواؤں اور فضائی گردش میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔مستقبل کی موسمی پیش گوئیوں کیلئے خطرے کی گھنٹیمحققین نے موجودہ دور کے تعلق کو گزشتہ ایک ہزار سال کے موسمیاتی ماڈلز اور ریکارڈز سے بھی موازنہ کیا۔ 1945ء سے 2025ء کے عرصے میں دونوں سمندروں کے درمیان تعلق میں جو تبدیلی سامنے آئی وہ ماضی کی قدرتی تبدیلیوں کے مقابلے میں غیر معمولی نکلی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے درمیان ہر قسم کا موسمیاتی تعلق ختم ہو گیا ہے، تاہم جو تبدیلی آئی ہے وہ موسمی پیش گوئیوں کے لیے اہم ہے۔یہ تبدیلی خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا کے لیے اہم ہے جہاں بحرِ ہند کا درجہ حرارت بارش اور موسمی حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بارش کے نظام اور پانی کی دستیابی پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اہم چیلنج بن چکے ہیں۔ مستقبل میں سمندروں کے درمیان بدلتے تعلقات ان پیش گوئیوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ایکٹیم کی جنگدو ستمبر 31 قبل مسیح کو یونان کے مغربی ساحل کے قریب ایکٹیم کے مقام پر ایک فیصلہ کن بحری جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ میں رومی رہنما اوکٹیوین کی افواج کا مقابلہ مارک انٹونی اور مصر کی ملکہ کلیوپیٹرا ہفتم کی مشترکہ طاقت سے ہوا۔ یہ معرکہ رومی جمہوریہ کے آخری دور میں اقتدار کے لیے جاری شدید سیاسی اور فوجی کشمکش کا نتیجہ تھا۔ اوکٹیوین اور انٹونی دونوں روم کی سب سے طاقتور شخصیات میں شامل تھے لیکن ان کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے۔ انٹونی نے مصر کی ملکہ کلیوپیٹرا کے ساتھ سیاسی اور ذاتی اتحاد قائم کر لیا تھا، جسے اوکٹیوین نے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھا۔ایکٹیم کی جنگ کا سب سے بڑا نتیجہ یہ تھا کہ اوکٹیوین روم کا واحد طاقتور حکمران بن گیا۔ بعد میں وہ آگسٹس کے نام سے روم کا پہلا شہنشاہ بنا۔ لندن کی عظیم آتش زدگیدو ستمبر 1666ء کو لندن میں آتش زدگی کا خوفناک واقعہ ہوا۔ اُس زمانے میں لندن کا بڑا حصہ لکڑی کی عمارتوں، تنگ گلیوں اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تعمیرات پر مشتمل تھا۔ ان حالات کے باعث آگ کو روکنا انتہائی مشکل تھا۔ اس کے علاوہ خشک موسم اور تیز ہوا نے بھی آگ کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔آگ چند گھنٹوں میں آس پاس کے علاقوں تک پہنچ گئی اور پھر شہر کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت آگ بجھانے کے لیے جدید فائر بریگیڈ، پانی کے پائپوں اور فائر ٹرکوں جیسی سہولیات موجود نہیں تھیں۔اس تباہی میں لندن کی ہزاروں عمارتیں جل گئیں۔ آگ کے بعد لندن کی تعمیرِ نو شروع ہوئی، عمارتوں میں اینٹ اور پتھر استعمال کرنے اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر توجہ دی گئی۔ امریکی محکمہ خزانہ کا قیامدو ستمبر 1789ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں محکمہ خزانہ قائم کیا گیا۔ یہ اقدام نئی امریکی وفاقی حکومت کے ابتدائی دور میں انتہائی اہم تھا۔ امریکی انقلاب کے بعد امریکہ ایک نئے آئینی اور وفاقی نظام کی طرف بڑھ چکا تھا لیکن نئی حکومت کو اپنے مالی معاملات چلانے کے لیے ایک منظم مرکزی ادارے کی ضرورت تھی۔ اسی ضرورت کے تحت کانگریس نے محکمہ خزانہ قائم کیا۔ بعد میں الیگزینڈر ہملٹن امریکہ کے پہلے وزیرِ خزانہ مقرر ہوئے۔ انہوں نے امریکی مالیاتی نظام کو منظم کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ ان کی مالیاتی پالیسیوں نے ابتدائی امریکی ریاست کو معاشی طور پر مضبوط بنانے میں مدد دی۔ دوسری جنگِ عظیم کا اختتامدوستمبر 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کا ایک تاریخی مرحلہ مکمل ہوا۔ اس روز جاپان کے نمائندوں نے امریکی بحری جہازپر ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کیے۔ اس دستاویز کے ذریعے جاپانی حکومت اور اس کی مسلح افواج نے اتحادی طاقتوں کے سامنے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ تقریب میں اتحادی طاقتوں کی جانب سے جنرل ڈگلس میک آرتھر نے نمائندگی کی۔دستاویز پر دستخط کے بعد دوسری جنگِ عظیم کا آخری بڑا محاذ بھی باضابطہ طور پر ختم ہو گیا۔ جاپان نے 15 اگست 1945ء کو ریڈیو کے ذریعے اپنے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا تھا لیکن دو ستمبر کو ہونے والی تقریب نے اس فیصلے کو قانونی اور رسمی شکل دی۔ اسی لیے دو ستمبر کو عام طور پر دوسری جنگِ عظیم کے رسمی اختتام کی تاریخ سمجھا جاتا ہے۔ ویتنام کا اعلانِ آزادیدو ستمبر 1945ء کو ویتنام کے رہنما ہو چی منہ نے ہنوئی میں ایک بڑے عوامی اجتماع کے سامنے ویتنام کی آزادی کا اعلان کیا۔ ویتنام طویل عرصے تک فرانسیسی نوآبادیاتی اقتدار کے تحت رہا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان نے بھی ویتنام پر اپنا اثر قائم کیا۔ 1945ء میں جاپان کی شکست کے بعد ویتنام میں سیاسی صورت حال تبدیل ہوئی۔ہو چی منہ نے دو ستمبر کو عوام کے سامنے جو اعلان پڑھا اس میں ویتنامی عوام کے آزادی اور خودمختاری کے حق پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر ہنوئی میں ایک بہت بڑا عوامی اجتماع موجود تھا، جس نے آزادی کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔اگرچہ اس اعلان کے بعد ویتنام کو فوری مکمل آزادی حاصل نہیں ہوئی۔1954ء میں فرانسیسی افواج کی شکست کے بعد ویتنام کی سیاسی تقسیم اور بعد کی جنگیں کئی دہائیوں تک جاری رہیں۔