نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مضبوط الیکشن کمیشن پاکستان کےمفادمیں ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- عمران خان کی جدوجہدشفاف نظام کیلئےہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن ممبران پرحکومت،اپوزیشن میں ڈیڈلاک کاتاثردرست نہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- وزیراعظم آئین کےمطابق اپوزیشن لیڈرسےرائےلیں گے،فوادچودھری
Kashmir Election 2021
وہ گولیوں کی بو چھاڑ میں آگے بڑھتے رہے، باڑ کو دو حصوں میں کاٹ ڈالا اور دشمن چوکی چھوڑ کر بھاگ گیا کیپٹن راجہ محمد سرور شہید پاکستان کی عسکری تاریخ کا پہلا اور سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر حاصل کیا

وہ گولیوں کی بو چھاڑ میں آگے بڑھتے رہے، باڑ کو دو حصوں میں کاٹ ڈالا اور دشمن چوکی چھوڑ کر بھاگ گیا کیپٹن راجہ محمد سرور شہید پاکستان کی عسکری تاریخ کا پہلا اور سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر حاصل کیا

ایک دن کمانڈر نے اپنے جوانوں کو اکٹھا کیا اور کہا۔''یہ پہاڑی ہمارے لئے ایک چیلنج بن چکی ہے ۔جونو جوان اس مہم کا بیڑا اٹھا سکتا ہو، آگے آ جائے ۔‘‘پوری کمپنی پر سناٹا چھا گیا۔ ہر شخص جانتا تھا کہ یہ موت کے منہ میں جانے والی بات ہے۔ ''یس سر،میں اس مہم کا بیڑا اٹھاتا ہوں‘‘محمد سرور نے کہا ۔ 27 جولائی 1948 ء کی رات محمد سرور شہید اپنے جوانوں کے ساتھ ٹارگٹ کی طرف بڑھے۔توپوں اورمشین گنوں سے فائرنگ ہو رہی تھی۔برستی گولیوں میں محمد سرور اپنی بٹالین کی قیادت کرتے ہوئے سب سے آگے تھے ۔اس دوران کئی جوان موت سے گلے مل گئے۔ ساتھیوں کی تعداد میں کمی ہونے لگی کیونکہ دشمن بلندی پر تھا ۔آپ ان کے سیدھے ٹارگٹ پر تھے ۔لیکن اس کمی نے حوصلہ کم نہیں کیا بلکہ بڑھایا ۔اسی وقت ایک گولی نے محمد سرور شہید کا دایاں شانہ چیر کر رکھ دیا۔خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔دشمن کی گولیاں ان کے دائیں بائیں سے اور سر کے اوپر سے گزر رہی تھیں۔وہ گولیوں کی بوچھاڑ میں آگے بڑھتے رہے ان کے زخموں سے خون جاری تھا ۔آخر وہ اس مورچے تک جا پہنچے جہاں سے گولیاں برسائی جا رہی تھیں ۔اور باڑ کاٹنے لگے ۔آخری تار کٹنے کو تھی کہ دشمن کی فائرنگ نے محمد سرور شہید کا سینہ چھلنی کر دیا۔ایک جھٹکے سے انہوں نے آخری تار کو دو حصوں میں کاٹا ۔دشمن پر آخری برسٹ کے ساتھ ‘‘اللہ اکبر‘‘ کے الفاظ ادا کرتے ہوئے رب کے حضور لبیک کہہ دیا۔دشمن اس چوکی کو چھوڑ کر بھاگ گیا ۔ صبح کے سورج نے اس پہاڑی پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا۔راجہ محمد سرور عید کے دن 10 نومبر 1910 ء کوموضع سنگوری تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ان کی شہادت بھی عید کے دوسرے دن ہوئی ۔یہ علاقہ بنجر اور زیادہ تر غیر آباد ہے۔یہاں کاشت کاری کم ہوتی ہے۔ زیادہ تر لوگ فوج میں ملازم ہیں ۔آپ کے والد بھی آپ کو فوج میں بھرتی کروانے کا ارادہ رکھتے تھے ۔اس کے لیے ان کی تعلیم کا بندوبست ہوا چونکہ آپ ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔اس لیے ابتدائی تعلیم گاؤں کی مسجد میں حاصل کی۔ چھ برس کے ہوئے تو ان کے والد نے انہیں چک نمبر 229۔گ ب ضلع فیصل آباد کے مقامی سکول میں داخل کروا دیا۔یہاں سے پانچویں کلاس پاس کی۔1925 ء میں مڈل سکول سے آٹھویں۔سترہ سال کی عمر میں 1927 ء میں میٹرک میں اول پوزیشن حاصل کی۔ان کے خاندان کے بہت سارے افراد فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ان کے والدمحمد حیات خاں فوج میں حوالدار تھے ۔ انگریز حکومت نے ان کو پہلی جنگِ عظیم میں بہادری سے بھرپور کارنامے سر انجام دینے پر 3 مربع زمین الاٹ کی تھی۔ 23 فروری 1932 ء کو محمد سرور کے والد محمد حیات خاں کا انتقال ہوا۔ان کی اولاد میں بڑا بیٹا محمد مرزا خاں فوج کے میجر کے عہدے پر ریٹائرڈ ہوئے ۔ان کو بھی ایک مربع زمین دلیری اور بہادری پر انعام میں ملی۔دوسرے بیٹے یعنی راجہ محمد سرورکے دوسرے بھائی محمد سردار خاں بھی فوج میں حوالدار تھے ۔ کیپٹن راجہ محمد سرور شہید ، محمد حیات خاں کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے جو نشانِ حیدر حاصل کر کے خاندان اور مملکتِ پاکستان کے لئے فخر و ناز کا باعث بنے۔جب انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیاتو 1929 میں بلوچ رجمنٹ میں ایک سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوئے۔کراچی میں ابتدائی فوجی کورس کیا۔دو سال شمال مغربی سرحدی صوبے میں خدمات سر انجام دیں۔1941 ء میں اسی رجمنٹ میں حوالدار کے عہدے تک پہنچے۔ ڈرائیونگ کا کورس کیا۔1941 ء میں وہ رائل انڈین آرمی میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر منتخب ہوئے اور وی سی او سکولف رائل انڈین سروس کور میں انسٹرکٹر کی خدمات سر انجام دینے لگے۔ 19 مارچ 1944 ء کو سیکنڈ لیفٹیننٹ بنے۔27 اپریل 1944 ء کو یہ لیفٹیننٹ بنا دئیے گئے۔یکم فروری 1947 ء کی تاریخ محمد سرور شہید کی زندگی میں بے حد اہم تھی۔انہیں کیپٹن کا عہدہ دیا گیا۔محمد سرور شہید درمیانے قد،سڈول جسم،متناسب اعضاء ، موٹی آنکھوں، بارعب آواز، گندمی رنگ اور بھاری مونچھوں کے حامل تھے۔ تلاوت قرآن پاک،نماز کے پابند اور مطالعے کے شوقین تھے۔ محمد سرور شہید علامہ اقبال ؒسے بھی بہت محبت رکھتے تھے اور ان کے بے شمار شعر انہیں زبانی یاد تھے۔کبڈی اور فٹبال محمد سرور شہید کے پسندیدہ کھیل تھے ۔ان کے حالات زندگی میں یہ واقعہ قابل توجہ ہے کہ ایک بڑھیا کو دینے کے لئے ان کی جیب میں ریزگاری نہ تھی۔ اس سے باقاعدہ معافی مانگی۔ کچھ دور گئے تو دل بے تاب ہو اٹھا۔ گوارا نہ کیا کہ محض ریزگاری نہ ہونے کے باعث اللہ کے نام پر دینے سے انکار کر دیا۔ فوراََ واپس آئے ۔ بڑھیا تلاش بسیار کے بعد ملی تو اس سے دوبارہ معافی مانگی اور حسب توفیق مدد کی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ان کی شادی ان کے خاندان میں خوش اخلاق خاتون کرم جان سے ہوئی۔شادی کی تقریب بے حد سادہ اور اسلامی روایات کے مطابق 15 مارچ 1936 ء کو ہوئی ۔جنرل اسکندر مرزا کا دور تھا جب 23 مارچ 1957 کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر کیپٹن محمد سرور شہید کے اس زندہ جاوید کارنامے پر انہیں نشانِ حیدر دینے کا اعلان کیامگر یہ اعزاز دینے کی تقریب اس وقت کے فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں کے دورِ حکومت میں 27 اکتوبر کو منعقد ہوئی۔تقریب راولپنڈی میں منعقد ہوئی جہاں ان کی بیگم محترمہ کرم جان کو کیپٹن محمد سرور شہید کا نشانِ حیدر دیا گیا۔پاکستان کی عسکری تاریخ کا پہلا اور سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر جو آنے والی نسلوں کو ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا ۔ ایوب خاں نے اپنے خطاب میں کہا ۔''میں کیپٹن محمد سرور شہید کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوں جنہوں نے سب سے پہلا نشانِ حیدر حاصل کر کے پاکستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔انہوں نے اپنی قربانی سے اپنی فوج اور اپنی بٹالین کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا ہے ۔بے شک ان کی قربانی پر ہم سب کو فخر ہے ۔‘‘

کیا ’’انار کلی‘‘ایک حقیقی قصہ ہے

کیا ’’انار کلی‘‘ایک حقیقی قصہ ہے

اردو ڈرامے کی تاریخ میں امتیاز علی تاج کی تخلیق'' انار کلی ‘‘ کو جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ اپنی مثال آ پ ہے۔ یہ ڈرامہ پہلی بار 1932میں شائع ہوا۔ اس کے بعد اب تک اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور اس ڈرامے کی مقبولیت بر قرار ہے۔ بھارت میں انارکلی کی کہانی کی اساس پر ایک فلم''مغل اعظم‘‘ بنائی گئی جسے فلم بینوں نے بہت پسند کیا۔ اپنی نوعیت کے لحاظ سے انارکلی ایک ایسی رومانی داستان ہے جس کے حقیقی مآخذ کے بارے میں اب تک کوئی ٹھوس تاریخی حقیقت یا دستاویزی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ ڈرامہ انارکلی ایک رومانی موضوع پر لکھی گئی داستان کی اساس پر استوار ہے۔ مطلق العنان مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر اپنی منظور نظر کنیز انار کلی کے حسن و جمال اور رقص کا شیدائی تھا۔ نادرہ نامی یہ کنیز قصر شاہی میں اس قدر دخیل ہے کہ تمام امور میں بادشاہ اس کی رائے کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کہانی میں ایک اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب بادشاہ کا بیٹا اور ولی عہد شہزادہ سلیم بھی اسی کنیز کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہو جاتا ہے ۔ ایک طرف تو جلال الدین اکبر کی ہیبت و سطوت کے سامنے یہ کنیز بے بس ہے تو دوسری طرف شہزادہ سلیم کی پر کشش شخصیت اور انداز دلربائی نے اسے تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے۔ایک طرف تو شہنشاہ جلال الدین اکبر اس کنیز کو اپنی ذاتی ملازمہ سمجھتے ہوئے اس پر بلا شرکت غیرے اپنا استحقاق جتاتا ہے تو دوسری طرف ولی عہد شہزادہ سلیم کی نگاہ انتخاب اس پر پڑ چکی ہے اور اس کو اپنی شریک حیات بنانے پر تل گیا ہے۔ایک جنگ کے بعد شہزادہ سلیم اور انار کلی کو قید کر لیا جاتا ہے۔ شہزادہ سلیم تو محفوظ رہتا ہے مگر انار کلی کو جلال الدین اکبر کے احکامات کے تحت زندہ دیوار میں چنوا دیا جاتا ہے۔ اس طرح اس پوری کہانی کو ایک المیہ قرار دیا جا سکتا ہے جس نے ایک پورے خاندان اور پوری سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا۔ جنرل مان سنگھ جیسے دلیر سپہ سالار اور معاملہ فہم سپاہی، اکبر جیسے سیاست دان اور منتظم کو اس رومانی داستان نے بے بس و لاچار بنا کر اضطراب میں مبتلا کر دیا۔کہا جاتا ہے کہ انار کلی کا واقعہ 1599 میں وقوع پذیر ہوا۔ یورپی سیاح ولیم فنچ جو 1618 میں لاہور پہنچا، اس نے اپنی یاد داشتوں میں اس المیے کا ذکر بڑے دردناک انداز میں کیا ۔ اس کے بعد 1618میں ایک اور یورپی سیاح ایڈورڈ ٹیری لاہور آیا، اس نے بھی اپنے پیش رو سیاح کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس داستان کو خوب نمک مرچ لگا کر پیش کیا۔ چار سال بعد یعنی 1622 میں یورپ سے سیاحت کی غرض سے آنے والے ایک اور سیاح ہربرٹ نے بھی اس قصے کو بیان کیا۔ پورے دو سو سال تک بر صغیر کے لوگ اس قصے سے لا علم رہے کسی غیر جانب دار مورخ کے ہاں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ نور الدین جہانگیر نے تزک جہانگیری میں کہیں اس کا ذکر نہیں کیا۔ اس عہد کے ممتاز مورخ والہ داغستانی اور خافی خان جو اکبر اور جہانگیر کی معمولی نوعیت کی لغزشوں پر بھی نظر رکھتے تھے، انھوں نے بھی کسی مقام پر اس قصے کا ذکر نہیں کیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام قصہ محض تخیل کی شادابی ہے۔ 1864 میں مولوی نور احمد چشتی نے اپنی تصنیف ''تحقیقات چشتی‘‘میں انار کلی اور اکبر کے اس رومان کا ذکر کیا ہے۔ 1882 میں کنہیا لال ہندی نے اپنی تصنیف ''تاریخ لاہور‘‘ میں انار کلی، اکبر اور سلیم کے اس المیہ قصے کا احوال بیان کیا ہے۔ مقامی ادیبوں کے ہاں ایک طویل عرصے کے بعد اس قصے کی باز گشت سنائی دینے لگی۔ سید محمد لطیف نے بہت بعد میں انار کلی اور اکبر کے اس المیے کا ذکر اپنی تصنیف ( History of lahore ) میں کیا ہے۔ یہ انگریزی کتاب 1892 میں شائع ہوئی۔تاریخی حقائق سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انار کلی، اکبر اور سلیم کا یہ رومانی المیہ جسے ابتدا میں یورپی سیاحوں نے محض تفنن طبع کے لیے اختراع کیا، آنے والے دور میں اس پر لوگوں نے اندھا اعتماد کرنا شروع کر دیا۔آثار قدیمہ، تاریخی حقائق اور دستاویزی ثبوت اس تمام المیہ ڈرامے کو جھوٹ کا پلندا قرار دیتے ہیں۔ وہ دیوار جس کے بارے میں یہ شو شہ چھوڑا گیا کہ اس میں انار کلی کو زندہ دفن کیا گیا۔ اس کے آثار لاہور شہر میں کہیں موجود نہیں۔ انار کلی تنازع پر جنرل مان سنگھ اور شہزادہ سلیم کی مسلح افواج کے درمیان جو خونریز جنگ ہوئی اس کے میدان جنگ، مرنے والوں اور زخمیوں کی تعداد کا کوئی علم نہیں۔ جنرل مان سنگھ تو مغل افواج کی کمان کر رہا تھا شہزادہ سلیم نے ایک بڑی فوج کہاں سے حاصل کی اور اس کی تنخواہ اور قیام و طعام کا بندوبست کیسے ہوا؟ جنرل مان سنگھ کی کامیابی کے بعد شہزادہ سلیم کی حامی اور اکبر کی مخالف فوج پر کیا گزری؟۔ یہ سب سوال ایسے ہیں جو اس قصے کو کمزورکرتے ہیں۔لاہور سول سیکرٹیریٹ میں جو انارکلی کے نام سے موسوم ہے وہ انار کلی کا مقبرہ نہیں بلکہ زین خان کوکہ کی صاحب زادی''صاحب جمال ‘‘کی آخری آرام گاہ ہے۔ یہ شہزادہ سلیم کی منکوحہ تھی۔ اس کا مقبرہ شہزادہ سلیم نے اپنے عہد میں تعمیر کروایا۔امتیاز علی تاج نے ولیم فنچ کے بیان کو بنیاد بنا یا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ اور تخلیق ادب کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ سید امتیاز علی تاج نے تاریخ اور تاریخ کے مسلسل عمل کے بارے میں بلاشبہ مثبت شعور و آگہی پروان چڑھانے کی سعی کی ہے۔ ان کے اسلوب میں تاریخی شعور کا جو منفرد انداز جلوہ گر ہے وہ زندگی کی ایسی معنویت کا مظہر ہے جو نئی بصیرتوں کی امین ہے۔(کتاب'' ادب دریچے ‘‘سے مقتبس)

اُزبکی پلائو اور مہمان نوازی

اُزبکی پلائو اور مہمان نوازی

اُزبکی پلائو تیار کرنے کے لیے ازبک مرد حضرات خصوصی مہارت رکھتے ہیں اور گھروں میں ہر چھوٹی بڑی تقریب میں ازبکی مرد حضرات ہی پلائو تیار کرتے ہیں۔ اس ہنر پرازبکی مردوں کو فخر بھی ہے۔ ازبکی پلائو میں چاول کے علاوہ باریک کٹی ہوئی گاجر،سیاہ کشمش، گوشت اور لہسن ثابت بغیر چھلے ہوئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ صرف پلائو کی ضیافت کو اُزبک لوگ' اوش‘ کہتے ہیں۔ اُزبکی پلائو کی اہمیت اس ایک مثالی لطیفے سے عیاں ہوتی ہے کہ ایک دفعہ ایک تاجک دوست کے ہاں ایک ازبک مہمان آیا۔ تین چار روز تک وہ تاجک دوست کے ہاں مقیم رہا۔ ایک دن ہمسائے نے اُس سے دریافت کیا کہ آیا تمہارا وہ اُزبکی مہمان چلاگیا ہے۔ تاجک میزبان نے پریشانی کے انداز میں جواب دیا کہ یار ابھی تک تووہ یہاں ہی مقیم ہے۔ جانے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ جب کہ میں نے اُس کی آئو بھگت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔اچھے سے اچھا کھانا پیش کرتا ہوں۔ لیکن وہ ہے کہ جا نے کا نا م ہی نہیں لے رہا۔اس جوا ب پر ہمسائے نے جو خود بھی ازبک لو گو ں کے کھا نوں کے آداب سے وا قف تھا، دوبارہ میزبان سے دریافت کیا کہـ''تم نے اس مہما ن کو ازبکی پلا ئو کھلا یا ہے‘‘۔اس نے جوا ب دیا کہ نہیں،تو پھر ہمسائے نے کہا کہ جب تک تم اس اُزبکی مہما ن کواُزبکی پلا ئو نہیں کھلا ئو گے وہ یہاں سے جائے گا نہیں۔کیو نکہ ازبکی پلا ئو کے بغیر خا طر مدا رت مکمل نہیں ہو تی۔ لہٰذا تاجک میزبا ن تے فورا ًازبکی پلا ئو کا اہتما م کیا اوراس کے فوراًبعداس ازبکی مہما ن نے تاجک دوست سے رخصت چاہی۔ اس وا قعہ سے آپ کو اندا زہ ہو گیا ہو گا کہ ُازبک لو گوں کے ہاں سب کھانوں میں ازبکی پلا ئو کی کتنی اہمیت ہے۔ہمارے ایک عزیز دوست جو کہ خود بھی ازبکی پلائوتیار کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ازبکی زبان کے ساتھ ساتھ اُردو زبان پر بھی عبور رکھتے ہیں اور ازبکی زبان کے علاوہ اُردو میں بھی چند کتابیں تحریر کر چکے ہیں وہ کئی دفعہ پاکستان بھی آ چکے ہیں۔ اور ہمارے 'محسن پاکستان ‘عزت مآب ڈاکٹرعبدالقدیر خاں کے خاص دوستوں میں سے ہیں۔وہ ہمیں خود صبح صبح منہ اندھیرے اپنی گاڑی میں اوش کھلانے لے جاتے تھے۔ اُن کا نام داد خاں نوری ہے۔ کئی دفعہ وہ ہماری پی آئی اے کی فلائٹس کے ذریعے بڑے بڑے گرمے اور تربوز جہاز کے کیپٹن کی وساطت سے جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کو تحفتاً بھجوایا کرتے تھے۔ازبکستان کے ہر گھریا فلیٹ میں ٹی وی،فریج اور گیس موجود ہوتی ہے۔ گھروں میں ٹھنڈا اور گرم پانی شہری انتظامیہ کی طرف سے مہیا کیا جاتا ہے، جوچوبیس گھنٹے موجود ہوتا ہے۔ سردیوں میں جبکہ باہر منفی آٹھ یا دس ٹمپریچر ہو تو گھر میں آپ ایک ہلکی سی بنیان پہن کر بھی آرام اور سکون سے بیٹھ سکتے ہیں۔ کیونکہ آپ کا گھر یا فلیٹ خود کار گرم رکھنے والے سسٹم سے آراستہ ہے اور یہ نظام پورے ازبکستان میں آپ کو ہر جگہ نظر آئے گا۔ حقیقتاً یہ روسی حکومت کا بہت بڑا کارنامہ تھا جو میں نے کئی دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں بہت کم ہی دیکھا ہے۔اس کے علاوہ کتابوں کی شیلف بھی ہر گھر کی زینت ہوتی ہے۔کتاب ''سرائے جہاں ‘‘ سے اقتباس

مقبرہ جہانگیر۔۔عہد رفتہ کی عظیم یادگار

مقبرہ جہانگیر۔۔عہد رفتہ کی عظیم یادگار

مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا۔ 1605ء میں تخت نشین ہوا اور قریباً ساڑھے اکیس سال نہایت شان سے حکومت کرکے 8نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا۔ اُسے دریائے راوی کے کنارے واقع ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا کے وسط میں دفن کیا گیا۔ اس باغ کو جہانگیر نے باغ دل آمیز کے نام سے بھی یاد کیا ہے۔ جہانگیر کا مقبرہ اُس کے بیٹے شاہجہاں نے بنوایا تھا۔مقبرۂ جہانگیر کو مغلیہ عہد میں تعمیر کئے گئے مقابر میں اہم مقام حاصل ہے۔ دریائے راوی کے دوسرے کنارے یعنی شاہدرہ کی طرف سے لاہور آئیں تو مغلیہ دور کی تعمیرات میں سے مقبرۂ جہانگیر، مقبرہ آصف جاہ اور ملکہ نور جہاں کا مقبرہ نمایاں نظر آتے ہیں ان کا شمار مغلوں کی تعمیر کردہ حسین یادگاروں میں ہوتا ہے۔مقبرہ ٔجہانگیر باغ ''دلکشا‘‘ میں واقع ہے۔ باغ دلکشا نواب مہدی قاسم کی ملکیت تھا جو اکبر بادشاہ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا۔ اُس نے یہ باغ 1556ء میں دریائے راوی کے پار بنوایا تھا، نواب مہدی خاں کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ جب مہر النساء بیگم ملکہ نور جہاں بنی تو اس نے اس کا نام باغ دلکشا رکھ دیا۔ اب لوگ باغ دلکشا کا نام بھول چکے ہیں اور اس ساری جگہ کو مقبرہ جہانگیر ہی کہا جاتا ہے۔ مقبرہ جہانگیر کی تعمیر کا آغاز ملکہ نور جہاں نے کیا تھا اور شاہ جہاں نے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ شہنشاہ اکبر کی وفات سن 1605ء میں ہوئی تو اس کا بیٹا جہانگیر ''نور الدین جہانگیر‘‘ کے لقب کے ساتھ تخت نشیں ہوا کیونکہ شہنشاہ اکبر کے2بیٹے مراد اور دانیال پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ جہانگیر 20 ستمبر 1569ء کو فتح پور سیکری میں پیدا ہوا، تخت نشین ہونے کے بعد اس نے کئی اصلاحات کیں۔ فریادیوں کی داد رسی کے لیے اپنے محل کی دیوار کے ساتھ ایک زنجیر لگوا دی جسے'' زنجیرِ عدل‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ زنجیر عدل بہت مشہور ہوئی جس کے ذریعے ہر کوئی اپنی شکایت بآسانی بادشاہ تک پہنچا سکتا تھا۔ یہ زنجیر 30 گز طویل تھی اور اس کے ساتھ سونے کی60 گھنٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ اس کو بادشاہ کے ذاتی کمروں میں موجود طلائی گھنٹیوں کے ایک جھرمٹ سے وابستہ کیا گیا تھا۔ شہنشاہ جہانگیر نے حکم دیا کہ شاہراہوں پر سرائے، کنویں اور مساجد تعمیر کی جائیں۔شہنشاہ جہانگیر کو بھی اپنے باپ اکبر کی طرح لاہور سے بہت زیادہ لگائو تھا اس نے 1622ء میں لاہور کو دارالسلطنت بنا لیا۔ 1624ء میں جب کشمیر کے سفر کے دوران اس کی وفات ہوئی تو اس نے وفات سے قبل لاہور میں دفن کیے جانے کی خواہش ظاہر کی تھی چنانچہ اسے چہیتی بیگم ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا میں دفن کیا گیا۔ شاہ جہاں نے مقبرے کی تعمیر پر10 لاکھ روپے خرچ کیے تھے اور اخراجات کیلئے جاگیر مقرر کی گئی تھی۔ قرآن پاک پڑھنے کیلئے حفاظ مقرر کئے گئے جو باری باری ہر وقت مزار پر قرآن مجید پڑھا کرتے تھے، یہ سلسلہ سکھوں کے عہد حکومت میں ختم کر دیا گیا۔مقبرہ جہانگیر کی حدود میں ملکہ نور جہاں نے ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی تھی۔ یہاں نور جہاں نے کافی عرصہ رہائش بھی اختیار کی اس لیے یہاں رہائشی عمارات بھی تعمیر کی گئی تھیں۔ ملکہ نور جہاں اور شہنشاہ جہانگیر کے مقبرے ایک ہی رقبے میں تھے لیکن جب انگریزوں نے ان کے درمیان ریلوے لائن بچھائی تو مقبرہ جہانگیر اور مقبرہ نور جہاں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔مقبرہ جہانگیر کے چاروں کونوں پر خوبصورت مینار موجود ہیں ہر مینار100 فٹ بلند ہے اور اس کی61 سیڑھیاں ہیں۔ مقبرے کی عمارت ایک مربع نما چبوترے پر ہے۔ قبر کا تعویذ سنگ مرمر کا ہے اور اس پر عقیق، لاجورد، نیلم، مرجان اور دیگر قیمتی پتھروں سے گلکاری کی گئی ہے۔ دائیں اور بائیں اللہ تعالیٰ کے99 نام کندہ ہیں، سرہانے کی طرف بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہے، پائنتی کی طرف یہ تحریر درج ہے ''مرقد منور اعلیٰ حضرت غفران پناہ نور الدین جہانگیر بادشاہ 1036 ہجری‘‘۔مزار کے چاروں جانب سنگ مرمر کی جالیاں لگی ہوئی ہیں جو سخت گرم موسم میں بھی ہال کو موسم کی حدت سے محفوظ رکھتی ہیں۔ مقبرے کا اندرونی فرش سنگ مرمر، سنگ موسیٰ اور سنگ ابری جیسے مختلف قیمتی پتھروں سے مزین ہے۔باغ دلکشا کے اندر پختہ روشیں اور راہداریاں موجود ہیں۔ مقبرہ ٔجہانگیر کا غربی دروازہ جس میں سے ہاتھی بمعہ سوار کے گزر سکتا تھا اور چار دیواری کے باہر جو 4 بہت بڑے کنویں تھے دریا برد ہو چکے ہیں صرف ایک کنواں اب بھی موجود ہے۔ باغ کے اندر آج بھی کھجور کے قدیم درخت موجود ہیں۔ باغ کی دیواروں کے ساتھ کمروں کی ایک لمبی قطار موجود ہے جہاں شاہی محافظ، سپاہی اور خدام رہا کرتے تھے۔ مقبرہ ہشت پہلو اور اندر سے گنبد نما ہے۔ مقبرہ کے میناروں سے لاہور شہر کا خوبصورت نظارہ کیا جا سکتا ہے۔شہنشاہ جہانگیر مصوری اور فنون لطیفہ کا بہت شوق رکھتا تھا اس نے اپنے حالات اپنی کتاب ''تزک جہانگیری‘‘ میں تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ اس کتاب میں شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نور جہاں کے عشق و محبت کے دلچسپ قصے بھی درج ہیں۔نادر شاہ اور احمد شاہ کے حملوں اور سکھوں کے دور میں مقبرہ جہانگیر کو بہت نقصان پہنچا۔ سنگ مرمر کی جالیاں اور قیمتی پتھر اکھاڑ لیے گئے اس کے باوجود یہ عمارت آج بھی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے اور عہدِ رفتہ کی یاد دلاتی ہے۔ 

فیملی ڈاکٹر کا انتخاب کیسے کریں؟

فیملی ڈاکٹر کا انتخاب کیسے کریں؟

آپ کا معالج ایسا شخص ہونا چاہیے جس سے آپ مانوس ہوں جس کو آپ کے مسائل سے دلچسپی ہو اور جو اس بات کو پسند کرتا اور ہمت افزائی کرتا ہو کہ آپ اپنی صحت اور اس سے متعلقہ معاملات سے اس کو پور ی طرح باخبر رکھیں۔وہ نہ صرف آپ سے واقف ہو بلکہ دیگر اہل خاندان سے بھی شناسائی رکھتا ہو اور اسے آپ کے خاندانی پس منظر سے آگاہی ہو کہ وراثت میں کونسی بیماریاں رہی ہیں اور فیملی کے افراد کن بیماریوں میں مبتلا رہ چکے ہیں ۔ اس کو آپ کی بیماریوں کا بھی علم ہو اور آپ کی آئندہ مصروفیات زندگی سے بھی وہ باخبر ہو تاکہ درست انداز میں تشخیص کرسکے۔ صرف اسی طرح کی معلومات سے ہی وہ آپ کو آپ کے طرز زندگی سے متعلق مشورے دے سکتا ہے اور آپ کے مسائل صحت کی اصلاح کرسکتا ہے۔ ایک اچھے ڈاکٹر میں 3 خصوصیات ہونی چاہییں، اول تعلیم و تربیت، دوم کردار اور سوم مریض سے دلچسپی و ہمدردی۔ ۔۔فیملی ڈاکٹر کے انتخاب کے ضمن میں اس کی مہارت تو از حد ضروری ہے تاکہ وہ مرض کی درست تشخیص کرسکے اور درست طریقہ علاج تجویز کرے۔ اچھا ڈاکٹر وہ ہے جسے آپ کی فیس سے زیادہ آپ کی خیرو عافیت میں دلچسپی ہونی چاہیے ۔ اسے اس قدر ایماندار ضرور ہونا چاہیے کہ جب اسے محسوس ہو کہ مرض کے ضمن میں آپ کو کسی ماہر کے پاس بھیجنا ضروری ہے تو وہ کوئی تامل نہ کرے۔ مریض سے ہمدردی ڈاکٹر کی اپنی شخصیت اور مزاج پر بھی منحصر ہوتی ہے ، کچھ ڈاکٹر بہت خداترس ہوتے ہیں اور کچھ مریض میں زیادہ دلچسپی بھی نہیں لیتے۔ مریض کی ڈھارس بندھانے سے مریض کافی حد تک مطمئن ہوجاتا ہے ، علاج اپنی جگہ ایک حیثیت رکھتا ہے لیکن مریض کی ڈھارس اور قوت مدافعت بڑھانے سے جلد صحت یابی کی طرف گامزن ہواجاسکتا ہے ۔ اسے چاہیے کہ وہ نہایت صبر و سکون سے آپ کی بات سنے۔اس کے پاس وقت ہو تاکہ وہ آپ کے تمام سوالات کے جوابات دے سکے۔ معائنے جو ضروری ہوں وہ کرے اور احتیاط بتائے ، یہ وہ باتیں ہیں جو صحت برقرار رکھنے یا زائل شدہ صحت کی بحالی کیلئے ضروری ہیںایک عام آدمی کو معالج سے متعلق یہ اندازہ لگانے کیلئے کہ وہ پیشہ ورانہ لحاظ سے جامع ، قابل اعتماد ہے اور اپنا کام جانتا ہے ، چند باتیں جاننی بہت ضروری ہیں ۔اول یہ کہ پہلی ملاقات پر وہ مریض کی مفصل روداد سنتا ہے اور مریض سے اس کی ولادت، بلکہ قبل از ولادت کے تمام واقعات معلوم کرتا ہے اور ان واقعات کا موجودہ صحت سے تعلق معلوم کرتا ہے ۔ پھر ان سب معلومات کو ایک دستاویز کی صورت میں اپنے کلینک رکھتا ہے ۔ دوم یہ کہ وہ پہلی ہی ملاقات میں تفصیلی معائنہ کرتا ہے ۔ ان تفصیلی معائنوں میں جسم کے تمام اعضا ء کا معائنہ اور لیبارٹری ٹیسٹ بھی شامل ہیں جن کی ابتدائی معائنے کے بعد ضرورت پڑتی ہے۔ ایک تجربہ کار ڈاکٹر صرف مریض کی ان شکایات پر ہی اپنے علاج کی بنیاد نہیں رکھتا جو مریض اسے سناتا ہے بلکہ وہ اصل مرض کی پوری تشخیص کیلئے اپنی بھرپور کوشش کرتا ہے ۔اپنے ڈاکٹر کا انتخاب کرنے سے قبل ان باتوں پر توجہ ضرور کریں۔اپنے محلے یا علاقے میں جو ہسپتال اچھی شہرت رکھتا ہے یا معیار کا ہے وہاں کے استقبالئے سے رابطہ کرکے ڈاکٹر کے حوالے سے معلومات حاصل کریں۔اچھے ڈاکٹر کے بارے میں اپنے محلے یا علاقے کے افراد سے بھی بات کریں۔ ہسپتال سے ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ اہلیت اور قابلیت سے متعلق بھی اطمینان کرلیں۔ اگر وہ مزاجاً آپ سے مطابقت رکھتا ہے تو اس کا انتخاب کرلیں۔ آخر میں اس ڈاکٹر سے یہ معلوم کرلیں کہ رات کو ہنگامی ضرورت کے وقت کیا طریقۂ کار اختیار کیا جائے۔کیا وہ آسکتا ہے یا متبادل انتظام کرسکتا ہے ۔ آپ اپنے ڈاکٹر کو شروع میں ہی یہ بتادیں کہ تندرست رہنا چاہتے ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ مریض ہونے کے بعد ہی ڈاکٹر کے پاس جائیں۔ صحت مند رہتے ہوئے بھی ڈاکٹر سے مشورہ کیا جاسکتا ہے کہ تندرست کس طرح رہا جاسکتا ہے ۔ یہ بات نہایت ضرور ی ہے کہ جب آپ ایک مرتبہ ڈاکٹر کا انتخاب کرلیں تو پھر اس پر اعتماد کریں اور اس کی ہدایات پر عمل کریں۔

ستاروں کے ذریعے راستہ تلاش کرنا

ستاروں کے ذریعے راستہ تلاش کرنا

چمکتے ستاروں کو محو حیرت دیکھنا انسان کی ازل سے ہی فطرت ہے اور اسی فطرت نے اسے ستاروں کے علوم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلائی اور اس نے گہرے سمندروں میں راستہ ڈھونڈنے کیلئے ستاروں کا سہارا لیا اور ماڈرن دنیا کے جدید آلات آنے سے ہزاروں سال پہلے بحری جہاز بان اپنی سمت کا تعین اور راستہ تلاش کرنے کیلئے ستاروں سے مدد لیتے تھے۔ ستاروں سے راستہ معلوم کرنے کے چند بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ستاروں کے 6 بنیادی گروپ:اجرام فلکی سے راستہ معلوم کرنے کیلئے 6 بنیادی ستاروں کے گروہوں کا پتہ ہونا ضروری ہے ان گروہوں میں ستارے ایک خاص ترتیب سے چمکتے ہیں اور زمین جیسے جیسے سْورج کے گرد گھومتی ہے یہ آسمان پر اپنی پوزیشن بدلتے ہیں اور ان گروہوں میں 6 اہم گروہ ہیں ۔1۔گریٹ بیئر:اردو میں اسے دُب اکبر کہتے ہیں اور انگلش میں اسے گریٹ بیئر کہا جاتا ہے، یہ 7 ستاروں کا ایک گروہ ہے جو آسمان پر جنوب کی طرف آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے اس گروہ کو جنوب کی سمت کا تعین کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔2۔ ارسا مائین:ارسا مائینر کو اردو میں دُب اصغر کہا جاتا ہے اور انگلش میں اسے لیٹل بیئر کہا جاتا ہے، دب اصغر ستاروں سے راستہ معلوم کرنے کیلئے انتہائی اہم گروہ ہے کیونکہ اسکے کنارے پر نارتھ ستارہ موجود ہے جو نارتھ کی سمت بتاتا ہے۔3۔ کیسیوپیا:کیسیوپیا 5 ستاروں کا گروہ ہے جو ٹیڑھے ڈبلیو کی شکل میں آسمان پر دکھائی دیتے ہیں اور اگر دب اکبر کے ستارے نظر نہ آرہے ہوں تو کیسیوپیا کے گروہ سے نارتھ کی پوزیشن معلوم کی جاتی ہے۔4۔ اورین:ستاروں کا یہ گروہ صدیوں سے راستہ معلوم کرنے کیلئے استعمال ہوتا آ رہا ہے اور جہاں جدید آلات کام کرنا بند کر دیں وہاں اورین سٹارز راستہ بتانے میں مدد کرتے ہیں، یہ گروہ ہنٹر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ ناردن نصف کرہ کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔5۔ کرکس:ان ستاروں کو ساؤدرن کراس بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ نصف کرہ پر سائوتھ کی طرف واضح دکھائی دیتے ہیں جس سے سائوتھ کی سمت کا تعین کیا جاسکتا ہے۔6۔ سینچورس:یہ ستاروں کا ایک بہت بڑا جھرمٹ ہے جو آسمان پر سائوتھ کی طرف دکھائی دیتا ہے اور ساودرن کراس کے ساتھ یہ سائوتھ کی صحیح سمت کا تعین کرنے میں مددکرتا ہے۔نارتھ سٹار کی تلاش:نارتھ سٹار کو پولیرس بھی کہتے ہیں اور اگر دب اکبر اور دب اصغر صاف دکھائی دے رہے ہیں تو اسے تلاش کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے کیونکہ یہ دونوں کے درمیان چمکتا ہے اور اسے ڈھونڈ لینے کے بعد چاروں سمتوں کا تعین کرنا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ اس سے نارتھ کی صحیح پوزیشن کا پتہ چل جاتا ہے ۔ اگر دب اکبر دکھائی نہ دے رہا ہو مدہم ہو یا ہوریزن میں چھپ گیا ہوتو نارتھ سٹار کا پتہ5 ستاروں کے گروہ کیسیوپیا سے لگایا جاتا ہے یہ گروہ دب اکبر کے بالکل مخالف سمت پر دب اکبر کے مدہم ہونے کی صورت میں واضح نظر آتا ہے اور کیسیوپیا کے درمیان والے ستارے سے ایک سیدھی لائن دب اکبر کے کنارے والے ستارے تک کھینچی جائے تو درمیان میں نارتھ سٹار مل جائے گا اور جب یہ مل جائے تو نظر کو سیدھے اسے کے نیچے ھوریزن پر لیکر آئیں اور نارتھ کو پوائنٹ کر لیں۔نارتھ مل جائے تو باقی تینوں سمتوں کو ڈھونڈنا آسان ہو جاتا ہے۔طول یعنی Latitude جاننے کا طریقہ پرانے زمانے میں جہاز بان اپنے طول جاننے کیلئے نارتھ سٹار ڈھونڈتے تھے اور پھر آسمان پر اس کی بلندی سے طول کا اندازہ لگایا جاتا تھا اس کیلئے سیکسٹینٹ وغیرہ جیسے ٹول استعمال کیے جاتے تھے۔عرض یعنی LONGITUDE جاننا:سمتوں کا تعین ہونے کے بعد اور طول جاننے کے بعد پرانے جہاز بان جب تک عرض کا حساب نہیں لگاتے تھے تب تک ان کا راستہ تلاش کرنے کا کام ادھورا رہتا تھا اور عرض کا حساب صرف ستاروں سے لگانا انتہائی مْشکل کام ہے اور جہاز بان عام طور پر عرض کا حساب ستاروں کے طلوع اور غروب کی پوزیشن سے لگایا کرتے تھے جس سے ان کو ایک اندازہ ہوجاتا تھا کہ وہ منزل سے کتنی دور ہیں۔

احساس کیجیے۔۔۔۔۔

احساس کیجیے۔۔۔۔۔

غربت و افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں شکستہ چہرے لاغر و ناتواں جسم کس چیز کی عکاسی کر رہے ہیں حسرت و یاس کی تصویر بنے بوڑھے،بین کرتی مائیں بلکتے بچے، پناہ کی تلاش میں سرگرداں بہنیں، ہوس کی بھینٹ چڑھ جانے والی معصوم بچیاں اورمعاشرے کے ہاتھوں ستائے بے روزگار خودکشی پر مجبور نوجوان ہیں ۔ طالب علموں کے ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ ہتھیار تھما دئیے گئے ہیں، قوم کے مسیحا ادویات کے کمیشن کے چکر میں موت باٹنے لگے ہیں ، محافظ چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے عصمتوں کو تار تار کرتے نظر آ رہے ہیں ۔مفلوک الحال افراد کو ''سودکی سولی‘‘ پر چڑھا دیا جاتا ہے ،ملزم منصف بن جاتے ہیں ، جہاں سہولیات صرف بااثر طبقے کیلئے ہیں جہاں سوسائٹی ''ہائی ‘‘اور'' لو‘‘ میں بٹی ہوئی ہے۔ جہاں قانون صرف غریب کیلئے ہو اور امراء وڈیرے اور بد قماش لوگ دندناتے پھرتے ہوں۔ جہاں مطلب کی دوستیاں، منافقانہ روئیے، بدیانتی اور ریا کاری کا دور دورہ ہو، جہاں سفارش ،رشوت اور اقرباء پروری کا راج ہو جہاں دولت ہی شرافت کا معیار ہو اور ظالم وڈیرے کی عزت اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے کی جائے ۔جہاں چند کوڑی کی خاطر بھائی بھائی کا جانی دشمن بن چکا ہے بیٹا والدین کو پہچاننے سے انکاری ہے جہاں زبان ، قومیت اور مذہب کے نام پر قتل عام جاری ہے جہاں سچ بولنے کی پاداش میں ہاتھ اور زبانیں کاٹ دی جاتی ہیں۔ جہاں صحافیوں کو ظلم، نا انصافی اور سچ دکھانے پر قتل کر دیا جاتا ہے جہاں مظلوم کا ساتھ دینے پر عبرتناک موت ملتی ہے۔ جہاں مغربی کلچر کو فروغ دیا جاتا ہے جہاں اپنی قومی زبان اردو بولنے پر شرم اور تہذیب و تمدن کو فرسودہ سمجھا جاتا ہے۔ جی ہاں کچھ ایسا ہی ہو چکا ہے ہمارامعاشرہ جس میں آج چوروں، ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی گرانفروشی اور کرپٹ سیاستدانوں کا راج ہے۔تاریخ پر جب ہم نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ جو قومیں اپنے اسلاف اور انکی روایات کو بھول جاتی ہیں دنیا سے ان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے اب بھی وقت ہے سنبھل جائو کہ یہ بارشیں، طوفان اور کورونا وائرس جیسے موذی امراض نشانیوں کے طور پر ہمارے سامنے ہیں یورپ میں آج بھی عورت کو جتنا ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے اسکی کہیں مثال نہیں ملتی جبکہ اسلام نے عورت کو چادر چاردیورای کا محافظ اور گھر کی زینت بنایا مگر عورت ذلیل و خوار ہورہی ہے کبھی سوچا ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہاہے؟ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ ہم نے احکامات خداوندی سے منہ موڑ لیا ہے، غیر مسلم ہمارے دین سے اس قدر متاثر ہیں کہ دھڑا دھڑ اسلام قبول کررہے ہیں مگر ہم اہل اسلام ہو کر بھی مغربی تہذیب و ثقافت سے اس قدر متاثر ہوئے ہیں کہ اسے اپنانے میں ایک دوسرے سے سبقت لیے جا رہے ہیں ۔خدارا سوچیے۔۔ غور و فکر کیجیے ۔ ۔اور ایک دوسرے کا احساس کیجئے ۔۔۔

قدرت اللہ شہاب اور’’ جمہوریت کا سِکہ‘‘ بحیثیت ادیب ’’شہاب نامہ ‘‘  میں حقائق کو ممکنہ حد تک پیش کرنے کی کوشش کی

قدرت اللہ شہاب اور’’ جمہوریت کا سِکہ‘‘ بحیثیت ادیب ’’شہاب نامہ ‘‘ میں حقائق کو ممکنہ حد تک پیش کرنے کی کوشش کی

''شہاب نامہ ‘‘ایسی کتاب ہے جو کسی تعارف کی محتاج نہیں اردو دنیا میں آج تک سب سے زیادہ فروخت ہونیوالی سوانح عمری ''شہاب نامہ‘‘ہے، قیام پاکستان کے بعد قدرت اللہ شہاب اہم عہدوں پر فائز رہے انہوں نے اپنی خودنوشت کے کئی ابواب کو اسی دور کے حالات و واقعات سے مزین کیا ، قدرت اللہ شہاب نے کتاب میں لکھا کہ میں نے حقائق کو انتہائی احتیاط سے ممکنہ حد تک اسی رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی جس رنگ میں وہ مجھے نظرآئے ۔کتاب کے پہلے حصے میں شہاب نے بہت سے زند ہ کردار تخلیق کئے ۔ ان کرداروں میں مولوی صاحب کی بیوی ، چوہدری مہتاب دین ، ملازم کریم بخش اورچندرواتی وغیرہ ۔چندراوتی کا سراپا یوں لکھتے ہیں۔ رنگت میں وہ سونے کی ڈلی تھی اور جلد اس کی باریک مومی کاغذ کی تھی ۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ،ایک روز وہ چھابڑی والے کے پاس تاز ہ گنڈیریاں کٹوانے کھڑی ہوئی تو میرے دل میں آیا ایک موٹے گنے سے چندرا وتی کو مار مار کر ادھ موا کردوں اور گنڈیریوں والے کی درانتی سے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اپنے دانتوں سے کچر کچر چبا ڈالوں۔‘‘چندراوتی شہاب نامہ کا بے مثال کردار ہے جس کے اندر محبت کا الائو دہک رہا تھا، لیکن وہ زبان پر نہ لا سکی اور مر گئی ۔ کتاب کا دوسرا حصہ ''آئی سی ایس میں داخلہ اور دور ملازمت‘‘پر مشتمل ہے ۔ کانگرس ہائی کمان کا خفیہ منصوبہ جو شہاب صاحب نے جوش جنوں میں قائداعظم تک پہنچایا یہ واقعہ بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔کتاب کے تیسرے حصے میں پاکستان کے بارے میں تاثرات ہیں ، اس حصے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اسلامی فلاحی ریاست کیسے بن سکتا ہے ۔وہ کہتے ہیں ''ہمیں حب الوطنی کا جذبہ نہیں بلکہ جنون درکار ہے ۔ ‘‘کتاب کا سب سے اہم حصہ چوتھا حصہ ہے جس میں ''دینی و روحانی تجربات و مشاہدات‘‘بیان کیے گئے ہیں ۔یہاں ہم ان کی کتاب کے مختصر3 پیرا گراف پیش کر رہے ہیں ۔''میں نے دنیا بھر کے درجنوں سربراہان مملکت ،وزرائے اعظم اور بادشاہوں کو کئی کئی مرتبہ کافی قریب سے دیکھا ہے لیکن میں کسی سے مرعوب نہیں ہوا اور نہ ہی کسی میں مجھے اس عظمت کا نشان نظر آیا جو جھنگ شہر میں شہید روڈ کے فٹ پاتھ پر پھٹے پرانے جوتے گانٹھنے والے موچی میں دکھائی دیا تھا ۔‘‘''جمہوریت کا سکہ اسی وقت چلتا ہے ،جب تک وہ خالص ہو ۔ جوں ہی اس میں کھوٹ مل جائے ،اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی‘‘۔۔۔۔''صاحب اقتدار اگر اپنی ذات کے گرد خود حفاظتی کا حصار کھینچ کر بیٹھ جائے تو اس کی اختراعی ، اجتہادی اور تجدیدی قوت سلب ہو کر اسے لیکر کا فقیر بنا دیتی ہے ۔‘‘قدرت اللہ شہاب گلگت میں 26 فروری 1917ء کو محمد عبداللہ کے ہاں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم پنجاب کے گائوںچمکویہ، ضلع انبالہ مشرقی پنجاب سے حاصل کی، اس وقت پنجاب تقسیم نہیں ہوا تھا ۔بی ایس سی کی ڈگری 1937ء میں پرنس آف ویلز کالج جموں و کشمیر سے حاصل کی اور ماسٹر ان انگلش لٹریچر گورنمنٹ کالج لاہور سے 1939ء میں کیا۔ اور1941ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوگئے، ابتداء میں بہار اور اڑیسہ میں خدمات سرانجام دیں۔ 1943ء میں بنگال میں متعین ہو گئےقیام پاکستان تک وہیں رہائش پذیر رہے ۔ 1947ء میں پاکستان آئے آزاد کشمیر کی نوزائیدہ حکومت کے سیکرٹری جنرل بھی بنے جھنگ کے ڈپٹی کمشنر رہے ، 3 سربراہان ِ مملکت کے پرسنل سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیئے یہ ہی نہیں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر جیسے عہدوں پر بھی فائز رہے۔جس وقت جنرل یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا انہوں نے استعفیٰ دیدیا ۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہوگئے اب کچھ بات ہو جائے شہرہ آفاق کتاب'' شہاب نامہ‘‘ کی، ملک میں یہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے ۔ ان کی کتاب کے چار حصے کیے جا سکتے ہیں۔پہلا حصہ قدرت اللہ کا بچپن اور تعلیم وغیرہ پر مشتمل ہے۔قدرت اللہ شہاب اپنی خود نوشت ''شہاب نامہ‘‘ میں لکھتے ہیں ۔9 جون 1938ء سے میں نے باقاعدہ ایک ڈائری لکھنے کی طرح ڈالی ۔اس میں ہر واقعہ کو ایک خود ساختہ شارٹ ہینڈ میں لکھا ۔ایک روز یہ کاغذات ابن انشا ء کو دکھائے ۔ابن انشاء کے کہنے پر کافی مدت بعد قدرت اللہ شہاب نے اس کتاب کو لکھا ۔کتاب کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں ''خوش قسمتی سے مجھے ایسے دوستوں کی رفاقت نصیب ہوئی جن کا اپنا ایک الگ رنگ اور اپنی شخصیت میں ایک نام رکھتے ہیں ۔مثلاََ ابن انشاء ،ممتاز مفتی ،بانو قدسیہ ،اشفاق احمد واصف علی واصف ،جمیل الدین عالی ،ریاض انور ،ایثار علی ، مسعود کھدر پوش ابن الحسن برنی ،اعجاز بنالوی اورابو بخش اعوان ۔قدرت اللہ شہاب کی وفات کے بعد ان کے بارے میں جو کتابیں شائع ہوئیں ان میں ''ذکر شہاب‘‘ اور''مراد بریشم‘‘خاص طور پر مقبول ہوئیں جبکہ ان کے خطوط کے مجموعے بھی چھاپے گئے ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل انہی کی کوششوں سے عمل میں آئی۔حکومت کی جانب سے انہیں ستارہ ٔ قائداعظم اور ستارۂ پاکستان بھی دیا گیا۔انکی تصانیف میں'' یاخدا، نفسانے ،سرخ فیتہ، ماں جی اور ''شہاب نامہ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ قدرت اللہ شہاب نے 24 جولائی 1986ء کو اسلام آباد میں 69برس کی عمر میں وفات پائی۔

طفیل ہوشیارپوری کی شاعری غزلوں اور نظموں کے علاوہ ان کے فلمی گیت بھی بے مثال ہیں

طفیل ہوشیارپوری کی شاعری غزلوں اور نظموں کے علاوہ ان کے فلمی گیت بھی بے مثال ہیں

برصغیر پاک و ہند میں ایسے شاعروں کی کمی نہیں جنہوں نے نہ صرف خوبصورت غزلیں اور نظمیں تخلیق کیں بلکہ فلموں کیلئے بھی بے مثل گیت لکھے۔ اس بات سے بھی اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ ان میں سے اکثر شعرا ء کو ان کے فلمی نغمات کی وجہ سے زیادہ شہرت ملی۔ بھارت کا ذکر کیا جائے تو ہمیں ساحر لدھیانوی‘ مجروح سلطانپوری‘ جانثار اختر اور کیفی اعظمی کی مثالیں ملتی ہیں۔ ان شعرا ء نے عمدہ غزلوں اور نظموں کے علاوہ بڑے باکمال نغمات تخلیق کیے جنہیں آج بھی سنا جائے تو زبان سے بے اختیار واہ نکلتی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں قتیل شفائی‘ سیف الدین سیف‘ کلیم عثمانی‘ حبیب جالب اور منیر نیازی کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ منیر نیازی نے سب سے کم فلمی گیت لکھے لیکن کیا خوب لکھے۔ جوش ملیح آبادی نے پہلے بھارت میں کچھ فلموں کے نغمات تحریر کئے۔ ایک نام کا اور اضافہ کر لیجئے اور وہ ہے طفیل ہوشیارپوری۔ انہوں نے بہت معیاری غزلیں اور نظمیں لکھیں اور ان کے شعری مجموعے بھی منظرعام پر آئے۔ جن میں ''سوچ مالا‘ میرے محبوب وطن‘ شعلہ جاں اور جام مہتاب‘‘ شامل ہیں۔ وہ کئی برس تک ایک ادبی جریدے کی ادارت بھی کرتے رہے۔ طفیل ہوشیارپوری نے اردو اور پنجابی فلموں کیلئے جو گیت لکھے ان میں سے کئی ایسے گیت ہیں جنہوں نے لازوال شہرت حاصل کی۔طفیل ہوشیار پوری کا اصل نام محمد طفیل تھا 14جولائی 1914ء کو ضلع ہوشیارپور (مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ایک استاد کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1948 ء میں اردو اور پنجابی فلموں کے نغمات لکھنا شروع کیے۔ ان کی مشہور فلموں میں شمی (1950ء)‘ ہرجائی (1952ء)‘ غلام (1953ء)‘ شہری بابو (1953ء)‘ قاتل (1955ء)‘ پتن (1955ء)‘ دلا بھٹی (1956ء)‘ لخت جگر (1956ء)‘ ماہی منڈا (1956)‘ قسمت (1956ء)‘ سرفروش(1956ء)‘ معصوم(1957ء)‘ انارکلی (1958ء)‘ مٹی دیاں مورتاں (1960ء)‘ شام ڈھلے (1960ء)‘ عجب خان (1961ء)‘ شہید (1962ء)‘ عذرا (1962ء) ‘ موسیقار (1962ء)‘ نائیلہ (1965ء) اور میری دھرتی میرا پیار (1970ء) شامل ہیں۔فلمی گیت نگاری کے حوالے سے طفیل ہوشیارپوری کو سب سے پہلے پنجابی فلم ''شمی‘‘ سے شہرت ملی یہ فلم 1950 میں ریلیز ہوئی۔ یہ واحد فلم تھی جس کا نام فلم کی ہیروئن شمی کے نام پر رکھا گیا۔ اس فلم میں سنتوش کمار‘ ببو‘ ایم اسماعیل‘ اجمل اور غلام محمد نے اہم کردار ادا کیے ۔ شمی اداکارہ شمی کی پہلی فلم تھی فلم کی پروڈیوسر ملکہ پکھراج تھیں جبکہ ہدایتکار منشی دل تھے۔ موسیقی ماسٹر عنایت حسین نے ترتیب دی تھی۔ شمی کے گیت تنویر نقوی‘ بابا عالم سیاہ پوش‘ ساغر صدیقی اور اقبال سیف پوری نے لکھے۔ صرف ایک گیت طفیل ہوشیارپوری نے لکھا اور وہ سب پر بازی لے گئے۔ اس گیت نے زبردست مقبولیت حاصل کی۔بھارت میں بھی اس گیت کی دھوم مچی اس کے بول تھے ''نی سوہے جوڑے والئے‘ ذرا اک واری آ جا‘ سانوں مکھڑا وکھا جا‘‘۔ عنایت حسین بھٹی نے اس گیت کو بڑی مہارت سے گایا۔1953میں ''شہری بابو‘‘ ریلیز ہوئی اس کے ہدایتکار نذیر،موسیقی رشید عطرے کی تھی۔ منور سلطانہ‘ زبیدہ خانم اور عنایت حسین بھٹی نے فلم کے نغمات گائے ۔ اس فلم میں سورن لتا (نذیر کی اہلیہ)‘ سنتوش کمار‘ نذر‘ ایم اسماعیل‘ علائو الدین اور عنایت حسین بھٹی نے اداکاری کے جوہر دکھائے۔ نغمہ نگاروں میں بابا عالم سیاہ پوش‘ طفیل ہوشیارپوری‘ حزیں قادری اور وارث لدھیانوی شامل تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ''شہری بابو‘‘ زبیدہ خانم کی بطور گلوکارہ پہلی فلم تھی۔ اس کے علاوہ وارث لدھیانوی نے بھی پہلی بار کسی فلم کے گیت لکھے۔ ویسے تو اس فلم کے سارے گیت ہی پسند کئے گئے لیکن طفیل ہوشیارپوری کا لکھا گیت بھی بہت مقبول ہوا۔ ''دل نئیں دنیا تیرے بنا‘‘ ۔اُس زمانے میں ایک فلم کے گیت کئی شعرا ء لکھتے تھے اور ہر ایک کے حصے میں ایک یا دو گیت ہی آتے تھے۔ طفیل صاحب کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں بہت اچھے موسیقار ملے۔1953ء میں ان کی اردو فلم ''غلام‘‘ ہٹ ہوئی اس فلم کے ہدایتکار انور کمال پاشا تھے۔ صبیحہ خانم‘ سنتوش کمار‘ شمیم‘ شمی‘ آصف جاہ‘ ہمالیہ والا‘ راگنی‘ اجمل اور ایم اسماعیل نے خوبصورت اداکاری کی ۔ گلوکار فضل حسین کی یہ پہلی فلم تھی ،اس فلم کی موسیقی ماسٹر غلام حیدر نے مرتب کی تھی۔ ماسٹر غلام حیدر وہ نامور موسیقار تھے جنہوں نے بھارت میں اپنے نام کا ڈنکا بجایا تھا۔ یہ وہ موسیقار تھے جنہوں نے سب سے پہلے لتا منگیشکر کو پلے بیک گلوکارہ کے طور پر متعارف کرایا۔ ''غلام‘‘ میں ان کی موسیقی بہت پسند کی گئی۔ اس کے نغمات قتیل شفائی‘ سیف الدین سیف‘ ساغر صدیقی اورطفیل ہوشیارپوری نے لکھے۔ باقی گیتوں کی طرح طفیل صاحب کا گیت بھی بہت پسند کیا گیا جس کے بول تھے ''چھپ چھپ جوانی آئی اے‘‘ اسے پکھراج پپو نے گایا اوریہ صبیحہ خانم پر پکچرائز ہوا۔1955 ء میں انور کمال پاشا کی مشہور زمانہ فلم'' قاتل‘‘ ریلیز ہوئی اس کے گیتوں نے ہر طرف دھوم مچادی۔ ماسٹر عنایت حسین نے کمال کی موسیقی ترتیب دی ''قاتل‘‘ مسرت نذیر‘ اسلم پرویز اور نیر سلطانہ اور دلجیت مرزاکی پہلی فلم تھی۔ کہانی انور کمال پاشا کے والد حکیم احمد شجاع نے لکھی ۔ نغمات قتیل شفائی‘ سیف الدین سیف اور طفیل ہوشیارپوری کے زورِ قلم کا نتیجہ تھے، سبھی گیتوں کو بے حد پذیرائی ملی۔ طفیل ہوشیارپوری نے ایک ہی گیت لکھا جس نے بہت دھوم مچائی، اس گیت کو کوثر پروین نے گایا اور یہ صبیحہ خانم پر عکس بند ہواگیت کے بول تھے ''اومینانجانے کیا ہو گیا‘ کہاں دل کھو گیا‘‘۔1955 ء میں ہدایتکار لقمان کی سپرہٹ پنجابی فلم ''پتن‘‘ ریلیز ہوئی جس میں مسرت نذیر‘ سنتوش کمار‘ آشا پوسلے‘ نذر‘ شیخ اقبال‘ ایم اسماعیل اور علائوالدین نے کام کیا۔ یہ ایک رومانوی فلم تھی جس کی شاندار موسیقی بابا جی اے چشتی نے مرتب کی تھی۔ طفیل ہوشیارپوری‘ مشیر کاظمی‘ حزیں قادری‘ اسماعیل متوالا اور جی اے چشتی کے لکھے گیتوں کو زبیدہ خانم‘ کوثر پروین‘ زاہدہ پروین‘ عنایت حسین بھٹی اور علائوالدین نے گایا فلم کے 13میں سے 2 نغمات طفیل صاحب کے حصے میں آئے اور دونوں ہٹ ہو گئے۔ ایک گیت کے بول تھے ''میرے کنڈلاں والے وال وے‘ میری ہرنی ورگی چال وے‘‘ اور دوسرے گیت کے بول کچھ یوں تھے ''رنگ رنگیلی ڈولی میری‘ بابل اج نہ ٹور‘‘ دونوں گیتوں کو بالترتیب کوثر پروین اور زبیدہ خانم نے گایا۔1956ء طفیل ہوشیارپوری کیلئے بڑا اہم سال ثابت ہوا۔اس سال ان کی کامیاب ترین فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ''دلابھٹی‘ ماہی منڈا‘ سرفروش اور چن ماہی‘‘ شامل ہیں۔ فلم ''دُلا بھٹی‘‘ کے ہدایتکار ایم ایس ڈار تھے اس فلم میں صبیحہ‘ سدھیر‘ علائوالدین‘ غلام محمد‘ ایم اسماعیل اور اجمل نے اہم کردار ادا کیے۔ فلمساز آغا جی اے گل نے اس فلم کی کمائی سے ایورنیو سٹوڈیو تعمیر کیا۔اس فلم کے 10گیت تھے جنہیں زبیدہ خانم‘ منورسلطانہ‘ عنایت حسین بھٹی اور اقبال بانو نے گایا۔ گیت نگاروں میں طفیل ہوشیارپوری‘ بابا عالم سیاہ پوش‘ جی اے چشتی اور ایف ڈی شرف شامل تھے۔ طفیل صاحب نے اس فلم کیلئے 6 گیت لکھے۔ سارے گیت ہی باکمال تھے لیکن منور سلطانہ کا گایایہ گیت پنجابی کے عظیم ترین گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس گیت کے بول تھے ''واسطہ ای رب دا تو جانویں وے کبوترا‘‘ اس گیت کی شہرت آج تک قائم ہے۔طفیل ہوشیارپوری نے 68فلموں کیلئے 224نغمات تخلیق کیے ان کے مقبول اردو اور پنجابی نغمات کی تعداد کافی زیادہ ہے انہوں نے ملی نغمات بھی لکھے جو بہت مشہور ہوئے۔ انہوں نے بڑی بھرپور زندگی گزاری 4جنوری 1993ء کو وہ اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ ایک غزل گو‘ نظم گو اور نعت گو کے علاوہ طفیل ہوشیارپوری کو ایک شاندار نغمہ نگار کی حیثیت سے بھی یاد رکھا جائے گا۔

 ظفر حسن ایبک۔۔ عالمی جنگ اول سے لیکر ترک فوج میں افسر بننے تک کی روداد

ظفر حسن ایبک۔۔ عالمی جنگ اول سے لیکر ترک فوج میں افسر بننے تک کی روداد

ظفر حسن ایبک 26ستمبر 1895ء کی رات کو دہلی سے 76میل اور پانی پت کے مشہور میدان جنگ سے تقریباً 25میل شمال میں واقع شہر کرنال کے محلہ قاضیاں میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک چھوٹے زمیندار خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ وہ پانچ سال کی عمر میں محلے کی مسجد میں قرآنِ شریف کی تعلیم حاصل کرنے لگے ۔ ابتدائی اور مڈل سکول کے دوران فارسی اور عربی کی تعلیم بھی حاصل کرلی۔ ظفر حسن نے اپنے خاندان کے مالی مسائل کے سبب رات دن محنت کرکے اسکالر شپ کے ذریعے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ اُس زمانے میں کرنال ہائی اسکول کے لڑکے انٹرنس کے لیے امتحان انبالہ سنٹر میں دیتے تھے اِسی لیے وہ بھی 1911ء میں انبالہ جاکر انٹرنس کے امتحان میں شامل ہوگئے اور اپنی جماعت میں اوّل آکر اُنھیں سکالرشپ دیا گیا ۔پھرلاہور جاکر گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ کالج کی تعلیم کے دوران پہلے جنگِ طرابلس اور پھر جنگِ بلقان پھوٹی تو وہ بھی اپنے ہم عمر نوجوانوں کی طرح جوش و جذبے میں آکر اپنے ترک بھائیوں کے لیے کچھ کرنے کو تڑپ گئے لیکن لاچار تھے۔ جب 1914ء میں پہلی جنگِ عظیم چھڑ گئی تو ہندوستان کا ماحول کچھ دگرگوں ہونے لگا ۔ جب عثمانی سلطان کے خلیفہ محمد رشاد نے جہادِ کا اعلان کیا تو عالمِ اسلام کے مختلف حصّوں میں مغربی طاقتوں کے خلاف شورشیں اور بغاوتیں شروع ہوئیں اور خاص طور پر مسلمان نوجوان جذبۂ جہاد سے سرشار ہوکر عثمانیوں کی صف میں آکر جنگ کرنے لگے۔ ہندوستان کے نوجوانوں نے دوسرے ملکوں کے نوجوانوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر اِس جہاد میں حصّہ لینا شروع کیا تھا۔ ظفر حسن بھی اپنے کچھ ہم جماعتوں اور لاہور کے دوسرے کالجوں کے کچھ طلباء کے ساتھ اِس جہاد میں شرکت کرنے کا فیصلہ کرکے1915ء میں روپوش ہوکر روانہ ہوئے اور ایک کٹھن سفر کے بعد کابل پہنچے۔ جہاد کے لیے سفر کے راہی ہونے کے بعد اُس زمانے کی افغانی حکومت نے انگریزوں کے ساتھ تعلقات کو خراب نہ کرنے کی خاطر، اِ ن افراد کو آگے نہیں جانے دیا تو وہ لوگ آٹھ سال تک افغانستان میں رہنے پر مجبور ہوئے۔ افغانستان میں مختلف سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہے اور بعد میں افغانستان اور انگریزوں کے مابین شروع ہونے والی جنگ میں بھی افغانوں کی صف میں جنگ لڑی۔ 1922ء میں افغانی حکومت کی اجازت پر اپنے استاد اور رہنما عبیداللہ سندھی کے ہمراہ روانہ ہوکر ماسکو گئے۔ دو سال وہاں رہنے کے بعد 1924ء میں ترکی تشریف لائے اور استنبول میں آباد ہوئے۔ اُنھوں نے ترکی شہریت حاصل کرنے کے بعد ترکی اسٹاف کالج میں داخلہ لیا اور وہاں سے فارغ التحصیل ہوکر ترک فوج میں افسر بنے۔ 1933ء میں ترکی اور افغانستان کے مابین معاہدے کی بناء پر ایک ترک افسر کی حیثیت سے افغانستان گئے اور افغان فوج کی تنظیم کے کاموں میں خدمات انجام دیں۔ افغانستان کی طرف سے چیکوسلواکیا سے توپ خریدنے کے سلسلے میں بھیجے گئے وفد کی سربراہی بھی اُنھوں نے کی۔ وہ1936ء سے 1937ء تک یورپ کے مختلف ملکوں میں سفر کرکے پھر افغانستان واپس لوٹے لیکن اپنی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے کابل سے استنبول واپس آئے۔ پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان جاکر اپنے بچھڑے ہوئے رشتہ داروں سے ملے اور ترکی اور پاکستان کی دوستی اور برادری کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ''خاطرات‘‘ بھی لکھی۔ استنبول میں 1987ء میں 92سال کی عمر میں وفات پائی ۔

افسانچہ،ساون کے دن

افسانچہ،ساون کے دن

ساون کے دن تھے، کبھی دھوپ تو کبھی بارش اور کبھی حبس۔۔پچھم سے اس قدر گہرے بادل آئے کہ'' شاداں کی آواز گونجی''بچو جلدی سے چارپائیاں اندر کرو، سیاہ بادل گھر کر آئے ہیں ضرور برسیں گے‘‘۔ فرصت کے زمانے تھے، گرمیوں کی چھٹیاں تھیں اور سب پڑھنے والے اور گھر کے دیگر افراد گرمیوں میں درختوں کے نیچے بیٹھ جایا کرتے تھے۔ گھر کھلا تھا ، آنگن میں ایک لسوڑے کا درخت سب کیلئے آرام گاہ تھا، اس کے بڑے بڑے پتے سورج کی روشنی کو نیچے آنے سے روک دیتے تھے، ایسی گھنی چھائوں ہوتی کہ گھنٹوں بیٹھنے کو دل کرتا۔ بجلی چلی جاتی تو تپتی گرمیوں میں یہی لسوڑے کا درخت گھر بھر کیلئے سکون کا باعث ہوتا تھا۔آنگن میں بکھری چارپائیاں پرچھتی پر اور کچھ برآمدے میں رکھی جاچکی تھیں، گھنگور گھٹا ایسی آئی کے روشن دن میں یک لخت شام کا گماں ہونے لگا، ساتھ ٹھنڈی ہوا نے کئی دنوں کے پسینے سے شرابور جسموں کو ایسے سرد کیا جیسے کسی نے برف کی سل ہی ڈال دی ہو۔ باد ل گرجے، بجلی چمکی اور اس زور کی بارش ہوئی کہ جل تھل ہوگیا۔لسوڑے کے درخت کے پتوں سے بارش کا پانی ٹپک رہا تھا، لسوڑے جو کہ کافی دن پہلے اتارے جاچکے تھے اب چیدہ چیدہ پکے ہوئے لسوڑے جو رہ گئے تھے گر رہے تھے ۔ اور چھوٹے بچے اٹھا اٹھا کر کھارہے تھے۔ شاداں جو چند لمحے پہلے پورے گھر میں سامان کو سنگوانے کے لئے بھاگی پھر رہی تھیں اب آرام سے چارپائی پر بیٹھی تیز بارش کو اور لسوڑے کے درخت کو دیکھ رہی تھی۔ گلیوں میں پانی بھرگیاتھا، محلے کے لڑکے بالے بارش کے پانی میں نہاتے پھر رہے تھے ۔تقسیم کے بعد جب شاداں اور اس کا خاندان ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا تب سے وہ اس گھر کو سنوارنے میں لگی ہوئی تھی، لسوڑے کا درخت بھی اس نے منگواکرلگایا تھاکیونکہ اپنے وطن گڑگائوں کے لسوڑے اسے بہت پسند تھے۔اسی لئے یہاں بھی لسوڑے کا درخت لگوایا گیا۔گرمیوں کی چھٹیوں میں گھر کے سب بچے جھولے ڈال لیتے اور خوب مزے کرتے۔کھانا بھی جھولے میں بیٹھے بیٹھے کھایا جاتا۔ شاداں اس درخت کا بہت خیال رکھتی جیسے کسی اپنے بچے کا خیال رکھتی ہو۔درخت کے قریب ہی پانی کا نلکا تھاجہاں سے پانی اس درخت کو دیا جاتا اور جب پھل لگنے کے قریب ہوتا تو خاص کھاد منگواکر ڈالی جاتی تاکہ پھل زیادہ لگے، پھر گرمیوں میں لسوڑے اور آم کا اچار ڈلتا جو پورا سال چلتا تھا۔ مرتبان بھرجاتے، کبھی کبھی ہمسایوں کو بھی بجھوادیا جاتا۔ بیسن کی روٹی ، لسوڑے کا اچار اور لسی عجب ہی لطف دیتی تھی۔ اسی درخت کے نیچے گھر بھر کے کپڑے دھلتے اور فارغ ہوکر اسی کے نیچے چارپائیاں ڈال لی جاتیں، کبھی کبھی محلے کی لڑکیاں بھی ٹھنڈی چھائوں لینے اور اماں سے ملنے کیلئے آتی تو اسی کے نیچے بیٹھتیں۔ بچے اپنے اپنے کھیل بھی کھیلتے تو کبھی درخت پر چڑھ جاتے اور کبھی اس کے نیچے پہاڑیاں بناتے۔اسے گھر میں مرکزی حیثیت حاصل تھی، گھر کی رونق اسی کے دم سے تھی ۔ شاداں خوشی سے نہال ہوجاتی جب محلے کی لڑکیاں اس کے گھر آتیں اور خوب ہلا گلا ہوتا۔ کہیں کھسیانی ہنسی ہنسی جارہی ہے تو کہیں بالوں کی چٹیا بن رہی ہے اور کہیں مہندی لگ رہی ہے ۔ شاداں تھوڑ ا بہت بڑھی ہوئی بھی تھی اس لئے وہ محلے کے بچوں کو پڑھا دیا کرتی تھی۔ اس کا شوہر جب کام سے واپس آتا تو محلے کی لڑکیاں تتر بتر ہوجاتیں اور لسوڑے کا درخت پھر سنسان ہوجاتا۔ پھر بیٹھنا برآمدے میں ہوتا اور بچے بھی سہم کر بیٹھ جاتے۔ کام کاج کی بات ہوتی ، ملکی سیاست پر اس کا شوہر دو چار باتیں کرتا اور کڑھتا۔ایک دن جب اس نے کہا کہ لسوڑے کے درخت کی وجہ سے گھر میں بہت تنگی اور گند ہے کیوں ناں اسے کاٹ دیا جائے تو شاداں نے پہلی مرتبہ غصے سے بات کی تھی اور کہا تھا کہ میرے ہوتے ہوئے یہ کٹ نہیں سکتا۔ لسوڑے کی درخت کی ٹھنڈک لینے کے لئے سب بچے بھی دل ہی دل میں شاداں کی حمایت کرنے لگے۔ اس دن کے بعد اس کے شوہر نے کوئی بات نہ کی ۔ لیکن پھر محلے میں گھر بننے لگے اور درخت کٹنے لگے۔ آباد ی بڑھی تو مکان بننے سے سبزہ ختم ہونے لگا۔ بچے بڑے ہوگئے تو شاداں کے شوہر نے بھی کہا کہ اب گھر میں کمروں کی ضرورت ہے ، لسوڑے کا درخت کاٹنا پڑے گا۔ یہ سن کر شاداں غم سے سوکھ گئی لیکن مجبور تھی کہ کمروں کی ضرورت تھی، بچوں کی شادیاں کرنی تھیں۔ پھر ایک دن شاداں کے شوہر نے چند مزدور بلائے جو آری لئے ہوئے تھے اور بد ھ کے روز لسوڑے کا درخت کٹ گیا، اسی شام شاداں کو بخار ہوا اور وہ بستر سے لگ گئی۔ لسوڑے کا درخت کیا کٹا گھر کی رونق ختم ہوگئی۔ بڑا بیٹا اپنے لئے کمرہ بنانا چاہتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے سسرال والے بڑے لوگ ہیں ، اسے گھر میں ایک اچھے کمرے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عزت سے انہیں بٹھا سکے۔ لسوڑے کا درخت کٹا تو ساتھ ہی پانی کا نلکا بھی اکھاڑ دیا گیا کیونکہ یہ بھی کمرے کی جگہ پر آرہا تھا۔بالاخر صحن کھلا ہوگیا اور لسوڑے کا برسوں کا درخت کٹنے کے بعد ایسی دھوپ صحن پر پڑی کی سب کے پسینے چھوٹ گئے۔اگلے دن صبح بڑا بیٹا اٹھا تو اس نے دیکھا کہ شاداں درخت کی جڑ کے پاس گری پڑی ہے۔ اس نے ذرا ہلایا تو اس میں جان ہی نہیں تھی۔ گھر کے دو درخت کٹ چکے تھے۔

 طنز و مزاح ،اتفاق میں برکت ہے

طنز و مزاح ،اتفاق میں برکت ہے

ایک بڑے میاں جنہوں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کمایا بنایا تھا، آخر بیمار ہوئے، مرض الموت میں گرفتار ہوئے۔ ان کو اور تو کچھ نہیں، کوئی فکر تھی تو یہ کہ ان کے پانچوں بیٹوں کی آپس میں نہیں بنتی تھی۔ گاڑھی کیا، پتلی بھی نہیں چھنتی تھی۔ لڑتے رہتے تھے۔ کبھی کسی بات پر اتفاق نہ ہوتا تھا حالانکہ اتفاق میں بڑی برکت ہے۔آخر انہوں نے بیٹوں پر اتحاد و اتفاق کی خوبیاں واضح کرنے کے لئے ایک ترکیب سوچی۔ ان کو اپنے پاس بلایا اور کہا۔ ''دیکھو اب میں کوئی دم کا مہمان ہوں، سب جاکر ایک ایک لکڑی لاؤ۔‘‘ایک نے کہا۔ ''لکڑی؟ آپ لکڑی کا کیا کریں گے؟‘‘ دوسرے نے آہستہ سے کہا۔ ''بڑے میاں کا دماغ خراب ہورہا ہے۔ لکڑی نہیں شاید ککڑی کہہ رہے ہیں۔ ککڑی کھانے کو جی چاہتا ہوگا۔‘‘ تیسرے نے کہا۔ ''نہیں کچھ سردی ہے، شاید آگ جلانے کو لکڑیاں منگاتے ہوں گے۔‘‘ چوتھے نے کہا۔ ''بابو جی! کوئلے لائیں؟‘‘ پانچویں نے کہا۔ ''نہیں! اپلے لاتا ہوں وہ زیادہ اچھے رہیں گے۔‘‘باپ نے کراہتے ہوئے کہا۔ ''ارے نالائقو! میں جو کہتا ہوں وہ کرو۔ کہیں سے لکڑیاں لاؤ، جنگل سے۔‘ ایک بیٹے نے کہا۔ ''یہ بھی اچھی رہی، جنگل یہاں کہاں؟ اور محکمہ جنگلات والے لکڑی کہاں کاٹنے دیتے ہیں۔‘‘ دوسرے نے کہا۔ ''اپنے آپے میں نہیں ہیں بابو جی۔ بک رہے ہیں جنون میں کیا کیا کچھ۔ تیسرے نے کہا۔ ''بھئی لکڑیوں والی بات اپن کی تو سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘چوتھے نے کہا۔ ''بڑے میاں نے عمر بھر میں ایک ہی تو خواہش کی ہے، اسے پورا کرنے میں کیا حرج ہے؟‘‘ پانچویں نے کہا۔ ''اچھا میں جاتا ہوں ٹال پر سے لکڑیاں لاتا ہوں۔‘‘ چنانچہ وہ ٹال پر گیا۔ ٹال والے سے کہا۔ ''خان صاحب ذرا پانچ لکڑیاں تو دینا، اچھی مضبوط ہوں۔‘‘ٹال والے نے لکڑیاں دیں۔ ہر ایک خاصی موٹی اور مضبوط۔ باپ نے دیکھا اس کا دل بیٹھ گیا۔ یہ بتانا بھی خلافِ مصلحت تھا کہ لکڑیاں کیوں منگائی ہیں اور اس سے کیا اخلاقی نتیجہ نکالنا مقصود ہے۔ آخر بیٹوں سے کہا۔ ''اب ان لکڑیوں کا گھٹا باندھ دو۔‘‘اب بیٹوں میں پھر چہ میگوئیاں ہوئیں۔ ''گھٹا، وہ کیوں؟ اب رسی کہاں سے لائیں۔ بھئی بہت تنگ کیا ہے اس بڈھے نے۔‘‘ آخر ایک نے اپنے پاجامے میں سے ازار بند نکالا اور گھٹا باندھا۔ بڑے میاں نے کہا۔ ''اب اس گھٹے کو توڑو۔‘‘ بیٹوں نے کہا۔ ''لو بھئی یہ بھی اچھی رہی۔ کیسے توڑیں؟ کلہاڑا کہاں سے لائیں؟‘‘باپ نے کہا۔ ''کلہاڑی سے نہیں، ہاتھوں سے توڑو، گھٹنے سے توڑو۔‘‘ حکم والد مرگ مفاجات۔ پہلے ایک نے کوشش کی، پھر دوسرے نے، پھر تیسرے نے، پھر چوتھے نے، پھر پانچویں نے۔ لکڑیوں کا بال بیکا نہ ہوا۔ سب نے کہا۔ ''بابو جی! ہم سے نہیں ٹوٹتا یہ لکڑیوں کا گھٹا۔‘‘باپ نے کہا۔ ''اچھا اب ان لکڑیوں کو الگ الگ کردو، ان کی رسی کھول دو۔‘‘ ایک نے جل کر کہا۔ ''رسی کہاں ہے، میرا ازار بند ہے۔ اگرآپ کو کھلوانا تھا تو گھٹا بندھوایا ہی کیوں تھا۔ لاؤ بھئی کوئی پنسل دینا ازار بند ڈال لوں پاجامے میں۔‘‘ باپ نے بزرگانہ شفقت سے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ ''اچھا اب ان لکڑیوں کو توڑو، ایک ایک کرکے توڑو۔‘‘لکڑیاں چونکہ موٹی موٹی اور مضبوط تھیں۔ بہت کوشش کی، کسی سے نہ ٹوٹیں۔ آخر میں بڑے بھائی کی باری تھی۔ اس نے ایک لکڑی پر گھٹنے کا پورا زور ڈالا اور تڑاخ کی آواز آئی۔باپ نے نصیحت کرنے کے لئے آنکھیں ایک دم کھول دیں۔ کیا دیکھتا ہے کہ بڑا بیٹا بے ہوش پڑا ہے۔ لکڑی سلامت پڑی ہے۔آواز بیٹے کے گھٹنے کی ہڈی ٹوٹنے کی تھی۔ ایک لڑکے نے کہا۔ ''یہ بڈھا بہت جاہل ہے۔‘‘ دوسرے نے کہا۔ ''اڑیل ضدی۔‘‘ تیسرے نے کہا۔ ''کھوسٹ، سنکی، عقل سے پیدل، گھامڑ۔‘‘ چوتھے نے کہا۔ ''سارے بڈھے ایسے ہی ہوتے ہیں، کمبخت مرتا بھی نہیں۔‘‘ بڈھے نے اطمینان کا سانس لیا کہ بیٹوں میں کم از کم ایک بات پر تو اتفاق رائے ہوا۔ اس کے بعد آنکھیں بند کیں اور نہایت سکون سے جان دے دی۔

ابانت۔۔۔ترکی کی خوبصورت جھیل

ابانت۔۔۔ترکی کی خوبصورت جھیل

مشرق ِ وسطیٰ کے ممالک کے اکثر لوگ سیرو سیاحت کے لیے ترک علاقے ابانت کا رخ کرتے ہیں۔مشرق وسطیٰ کی 52 ٹریول ایجنسیوں کے نمائندے اپنے گاہکوں کے لیے سیر و سیاحت کے مقامات کا تعین کرنے کے لئے ابانت آتے ہیں۔لبنانی ٹورزم فرم آریہ الا سعید نے لبنان میں ترکی کو بہت پسند کیے جانے والی سرزمین قرار دیا ہے۔لبنانی سیاح نئی منزل ابانت کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہاں کی قدرتی خوبصورتی بڑی دلفریب ہے۔ابانت ترکی کے بولو صوبے میں میٹھے پانی کی ایک خوبصورت جھیل ہے جو ہفتے کے آخر میں سیاحوں کی من پسند منزل بن چکی ہے جہاں زائرین کچھ زیادہ وقت نکال کر فطرت میں غرق ہوسکتے ہیں۔ لمبی سیر سے لے کر گھوڑوں کی دوڑ تک سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔ایک زبردست تودہ گرنے کی وجہ سے بننے والی ، بڑی اور پْرامن جھیل ابانت گھنے جنگلات سے گھری ہوئی ہے ۔ جس میں بہت سے درختوں کی اقسام شامل ہیں جن میں یورپی سیاہ پائن ، ہارن بیامز ، ہیزلز ، پائن اور شاہ بلوط کے درخت شامل ہیں۔ بہت سارے جنگلی جانور بھی اس علاقے کو اپنا گھر بنائے ہوئے ہیں۔ ہرن سے لے کر بھورے ریچھ ، سرخ لومڑیوں سے خرگوش ، اور ابینٹ ٹراؤٹ (جو کہیں بھی نہیں ملتا ہے) تک یہاں موجود ہیں۔ جھیل ابانت ایک حقیقی نوعیت کا پارک ہے جہاں جانور آزادانہ طور پر گھومتے ہیں۔ قریب کے چھوٹے شہر مدورنو میں بہت سارے گیسٹ ہاؤسز موجود ہیں ، لیکن پانی کے کنارے واقع فائیو اسٹار بیئک ابانت ہوٹل یقینی طور پر سب سے مقبول ترجیح ہے۔بہت سی سرگرمیاں ہیں جن میں ابانت میں سیاح حصہ لے سکتے ہیں ، جو اس کی سب سے پرکشش خصوصیات میں سے ایک ہے۔ آس پاس کے ماحول اور تازہ ہوا کی داد دینے کو دل چاہتا ہے۔ جھیل کا پہلا اور سب سے لمباتجربہ چہل قدمی ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو قدرے زیادہ سرگرم ہوتے ہیں ، ٹریکنگ راستے جو اونچائی تک سینکڑوں میٹر تک جاتے ہیں وہ واقعی فطرت کے بیچ ایک زبردست ورزش حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ جب آپ تھک جاتے ہیں تو ، آپ کسی درخت کے سائے کے نیچے بیٹھ کر قدرت کا نظارہ کرسکتے ہیں۔ابانت کے آس پاس آپ کو ایسے گھوڑے بھی نظر آئیں گے جو جھیل کے آس پاس سفر کرنے کے انوکھے طریقے لئے ہوئے ہیں۔ چاہے آپ گھوڑے کی سواری سے واقف ہوں یا نہ ہوں ، قدرتی زمین کی تزئین سے اپنے راستے پر سوار ہونا یقینا ایک بہت اچھا تجربہ ہوتا ہے۔ ابانت جھیل کے آس پاس گھوڑوں کی تیار کردہ چھوٹی چھوٹی گاڑیوں (جسے فائٹن کہا جاتا ہے) کے ساتھ ٹور بھی کیا جاسکتا ہے ، جو 30 منٹ تک رہتا ہے ۔سردیوں میں ، جھیل ابانت مکمل طور پر منجمد ہوجاتی ہے لہٰذا کشتی کا کرایہ صرف گرم موسموں میں ہی دستیاب ہوتا ہے۔پانی کے کنارے واقع بہت سارے ریستورانوں میں آپ کچھ تازہ سمندری غذا کھا سکتے ہیں۔ سردیوں میں ، ریستوران اور کیفے اپنے آتش گیر مقامات کا تعین بھی کرتے ہیں ، لہٰذا اگر آپ موسم سرما میں ابانت جھیل پر جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ لکڑیوں کی جلی ہوئی آگ یا آتش دان سے بھی محظوظ ہوسکتے ہیں۔

 حلب کا ابو الورد۔۔ بمباری میں پھولوں کی خوشبو باٹنے والا

حلب کا ابو الورد۔۔ بمباری میں پھولوں کی خوشبو باٹنے والا

شام کا شہر حلب بمباری سے تباہ ہوچکا ہے، اس کے قلب و جگر سے آہیں پھوٹ رہی ہیں۔مگراِن سب تاریک پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ایک ایسا رْخ بھی دکھانے لگی ہوں جو بہت ہی اْمید افزا ء ہے۔ یہ اْمید کی وہ کرنیں ہیں جو گھْپ اندھیروں میں کہیں کہیں چمک کر حوصلہ بڑھاتی ہیں۔ جو انسانیت کے زندہ ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔ جو کہتی ہیں کہ جب تک کرہ ارض پر ایسے لوگ موجود ہیں اْس وقت تک مایوس ہونے کی ضرور ت نہیں۔ یہ نئی نسل کے وہ نوجوان ہیں جو شب وروز اپنے ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ وہ کہیں ٹینٹ، کہیں تباہ شدہ عمارتوں، کہیں درختوں کے نیچے، کہیں کھْلے میدانوں میں تنبو قناتوں میں اسکولوں میں بچوں کو پڑھاتے اور کہیں انہیں قطرے پلاتے ہیں۔حلب کا ابوالوردبھی ایسا ہی کردارتھا۔مشرقی حلب کے عین مرکزی حصّے میں جو تہذیبوں کا مرکز ہے۔جہاں سڑکیں ایک دوسرے کوکاٹتی ہیں جہاں چوراہے ہیں، وہیں گزشتہ پانچ سالوں سے وہ جنگ کے خلاف کھڑا رہا۔کلسٹر اور بیرل بموں کی آگ اور خون،موت اور تباہی کے ریگستان پر زندگی کی، روشنی کی،آس امید کی بھینی بھینی خوشبوئیں دیتے پھولوں کے نخلستان کی آبیاری میں مصروف رہا۔ اگر دنیا شہر کو اپنے مہلک سازوسامان کے ساتھ تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے تو وہیں ایک عام سا معمولی آدمی بھی اپنے اِن چھوٹے چھوٹے معمولی سازوسامان سے مقابلہ کرنے پر کمربستہ ہوجاتا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ میری یہ کچی پکی دیواروں میں گھری، مٹی کی سوندھی خوشبو میں بسی پھولوں اور پودوں سے سجی جگہ بلین ڈالروں سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔اس کا تیرہ سالہ بیٹاابراہیم اس کے ساتھ ہوتا تھا۔وہ پھول اْگاتا تھا،سبزیاں، سلاد کے پتے، زیتونNuts پیدا کرتا تھا۔ پھر انہیں بہت معمولی قیمت پر اْن لوگوں کو فراہم کردیتا جو گھروں میں محصور تھے۔ جن کے مرد باہر چلے گئے تھے یا مارے گئے تھے۔پانی کی کمی ،خوراک کی کمی ،بمباری کا لامتناہی سلسلہ ،ایسے میں اس کا وجود ایک معجزہ لگتا تھا۔روشنی کی ایک کرن دِکھتا تھا۔زندگی کے حسن کا ایک ستارہ محسوس ہوتا تھا۔وہ حیران ہوتا کہ آخر انسان اتنا وحشی کیوں ہوجاتا ہے؟اپنے اقتدار کے لئے اتنی دیوانگی۔وہ انقلاب چاہتا تھا۔ایسا انقلاب جہاں عام آدمی اپنے بل بوتے پر اوپر جاسکے۔وہ بمباری کے دوران پناہ لیتا تھا اور ختم ہونے پر باہر نکلتا تھا۔یہی وہ لوگ ہیں جن ہوں نے پھر سے سرزمین کو گل گلزار بنانا ہے۔جنگ شروع ہوئی تھی تب ابراہیم آٹھ سال کا تھا۔سکول جاتا تھا۔سکول کھنڈر بننے لگے تو وہ باپ کے ساتھ پھول اگانے لگ گیا۔دونوں باپ بیٹا گلاب کے سْرخ پھولوں کے ساتھ چوک میں کھڑے ہوتے تو پانچ لاکھ آبادی والا شہر جہاں صرف ڈھائی لاکھ لوگ بچے تھے جو گاڑیوں،موٹر سائیکلوں،پیدل چلتے ہوئے اِن خوشنما پھولوں کو دیکھ کر جیسے جی اٹھتے انہیں محسوس ہوتا کہ زندگی ابھی باقی ہے اوراْس کا حْسن بھی باقی ہے۔ اْس کی مسحور کن خوشبو زندگی کی پیامبرہے۔پرمیں کیا بتاؤں۔کیا لکھوں کہ وہ جو سارے شہر میں امیدیں بانٹتا پھرتاتھا۔ وہ جو حلب کی امید تھا۔بیرل بم نے اْسے بھی شکار کرلیا۔اس کے باغ کے قریب بم پھٹا اور وہ ختم ہوگیا۔ معصوم سے ابراہیم نے میرے گلے لگ کر اتنے آنسو بہائے کہ میرے پاس تسلی بھرے لفظوں کا کال پڑ گیا۔ میں تو اْس عظیم انسان کے لئے کھل کر پْرسہ بھی نہ دے سکی۔ اس کی ہنستی مسکراتی تصویر میرے دل میں آویزاں ہے۔ مجھے حوصلہ دیتی ہے۔شاید ابوالورد جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی دنیا میں پھولوں کی خوشبو مہک رہی ہے ۔

  شری بدت :گلگت کا آخری بدھ مت حکمران

شری بدت :گلگت کا آخری بدھ مت حکمران

شری بدت گلگت کا آخری مقامی بدھ مت بادشاہ تھا ،عام طور پر اسے آدم خور بادشاہ بھی کہا جاتا ہے جس کا اصلی نام چندر شری دیوا وکرمادتیہ تھا۔گلگت کے بادشاہ ، شری بدت کا دور حکومت 749 صدی عیسوی کا ہے شری بدت گلگت کا ایک حکمران شہزادہ تھا اور اس کی حکومت ہنزہ نگر چلاس داریل, ہراموش, استور گریز, پونیال , یاسین غذر اور چترال تک پھیلی ہوئی تھی اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں کئی علاقوں پر مختلف گورنر حکومت کرتے تھے۔صدیاں گزرنے کے باوجود شری بدت کی کہانی آج بھی زندہ ہے مگر یہ حقیقت سے زیادہ افسانہ لگتی ہے۔بقول کارل جٹیمار چوتھی صدی عیسوی کے دوران اس خطے میں بڑی تعداد میں بودھی خانقاہوں اور سٹوپاز کی تعمیر کی گئی اورآہستہ آہستہ گلگت بدھ مت کی ایک اہم نشست بن گیا۔ اس وقت گلگت بلتستان کے بلور حکمران بدھ مت کے پیروکار تھے اور اس زمانے میں لوگ بھی بدھ مت مذہب کے ہی پیروکار تھے۔اس طرح گلگت بدھ مت اور بدھ بھکشوؤں کا مرکز بن گیا۔نپورہ بسین گلگت میں واقع بدھا کا مجسمہ, ہنزل کا سٹوپا , گلگت کی قدیم بدھ مت لائبریری سمیت گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں بدھ مت کے انمٹ نشانات اور باقیات اس دلیل کی تصدیق کرتے ہیں۔شری بدت کا قلعہ گلگت پولو گراؤنڈ سے قریب 200 گز مشرق میں واقع تھا۔شری بدت کی بیٹی اور اس کے وزیر نے آذر جمشید کے ساتھ مل کر اسے مارنے کی سازش کی تھی۔ماہ نومبر میں ایک رات اس کے محل کو دشمنوں نے گھیر لیا اور قلعے کے چاروں طرف بڑی آگ لگانے میں کامیاب ہوگئے ۔جس سے شری بدت کا خاتمہ ہوگیا۔ڈاکٹر جی ڈبلیو لیٹنر ، 1866 میں ، پہلا یورپی تھا جس نے شری بدت کی کہانی ریکارڈ کی تھی جس سے انہوں نے 1877 میں ‘‘تاریخی افسانوی تاریخ برائے گلگت'' کے نام سے شائع کیا۔ انہوں نے شری بدت کی کہانی کو حقیقت اور افسانے کا امتزاج قرار دیا ہے۔ڈاکٹر لیٹنر اپنی کتاب دردستان میں شری بدت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مقامی روایات کے مطابق شری بدت بری روحوں کی اولاد تھا۔روایت ہے کہ شری بدت گلگت میں ایک محل میں مقیم رہتا تھا ،اس کے ذوق موزوں تھے،اس کے محل کے سامنے ایک پولو گرائونڈ تھا اور وہ پولو کھیل کا دلدادہ تھا،اس کا ملک زرخیز تھا۔ دارالحکومت کے چاروں طرف دلکش اور پرکشش باغات تھے۔ مگر وہ بادشاہ آدم خور تھا اس آدم خوری کی ابتدا ایک حادثہ کی وجہ سے ہوئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ اسے اپنی رعایا سے روزانہ خراج میں ایک بھیڑ لینے کی عادت تھی۔بقول ڈاکٹر لیٹنر آذر شمشیر نے شری بدت کی بیٹی کو بتایا کہ وہ ایک پری زاد ہے یہ سن کر وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور اپنے باپ کی لافانی زندگی کا راز آذر شمشیر کو بتایا۔یہ راز معلوم کرنے کے بعد اس نے مقامی آبادی کے ساتھ مل کر محل کو آگ لگائی جس سے شری بدت کا خاتمہ ہوگیا اور قاتل آذرشمشیر شری بدت کی بیٹی سے شادی کرکے خود گلگت کا حکمران بن گیا۔مقامی روایت کے تحت بیان کی گئی اس کہانی کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے شری بدت اور آذر جمشید یا آذرشمشیر دونوں کو دیو مالائی مخلوق کے طور پر پیش کیا گیا ہے آذر جمشید کو پری زاد اور شری بدت کو بدروح اور آدم خور کہا گیا ہے۔لیکن اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے چونکہ دنیا کی ہر تہذیب میں اساطیری یا دیومالائی قصے کہانیاں ہزاروں سال سے چلی آ رہی ہیں جن میں انوکھی مخلوقات، پریاں اور دیوی دیوتا ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آذر جمشید کے حوالے سے آج بھی ہمالیہ ہندوکش اور قراقرم کے پہاڑوں کے دامن میں آباد کچھ افراد خود کو اس کی نسل سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔مثال کے طور پر یونیورسٹی آف نارتھ ٹیکساس کی پروفیسر صدف منشی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ہنزہ کے راجہ جمشید علی خان نے خود کو شری بدت کی بیٹی کے نسل سے ہونے کا ذکر کیا ۔

مجسمہ آزادی کے اندر کیا ہے؟

مجسمہ آزادی کے اندر کیا ہے؟

مجسمہ آزادی 1886 میں فرانس کے عوام کی طرف سے امریکہ کو دیا جانیوالا تحفہ تھا ۔ یہ'' لبرٹی جزیرہ‘‘ پر ایستادہ ہے ۔ یہ جزیرہ نیویارک اور نیوجرسی کے درمیان واقع ہے ۔ فرانس اور امریکہ کے درمیان وسیع سمندر حائل ہے لیکن اس مجسمہ کے ذریعے فرانس نے امریکہ سے ایک انمٹ تعلق قائم کرلیا ہے ۔ مجسمہ آزادی کا آفیشل نام'' لبرٹی انلائٹننگ دی ورلڈ ہے(liberty enlightening the world) ۔ اس کے بلند کئے گئے دائیں ہاتھ میں ایک مشعل ہے جبکہ بائیں ہاتھ میں ایک تختی ہے جس پر امریکہ کی آزادی کی تاریخ رومن زبان میں تحریر ہے۔(پیڈسٹل سمیت) یہ مجسمہ 93 میٹر بلند ہے۔لیکن اصل مجسمہ43 میٹر لمبا ہے۔اس کی بلندی بیس منزلہ عمارت کی بلندی کے برابر ہے۔یہ مجسمہ جب قائم کیا گیا تھا اس وقت یہ دنیا کا سب سے بلند مجسمہ تھا لیکن اب انڈیا کے سردار پٹیل کا''مجسمہ یونٹی‘‘ دنیا کا سب سے بڑامجسمہ کہلاتا ہے۔ مجسمہ آزادی کے پیروں میں ٹوٹی ہوئی زنجیریں ہیں جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اب غلامی کا خاتمہ ہوچکا ہے ۔مجسمہ اصل کاپر سے بنایا گیا ہے اس لئے اس کا اصل رنگ ایک سکے کی مانند ہے۔ بعد میں اسے سبز رنگ کیا گیا، یہ ٹکڑوں کی شکل میں جوڑا گیا ہے ۔ قریب سے دیکھنے سے اس چیزکا آپ مشاہدہ بھی کر سکتے ہیں۔ اس مجسمہ کا ڈیزائن فریڈرک اگسٹو برٹ ہولڈی نے بنایا۔ پھر کاپر کا مجسمہ گسٹیو ایفل نے ڈیزائن کیا جس نے بعد میں ایفل ٹاور کا ڈیزائن بنایا۔ پہلا مجسمہ بطور نمونہ اس نے مٹی کا بنایا جو کہ چار فٹ بلند تھا۔اس کا بڑا نمونہ پلاسٹر سے بنایا گیا جو کہ آٹھ فٹ بلند تھا پھر اس سے بھی بڑا پلاسٹر کا مجسمہ بنایا گیا ، یہ سب نمونے کے مجسمے تھے۔ سب سے پہلے اس کا چہرہ فرانس میں نمائش کیلئے پیش کیا گیا پھر اس کا دایاں ہاتھ مشعل والا امریکہ میں پیش کیا گیا۔ اصل مجسمہ کاپر کی شیٹوں پر مشتمل ہے ۔ اب سوال آتا ہے کہ اس کے اندر کیا ہے۔مجسمہ لوہے کے پلر پر کھڑا ہے جو کہ اس کے مرکز میں واقع ہے ، اس لوہے کے پلر کو چھوٹی بیموں سے سپورٹ دی گئی ہے ۔ یہ انجینئرنگ کا ایسا شاہکار ہے کہ جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ اس پلر پر کاپر کے350 ٹکڑے لگائے گئے ہیں ۔ ان ٹکڑوں کو فرانس سے امریکہ بحری جہازوں میں بھر کر لایا گیا تھا۔ مجسمہ فرانس نے دیا جبکہ اس کا پیڈسٹل امریکی عوام کے پیسوں سے بنا ۔ جس جزیرہ پر اسے ایستادہ کیا گیا اس کا نام پہلے ''بیڈلوز جزیرہ‘‘ تھا۔ اب یہ لبرٹی جزیرہ کہلاتا ہے ۔ مجسمے کے قریب مجسمہ آزادی کا میوزیم بھی بنایا گیا ہے جس میں اس کی تعمیر کے مختلف مناظر عکس بند کئے گئے ہیں۔ پیڈسٹل کی بنیاد کو ایک ستارے کی شکل دی گئی ہے ۔اگر آپ مجسمہ آزادی کے اندر جانا چاہتے ہیں تو وہاں اوپر جانے کیلئے سیڑھیاں بنائی گئی ہیں اور اس کے لئے ٹکٹس رکھے گئے ہیں۔ اگر آپ کو مجسمہ کے اندر جانا ہو تو اس کے لئے بنیاد میں ایک داخلی دروازہ رکھا گیا ہے جو کہ '' سینٹینیئل دروازہ‘‘ کہلاتا ہے ۔آپ کو گائیڈ کیا جائیگا کہ آپ اس دروازے سے اوپر جاسکتے ہیں۔ پیڈسٹل کے اندر جانے کیلئے بھی الگ سے ٹکٹس رکھے گئے ہیں اور اس میں سیڑھیوں کے ساتھ ہی لفٹ بھی موجود ہے، آپ لفٹ کے ذریعے بھی پیڈسٹل کے ٹاپ تک جاسکتے ہیں۔ پیڈسٹل کے ٹاپ پر پہنچ کر آپ360 کی ڈگری سے چاروں اطراف سے سمندر ہاربر کا نظارہ کرسکتے ہیں ۔مجسمہ کے اندر بھی سیڑھیوں کے ساتھ لفٹ ہے لیکن وہ ایمرجنسی کے استعمال کیلئے ہے عام عوام کے لئے وہ لفٹ میسر نہیں ، سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے اگر آپ تھک جاتے ہیں تو آرام کیلئے جگہیں بھی بنائی گئی ہیں۔ مجسمہ کے کرائون تک پہنچے کیلئے کافی سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں اور کرائون میں باہر کا نظارہ کرنے کیلئے کھڑکیاں بنائی گئی ہیں۔ یہاں آپ کو کافی زیادہ لائٹس ملیں گی جس سے کہ کرائون والے حصہ کو روشن کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ آپ مجسمہ کے سر کے بالوں والا حصہ بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ سپائرل سیڑھیاں لوہے کے پلر کے اندر بنائی گئی ہیں۔1916 میں ہاربر کے قریب ایک دھماکہ ہوا تھاجس سے مشعل والے حصہ کو نقصان پہنچا تب سے مشعل والے حصہ میں داخلہ بند کردیا گیا تھا۔ دائیں ہاتھ کے اندر مشعل تک پہنچنا آسان نہیں ہے کیونکہ وہاں ایک سنگل سیڑھی سے اوپر چڑھنا پڑتا ہے ، بلندی سے خوف زدہ لوگ اس تک نہیں جاسکتے ۔اس کے سر پر سات نکاتی تاج ہے ، جو سات براعظموں اور سات سمندروں کی علامت ہے۔ اس کے بائیں ہاتھ میں ایک تختی ہے جس پر امریکہ کی تاریخ آزادی درج ہے ، یہ تانبے کی قدرتی کیفیت کی عکاس ہے۔اس کے پیڈسٹل کی بنیاد میں ایک کانسی کی تختی ہے جس پر امریکی شاعر یما لازر کی نظم لکھی ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے''مجھے اپنی تھکاوٹ بتائو ، تمہارے غریب لوگ اور چھلنی عوام آزاد سانس لینے کو ترس رہے ہیں‘‘۔ اس کا مطلب خود لیڈی لبرٹی ہی نہیں بلکہ امریکہ کے اصلی جوہر کی نمائندگی ہے ۔ ہر سال اس مجسمے کو دیکھنے تقریباً 40 لاکھ افراد آتے ہیں۔کورونا وباء پھیلنے کے بعد مجسمہ کے اندر داخلہ بند کردیا گیا تھا۔بہت سے سیاح مجسمہ کے اندر جاتے ہوئے موبائل سے ویڈیوز اور تصاویر بھی بناتے ہیں۔ مجسمہ کے اندر سے آپ ہاربر کا دلکش نظارہ بھی کرسکتے ہیں۔