نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:اسٹاک ایکس چینج میں 540 پوائنٹس اضافہ
  • بریکنگ :- کراچی:100 انڈیکس 43 ہزار 821 پوائنٹس کی سطح پرپہنچ گیا
  • بریکنگ :- کراچی:اسٹاک ایکس چینج میں 540 پوائنٹس اضافہ
  • بریکنگ :- کراچی:100 انڈیکس 43 ہزار 821 پوائنٹس کی سطح پرپہنچ گیا
Coronavirus Updates
سول ایوی ایشن کا عالمی دن۔۔۔اورجنید جمشید کی جدائی کاغم

سول ایوی ایشن کا عالمی دن۔۔۔اورجنید جمشید کی جدائی کاغم

آج7دسمبر ہے، اس روز پاکستان سمیت دنیا بھر میں''انٹرنیشنل سول ایوی ایشن ڈے‘‘( شہری ہوا بازی کا عالمی دن) منایا جا تا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد مسافروں کو محفوظ ترین سفری سہولیات فراہم کرنا، ہوا بازی کے اہم شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا،انٹرنیشنل سول ایوی ایشن کی اہمیت کے متعلق شعور بیدار کرنا اور بین الاقوامی فضائی ٹرانسپورٹ کیلئے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔''سول ایوی ایشن ‘‘رن وے پرجہاز کے ٹیک آف سے لینڈنگ تک کلیدی کردار کا حامل ہے۔ ہزاروں فٹ کی بلندی پراڑنے والے جہاز پر ریڈار اور دیگر جدید آلات کی مدد سے نگاہ رکھتا ہے۔اسی تناظر میں انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن 1944ء میں قائم ہوئی،جس نے اپنے قیام کے 52 سال بعد اقوام متحد ہ کی جنرل اسمبلی کی منظوری سے انٹرنیشنل ایوی ایشن ڈے منانے کا آغاز کیا۔7دسمبر کو جب دنیا میں سول ایوی ایشن کا دن منایا جا رہا ہوتا ہے وہیں پاکستان میں بہت سے خاندانوں کے زخم ہرے ہو جاتے ہیں،جن کے پیارے 2016ء میںآج ہی کے دن ہونے والے ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ پی آئی کی چترال سے اسلام آباد جانے والی پرواز حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگئی تھی جس میں تمام عملہ اور مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔ حادثے کا شکار ہونے والے پی آئی اے کے اس طیارے میں پاکستان کے معروف نعت خواں اور ماضی کے مقبول گلوکار جنید جمشید بھی سوار تھے۔ جنید جمشید اپنی اہلیہ کے ہمراہ چترال میں تبلیغی دورے کے بعد اسلام آباد جا رہے تھے۔جنید جمشید ایک ہمہ جہت شخصیت تھے، وہ معروف سماجی شخصیت، سابق گلوکار، نعت خواں ،مبلغ ، ٹی وی ہوسٹ کے ساتھ ایک کامیاب بزنس مین بھی تھے۔وہ 3 ستمبر 1969ء کو کراچی میں پیدا ہوئے،ان کے خاندان کا تعلق پاکستان ائیر فورس سے رہا ہے جس کی بناء پر اہلِ خانہ کی کوشش تھی کہ جنید جمشید بھی فوجی بنیں۔وہ فوجی تو نہ بن سکے مگر لاہور کی یو ای ٹی سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کچھ عرصہ پاک فضائیہ میں سول کنٹریکٹر کی حیثیت سے کام ضرور کیا ۔ موسیقی کوکرئیر بنانے کیلئے انہوں نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیااور ملی نغمہ''دل دل پاکستان‘‘گا کر عالمی شہرت حاصل کی۔ ان کے گروپ ''وائٹل سائنز‘‘ کو بھی اسی ملی نغمے سے پہچان ملی۔2002ء میں اپنی چوتھی اور آخری پاپ البم کے بعد اسلامی تعلیمات کی جانب ان کا رجحان بڑھنے لگا اور ماضی کے پاپ اسٹار ایک نعت خواں کے طور پر ابھرتے نظر آئے۔ 2004ء میں جنید جمشید نے گلوکاری چھوڑنے اور اپنی زندگی تبلیغی کاموں کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے نعت خوانی شروع کی تو اس میں بھی نام کمایا۔ چترال میں جہاں وہ تبلیغ دین کے لئے گئے تھے ان کا قیام ایک مسجد میں تھا ان کے ایک دوست کے مطابق جنید جمشید نے وہاں شرکاء کو قصیدہ بردہ شریف خوش الحانی کے ساتھ سنایا۔ وہ اکثر ٹی وی چینلوں پر نعت، حمد اور مناجات پیش کرتے تھے۔ان کی مقبول نعتوں میں ''میرا دل بدل دے‘‘،''محمد کا روضہ قریب آ رہا ہے‘‘،''دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے‘‘ نمایاں ہیں۔بطور نعت خواں، مبلغ کامیابیاں سمیٹنے والے جنید جمشید نے اپنا کلاتھنگ برانڈ متعارف کرا کربزنس کے میدان میں قدم رکھا تو یہاں بھی کامیابیوں نے ان کے قدم چومے۔وہ ماہ رمضان کی خصوصی نشریات اور پروگراموں میں بطور میزبان کے طور بھی نمایاں رہے۔ وہ فلاحی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے، کراچی میں کچرا اٹھانے کی مہم کی بھی قیادت کی۔2007ء میں جنید جمشید کو ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت کی طرف سے ''تمغہ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔داڑھی رکھ کر اسلام کی تبلیغ شروع کرنے کے باعث عوام نے انہیں مبلغِ اسلام کہنا اور سمجھنا بھی شروع کردیا تھا۔ مبلغِ اسلام جنید جمشید 7 دسمبر 2016ء کو پی آئی اے کی فلائٹ نمبر 661 کے ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ آج معروف گلوکار اور مبلغِ اسلام کی برسی کے موقع پر لوگ جنید جمشید کے ساتھ ساتھ اس افسوسناک حادثے کو بھی ضرور یاد کریں گے۔ایک گلوکار سے ایک مبلغ تک کا سفر طے کرنے والے جنید جمشید کو پاکستان میں وہ شہرت نصیب ہوئی جو دنیا میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جس کی وجہ ان کی ذاتی محنت و صلاحیت کے ساتھ ساتھ اسلام کیلئے محبت بھی تھی۔میں نے اپنی زندگی میں دو شخصیات کے سوا ایسا کوئی ایک بندہ نہیں دیکھا، جنہوں نے اپنا شعبہ چھوڑ کر کوئی دوسرا شعبہ اختیار کیا ہو اور لوگوں نے پھر بھی انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا ہو۔ ان میں سے ایک جنید جمشید ہیں اور دوسرے عمران خان ہیں۔ پاکستان کی تاریخ نکال کر دیکھ لیں جس گلوکار یا اداکار نے اپنا شعبہ چھوڑ کر کچھ اور کرنا چاہا، وہ رات کی سیاہی میں کھو گیا۔ بات اگر صرف جنید جمشید کی ہی کی جائے تو ایسی بھی کوئی مثال نہیں ملتی، جس شخصیت کی وفات پر شوبز کی دنیا پر بھی سکتہ چھاگیا تھا اور مذہبی حلقے سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگ بھی آنسو بہا رہے تھے۔ارشد لئیق سینئر صحافی ہیں، ملک کے موقر جریدوں میں ان کے سیکڑوں مضامین شائع ہو چکے ہیں

تھیلیسیمیا کے مریض کیا کھائیں؟

تھیلیسیمیا کے مریض کیا کھائیں؟

تھیلیسیمیاایک موروثی بیماری ہے، جو اکثر ان بچوں میں سامنے آتی ہے، جن کے والدین میں تھیلیسیمیاکوریئر جینزہوتے ہیں۔ یہ مرض زیادہ تر خاندان میں شادی کرنے والے افراد میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ تھیلیسیمیاخون کی بیماری ہے اس میں مریض کا خون نہیں بنتا ہے اور اس کو ساری زندگی خون لگوانا پڑتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ہر سال 5لاکھ سے زائد تھیلیسیمیاکے مریض سامنے آتے ہیں۔تھیلیسیمیاکے مریض کیلئے غذا نہایت اہمیت کی حامل ہے لیکن مریضوں کے لواحقین کی اکثریت کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ مریض کا کیا کھلایا جائے۔تھیلیسیمیاکے مریض کا پرہیزفولاد والی غذائیں:مریضوں کو فولاد والی غذائوں سے پرہیز کرنا چاہئے ،انہیں کلیجی ، چھوٹا گوشت اور بڑا گوشت نہیں دینا چاہئے۔ان میں فولاد کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے جو تھیلیسیمیاکے مریضوں کیلئے نقصان دہ ہے۔ کیونکہ ان مریضوں کے جسم میں فولاد کثیر تعداد میں موجود ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے ان کو Chelation Therapyکروانی پڑتی ہے جس کے ذریعہ سے ان کے جسم سے فولاد کو کم کیا جاتا ہے۔مکس دالیں:اگر دو یا تین دالوں کو مکس کرکے پکایا جائے تو تقریباً یہ ہمیں اتنا ہی فولاد فراہم کرتی ہیں جتنا گوشت سے حاصل ہوتا ہے اس لئے مکس دالوں کے بجائے علیحدہ پکی ہوئی دال بنا کر تھیلیسیمیاکے مریض کو دی جا سکتی ہے۔سبز پتوں والی سبزیاں:سبز پتوں والی سبزیاں پالک، ساگ، میتھی، مولی کے پتے وغیرہ ان میں بھی فولاد کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ لہٰذا ان سبزیوں سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔کھجور اور انجیر:کھجور اور انجیر بھی تھیلیسیمیاکے مریضوں کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ اس میں بھی فولاد کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔تھیلیسیمیاکے مریض کی غذاتھیلیسیمیاکے مریض مندرجہ ذیل غذائوں کو اپنی خوراک میں شامل کریں۔ دودھ اور دہی یا ان سے بننے والی اشیاء کا روزانہ استعمال کریں۔ تھیلیسیمیاکے مریضوں میں خون نہ بننے کی وجہ سے ہڈیوں میں درد اور قد کا عمر کے حساب سے نہ بڑھنا بہت عام مسئلہ ہے۔ اگر کیلیشم والی غذائوں کا استعمال کیا جائے تو اس عنصر کو کم کیا جا سکتا ہے۔پھل ہر قسم کے استعمال کئے جا سکتے ہیں مگر اس چیز کا خیال رکھا جائے اگر اس دن مریض نے گوشت، دال، سبز پتوں والی سبزی استعمال کی ہے تو پھر اس میں ترش پھل نہ دیئے جائیں کیونکہ یہ فولاد کو جسم میں جذب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ تھیلیسیمیاکے مریض کیلئے نقصان دہ ہے۔چائے کا استعمال: گوشت، دالیں، سبز پتوں والی سبزیاں اگر کبھی استعمال کریں تو ان کی مقدار بہت کم لیں اور ان کے ساتھ چائے لازمی پئیں۔ اس سے ان میں موجود فولاد جسم میں جذب نہیں ہوتا اور تھیلیسیمیاکے مریض کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔چکن اور مچھلی:چکن و مچھلی کا استعمال تھوڑی مقدار میں کیا جا سکتا ہے اور ان مریضوں کو چاہئے کہ کلیجی، چھوٹے گوشت، بڑے گوشت کے بجائے مچھلی اور چکن کو استعمال کریں۔چکی کا آٹا: چکی کے آٹا کا استعمال کریں، اس میں مختلف منرلزپائے جاتے ہیں جو صحت کو ٹھیک رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں فائبر بہت اچھی مقدار میں پایا جاتا ہے جو معدہ کو ٹھیک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔غلط تصور: ہمارے ہاں یہ تصور بہت عام پایا جاتا ہے کہ سیب، کیلا اور بینگن میں فولاد کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے کیونکہ یہ کاٹنے پر برائون رنگ میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ یہ خیال بالکل غلط ہے ان میں فولاد کی مقدار نہیں ہوتی بلکہ یہ برائون رنگ انزائمزکے ریکشن کے نتیجے میں ہوتا ہے۔تھیلیسیمیااور جسمانی سرگرمیاں:زیادہ تھکا دینے والی جسمانی سرگرمیوں سے پرہیز کریں اور تھیلیسیمیامیں مبتلا بچوں کو چاہئے کہ وہ زیادہ کھیل کود میں حصہ نہ لیں کیونکہ ان کا ایچ بی لیول بہت کم ہوتا ہے جس کی وجہ سے سانس پھولنا شروع ہو جاتا ہے۔سیدہ افزاح تنویر ماہر غذائیات(نیوٹریشنسٹ) ہیں،وہ تھیلیسیمیاکے مریضوں کے لئے ورکشاپس کابھی انعقاد کرتی رہتی ہیں

حکائیت ِ سعدیؒ،   طاقت اور تجربہ

حکائیت ِ سعدیؒ، طاقت اور تجربہ

ایک مرتبہ میں بلخ سے بامیان کی طرف جا رہا تھا۔ راستہ خطرناک تھا اور میری رہنمائی کیلئے ایک نوجوان میرے ساتھ ہو لیا۔ جو نیزہ بردار ہتھیار پوش ہونے کے ساتھ اتنا طاقتور تھا کہ دس قوی افراد بھی اس کی کمان پر چلہ نہ چڑھا سکتے تھے اور دنیا بھر کے پہلوان کشتی میں اس کو نہ پچھاڑ سکتے تھے۔چونکہ ناز و نعمت میں پلا ہوا تھا، کبھی آگ برساتے سورج کی تپش سے واسطہ پڑا تھا نہ کبھی اندھیری راتوں کا بھیانک چہرہ دیکھا تھا، نہ بہاروں کے نقارے کی آواز کان میں پڑی تھی اور نہ سواروں کی تلواروں کی چمک اس نے دیکھی تھی۔ نہ کبھی دشمن کے ہاتھوں قیدی بنا تھااور نہ ہی اس کے چاروں طرف تیروں کی بارش ہوئی تھی۔ راستے میں ہم آگے پیچھے دوڑ رہے تھے میں نے دیکھا کہ جو بوسیدہ دیوار راہ میں آتی اس کو گرادیتااور بڑے سے بڑے درخت جڑ سے اُکھاڑ پھینکتا اور فخر سے یہ شعر پڑھتا ''ہاتھی کہاں ہے آکر پہلوان کے بازو اور کندھے دیکھے اور شیر کہاں ہے آکر مرد کے ہاتھ اور پنجے دیکھے‘‘۔اسی اثنا میں دو ڈاکو ایک بڑے پتھر کے پیچھے سے نمودار ہوئے اور ہم سے جنگ کرنے کی ٹھان لی۔ ایک کے ہاتھ میں لاٹھی تھی جب کہ دوسرے کے پاس موگری پتھر ۔میں نے پہلوان صاحب سے کہا دیکھتے کیا ہو؟ دشمن سر پر آ گیا ہے اور لڑنے پر آمادہ ہے۔جو بہادری اور طاقت تیرے پاس ہے وہ دکھا کیونکہ دشمن اپنے پائوں سے چل کر گویا شیر کی کچھار میں آ گیا ہے۔میں نے دیکھا کہ پہلوان صاحب کے چھکے چھوٹ گئے۔ ہاتھ سے تیر کمان گر گیا اور جسم لرزہ براندام تھا۔ضروری نہیں کہ تیر کے نشانے سے بال کو چیر دینے والا حملے کے وقت بھی ٹھہر سکے۔میں نے اندازہ لگا لیا کہ پہلوان کے اوسان خطا ہو چکے ہیں، اب عافیت اسی میں ہے کہ جان کی خیر منائی جائے۔کام بڑا ہو تو کسی تجربے کار کو بھیج ، جوبپھرے ہوئے شیر کو بھی کمند کے حلقے میں پھنسا لے۔ جوان اگر موٹی گردن اور ہاتھ کے جسم والا ہی کیوں نہ ہو، جب دشمن سامنے آئے گا تو اس کے جوڑ ہلنے لگیں گے۔ لڑائی تجربہ کار ہی لڑ سکتا ہے، جیسے شرعی مسئلہ عالم ہی بتا سکتا ہے۔ظاہری طور پر بڑے مضبوط اور پہلوان قسم کے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی ان کے مقابلے میں آ جائے اور لڑنے مرنے پر تیار ہو جائے تو ایسے کھسکتے ہیں جیسے گیڈر کے ساتھ کوئی رشتہ داری ہو اور اس بزدلی کو صبر اور بردباری کا نام دیتے ہیں۔ حالانکہ جہاں بس چلتا ہو وہاں اتنے بڑے ظالم بن جاتے ہیں کہ فرعون و یزید بھی کانپ جاتے ہوں گے۔

موہٹہ پیلس سے قصر فاطمہ تک

موہٹہ پیلس سے قصر فاطمہ تک

قیام پاکستان سے بہت سال پہلے کی بات ہے کلکتہ کے رائے بہادر شیو رتن داس موہٹہ نامی ایک نامور کاروباری شخصیت نے کلکتہ سے کراچی اپنے کاروبار کو منتقل کرنے کا ارادہ کیا کیونکہ ان دنوں کراچی کے کاروباری حالات کلکتہ سے زیادہ بہتر تھے۔ شیو رتن موہٹہ اپنے دور کے انتہائی مالدار اور اچھی کاروباری شہرت کے حامل شخص تھے جن کا بنیادی طور پر جہازرانی اور جہاز سازی کے ساتھ ساتھ شوگر اور سٹیل کا کاروبار تھا۔ یہاں اس خاندان کا کاروبار خوب چمکا اور تھوڑے ہی عرصے میں یہ خاندان کراچی کے امیر ترین لوگوں میں شمار کیا جانے لگا۔پیرزادہ سلمان اپنی کتاب '' لیگیسیز آف ایمپائرز ‘‘میں لکھتے ہیں کہ ایک دن اچانک رائے بہادر کو یہ اطلاع ملی کہ ان کی بیوی ایک جان لیوا مرض میں مبتلاہیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں فی الفور اپنی بیوی کے ساتھ ہوادار مقام منتقل ہونے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ملک کے نامور ماہر تعمیرات کے مشورے کے بعدساحل سمندر پرایک عالی شان بنگلہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ رائے بہادر نے ماہر تعمیرات آغا احمد حسین سے رابطہ کر کے انہیں اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔ 1927ء میں بنگلے کی تعمیر کا آغاز کیا گیا جو 1933ء میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔ 18500مربع فٹ قطعہ زمین پر محیط یہ محل نما بنگلہ فن تعمیر کا ایسا شاہکار تھا جس میں مغل فن تعمیر کی جھلک نظر آتی تھی۔ اس کی خاص بات اس کے منفرد گنبد ،مینار اور مغلیہ طرز تعمیر کی محرابیں تھیں۔ اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا گلابی پتھر جودھ پور اور پیلا پتھر گزری سے منگوایا گیا تھا۔ اس عمارت کے چاروں اطراف خوبصورت باغیچے اور جا بجا لگے فوارے ماحول کے حسن میں اپنا حصہ ڈالتے نظر آتے تھے ۔ آغا احمد حسین نے اس عمارت کو جمالیاتی حسن اور تہذیب و تمدن کا ایک ایسا نادر نمونہ بنا دیا جو آج عدم توجہی کے باوجود بھی دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔اس سے پہلے کہ اس عمارت کے مالک اس کا کوئی نام تجویزکرتے، اہل کراچی نے اسے '' موہٹہ پیلس ‘‘کہہ کر پکارنا شروع کر دیا۔ موہٹہ پیلس کو پہلی نظر دیکھنے سے ذہن میں یہ تاثر ابھرتا ہے جیسے مغلیہ دور کی کوئی عمارت ہو۔اب یہ سمندر کی ٹھنڈی ہواؤں کا کمال تھا، رائے بہادر کی شریک حیات کو نئی زندگی مل گئی۔قیام پاکستان اور موہٹہ پیلس:قیام پاکستان کے ساتھ ہی کراچی پاکستان کا دارالخلافہ ٹھہرا۔ شروع میں سرکاری دفاتر کیلئے عمارتوں کا فقدان پیش آیا توفیصلہ ہوا کہ جن کے پاس ایک سے زائد مکان ہے ان کا ایک مکان حکومت کی تحویل میں چلا جائے گا۔ اسی دوران سرکار کے کچھ لوگوں نے موہٹہ پیلس کو وزارت خارجہ کے دفتر کیلئے موزوں سمجھتے ہوئے موہٹہ فیملی سے جب اس خواہش کا اظہار کیا تو شیورتن داس نے نہ چاہتے ہوئے اس مکان کا قبضہ سرکار کے سپرد کر دیا۔ کہتے ہیں شیورتن داس اپنے سپنوں کا محل سرکار کے حوالے کر کے اس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ واپس پڑوسی ملک سدھار گئے۔1948ء میں جب دارالخلافہ راولپنڈی منتقل ہوا تو موہٹہ پیلس محترمہ فاطمہ جناح کو اپنی بمبئی والی رہائش گاہ کے بدلے الاٹ کر دیا گیا۔ جسے حکومتی سطح پر'' قصر فاطمہ ‘‘کا نام دے دیا گیا۔ فاطمہ جناح کو بھی یہ گھر بہت پسند تھا۔یہی وہ عمارت تھی جہاں سے محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن کی مہم چلائی تھی۔ فاطمہ جناح کی وفات کے بعد ان کی بہن شیریں جناح اس گھر میں منتقل ہو گئیں۔ اپنی زندگی میں ہی انہوں نے ''شیریں جناح چیریٹیبل ٹرسٹ‘‘قائم کر کے قصر فاطمہ سمیت اپنی تمام جائیداد اس ٹرسٹ کے نام منتقل کر دی۔ انہوں نے یہ وصیت بھی کی کہ فاطمہ جناح کی خواہش کے مطابق اس عمارت میں لڑکیوں کیلئے ایک ڈینٹل میڈیکل کالج اورایک ہسپتال قائم کیا جائے ۔قصر فاطمہ تنازعات کی زد میں:محترمہ فاطمہ جناح کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ''قصر فاطمہ ‘‘کی ملکیت کا تنازع اس وقت کھڑا ہوگیا جب فاطمہ جناح کے ایک رشتے دار حسین جی والجی نے یہ دعویٰ دائر کیا کہ وہ محترمہ فاطمہ جناح اور محمد علی جناح کے چچا والجی پونجا کے پوتے ہیں اور وہ فاطمہ جناح کی چھوڑی ہوئی نصف جائیداد کے حقیقی قانونی وارث ہیں۔ اس لئے اس عمارت کا انتظام اور قبضہ انہیں دیا جائے۔ جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے 1971ء میں ہی اس عمارت کو سیل کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔23 دسمبر 1976ء کو سندھ ہائی کورٹ نے حسین جی والجی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے قصر فاطمہ شیریں جناح کے حوالے کر دیا تھا۔1995ء میں جب بے نظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھیں تو سندھ حکومت نے اس عمارت کے حصول کے لئے عدالت عالیہ سے رجوع کیا۔ جسے بعد ازاں میوزیم میں تبدیل کر نے کیلئے محکمہ ثقافت حکومت سندھ کی تحویل میں دے دیا گیا۔محترمہ فاطمہ جناح کی وصیت: اس عمارت کی ملکیت کے قدیم دعویداروں کی جانب سے دائر اس کیس میں یہ موقف اختیار کیا کہ فاطمہ جناح کی وصیت کے مطابق یہاں ڈینٹل کالج بننا چاہئے تھا جسے نظر اندازکرکے سندھ حکومت نے یہاں ایک میوزیم اور کلچرل سنٹر بناڈالا ہے جہاں اکثر ناچ گانے کی محفلیں سجتی رہتی ہیں جس سے اس عمارت کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ رواں سال اکتوبر میں عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں اس عمارت کو میڈیکل ڈینٹل کالج بنانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ محترمہ فاطمہ جناح کے خوابوں کی تعبیر بن پائے گا؟خاورنیازی سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں

یاد رفتگان ، عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں ، عزیز میاں : فن قوالی کا بڑا نام

یاد رفتگان ، عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں ، عزیز میاں : فن قوالی کا بڑا نام

فن قوالی کا ایک بڑا نام عزیز میاںکا بھی ہے، جسے کسی تعارف کی ضرورت نہیںبلکہ ان کا فن ہی ان کی شناخت ہے۔ عزیز میاں قوال نے اپنے زمانے میں جو کلام پڑھاوہ آج بھی اسی طرح مقبول ہے۔ عزیز میاں نے قوالی کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت بننے والے اس عظیم قوال کی آج 21ویں برسی منائی جا رہی ہے۔آج بھی جب بات قوالی کی ہو تو عزیزمیاں قوال کو ضرور یاد کیا جاتا ہے،ان کی بارعب آواز ہی نہیں بلکہ شاندار شاعری اور قلندری جنون سننے والوں پر وجد طاری کر دیتا ہے۔قوالی کی دنیا میں شہنشاہ قوال عزیز میاں کا کوئی ثانی نہیں،''اللہ ہی جانے کون بشر ہے‘‘،'' تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے‘‘ جیسی درجنوں قوالیوں کی بدولت شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے اس عظیم قوال کو اپنے منفرد انداز گائیکی کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ عشق مصطفیٰ ؐسے سرشار ان کی قوالیاں سننے والوں کے دلوں کو سرور بخشتی ہیں۔عالمی شہرت یافتہ پاکستانی قوال عزیز میاں 17 اپریل 1942ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام عبدالعزیز تھا اور ''میاں‘‘ ان کا تکیہ کلام تھا،وہ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کیا کرتے تھے جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا اور عزیز میاں قوال کے نام سے مشہور ہوئے۔ وہ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے فارسی، اردو اور عربی میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں اور قوالی کے شعبے کا چناؤ کیا۔ اپنے ابتدائی دور میں انہیں'' فوجی قوال‘‘ کا لقب ملا کیونکہ ان کی شروع کی بیشتر قوالیاں فوجی بیرکوں میں فوجی جوانوں کے لئے تھیں۔ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی اور وہ نہ صرف عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے۔ عزیز میاں اپنے لئے شاعری خود کیا کرتے جبکہ علامہ محمد اقبالؒ اور قتیل شفائی کا کلام بھی بارہا گایا۔عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں خاص مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔ عزیز میاں کی قوالیوں میں زیادہ توجہ کورس گائیکی پر دی جاتی تھی جس کا مقصد قوالی کے بنیادی نکتہ پر زور دینا تھا۔عزیز میاں کو اپنی قوالیوں میں دینی اور صوفی مسائل پر بحث کرنے میں مہارت حاصل تھی۔ وہ براہ راست خدا سے ہم کلام ہوتے اور اشرف المخلوقات کی قابل رحم حالت کی شکایت کرتے۔ خدا سے ہم کلام ہونے والی قوالیوں میں وہ زیادہ تر علامہ اقبالؒ کی شاعری استعمال کرتے۔ مثلا عزیز میاں کے مندرجہ ذیل پسندیدہ اشعار پڑھیے:باغِ بہشت سے مجھے اذنِ سفر دیا تھا کیوںکارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کرمجھے تو اس جہاں میں بس اک تجھی سے عشق ہےیا میرا امتحان لے یا میرا اعتبار کرعزیز میاں قوال اور ان کے ہم عصر قوال صابری برادران کے درمیان قوالیوں کی ذریعے ایک دوسرے پر گولہ باری بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔صابری برادران نے عزیز میاں کی قوالی ''میں شرابی میں شرابی‘‘کو اپنی ایک قوالی''پینا وینا چھوڑ شرابی‘‘ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ عزیز میاں نے اس کا ترکی بہ ترکی جواب اپنی ایک اور قوالی ''ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں‘‘ میں دیا۔ عزیز کے صابری برادران کو جواب کے بعد سے''میں شرابی میں شرابی‘‘ اور''ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں‘‘ کو ایک ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔انہیں طویل ترین قوالی کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے، ان کی قوالی '' حشر کے روز یہ پوچھوں گا‘‘ کا دورانیہ ایک گھنٹہ 55 منٹ ہے۔ان کی بیشتر قوالیاں دینی رنگ لئے ہوئے تھیں گو کہ انہوں نے رومانی رنگ میں بھی پذیرائی حاصل کی ۔ 1966ء میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے یادگار پرفارمنس پر انعام واکرام اور گولڈ میڈل سے نوازا گیا جبکہ حکومت پاکستان نے 1989ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ عزیز میاں کا انتقال6 دسمبر 2000 ء کو ایران کے دارالحکومت تہران میں یرقان کے باعث ہوا۔جہاں انہیں حضرت علی ؓ کے یوم شہادت پر قوالی کرنے کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔عزیزمیاں نے بھارتی شہر دہلی میں آنکھ کھولی، لاہور میں زندگی گزاری، ایرانی شہر تہران میں جان جان آفریں کے سپرد کی اور وصیت کے مطابق انہیں اولیا کے شہر ملتان میں سپردخاک کیا گیا۔ارشد لئیق سینئر صحافی ہیں، ملک کے موقر جریدوں میں ان کے سیکڑوں مضامین شائع ہو چکے ہیں 

نپولین کمپلیکس، پست قامت لوگوں کا نفسیاتی عارضہ

نپولین کمپلیکس، پست قامت لوگوں کا نفسیاتی عارضہ

1993ء میں صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے نوازشریف کی حکومت برطرف کر دی تو وہ اس اقدام کے خلاف سپریم کورٹ چلے گئے ۔چیف جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں بنچ نے صدر کے اس اقدام کوغلط قرار دیتے ہوئے نواز شریف حکومت اور اسمبلی کو بحال کر دیا توایک تجزیہ نگارنے اپنے تجزیے میںلکھا کہ اس فیصلے کے پس پردہ دیگر عوامل کے علاوہ ''نپولین کمپلیکس‘‘ بھی کار فرما ہے تو بات سر کے اوپر سے گزر گئی کہ یہ'' نپولین کمپلیکس ‘‘کیا بلاہے ؟کتابوں کی ورق گردانی کی تو پتہ چلاکہ نفسیات کی رو سے چھوٹے قد کا انسان دراز قد لوگوں کے سامنے ایک لاشعوری احساس کمتری میں مبتلا رہتا ہے۔ دراز قامت ہونا ایک اضافی عنایت ہے جوانسانی شخصیت کی دلکشی میں اضافہ کرتی ہے ۔ جب کسی پست قامت شخص کو دراز قد انسان سے مخاطب ہونے کیلئے اپنی ایڑیاں اور گردن اوپر اٹھا کر دیکھنا پڑتاہے تویہی مجبوری اس میں احساس کمتری کو جنم دیتی ہے ۔چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کا قد 4فٹ 8انچ تھا۔ تجزیہ نگار کے خیال میں ان سے پہلے یا بعد میںکوئی دراز قدجج برطرف حکومت کو بحال کرنے کا فیصلہ نہیں دے سکے تھے۔ اس لیے پست قامت جسٹس نسیم حسن شا ہ کے لاشعور میں ہوگا کہ اگر انہوں نے صدر کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے حکومت اور قومی اسمبلی بحال کر دی تو انہیں تاریخ میں وہ مقام ملے گا جوکوئی دراز قامت جج حاصل نہیں کرسکا ۔اس احساس کمتری کو نپولین کمپلیکس کیوں کہتے ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ فرانس کے حکمران نپولین بونا پارٹ کا قد صرف 5 فٹ 2انچ تھااسی لیے انہیں ''لٹل کارپورل‘‘ کہا جاتا تھا۔ اپنی پست قامتی کی وجہ سے وہ شدید احساس کمتری میں رہتا تھا۔اس پر قابو پانے کیلئے وہ اپنے ساتھ ساڑھے چھ فٹ لمبے باڈی گارڈ رکھتا تھا ۔نپولین کی شہرت اور اس نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے نفسیات کی اصطلاح میں اسے نپولین کمپلیکس یا سنڈروم کہا جاتا ہے۔نپولین کا یہ قول کہ ''میری ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ ہی نہیں ہے‘‘بھی دراصل دراز قد حکمرانوں اور جرنیلوں کے منہ پر پست قامت نپولین کاایک نفسیاتی طمانچہ ہے۔ جب اس نے فرانس پر قبضہ کیا تومسیحی روایت کے مطابق پوپ کے ہاتھوںاس کی تاجپوشی کی تقریب منعقد ہوئی مگر نپولین نے پوپ کے بجائے تاج اپنے سر پر خودسجا یا اور کہاکہ '' یہ سب کچھ میں نے اپنے زور بازو سے حاصل کیا ہے تو پوپ کیوں میرے سرپر تاج سجائے؟‘‘روس کے صدر ولادی میر پیوٹن بھی قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے نپولین کمپلیکس میں مبتلا ہیںجس سے نجات کے لیے ایڑھی کے بجائے ان کے جوتے کواندر سے 3انچ اونچا بنوایا جاتا ہے۔خواتین کا اونچی ہیل والا جوتا پہننا بھی درحقیقت ان کے نپولین کمپلیکس میں مبتلا ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ لڑکیاں دراز قدلڑکوں سے شادی کرنا پسند کرتی ہیںاور خود کو ان کے ساتھ محفوظ محسوس کرتی ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ ہر پست قامت انسان نپولین کمپلیکس کا شکار ہو ۔کیونکہ انسانی دماغ کئی طرح کے بائیو کیمیکلز کی مدد سے اپنے افعال انجام دیتا ہے۔ جب تک ان کیمیکلز میں قدرتی توازن بر قرار رہتا ہے انسانی دماغ بھی متوازن رہتا ہے مگر جونہی کسی انسان میں بائیوکیمیکلز کا توازن بگڑتا ہے تو وہ مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔مشہور قول ہے کہ بعض لوگوں کا قد گردن سے نیچے کی طرف ناپا جاتا ہے اور کچھ کا گردن سے اوپر کی طرف ۔ مگرگردن سے اوپر والا قد چھوٹا ہونے کے باوجود نیچے والے لمبے قد سے زیادہ قیمتی اور برتر ہوتا ہے۔صرف چھوٹا قد ہی ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتا کئی مرتبہ لمبا قد بھی راستے کی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس کی زندہ مثال پاکستان کے وفاقی وزیر اسد عمر ہیں۔خود انہوں نے بتایا کہ میری شدید خواہش تھی کہ ایئر فورس میں پائلٹ بنوںمگر میرا ساڑھے چھ فٹ قد میری خواہش کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔مجھے ریجیکٹ کر دیا گیا کیونکہ میں جہاز کے کاک پٹ میں نہیں بیٹھ سکتا تھا۔دراز قد شخص کوپبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دراز قد لوگوں کی ہڈیاں زیادہ مضبوط نہیں ہوتیں، وہ جلد بیماریوں کا شکارہو جاتے ہیں۔قد اگر چھوٹا بھی ہو تو پریشانی کی ضرورت نہیں۔اصل بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے ارد گرد موجود انسانوںکے لئے کتنے مفید ہیں ۔ان کیلئے باعث رحمت ہیں یا باعث زحمت۔ کھجور کا درخت اتنا اونچا لمبا ہے بھی تو کیا فائدہ ، تھکاہارا مسافر اس کی چھائوں میںبیٹھنا چاہے تو سایہ نہیں ملتا، بھوک لگے تو پھل اتنی دور کہ توڑکر کھا نہیںسکتا ۔پروفیسر زاہد رمے ریٹائرڈ گورنمنٹ پروفیسر ہیں، تحقیقی مطا لعہ کا شوق رکھتے ہیں،ملک کے موقر جریدوں میں ان کی تحریریں شائع ہو چکی ہیں۔ اپنی حفاظت پر مامور ان دراز قامت باڈی گارڈز کو بھاگ دوڑ کرتے دیکھ کرپست قامت نپولین کو احساس کمتری کے بجائے احساس تفاخر محسوس ہوتا تھا حالیہ ریسرچ کے مطابق فرانسیسی فٹ برطانوی فٹ سے ایک انچ لمبا تھا۔فرنچ فٹ کے مطابق نپولین کا قد 5فٹ2انچ مگر برطانوی فٹ کے مطابق اس کا قد 5فٹ 7انچ تھا جو اتنا بھی چھوٹا قد نہیں تھا۔اس کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر نے بھی اس کا قد 5فٹ2انچ ہی لکھا تھا۔برطانیہ اور فرانس کی طویل دشمنی کی وجہ سے برطانوی مورخین نے دانستہ بھی نپولین کے پست قامت ہونے کا پروپیگنڈاکر رکھا تھا۔اسی طر ح جان سٹین بیک کے ناول Men Of Mice and میں باس کا بیٹا کرلی نپولین کمپلیکس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ہر دراز قد آدمی سے لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتا ہے کیونکہ وہ انہیں طاقتوراور خود کو لاشعوری طور پر غیر محفوظ سمجھتا ہے۔لمبا قد اس وقت بھی انسان کی تضحیک کا باعث بن جاتا ہے جب اس کے بے تکلف دوست ''لمبوجی ‘‘ یا ''زرافہ ‘‘جیسے نک نیم رکھ کر عزت افزائی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یاد رکھیں کہیہی وجہ ہے کہ عالم چنہ سمیت کوئی بھی دراز قد شخص لمبی زندگی نہیںپا سکا۔اپنے سائز کا جوتا خریدنے کے لیے کتنی دکانوں پر خجل خوار ہونا پڑتا ہے۔اس کے لیے سپیشل بیڈ بنوانا پڑتا ہے کیونکہ وہ بے چارہ عام بستر پر سونا چاہے توآدھی ٹانگیںبیڈ اور کمبل سے باہر ہوتی ہیں۔ 

خود اعتمادی :اندر کا کھیل

خود اعتمادی :اندر کا کھیل

ارسطو نے اپنی مشہور زمانہ کتاب میں لکھا ہے کہ انسان کا عمومی مقصد خوشی ہے، تاہم ہر شخص اپنے تئیں خوشی کی وضاحت کرتا ہے۔ ہم ایک بات جانتے ہیں کہ ہم جتنا زیادہ پراعتماد ہوں گے اور جتنا بہتر محسوس کریں گے، اتنے خوش ہوں گے اور ہر کام اتنا ہی مؤثر کریں گے۔ تاہم خود اعتمادی حقیقتاً ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے جس کا انحصار آپ کے یقینی نظام پر ہے۔ یقین یا عقیدہ آپ کو غیر یقینیت کا جرأت کے ساتھ سامنا کرنے کے قابل کرتا ہے۔ اعتماد آپ کو تحمل اور وضاحت کے ساتھ تبدیلیوں اور مشکلوں کا سامنا کرنے اور غیر متوقع رکاوٹوں کو جھیلنے کے قابل کرتا ہے۔ یہ آپ کو کسی بھی حالات میں مؤثر طور پر ردعمل ظاہر کرنے کے قابل کرتا ہے۔یقین کا قانونیہ قانون کہتا ہے کہ''آپ کے یقین آپ کی حقیقت بنتے ہیں‘‘۔ آپ اس پر یقین نہیں کرتے جو آپ دیکھتے ہیں بلکہ اسے دیکھتے ہیں جس پر آپ یقین رکھتے ہیں۔یقین کی قوتآیئے ایک شخص کی کہانی سناتا ہوں جو کئی برس پرانی ہے۔ وہ کاروباری تھا اور شدید مشکلات میں تھا۔ اس کے بڑے گاہک اس سے ہٹ گئے تھے اور وہ بڑے قرض میں مبتلا تھا۔ایک شام وہ پارک میں گھومنے نکل گیا اوریہ سوچنے لگا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ اتنے میں ایک بوڑھا اس کی طرف نمودار ہوا اور اس نے کاروباری شخص کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھے تو اس سے پریشانی کی وجہ پوچھی، کاروباری نے اپنے مسائل کے بارے میں بتایا ۔ بوڑھا اس کاروباری کی بات سننے کے بعد بولا''میرے خیال میں، میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں‘‘ اور اس نے اپنی جیب سے چیک بک نکالی اور کاروباری سے اس کا نام پوچھا اور اسے وہ چیک تھماتے ہوئے کہا'' یہ رقم لے جائو، مجھ سے ٹھیک ایک سال بعد اسی جگہ ملنا اور تم اس وقت مجھے یہ رقم واپس کرنے کے قابل ہو گے‘‘۔جب کاروباری شخص نے اپنے دفتر آکر چیک کھولاتو یہ پانچ لاکھ ڈالر کا تھا۔ اس نے چیک پر موجود دستخط پڑھے۔ دستخط پر نام تھا'' جان ڈی رو کے فیلر‘‘۔ اس نے دنیا کے امیر ترین آدمی سے نصف ملین ڈالر کا چیک وصول کیا تھا۔پہلے تو کاروباری نے سوچا کہ وہ یہ چیک کیش کرا لے اور اپنے تمام معاشی مسائل حل کر لے لیکن پھر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ چیک اپنی دراز میں رکھ دیگا، کیونکہ اسے پتا ہے کہ وہ جب بھی چاہے یہ چیک نکال کر اسے استعمال کر سکتا ہے۔ وہ پیسہ ہونے کے اس اعتماد کو اپنے سپلائرز کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے استعمال کریگا تو زیادہ پر اعتماد ہوگا۔ وہ اس اعتماد سے اپنے کاروبار کو بہتر کرے گا۔اپنے نئے جوش کے ساتھ وہ کاروبار پر واپس آیا اور نئے معاملات کئے۔ مسائل حل کئے ادائیگی کی شرائط پر نظر ثانی کی اور کئی بڑی فروخت کیں۔ ایک مہینے میں وہ دوبارہ بلندی پر تھا۔ وہ قرض سے نکل آیا تھا اور پیسہ بنا رہا تھا۔ ایک سال بعد وہ کاروباری دوبارہ اسی پل پر گیا۔ اس کے ہاتھ میں وہی چیک تھا جو اس نے کیش نہیں کرایا تھا۔ وہ بوڑھے کو اپنے بارے میں بتانے کیلئے بے تاب تھا جیسا کہ ان دونوں کے درمیان طے پایا تھا۔ بوڑھا پودوں میں سے برآمد ہوا۔ ابھی وہ کاروباری یہ بتانا ہی چاہتا تھا کہ گزشتہ بارہ مہینے میں اس نے کیا کیا اور اس کے دیئے ہوئے چیک کو اس نے کیوں نہیں کیش کرایا ۔ اسی اثنا میں ایک نرس دوڑی ہوئی آئی اور اس بوڑھے کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنا شروع کردیا۔ ساتھ ہی اس کاروباری سے معذرت کرتے ہوئے بولی کہ مجھے امید ہے کہ اس بوڑھے نے آپ کو زیادہ پریشان نہیں کیا ہوگا۔یہ پاگل ہے اور ہر بار اپنے ریسٹ ہوم سے نکل آتا ہے اور ہر چلتے پھرتے شخص کو کہتا ہے کہ وہ جان ڈی رو کے فیلر ہے۔ وہ نرس یہ کہتی ہوئی اور بوڑھے کا بازو پکڑے اسے کھینچتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔وہ کاروباری یہ سارا منظر دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔ ایک سال تک وہ اپنے کاروباری معاہدے کرتا رہا، چیزیں خریدتا اور بیچتا رہا کیونکہ اسے اپنے اوپر اعتماد تھا کہ اس کے پاس پانچ لاکھ ڈالر ہیں جنہیں وہ جب چاہے استعمال میں لا سکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد اسے فوراً یہ احساس ہو گیا کہ اس نے اپنے کاروبار کو اس لئے کامیاب کر لیا کہ اسے اپنی کامیابی کا یقین تھا، حالانکہ اس کا یقین جھوٹی معلومات پر قائم تھا۔ یہ اس کی خود اعتمادی کا عملی اظہار تھا جس نے اس کے سارے معاملات چلائے۔

ہم ایسے کیوں ہیں؟

ہم ایسے کیوں ہیں؟

میں گھر بیٹھا ہوا تھا ، اور اپنے موبائیل پر مہدی حسن کی غزلیں سُن رہا تھا ، اور حیران ہو رہا تھا ، کہ یہ کتنا بڑا گائیک، کتنی گہری کلاسیکل موسیقی کی سمجھ بوجھ اور ہر راگ، راگنی پر عبوررکھنے والا انسان ہے۔ اِن سے بڑا گائیک آج تک میں نے اپنی زندگی میں نہیں سُنا۔ یہ تمام باتیں میرے ذہن میں چل رہی تھیں جب میں خاں صاحب کی غزلیں سُن رہا تھا۔ اِنھی غزلوں میں ایک غزل احمد فراز کی بھی آگئی ، جس کے بول تھے ،شعلہ تھا جل بُجھا ہوںہوائیں مجھے نہ دومیں کب کا جا چکا ہوںصدائیں مجھے نہ دومیں مہدی حسن کی گائیکی کے جادو میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک میرے مو بائل پر عامر قریشی کی کال آئی ، جو میرے آفس میں کام کرتا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ، مجھے عامر کی کال سُننا پڑی ۔ اُس نے بتایا کہ فاروق فوت ہوگیا ہے، میں نے انا للہ و اناعلیہ راجعون پڑھا ، اور ایک دم سے چونک کر کہا نہیں کر یار یہ کیسے ہوا ، ارے وہ تو ٹھیک تھا ۔ عامر نے کہا جانا تو سب نے ہے ، اِس میں ٹھیک یا نہ ٹھیک ہونے والی کون سی بات ہے ۔میں مسلسل حیرت میں تھا کیونکہ آج صبح ہی تو فاروق سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ فاروق کی کوشش یہ تھی کہ کسی طرح اس کے بیٹے کو اسی آفس میں ملازمت مل جائے جہاں وہ ملازمت کرتا ہے۔ میں نے اُس کو ہنستے ہوئے کہا تھا، فاروق اپنے ادارے میں اپنے بیٹے کو اگر تم ملازم رکھوانا چاہتے ہو تو اُس کا ایک ہی طریقہ ہے ، اور وہ یہ کہ تمھیں مرنا پڑے گا۔ کیونکہ ہمارے ادارے کی یہی پالیسی ہے کہ اگر ادارے کا کوئی ملازم اپنی سروس کے دوران انتقال کر جائے تو فوری طور پر اُس کے لواحقین میں سے بیٹا یا بیٹی کو فوری طور پر ملازم رکھ لیا جاتا ہے۔ میں اِس لمحہ اپنے اندر ایک عجیب سا احساس جرم محسوس کر رہا تھا کہ میں نے آج ایسی بات فاروق کے ساتھ کیوں کی۔ بڑے کہا کرتے ہیں کہ ہمیشہ منہ سے خیر کی بات کہا کرو ، کوئی پتا نہیں کہ کس وقت قبولیت کی گھڑی ہو۔عامر نے مجھ سے پوچھااُس کے جنازے میں جائے گا ، میں نے کہا کب ہے ، اُس نے کہا صبح گیارہ بجے اُس کے گائوں میں ہے۔ میں بنیادی طور پر شادیوں اور جنازوں میں جانے سے کتراتا ہوں مگر میں نے عامر سے کہا کہ میں ضرورجائوں گا ۔ ہم نے اپنے آفس کے ٹرانسپورٹ سیکشن سے گاڑی Approvedکروائی ، تاکہ ہم اہل سیکشن فاورق کے جنازے میں شریک ہوسکیں۔ جب ہم اُس کے گائوں پہنچے تو وہاں پر تقریباً جنازہ اُٹھایا جانے کا وقت ہوچکا تھا ، جنازے میںشریک ہر شخص ایک ہی بات کر رہا تھا کہ فاروق بہت اچھا انسان تھا ، بہت محنتی تھا ، کبھی کسی کے ساتھ اُس نے کوئی بد تمیزی نہیں کی کوئی لڑائی جھگڑا نہیں کیا ۔ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ ہم کیسے لوگ ہیں کہ جب انسان موت کی وادی میں گم ہوجاتا ہے ، تو ہمیں اُس انسان میں اچھائیاں نظر آنے لگ پڑتی ہیں، اور ہم اُسے اچھے الفاظ میں یاد کرنا شروع کر دیتے ہیں ، مگر جب تک وہ انسان زندہ ہوتا ہے وہ ہمارے لئے قابل ِ برداشت نہیں ہوتا۔ ہمیں اُس میں عیب ہی عیب اور بُرائیاں ہی بُرائیاں نظر آتی ہیں۔ ا نسان جب تک زندہ ہوتا ہے وہ ہمارے لئے مسلسل جھگڑوں اور لڑائیوں کا باعث بنا رہتاہے۔جو نہی وہ اِس دنیاسے رخصت ہوتا ہے تو ہم اُس کے بارے میں تعریفی کلمات ادا کر نا شروع کر دیتے ہیں۔ جب تک اُسے قبر میں اُتار کر اُس پر پتھر کی سیلیں رکھ کر اور منو ں مٹی ڈال کر اُس کیلئے دُعائے مغفرت پڑھ کر اپنے گھروں میں واپس نہیں آجاتے ہیں یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پھر چند دن تک اُس کے بارے میں بڑے غمگین اور دُکھی رہتے ہیں ، میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ آخر ہم ایسے کیوں ہیں ؟

کاشی گری ، برتنوں پر نقش و نگار بنانے کا فن

کاشی گری ، برتنوں پر نقش و نگار بنانے کا فن

مٹی کے ظروف، روغنی ٹائلوں اور دیگر آرائشی مصنوعات پر جب کاشی گر اپنے ہاتھ سے خوبصورت پھول پتیاں اور دلکش نقش و نگار اجاگر کرتا ہے تو ''بلیو پوٹری‘‘ وجود میں آتی ہے۔ پھول پتیاں اور نقش و نگار بنانے کا فن کاشی گری، دنیا بھر میں ملتان کی نمایاں پہچان ہے۔ یہ ایک مخصوص اور روایتی فن ہے ابتداء میں فنکار صرف نیلا رنگ استعمال کرتے تھے اور کاشی گری کا کام زیادہ تر برتنوں پر ہوتا تھا، اس لئے ''بلیوپوٹری‘‘ کی اصطلاح مشہور ہو گئی۔اب اس فن نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ بلیو پوٹری اس کا صرف ایک حصہ ہے جبکہ یہ کام فرنیچر، چمڑے کی مصنوعات اور کینوس پر بھی ہو رہا ہے۔کاشی گری ہمارے قومی ورثے کا حصہ اور ہماری روایات کی پہچان ہے۔کاشی گری کی تاریخ ملتان شہر کی تاریخ کی طرح قدیم ہے۔ نقش و نگار میں پتوں شاخوں اور پھولوں کا استعمال اس فن پر ایرانی اثرات کا غماز ہے۔ ایرانی فنون لطیفہ میں چونکہ منگول اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں اس لئے بعض مورخین کا خیال ہے کہ کاشی گری کا آغاز غالباً چین میں ہوا۔ آٹھویں صدی کے آغاز میں جب مسلمان فاتح محمد بن قاسم نے ملتان فتح کیا تو اسلامی لشکر کے ہمراہ کاشی گریہاں آئے اور ملتان میں آباد ہوئے۔ مغلیہ دور حکومت میں بھی اس فن کی حوصلہ افزائی کی گئی۔1853ء میں کنگھم الیگزینڈر نے جب ملتان کے ''قلعہ کہنہ قاسم باغ‘‘ میں عمدہ پیمانے پر کھدائی کروائی تو ایسی روغنی ٹائلیں برآمد ہوئیں جن کے متعلق ماہرین کی رائے ہے کہ وہ نویں صدی عیسوی میں تیار کی گئی تھیں۔ صدیوں سے کاشی گری کا خوبصورت اور خالصتاً اسلامی ہنر نسل درنسل منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے ایک دور میں اسے موروثی حیثیت حاصل تھی۔ کاشی گری میں استعمال ہونے والے نباتاتی رنگوں کی آمیزش کا فارمولا چند خاندانوں کی میراث رہا ۔ اس کی حفاظت کسی قیمتی کاروباری راز کی طرح کی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ لوگ اپنی بہوئوں کو تو یہ فارمولا سکھا دیتے تھے مگر بیٹیوں کو ہرگز نہ سکھاتے کہ ان کی شادی کے بعد کہیں یہ راز خاندان سے باہر نہ نکل جائے۔ اب اس فن کی ترقی کیلئے نہ صرف پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں کام ہو رہا ہے بلکہ عالمی بینک اور یونیسکو جیسے ادارے بھی اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کاشی گری کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کیلئے تعاون کی کیا کیا صورتیں ہو سکتی ہیں۔پوٹری کے کام والی دیگر مصنوعات کی مانگ کو پورا کرنے کیلئے اس میدان میں سرمایہ کاری کی بہت گنجائش موجود ہے۔ ملتان میں آنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاح قلعہ کہنہ قاسم باغ میں واقع نگار خانہ سے کچھ نہ کچھ ضرور خریدتے ہیں۔استاد محمد عالم ماہر کاشی گر اور نہایت عمدہ انسان ہیں جو اپنے پانچ بچوں سمیت کاشی گری کے فروغ کیلئے مصروف عمل ہیں۔ ہم نے استاد عالم کو ان کے سٹوڈیو میں پانچ فٹ اونچے چمڑے کے شاہکار گلدان پر کام کرتے ہوئے دیکھا۔ قدیم فن کے تحفظ بقاء کیلئے استاد عالم نے خواہش ظاہر کی کہ ملتان میں''کاشی میوزیم‘‘ قائم کیا جانا چاہئے جس میںنامور اساتذہ کا کام محفوظ کیا جانا چاہئے ۔1985ء میں کاشی گری کے ہنر کو ترقی دینے اور بلیو پوٹری کی تجارتی پیمانے پر تیاری اور پرائیویٹ سیکٹر میں جدید فنی امداد مہیا کرنے کیلئے پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن نے ملتان میں ''انسٹی ٹیوٹ آف بلیوپوٹری ڈویلپمنٹ قائم کیا۔ اس ادارے نے کاشی گروں کی تربیت کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی سہولتیں فراہم کی ہیں ان سے قدیم فن کے جدید دور کا آغاز ہوا ہے۔مانسہرہ، گجرات اور تھرپارکر سے سفید مٹی لاکر ملتان میں مہیا کی جا رہی ہے۔ گوبر اور لکڑی کے ایندھن سے جلنے والی بھٹی کی جگہ خود کار تندور نے لے لی ہے۔ جس میں800 سے 1200سینٹی گریڈ تک حرارت پیدا کی جا سکتی ہے۔ انسٹیٹیوٹ نے گزشتہ پندرہ برسوں میں 400سے زائد نئے ڈیزائن متعارف کرائے ہیں۔ملتان میں بلیو پوٹری کے چار یونٹ قائم ہو چکے ہیں۔بلیوپوٹری کی تیاری کے بہت سے مراحل ہیں سب سے پہلے مٹی کو صاف کرکے پیسا اور پھر گوندھا جاتا ہے۔ اس کے بعد مختلف سانچوں اور ماڈلوں کی مدد سے مطلوبہ اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔ سوکھنے کے بعد ان اشیاء کو خود کار بھٹی میں 1200سینٹی گریڈ تک پکایا جاتا ہے تب جا کر کاشی گر اپنا برش استعمال کرتے ہیں۔ادارے کی آرائشی مصنوعات صدر محل اسلام آباد سے لے کر بیرون ملک پاکستان کے سفارت خانوں اور دنیا میں بے شمار شائقین کے گھروں میں سجی ہیں۔مالی سال 1996-97ء میں انسٹیٹیوٹ میں 58, 238چھوٹی بڑی اشیاء تیار کی گئیں جو 3,140,685روپے میں فروخت ہوئیں۔بلیو پوٹری کے پرائیویٹ یونٹوں میں کام کرنے والے کاشی گروں میں سے اکثر نے انسٹیٹیوٹ آف بلیو پوٹری میں ہی تربیت حاصل کی ہے اس ادارے سے فارغ التحصیل ہونے والے چند ہونہار طالب علم اب دوسرے ممالک میں اور اندرون ملک فرنیچر اور چمڑے کی مصنوعات پر کاشی کا کام کر رہے ہیں۔

 حیران کن سائنسی معلومات

حیران کن سائنسی معلومات

٭... سوڈیم ان دھاتوں میں سے ایک ہے جوپانی سے ٹکراتے ہی جل اٹھتی ہیں۔ شعبدہ باز اس دھات کو اپنے جادو میں استعمال کرتے ہیں۔٭...ہر پتھر پانی میں نہیں ڈوب سکتا، مثال کے طور پر جھاواں پتھر کو جب پانی میں ڈالا جائے تو وہ پانی کے اوپر تیرنے لگتا ہے۔٭...سیزیم ایک ایسی دھات ہے جسے اگر شیشے کے گلاس میں ڈالا جائے تو ری ایکشن اس قدر تیز ہوگا کہ چند لمحات کے اندر اندر گلاس ٹوٹ جائے گا۔٭...زیادہ سردی پڑنے سے پانی کے پائپ اس وجہ سے پھٹ جاتے ہیں کیونکہ پانی کا درجہ حرارت جب 4Cسے کم ہو جائے تو وہ پھیلنے لگتا ہے۔٭...زیادہ تر ہارٹ اٹیک سوموار والے دن ہوتے ہیں۔٭...سب سے پہلے سرجری مصر میں کی گئی تھی جہاں ایک انسانی کھوپڑی دریافت ہوئی تھی ۔ جس کے دو دانت آپریشن کرکے نکالے گئے تھے۔٭...چاند پر بھی دن رات ہوتے ہیں، چاند کا ایک دن اور ایک رات ہمارے دو ہفتوں کے برابر ہوتے ہیں۔٭...چاند پر غروب آفتاب کا رنگ کالا ہوتا ہے۔٭...چاند اگر مکمل طلوع ہو تو اس کی روشنی آدھے چاند کی روشنی سے قریباً نو گنا زیادہ ہوتی ہے۔٭...سر فرانسی ڈریک وہ پہلا آدمی تھا جس نے سمندر کے راستے زمین کے گرد چکر لگا کے سب سے پہلے دریافت کیا کہ زمین گول ہے۔٭...چاہیںبادل ہوں یا نہ ہوں، آسمانی بجلی ایک منٹ میں پانچ ہزارمرتبہ زمین سے ضرور ٹکراتی ہے۔٭...مومن خان مومنؔ نے اپنی تاریخ وفات خود نکالی تھی جو کہ بالکل درست ثابت ہوئی۔٭...اگر روشنی ایک دائرے میں حرکت کرے تو یہ ایک سیکنڈ میں زمین کے گرد تقریباً سات چکر پورے کر لے گی۔٭... سورج سے نکلتے ہی روشنی ہم تک نہیں پہنچتی بلکہ اسے زمیں تک پہنچنے کیلئے تقریباً ساڑھے آٹھ منٹ لگتے ہیں۔ اس کے بعد یہ ہم تک پہنچتی ہے۔

حکائیت ِ سعدیؒ، فضول خرچ ہوجاتا ہے فقیر

حکائیت ِ سعدیؒ، فضول خرچ ہوجاتا ہے فقیر

ایک بادشاہ کے بارے میں، میں نے سنا کہ بدمستی اور عیش و عشرت میں رات کو دن کئے تھا اور کہہ رہا تھا دنیا میں ہمارے لئے اس وقت سے بہتر کوئی وقت نہیں۔ نہ گناہ ثواب کا خیال ہے اور نہ ہی کسی قسم کا غم ہے۔ ایک درویش فقیر سردی میں باہر سویا ہوا تھا اس نے بادشاہ کو یوں جواب دیا۔ اے بدبخت! اگر تیرے جیسا جہاں میں کوئی نہیں۔ہم نے مانا تجھے کوئی غم نہیں تو کیا تجھے ہمارا غم بھی نہیں ہے ؟بادشاہ کو فقیر کی ناصحانہ بات پسند آئی اور ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی کھڑکی سے نیچے لٹکائی اور کہا اے فقیر!دامن پھیلا اور یہ رقم لے لے۔فقیر نے کہامیرے پاس کپڑے ہی نہیں ہیں تو دامن کیسے پھیلاؤں۔ بادشاہ کو اور ترس آیا اورایک کپڑے کا جوڑا بھی ساتھ دے دیا۔ فقیر تھوڑے ہی دنوں میں ساراکچھ ختم کر کے پھر آدھمکا۔ آزاد منش لوگوں کے ہاتھ میں ما ل نہیں ٹھہر سکتا۔ نہ عاشق کے دل میں صبر ٹھہر سکتا ہے اور نہ ہی چھلنی میں پانی ٹھہر سکتا ہے۔لوگوں نے بادشاہ سے اس فقیر کی حالت بیان کی جب کہ بادشاہ اس سے بالکل لاپرواہ تھا چنانچہ بادشاہ ناراض ہوا اور غصہ میں اس نے منہ پھیر لیا۔ اس وجہ سے عقل مند لوگوں نے کہا ہے کہ بادشاہ کے رعب و دبدبہ سے بچنا چاہیے کیونکہ وہ اکثر حکومتی امور میں متوجہ رہتے ہیں اور لوگوں کے رش کو پسند نہیں کرتے۔اس آدمی پر بادشاہ کا انعام واکرام حرام ہو جاتا ہے جو فرصت کے لمحات کا لحاظ نہیں کرتا۔ جب کوئی با ت کر رہا ہودرمیان میں بات کرکے اپنی قدر و منزلت نہ گھٹا۔ بادشاہ نے حکم دیا اس بے حیا فضول خرچ کو دھکے دے کر یہاں سے نکال دو جس نے اتنی خطیر رقم اتنی تھوڑی مدت میں ضائع کردی ہے۔بیت المال کا خزانہ غریبوں کا حق ہے نہ کہ شیطان کے بھائیوں کا۔جو بے وقوف دن میں کافوری شمع جلاتا ہے عنقریب وقت آئے گا کہ اس کو دئیے میں رات کو جلانے کے لئے تیل بھی نہ ملے گا۔ایک رحم دل وزیر نے سفارش کی کہ بہتر ہے ان لوگوں کو گزارے موافق دے دیا جائے تاکہ فضول خرچی نہ کر سکیں۔ ان کو جھڑک دینا آپ کے شایان ِ شان نہیں ہے۔ ایک بار کسی پر مہربانی کرنا اور پھر اس کو ناامید کر دینا ہمت والے لوگوں کو زیب نہیں دیتا۔ لالچی کے لئے اپنا دروازہ نہ کھول اور اگر کھول دیا ہے تو پھر بند نہ کر یہ کوئی نہیں دیکھے گا کہ ملک عرب کے پیاسے کھاری پانی پہ جمع ہوئے، جہاں میٹھے پانی کا چشمہ ہوگا وہاں انسان اور چرند پرند جمع ہوں گے۔

یادرفتگان،پطرس بخاری :مزاح نگاری کا بڑا نام، ان کے مضامین میں کمال کی نکتہ آفرینی اور بذلہ سنجی ہے

یادرفتگان،پطرس بخاری :مزاح نگاری کا بڑا نام، ان کے مضامین میں کمال کی نکتہ آفرینی اور بذلہ سنجی ہے

''ہاسٹل کے چوکیدار سے ہم نے کہا کہ ہمیں کل علی الصبح جگا دینا۔ اگلے دن صبح ہوتے ہی اس نے اتنی زور سے ہمارے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ ہم تو کیا ہماری قسمتِ خوابیدہ تک جاگ اٹھی‘‘۔یہ پطرس بخاری کے ایک مزاحیہ مضمون کی وہ شگفتہ تحریر ہے جس سے ایک مزاح نگار کے طور پر ان کے مقام اور مرتبے کا پتہ چلتا ہے۔ اُردو کے مزاحیہ ادب میں پطرس بخاری کے علاوہ کرنل محمد خان، شفیق الرحمان، ابن انشاء، حاجی لق لق اور مشتاق احمد یوسفی نے بہت نام کمایا۔ یوسفی صاحب کی مزاحیہ تحریروں میں جو نکتہ آفرینی ملتی ہے اس میں پطرس بخاری کی جھلک موجودہے۔یکم اکتوبر 1898ء کو پشاور میں پیدا ہونے والے پطرس بخاری کا اصل نام سید احمد شاہ بخاری تھا۔وہ صرف مزاح نگار ہی نہیں بلکہ انہوں نے کئی دوسرے موضوعات پر بھی کتابیں لکھیں۔ وہ ایک صداکار اور سفارتکار بھی تھے۔ یہ ان کا اعزاز تھا کہ وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے مستقل مندوب کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ ان کے مزاحیہ مضامین کی کتاب ''پطرس کے مضامین‘‘ نے زبردست مقبولیت حاصل کی۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتب میں ''کلیات پطرس‘‘،'' پطرس کے خطوط‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔''پطرس کے مضامین‘‘ میں ان کے 11مزاح پارے ہیں جو اعلیٰ درجے کے ہیں اور اس میں ان کا مشاہدہ اور نکتہ آفرینی عروج پر ہے۔ ان کے مضامین ''مرزا کی بائیسکل‘‘،''کتے‘‘ اور'' سویرے جو کل میری آنکھ کھلی‘‘ اُردو کے مزاحیہ ادب میں شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پطرس بخاری آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔پطرس بخاری ایک کشمیری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے پشاور کے ایڈورڈ مشن سکول سے تعلیم حاصل کی اور پھر وہ لاہور آ گئے جہاں انہوں نے گورنمنٹ کالج (اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی) میں انگریزی ادب پڑھا۔ پطرس بخاری برطانیہ چلے گئے جہاں انہوں نے ایمانول کالج کیمرج سے تعلیم حاصل کی۔پھر وہ لاہور آ گئے اور 1927ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی پڑھاتے رہے۔ پطرس بخاری گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل بھی رہے۔ وہ بڑے ذہین اور قابل آدمی تھے۔ ان کے بھائی زیڈ اے بخاری پاکستان کے نامور صدا کار تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گورنمنٹ کالج لاہور میں فیض احمد فیضؔ، ن م راشد اور کنہیا لال کپور بھی ان کے شاگردوں میں شامل تھے۔ 1950ء میں جب پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے امریکہ کا دورہ کیا تو پطرس بخاری بھی ان کے ہمراہ تھے۔ لیاقت علی خان کی تمام تقریریں اور عوامی اعلانات پطرس بخاری کے زورِ قلم کا نتیجہ تھے۔ نیویارک میں بخاری صاحب ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے۔ وہ گھر میں چار زبانیں بولتے تھے جن میں مقامی بولی، فارسی، اُردو اور پشتو شامل ہیں۔''پطرس کے مضامین‘‘ کو اردو کے مزاحیہ ادب کا اثاثہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ مضامین 1927ء میں شائع ہوئے۔ اگرچہ یہ بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں منظر عام پر آئے لیکن ان کی تازگی اور شگفتگی آج تک قائم ہے۔پطرس بخاری کو یونانی فلسفے پر بھی عبور حاصل تھا۔ انہوں نے ایک معرکہ آرا مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ''قدیم یونانی بادشاہ اور ان کے افکار‘‘ ۔یہ مضمون 1919ء میں لاہور کے ایک جریدے میں شائع ہوا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 21برس تھی۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں اپنے وطن کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ اس وقت اقوام متحدہ کا ادارہ اپنے قیام کے ابتدائی سالوں میں تھا۔ انہوں نے جس طرح یونیسف کا کیس لڑا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ دراصل یونیسف کو بند کرنے کیلئے اجلاس منعقد کئے جا رہے تھے کیونکہ بظاہر یہی لگتا تھا کہ یونیسف نے اپنے مقاصد حاصل کر لئے ہیں لیکن پطرس بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یونیسف کی ضرورت ترقی پذیر ملکوں میں یورپی ممالک سے زیادہ ہے اور خاص طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعد ترقی پذیر ملکوں میں یونیسف کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ان کے مؤثر دلائل نے امریکی صدر روز ویلٹ کو بھی متاثر کیا اور وہ بھی یونیسف کے حوالے سے اپنے ملک کا موقف بدلنے پر مجبور ہو گئے۔ اُس وقت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل رالف جے بنچے تھے۔ انہوں نے پطرس کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ احمد بخاری درحقیقت ایک لیڈر اور فلسفی تھے۔ اگرچہ ان کی عمر زیادہ نہیں تھی لیکن لگتا تھا کہ وہ ایک کمال کے مدبر ہیں۔ وہ دنیا بھر میں امن کے متلاشی لوگوں کی اُمنگوں کی ترجمانی کرتے تھے۔اب ذرا پطرس بخاری کے مزاح کے کچھ رنگ دیکھئے جن میں انفرادیت ، نفاست اور سلاست کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ ''میرا بھتیجا دیکھنے میں عام بھیتجوں سے مختلف نہیں میری تمام خوبیاں اس میں موجود ہیں‘‘۔''لاہور لاہور ہے۔ اگر اس پتے سے آپ کو لاہور نہیں مل سکتا تو آپ کی تعلیم ناقص اور ذہن فاتر ہے‘‘۔'' خدا کی قسم ان کتوں میں وہ شائستگی دیکھی کہ عش عش کر کے لوٹ آئے۔ جونہی ہم بنگلے کے دروازے میں داخل ہوئے، کتے نے برآمدے میں کھڑے ہو کر ہلکی سی ''بخ‘‘ کردی۔ چوکیداری کی چوکیداری، موسیقی کی موسیقی‘‘۔ایسے مزاحیہ فقرے پڑھ کر مسکراہٹ کی کیا مجال کہ وہ آپ کے لبوں سے نہ ٹکرائے۔ یہ عظیم مزاح نگار5دسمبر1958ء کو امریکہ میں انتقال کر گئے اور ان کی تدفین بھی وہیں ہوئی۔ اُردو کا مزاحیہ ادب پطرس بخاری کا ہمیشہ ممنون رہے گا۔(عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ ''دنیا‘‘ سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں)

انسانیت کے سفیر۔۔۔رضاکاروں کے عالمی دن پر خصوصی تحریر

انسانیت کے سفیر۔۔۔رضاکاروں کے عالمی دن پر خصوصی تحریر

معاشرے کا ایسا فرد جو کسی لالچ یا مالی مفاد کے بغیر دوسرے لوگوں کی مدد کرتا ہے/کرتی ہے،رضاکار کہلاتا ہے۔ ایک لمحہ کے لئے اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑائیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ آج کل کے خود غرض،مفاد پرست ،اقرباء پروری ، رشوت ستانی، نااہلی،کام چوری اور بھی بے تحاشہ معاشرتی برائیوں کی موجودگی میں ایسا کوئی بھی شخص جو رضاکار کی تعریف پر پورا اترے تو اس کو بلند و بالا مقام ملنا چاہیے۔ لیکن کیا ایسا ہے؟ اگر ہم پاکستانی معاشرے کا بہ نظر غائر جائزہ لیں تو ہمیں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نظر آئے گی کہ ہم من حیث القوم اوپر بیان کی گئی برائیوں کے گڑھے میں غرق ہونے کے قریب قریب ہیں۔کیا ہمیں اس گڑھے سے نکلنے کے لئے کچھ کرنا چاہئے تو ہمیں اپنی دینی اساس کو سامنے رکھنا ہوگا۔ اس سلسلے میں،میں ہجرت مدینہ کے موقع پر کئے گئے رضاکاری اور بھائی چارے کے مظاہرے کا ذکر ضرور کروںگا، جب مہاجرین کا قافلہ ہمارے نبی مکرم رسول اکرم رحمتہ اللعالمین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی قیادت میں مکہ سے مدینہ پہنچا تو مہاجرین کے حالات سب کے سامنے تھے اور ہمارے رسولﷺ اس وقت صرف اور صرف انصار مدینہ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ وہ اپنے مسلمان مہاجر بھائیوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اور پھر زمانے نے بھی دیکھا اور انسانی آنکھ سے بھی یہ چیز پوشیدہ نہیں رہی کہ انصار مدینہ نے رضاکاری اور بھائی چارے کی ایسی مثال قائم کی جو تا قیامت دوبارہ نہیں ہو سکتی۔ انصار مدینہ نے اپنی ملکیت میں موجود ہر چیز میں مہاجر بھائی کو حصہ دار بنایا ، یہاں تک کہ جس انصار مدینہ کی دو بیویاں تھیں(عرب میں ایک سے زائد شادیوں کا رواج عام تھا)ا س نے اپنی ایک بیوی کو طلاق دی تا کہ مہاجر بھائی اس کے ساتھ نکاح ثانی کر سکے (یہاں اس مثال کو بتانے کا مقصد یہ تھا کہ اگرانصار مدینہ نے اس حد تک مہاجرین کے ساتھ نباہ کیا تو باقی مالی او ر دنیاوی چیزوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے)۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رضاکاری اور دوسروں کی بے لو ث مدد بھی مومن کی گمشدہ میراث ہے۔اگر ہماری قوم میں یہ جذبہ مکمل طور پر بیدار ہوجائے تو ہمارے 95فیصد معاشرتی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔اب ہم آجاتے ہیں5دسمبر کے دن کی طرف ۔ یہ دن ہر سال رضاکاروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس کی منظوری اقوام متحدہ نے 1985میں دی تھی۔ لیکن اس کو عالمی منظر نامہ پر اس وقت جانا اور مانا گیا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس منعقدہ 20نومبر 1997ء میں ایک قرارداد اس حوالے سے منظور کی گئی جس میں 2001ء کو رضاکاروں کا سال بھی قراردیا گیا۔اس کے بعد سے ہر سال یہ دن 5دسمبر کو رضاکاروں کے عالمی دن (International Volunteer Day) کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ آج کل کے تیز رفتار دور میں جب سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے چند سر پھرے ایسے ہوتے ہیں جو بے لوث کسی کی مدد کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی پوری دنیا کی طرح اس عالمی دن کو منایا جاتا ہے اور مٹھی بھر افراد حتی المقدور کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ رضاکاری کا جذبہ معاشرے میں پروان چڑھ سکے اور حیران کن حد تک یہ بات دیکھی گئی ہے کہ یہ جذبہ 10سے 14سال کی عمر کے بچوں میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ (Boys Scouts) (Girls Guide)ان ناموں سے کچھ ادارے پاکستان میں رضاکاری کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن (مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق) وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سمت میں ہماری سوسائٹی کا رجحان بہت کم ہوتا جا رہاہے۔ شائد پچھلے کچھ سالوں سے ملکی اور بین الاقوامی حالات نے معاشرے کو کافی حد تک خود غرض بنا دیاہے۔پاکستان میں ''پاکستان گرلزگائیڈ ایسوسی ایشن‘‘اس سلسلے میںکام کررہی ہے اور اسی سال4فروری کو ٖPGGA میں منعقدہ ایک تقریب میں بیگم ثمینہ عارف علوی( بیگم صدرپاکستان) نے چیف گائیڈ پاکستان کا حلف اٹھایا اور اس سلسلے میں ایک قدم اور آگے بڑھایا۔ اگر ہمارے لیڈران اور ان کے اہل خانہ ایکٹیو رول پلے کریںتو کوئی ایسی بات نہیں کہ پاکستان میں بھی رضاکارانہ خدمت کا جذبہ پروان چڑھ سکتا ہے۔ معاشرے میں اس چیز کوپروموٹ کرنے کیلئے اداروں کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔ایک تحقیق کے مطابق پوری دنیا میں 70فیصدرضاکارانہ کاموں کا کریڈٹ کسی ادارے کو نہیں لیکن معاشرے کے افراد کو انفرادی طور پر جاتا ہے کیونکہ لوگ ایسے کاموں کی شہرت بھی پسند نہیں کرتے۔ اقوام متحدہ کی ایک اور تحقیق کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکہ اور یورپ میں جو افرادرضاکارانہ کاموں میں زیادہ شرکت کرتے ہیں ان کی آمدنی میں دوسرے لوگوں کی نسبت 5%زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ اس سلسلے میں یہاں ایک اسلامی بات کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ''رزق کی کشادگی بچت میں نہیں بلکہ سخاوت میں ہے‘‘2021ء میں اس عالمی دن کے حوالے سے پاکستان میں منسٹری آف سوشل ویلفیئر اینڈ سپیشل ایجوکیشن نے نیشنل کونسل آف سوشل ویلفیئر کے ذریعے بھی کچھ پروگرامز کا انعقاد کیا ہے جو کہ درج ذیل ہیں۔٭رضاکار غریبوں کی مدد کریں گے۔٭رضاکار ایسی ایکٹویٹیز کا انتخاب کریں جن میں مرد و عورت میں تفاوت کم سے کم ہو۔٭رضا کار مختلف بیماریوں مثلاً ایڈز، کروناء، ملیریا اور ڈینگی کی معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔اس سلسلے میں ایک لمبے عرصے کے بعد نیشنل کونسل آف سوشل ویلفیئر کے ذریعے بہت زیادہ رضاکاروں نے خود کو رجسٹرڈ کروایا ہے اور عالمی سطح پر بھی پاکستان میں (2005ء کے زلزلے اور 2010ء کے سیلاب میں )جو خدمات رضاکارانہ طور پر انجام دی گئیں ان کو بہت زیادہ سراہا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ان پچاس ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جن کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ رضاکار موجود ہیں۔اللہ پاک ہمارے نوجوانوں اور رضاکاروں کو ہمت اور حوصلہ عطا کرے تاکہ وہ اسی طرح پاکستان کی خدمت کرتے رہیںخدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترےوہ فصل گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

حکائیت ِ سعدیؒ، راز آخر کب تک راز؟

حکائیت ِ سعدیؒ، راز آخر کب تک راز؟

ترک بادشاہ تکش اپنے ایک غلام پر بہت اعتماد کرتا تھا۔ ایک دن اس نے اس غلام سے کوئی بات کہی اور تاکید کی کہ یہ بات کسی کو نہ بتائے۔ غلام نے وعدہ کیا، لیکن وہ اپنا یہ وعدہ نبھا نہ کر سکا۔ ایک سال کے بعد بادشاہ کا راز اپنے ایک معتمد ساتھی کو بتا دیا۔ اس نے کسی اور سے ذکر کیا اور یوں وہ بات جسے سلطان تکش چھپانا چاہتا تھا، سارے شہر میں مشہور ہو گئی۔بادشاہ اس بات سے آگاہ ہوا تو اسے غلام پر بہت غصہ آیا۔ اس نے حکم دیا کہ نہ صرف اس غلام کو بلکہ ان سارے غلاموں کو قتل کر دیا جائے جنہوں نے افشائے راز میں حصہ لیا ہے۔ بادشاہ کے حکم کی دیر تھی۔ جلا و تلواریں سونت کر غلاموں کو قتل کرنے کیلئے پہنچ گئے۔موت سر پر منڈلانے لگی تو ایک دانا غلام نے بادشاہ سے کہا حضور والا! ہم سب یقیناً گناہ گار ہیں۔ شاہی راز کی حفاظت میں ناکام رہے لیکن اصل میں تو سب سے پہلے یہ گناہ خود حضور سے سرزد ہوا ہے۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ جس راز کی حفاظت خود حضور نہ کر سکے اس کی حفاظت ہم ادنیٰ غلام کس طرح کر سکتے تھے۔دانائوں کا قول ہے کہ اپنے دل کا راز بہترین دوست پر بھی ظاہر نہ کرو ورنہ وہ بری طرح دوسروں سے کہتا پھرے گا۔ راز اسی وقت تک راز ہے جب تک تیرے دل میں ہے۔ یہ دیو آزاد ہو جائے تو اسے دوبارہ قید نہیں کیا جا سکتا۔ مضبوط گھوڑے کی رسی ایک کمزور بچہ بھی کھول سکتا ہے لیکن جب وہ آزاد ہو کر سر پٹ بھاگے تو بہت سے پہلوان بھی اسے نہیں پکڑ سکتے۔کامیاب زندگی گزارنے کیلئے یہ بات بہت ضروری ہے کہ انسان ''تھوتھا چنا باجے گھنا‘‘ کی مثال نہ ہو بلکہ دل و دماغ پر اس کا ایسا قابو ہو کہ تفریحاً بھی کوئی فالتو بات اس کی زبان پر نہ آئے۔ خاص طور پر اہم راز تو کسی پر ظاہر ہونے ہی نہ دے اور اس کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ ایسی بات زبان پر آئے ہی نہیں۔

یادرفتگان،عمر خیام:عظیم مسلمان سائنسدان، علم نجوم ، ریاضی اور فلسفہ کے استاد، رباعیاں وجہ شہرت بنیں

یادرفتگان،عمر خیام:عظیم مسلمان سائنسدان، علم نجوم ، ریاضی اور فلسفہ کے استاد، رباعیاں وجہ شہرت بنیں

عمر خیام کا جب بھی نام لیا جاتا ہے تو ان کی شاعری اور رباعیاں سامنے آ جاتی ہیں جبکہ وہ صرف ایک شاعر نہ تھے، مصنف اور فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک ماہر علم نجوم، ریاضی دان اور ماہر فلکیات بھی تھے۔عمر خیام کا ایک کارنامہ رصدگاہ میں تحقیقات کر کے مسلمانوں کو ایک نیا کیلنڈر بنا کر دینا بھی ہے۔عمر خیام نے 18 مئی 1048ء میں نیشا پورکے ایک خیمہ سینے والے گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کاپورا نام ابو الفتح عمر خیام بن ابرھیم نیشاپوری تھا۔ انھوں نے اپنے زمانے کے نامور اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔ان کے استادوں میں عبدالرحمن الخازنی ،قاضی ابو طاہر اور مصطفی نیشا پوری قابل ذکر ہیں۔ فلسفہ میں وہ مشہور فلسفی بوعلی سینا کے ہم عصر تھے۔ ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے سلجوقی سلطان ، ملک شاہ نے انہیں اپنے دربار میں طلب کر لیااور انہیں اصفہان کے اندر ایک عظیم الشان رصدگاہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔اس کی تعمیر 1073 ء میں شروع ہوئی اور ایک سال بعد یعنی 1074ء میں اس رصد گاہ کی تعمیر مکمل ہوگئی۔ عمر خیام کو یہاں کا انچارج مقرر کر دیا گیا جبکہ ان کے علاوہ چند مشہور سائنس دانوں نے بھی یہاں کام کیا جن میں ابوالغفار الاسفیزاری، میمن ابن نجیب الوسیطی اور محمد بن عماد البیہقی کے نام زیادہ مشہور ہیں۔سلطان ملک شاہ نے عمر خیام کو ایک نیا کیلنڈر بنانے کا حکم دیا۔ملک شاہ کے کہنے پر انھوں نے جو کیلنڈر تیار کیا اسے جلالی کیلنڈر کہا جاتا ہے اور جو ایک زمانے تک رواج میں رہا اور آج کا ایرانی کلینڈر بھی بہت حد تک اسی پر مبنی ہے۔ جلالی کیلنڈر شمسی کیلنڈر ہے اور سورج کے مختلف برجوں میں داخل ہونے پر شروع ہوتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ رائج انگریزی یا گریگورین کیلنڈر سے زیادہ درست ہے اور اسے آج تک سب سے زیادہ درست کیلنڈر کہا جاتا ہے۔ اس میں 33 سال پر لیپ ایئر آتا ہے جبکہ گریگوین میں ہر چار سال پر اضافی دن والا سال آتا ہے جب فروری 29 دنوں کا ہوتا ہے۔اس کے بعد وزیر نظام الملک نے اصفہان مدعو کیا جہاں کی لائبریری سے انھوں نے استفادہ کیا اور اقلیدس اور اپولینیس کے علم الحساب کا بغور مطالعہ شروع کیا اور انھوں نے اس سلسلے میں کئی اہم تصانیف چھوڑیں۔ریاضی کے میدان میں مکعب اور متوازی کے نظریے پر ان کی خدمات کو سراہا جاتا ہے۔ انھیں اقلیدس میں جو اشکالات نظر آئیں ان پر عربی زبان میں ایک کتاب تحریر کی، جس کا عنوان''رسالہ فی شرح اشکال من مصدرات کتاب اقلیدس‘‘ تھا۔عمر خیام کا اصل میدان علم ہیت یا علم نجوم، ریاضی اور فلسفہ رہا لیکن ان کی عالمی شہرت کی واحد وجہ ان کی شاعری ہے جو گاہے بگاہے لوگوں کی زبان پر آ ہی جاتی ہے۔ ان کی شاعری کو زندہ کرنے کا کارنامہ انگریزی شاعر اور مصنف ایڈورڈ فٹزجیرالڈ کا ہے جنھوں نے 1859ء میں عمرخیام کی رباعیات کا انگریزی میں ترجمہ پیش کیا اور اس کا عنوان ''رباعیات آف عمر خیام‘‘ رکھا اور عمر خیام کو فارس کا نجومی شاعر کہا۔اردو میں تو بہت سے لوگوں نے ان کی رباعیوں کا منظوم ترجمہ بھی کیا ہے۔عمر خیام کی پذیرائی مختلف ادوار میں ہوتی رہی ہے ۔ 1970ء میں چاند کے ایک گڑھے کا نام عمر خیام رکھا گیا۔ یہ گڑھا کبھی کبھی زمین سے بھی نظر آتا ہے۔1980ء میں ایک سیارچے ''3095‘‘ کو عمر خیام کا نام دیا گیا۔اس عظیم مسلمان سائنسدان کا انتقال 4دسمبر 1131ء کو ایران میں ہوا، آج ان کی برسی ہے۔

دریائی گھوڑا:دنیا کا تیسرا بڑا زمینی جانور

دریائی گھوڑا:دنیا کا تیسرا بڑا زمینی جانور

کرہ ارض پر قدرت نے انواع و اقسام کی مخلوق چارسو پھیلا رکھی ہے۔ زمین، سمندر غرضیکہ دنیا کا کون سا کونا ہے جہاں چرند، پرند، کیڑے مکوڑے نہ پائے جاتے ہوں۔ جیسے زمین کا کونا کونا جانداروں سے بھرا پڑا ہے ایسے ہی سمندر کا کونا کونا بھی عجیب و غریب جانداروں سے بھرا پڑا ہے۔ اگر بات زمینی جانوروں کی ہو رہی ہوتو ہاتھی کرہ ارض کا سب سے بڑا جانور شمار کیا جاتا ہے۔ ہاتھی کا وزن 11000 کلو گرام تک ہوتا ہے جبکہ اس کی اونچائی 13فٹ تک ہوتی ہے۔ہاتھی کے بعد ہپپو Hippopotamus (دریائی گھوڑا) کرہ ارض پر تیسرا بڑا زمینی جانور ہے جس کا وزن 4000کلو گرام تک جبکہ اس کی اونچائی چھ فٹ کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ایک رپورٹ میں جینیاتی سائنس کا مطالعہ کرنے والوں کا یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ اس قیاس کے کافی امکانات ہیں کہ یہ چونکہ جسامت اور ڈیل ڈول میں وہیل کے بھی کسی حد تک قریب ہے اس لئے یہ وہیل کے خاندان سے ہو سکتا ہے۔ہپپوززیادہ تر افریقہ میں پائے جاتے ہیں جبکہ ماضی میں یہ مشرقِ وسطیٰ میں بھی کثرت سے پائے جاتے تھے۔طرز زندگی اور خوراک: ہپپوز سبزی مائل بھوری رنگت کے بھاری بھر کم ممالیہ جانور ہیں۔ یہ بہت بڑے سر، چھوٹی سی گردن اور چھوٹی چھوٹی آنکھوں کے ساتھ ساتھ خطرناک حد تک تیز اور نوکیلے دانتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کی جلد بہت مضبوط اور چار سنٹی میٹر تک موٹی ہوتی ہے۔ پانی کے اندر موجودگی کے دوران سانس لینے کیلئے یہ اپنا ناک لمحہ بھر کیلئے پانی سے اوپر اٹھاتا ہے۔ یہ صوتی اشاروں کے ذریعے ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں۔ اگرچہ بھاری بھر کم جسامت کی وجہ سے ان پر حملوں کا چانس کم ہوتا ہے تاہم شکار کی صورت میں یہ اپنے خطرے کی اطلاع اپنے ساتھیوں کو مخصوص انداز میں دھاڑ کر دیتے ہیں۔یہ بیک وقت پانی اور زمین پر تیز رفتاری سے بھاگ سکتے ہیں۔ یہ زمین پر صرف رات کا مختصر سا وقت گزارتے ہیں اور وہ بھی صرف خوراک کی تلاش کے دوران۔ ان کی خوراک جڑی بوٹیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کا زیادہ وقت پانی کے اندر یا اس کے آس پاس گزرتا ہے۔ان کا مکمل جسم پانی میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے ماسوائے نتھنوں کے جو پانی سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ ہوا کے بغیر باآسانی 10منٹ تک پانی کے اندر رہ سکتے ہیں۔ اگرچہ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ پانی میں گزرتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی یہ اچھے تیراک نہیں ہوتے۔ان جانوروں کی ایک عادت مشترک ہے کہ یہ سرشام ہی ریوڑ کی شکل میں چرنے نکل پڑتے ہیں اور کھانا کھا لینے کے بعد یہ ایک لمحہ بھی زمین پر نہیں ٹھہرتے بلکہ پانی میں آ جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ چرنے کیلئے جس جگہ کا انتخاب کرتے ہیں وہ ان کی دن بھر کی خوراک کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اس کے باوجود بھی خوراک کی طلب باقی رہ جائے تو یہ کئی کئی کلومیٹر دور تک بھی چلے جاتے ہیں۔ خوراک کے بارے ان کی ایک اور عادت ہے کہ یہ دن بھر کی خوراک کا کچھ حصہ اپنے منہ کے اندر محفوظ کر لیتے ہیں جسے رفتہ رفتہ چباتے رہتے ہیں۔ایک دریائی گھوڑے کی دن بھر خوراک کی ضرورت اوسطاً 40 سے 45 کلو گرام کے درمیان ہوتی ہے جبکہ وافر خوراک دستیابی کی صورت میں یہ 65 سے 70 کلو گرام خوراک باآسانی کھا لیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان کا نظام انہضام اپنے ہم جسامت جانوروں سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ ان کا موازنہ عام طور پر ہاتھی اور گینڈے سے کیا جاتا ہے۔ جن کے مقابلے میں یہ ان سے بہتر خوراک ہضم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ خوراک کی مقدار ہو جو یہ ان دونوں جانوروں کے مقابلے میں خاصی کم کھاتے ہیں۔یہ صورت حال اس وقت بڑی دلچسپ ہوتی ہے جب پانی میں بیٹھے ہپپو جس کا صرف سر باہر ہوتا ہے اور اس کے سر کے عین اوپر پرندوں نے بسیرا کر رکھا ہوتا ہے بالکل ایسے جیسے سمندر کے آس پاس ساحل پر پرندوں نے پڑاؤ کر رکھا ہوتا ہے۔ دراصل سمندر میں اڑتے پرندے اس کے بھاری بھر کم سر کو ماہی گیری کیلئے استعمال کرتے ہیں لیکن اسی پر ہی بس نہیں،اس کے خاموشی سے ان پرندوں کو برداشت کرنے کے پس پردہ بھی اس کا اپنا مفاد کارفرما ہوتا ہے۔ دراصل ہپپو کی جلد بالخصوص اس کی آنکھوں کے آس پاس مختلف اقسام کے کیڑے چمٹے ہوتے ہیں جو اس کی پلکوں کے نیچے گھس جاتے ہیں جس سے اسے کوفت ہوتی رہتی ہے اور یہ بیچارہ انہیں ہٹانے یا بھگانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اس صورت حال میں یہ پرندے یوں اس کیلئے باعث رحمت ہوتے ہیں کہ وہ ان کیڑے مکوڑوں کو بطور خوراک استعمال کرتے رہتے ہیں جس سے اسے ان کیڑوں سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔اگرچہ دریائی گھوڑے کے اس رویے سے یہ تاثر ذہن میں آتا ہے کہ یہ بہت ہی معصوم اور بے ضرر جانور ہے لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔ اگر اس کا مخالف اس کو تنگ کرے تو یہ اچانک حملہ آور بھی ہو سکتا ہے، اسے گھسیٹ کر پانی کی گہرائی میں بھی لے جا سکتا ہے اور اسے چیر پھاڑ کر کھا بھی سکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ اس وقت اپنے مخالف کو پل بھر میں اپنے حصار میں لے لیتا ہے جب بالغ نر یا مادہ ہپپو کی موجودگی میں کوئی ان کے بچوں سے چھیڑ خانی کر بیٹھے۔وہ ننھے ہپپوز کے تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔لاحق خطرات:ایک تحقیق کے مطابق 30 سے 40 فیصد ہپپوز پیدائش کے پہلے سال کے دوران ہی مختلف بیماریوں کے باعث مر جاتے ہیں جبکہ زندہ رہ جانے والے باقی ہپپوز کی زندگی کو عام طور پر دو طرح کے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ ایک انہیں جنگل کے اندر سے جو صرف شیر کے حملے کی وجہ سے ہو سکتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے جبکہ اس نسل کو اصل خطرہ شکاریوں سے ہوتا ہے۔ ایک قسم کے شکاری وہ ہوتے ہیں جن کی فصلوں کو ان سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ دوسری قسم کے شکاری پیشہ ور شکاری ہوتے ہیں۔ ایک ہپپوز سیکڑوں کلو گوشت کا ذریعہ ہوتا ہے اور اس کا گوشت غذائیت اور لذت میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی جو اسے دوسری اقسام کے گوشت سے ممتاز کرتی ہے وہ چکنائی کا کم ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا گوشت عام جانوروں کے گوشت سے کئی گنا زیادہ مہنگا ہونے کے سبب عموماً نایاب ہوتا ہے۔اگرچہ افریقہ اور دیگر ممالک میں جہاں یہ کثرت سے پائے جاتے ہیں ان کے شکار پر پابندی عائد ہے لیکن اس کے قیمتی گوشت اور اس کی نایاب ہڈیوں کی بدولت شکاری موقع پا کر اس کے شکار سے باز نہیں آتے۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس کی ہڈیاں ہاتھی کی ہڈیوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہیں ۔ کیونکہ یہ وقت کے ساتھ ساتھ پیلی نہیں ہوتیں۔ ان کی ہڈیاں فرنیچر سے لیکر آرائشی سامان بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں جس کے سبب بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی زبردست مانگ رہتی ہے۔خاورنیازی سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں