میتھ 2.0 ڈے

میتھ 2.0 ڈے

مستقبل کی معیشت،سائنسی ترقی کی بنیادہر سال 8 جولائی کو میتھ 2.0 ڈے (Math 2.0 Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن ریاضی اور جدید ٹیکنالوجی کے باہمی تعلق کو اجاگر کرنے کے لیے وقف ہے۔ اگرچہ یہ اقوام متحدہ کا منظور شدہ عالمی دن نہیں تاہم دنیا بھر میں تعلیمی ادارے، ریاضی دان، سائنسدان اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اس موقع پر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اکیسویں صدی کی ترقی میں ریاضی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس دن کا آغاز 2009ء میں Math 2.0 Interest Groupکے قیام کی یاد میں کیا گیا، جس کا مقصد ریاضی کی تعلیم کو جدید ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ریاضی: ہر جدید ایجاد کی بنیادآج کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس، خلائی تحقیق، سائبر سکیورٹی، انجینئرنگ، مالیاتی نظام، موسمیاتی پیشگوئی ، طبی تحقیق غرض سائنس جس قسم کی بھی ہو، کسی شعبے کا ریاضی کے بغیر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سمارٹ فون، آن لائن بینکنگ، نیویگیشن سسٹم، ای کامرس، سرچ انجن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی پیچیدہ ریاضیاتی اصولوں پر کام کرتے ہیں۔ریاضی صرف اعداد و شمار کا علم نہیں بلکہ منطقی سوچ، تجزیہ، درست فیصلہ سازی اور مسائل کے حل کا فن بھی سکھاتی ہے۔ یہی صلاحیتیں آج کی عالمی معیشت میں سب سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک ابتدائی جماعتوں ہی سے بچوں میں ریاضیاتی سوچ پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔پاکستان میں ریاضی کے فروغ کی ضرورتپاکستان میں ریاضی کی تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ہمارے ملک میں عموماً طالب علموں کی ریاضی کی قابلیت کمزور ہے اور بہت سے طلبہ ریاضی کو صرف امتحان پاس کرنے کی مجبوری سمجھتے ہیں ، اس کے عملی استعمال، منطقی پہلو اور سائنسی اہمیت پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ رٹے پر مبنی تدریسی انداز، عملی سرگرمیوں کی کمی اور محدود وسائل اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور اساتذہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ریاضی کو کمپیوٹر پروگرامنگ، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، انجینئرنگ اور روزمرہ زندگی کی مثالوں کے ساتھ پڑھایا جائے ، طلبہ اس علم کو عملی زندگی سے جوڑ سکیں۔اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے انہیں جدید تدریسی تکنیک، ڈیجیٹل ٹولز، انٹرایکٹو سافٹ ویئر اور مسئلہ حل کرنے پر مبنی تدریسی طریقوں سے روشناس کرایا جانا ضروری ہے۔ اسی طرح سکولوں اور کالجوں میں ریاضی کے مقابلوں، STEM سرگرمیوں، سائنس میلوں اور روبوٹکس کلبوں کا فروغ طلبہ میں دلچسپی پیدا کر سکتا ہے۔والدین کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟بچوں کی تعلیمی کامیابی میں والدین کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ریاضی کے حوالے سے گھر کا ماحول بچے کے اعتماد پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر والدین خود ریاضی کو مشکل یا خوفناک مضمون قرار دیں تو بچے بھی یہی تاثر لیں گے ۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کو سوال پوچھنے کی ترغیب دیں، غلطیوں پر تنقید کے بجائے رہنمائی کریں اور انہیں مسلسل مشق کی اہمیت سے آگاہ کرتے رہیں۔نیز خریداری، گھریلو بجٹ، وقت، فاصلے، کھیلوں کے سکور اور روزمرہ کے دیگر معاملات میں ریاضی کے استعمال کو بچوں کے سامنے اجاگر کرنا چاہیے تاکہ وہ محسوس کریں کہ ریاضی صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہے۔چھوٹے بچوں کے لیے عددی کھیل، منطقی پہیلیاں، تعمیراتی بلاکس اور ذہنی مشقیں ریاضیاتی سوچ کو مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ ریاضی کو محض امتحانی مضمون کے بجائے ایک دلچسپ ذہنی مشق کے طور پر دیکھیں۔علم پر مبنی معیشت کی جانب سفردنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، مشین لرننگ، فِن ٹیک اور جدید صنعتوں میں کامیابی کے لیے مضبوط ریاضیاتی بنیاد ناگزیر ہے۔ اگر ہم علم اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی تشکیل چاہتے ہیں تو ریاضی کی تعلیم کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ حکومت، سکولز، اساتذہ اور والدین کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ایسا تعلیمی ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں تجزیاتی سوچ، تحقیق، اختراع اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو فروغ ملے۔میتھ 2.0 ڈے ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ریاضی صرف نمبروں کا علم نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت، سائنسی ترقی اور قومی خوشحالی کی بنیاد ہے۔ اگر آج کے بچوں کی تعلیمی بنیاد کو ریاضی کی تعلیم اور جدید سائنسی سوچ فراہم کی جائے تو یہ کل پاکستان کو ٹیکنالوجی اور تحقیق کے میدان میں نئی بلندیوں تک لے جا ئیں گے۔

پاکستان دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کا مسکن

پاکستان دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کا مسکن

پاکستان کو قدرت نے ایسی جغرافیائی دولت سے نوازا ہے جو دنیا کے بہت کم ممالک کے حصے میں آئی ہے۔ ملک کے شمالی علاقہ جات میں قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلے نہ صرف بے مثال قدرتی حسن پیش کرتے ہیں بلکہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور قطبی علاقوں سے باہرگلیشیئرز کا سب سے بڑا مرکز ہیں۔ دنیا میں 8000 میٹر سے بلند صرف 14 چوٹیاں موجود ہیں، جنہیں ایٹ تھاوزنڈرز(Eight Thousanders) کہا جاتا ہے۔ ان میں سے پانچ پاکستان میں ہیں، جس کے باعث نیپال کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد موجود ہے۔کے ٹو (K2)کے ٹو پاکستان کی سب سے بلند اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8611 میٹر (28251 فٹ) ہے۔ یہ قراقرم کے سلسلے میں ضلع شگر، گلگت بلتستان میں پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اپنی انتہائی دشوار گزار چڑھائی، غیر متوقع موسمی تبدیلیوں اور شدید برفانی طوفانوں کی وجہ سے اسےSavage Mountain کہا جاتا ہے۔ 31 جولائی 1954ء کو اطالوی کوہ پیما اچیلے کمپاگنونی اور لینو لاچیڈیلی نے پہلی مرتبہ اس چوٹی کو سر کیا۔نانگا پربت نانگا پربت پاکستان کی دوسری اور دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8126 میٹر (26660 فٹ) ہے۔ یہ ہمالیہ کے مغربی کنارے پر ضلع دیامر، گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ ماضی میں متعدد ناکام مہمات اور ہلاکتوں کی وجہ سے اسے قاتل پہاڑ (Killer Mountain) کہا جاتا تھا۔ 1953ء میں آسٹریا کے ہرمن بوہل نے پہلی مرتبہ تنہا اس چوٹی کو سر کر کے کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے دامن میں واقع فیری میڈوز دنیا کے حسین ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔گاشر برم ۔iگاشر برم۔i جسے ہڈن پیک بھی کہا جاتا ہے پاکستان کی تیسری اور دنیا کی گیارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8080 میٹر (26509 فٹ) ہے۔ یہ قراقرم کے سلسلے میں بلتورو گلیشیئر کے شمال مشرق میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ اس چوٹی کی برفانی دیواریں اور دشوار راستے اسے انتہائی مشکل مہمات میں شمار کرتے ہیں۔ پہلی کامیاب مہم 1958ء میں امریکی کوہ پیماؤں نے مکمل کی۔براڈ پیک براڈ پیک پاکستان کی چوتھی اور دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8051 میٹر (26414 فٹ) ہے۔ اس کا نام اس کی تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر چوڑی برفانی چوٹی کی وجہ سے رکھا گیا۔ یہ کے ٹو سے تقریباً آٹھ کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ 1957ء میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں نے پہلی مرتبہ اسے سر کیا۔گاشر برم ۔iiگاشر برم ۔ii پاکستان کی پانچویں اور دنیا کی تیرہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8035 میٹر (26362 فٹ) ہے۔ یہ بھی قراقرم کے سلسلے میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں میں اسے نسبتاً کم دشوار سمجھا جاتا ہے، اسی لیے ہر سال بڑی تعداد میں بین الاقوامی کوہ پیما اس کا رخ کرتے ہیں۔ پہلی کامیاب مہم 1956ء میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں نے مکمل کی۔ملک عزیز میں صرف یہی پانچ عظیم چوٹیاں نہیں بلکہ 7000 میٹر سے بلند 108 اور 6000 میٹر سے بلند سینکڑوں چوٹیاں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں ملک میں 7000 سے زائد گلیشیئر پائے جاتے ہیں جن میں بالتورو، بیافو، ہسپر، بتورا اور سیاچن نمایاں ہیں۔پولر علاقوں سے باہر یہ دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز کا ذخیرہ ہے جو دریائے سندھ کے آبی نظام کو پانی فراہم کرتا ہے اور پاکستان کی زراعت، ماحولیات اور معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔حالیہ برسوں میں پاکستان عالمی کوہ پیمائی اور ماؤنٹین ٹورازم کا ایک نمایاں مرکز بن کر ابھرا ہے۔ ہر سال یورپ، امریکہ، جاپان، چین، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے سینکڑوں کوہ پیما کے ٹو، نانگا پربت، براڈ پیک اور گاشر برم کی چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ اس سے مقامی معیشت، سیاحت اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلیاں برفانی علاقوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں جس سے قدرتی ماحول، آبی وسائل اور پہاڑی آبادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ان قدرتی ذخائر کے تحفظ، ذمہ دارانہ سیاحت کے فروغ اور سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری مستقبل کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان کی فلک بوس چوٹیاں صرف جغرافیائی شناخت نہیں بلکہ قومی فخر، قدرتی ورثے اور عالمی سیاحتی امکانات کی علامت ہیں۔ اگر ان قدرتی وسائل کا تحفظ کیا جائے اور عالمی معیار کی سیاحتی سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستان ماؤنٹین ٹورازم میں دنیا کے ممتاز ترین مقامات میں اپنی مقام مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

واسکو ڈی گاما کی ہندوستان مہم 8 جولائی 1497ء کو پرتگالی ملاح واسکو ڈی گاما چار جہازوں کے ساتھ لزبن سے روانہ ہوا۔ اس مہم کا مقصد یورپ سے ہندوستان تک براہِ راست سمندری راستہ تلاش کرنا تھا۔ اس سے پہلے یورپی تاجر ایشیا سے تجارت کے لیے زمینی راستوں یا عرب تاجروں پر انحصار کرتے تھے، جس کی وجہ سے مصالحہ جات، ریشم اور دیگر قیمتی اشیاکی تجارت محدود اور مہنگی تھی۔واسکو ڈی گاما نے افریقہ کے جنوبی سرے کیپ آف گڈ ہوپ کا چکر لگایا اور تقریباً دس ماہ بعد ہندوستان کے ساحلی شہر کالیکٹ پہنچا۔ اس سفر نے عالمی تجارت کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ پرتگال نے بحرِ ہند میں اپنی تجارتی اور عسکری موجودگی مضبوط کی جس کے بعد برطانیہ، ہالینڈ اور فرانس سمیت دیگر یورپی طاقتیں بھی ایشیا میں داخل ہوئیں۔ جنگِ پولٹاوا میں روس کی فتح8 جولائی 1709ء کو عظیم شمالی جنگ (Great Northern War) کے دوران جنگِ پولٹاوا لڑی گئی جس میں روس کے بادشاہ پیٹر دی گریٹ نے سویڈن کے بادشاہ چارلس XII کو فیصلہ کن شکست دی۔سترہویں صدی میں سویڈن شمالی یورپ کی سب سے طاقتور سلطنت تھا لیکن پولٹاوا کی شکست کے بعد اس کی عسکری برتری ختم ہونا شروع ہوگئی۔ اس فتح کے بعد روس کو بحیرہ بالٹک تک مضبوط رسائی ملی اور سینٹ پیٹرزبرگ کی ترقی کی راہ ہموار ہوئی جو بعد میں روسی سلطنت کا دارالحکومت بنا۔اس جنگ نے یورپ کے سیاسی توازن کو تبدیل کر دیا۔ روس نہ صرف فوجی اعتبار سے مضبوط ہوا بلکہ سفارتی اور معاشی میدان میں بھی اس کا اثرورسوخ بڑھ گیا۔ کموڈور پیری کی جاپان آمد8 جولائی 1853ء کو امریکی بحریہ کے کموڈور میتھیو سی پیری اپنے جنگی جہازوں کے ساتھ جاپان کی ایڈو بے (موجودہ ٹوکیو بے) پہنچے۔ اس وقت جاپان تقریباً ڈھائی سو برس سے بیرونی دنیا سے الگ تھلگ رہنے کی پالیسی پر عمل کر رہا تھا۔پیری نے امریکی صدر کا خط جاپانی حکام کے حوالے کیا اور تجارتی و سفارتی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جدید جنگی جہازوں کی موجودگی نے جاپانی حکومت پر دباؤ ڈالا جس کے نتیجے میں اگلے سال معاہدہ کھاناگاوا طے پایا۔ اس معاہدے نے جاپان کے دروازے مغربی دنیا کے لیے کھول دیے۔اس واقعے کے بعد جاپان میں جدید اصلاحات کا آغاز ہوا جو بعد میں میجی اصلاحات کی صورت میں سامنے آئیں۔ ورمونٹ میں غلامی کا خاتمہ8 جولائی 1777ء کو ورمونٹ جمہوریہ نے اپنا پہلا آئین منظور کیا جس میں غلامی کے خاتمے کی شق شامل تھی۔ اس وقت ورمونٹ ابھی امریکہ کی ریاست نہیں بنا تھا بلکہ ایک آزاد جمہوریہ تھا۔ یہ شمالی امریکہ کی پہلی آئینی دستاویزات میں شمار ہوتا ہے جس نے غلامی کو آئینی سطح پر مسترد کیا۔اس آئین میں غلامی کے خاتمے کے علاوہ عوامی تعلیم، مذہبی آزادی، شہری حقوق اور نمائندہ حکومت جیسے جدید اصول بھی شامل کیے گئے تھے۔اس اقدام نے بعد میں امریکہ میں غلامی کے خاتمے کی تحریک کو فکری بنیاد فراہم کی۔1791ء میں ورمونٹ امریکہ کی چودہویں ریاست بنا۔ شٹل پروگرام کا آخری مشن 8 جولائی 2011ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی شٹل اٹلانٹس نے مشن STS-135کے ساتھ اپنی آخری پرواز کا آغاز کیا۔ یہ تقریباً تیس برس تک جاری رہنے والے امریکی سپیس شٹل پروگرام کا آخری مشن تھا۔1981ء میں شروع ہونے والے اس پروگرام کے دوران 135 کامیاب خلائی مشنز انجام دیے گئے۔ ان مشنز کے ذریعے متعدد مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے گئے، بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا گیا اور سائنسی تحقیق کے بے شمار منصوبے مکمل ہوئے۔اٹلانٹس کی آخری پرواز کے بعد امریکہ نے چند برس تک اپنے خلابازوں کو روسی خلائی جہازوں کے ذریعے خلائی سٹیشن بھیجنا جاری رکھا۔

ورلڈ چاکلیٹ ڈے

ورلڈ چاکلیٹ ڈے

ذائقے، تاریخ اور تہذیب کا دلکش سفرہر سال 7 جولائی کو دنیا بھر میں چاکلیٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن چاکلیٹ کی دلچسپ تاریخ، اس کی ثقافتی اہمیت، معاشی کردار اور دنیا بھر میں اس کی غیر معمولی مقبولیت کو اجاگر کرنے کیلئے مخصوص ہے۔7 جولائی کو ورلڈ چاکلیٹ ڈے منانے کی روایت کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس دن 1550ء میں چاکلیٹ یورپ میں متعارف ہوئی تھی ‘ تاہم چاکلیٹ کے عالمی دن کا انعقاد 2009 سے شروع ہوا اور اب یہ دنیا کے متعدد ممالک میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ چاکلیٹ صرف ایک میٹھی غذا نہیں بلکہ خوشی، محبت، دوستی اور جشن کی علامت بھی بن چکی ہے۔قدیم تہذیبوں سے جدید دنیا تک چاکلیٹ کی کہانی ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس کی ابتدا وسطی اور جنوبی امریکہ کی قدیم تہذیبوں خصوصاً مایا اور ازٹیک اقوام سے ہوئی۔ ان تہذیبوں میں کوکو کے درخت کو مقدس سمجھا جاتا تھا اور اس کے بیجوں سے ایک مشروب تیار کیا جاتا تھا جو مذہبی رسومات، شاہی تقریبات اور خصوصی مواقع پر استعمال ہوتا تھا۔ ازٹیک حکمران کوکو کے بیجوں کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ انہیں بطور کرنسی بھی استعمال کیا جاتا تھا۔پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپی مہم جو جب امریکہ پہنچے تو وہ کوکو کے بیج اپنے ساتھ یورپ لے گئے۔ ابتدا میں چاکلیٹ صرف شاہی خاندانوں اور امرا تک محدود تھی لیکن بعد میں اس میں چینی، دودھ اور مختلف ذائقے شامل کیے گئے جس سے یہ زیادہ خوش ذائقہ اور مقبول ہوگئی۔ انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب نے چاکلیٹ کی تیاری کو آسان، تیز اور نسبتاً سستا بنا دیا جس کے بعد یہ عام لوگوں کی دسترس میں بھی آگئی۔آج چاکلیٹ دنیا کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی غذاؤں میں شامل ہے۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے افراد اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ سالگرہ، شادی، عید، کرسمس اور دیگر خوشی کے مواقع پر چاکلیٹ بطور تحفہ پیش کرنا ایک خوبصورت روایت بن چکی ہے۔کوکو کی پیداوار میں مغربی افریقہ کے ممالک خصوصاً آئیوری کوسٹ اور گھانا قابل ذکر ہیں۔صحت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کا استعمال اینٹی آکسیڈنٹس اور فلیونوئیڈز فراہم کرتا ہے جو دل کی صحت اور خون کی گردش کے لیے مفید ہوسکتے ہیں۔ تاہم چینی اور چکنائی سے بھرپور چاکلیٹ کا زیادہ استعمال موٹاپے، ذیابیطس اور دانتوں کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔ چاکلیٹ ڈے کی تقریبات اور مقبولیتچاکلیٹ ڈے کے موقع پر مختلف ممالک میں چاکلیٹ فیسٹیول، نمائشیں، کوکنگ مقابلے اور خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ چاکلیٹ بنانے والی کمپنیاں نئی مصنوعات متعارف کراتی ہیں اور صارفین کے لیے خصوصی رعایتوں کا اعلان بھی کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنی پسندیدہ چاکلیٹس، گھریلو ترکیبیں اور تصاویر شیئر کرکے اس دن کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔پاکستان میں بھی چاکلیٹ کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی برانڈز کی مصنوعات ہر بڑے شہر میں آسانی سے دستیاب ہیں جبکہ بیکریوں، کیفیز اور گھروں میں چاکلیٹ سے تیار کردہ کیک، براونیز، ڈیزرٹس اور دیگر اشیا کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔خوشیوں کا عالمی ذائقہورلڈ چاکلیٹ ڈے صرف ایک میٹھی چیز سے لطف اندوز ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ ہمیں اس طویل سفر کی بھی یاد دلاتا ہے جو کوکو کے ایک چھوٹے سے بیج نے قدیم امریکی تہذیبوں سے شروع کیا اور آج پوری دنیا کے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ دن اس صنعت سے وابستہ لاکھوں کسانوں اور کارکنوں کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کرنے، ذمہ دارانہ خریداری کی حوصلہ افزائی کرنے اور اعتدال کے ساتھ اس لذیذ نعمت سے لطف اندوز ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ چاکلیٹ بلاشبہ ذائقے، خوشی، تہذیب اور انسانوں کو قریب لانے والی ایک ایسی مشترکہ زبان ہے جسے دنیا بھر میں یکساں محبت سے سمجھا جاتا ہے۔

لیبارٹری میں بلیک ہول کی نقل

لیبارٹری میں بلیک ہول کی نقل

کیا سائنس نے ایک نئی منزل عبور کر لی؟کائنات کے سب سے پراسرار اور طاقتور اجسام میں بلیک ہولز کو ہمیشہ ایک منفرد مقام حاصل رہا ہے۔ ان کی کششِ ثقل اتنی شدید ہوتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہو سکتی۔ کئی دہائیوں تک بلیک ہول صرف نظریاتی طبیعیات اور فلکیات کا موضوع رہے لیکن اب سائنسدانوں نے لیبارٹری میں ایک ایسا تجربہ کیا ہے جس نے بلیک ہول کے رویے کو سمجھنے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ جرمنی کی پیڈربورن یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے بلیک ہول کی ایک تجرباتی نقل تیار کی جس میں ایسے آثار دیکھے گئے جو معروف سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کے پیش کردہ ''ہاکنگ ریڈی ایشن‘‘ اور بلیک ہول کے آہستہ آہستہ ختم ہونے کے تصور سے مطابقت رکھتے ہیں۔یہ خبر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ سائنسدانوں نے لیبارٹری میں حقیقی بلیک ہول بنا لیا ہے حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ دراصل محققین نے ایک ایسا تجرباتی نظام تشکیل دیا جو بلیک ہول کی بعض طبیعی خصوصیات کی نقل کرتا ہے۔ اس نظام میں روشنی اور جدید آپٹیکل فائبر ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس میں روشنی کا رویہ بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن سے مشابہ ہو جاتا ہے۔بلیک ہول کیا ہے؟بلیک ہول خلا کا وہ خطہ ہے جہاں مادہ انتہائی کثافت کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے۔ اس کی کششِ ثقل اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ کوئی بھی شے حتیٰ کہ روشنی بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتی۔ بلیک ہول کی سرحد کو ایونٹ ہورائزن کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی چیز اس حد کے اندر داخل ہو جائے تو اس کا واپس آنا ممکن نہیں رہتا۔طویل عرصے تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ بلیک ہول صرف مادے اور توانائی کو نگلتے ہیں مگر 1974ء میں برطانوی طبیعیات دان سٹیفن ہاکنگ نے ایک انقلابی نظریہ پیش کیا۔ ان کے مطابق کوانٹم طبیعیات کے قوانین کے تحت بلیک ہول مکمل طور پر سیاہ نہیں ہوتے بلکہ نہایت معمولی مقدار میں تابکاری خارج کرتے ہیں، جسے Hawking Radiationکہا جاتا ہے۔ اگر یہ عمل مسلسل جاری رہے تو انتہائی طویل مدت کے بعد بلیک ہول اپنی توانائی کھو کر مکمل طور پر ختم بھی ہو سکتے ہیں۔لیبارٹری میں کیا کیا گیا؟اس نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک حقیقی بلیک ہول بنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ ایک ایسا تجرباتی ماڈل تیار کیا جس میں روشنی کی لہروں کو اس انداز سے کنٹرول کیا گیا کہ وہ بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن جیسا رویہ اختیار کریں۔تجربے کے دوران محققین نے دیکھا کہ یہ مصنوعی نظام بھی توانائی خارج کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں خود اس نظام کی حالت میں معمولی تبدیلی آتی ہے۔ طبیعیات کی زبان میں اسے بیک ری ایکشن(Backreaction) کہا جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس تجربے کو منفرد بناتا ہے کیونکہ اس سے پہلے ہاکنگ ریڈی ایشن کے نظریے کے اس حصے کا براہِ راست تجرباتی مشاہدہ ممکن نہیں ہو سکا تھا۔اس تحقیق کی اہمیتیہ کامیابی اس لیے اہم ہے کہ حقیقی بلیک ہول تک پہنچ کر ان پر تجربات کرنا ممکن نہیں۔ ان کا مشاہدہ صرف دوربینوں اور فلکیاتی آلات کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس لیبارٹری میں تیار کیے گئے ایسے اینالاگ نظام سائنسدانوں کو بلیک ہول کے نظریات کو عملی طور پر جانچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔یہ تحقیق کوانٹم میکینکس اور آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ جدید طبیعیات کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ دونوں نظریات الگ الگ حالات میں تو انتہائی کامیاب ہیں لیکن انہیں ایک متحد نظریے میں یکجا کرنا اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ بلیک ہول اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے بہترین قدرتی تجربہ گاہ سمجھے جاتے ہیں۔کیا حقیقی بلیک ہول بخارات بن جاتے ہیں؟سائنسی نظریے کے مطابق ہاں، لیکن یہ عمل ناقابلِ یقین حد تک سست ہوتا ہے۔ ایک ستارے کے انہدام سے بننے والے بلیک ہول کو مکمل طور پر ختم ہونے میں موجودہ کائنات کی عمر سے بھی کھربوں کھربوں گنا زیادہ وقت درکار ہوگا۔ اس لیے کسی حقیقی بلیک ہول کا بخارات بننا انسان شاید کبھی براہِ راست نہ دیکھ سکیں۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے مزید تجربات نہ صرف ہاکنگ ریڈی ایشن بلکہ بلیک ہول انفارمیشن پیراڈوکس جیسے پیچیدہ سوالات کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس نے کئی دہائیوں سے ماہرین فزک کو حیران کر رکھا ہے کہ اگر بلیک ہول بخارات بن کر ختم ہو جائے تو اس میں گرنے والے مادے کا کیا ہوتا ہے؟لیبارٹری میں بلیک ہول کی نقل تیار کرنے کا یہ تجربہ فلکیاتی طبیعیات اور کوانٹم سائنس کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اگرچہ یہ حقیقی بلیک ہول نہیں تھا لیکن اس نے سٹیفن ہاکنگ کے تقریباً نصف صدی پرانے نظریات کو سمجھنے کے لیے ایک راہ ہموار کی ہے۔ یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ سائنس میں بعض اوقات سب سے بڑی پیش رفت براہِ راست کائنات میں نہیں بلکہ ایک لیبارٹری کے محدود ماحول میں ہوتی ہے۔ مستقبل میں اسی نوعیت کے تجربات شاید ہمیں کائنات کے ان رازوں تک پہنچا دیں جو آج بھی انسانی فہم سے باہر ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

چین جاپان جنگ کا آغاز7 جولائی 1937ء کو بیجنگ کے قریب واقع مارکو پولو پل پر جاپانی اور چینی افواج کے درمیان ایک فوجی جھڑپ ہوئی جو بعد میں دوسری چین جاپان جنگ کا آغاز ثابت ہوئی۔ ابتدا میں یہ ایک محدود تصادم تھا لیکن چند ہی دنوں میں یہ ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہوگیا جو 1945ء تک جاری رہی اور بعد ازاں دوسری جنگ عظیم کے ایشیائی محاذ کا اہم حصہ بن گئی۔اس جنگ میں کروڑوں چینی شہری متاثر ہوئے مورخین کے مطابق مارکو پولو پل کا واقعہ بیسویں صدی کے اہم ترین عسکری اور سیاسی واقعات میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اس نے ایشیا میں ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی بنیاد رکھی۔ ہوائی کا الحاق7 جولائی 1898ء کو امریکی صدر ولیم میک کنلے نے نیولینڈز ریزولوشن پر دستخط کیے جس کے ذریعے آزاد جمہوریہ ہوائی کو باضابطہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ میں شامل کر لیا گیا۔ اس سے چند سال قبل 1893ء میں ملکہ لیلی اوکالانی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا اور امریکی مفادات کے حامی افراد نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ہسپانوی۔امریکی جنگ کے دوران بحرالکاہل میں ہوائی کی تزویراتی اہمیت بڑھ گئی، جس کے باعث امریکی کانگریس نے اس کے الحاق کی منظوری دی۔ بعد ازاں پرل ہاربر امریکی بحریہ کا سب سے اہم اڈہ بن گیا جہاں 1941ء میں جاپانی حملے نے امریکہ کو دوسری جنگ عظیم میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ برائیونی معاہدہ 7 جولائی 1991ء کو کروشیا کے جزائر برائیونی میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس نے سلووینیا کی آزادی کے بعد شروع ہونے والی دس روزہ جنگ کا خاتمہ کیا۔ اس معاہدے میں سلووینیا، کروشیا، یوگوسلاویہ اور یورپی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔معاہدے کے مطابق سلووینیا اور کروشیا نے اپنی آزادی کے اعلان پر تین ماہ تک عملدرآمد مؤخر کرنے پر اتفاق کیا تاہم عملی طور پر یہ سقوطِ یوگوسلاویہ کی شروعات ثابت ہوا۔ اگرچہ اس معاہدے نے سلووینیا میں فوری خونریزی روک دی لیکن بعد میں کروشیا اور بوسنیا میں شدید جنگیں شروع ہوگئیں جن میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ مریخ روور اپرچونیٹی7 جولائی 2003ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے مشہور مریخی روور اپرچونیٹی (Opportunity) کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا۔جنوری 2004ء میں مریخ پر کامیاب لینڈنگ کے بعد اس روور نے اپنی متوقع 90 روزہ مدت کے بجائے تقریباً پندرہ برس تک کام جاری رکھا جو خلائی تحقیق کی تاریخ کی غیر معمولی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے ہزاروں تصاویر اور سائنسی معلومات زمین پر بھیجیں جن سے معلوم ہوا کہ مریخ پر ماضی میں مائع پانی موجود تھا۔ اس دریافت نے مریخ پر زندگی کے امکانات سے متعلق تحقیق کو نئی جہت دی۔ 2018ء میں طوفان کے باعث اس سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ لندن 7/7 حملے7 جولائی 2005ء کو لندن میں ٹرانسپورٹ سسٹم پر چار خودکش بم حملے کیے گئے۔ تین دھماکے زیرزمین ٹرینوں میں جبکہ چوتھا ایک ڈبل ڈیکر بس میں ہوا۔ ان حملوں میں 52 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے ۔یہ برطانیہ کی جدید تاریخ کا بدترین دہشت گرد حملہ تھا۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ نے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین سخت کیے، انٹیلی جنس اداروں کے اختیارات میں اضافہ کیا اور عوامی مقامات کی سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ اس سانحے نے پوری دنیا میں شہری سلامتی، شدت پسندی کے انسداد اور بین الاقوامی تعاون پر نئی بحث چھیڑ دی۔

دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس

دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس

چین نے سائنس کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کر دیسائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں برتری حاصل کرنا آج کی دنیا میں معاشی اور صنعتی طاقت کی علامت بن چکا ہے۔ جو ممالک جدید تحقیق، مصنوعی ذہانت، خلائی سائنس اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہ مستقبل کی عالمی قیادت کیلئے اپنی پوزیشن مضبوط بنا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں چین نے دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس تیار کرکے ایک ایسا سنگ میل عبور کیا ہے جسے نہ صرف سائنسی دنیا میں غیر معمولی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے مستقبل میں صاف، محفوظ اور تقریباً لامحدود توانائی کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت بھی سمجھا جا رہا ہے۔چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف پلازما فزکس نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے ''مصنوعی سورج‘‘ منصوبے کے تحت تیار کیے گئے فیوژن ری ایکٹر کے دو اہم سپر کنڈکٹنگ مقناطیسی نظام کامیابی سے تمام تکنیکی اور عملی آزمائشوں میں سرخرو رہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ''ٹورائیڈل فیلڈ‘‘ (TF) سپر کنڈکٹنگ مقناطیس ہے، جو اب تک کسی بھی فیوژن ری ایکٹر کیلئے تیار کیا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا مقناطیس بن چکا ہے۔یہ عظیم الشان مقناطیس اپنے حجم اور صلاحیت کے لحاظ سے بھی حیران کن ہے۔ اس کی لمبائی 21 میٹر، چوڑائی 12 میٹر اور اونچائی 3.3 میٹر ہے، جبکہ اس کا مجموعی وزن 582 ٹن ہے۔ اس کا حجم بین الاقوامی فیوژن منصوبے (ITER )میں استعمال ہونے والے ٹورائیڈل مقناطیس سے تقریباً 1.3 گنا زیادہ ہے، جبکہ یہ تین گنا زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس منصوبے کی تکنیکی پیچیدگی اور چین کی انجینئرنگ مہارت کا واضح ثبوت ہیں۔سپر کنڈکٹنگ مقناطیس دراصل ٹوکامک فیوژن ری ایکٹر کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی کام انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان پیدا کرنا ہے، جو ایک کروڑ نہیں بلکہ دس کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ درجہ حرارت پر موجود پلازما کو قابو میں رکھتا ہے۔ اگر یہ مقناطیسی میدان نہ ہو تو پلازما کو کسی مادی برتن میں محفوظ رکھنا ممکن نہیں، کیونکہ اتنی شدید حرارت ہر مادے کو پگھلا سکتی ہے۔ اسی لیے سپر کنڈکٹنگ مقناطیس کو فیوژن ری ایکٹر کا دل تصور کیا جاتا ہے۔اس منصوبے کی تیاری محض ایک صنعتی کامیابی نہیں بلکہ مسلسل چھ برس پر محیط تحقیق، ڈیزائننگ، انجینئرنگ اور سخت آزمائشوں کا نتیجہ ہے۔ اس دوران چینی سائنس دانوں نے 47 نئے پیٹنٹس حاصل کیے اور 14 تکنیکی معیارات بھی مرتب کیے، جو مستقبل میں اسی نوعیت کے منصوبوں کیلئے رہنما اصول ثابت ہوں گے۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ چین بنیادی تحقیق کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے پر نافذ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔اسی منصوبے کے تحت تیار کیا گیا ہائی ٹمپریچر سپر کنڈکٹنگ سینٹرل سولینائیڈ کوائل بھی کامیابی سے مکمل بوجھ کی آزمائش سے گزر چکا ہے۔ یہ نظام 60 کلو ایمپئر کے مستحکم برقی رو پر کام کرتا ہے اور 6.03 میگا جولس(megajoules) توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی کارکردگی کو عالمی معیار کے مطابق بلکہ کئی حوالوں سے دنیا میں نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کوائل پلازما کرنٹ پیدا کرنے، اسے برقرار رکھنے اور اس کی ساخت کو کنٹرول کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔اس منصوبے کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ دونوں سپر کنڈکٹنگ نظاموں کی بنیادی ٹیکنالوجی مکمل طور پر چین میں تیار کی گئی ہے۔ اس سے بیرونی ممالک پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی اور سپلائی چین سے وابستہ خطرات بھی کم ہوں گے۔ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی مسابقت اور برآمدی پابندیوں کے تناظر میں کسی بھی ملک کیلئے اپنی بنیادی ٹیکنالوجی میں خود کفالت غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔فیوژن توانائی کو مستقبل کی توانائی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کاربن کا اخراج نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، ایندھن نسبتاً وافر مقدار میں دستیاب ہے اور اس سے طویل المدتی تابکار فضلہ بھی روایتی جوہری ری ایکٹروں کے مقابلے میں بہت کم پیدا ہوتا ہے۔ اگر سائنس دان تجارتی پیمانے پر فیوژن توانائی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دنیا کو توانائی کے بحران، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں بے حد مدد مل سکتی ہے۔چین کا ''CRAFT‘‘ (Comprehensive Research Facility For Fusion Technology) پروگرام اسی بڑے مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایسی جدید ٹیکنالوجیز تیار کرنا ہے جو مستقبل میں تجارتی فیوژن بجلی گھروں کی بنیاد بن سکیں۔ اگرچہ اس منزل تک پہنچنے کیلئے ابھی مزید تحقیق، تجربات اور سرمایہ کاری درکار ہے، تاہم حالیہ پیش رفت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چین اس دوڑ میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔بلاشبہ دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس صرف ایک سائنسی آلہ نہیں بلکہ جدید تحقیق، قومی خود انحصاری، انجینئرنگ مہارت اور مستقبل کی صاف توانائی کے خواب کی علامت ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں فیوژن توانائی انسانیت کیلئے ایک ایسے دور کا آغاز کر سکتی ہے جہاں توانائی کی فراوانی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی ایک ساتھ ممکن ہو سکیں۔

راول ڈیم: قدرت کا حسین شاہکار

راول ڈیم: قدرت کا حسین شاہکار

اسلام آباد، جو اپنی ہریالی اور قدرتی حسن کی وجہ سے دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں شمار ہوتا ہے، کئی ایسے مناظر اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے جو انسانی آنکھ کو خیرہ کر دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک راول ڈیم یا راول جھیل ہے جو وفاقی دارالحکومت کی آبی ضروریات پوری کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہونے کے ساتھ سیاحت، تفریح اور ماحولیاتی توازن کے حوالے سے بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع یہ مصنوعی جھیل فطرت کے حسن کی بہترین مثال ہے۔راول ڈیم کی تعمیر کا آغاز 1960ء میں ہوا اور یہ 1962ء میں مکمل ہوا۔ اس وقت کے صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اس کا افتتاح کیا۔ اس ڈیم کی تعمیر کا بنیادی مقصد نو تعمیر شدہ شہر اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور زرعی زمینوں کی آبپاشی تھا۔ یہ ڈیم دریائے کورنگ پر بنایا گیا ہے جو مری کی پہاڑیوں سے بہتا ہوا آتا ہے۔اس کی تعمیر میں انجینئرنگ کے اعلیٰ اصولوں کو مدنظر رکھا گیا تاکہ یہ پانی ذخیرہ کرے بلکہ ایک خوبصورت تفریحی مقام بھی سمجھا جا سکے۔ تقریباً 8.8 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط یہ جھیل اپنے اندر کروڑوں گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھتی ہے۔راول ڈیم کا محل وقوع اسے منفرد بناتا ہے۔ اس کے ایک طرف مارگلہ کی بلند و بالا پہاڑیاں ہیں اور دوسری طرف اسلام آباد کے جدید علاقے جیسے بنی گالہ اور ملوٹ واقع ہیں۔ جھیل کا نیلا پانی، دور تک پھیلی ہوئی ہریالی اور پس منظر میں پہاڑوں کے سائے مل کر ایسا سحر انگیز منظر پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔موسم سرما میں جب مارگلہ کی چوٹیوں پر ہلکی برف باری ہوتی ہے یا بادل نیچے اتر آتے ہیں تو راول جھیل کا منظر یورپی ملک کی وادی کا گماں دیتا ہے۔ غروبِ آفتاب کے وقت سورج کی نارنجی شعاعیں جب جھیل کی لہروں سے ٹکراتی ہیں تو پانی پر سونے کی چادر بچھی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔راول ڈیم پاکستان کے بہترین سیاحتی مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں آنے والے سیاحوں کیلئے مختلف نوعیت کی تفریحی سہولیات موجود ہیں۔ جھیل کے کنارے واقع لیک ویو پارک جدید طرز کی تفریح کا مرکز ہے۔ یہاں خوبصورت باغات، بچوں کیلئے جھولے، اور پرندوں کیلئے بہت بڑا پنجرہ موجود ہے جو ایشیا کے بڑے پنجروں میں شمار ہوتا ہے۔ سیاحوں کیلئے موٹر بوٹس اور چپو والی کشتیاں دستیاب ہیں، جن کے ذریعے جھیل کے وسط تک جا کر قدرتی حسن کو قریب سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں خاندانوں کیلئے پکنک منانے کے مخصوص مقامات ہیں جہاں لوگ کھانا پکاتے ہیں اور خوشگوار وقت گزارتے ہیں۔ فوٹوگرافرز اور فنکاروں کیلئے یہ مقام جنت سے کم نہیں۔ یہاں پرندوں، پانی اور پہاڑوں کے عکس کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنا مقبول مشغلہ ہے۔راول جھیل کا ماحولیاتی نظام انتہائی زرخیز ہے۔ یہاں کے ارد گرد موجود جنگلات میں مختلف قسم کے درخت جیسے کچنار، املتاس اور چیڑ پائے جاتے ہیں۔ جنگلی حیات میں گیدڑ، لومڑی، اور جنگلی سور کے علاوہ کئی قسم کے رینگنے والے جانور بھی یہاں کا حصہ ہیں۔اس جھیل کی ایک بڑی خاصیت یہاں ہجرت کر کے آنے والے پرندے ہیں۔ ہر سال موسمِ سرما میں سائبیریا اور وسطی ایشیا کے سرد علاقوں سے ہزاروں پرندے اڑ کر یہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ یہ پرندے جھیل کی رونق میں اضافہ کر دیتے ہیں اور پرندوں کے مشاہدے کے شوقین افراد کیلئے یہ بہترین موقع ہوتا ہے۔راول ڈیم کی معاشی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ راولپنڈی کے باسیوں کیلئے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ، یہاں سے نکالی جانے والی نہریں قریبی دیہاتوں کی زمینوں کو سیراب کرتی ہیں، جس سے مقامی زراعت کو فروغ ملتا ہے۔مچھلی کا شکار بھی یہاں کی معیشت کا حصہ ہے۔ محکمہ ماہی پروری یہاں باقاعدگی سے مچھلیوں کے بیج ڈالتا ہے، جس سے مچھلیوں کی افزائش ہوتی ہے بلکہ مقامی شکاریوں کو روزگار کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ یہاں کی مچھلی جس میں راہو اور مہاشیر نمایاں ہیں اپنے ذائقے کی وجہ سے مشہور ہے۔جہاں راول ڈیم خوبصورت مقام ہے، وہیں اسے کچھ سنگین خطرات کا بھی سامنا ہے۔ جھیل کے گرد و نواح میں بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کا سیوریج اور فضلا براہِ راست جھیل میں گرنے سے پانی کی معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ بارشوں کے ساتھ پہاڑوں سے آنے والی ریت اور مٹی جھیل کی تہہ میں جمع ہو رہی ہے، جس سے اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ جھیل کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات نے اس کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کو نقصان پہنچایا ہے۔ حکومتِ پاکستان اور سی ڈی اے نے ان مسائل پر قابو پانے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب پر کام جاری ہے تاکہ گندا پانی جھیل میں جانے سے پہلے صاف کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ جھیل کے گرد شجرکاری کی مہم چلائی جاتی ہے تاکہ زمین کے کٹاؤ کو روکا جا سکے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کئی بار جھیل کی صفائی اور تجاوزات کے خلاف احکامات جاری کیے ہیں۔راول ڈیم اسلام آباد کا ایسا ورثہ ہے جو آنے والی نسلوں کیلئے آبِ حیات اور سکون کا پیغام ہے۔ یہ زندگی کی علامت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت شہری اپنی ذمہ داری کا احساس کریں، یہاں گندگی نہ پھیلائیں اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس قومی اثاثے کی حفاظت کریں۔ اگر ہم نے اس کی حفاظت نہ کی تو ہم خوبصورت تفریحی مقام کھو دیں گے بلکہ آبی قلت کے بہت بڑے بحران کا بھی شکار ہو جائیں گے۔

سگریٹ No شی

سگریٹ No شی

میں تو اخبار اس لیے پڑھتا تھا کہ دنیا کے بارے میں میری معلومات اپ ٹوڈیٹ رہیں۔ آج کا اخبار پڑھ کر پتہ چلا کہ میری تو اپنے بارے میں معلومات اپ ٹوڈیٹ نہیں ہیں۔ امریکی ڈاکٹروں نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ میں تو روزانہ کئی سگریٹ پھونک جاتا ہوں۔ یہی نہیں انہوں نے تو ہماری خواتین کو بھی نہیں بخشا۔ ان کے حساب سے ہماری بیشتر خواتین سگریٹ نوش ہیں۔ہوا یوں کہ امریکی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ایک خاتون کے معائنے کے بعد کہا کہ اسے سگریٹ نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں کا کینسر ہوگیا ہے۔ مگر اس خاتون نے بتایا کہ میں نے تو کبھی سگریٹ نہیں پی۔ تحقیق پر پتہ چلا کہ خاتون ٹھیک کہہ رہی تھی مگر غلط ڈاکٹروں نے بھی نہیں کہا تھا، کیوں کہ اس عورت کا خاوند سگریٹ پیتا تھا اور جب کوئی آپ کے سامنے سگریٹ کی ایک ڈبی پیتا ہے تو در اصل اس میں سے دو سگریٹ آپ بھی بذریعہ سانس پی جاتے ہیں۔ یوں ہماری ہر وہ عورت جس کا خاوند، بھائی یا باپ سگریٹ پیتا ہے، وہ سگریٹ نو ش ہے۔ ایک ایسی ہی محترمہ نے خاوند کو کہا، ''سگریٹ پینا چھوڑ دو یا مجھے۔‘‘ خاوند سوچ میں پڑگیا تو بیوی نے پوچھا، ''اب سوچنے کیا لگے ہو؟‘‘ تو خاوند بولا، ''سوچ رہا ہوں اب کھانا کون پکایا کرے گا؟‘‘۔میں نے سگریٹ کے بارے میں ایک کالم لکھا تھا۔ ایک خط آیا کہ آپ کا کالم پڑھ کر ہمیں سگریٹ No شی اتنی بری لگی کہ ہم نے توبہ کرلی کہ آئندہ کبھی آپ کے کالم نہیں پڑھیں گے۔ ظاہر ہے بندہ وہی کام کر سکتا ہے جو اس کیلئے آسان ہو۔ جیسے مارک ٹوئن نے کہا تھا کہ میرے لیے سگریٹ پینا نہ پینے کی نسبت آسان ہے کیونکہ سگریٹ سے جان چھڑانا جان جوکھوں کا کام ہے۔ کہتا ہے، ''مجھے ایک بار پرانی چھتری سے جان چھڑانا تھا، کوڑے کے ڈرم میں پھینکی تو صفائی کرنے والا پہچان کر واپس کر گیا۔ سڑک پر پھینکی تو محلے دار پہچان کر دے گئے۔ آخر کار ایک دوست کو ادھار دے دی۔ اس کے بعد میں نے اس چھتری کی شکل نہیں دیکھی۔‘‘ویسے ٹی وی پر سگریٹ کے اشتہار دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم سگریٹ پئے بغیر زندہ کیسے ہیں؟ ایک اشتہار میں ایک شخص مخصوص برانڈ کا سگریٹ پی کر شکار کو نکلتا اور شیر کو مار کر لوٹتا۔ ففٹی ففٹی پروگرام میں اس کی پیروڈی کی گئی کہ ایک دن وہ اسی طرح سگریٹ پی کر شیر کے شکار کو نکلتا ہے مگر واپس آتا ہے تو زخمی اور بدحال ہوتا ہے۔ ایک شخص پوچھتا ہے، ''آج تم شیر کو نہیں مار سکے کیا وجہ ہوئی؟‘‘ تو وہ کہتا ہے، ''آج شیر نے بھی اسی برانڈ کا سگریٹ پی رکھا تھا۔‘‘ ویسے سگریٹ پینا کوئی کام نہیں ہے کیونکہ یہ کام ہوتا تو بڑے بڑے افسروں اور سربراہوں نے سگریٹ پینے کیلئے الگ ملازم رکھے ہوتے۔حال ہی میں بین الاقوامی مشاورتی فرم پیٹ ماورک نے روس جانے والوں کیلئے جو ہدایات نامہ مرتب کیا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ روس میں دعوت کے دوران ریستوران میں گول میز منتخب کریں کیونکہ روسیوں کے ہاں کونے بدقسمی کی علامت ہوتے ہیں اور آخر میں بہترین سروس پر بیرے کوٹپ میں سگریٹ دیں۔ اگرچہ یسی ٹپ تو اس بیرے کو دینی چاہیے جو اچھی سروس نہ کرے۔ لیکن ایلین بینٹ نے کہہ رکھا ہے کہ روس میں رہنے کا صرف ایک ہی فائدہ ہے کہ یہ ان جگہوں میں سے ایک ہے، جہاں سگریٹ کینسر نہیں کرتا کیونکہ کے جی بی کا حکم نہیں۔ اس وقت تک روس میں کے جی بی کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ اس لحاظ سے تو کے جی بی پر پابندی کے بعد روس میں کینسر کا خطرہ بڑھ گیا ہوگا، مگر پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ کہتے ہیں،''Cancer Cures Smoking‘‘ ۔سگریٹ کے شروع میں سگ آتا ہے سو اسے کسی ریٹ پر بھی منہ نہیں لگانا چاہیے۔ سگریٹ پینے والوں سے پوچھا جائے کہ میں صحت مند ہوں، یہ کون سا فعل ہے؟ حال، ماضی یا مستقبل؟ تو جواب ہوگا فعل ماضی۔ مشہور اداکار گریگری پیکر اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے کہ میرے ڈاکٹر نے مجھے نصیحت کی کہ آپ کی صحت کیلئے یہی بہتر ہے کہ فوراً سگریٹ نوشی چھوڑ دیں۔ میں نے وعدہ کیا کہ میں آج سے سگریٹ نوشی ترک کر رہا ہوں تو وہ بولا، ''چونکہ اب تم سگریٹ نوشی چھوڑ ہی رہے ہو تو یہ سونے کا لائٹر مجھے گفٹ کر دو‘‘۔کہتے ہیں پہلے آدمی سگریٹ کو پیتا ہے، پھر سگریٹ سگریٹ کو پیتا ہے اورآخر میں سگریٹ آدمی کو پیتا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ حقیقت ہے کہ اتنے لوگ سگریٹ سے نہیں مرتے جتنے سگریٹ پر مرتے ہیں۔ انگریزی میں اسے سموکنگ کہتے ہیں لوگوں کو شاید سموکنگ پسند ہی اس لیے ہے کہ اس میں کنگ آتا ہے لیکن اس دور میں کنگ کہیں کے نہیں رہے۔ سو لگتا ہے عنقریب دھواں دینے والی گاڑیوں کی طرح دھواں دینے والے افراد کابھی چوراہوں میں چالان ہوا کرے گا۔اس تازہ تحقیق سے پہلے ہم سگریٹ پینے کیلئے دوسروں کے محتاج ہوتے تھے۔ اب سگریٹ پینا ترک کرنے کیلئے بھی دوسروں کے محتاج ہوگئے ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے کہا، ''میرے بچے کو اخبار منہ میں ڈالنے کی بڑی بری عادت تھی مگر اب نہیں رہی۔‘‘ پوچھا، ''تم نے یہ عادت کیسے چھڑوائی؟‘‘ بولا ''میں نے اخبار لینا بند کر دیا۔‘‘ سو سگریٹ پینے کی عادت بھی ایسے ہی چھڑوائی جا سکتی ہے۔ لیکن لوگ سگریٹ نوشی کو عادت ہی نہیں مانتے۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے، ''سگریٹ پینے سے عادت نہیں پڑتی کیونکہ میں گزشتہ بیس سالوں سے سگریٹ پی رہا ہوں، مجھے تو عادت نہیں پڑی۔‘‘ میں نے کہا، ''پھر تم سگریٹ چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘ بولے، ''سبھی کہتے ہیں سگریٹ نہ پینا سودمند ہے اور میں سود کے بہت خلاف ہوں۔‘‘

آج تم یاد بے حساب آئے!ساون: ہر فن مولا فنکار (1998-1920ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!ساون: ہر فن مولا فنکار (1998-1920ء)

٭...1920ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، اصل نام ظفر احمد بٹ تھا۔ ٭...غریب گھرانے سے تعلق کے باعث وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ ٭...جنگ عظیم دوئم میں وہ برٹش انڈین آرمی میں شامل ہو گئے۔ ملازمت کے دوران انہیں مختلف علاقوں میں بھیجا گیا۔ ان میں مشرقِ وسطیٰ بھی شامل تھا۔ ٭...جنگ عظیم دوئم کے بعد فوج سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ سیالکوٹ واپس چلے گئے۔ روزی کمانے کیلئے انہوں نے ٹانگہ چلانا شروع کر دیا۔٭...1950ء میں کراچی شفٹ ہوئے، جہاں ایک معمار اور پینٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ ٭...کراچی میں فلم ''کارنامہ‘‘ میں اداکار کی حیثیت سے کریئر کا آغاز کیا۔٭... صحافیوں کے مشورے پر لاہور چلے آئے اور پنجابی فلموں میں قسمت آزمائی کی۔آغا حسینی کی فلم ''سولہ آنے‘‘ میں ایک چھوٹا سا کردار دیا گیا۔٭... فلم ''سورج مکھی‘‘ نے انہیں مقبولیت بخشی اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ ٭...اپنی گرجدار آواز اور ڈیل ڈول کی وجہ سے وہ پنجابی فلموں میں جلد اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔٭...ایک ایکسٹرا سے چوٹی کے ولن بنے اور پھر کریکٹر ایکٹر زمیں صف اوّل کے اداکار ثابت ہوئے۔٭...ان کی شخصیت اور ڈیل ڈول کچھ ایسا تھا کہ وہ الگ ہی دکھائی دیتے تھے۔ ان کے گھنے سیاہ اور گھنگھریالے بال بھی ان کی خاص پہچان تھے۔٭...60ء اور 70ء کے عشرے میں پاکستان کی فلم انڈسٹری میں ساون کا نام ایک بہترین اداکار اور مقبول ویلن کے طور پر لیا جاتا تھا۔٭...6 جولائی 1998ء کو فرشتہ اجل آن پہنچا اور ساون اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔مقبول پنجابی فلمیںبابا دینا، مالی، خزانچی، ذیلدار، ہاشو خان، خان چاچا، جگری یار، گونگا، پہلوان جی ان لندن‘‘، ''شیراں دے پتر شیر، جانی دشمن، ملنگی، ڈولی، چن مکھناں، سجن پیارا، بھریا میلہ، پنج دریا‘‘

آج کا دن

آج کا دن

AK-47کی پروڈکشن کا آغاز6جولائی 1947ء کو سوویت یونین میں معروف ہتھیار AK-47کی پروڈکشن کا آغاز کیا گیا۔اس رائفل کو روس کے معروف اسلحے کے ڈیزائنرمیخائل کلاشنکوف کی جانب سے تیار کیا گیا تھا۔ پروڈکشن میں جانے سے پہلے اس کو کئی تجربات سے گزارا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دنیا کے معروف ترین ہتھیاروں میں شمار ہونے لگی۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس رائفل سے مرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جس کی وجہ سے اسے دنیا کا مہلک ترین ہتھیار بھی تصور بھی کیا جاتا ہے۔پائپر الفا آئل پلیٹ فارم سانحہ1988ء میں شمالی سمندر میں واقع پائپر الفا تیل نکالنے والے پلیٹ فارم پر زوردار دھماکے اور خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں پورا پلیٹ فارم تباہ ہوگیا۔ اس المناک حادثے میں 167 ورکرز جان کی بازی ہار گئے۔ یہ واقعہ دنیا کی تاریخ کا بدترین آف شور آئل ڈیزاسٹر سمجھا جاتا ہے۔ اس سانحے کے بعد سمندر میں تیل و گیس کی تنصیبات کے حفاظتی قوانین اور ہنگامی انتظامات میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی گئیں۔نائیجیریا میں سکول پر حملہ6 جولائی 2013 کو، نائیجیریا کے یوبی اسٹیٹ کے گاؤں مامودو میں مسلح افراد نے گورنمنٹ سیکنڈری سکول پر حملہ کیا، جس میں تقریباً 42 افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر طلباء تھے جبکہ عملے کے کچھ ارکان بھی مارے گئے۔ زندہ بچ جانے والوں کے مطابق، حملہ آوروں نے متاثرین کو ایک مرکزی مقام پر اکٹھا کیا اور پھر فائرنگ اور دھماکہ خیز مواد پھینکنا شروع کیا۔ فضائی حادثہایشیانا ایئر لائنز کی پرواز 214 ایک طے شدہ ٹرانس پیسفک مسافر پرواز تھی جس نے جنوبی کوریا کے شہر سیول کے قریب انچیون انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھرنی تھی ۔ 6 جولائی 2013ء کی صبح اپنی منزل کے قریب ریاستہائے متحدہ کے سان فرانسسکو بین الاقوامی ہوائی اڈے پرگر کر تباہ ہو گیا۔ جہاز میں سوار 307 افراد میں سے 3 کی موت ہو گئی۔ مزید 187 زخمی ہوئے، جن میں سے 49 کی حالت تشویشناک تھی۔شدید زخمیوں میں چار فلائٹ اٹینڈنٹ بھی شامل تھے ۔ریل حادثہ6جولائی 2013ء کو کینیڈا کے قصبے میں ایک میگنیٹک ٹرین کے ساتھ حادثہ پیش آیا۔ یہ خوفناک حادثہ اس وقت ہوا جب ایک مال بردار ٹرین خام تیل لے کر جارہی تھی وہ اپنی ٹریک سے نیچے اتر گئی جس کے نتیجے میں متعدد ٹینک کاروں میں دھماکے اور آگ لگ گئی۔ اس حادثے میں47 افراد مارے گئے،30 سے زیادہ عمارتوں کو نقصان پہنچا ۔ایک رپورٹ کے مطابق ایک کلومیٹر تک اس دھماکے کی آواز بھی سنی گئی۔ ملاوی کی آزادی کا اعلان1964ء میں ملاوی نے برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اس سے قبل یہ علاقہ نیاسالینڈ کے نام سے برطانوی نوآبادی تھا۔ آزادی کے بعد ملاوی ایک خودمختار ریاست بن گیا اور ہیسٹنگز کموزو بانڈا ملک کے پہلے وزیر اعظم بنے، جنہوں نے بعد ازاں صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ یہ آزادی افریقہ میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ۔

خلائی دوربین کو بچانے کا مشن

خلائی دوربین کو بچانے کا مشن

ناسا نے جدید روبوٹ روانہ کر دیاجو دوربین کو محفوظ مدار میں پہنچائے گاخلائی تحقیق کی تاریخ میں اب تک بیشتر مشن نئے سیاروں، ستاروں اور کہکشاؤں کی کھوج کیلئے روانہ کیے جاتے رہے ہیں، لیکن اب انسان ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں خلا میں برسوں سے خدمات انجام دینے والے سائنسی آلات کو بچانے کیلئے بھی باقاعدہ امدادی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک غیر معمولی مثال امریکی خلائی ادارے ناسا کا وہ جرات مندانہ مشن ہے، جس کے تحت تقریباً دو دہائیوں سے کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے والی سوئفٹ خلائی دوربین کو زمین کی فضا میں جل کر تباہ ہونے سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے ایک جدید روبوٹ خلا میں بھیجا ہے، جو دوربین کو تھام کر دوبارہ محفوظ مدار میں پہنچائے گا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو نہ صرف سوئفٹ دوربین کی عمر میں اضافہ ہوگا بلکہ مستقبل میں دیگر قیمتی خلائی دوربینوں اور مصنوعی سیاروں کو بھی اسی انداز میں بچانے کی نئی راہیں کھل جائیں گی، جس سے خلائی تحقیق کا ایک نیا باب رقم ہونے کی توقع ہے۔''نارتھروپ گرومن‘‘ (Northrop Grumman) کے فضاء سے داغے جانے والے ''پیگاسس ایکس ایل‘‘ (Pegasus XL) راکٹ نے اپنی آخری پرواز مکمل کرتے ہوئے ایک نجی خلائی جہاز کو ایسے امدادی مشن پر روانہ کر دیا ہے، جس کا مقصد ناسا کی معروف ترین خلائی دوربینوں میں سے ایک کو زمین پر واپس گرنے سے بچانا ہے۔ ناسا کے مطابق ''سوئفٹ بوسٹ‘‘ (Swift Boost) مشن کے تحت ''کٹالسٹ اسپیس ٹیکنالوجیز‘‘ (Katalyst Space Technologies) کی تیار کردہ لنک (LINK) سیٹلائٹ کو جمعہ 3 جولائی کو صبح 4 بج کر 36 منٹ (مشرقی امریکی وقت)، یعنی 08:36 جی ایم ٹی پر کامیابی سے خلا میں روانہ کیا گیا۔ لنک سیٹلائٹ ناسا کی ''نیل گیریلز سوئفٹ آبزرویٹری‘‘ کے ساتھ جا کر ملے گی اور اسے کھینچتے ہوئے دوبارہ ایک محفوظ اور مستحکم مدار میں لے جائے گی، تاکہ اس کی زمین کی فضا میں داخل ہو کر تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔پیگاسس ایکس ایل راکٹ کو اس کے انجن کے سٹارٹ ہونے سے قبل نارتھروپ گرومن کے ''ایل1011 اسٹارگیزر‘‘ (L 1011 Stargazer)طیارے سے مارشل جزائر کے اوپر فضا میں چھوڑا گیا۔ اس کے بعد راکٹ نے اپنا انجن جلایا اور لنک سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچا دیا۔ اس کامیاب لانچ سے قبل مشن کو دو مرتبہ مؤخر کرنا پڑا تھا۔ پہلی بار خراب موسم اور بعد ازاں راکٹ کے نیوی گیشن سسٹم سے متعلق سافٹ ویئر خرابی کے باعث پرواز منسوخ کر دی گئی تھی۔ تاہم تمام تکنیکی مسائل حل ہونے کے بعد یہ تاریخی مشن بالآخر کامیابی سے روانہ کر دیا گیا۔پیگاسس (Pegasus) تین مراحل پر مشتمل ایک ٹھوس ایندھن سے چلنے والا لانچ راکٹ ہے، جس کی لمبائی 55 فٹ (16.9 میٹر) ہے۔ یہ راکٹ 1,000 پونڈ (454 کلو گرام) تک وزنی پے لوڈ کو زمین کے نچلے مدار میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسٹارگیزر (Stargazer) طیارے سے علیحدہ ہونے کے بعد پیگاسس کے تینوں مراحل یکے بعد دیگرے فعال ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں راکٹ تقریباً 10 منٹ کے اندر اپنی مطلوبہ بلندی اور مدار تک پہنچ جاتا ہے۔پیگاسس راکٹ نے 1990ء میں اپنی پہلی پرواز کی تھی، اور اس کے بعد سے اب تک 45 خلائی مشن کامیابی سے مکمل کر چکا ہے۔ اس راکٹ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اسے فضا میں موجود طیارے سے داغا جاتا ہے، جس کی بدولت اسے مختلف ہوائی اڈوں سے روانہ کیا جا سکتا ہے۔ یہی لچک اسے ایسے مشکل اور منفرد مداری زاویوں تک رسائی دیتی ہے، جہاں دنیا کے کئی بڑے خلائی اڈوں سے براہِ راست پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی خصوصیت اس بات کی بھی ایک اہم وجہ ہے کہ پیگاسس کو لنک (LINK) نامی روبوٹک سروسنگ سیٹلائٹ کے لانچ کیلئے منتخب کیا گیا۔ یہ سیٹلائٹ ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو زمین کے خط استوا کے مقابلے میں محض 20.6 درجے کے کم مداری زاویے پر گردش کر رہی ہے۔اس مشن کیلئے ناسا کی جانب سے پیگاسس راکٹ کے انتخاب کی ایک اور اہم وجہ وقت کی کمی بھی تھی، کیونکہ سوئفٹ خلائی دوربین کے پاس زیادہ وقت باقی نہیں رہ گیا تھا۔ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی سوئفٹ آبزرویٹری کو نومبر 2004ء میں خلا میں بھیجا گیا تھا تاکہ کائنات میں رونما ہونے والے ''گیما رے برسٹس‘‘ (Gamma Ray Bursts) اور دیگر انتہائی طاقتور فلکیاتی مظاہر کا مطالعہ کیا جا سکے۔ دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ دوربین آج بھی سائنسدانوں کیلئے نہایت قیمتی سائنسی معلومات فراہم کر رہی ہے۔ تاہم اس کا مدار اب خطرناک حد تک نیچے آ چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں سورج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث زمین کے نچلے مدار میں فضائی مزاحمت میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے سوئفٹ کی رفتار اور بلندی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بالآخر یہ دوربین زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل کر تباہ ہو جائے گی۔بدقسمتی سے سوئفٹ کو اس انداز میں ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا کہ خلا میں اس کی مرمت یا سروسنگ کی جا سکے۔ اسی طرح اس میں ایسے تھرسٹرز (Thrusters) بھی نصب نہیں کیے گئے تھے جو اسے اپنے زور پر دوبارہ بلند اور محفوظ مدار میں منتقل کرنے کے قابل بناتے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسے بچانے کیلئے ایک علیحدہ روبوٹک امدادی مشن ناگزیر ہو گیا تھا۔

دی شارڈ

دی شارڈ

یورپ کی فضاؤں سے ہم کلام عظیم شاہکارانسان نے جب سے تعمیرات کے فن میں مہارت حاصل کی ہے، تب سے وہ آسمان کو چھونے کی آرزو لئے نت نئی اور بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرتا چلا آ رہا ہے۔ جدید دور میں فلک بوس عمارتیں صرف رہائش یا کاروبار کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ وہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی، فنی مہارت، انجینئرنگ کی صلاحیت اور شہری منصوبہ بندی کی آئینہ دار بن چکی ہیں۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع ''دی شارڈ‘‘ بھی جدید تعمیراتی فن کا ایک ایسا ہی بے مثال شاہکار ہے، جو اپنی منفرد ساخت، شیشے سے مزین دلکش بیرونی خدوخال اور فلک بوس بلندی کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ 5 جولائی 2012ء کو افتتاح کے بعد یہ عمارت 310 میٹر (1,020 فٹ) کی بلندی کے ساتھ یورپ کی بلند ترین عمارت بن گئی اور آج بھی لندن کی شناخت سمجھی جاتی ہے۔''دی شارڈ‘‘ دریائے ٹیمز کے جنوبی کنارے پر لندن برج کے قریب واقع ہے۔ اس مقام کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ لندن کے تاریخی اور جدید حصوں کو ایک دوسرے سے بہتر انداز میں جوڑا جا سکے۔ اس منصوبے کا مقصد صرف ایک بلند عمارت تعمیر کرنا نہیں تھا بلکہ ایسا شہری مرکز قائم کرنا تھا جہاں رہائش، تجارت، سیاحت اور تفریح کی تمام جدید سہولتیں ایک ہی مقام پر دستیاب ہوں۔''دی شارڈ‘‘ کا ڈیزائن عالمی شہرت یافتہ اطالوی معمار رینزو پیانو نے تیار کیا۔ ان کے مطابق اس عمارت کی ساخت چرچ کے میناروں، بحری جہازوں کے بادبانوں اور آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے شیشے کے ایک نوکیلے ٹکڑے سے متاثر ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام ''دی شارڈ‘‘ رکھا گیا، جس کا مطلب شیشے کا نوکیلا ٹکڑا ہے۔ عمارت کے بیرونی حصے میں ہزاروں شیشے کے پینل نصب کیے گئے ہیں جو دن کے مختلف اوقات میں سورج کی روشنی اور موسم کے مطابق اپنا رنگ بدلتے محسوس ہوتے ہیں، جس سے یہ عمارت مزید دلکش دکھائی دیتی ہے۔تقریباً 310 میٹر بلند اس عمارت میں 95منزلیں ہیں، جن میں سے 72 منزلیں قابلِ استعمال ہیں۔ اس میں جدید دفاتر، پرتعیش رہائشی اپارٹمنٹس، عالمی معیار کا ہوٹل، اعلیٰ درجے کے ریستوران، کانفرنس ہال اور عوام کیلئے خصوصی مشاہداتی گیلری قائم کی گئی ہے۔ عمارت کی بالائی منزلوں پر موجود مشاہداتی پلیٹ فارم سے لندن شہر کا تقریباً 65کلومیٹر تک پھیلا ہوا دلکش منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ صاف موسم میں دریائے ٹیمز، لندن آئی، ٹاور برج، سینٹ پال کیتھیڈرل اور دیگر تاریخی عمارتیں نہایت خوبصورتی سے نظر آتی ہیں۔دی شارڈ جدید انجینئرنگ کا بھی ایک شاندار نمونہ ہے۔ اس کی تعمیر میں مضبوط فولادی ڈھانچے، اعلیٰ معیار کے کنکریٹ اور توانائی بچانے والے جدید شیشے استعمال کیے گئے ہیں۔ عمارت کی بیرونی سطح اس انداز سے تیار کی گئی ہے کہ قدرتی روشنی زیادہ سے زیادہ اندر داخل ہو سکے، جبکہ حرارت کا ضیاع کم سے کم ہو۔ اس کے باعث توانائی کی بچت ہوتی ہے اور ماحول پر بھی نسبتاً کم منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دی شارڈ کو جدید اور ماحول دوست تعمیرات کی ایک کامیاب مثال بھی قرار دیا جاتا ہے۔معاشی اعتبار سے بھی دی شارڈ نے لندن کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی تعمیر کے دوران ہزاروں افراد کو روزگار ملا، جبکہ افتتاح کے بعد بھی دفاتر، ہوٹل، ریستوران اور دیگر کاروباری مراکز میں بڑی تعداد میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے۔ دنیا بھر کی متعدد بین الاقوامی کمپنیاں یہاں اپنے دفاتر قائم کر چکی ہیں، جس سے لندن کی حیثیت ایک عالمی تجارتی مرکز کے طور پر مزید مضبوط ہوئی ہے۔سیاحت کے میدان میں بھی ''دی شارڈ‘‘ ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ہر سال لاکھوں ملکی اور غیر ملکی سیاح اس عمارت کا رخ کرتے ہیں۔ دن کے وقت اس کی شفاف شیشے کی دیواریں سورج کی روشنی میں چمکتی ہیں، جبکہ رات کے وقت جدید روشنیوں سے مزین یہ عمارت لندن کے افق پر ایک روشن مینار کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ کرسمس، نئے سال اور دیگر قومی تقریبات کے دوران دی شارڈ پر خصوصی روشنیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جو شہر کی رونق میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔اگرچہ یورپ میں وقتاً فوقتاً نئی فلک بوس عمارتیں تعمیر ہوتی رہتی ہیں، تاہم دی شارڈ اپنی منفرد شناخت، فن تعمیر، سیاحتی اہمیت اور جدید سہولتوں کے باعث آج بھی دنیا کی نمایاں عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید انجینئرنگ، تخلیقی سوچ اور مؤثر منصوبہ بندی کسی بھی شہر کو عالمی سطح پر منفرد شناخت دلا سکتی ہے۔دی شارڈ محض شیشے اور فولاد کا ایک بلند ڈھانچہ نہیں بلکہ جدید برطانیہ کی ترقی، اختراع اور تعمیراتی مہارت کی علامت ہے۔ یہ عمارت اس حقیقت کی غماز ہے کہ جب فن، سائنس اور انجینئرنگ یکجا ہو جائیں تو انسان نہ صرف زمین پر حیرت انگیز تعمیرات تخلیق کر سکتا ہے بلکہ آسمان سے ہم کلام ہونے کا خواب بھی حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

''جونو مشن‘‘ کی کامیابی4 جولائی 2016ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا کا خلائی تحقیقاتی مشن ''جونو‘‘ (Juno) کامیابی کے ساتھ نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کے مدار میں داخل ہوا۔ اس تاریخی کامیابی کے بعد ''جونو‘‘ نے تقریباً بیس ماہ تک مشتری کے ماحول، مقناطیسی میدان، کشش ثقل، اندرونی ساخت اور قطبی علاقوں کا تفصیلی سائنسی جائزہ لیا۔ اس مشن سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار نے مشتری کی تشکیل، ارتقا اور پورے نظامِ شمسی کی ابتدائی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھنے میں سائنس دانوں کی اہم مدد کی۔امریکی سیکرٹ سروس کا قیام5 جولائی 1865ء کو امریکا کی سیکرٹ سروس نے باقاعدہ طور پر اپنے فرائض انجام دینا شروع کیے۔ ابتدا میں اس ادارے کا بنیادی مقصد جعلی کرنسی کی روک تھام اور مالیاتی جرائم کا خاتمہ تھا۔ بعدازاں اس کے فرائض میں امریکی صدر، نائب صدر، سابق صدور اور دیگر اہم قومی شخصیات کی حفاظت بھی شامل کر دی گئی، جس کے بعد یہ ادارہ دنیا کی اہم ترین حفاظتی اور تحقیقاتی ایجنسیوں میں شمار ہونے لگا۔برطانیہ میں عام انتخابات 1945ء میں برطانیہ میں دس سال کے طویل وقفے کے بعد پہلے عام انتخابات منعقد ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم کے باعث انتخابات مؤخر کر دیے گئے تھے، تاہم جنگ کے اختتام پر عوام نے نئی قیادت کے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالے۔ ان انتخابات میں کلیمنٹ ایٹلے کی قیادت میں لیبر پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کی، جبکہ ونسٹن چرچل کی جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ انتخاب برطانوی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔نیوٹن کی '' پرنسپیا‘‘ شائع ہوئیآئزک نیوٹن کے فطری فلسفے کے ریاضیاتی اصولوں جنہیں لاطینی زبان میں ''پرنسپیا‘‘ کہا جاتا ہے پر مبنی کتاب 1687ء میں آج کے روز شائع ہوئی۔لاطینی زبان میں لکھی گئی یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل تھی۔پہلے ایڈیشن کی تشریح اور تصحیح کرنے کے بعد نیوٹن نے 1713ء کے دوران اس کے دو مزید ایڈیشن شائع کئے۔پرنسپیا کو سائنس کی تاریخ میں سب سے اہم کاموں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔اس کتاب سے قبل تک سائنس گمانوں اور مفروضوں کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔چیسمی کی جنگ5جولائی 1770ء کو سلطنت عثمانیہ اور روسی سلطنت کے درمیان ایک بحری جنگ کا آغاز ہوا۔یہ لڑائی اناطولیہ کے مغربی سرے اور جزیرہ چائیوس کے درمیان میں واقع چیسمی کے قریب ہوئی۔یہ علاقہ ماضی میں بھی سلطنت عثمانیہ اور جمہوریہ وینس کے درمیان متعدد مرتبہ لڑائی کی وجہ بن چکا تھا۔عثمانی اور روسی افواج کے درمیان ہونے والی یہ لڑائی لوف بغاوت کا ایک حصہ تھی جو بعد میں یونان کی جنگ آزادی کا پیش خیمہ بنی۔پہلی کلون بھیڑ ''ڈولی‘‘ 1996ء میں آج کے روزسکاٹ لینڈ میں دنیا کی پہلی کلون شدہ بھیڑ ''ڈولی‘‘ کی پیدائش ہوئی۔جو کسی بالغ جانور سے کلون کی جانے والی پہلی ممالیہ تھی۔ یہ تجربہ کلوننگ ٹیکنالوجی کی دنیا میں پہلا کامیاب قدم تھا جس میں کسی بالغ ممالیہ کا سومیٹک سیل (Somatic Cell) استعمال کیا گیا۔

بچوں کے دانتوں کی پراسرار بیماری

بچوں کے دانتوں کی پراسرار بیماری

بچوں کے مستقل دانت نکلتے ہی بد رنگ، کمزور اور بھربھرے ہو جاتے ہیںبچوں کی مسکراہٹ ان کی صحت، اعتماد اور خوشی کی علامت سمجھی جاتی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں دانتوں کی ایک ایسی پراسرار بیماری تیزی سے سامنے آ رہی ہے جس نے ماہرین صحت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس بیماری کے باعث بچوں کے مستقل دانت نکلتے ہی بد رنگ، کمزور اور بھربھرے ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ معمولی دباؤ یا چبانے کے دوران بھی ٹوٹنے لگتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف صفائی کی کمی یا زیادہ میٹھا کھانے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے پس پردہ کئی پیچیدہ حیاتیاتی اور ماحولیاتی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ ماہرین اس بیماری کی وجوہات جاننے کیلئے مسلسل تحقیق کر رہے ہیں، کیونکہ اگر بروقت اس کی تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو بچوں کی خوراک، بولنے کی صلاحیت، اعتماد اور مجموعی صحت پر دیرپا منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے طبی مسئلے نے والدین، دانتوں کے ڈاکٹروں اور محققین سب کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد دانتوں کی ایک کم معروف بیماری کا شکار ہو رہی ہے، جس کے باعث ان کے دانت زرد، کمزور اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس بیماری کو ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ (molar incisor hypomineralisation ) کہا جاتا ہے۔ اس میں دانتوں کی حفاظتی بیرونی تہہ، یعنی اینیمل (Enamel)، مناسب طور پر مضبوط نہیں بن پاتی، جس کے نتیجے میں دانت کمزور ہو جاتے ہیں اور ان میں کیڑا لگنے یا ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس بیماری کو عام طور پر ''چاک جیسے دانت‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ متاثرہ دانت معمول سے زیادہ نرم اور بھربھرے ہوتے ہیں۔ اس کی علامات اس وقت ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں جب تقریباً چھ سال کی عمر سے بچے کے مستقل دانت نکلتے ہیں۔ شدید نوعیت کے مریضوں میں دانت اتنے نازک ہو جاتے ہیں کہ نکلنے کے صرف چند ماہ بعد ہی ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچوں کو برسوں تک دانتوں کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں بار بار فلنگ کروانا، دانت نکلوانا اور طویل المدتی و مہنگا علاج شامل ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ یہ بیماری دانت صاف نہ کرنے، زیادہ چینی کھانے یا روزمرہ کی ناقص عادات کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اصل وجہ زندگی کے ابتدائی مراحل میں دانتوں کے اینیمل کی تشکیل میں خرابی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گزشتہ چند دہائیوں میں دانتوں کی صفائی سے متعلق عام خرابیوں اور کیڑے لگنے کے واقعات میں کمی آئی ہے، لیکن ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ (MIH) کی تشخیص پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہونے لگی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بیماری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بیماری کو پہلی بار 1980ء کی دہائی میں شناخت کیا گیا تھا، لیکن آج اندازاً ہر چھ میں سے ایک بچہ اس عارضے کا شکار ہے۔ اسکینڈے نیوین ممالک میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ ناروے کے سائنسدانوں کی حالیہ تحقیق کے مطابق اس خطے میں تقریباً ہر تین میں سے ایک بچہ اس بیماری سے متاثر ہے۔برطانوی ماہرین دندان سازی کا کہنا ہے کہ ان کے کلینکس میں ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ کے شکار بچوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ بیماری بچوں کیلئے کھانا کھانے، مشروبات پینے اور یہاں تک کہ دانت صاف کرنے کے عمل کو بھی انتہائی تکلیف دہ بنا سکتی ہے۔ تاہم سائنس دان اب تک اس بیماری کی اصل وجہ جاننے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔شیفیلڈ یونیورسٹی میں بچوں کے دانتوں کی ماہر اور پروفیسر ڈاکٹر ہیلن راڈ کا کہنا ہے کہ ہمیں ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ بیماری کیوں ہو رہی ہے۔ اس کا تعلق بچوں کے دانتوں کی صفائی یا دیکھ بھال سے نہیں، کیونکہ یہ دانت پیدائش کے وقت ہی بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ جب تقریباً چھ سال کی عمر میں مستقل دانت نکلتے ہیں تو وہ پہلے ہی بد رنگ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں، مگر ہم اس کی واضح وجہ بیان نہیں کر سکتے۔ اسی طرح نیوکاسل یونیورسٹی میں بچوں کے دانتوں کے کلینیکل لیکچرر اور برٹش سوسائٹی آف پیڈیاٹرک ڈینٹسٹری کے ترجمان پروفیسر گریگ ٹیلر کے مطابق اصل مسئلہ دانتوں میں موجود معدنیات کی مقدار سے متعلق ہے۔ دانتوں کی بیرونی حفاظتی تہہ، جسے اینیمل کہا جاتا ہے، انسانی جسم کا سب سے مضبوط مادہ ہے۔ یہ زیادہ تر معدنیات، خصوصاً کیلشیم اور فاسفیٹ، پر مشتمل ہوتی ہے۔ لیکن ''ایم آئی ایچ‘‘سے متاثرہ بچوں میں اینیمل میں ان معدنیات کی مقدار معمول سے کم جبکہ پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اینیمل کمزور، نرم اور زیادہ مسام دار (Porous) بن جاتا ہے۔ متاثرہ دانتوں کے چھوٹے چھوٹے حصے آسانی سے ٹوٹ کر الگ ہو سکتے ہیں، جبکہ ان کا رنگ بھی اردگرد کے صحت مند دانتوں سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ رنگ دھبے دار سفید، کریمی، زرد یا بھورے رنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔طبی تعریف کے مطابق ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ سب سے پہلے مستقل داڑھوں (پہلی مولر) کو متاثر کرتی ہے، جو عموماً بچے کی چھ سال کی عمر میں نکلتی ہیں۔ اس کے بعد تقریباً ایک سال کے اندر سامنے کے اوپری مستقل دانت (اِنسائزر) بھی اس بیماری سے متاثر ہو سکتے ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر متاثرہ بچے کے تمام متعلقہ دانت اس بیماری کا شکار ہوں۔

باسفورس پل

باسفورس پل

دو براعظموں کو ملانے والا عظیم شاہکاردنیا میں بعض تعمیرات محض اینٹ، پتھر، فولاد اور کنکریٹ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ اقوام کی ترقی، فنی مہارت اور تہذیبی شناخت کی علامت بن جاتی ہیں۔ ترکی کے شہر استنبول میں واقع باسفورس پل بھی ایسی ہی ایک عظیم شاہکار تعمیر ہے، جو نہ صرف ایشیا اور یورپ کو آپس میں ملاتا ہے بلکہ مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور معاشی سرگرمیوں کے درمیان رابطے کا ایک مضبوط استعارہ بھی ہے۔ آبنائے باسفورس پر ایستادہ یہ شاندار پل روزانہ لاکھوں افراد اور ہزاروں گاڑیوں کی آمدورفت کو ممکن بناتا ہے، جس کے باعث استنبول کی معاشی، سماجی اور سفری زندگی میں اسے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ اپنی منفرد انجینئرنگ، دلکش منظر اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے باسفورس پل نہ صرف ترکی کی ترقی کی علامت ہے بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کیلئے بھی ایک غیرمعمولی کشش رکھتا ہے۔باسفورس برج استنبول میں آبنائے باسفورس کے اوپر بنے ہوئے دو پلوں میں سے پہلا پل ہے۔ یہ لوہے اور سٹیل سے تیار کیا گیا معلق پل ہے۔ باسفورس میں اس پل کے نیچے کوئی ستون نہیں ہے۔ بلکہ باسفورس کے دونوں کناروں پر لمبے ستون کھڑے کرکے مضبوط سٹیل کے رسوں سے پل کو سہارا دیا گیا ہے۔ باسفورس پل4954فٹ لمبا اور 128فٹ چوڑا ہے جبکہ دونوں ستونوں کے درمیان کا فاصلہ3524فٹ ہے اور ستونوں کی بلندی 344 فٹ ہے۔ نیچے پانی کی سطح سے پل 210 فٹ بلندی پر بنایا گیا ہے۔ تاکہ پل کے نیچے سے بڑے سے بڑا جہاز بھی آسانی سے گزر سکے۔ جب یہ پل1973ء میں مکمل ہوا تو اس وقت یہ دنیا کا چوتھا معلق پل اور امریکہ کے پلوں کے بعد سب سے لمبا پل تھا اور اس وقت یہ دنیا کا 17واں طویل معلق پل ہے۔ اس پل کو دو برطانوی انجینئروں سر گلبرٹ رابرٹس اور ولیم برائون نے ڈیزائین کیا۔ انھوں نے دنیا کے کئی مشہور پل ڈیزائن کیے تھے۔ فروری 1970ء میں باسفورس برج کی تعمیر شروع ہوئی اور30اکتوبر1973ء کو یہ مکمل ہوا۔ اس پل کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں ترکی کے صدر جودت ثنائے اور وزیر اعظم سلیمان ڈیمریل نے شرکت کی۔ ایک ٹرکش تعمیراتی کمپنی نے برطانیہ کی کلیو لینڈ برج اینڈ انجینئرنگ کمپنی کے اشتراک سے اس پل کی تکمیل میں حصہ لیا۔ اس پل کی تعمیر میں 35 انجینئروں اور 400 کاریگروں نے حصہ لیا۔ یہ پل 1973ء میں ترکی کے جمہوریہ بننے کی 50سالہ گولڈن جوبلی کی تقریب سے ایک دن بعد مکمل ہو گیا۔ صدر کورو ترک اور وزیر اعظم نعیم ناتونے مل کو اس پل کا افتتاح کیا۔ اس پل کی تعمیر پر200ملین ڈالر لاگت آئی۔ باسفورس برج کے کل8لین ہیں۔ 3،3لین گاڑیوں کیلئے اور ایک ایک لین کوایمرجنسی استعمال کیلئے مخصوص کیا گیا ہے۔ صبح کے وقت کیونکہ زیادہ تر ٹریفک کا بہائو ایشیاسائیڈ سے یورپ سائیڈ کی طرف ہوتا ہے۔ اس لیے صبح چار لین صرف جانے کیلئے اور دو لین یورپ سائیڈ سے ایشیاسائیڈ جانے کیلئے کھولے جاتے ہیں اوریہی صورت شام کو یورپ سائیڈسے ایشیا سائیڈ جانے کیلئے عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس پل سے روزانہ ایک لاکھ 85ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں اور ایشیاسائیڈ کی طرف13ٹول پلازہ بنائے گئے ہیں اور واپسی پر دوبارہ ٹول ادا نہیں کرنا پڑتا۔ باسفورس پل درمیان میں 35انچ تک جھولتا ہے۔