ہرمشکل گھڑی میں حضور نبی کریم ﷺ کی رفیق اسلام کی خاتون اوّل، مومنہ اوّل اور رسول خدا ﷺ کی منکوحہ اوّل نے ہر موقع پر ایک وفا شعار زوجہ ہونے کا حق ادا کیا: تاریخ اسلام نے اسلام کے ان اوّلین وفا شعاروں کو خصوصی طور پر یاد رکھا ہے جنہوں نے اُس عہدِ ستم میں ہر دکھ کا سامنا بڑی عزیمت کے ساتھ کیا۔ سابقون الاوّلون میں سے جن سعید ارواح نے سرورِ کونین ﷺ کی دعوت ِالی الحق پر لبیک کہا ان میں سرِ فہرست حضرت سیدہ خدیجہؓ ہیں۔ آپؓ مکہ مکرمہ کے معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، دورِ جاہلیت ہی میں آپؓ کا لقب ''طاہرہ‘‘ تھا، اور اعلیٰ کردار، حُسنِ اخلاق، شرافت، عفت، صدق، وفا‘ غرض ہر وہ خوبی جو ایک خاتون کو بارگاہِ رب ذوالجلال میں پسندیدہ بناتی ہے آپؓ کی ذات میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ ان تمام شخصی کمالات کے علاوہ آپؓ ایک کامیاب تاجر بھی تھیں‘ اور اپنی خاندانی وجاہت اور سماجی وقار کے اعتبار سے اُس عہد جاہلیت کی ایک عظیم خاتون تھیں۔ آپؓ کی تجا رت ہی کی وجہ سے آپؓ کا حضورِ اکرم ﷺ سے رابطہ ہوا۔ جب سیدہ خدیجہؓ نے نبی کریم ﷺ کی صداقت و دیا نت اور دیگر محاسن کے چرچے اطراف سے سنے تو حضورِ اکرم ﷺ کو تجارت کی پیشکش کی، جسے نبی کریمﷺ نے قبول فرمایا اور مضاربت کے اصولوں پر آپؓ کے مالِ تجا رت کو لے کر ملک شام کی منڈیوں میں تشریف لے گئے۔ اس دوران حضرت سیدہ خدیجہؓ کے خدام نے حضورِ اکرمﷺ کی تجارتی طریقوں کو بغور ملاحظہ کیا اور جو نفع اور برکات حاصل ہوئیں اُن کا ذکر سیدہ خدیجہؓ سے کیا‘ جس کے بعد سیدہ نے آپﷺ کو نکاح کا پیغام بھیجا جسے حضورِ اکرمﷺ نے اپنے خاندانی بزرگوں سے مشاورت کے بعد قبول کر لیا۔ نکا ح کے وقت حضورِ اکرمﷺ کا سِن مبارک 25 برس اور سیدہ خدیجہؓ کی عمر 40 برس تھی۔ حضرت خدیجہؓ سے حضورِ اکرمﷺ کی چار صاحبزادیاں حضرت سیدہ زینبؓ، حضرت سیدہ رقیہؓ، حضرت سیدہ اُم کلثومؓ، حضرت سیدہ فاطمہؓ اور دو بیٹے حضرت قاسم اور حضرت عبداللہ پیدا ہوئے ۔پہلی وحی کے بعد حضورِ اکرم ﷺ جب ایک خاص حالت میں غارِ حرا سے گھر تشریف لائے تو سب سے پہلے سیدہ خدیجہؓ ہی سے سارا معاملہ بیان فرمایا۔ سیدہ خدیجہؓ نے جن الفاظ سے آپﷺ کو تسلی دی وہ سماجیات و اخلاقیاتِ سیرت کی بنیاد ہیں اور نبی کریم ﷺ کی رفاقت میں گزرے ماہ وسال کے مشاہدات ہیں۔ آپؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ آپ ﷺکو ہرگز غمزدہ نہیں کرے گا کیونکہ آپ ﷺ صلہ رحمی کرتے ہیں، ناداروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محروموں کو عطا کرتے ہیں۔ مہمان نواز ہیں اور راہِ حق میں آنے والی مشکلات میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ابھی نبی کریم ﷺ نے باقاعدہ دعوتِ اسلام نہیں دی لیکن پیغمبرِ اعظمﷺ کی رفیقۂ حیات اللہ کی قسم کھا کر، اللہ کا نام لے رہی ہیں، یہ ذاتِ رسالت کے ساتھ رفاقتوں کا فیضان ہے کہ آپؓ کے منہ سے کلماتِ خیر ہی ادا ہو رہے تھے۔غار ِحرا میں ایک بار حضرت خدیجہ رسول ﷺ کیلئے کھانا لے کر آ رہی تھیں تو ان سے قبل حضرت جبرائیل امین علیہ السلام تشریف لے آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہﷺ! خدیجہؓ آ رہی ہیں ان کو جنت میں ایک ایسے محل کی خوشخبری دیجئے جو موتیوں والا (بہت خوبصورت) اور نہایت پرسکون اور شاندار ہے۔نبی کریم ﷺ کی حضرت خدیجہؓ کے ساتھ پچیس برس رفاقت رہی ان کی موجودگی میں آپ ﷺ نے دوسرا نکاح نہیں کیا۔ جس سال حضرت سیدہ خدیجہ کا وصال ہو ا آپﷺ بہت مغموم ہوئے جس وجہ سے اُس سال کو عام الحزن (غم کا سال) قرار دیا گیا۔حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیںکہ نبی کریمﷺ اکثر حضرت خدیجہ ؓکو یاد کر کے اشک بار ہو جایا کرتے، میں عرض کرتی کہ شاید خدیجہؓ کے برابر دنیا میں کوئی عورت نہیں تو آپﷺ فرماتے بے شک خدیجہؓ ایسی ہی (باکمال و صفات محمودہ والی) تھیں‘ کیونکہ جب لوگوں نے میرا انکار کیا تو وہ مجھ پر ایمان لائیں جب لوگوں نے میری تکذیب کی تو انہوں نے میری تصدیق کی جب لوگوں کا رویہ میرے ساتھ درست نہ تھا تو خدیجہؓ نے میرے ساتھ حسنِ سلوک کیا۔یہ حضرت سیدہ خدیجہؓ کی عظمت و توقیر ہے کہ سید العالمینﷺ ان کی رحلت کے بعد جانور ذبح کرتے تو سیدہ کی سہیلیوں کو بھی بھیجتے، سیدہ سے جڑے رشتوں اور نسبتوں کا ہمیشہ لحاظ کرتے۔ آپﷺ فرمایا کرتے: ''بے شک مجھے ان کی محبت عطا کی گئی ہے‘‘۔ حضرت سیدہ خدیجہؓ کا نبی پاکﷺ سے حسن سلوک امت پر احسان ہے کہ اسلام کے اوّلین مشکل ترین دور میں آپؓ جس جرأت و استقامت کے ساتھ سرورِ کونینﷺ کے ساتھ راہِ حق پر ڈٹی رہیں یہ انہی کا طرہ امتیا زہے جبکہ اس نازک عہد میں دیگر قبائل تو ایک طرف آپؓ کے کئی اپنے بھی ساتھ چھوڑ گئے لیکن اسلام کی اس خاتونِ اوّل، مومنہ اوّل اور رسولِ خدا ﷺ کی منکوحۂ اوّل نے ہر موقع اور ہر لمحہ پر ایک وفا شعار زوجہ ہونے کا ایسا حق ادا کیا کہ جس کی نظیر ممکن نہیں۔ایک مسلمان خاتون کے بنیادی فرائض کیا ہیں، وہ کس طرح گھر اور سماج میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس حوالے سے سیدہ خدیجہؓ سے بڑی مثال کوئی نہیں۔سورۃ الاحزاب میں ایک صالح خاتون کی جو آٹھ خوبیاں قانتات، صادقات، صابرات، خاشعات، متصدقات، صائمات،حافظات اور ذاکرات کا ذکر ہوا ہے۔ قناعت، صدق، صبر خشیعت، صدقہ و خیرات، صوم و صلوٰۃ، عفت و عصمت، ذکر و اذکار، ان سب کی جامع حضرت سیدہ خدیجہؓ کی ذات تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایک خاتون کے حوالے سے ان قرآنی بیان کردہ اوصاف کی مجسم تفسیر حضرت سیدہ خدیجہؓ کی ذات تھی تو مبالغہ نہ ہو گا۔حضورِ اکرم ﷺ کے حضرت سیدہ خدیجہؓ کے ساتھ نکاح کے اور بھی چند خاص پہلو ہیں جو حسب ذیل ہیں: نبی کریم ﷺ کا جب حضرت سیدہ خدیجہؓ سے نکاح ہوا تو وہ آپ ﷺ سے پندرہ برس بڑی اور بیوہ تھیں۔ اس سے آپﷺ نے یہ اسوہ دیا کہ اگر منکوحہ عمر میں بڑی ہو یا بیوہ ہو تو یہ ایسے مسائل نہیں ہیں جو عائلی زندگی کو خوشگوار نہ رکھ سکیں۔ عصری معاشروں میں بڑی عمر کی خواتین سے نکاح، بیوہ اور معاشی سرگرمیوں میں مصروف خواتین سے نکاح کے حوالے سے کوئی بہتر صورتحال نظر نہیں آتی۔ نبی کریمﷺ اور حضرت خدیجہؓ کا نکاح ان تمام اور دیگر عائلی زندگی کے پہلوئوں کو درست رکھنے کیلئے روشن مینار ہے۔اس کے علاوہ حضرت سیدہ خدیجہؓ کی موجودگی میں آپ ﷺ کا عقدِ ثانی نہ کرنا یہ واضح کرتا ہے کہ دوسری شادی کرنا لازمی معاملہ نہیں ہے، اگر ایک بیوی کے ساتھ آپ کو ذہنی، عائلی اور مالی آسودگی کے ساتھ اولا د کی خوشیاں بھی حاصل ہیں اور عائلی زندگی کے مقاصد کا حصول ہو رہا ہے تو پھر ایک وقت میں ایک بیوی بھی کافی ہے۔ حضرت سیدہ خدیجہؓ کی نبی کریم ﷺ کے ساتھ پچیس سالہ رفاقت سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ عائلی زندگی میں بیوی کی صالحیت ہی سے اس کی شوہر کے ساتھ ہمدردی، غم خواری، محبت و وفا اور شفقت و ایثار جیسے پہلو ظاہر ہوتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آج نکاح سے قبل لڑکے اور لڑکی کو نبی کریم ﷺ اور حضرت سید ہ خدیجہؓ کی عائلی زندگی کا لا زمی مطالعہ کرایا جائے اس سے نہ صرف نسبتِ رسولﷺ کا استحکام حاصل ہو گا بلکہ ایک خوبصورت اور پر سکو ن عائلی زندگی کا حصول بھی ممکن ہو سکے گا۔بے شک دین اسلام نے بہترین عائلی زندگی کے جو اوصاف بیان کئے ہیں‘ پیغمبرِ اسلام ﷺکی حیاتِ طیبہ اس سلسلے میں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔فرمان رسولﷺحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حضور نبی اکرم ﷺ کی ازواجِ مطہرات میں سے کسی پر اتنا رشک نہیں کرتی جتنا حضرت خدیجہؓ پر، حالانکہ وہ میرے نکاح سے پہلے ہی وفات پا چکی تھیں لیکن میں آپ ﷺ کو ان کا ذکر فرماتے ہوئے سنتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو حکم فرمایا کہ خدیجہ کو موتیوں کے محل کی بشارت دے دیجیے، جب آپﷺکوئی بکری ذبح فرماتے تو اُن کی سہیلیوں کو اتنا گوشت بھیجتے جو اُنہیں کفایت کر جاتا‘‘ (متفق علیہ)،(صحیح بخاری: 3605، صحیح مسلم: 2435، احمد بن حنبل: 24355) فرمان رسولﷺ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حضرت جبرائیل علیہ السلام آ کر عرض گزار ہوئے: یا رسول اللہ ﷺ! یہ خدیجہؓ ہیں جو ایک برتن لے کر آرہی ہیں جس میں سالن اور کھانے پینے کی چیزیں ہیں، جب یہ آپﷺ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کا اور میرا سلام کہیے اور انہیں جنت میں موتیوں کے محل کی بشارت دیجئے، جس میں نہ کوئی شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف ہو گی‘‘(متفق علیہ)، (صحیح بخاری: 3609، صحیح مسلم: 2432، ابن ابی شیبۃ: 32287)
نبی کریمﷺ کی سب سے پہلی مونس و مددگار تاریخ کا رخ بدلنے میں جن خواتین نے اہم کردارسرانجام دیا ہے ان میں سرفہرست اور سنہری حروف سے لکھا گیا مقدس اسم گرامی اُم المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کابھی ہے۔ اُم المومنین سیدہ خدیجۃ الکبری عرب کی معزز ترین اور دولت مند خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ علم و فضل اور ایمان و ایقان میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں۔آپ کا نام خدیجہ تھا سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے خدیجہ بنت خویلدبن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی بن کلاب، آپ رضی اللہ عنہا کا نسب چوتھی پشت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جاتاہے۔ آپ کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو اسدسے تھا،بنو اسد اپنی شرافت، ایمانداری اورکاروباری معاملات کی وجہ سے لوگوں کی نگاہ میں قابل عزت و احترام تھا۔ ذیل میں حضرت ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی چند امتیازی خصوصیات کا تذکرہ کیا جاتا ہے ۔ کڑے حالات میں تسلینکاح کے تقریباً 15برس بعد اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو شرف ختم نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور آپﷺ پر شدید حالات آئے تو اس کڑے وقت آپﷺ کو جس طرح کی دانش مندانہ و ہمدردانہ تسلی کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و توفیق سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہی سے ملی۔آپ ﷺ اعلان نبوت سے پہلے تنہائی میں عبادت کرنے کیلئے غار حرا میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺکیلئے کھانے پینے کا سامان تیار کر کے دے دیا کرتی تھیں۔ آپ ﷺ حرا میں کئی کئی راتیں ٹھہرتے، اللہ کی یاد میں مصروف رہتے، کچھ دنوں بعد تشریف لاتے اور سامان لے کر واپس چلے جاتے۔ایک دن حسب معمول آپ ﷺ غار حرا میں مشغول عبادت تھے کہ جبرئیل امینؑ تشریف لائے اور فرمایا کہ اِقرا یعنی پڑھئے! آپ ﷺنے فرمایا: مَا اَنَا بِقَارِی میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ جبرائیل امین ؑنے آپ ﷺکو پکڑ کر اپنے سے چمٹا کر خوب زور سے بھینچ کر چھوڑ ا اور عرض کی اِقرا (پڑھئے) آپﷺ نے پھر وہی جواب دیا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ جبرائیل امین ؑنے دوبارہ آپﷺ کو اپنے سے چمٹا کر خوب زور سے دبا کر چھوڑا اور پھر پڑھنے کو کہا۔ آپ ﷺنے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہو ا نہیں ہوں فرشتے نے پھر تیسری مرتبہ آپﷺ کو پکڑ کر اپنے سے چمٹایا اور خوب زور سے دبا کر چھوڑ دیا اور خود پڑھنے لگے:اِقرا بِاسمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ o خَلَقَ الاِنسَانَ مِن عَلَقٍ o اِقرا وَرَبّْکَ الاَکرَمْ o الَّذِی عَلَّمَ بِالقَلَمِ o عَلَّمَ الاِنسَانَ مَالَم یَعلَم oیہ آیات مبارکہ سن کر آپﷺ نے یاد فرما لیں اور ڈرتے ہوئے گھر تشریف لائے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ''زملونی زملونی‘‘ مجھے کپڑا اوڑھا دو مجھے کپڑا اوڑھا دو۔انہوں نے آپﷺ کو کپڑا اوڑھا دیا اور کچھ دیر بعد وہ خوف کی کیفیت ختم ہوئی، آپﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو واقعہ سنایا،فرمایا:مجھے اپنی جان کا خوف محسوس ہو رہا ہے۔عموماً خواتین ایسے حالات میں گھبرا جاتی ہیں اورتسلی دینے کے بجائے پریشان کن باتیں شروع کر دیتی ہیں لیکن آپ رضی اللہ عنہا ذرہ برابر بھی نہ گھبرائیں اور تسلی دیتے ہوئے فرمایا:خدا کی قسم!اللہ تعالیٰ آپ ﷺکو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپﷺ توصلہ رحمی کرتے ہیں،بے کس و ناتواں لوگوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، دوسروں کو مال واخلاق سے نوازتے ہیں۔ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق بجانب امور میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اسلام کی خاتونِ اوّل ہونے کا اعزاز سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نزول وحی کے ابتدائی ایام میں آپﷺ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مکہ کی پوری آبادی میں موحد صحیح العقیدہ نصرانی اور توریت و انجیل کے بڑے عالم و عامل تھے، انہوں نے آپ ﷺ سے غارحرا میں جبرائیلؑ اور نزول وحی کی سرگزشت سن کر پختہ یقین کے ساتھ آپ ﷺکے نبی ہونے کی بات کہی توآپ ؓنے فوراً اسلام قبول کر لیا۔ پوری امت میں سیدہ خدیجہ ؓ سب سے پہلے آپ ﷺکے برحق نبی ہونے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ اپنی دولت رسول اللہ پر لٹا دی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اللہ کریم نے دولت مندی کی نعمت سے بھی خوب نوازا تھا،آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی پوری دولت اور اپنے غلام زید کو آپﷺ کے قدموں میں ڈال دیا اور آپﷺ کودین اسلام کی اشاعت کے مقدس مشن میں گھریلو معاشی افکار سے بے نیاز کر دیا۔ بت پرستی سے بیزاری اہل مکہ بت پرستی کے شرک میں مبتلا تھے،لیکن جاہلیت کے اس دور میں گنتی کے دوچار آدمی ایسے بھی تھے جن کو فطری طور پر بت پرستی سے نفرت تھی، ان میں ایک اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ شِعبِ ابی طالب میں تین سالہ محصوری مشرکین مکہ نے نبی کریم ﷺ کی دعوت اسلام کو روکنے کے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے یہاں تک کہ انہوں نے آپﷺ کا ا ور آپﷺ کے خاندان بنو ہاشم کے ان تمام لوگوں کا بھی جو آپﷺ کی نسبی اور قرابتی تعلق کی وجہ سے آپﷺ کی کسی درجہ میں حمایت کرتے تھے کا سوشل بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور آپﷺ کے قریبی رشتہ دار بھی شعب ابی طالب میں محصور کر دیے گئے۔ انہیں کھانے پینے اور بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا گیا اور یہ بائیکاٹ تین سال کے عرصہ تک محیط رہا، یہاں تک کہ ان لوگوں کو کبھی کبھی درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرنا پڑا۔ ایام محصوری کے اس تین سالہ دور میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺکے ہمراہ رہیں۔ آپؓ کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح نہیں کیا نبی کریم ﷺ نے جب اُم المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کی اس کے بعد تقریباً 24 سال تک آپ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں، اس پورے 24 سالہ دور میں رسول اللہ ﷺنے کوئی دوسرا نکاح نہیں فرمایا۔
لاہور اپنی تاریخی مساجد، باغات اور مغلیہ طرزِ تعمیر کے دیگرحوالوں کے باعث برصغیر کا اہم ثقافتی مرکز رہا ہے۔ انہی تاریخی یادگاروں میں مسجد دائی انگہ ایک ایسی عمارت ہے جو اپنی دلکش ساخت، تاریخی اہمیت اور تزئینی حسن کے باوجود نسبتاً کم معروف ہے۔ یہ مسجد لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے اور مغلیہ عہد کی فنکارانہ روایت کا ایک قیمتی نمونہ سمجھی جاتی ہے۔تاریخی پس منظراس مسجد کی تعمیر سترہویں صدی میں مغل دور کے عروج کے زمانے میں ہوئی۔ اس کی تعمیر کا سال 1635ء بتایا جاتا ہے جبکہ بعض کتبوں کے مطابق اس کی تکمیل 1649ء کے قریب ہوئی۔ یہ مسجد مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی دایہ (رضاعی ماں) دائی انگہ نے تعمیر کروائی جن کا اصل نام زیب النساتھا‘ جن کا اپنا مقبرہ یو ای ٹی لاہور کے پاس واقع ہے اور گلابی چوکی کے نام سے بھی معروف ہے ۔دائی انگہ مغل دربار کی بااثر خواتین میں شمار ہوتی تھیں اور شاہی خاندان کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا۔ اس مسجد کی تعمیر اس بات کی علامت ہے کہ مغلیہ دور میں خواتین بھی مذہبی اور فلاحی تعمیرات میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔محلِ وقوع اور شہری اہمیتیہ مسجد لاہور کے تاریخی علاقے نولکھا کے قریب، لاہور ریلوے سٹیشن کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ ماضی میں یہ علاقہ مغل اشرافیہ اور درباری شخصیات کی رہائش گاہوں کے لیے مشہور تھا۔ وقت کے ساتھ شہری پھیلاؤ نے اس علاقے کی ساخت کو بدل دیا مگر مسجد آج بھی اپنی تاریخی حیثیت کے ساتھ قائم ہے۔شہر کے مصروف تجارتی اور ٹرانسپورٹ مرکز کے قریب واقع ہونے کے باوجود یہ مسجد ایک تاریخی سکون اور روحانیت کا احساس دیتی ہے، جو ماضی اور حال کے امتزاج کی خوبصورت مثال ہے۔مسجد دائی انگہ نے اپنی طویل تاریخ میں کئی ادوار دیکھے۔ مغل سلطنت کے زوال کے بعد سکھ دور میں اس مسجد کو بارود کے گودام کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد برطانوی دور میں اس عمارت کی مذہبی حیثیت ختم کر کے اسے رہائش گاہ اور بعد ازاں ریلوے دفتر کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انیسویں صدی کے آخر میں اس کی تاریخی اہمیت کو تسلیم کیا گیا اور بیسویں صدی کے آغاز میں اسے دوبارہ مسجد کے طور پر بحال کیا گیا۔ اس بحالی نے اس تاریخی عمارت کو اپنی اصل مذہبی شناخت واپس دلائی۔مغلیہ فن کا خوبصورت نمونہمسجد دائی انگہ کا بنیادی منصوبہ مغلیہ مساجد کے روایتی انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ مسجد تین حصوں پر مشتمل ہے جن میں مرکزی حصہ سب سے نمایاں ہے۔ مرکزی گنبد بلند جبکہ اطراف کے گنبد نسبتاً چھوٹے ہیں جو توازن اور جمالیاتی حسن پیدا کرتے ہیں۔یہ ترتیب مغلیہ طرزِ تعمیر میں روحانی مرکزیت کی علامت سمجھی جاتی ہے جہاں مرکزی گنبد عبادت کے مقام کو نمایاں کرتا ہے۔مسجد کے سامنے ایک کشادہ صحن موجود تھا، جو اجتماعی عبادت اور مذہبی اجتماعات کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ صحن میں وضو کے لیے حوض کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسجد کو مکمل مذہبی تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا تھا۔کاشی کاری اور تزئینی حسنمسجد دائی انگہ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی شاندار کاشی کاری ہے۔ بیرونی دیواروں پر نیلے، زرد اور نارنجی رنگوں کی ٹائلوں کا استعمال مغلیہ فنِ تعمیر کے اعلیٰ جمالیاتی ذوق کی نمائندگی کرتا ہے۔پیش طاق (بلند مرکزی محرابی دروازہ) اور دیواروں پر کی گئی ٹائل موزیک آرائش اسے لاہور کی دیگر مغلیہ عمارتوں سے جوڑتی ہے۔ یہ آرائش فارسی اور مقامی فنون کے امتزاج کی بہترین مثال ہے۔ابتدائی دور میں مسجد کے اندرونی حصے میں خوبصورت فریسکو (دیواروں پر رنگین نقاشی) موجود تھی۔ وقت گزرنے، موسمی اثرات اور مرمت کے مختلف مراحل کے باعث اصل فریسکو کا بڑا حصہ متاثر ہوا اور بعد میں کچھ جگہوں پر ٹائلوں کا استعمال کیا گیا۔اندرونی محرابیں گہری اور نفیس انداز میں تعمیر کی گئی ہیں جبکہ دیواروں پر خطاطی کے آثار بھی ملتے ہیں، جو مغلیہ دور کی مذہبی آرائش کی روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔مینار اور بیرونی خدوخالمسجد کے اگلے حصے کے دونوں کونوں پر چھوٹے مگر خوبصورت مینار قائم ہیں جن کی بنیاد مربع شکل میں ہے اور اوپر چھتری نما گنبد بنائے گئے ہیں۔ یہ خصوصیت مغلیہ طرزِ تعمیر کی نمایاں علامتوں میں سے ہے۔بیرونی سطح پر ٹائل ورک، محرابی دروازے اور متوازن ساخت اس مسجد کو فنِ تعمیر کے لحاظ سے نہایت اہم بناتے ہیں۔یہ مسجد ایک محفوظ تاریخی ورثہ سمجھی جاتی ہے مگر شہری آبادی میں اضافے، ماحولیاتی اثرات اور غیر پیشہ ورانہ مرمت نے اس کے اصل حسن کو جزوی طور پر متاثر کیا ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق اس مسجد کی اصل کاشی کاری اور فریسکو آرائش کی سائنسی بنیادوں پر بحالی نہایت ضروری ہے۔مسجد دائی انگہ لاہور کی ان تاریخی یادگاروں میں شامل ہے جو اپنی خاموش عظمت میں صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔ ایک بااثر مغلیہ خاتون کی سرپرستی میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد فنِ تعمیر، روحانیت اور ثقافتی ورثے کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔اگر اس تاریخی مسجد کی مناسب دیکھ بھال اور مستند طرز پر بحالی کی جائے تو یہ نہ صرف سیاحتی بلکہ علمی اور تحقیقی لحاظ سے بھی لاہور کے اہم تاریخی مقامات میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔ یوں مسجد دائی انگہ محض ایک قدیم عمارت نہیں بلکہ ماضی کی شان و شوکت، فن اور مذہبی روایت کی ایک زندہ داستان ہے۔
ایک عام عادت کا نتیجہ ہو سکتا ہےدنیا بھر میں نظر کی کمزوری، خصوصاً مایوپیا (قریب کی چیزیں صاف اور دور کی دھندلی نظر آنا)، تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ماہرینِ چشم اسے صحت کا عالمی بحران قرار دے رہے ہیں۔ سائنسی جریدوں اور ویب سائٹس مثلاً ScienceAlert پر شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس کے مطابق اس اضافے کی ایک ممکنہ وجہ ہماری روزمرہ کی ایک عام مگر نظرانداز کی جانے والی عادت ہے: طویل عرصے تک اندرونی ماحول میں قریب کی چیزوں پر نظر جمائے رکھنا، خاص طور پر کم روشنی میں۔روایتی طور پر مایوپیا کاذمہ دار سکرین ٹائم کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ کو اس مسئلے کا مرکزی سبب سمجھا گیا تاہم تازہ تحقیق ایک اہم نکتہ سامنے لاتی ہے کہ مسئلہ صرف سکرین نہیں بلکہ قریب کا کام ہے ، یعنی کتاب پڑھنا، کاپی پر لکھنا یا موبائل استعمال کرنا ، سب اسی زمرے میں آتے ہیں۔ اگر یہ سرگرمیاں طویل وقت تک اور کم روشنی میں کی جائیں تو آنکھوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق جب ہم کسی قریبی شے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تو آنکھ کے عضلات سکڑتے ہیں تاکہ فوکس برقرار رہے۔ اسی دوران پتلی (pupil) بھی سکڑتی ہے تاکہ تصویر واضح ہو۔ اگر کمرے کی روشنی کم ہو تو ریٹینا تک پہنچنے والی روشنی کی مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق مسلسل کم روشنی میں نزدیک دیکھنے سے آنکھ کے نظام میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں جو مایوپیا کے امکانات بڑھا دیں۔یہ نظریہ اس بات سے بھی تقویت پاتا ہے کہ جو بچے زیادہ وقت باہر کھیلتے ہیں ان میں مایوپیا کی شرح نسبتاً کم دیکھی گئی ہے۔ بیرونی ماحول میں قدرتی روشنی زیادہ ہوتی ہے اور آنکھوں کو دور کی اشیا پر فوکس کرنے کا موقع ملتا ہے۔ دن کی روشنی ریٹینا کو زیادہ متحرک رکھتی ہے جس سے آنکھ کی نشوونما متوازن رہنے میں مدد مل سکتی ہے۔عالمی سطح پر اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ مختلف تحقیقی اندازوں کے مطابق 2050ء تک دنیا کی تقریباً نصف آبادی مایوپیا کا شکار ہو سکتی ہے اور نوجوانوں میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ تعلیمی دباؤ، مقابلے کا رجحان اور ڈیجیٹل آلات کا بڑھتا استعمال سب اس رجحان میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ شہری زندگی میں بچوں کا زیادہ وقت گھروں اور کلاس رومز میں گزرنا بھی ایک اہم عامل سمجھا جا رہا ہے۔تاہم ضروری ہے کہ اس تحقیق کو حتمی فیصلہ نہ سمجھا جائے۔ سائنس میں کسی ایک مطالعے سے قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاتا۔ جینیاتی عوامل، خاندانی تاریخ، تعلیمی ماحول اور طرزِ زندگی سب مایوپیا کے خطرے کو متاثر کرتے ہیں۔ موجودہ تحقیق ایک مفروضہ پیش کرتی ہے جسے مزید تجربات اور بڑے پیمانے کے مطالعوں کی ضرورت ہے۔اس کے باوجود احتیاطی تدابیر اختیار کرنا دانشمندی ہے، خاص طور پر بچوں اور طلبہ کے لیے۔ چند عملی اقدامات یہ ہو سکتے ہیں: مطالعہ اور سکرین کا استعمال مناسب اور روشن ماحول میں کیا جائے۔ ہر 20 منٹ بعد 20 سیکنڈ کے لیے 20 فٹ دور کسی شے کو دیکھنے کی عادت اپنائی جائے (20-20-20 اصول)۔ روزانہ کم از کم ایک سے دو گھنٹے باہر کھیلنے یا چہل قدمی کا اہتمام کیا جائے۔ کم روشنی میں موبائل یا کتاب کا طویل استعمال ترک کیا جائے۔ باقاعدگی سے آنکھوں کا معائنہ کروایا جائے۔ مایوپیا کا بڑھتا ہوا رجحان ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جدید طرزِ زندگی کے اثرات ہماری آنکھوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ اگر ہم روشنی، وقت اور فاصلہ کے تین اصولوں کو ذہن میں رکھیں تو شاید اس خاموش وبا کی رفتار کو کم کیا جا سکے۔ سائنس ابھی حتمی جواب کی تلاش میں ہے، مگر احتیاط اور اعتدال ہمیشہ بہترین حکمتِ عملی رہتے ہیں۔
اجزاء :سرخ لوبیہ دوکپ (ابال لیں )،آلو آدھا کلو (ابال لیں )،مشروم ایک کپ (باریک کاٹ لیں )،ادرک، لہسن باریک کٹے ہوئے ،مونگ پھلی آدھا کپ بھنی ہوئی(کوٹ لیں )،نمک حسب ذائقہ ،کالی مرچ ایک چائے کا چمچ پسی ہوئی ،ہرادھنیا آدھی گڈی ،شملہ مرچ دوعدد باریک کٹی ہوئی، سفید زیرہ ایک چائے کا چمچ ،ہری پیاز آدھا پائو باریک کٹی ہوئی ،بریڈ کرمز دوکپ ،لیموں کا رس تین بڑے چائے کے چمچ ،سویا سا تین بڑے چائے کے چمچ، انڈے دوعدد ، کوکنگ آئل دوبڑے چائے کے چمچ ،ترکیب : ایک چھوٹے فرائنگ پین میں کوکنگ آئل دو بڑے چمچ ڈال کر اس میں باریک کٹے ہوئے مشروم ڈال کر فرائی کریں۔ اب اس میں ادرک ، لہسن باریک کٹاہوا، ہری پیاز اور شملہ مرچ باریک کٹی ہوئی ڈال کر تھوڑی دیر فرائی کریں ساتھ ہی لیموں کا رس یا سویا ساس بھی ملالیں 5منٹ فرائی کریں فرائی ہرے مصالحے کو پلیٹ میں نکال لیں۔ ابالے ہوئے آلو اور ابالے ہوئے سرخ لوبیہ باریک میش کرلیں اس میں نمک، کالی مرچ، (پسی ہوئی ) سفید زیرہ ، مونگ پھلی (پسی ہوئی )اور ہرادھنیا باریک کٹا ہوا ملالیں اب اس میں فرائی ہرامصالحہ ڈال کر اتنا ملائیں کہ تمام چیزیں یکجان ہوجائے۔ اس کے گول یا چپٹے یا حسب پسند کباب بنالیں۔ انڈے پھینٹ لیں کباب کو انڈے میں ڈبو کر اور بریڈ کرمز میں رول کرلیں۔کوکنگ آئل کر سب اینڈڈرائی گرم کرلیں اس میں بینز برگرکباب ہلکی آنچ پر ڈیپ فرائی کریں جب گولڈن برائون ہوجائیں تو نکال کر ٹشو پیپر پر رکھ دیں تاکہ چکنائی جذب ہو جائے سلاد اور کیچپ کے ساتھ ساتھ گرم گرم پیش کریں۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹر بم دھماکہ26 فروری 1993ء کو نیویارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے زیرِ زمین پارکنگ ایریا میں بم دھماکہ ہوا جس میں چھ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔یہ واقعہ عالمی دہشت گردی کے ابتدائی بڑے حملوں میں شمار کیا جاتا ہے جس نے امریکہ سمیت دنیا بھر میں سکیورٹی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ تحقیقات کے نتیجے میں شدت پسند نیٹ ورک کے افراد کو گرفتار کیا گیا اور عدالتوں نے انہیں سزائیں سنائیں۔ اس واقعے کے بعد بلند و بالا عمارتوں، عوامی مقامات اور انفراسٹرکچر کی سیکیورٹی کے نظام کو مزید سخت بنایا گیا۔ کمیونسٹ بالادستی کا خاتمہ26 فروری 1990ء کو سوویت یونین کی سپریم سوویت نے آئینی شق 6 کو ختم کرنے کے عمل کو آگے بڑھایا جس کے نتیجے میں کمیونسٹ پارٹی کی یک جماعتی بالادستی کا خاتمہ شروع ہوا۔ یہ فیصلہ سرد جنگ کے اختتام اور جمہوری اصلاحات کی طرف ایک اہم قدم تھا۔ اس دور میں گورباچوف کی پالیسیوں نے سیاسی لبرلزم اور معاشی اصلاحات کو فروغ دیا۔ اس آئینی تبدیلی نے سوویت ریاست کے سیاسی ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا اور مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے راستہ ہموار کیا۔سوویت یونین میں جمہوری رجحانات میں اضافہ ہوا مگر ساتھ ہی ریاستی اتحاد کمزور ہوتا گیا۔ ناروے :تیل کی دریافت 26 فروری 1969ء کو ناروے کے شمالی سمندر میں تیل کی تلاش کے اہم منصوبوں میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی جس نے ملک کی معیشت کی بنیاد تبدیل کر دی۔ بعد ازاں ناروے دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا۔ اس دریافت نے نہ صرف قومی آمدنی میں اضافہ کیا بلکہ سماجی بہبود کے نظام کو بھی مضبوط کیا۔ ناروے نے تیل کی دولت سے خودمختار ویلتھ فنڈ قائم کیا جو آج دنیا کے سب سے بڑے فنڈز میں شمار ہوتا ہے۔ تیل کی دریافت کے نتیجے میں صنعتی ترقی، توانائی کی خود کفالت اور عالمی توانائی کی منڈی میں ناروے کا اثر و رسوخ بڑھا۔بامیان مجسموں کو تباہی26 فروری 2001ء کو افغانستان میں برسر اقتدار طالبان نے دنیا کے قدیم ترین تاریخی ورثے میں شامل بامیان کے بدھ مجسموں کو تباہ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ مجسمے تقریباً 1500 سال پرانے تھے اور افغانستان کے صوبہ بامیان کی پہاڑیوں میں تراشے گئے تھے۔ اقوام متحدہ، یونیسکو اور متعدد اسلامی ممالک نے اس فیصلے کی مذمت کی۔یہ واقعہ عالمی ثقافتی ورثے کے لیے ایک بہت بڑا نقصان سمجھا جاتا ہے کیونکہ بامیان کے مجسمے بدھ مت تہذیب اور قدیم شاہراہِ ریشم کی تاریخ کے اہم آثار تھے۔ اس سانحے نے دنیا بھر میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا اور جنگ زدہ علاقوں میں آثارِ قدیمہ کی حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔برطانیہ کا ایٹمی پروگرام26 فروری 1952ء کو برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ برطانیہ نے کامیابی کے ساتھ ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے پروگرام میں اہم پیش رفت کر لی ہے۔ یہ اعلان سرد جنگ کے دور میں کیا گیا جب امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ایٹمی طاقت کی دوڑ جاری تھی۔برطانیہ جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد اپنی عالمی حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتا تھا، نے دفاعی خودمختاری کے لیے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کو ضروری سمجھا۔ اس اعلان کے بعد اسی سال اکتوبر میں برطانیہ نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کیا، جس سے وہ دنیا کی تیسری ایٹمی طاقت بن گیا۔
مغلیہ عہدِ زوال میں تعمیر ہونے والا شاہکارلاہور کے قدیم فصیل بند شہر کی گلیوں اور بازاروں میں جا بجا تاریخی عمارتیں ملتی ہیں مگر سنہری مسجد اپنی منفرد شناخت اور دلکش طرزِ تعمیر کے باعث خاص مقام رکھتی ہے۔ کشمیری بازار کے چوک میں واقع یہ مسجد مغلیہ عہد کے آخری دور کے فنِ تعمیر کا ایک اہم نمونہ سمجھی جاتی ہے۔ سنہری مسجد کی تعمیر اس وقت ہوئی جب مغلیہ سلطنت اپنے زوال کی جانب گامزن تھی، اسی لیے اس کی ساخت اور انداز میں روایتی مغل طرزِ تعمیر کے ساتھ ایک مختلف جمالیاتی رجحان بھی نظر آتا ہے۔تعمیر کا پس منظرسنہری مسجد کی تعمیر 1753ء میں نواب بھکاری خان نے کروائی جو اُس زمانے میں لاہور کے ایک سرکاری عہدیدار تھے اور گورنر میر معین الملک المعروف میر منوں کے دورِ حکومت میں خدمات انجام دیتے رہے تھے۔ یہ مسجد ایسے مقام پر تعمیر کی گئی جہاں ایک سڑک دو حصوں میں تقسیم ہوتی تھی اور اس وقت یہ جگہ کشمیری بازار کے چوک میں ایک خالی قطعہ زمین تھی۔اس مقام کی اہمیت اور مصروفیت کے باعث مسجد کی تعمیر کے حوالے سے مقامی حکام کو خدشہ تھا کہ چوک میں عمارت کی تعمیر سے آمدورفت میں خلل پیدا ہوگا۔ اسی وجہ سے نواب بھکاری خان کو علماسے خصوصی فتویٰ حاصل کرنا پڑا تاکہ اس جگہ مسجد کی تعمیر کو مذہبی اور سماجی جواز فراہم کیا جا سکے۔ اس واقعے سے اس دور کے شہری نظم و نسق اور مذہبی حساسیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔سنہری مسجد لاہور کے تاریخی بازاروں کے مرکز میں واقع ہے، جو اسے ایک منفرد شہری شناخت عطا کرتی ہے۔ عام طور پر مساجد کھلے اور وسیع مقامات پر تعمیر کی جاتی تھیں مگر یہ مسجد ایک مصروف تجارتی مرکز میں واقع ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔فصیل بند شہر کے ہنگامہ خیز ماحول، تنگ گلیوں اور قدیم بازاروں کے درمیان اس مسجد کا وجود اس بات کی علامت ہے کہ مذہبی اور سماجی زندگی شہر کے قلب میں ہی پروان چڑھتی تھی۔ مسجد کا محلِ وقوع اسے صرف عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ ایک تاریخی و ثقافتی نشانی کی اہمیت بھی دلاتا ہے۔طرزِ تعمیر اور فنی خصوصیاتسنہری مسجد کا طرزِ تعمیر مغلیہ فنِ تعمیر سے متاثر ضرور ہے مگر اس میں روایتی مغل ڈیزائن کی کلاسیکی ہم آہنگی نسبتاً کم اور تزئین و آرائش کا ایک منفرد انداز زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ مسجد کے گنبد سنہری رنگ کے باعث خاص توجہ حاصل کرتے ہیں جن کی وجہ سے اسے سنہری مسجد کہا جاتا ہے۔مسجد کے تین گنبد اور بلند مینار اس کی بیرونی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں جبکہ داخلی حصے میں محرابوں اور نقش و نگار کی سادہ مگر دلکش آرائش دکھائی دیتی ہے۔ یہ مسجد اگرچہ بادشاہی مسجد جیسی عظیم الشان نہیں مگر اپنی نفاست اور مقامی شہری انداز کے باعث ایک منفرد تعمیراتی شناخت رکھتی ہے۔تاہم معروف ماہرِ تعمیرات کامل خان ممتازنے سنہری مسجد کے طرزِ تعمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے مغلیہ فنِ تعمیر کی اصل روح سے انحراف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق قریب سے جائزہ لینے پر اس مسجد میں مغلیہ طرز کے عناصر میں بگاڑ واضح نظر آتا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ گنبدوں کی ساخت روایتی مغل گنبدوں کے بجائے غیر معمولی حد تک ابھری ہوئی ہے، جبکہ دیگر تزئینی عناصر میں بھی ایک غیر روایتی انداز جھلکتا ہے۔ ان کے مطابق دیواروں کی کنگریاں(merlons) سانپ کے پھنے جیسی شکل اختیار کر چکی ہیں اور ستونوں کے ڈیزائن میں نباتاتی اشکال کا غلبہ نظر آتا ہے۔یہ تنقید اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں فنِ تعمیر کی کلاسیکی سادگی اور توازن کمزور پڑنے لگا اور اس کی جگہ نمائشی انداز نے لے لی۔مغلیہ عہد کے زوال کی عکاسیسنہری مسجد کی تعمیر کا زمانہ مغلیہ سلطنت کے زوال کا دور تھا جس کا اثر فنِ تعمیر پر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اس کا موازنہ بادشاہی مسجد سے کر یں تو فرق نمایاں نظر آتا ہے۔ بادشاہی مسجد میں جہاں تناسب، وسعت اور شاہانہ وقار نمایاں ہے وہیں سنہری مسجد میں محدود جگہ، نسبتاً چھوٹے پیمانے اور تزئینی عناصر کی کثرت دکھائی دیتی ہے۔یہ فرق اس بات کی علامت ہے کہ مغلیہ دور کے آخری مرحلے میں وسائل، سیاسی استحکام اور تعمیراتی معیار میں نمایاں تبدیلی آ چکی تھی۔ثقافتی اور مذہبی اہمیتسنہری مسجد محض ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ آج بھی ایک فعال عبادت گاہ ہے جہاں نمازی بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ کشمیری بازار اور اندرونِ لاہور کے تاجر اور مقامی افراد اس مسجد سے گہرا روحانی تعلق رکھتے ہیں۔رمضان المبارک اور جمعہ کے اجتماعات کے دوران اس مسجد کا ماحول روح پرور ہو جاتا ہے۔ ہے۔آج کے دور میں سنہری مسجد لاہور کے اہم تاریخی ورثے کا حصہ ہے اور سیاحوں، محققین اور فوٹو گرافروں‘ ویڈیو گرافروں کے لیے خاص کشش رکھتی ہے۔ چونکہ محققین اور فوٹوگرافروں (خصوصاً تاریخی فنِ تعمیر میں دلچسپی رکھنے والوں) کے لیے یہ مسجد ایک اہم موضوع ہے اس لیے اس کی دستاویزی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔
جدید سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں (Ultra-processed foods) کا زیادہ استعمال دل کی بیماریوں کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ ایک حالیہ مطالعے کے مطابق ایسی غذائیں زیادہ کھانے والوں میں ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض کا خطرہ تقریباً 47 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔الٹرا پروسیسڈ غذائیں کیا ہیں؟الٹرا پروسیسڈ غذائیں وہ صنعتی مصنوعات ہیں جو فیکٹریوں میں تیار کی جاتی ہیں اور جن میں چینی، نمک، غیر صحت بخش چکنائی، مصنوعی ذائقے، رنگ اور کیمیائی اجزاشامل کیے جاتے ہیں۔ سافٹ ڈرنکس، پیک شدہ سنیکس، پراسیسڈ گوشت، انسٹنٹ نوڈلز اور تیار شدہ فاسٹ فوڈ اس کی عام مثالیں ہیں۔ان غذاؤں کی تیاری کے دوران قدرتی غذائی اجزاکم ہو جاتے ہیں جبکہ مصنوعی اجزا کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے ان کی غذائی افادیت متاثر ہوتی ہے۔ایک تحقیق جس میں امریکی قومی سروے کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس میں ہزاروں بالغ افراد شامل تھے۔ محققین نے شرکاکی روزمرہ خوراک کا جائزہ لیا اور معلوم کیا کہ ان کی کل کیلوریز میں الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا کتنا حصہ ہے۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ جو افراد زیادہ تر الٹرا پروسیسڈ خوراک کھاتے تھے ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ 47 فیصد زیادہ تھا۔ یہ اضافہ عمر، جنس، تمباکو نوشی اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھنے کے باوجود برقرار رہا۔سوزش اور میٹابولک مسائل کا کردارماہرین کے مطابق الٹرا پروسیسڈ غذائیں جسم میں سوزش (Inflammation) بڑھا سکتی ہیں۔ جسم میں سوزش کی زیادہ مقدار دل کی شریانوں کو متاثر کرتی ہے اور ہارٹ اٹیک کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے۔اسی طرح یہ غذائیں میٹابولک سنڈروم کا خطرہ بھی بڑھاتی ہیں جس میں موٹاپا، انسولین مزاحمت، ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی خرابی شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر دل کی بیماریوں کی بنیاد بنتے ہیں۔عالمی سطح پر بڑھتا ہوا رجحانتحقیق کے مطابق بعض ترقی یافتہ ممالک میں بالغ افراد کی روزمرہ خوراک کا تقریباً 60 فیصد اور بچوں کی خوراک کا 70 فیصد حصہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں پر مشتمل ہے۔ یہ شرح تشویشناک ہے کیونکہ ان غذاؤں کا تعلق پہلے ہی موٹاپے، ذیابیطس اور دیگر دائمی بیماریوں سے جوڑا جا چکا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سہولت، کم قیمت اور جارحانہ مارکیٹنگ نے ان مصنوعات کو عام زندگی کا حصہ بنا دیا ہے۔ بعض ماہرین اس مسئلے کو ماضی میں تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جس طرح سگریٹ کے نقصانات کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے میں دہائیاں لگیں اسی طرح الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے مضر اثرات سے متعلق آگاہی بھی وقت لے سکتی ہے۔غذائی صنعت کی بڑی کمپنیاں ان مصنوعات کی تیاری اور تشہیر میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں جس سے صحت عامہ کے اقدامات کو چیلنج درپیش ہے۔مختلف مطالعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال ذیابیطس، بعض اقسام کے کینسر، ذہنی دباؤ اور قبل از وقت موت کے خطرے سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان غذاؤں کے اثرات صرف دل تک محدود نہیں بلکہ مجموعی صحت پر پڑتے ہیں۔حل کیا ہے؟ماہرین صحت کے مطابق مسئلے کا حل صرف انفرادی سطح پر نہیں بلکہ پالیسی سطح پر بھی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ صحت بخش غذاؤں کی دستیابی کو آسان اور سستا بنانا، غذائی تعلیم کو فروغ دینا اور فوڈ لیبلنگ کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تازہ سبزیاں، پھل، دالیں اور کم پراسیسڈ غذائیں اپنی خوراک کا حصہ بنائیں اور پیک شدہ، میٹھی اور زیادہ نمک والی مصنوعات کا استعمال محدود کریں۔
اجزاء: کھجوریں دو پیالی( درمیان میں سے گھٹلی نکال کر گودا بنالیں )،میری بسکٹ ایک پیکٹ،ناریل آدھی پیالی ،چینی آدھی پیالی ،فریش کریم ایک پیالی،مارجرین چارکھانے کے چمچ(چاہیں توگھی بھی استعمال کرسکتے ہیں) ترکیب : سب سے پہلے ایک دیگچی میں مارجرین کو ہلکا سا گرم کریں، پھر اس میں کھجوروں کا گودا ڈال کر ہلکا سا بھون لیں۔ تاکہ اچھاسا پیسٹ بن جائے پھر شکر اور ناریل کی گری ڈال کر پانچ سے دس منٹ تک بھونیں بسکٹ کو توڑ کر چورا کرلیں پھر سب چیزوں کے ساتھ بسکٹ بھی ڈال دیں، دوتین منٹ بھون کر ایک تھالی میں ذرا سی چکنائی لگاکر کھجور اور بسٹ کے آمیزے کو پھیلا کر رکھ دیں۔ ٹھنڈا ہونے دیں فریش کریم کو خوب پھینٹیں، جب وہ گاڑھا ہوجائے تو اس کے اوپر ڈال دیں، چوکور ٹکڑے کاٹ کر پیش کریں۔ یہ ڈش چار سے چھ افراد کے لیے کافی ہے۔ پودینہ لیمونیڈپودینہ لیمونیڈ، لیموں، پانی اور پودینے کے پتوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ مشروب وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم کو تازگی اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں تھوڑا سا شہد شامل کر کے اسے مزید مفید بنایا جا سکتا ہے۔ یہ مشروب افطار کے دوران پینے کے لیے بہترین ہے۔
٭...1931ء میں بھارتی ریاست پٹیالہ میں پیدا ہوئے،اصل نام حبیب الرحمان تھا۔ تقسیم ہند کے وقت بھارت سے ہجرت کر کے گوجرانوالہ آئے۔٭...فلمی کریئر کا آغاز 1956ء میں فلم ''لخت جگر ‘‘ سے ہوا۔٭...1958ء میں ان کی فلم ''آدمی‘‘ ریلیز ہوئی، جسے ان کی بہترین فلم کہا جاتا ہے۔٭...50ء کی دہائی میں وہ اردو اور پنجابی فلموں کے یکساں مقبول اداکار تھے، ٭... وہ پاکستان کے پہلے ہیرو تھے جنہوں نے سب سے پہلے اپنی فلموں کی سنچری مکمل کی ۔٭... 60ء کی دہائی میں جب وہ اپنے کریئر کے ٹاپ پر تھے انہوں کریکٹر رول کرنا شروع کر دیئے تھے۔٭... مجموعی طور پر 203فلموں میں جلوہ گر ہوئے۔متعدد پنجابی فلموں میں بھی کام کیا۔٭... حبیب نے بطورپروڈیوسر اور ڈائریکٹر بھی فلمیں بنائیں۔ ٭... سیاست میں بھی حصہ لیا۔ وہ 1977ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے رہے لیکن بعد میں سیاست سے تائب ہو گئے۔ ٭...25فروری 2016ء کو 80برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔
ریوالور کا پیٹنٹ 25 فروری 1836ء کو امریکی موجد کولٹ سیموئیل کو اپنے مشہور ریوالور ڈیزائن کا پیٹنٹ حاصل ہوا۔ کولٹ کے ریوالور میں گھومنے والا سلنڈر تھا جس میں متعدد گولیاں موجود رہتی تھیں جس سے تیزی سے فائر کرنا ممکن ہو گیا۔ اس ٹیکنالوجی نے فوجی حکمت عملی، ذاتی دفاع اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر گہرا اثر ڈالا۔ امریکہ کی توسیع، مغربی سرحدوں کی آبادکاری اور جنگی تاریخ میں کولٹ ریوالور ایک علامتی ہتھیار بن گیا۔خلائی کیمرہ ٹیکنالوجی 25 فروری 1964ء کو خلا میں جدید فوٹوگرافی کے تجربات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی جب خلائی مشنز میں استعمال ہونے والی خودکار کیمرہ ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا گیا۔ اس دور میں خلائی تحقیق تیزی سے ترقی کر رہی تھی اور تصاویر کی مدد سے زمین اور خلا کے مشاہدات کو محفوظ کرنا سائنسی تحقیق کے لیے نہایت اہم تھا۔ خودکار کیمروں نے ایسے ماحول میں کام کرنا ممکن بنایا جہاں انسان کی موجودگی محدود تھی۔ ان ٹیکنالوجیز نے موسمیاتی تبدیلیوں، زمین کی جغرافیائی ساخت اور خلائی مظاہر کے مطالعے میں انقلاب برپا کیا۔ نیپولین کی ایلبا سے واپسی25 فروری 1815ء کو فرانسیسی فوجی رہنما اور شہنشاہ نپولین بوناپارٹ جلاوطنی کے بعد جزیرہ ایلبا سے فرار ہو کر فرانس کی طرف روانہ ہوا۔ اس کی یہ واپسی یورپی سیاست میں تہلکہ خیز ثابت ہوئی۔ 1814ء میں شکست کے بعد نپولین کو ایلبا جلاوطن کر دیا گیا تھا مگر وہ دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے فرانس پہنچا اور عوام اور فوج کی بڑی تعداد نے ان کا ساتھ دیا۔ اس واقعے نے ''سو دن‘‘ (Hundred Days ) کے نام سے مشہور دور کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں یورپ کی بڑی طاقتیں ایک بار پھر متحد ہو گئیں۔ ویانا سٹیٹ اوپیرا کی دوبارہ تعمیر25 فروری 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران تباہ ہونے والی ویانا سٹیٹ اوپیرا کی بحالی کے منصوبے پر عملی پیش رفت شروع ہوئی۔ آسٹریا کا یہ ثقافتی ادارہ یورپی موسیقی کی روایت کا ایک عظیم مرکز رہا ہے۔ جنگ کے دوران بمباری نے اس تاریخی عمارت کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے بعد اس کی بحالی ایک قومی ثقافتی مشن بن گئی۔ تعمیرِ نو کے اس عمل میں نہ صرف فنِ تعمیر کے ماہرین بلکہ موسیقاروں اور ثقافتی شخصیات نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔
تاریخی،ثقافتی اور جمالیاتی ورثہمریم زمانی مسجد جسے بیگم شاہی مسجد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے لاہور میں مغل دور کی اہم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے اور برصغیر کی اسلامی تعمیراتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔لاہور قلعہ کے بالمقابل اکبری دروازے کے باہر 1614ء میں تعمیرکی گئی یہ مسجد مغل شہنشاہ اکبر کی اہلیہ ملکہ مریم الزمانی سے منسوب ہے۔یہ مسجد نہ صرف اپنی تاریخی اہمیت کے باعث ممتاز ہے بلکہ اپنے منفرد فنِ تعمیر، تزئین و آرائش اور محلِ وقوع کے اعتبار سے بھی ایک نمایاں ثقافتی ورثہ ہے۔ شاہی قلعے کے دروازے کے بالکل سامنے واقع ہونے سے قلعے اور اس مسجد کے تعلق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔یہ قربت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مسجد شاہی خاندان اور درباری افراد کے لیے بہت اہم رہی ہو گی۔فنِ تعمیرفنِ تعمیر کے لحاظ سے مریم زمانی مسجد مغل طرزِ تعمیر کے ابتدائی ارتقائی دور کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً پچاس میٹر مشرق تا مغرب اور پچاس میٹر شمال تا جنوب ہے، جس سے یہ ایک نسبتاً چھوٹی مگر متوازن اور منظم عمارت دکھائی دیتی ہے۔ اس مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا پانچ محرابی داخلی حصہ ہے جو بعد کے مغل دور میں تعمیر ہونے والی مساجد کا ایک مخصوص اور معیاری عنصر بن گیا۔ یوں یہ مسجد اس طرزِ تعمیر کی اولین مثالوں میں شمار ہوتی ہے جس نے بعد میں مغل مساجد کے ڈیزائن کو متاثر کیا۔تاریخی ماہرین کے مطابق یہ مسجد لودھی اور مغل طرزِ تعمیر کے درمیان ایک عبوری کیفیت کی عکاسی کرتی ہے‘ تاہم اس کی تعمیر چونکہ اس وقت ہوئی جب مغل سلطنت کو قائم ہوئے تقریباً نوے سال ہو چکے تھے اس لیے اسے مغل معماروں کی جانب سے روایتی افغان اور سلطنت دور کے طرزِ تعمیر کی ایک نئی تشریح قرار دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس کا مرکزی پیش طاق (پشتہ نما محراب)، گنبدی ساخت اور کشادہ صحن اس بات کی دلیل ہے کہ مغل معماروں نے سابقہ اسلامی تعمیراتی روایات کو اپناتے ہوئے انہیں اپنے جمالیاتی معیار کے مطابق ڈھالا۔اس مسجد کا تقابلی جائزہ دہلی کی قلعہ کہنہ مسجد سے لیا جائے تو دونوں عمارتوں کے خدوخال میں نمایاں مماثلت نظر آتی ہے۔ قلعہ کہنہ مسجد بھی ایک گنبد دار، پانچ محرابی عمارت ہے جس کے سامنے وسیع صحن موجود ہے۔ یہی خصوصیات مریم زمانی مسجد میں بھی نظر آتی ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ مغل فنِ تعمیر نے سابقہ افغان اور سلطنتی روایت کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا مگر اس میں اپنے مخصوص جمالیاتی عناصر شامل کیے۔تزئین و آرائش تزئین و آرائش کے اعتبار سے مریم زمانی مسجد اپنی نوعیت کی ایک شاندار مثال ہے۔ اس کے اندرونی حصے میں پلاسٹر پر بنے ہوئے مقرنس طرز کے طاق، کثیر رنگی فریسکو پینٹنگ اور باریک نقش و نگار پائے جاتے ہیں۔ جیومیٹریائی ڈیزائن، بیل بوٹے، درختوں کی مثالی تصاویر، گلدان اور پرندوں کی مصوری اس کے داخلی حسن کو مزید نکھارتی ہے۔ اگرچہ بیرونی حصے کی آرائش صدیوں کے موسمی اثرات اور آلودگی کے باعث خاصی متاثر ہو چکی ہے لیکن مرکزی پیش طاق کے اندر موجود مقرنس طاق اور اندرونی فریسکو آج بھی اپنی اصل شان کی جھلک پیش کرتے ہیں۔تاریخی روایات کے مطابق اس مسجد کی فریسکو آرائش اتنی مشہور تھی کہ لاہور قلعہ کے مشرقی دروازے کو ''مسجدی یا مسیتی دروازہ‘‘ کہا جانے لگا۔ یہ امر اس مسجد کی فنی عظمت اور اس کے ثقافتی اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ اندرونی سجاوٹ کا انداز جہانگیر اور ابتدائی شاہجہانی دور کی عمارات سے مماثلت رکھتا ہے، جس میں سنجیدگی، توازن اور باوقار رنگوں کا استعمال نمایاں ہے۔ اس اسلوب میں وہی رسمی اور شائستہ جمالیات نظر آتی ہیں جو مغل دربار کے ذوقِ فن کی نمائندگی کرتی ہیں۔تعمیراتی خصوصیاتتعمیراتی نقطہ نظر سے یہ مسجد مغل دور کے اس مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے جب سلطنت اپنی شناخت مستحکم کر رہی تھی اور فنِ تعمیر میں تجرباتی رجحانات موجود تھے۔ اکبر اعظم کے عہد میں شروع ہونے والی مذہبی اور ثقافتی وسعت نے ایسے منصوبوں کو فروغ دیا جن میں روایت اور جدت کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ اسی فکری تسلسل کے تحت مریم زمانی مسجد جیسی عمارات وجود میں آئیں جو نہ صرف عبادت گاہیں تھیں بلکہ ثقافتی علامت بھی بن گئیں۔اگرچہ بعد کے ادوار میں مغل فنِ تعمیر نے عظیم الشان مساجد کی صورت میں اپنی معراج حاصل کی جیسے بادشاہی مسجد لاہور، تاہم مریم زمانی مسجد کو ایک بنیادی اور ابتدائی نمونے کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی سادگی، تناسب اور تاریخی اہمیت اسے مغل فنِ تعمیر کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی مثال بناتی ہے۔آج کے دور میں مریم زمانی مسجد لاہور کے تاریخی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے اور محققین، سیاحوں اور فوٹو گرافروں کے لیے خصوصی دلچسپی کا مرکز ہے۔ یہ مسجد اس حقیقت کی علامت ہے کہ مغل عہد میں تعمیراتی فن صرف عظمت اور شان و شوکت تک محدود نہیں تھا بلکہ جمالیاتی توازن، روحانیت اور فنی باریکیوں پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی تھی۔ صدیوں پر محیط موسمی اثرات کے باوجود اس مسجد کی اصل شناخت بڑی حد تک محفوظ ہے، جو اس کی مضبوط تعمیر اور فنی مہارت کا ثبوت ہے۔
NASA کا چاند کے گرد انسانی خلائی مشن آرٹیمس دوم ایک بار پھر تکنیکی پیچیدگیوں کے باعث تاخیر کے خدشات سے دوچار ہو گیا ہے۔ خلائی ادارے کے مطابق راکٹ کے نظام میں ہیلیم کے بہاؤ میں تعطل کی نشاندہی کے بعد انجینئرز تفصیلی تکنیکی جائزہ لے رہے ہیں جس کے نتیجے میں مارچ کی تمام ممکنہ لانچ تاریخیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ یہ مشن جدید خلائی تاریخ کے اہم ترین منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ذریعے تقریباً نصف صدی بعد انسانوں کو دوبارہ چاند کے قریب بھیجا جائے گا۔ناسا کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق تکنیکی ماہرین نے راکٹ کے اپر سٹیج کے ایک اہم نظام میں ہیلیم کے بہاؤ میں رکاوٹ دیکھی ہے۔ ہیلیم راکٹ کے پریشرائزیشن نظام کا بنیادی جزو ہوتا ہے جو ایندھن کے ٹینکوں کے دباؤ کو مستحکم رکھنے اور انجن کی کارکردگی کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس بہاؤ میں معمولی سی خرابی بھی لانچ کے دوران خطرات پیدا کر سکتی ہے، اس لیے ناسا اس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ادارے نے عندیہ دیا ہے کہ راکٹ اور اورائن خلائی جہاز کو لانچ پیڈ سے واپس وہیکل اسمبلی بلڈنگ منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ مزید جانچ، معائنہ اور ممکنہ مرمت کی جا سکے۔ اس عمل کو خلائی اصطلاح میں ''رول بیک‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ عام طور پر اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی اہم تکنیکی نظام میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے۔ اگر رول بیک کا فیصلہ حتمی صورت اختیار کرتا ہے تو مارچ میں لانچ منسوخ ہو سکتی ہیں اور مشن کو اپریل یا اس کے بعد کی تاریخوں تک مؤخر کرنا پڑ سکتا ہے۔آرٹیمس دوم مشن کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ 1972ء کے بعد انسانوں کو پہلی بار چاند کے قریب لے جانے والا مشن ہو گا۔ آخری بار انسان چاند کے مشن پر اپالو 17 کے ذریعے گئے تھے۔ اس کے بعد طویل عرصے تک انسان بردار قمری مشنز معطل رہے اور خلائی تحقیق زیادہ تر مدار یا غیر عملہ مشنز تک محدود رہی۔ اب آرٹیمس پروگرام کے ذریعے ناسا ایک بار پھر قمری تحقیق کو انسانی سطح پر بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔آرٹیمس مشن میں چار خلا بازوں کو تقریباً دس روزہ سفر پر چاند کے گرد بھیجا جائے گا۔ اگرچہ اس مشن میں چاند پر لینڈنگ شامل نہیں تاہم یہ مستقبل کے قمری لینڈنگ مشنز کے لیے عملی بنیاد فراہم کرے گا۔حالیہ ہفتوں میں لانچ سے قبل ہونے والی ویٹ ڈریس ریہرسل یعنی لانچ کی مکمل مشق کے دوران مجموعی پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیا گیا تھا۔ اس عمل میں راکٹ کو حقیقی لانچ کی طرح ایندھن سے بھرا جاتا ہے اور ہر چیز کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ تاہم اس سے قبل ہونے والے ٹیسٹوں میں مائع ہائیڈروجن کے اخراج، سیلز کی تبدیلی اور لانچ کنٹرول سینٹر کے ساتھ عارضی مواصلاتی خلل جیسے مسائل بھی سامنے آئے تھے۔ ناسا کے مطابق ان مسائل کو انجینئرنگ اصلاحات کے ذریعے بڑی حد تک حل کر لیا گیا مگر ہیلیم سے متعلق حالیہ مسئلہ مزید تجزیے کا تقاضا کرتا ہے۔آرٹیمس دوم مشن میں جدید اورائن خلائی جہاز اور سپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ استعمال کیا جا رہا ہے جو اب تک تیار کیے گئے طاقتور ترین راکٹس میں شمار ہوتا ہے۔ یہ راکٹ گہرے خلا کے مشنز کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے اور مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے منصوبوں میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ اس مشن کے ذریعے نہ صرف خلا نوردوں کے لیے گہرے خلا کے سفر کے عملی تجربات حاصل ہوں گے بلکہ طویل المدتی خلائی رہائش اور بین الاقوامی خلائی تعاون کی راہ بھی ہموار ہو گی۔مزید برآں، آرٹیمس پروگرام کا ایک طویل المدتی مقصد چاند پر پائیدار انسانی موجودگی قائم کرنا اور وہاں تحقیقی انفراسٹرکچر کی بنیاد رکھنا ہے۔ اس کے ذریعے مستقبل میں مریخ سمیت دیگر خلائی مشنز کی تیاری میں مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق چاند کو ایک ٹیسٹنگ گراؤنڈکے طور پر استعمال کیا جائے گا جہاں نئی ٹیکنالوجی، توانائی کے نظام اور انسانی بقا سے متعلق تجربات کیے جائیں گے۔ناسا اس وقت آرٹیمس اول کے ڈیٹا سمیت تمام سابقہ ٹیسٹ ریکارڈز کا تقابلی جائزہ لے رہا ہے تاکہ ہیلیم کے مسئلے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
اجزاء: میدہ ایک کلو، گھی آدھا کلو، قیمہ ایک کلو،مرچ سیاہ، نمک، پیاز،لہسن حسب ضرورت۔ترکیب:میدہ میں گھی ملا کر خوب ملیے اور دودھ سے گوندھئے۔ ایک کلو قیمہ کو دو پیازہ کی طرح پکایئے۔ تیاری کے بعد مصالحہ سادہ تیار کر کے میدہ کی پوریاں بنا کر دوپارہ کر لیجیے اورآدھی پوری میں بھرکر ہر ایک پوری کے دو سموسے بنا لیجیے۔ اگر میوہ ڈالنا ہو تو قیمہ کی بجائے کشمش ثابت اخروٹ، پستہ اور بادام کو کوٹ کر کے بھر دیجیے۔پائن ایپل سن شائناجزاء : انناس کے ٹکڑے ایک پیالی، کینو کا رس دو پیالی، برائون شوگر تین کھانے کے چمچ، کُٹی ہوئی برف حسب پسند۔ترکیب: بلینڈر میں انناس کے ٹکڑے اور ایک پیالی پانی ڈال کر بلینڈ کریں، جب انناس پانی کے ساتھ یکجان ہو جائے تو اس میں برائون شوگر، کینو کا رس اور کٹی ہوئی برف ڈال کر بلینڈ کر لیں۔
٭... 1900ء میں دہلی میں پیدا ہوئیں، اصل نام امت الرّحمن خاتون تھا۔٭...اس دور کے رواج کے مطابق ان کی تعلیم و تربیت گھر پر مکمل ہوئی۔ وہ ابتدائی عمر ہی سے لکھنے پڑھنے کا شوق رکھتی تھیں۔ ٭... اے آر خاتون نے اپنے شوق اور ادب میں دلچسپی کو مضمون نگاری کی شکل میں دوسروں کے سامنے رکھا اور حوصلہ افزائی نے انھیں باقاعدہ لکھنے پر آمادہ کیا۔٭...1929ء میں ان کا پہلا ناول ''شمع ‘‘منظرِ عام پر آیاجو برصغیر کے مسلمانوں کی تہذیب اور اقدار کے پس منظر میں تحریر کیا گیا تھا۔ ٭...ان کے کئی ناول اردو ادب میں کلاسیکی حیثیت رکھتے ہیں، جن میں افشاں،ہالہ،تصویر،شمع،چشمہ،رْمانہ،فرحانہ،زیور،عصمہ،شمع اور پروانہ،دل کی دنیا،محبت ایک خواب،پیار کا پیکر قابل ذکر ہیں۔ ٭...ان کے ناولوں کی سب سے بڑی خوبی ان کا سادہ مگر دلکش اسلوب ہے، جو قاری کو ابتدا سے لے کر اختتام تک جکڑے رکھتا ہے۔٭... انہوں نے اپنی کہانیوں میں مشرقی تہذیب اور معاشرتی اقدار کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔٭...انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے اردو ادب میں منفرد پہچان بنائی۔٭...اے آر خاتون کا ناول ''افشاں‘‘ 1970ء کے اواخر میں پاکستان ٹیلی ویژن پر پیش کیا گیا تھا جو اپنے وقت کا مقبول ترین ڈرامہ ثابت ہوا۔٭...قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آ گئی تھیں اور یہاں بھی تصنیف کا سلسلہ جاری رکھا۔ ٭...24 فروری 1965ء کو ان کا لاہور میں انتقال ہوا۔
جنگ ِ کرنال1739ء میں ہونے والی جنگِ کرنال میں 24فروری کو ایران کے طاقتور حکمران نادر شاہ نے مغل بادشاہ محمد شاہ کو شکست دی۔ یہ جنگ موجودہ بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر کرنال کے قریب لڑی گئی۔ مغل فوج تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود ناقص حکمت عملی کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ اس شکست کے نتیجے میں نادر شاہ نے دہلی پر قبضہ کیا اور بے پناہ دولت لوٹ کر ایران لے گیا۔بغداد پیکٹ1955ء میں آج کے دن ''بغداد پیکٹ‘‘ کا قیام ہوا، جس میں ترکی، عراق، پاکستان اور ایران شامل تھے۔ کچھ عرصے بعد اس کا نام بدل کر ''سینٹو‘‘ کر دیا گیا۔ بعد میں ریاستہائے متحدہ امریکا اور عراق بھی اس میں شامل ہو گئے۔ جولائی 1958ء میں عراق میں انقلاب آیا اور نئی حکومت نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس طرح اس کے مرکزی دفاتر بھی بغداد سے انقرہ منتقل ہو گئے۔ چودہ سال فعال رہنے کے بعد یہ تنظیم 16 فروری 1979ء کو معدوم ہو گئی۔ اس کا مقصد وسطی ایشیا میں اشتمالیت کے فروغ کو روکنا تھا۔مصری وزیر اعظم کا قتل24فروری 1945ء کو مصر کے وزیراعظم احمد ماہر پاشا کو پارلیمنٹ میں سرکاری فرمان پڑھنے کے فوراً بعد گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ دوسری جنگ عظیم کے تناظر میں اہم سیاسی اعلان کر رہے تھے۔ حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ احمد ماہر پاشا کا قتل مصر کی سیاست میں ایک بڑا سانحہ سمجھا جاتا ہے۔