کیڑے مکوڑوں کی طرح اڑنا سیکھ گیا روبوٹکس کا شعبہ تیزی سے ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں مشینیں صرف انسانوں کے بنائے ہوئے ڈیزائن کی نقل نہیں کر رہیں بلکہ قدرت سے سیکھ کر اپنی صلاحیتیں بہتر بنا رہی ہیں۔ اس کی ایک دلچسپ مثال میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے انجینئرز کا تیار کردہ ایک انتہائی چھوٹا اڑنے والا روبوٹ ہے جس نے اب کیڑے مکوڑوں جیسی تیز اور پھرتیلی پرواز کا مظاہرہ کیا ہے۔یہ روبوٹ جسامت میں ایک جیلی بین کے قریب ہے اور اس کے پروں کا ڈیزائن بھی کیڑے کے پروں سے متاثر ہے۔ لیکن اصل حیرت اس کے حجم میں نہیں بلکہ اس کی پرواز کی صلاحیت میں ہے۔ MIT کے محققین نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نیا کنٹرول سسٹم تیار کیا ہے جس نے اس ننھے روبوٹ کو تیز رفتاری سے موڑنے، اچانک سمت تبدیل کرنے اور مسلسل قلابازیاں لگانے کے قابل بنا دیا ہے۔رفتار اور پھرتی میں غیر معمولی اضافہچھوٹے اڑنے والے روبوٹس کے سامنے ایک بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ انہیں بہت تیزی سے حرکت دینا اور ساتھ ہی مستحکم رکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ جسامت جتنی کم ہوتی ہے ہوا کا معمولی زوراور جسم کی معمولی حرکت بھی روبوٹ کی پرواز پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔MIT کی نئی تحقیق نے اس مسئلے کو بڑی حد تک حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تجربات میں روبوٹ کی رفتار پہلے کے بہترین مظاہروں کے مقابلے میں تقریباً 447 فیصد بڑھ گئی جبکہ اس کی acceleration یعنی رفتار پکڑنے کی صلاحیت میں تقریباً 255 فیصد اضافہ ہوا۔لیکن شاید سب سے حیران کن مظاہرہ اس کی قلابازیاں ہیں۔ یہ ننھا روبوٹ صرف 11 سیکنڈ میں مسلسل دس somersaults مکمل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس دوران اگر ہوا کا جھونکا اسے راستے سے ہٹانے کی کوشش بھی کرتا رہا تو روبوٹ نے اپنی پرواز کو درست کیا اور مطلوبہ راستے کے قریب رہا۔ MIT کے مطابق تجربات میں یہ روبوٹ اپنے طے شدہ راستے سے عموماً صرف 4 سے 5 سینٹی میٹر تک ہی ہٹا۔یہ کارکردگی اس لیے اہم ہے کیونکہ حقیقی کیڑے، مثلاً بھونرا یا مکھی انتہائی تیزی سے اپنی پرواز کی سمت اور جسم کا زاویہ تبدیل کر سکتے ہیں۔ روایتی ڈرونز میں یہ صلاحیت نسبتاً محدود ہوتی ہے۔روبوٹ کے پر اور مصنوعی پٹھےیہ روبوٹ کسی عام کواڈ کاپٹر ڈرون کی طرح چار گھومتے ہوئے پروپیلرزاستعمال نہیں کرتا۔اس میں ایسے پر استعمال کیے گئے ہیں جو کیڑے کے پروں کی طرح تیزی سے پھڑپھڑاتے ہیں۔MIT کی ٹیم نے روبوٹ کے ایک زیادہ پائیدار ورژن میں نسبتاً بڑے پر استعمال کیے جنہیں نرم مصنوعی پٹھوں کے ذریعے حرکت دی جاتی ہے۔ یہ مصنوعی پٹھے انتہائی تیزی سے پروں کو حرکت دے سکتے ہیں جس سے روبوٹ کو فضا میں اٹھنے، آگے بڑھنے اور اچانک سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت ملتی ہے۔تاہم صرف اچھے پر اور طاقتور مصنوعی پٹھے کافی نہیں تھے۔ روبوٹ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اسے کس لمحے کتنی طاقت لگانی ہے، کس سمت جھکنا ہے اور کب اپنی حرکت کو روکنا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت نے اہم کردار ادا کیا۔اصل کمال اس کے AI دماغ کا ہےاس روبوٹ کی پرواز کا سب سے اہم حصہ اس کا نیا AIبیسڈ کنٹرولر ہے۔ پہلے روبوٹ کا کنٹرول سسٹم بڑی حد تک انسانوں کی جانب سے ہاتھ سے ٹیون کیا جاتا تھا۔ اس طریقے سے روبوٹ بنیادی پرواز تو کر سکتا تھا لیکن انتہائی تیز اور پیچیدہ حرکات کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔MIT کے محققین نے ایک دو مرحلوں پر مشتمل نظام تیار کیا۔ پہلے مرحلے میں ایک طاقتورکنٹرولر روبوٹ کی حرکت کا اندازہ لگاتا اور پیچیدہ قلابازیوں کے لیے بہترین راستہ تلاش کرتا ہے۔ اس میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ روبوٹ کتنی قوت استعمال کر سکتا ہے تاکہ حرکت کے دوران وہ بے قابو نہ ہو جائے۔دوسرے مرحلے میں ڈیپ لرننگ استعمال کی گئی۔ سادہ الفاظ میں ایک طاقتور کنٹرولر پہلے مشکل حرکات کرنا سیکھتا ہے پھر AI اس کے طریقہ کار سے سیکھ کر ایک ایسا نسبتاً ہلکا اور تیز ماڈل تیار کرتی ہے جو حقیقی وقت میں روبوٹ کو کنٹرول کر سکے۔یہ طریقہ اس لیے ضروری تھا کیونکہ اتنے چھوٹے روبوٹ پر بہت زیادہ کمپیوٹیشنل طاقت دستیاب نہیں ہوتی۔ اگر ہر لمحے انتہائی پیچیدہ کیلکولیشنز کی جائیں تو روبوٹ کا نظام اتنی تیزی سے فیصلہ نہیں کر پائے گا جتنی تیزی سے اسے پرواز کے دوران ضرورت ہوتی ہے۔ AI نے اس پیچیدہ عمل کو نسبتاً تیز اور مؤثر بنا دیا۔مستقبل خودکار روبوٹس تکMIT کے محققین کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کے امکانات بہت وسیع ہیں۔مثلاً کسی زلزلے کے بعد عمارتیں گرنے کی صورت میں بڑے ڈرونز یا ریسکیو مشینیں ملبے کے اندر موجود انتہائی تنگ جگہوں تک نہیں پہنچ سکتیں۔ ایک کیڑے جتنا چھوٹا روبوٹ ملبے کے درمیان موجود دراڑوں سے گزر کر ممکنہ طور پر زندہ افراد کی تلاش کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ روبوٹ گرتے ہوئے ملبے اور دوسری رکاوٹوں سے بچنے کے لیے اپنی سمت تیزی سے تبدیل بھی کر سکتا ہے۔مستقبل میں ایسے روبوٹس پر چھوٹے کیمرے اور سنسرز نصب کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے وہ صرف پہلے سے طے شدہ راستے پر چلنے کے بجائے اپنے اردگرد کے ماحول کو محسوس کرکے خود فیصلہ کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ MIT کی ٹیم خاص طور پر ایسے سنسرز کے استعمال پر کام کرنا چاہتی ہے جو روبوٹ کو بیرونی ماحول میں بغیر کسی بڑے موشن کیپچر سسٹم کے پرواز کرنے میں مدد دیں۔یہاں سے ایک اور دلچسپ امکان سامنے آتا ہے کہ اگر متعدد ایسے ننھے روبوٹس ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرکے مشترکہ طور پر کام کرنا سیکھ جائیں تو وہ ایکrobotic swarm کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ایک روبوٹ کے بجائے درجنوں یا سینکڑوں چھوٹے روبوٹس کسی بڑے علاقے کی نگرانی، تلاش یا ماحولیاتی مشاہدے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔موجودہ تجربات میں کنٹرولر بیرونی کمپیوٹر پر چلتا ہے جبکہ مستقبل کا اہم ہدف اتنی ہی مؤثر AI کو روبوٹ کے اپنے آن بورڈ کمپیوٹنگ نظام پر چلانا ہے۔
انسانیت کی حفاظت کا عالمی عہددنیا میں ایسے دن بھی آتے ہیں جو کسی جشن، فتح یا تاریخی کامیابی کی یاد نہیں دلاتے بلکہ انسان کو اس کی اپنی انسانیت یاد دلاتے ہیں۔ عالمی یومِ انسانی ہمدردی (World Humanitarian Day) بھی ایسا ہی دن ہے جو ہر سال 19 اگست کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان لاکھوں انسانوں کے نام ہے جو جنگوں، قدرتی آفات، قحط، وباؤں، نقل مکانی اور دیگر بحرانوں سے متاثر ہوتے ہیں ،اور ان لوگوں کے نام بھی جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر مصیبت زدہ لوگوں تک مدد پہنچانے کے لیے میدانِ عمل میں موجود رہتے ہیں۔ اس دن کا بنیادی مقصد انسانی خدمت کرنے والے کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور بحرانوں میں گھرے لوگوں کی بقا، وقار اور فلاح کے لیے عالمی عزم کو مضبوط کرنا ہے۔ایک المیے سے جنم لینے والا دنعالمی یومِ انسانی ہمدردی کی تاریخ ایک المناک واقعے سے جڑی ہوئی ہے۔ 19 اگست 2003 ء کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر، کینال ہوٹل، پر بم حملہ ہوا جس میں 22 افراد مارے گئے، ان میں اقوام متحدہ کے عراق میں خصوصی نمائندے سرجیو ویئرا ڈی میلو بھی شامل تھے۔ ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ نہ صرف اقوام متحدہ کے لیے ایک بڑا سانحہ تھا بلکہ دنیا بھر کے انسانی امدادی کارکنوں کے لیے بھی ایک ایسا لمحہ تھا جس نے ان کے کام کے خطرات کو نمایاں کر دیا۔اس سانحے کی یاد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2008ء میں قراردادکے ذریعے 19 اگست کو عالمی یومِ انسانی ہمدردی قرار دیا۔ انسانی ہمدردی محض کسی ضرورت مند کو چند روپے یا کھانے کا ایک پیکٹ دینے کا نام نہیں۔ یہ دراصل اس بنیادی انسانی اصول کا نام ہے کہ مصیبت میں مبتلا انسان کی مدد کی جائے خواہ اس کا تعلق کسی بھی ملک، مذہب، نسل، زبان یا سیاسی گروہ سے ہو۔ جنگ زدہ علاقے میں زخمی شخص کو طبی امداد دینا، سیلاب زدگان کو محفوظ مقام تک پہنچانا، بے گھر خاندانوں کو خوراک اور خیمے فراہم کرنا، بچوں کو تعلیم کے مواقع دینا اور وبا کے دوران لوگوں کو طبی سہولت پہنچانا،یہ سب انسانی خدمت کے مختلف روپ ہیں۔ خطرے میں امید قدرتی آفت یا جنگ کے دوران عام انسان عموماً محفوظ مقام تلاش کرتا ہے مگر انسانی امدادی کارکن اکثر اس کے برعکس خطرے کے مرکز کی طرف بڑھتے ہیں۔ ڈاکٹر، نرسیں، ریسکیو اہلکار، رضاکار، ڈرائیور، امدادی اداروں کے کارکن اور مقامی کمیونٹی کے افراد اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی زندگی بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔انسانی کارکن صرف خوراک اور پانی تقسیم نہیں کرتے وہ تباہ شدہ معاشروں کو دوبارہ کھڑا کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ بچوں کے لیے عارضی سکول قائم کرتے ہیں، بیماروں کا علاج کرتے ہیں، بے گھر افراد کو پناہ دیتے ہیں، خواتین اور بچوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لانے میں مدد کرتے ہیں۔افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ دوسروں کی جان بچانے نکلتے ہیں وہ خود بھی محفوظ نہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اقوام متحدہ کے393 امدادی کارکن مارے گئے۔ اس دن کی اہمیت پہلے سے زیادہآج دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں انسانی بحرانوں کی نوعیت زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔ جنگیں، سیاسی تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، خشک سالی، قحط اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے کروڑوں انسانوں کو غیر یقینی زندگی سے دوچار کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے 2026 ء کے جائزے کے مطابق دنیا بھر میں 239 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ عالمی انسانی نظام محدود وسائل کے باوجود تقریباً 135 ملین افراد تک امداد پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی نے بھی انسانی ہمدردی کی ضرورت میں اضافہ کیا ہے۔ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے دوران امدادی کارکنوں اور رضاکاروں کا کردار اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ بحران کے وقت ریاستی اداروں کے ساتھ معاشرے کی اجتماعی قوت بھی انتہائی اہم ہوتی ہے۔انسانی ہمدردی صرف اداروں کی ذمہ داری نہیںعالمی یومِ انسانی ہمدردی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت صرف اقوام متحدہ، حکومتوں یا بڑے امدادی اداروں کی ذمہ داری نہیں۔ عام شہری بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کسی ضرورت مند کی مدد، خون کا عطیہ، آفت زدہ لوگوں کے لیے امداد، کسی بے گھر خاندان کے لیے سہارا یا کسی پریشان انسان کے ساتھ ہمدردی،یہ سب انسانی خدمت کی صورتیں ہیں۔اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس دوسروں کے لیے کتنا ہے اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے پاس موجود وسائل میں سے کتنا بانٹنے کے لیے تیار ہیں۔انسانیت کو زندہ رکھنے کا عہدعالمی یومِ انسانی ہمدردی دراصل ایک آئینہ ہے جس میں دنیا اپنی ترجیحات دیکھ سکتی ہے۔ اگر ایک طرف انسان نے سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی کی حیرت انگیز منزلیں طے کی ہیں تو دوسری طرف کروڑوں انسان آج بھی جنگ، بھوک، بیماری اور بے گھری کا شکار ہیں۔ ترقی کا حقیقی معیار صرف بلند عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی یا مضبوط معیشتیں نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ معاشرہ اپنے کمزور ترین انسان کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔یہ دن ہمیں ان گمنام ہیروز کو یاد کرنے کا موقع دیتا ہے جو کسی تمغے یا شہرت کی خواہش کے بغیر دوسروں کی زندگی آسان بناتے ہیں۔ ان کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت کسی سرحد، زبان یا قوم کی پابند نہیں۔19 اگست کا پیغام دراصل بہت سادہ ہے کہ مصیبت میں مبتلا انسان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو نشانہ نہ بنایا جائے اور دنیا کو اس اصول پر قائم کیا جائے کہ ہر انسان کی جان، عزت اور وقار برابر اہمیت رکھتے ہیں۔کیونکہ جب دنیا کے کسی کونے میں ایک انسان دوسرے انسان کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہاں صرف ایک زندگی نہیں بچتی، انسانیت کا تصور بھی زندہ رہتا ہے۔
ڈاگیریو ٹائپ فوٹوگرافی19 اگست 1839ء کو فرانسیسی موجد لوئی ژاک مانڈے ڈاگیریو کے تیار کردہ فوٹوگرافی کے طریقے، جسے ڈاگیریو ٹائپ (Daguerreotype) کہا جاتا ہے، کو عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ اعلان فرانسیسی اکیڈمی آف سائنسز کے اجلاس میں ہوا۔ اس ایجاد کی اہمیت اس لیے غیر معمولی تھی کہ اس سے پہلے کسی منظر یا انسان کی شکل کو مستقل اور انتہائی تفصیل کے ساتھ محفوظ کرنا بہت مشکل تھا۔ ڈاگیریو ٹائپ میں چاندی سے ملمع شدہ تانبے کی پلیٹ استعمال کی جاتی تھی۔ اسے کیمیائی طریقے سے حساس بنایا جاتا، کیمرے میں رکھ کر روشنی کے سامنے لایا جاتا اور پھر کیمیائی عمل کے ذریعے تصویر ظاہر کی جاتی۔ نتیجہ ایک انتہائی باریک تفصیلات والی تصویر کی صورت میں سامنے آتا تھا۔ ڈاگیریو ٹائپ اگرچہ نسبتاً پیچیدہ، مہنگا تھا، لیکن اس نے جدید فوٹوگرافی کی بنیاد مضبوط کی۔ ڈائیپے پر اتحادی حملہ19 اگست 1942ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران فرانس کے ساحلی شہر ڈائیپے (Dieppe) پر اتحادی افواج نے ایک بڑا بحری و زمینی حملہ کیا۔ اس فوجی کارروائی کو 'آپریشن جوبلی‘ کہا جاتا ہے۔ تقریباً چھ ہزار سے زائد اتحادی فوجی اس کارروائی میں شریک ہوئے جن میں تقریباً پانچ ہزار کینیڈین تھے۔ حملہ مختلف ساحلی مقامات پر کیا گیا۔ جرمن افواج نے بھرپور مزاحمت کی اور اتحادی فوجوں کے لیے واپسی بھی انتہائی مشکل ہو گئی۔ نتیجتاً یہ کارروائی اتحادیوں کے لیے ایک بڑی فوجی ناکامی ثابت ہوئی۔ تاہم اس کارروائی سے اتحادی کمانڈروں کو معلوم ہوا کہ مضبوط جرمن ساحلی دفاع کے خلاف براہِ راست حملے میں کن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بعد میں یہ تجربات 6 جون 1944ء کے نارمنڈی حملے کی منصوبہ بندی میں اہم ثابت ہوئے۔ محمد مصدق حکومت کا خاتمہ19 اگست 1953ء کو ایران میں وزیراعظم ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور جنرل فضل اللہ زاہدی نے اقتدار سنبھال لیا۔ مصدق 1951ء میں وزیراعظم بنے تھے اور ان کی حکومت نے ایرانی تیل کی صنعت کو قومیانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام سے برطانیہ کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا کیونکہ برطانوی کمپنی ایرانی تیل کی پیداوار اور تجارت میں مرکزی کردار رکھتی تھی۔بعد میں سامنے آنے والی امریکی سرکاری دستاویزات اس واقعے میں امریکی خفیہ ایجنسی CIA اور برطانوی کردار کی تصدیق کرتی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے تاریخی دستاویزات میں واضح طور پر درج ہے کہ مصدق کو اقتدار سے ہٹانے کا عمل 19 اگست 1953ء کو کامیاب ہوا اور زاہدی کو وزیراعظم بنایا گیا۔ سپوتنک 5 کی لانچنگ19 اگست 1960ء کو سوویت یونین نے سپوتنک 5 خلا میں روانہ کیا۔ اس مشن میں دو کتے Belka اور Strelka، ایک خرگوش، 40 چوہے اور مختلف پودے اور حیاتیاتی نمونے شامل تھے۔اس مشن کی اصل اہمیت صرف جانوروں کو خلا میں بھیجنے میں نہیں تھی بلکہ انہیں محفوظ طریقے سے زمین پر واپس لانے میں تھی۔ اس سے پہلے مختلف ممالک خلا میں جانور بھیجنے کے تجربات کر چکے تھے مگر ہر مشن کامیاب نہیں ہوا تھا۔ سوویت سائنسدان یہ جاننا چاہتے تھے کہ ایک زندہ جسم خلائی سفر، راکٹ کے ارتعاش، بے وزنی اور دوبارہ زمین کی فضا میں داخل ہونے کے مراحل کو کس طرح برداشت کرتا ہے۔سپوتنک 5 نے زمین کے گرد چکر لگائے اور اگلے دن اس کا کیپسول واپس لایا گیا۔ Belka اور Strelka دونوں زندہ واپس آ گئے۔ Syncom 3کی لانچنگ 19 اگست 1964ء کو امریکہ نے Syncom 3 نامی سیٹلائٹ خلا میں روانہ کیا گیا اور بعد میں اسے خطِ استوا کے اوپر ایسی مدار میں پہنچایا گیا جہاں وہ زمین کے مقابلے میں تقریباً ساکن دکھائی دیتا تھا۔۔ یہ واقعہ جدید عالمی مواصلاتی نظام کی تاریخ میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔Syncom 3 نے جیو سٹیشنری کمیونی کیشن سیٹلائٹ کے تصور کو عملی طور پر مزید مضبوط کیا۔Syncom 3کی کامیابی کا ایک بہت مشہور عملی مظاہرہ 1964ء کے ٹوکیو اولمپکس کے دوران ہوا۔ ناسا کے تکنیکی ریکارڈ کے مطابق Syncom 3 کے ذریعے جاپان سے امریکہ تک اولمپک مقابلوں کی براہِ راست ٹیلی ویژن ترسیل میں مدد ملی۔ اسی سیٹلائٹ نے بحرالکاہل کے پار مسلسل مواصلاتی رابطے کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
نیا عالمی ریکارڈ ، نئے خطراتدنیا کے سمندر ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ان کا درجہ حرارت ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے قریب ہے۔سائنسی جریدے 'Nature‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق سمندری سطح کا غیر معمولی درجہ حرارت نہ صرف سمندری ماحولیاتی نظام کو شدید متاثر کر سکتا ہے بلکہ سمندر کی فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔یہ صورتِ حال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ سمندر محض پانی کا ایک وسیع ذخیرہ نہیں بلکہ زمین کے موسمیاتی نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔ سمندر فضا میں موجود اضافی حرارت کا بڑا حصہ جذب کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی اپنے اندر محفوظ کرتے ہیں۔ لیکن اگر پانی مسلسل گرم ہوتا جائے تو یہ قدرتی نظام اپنی کارکردگی کھونا شروع کر سکتا ہے۔سمندر گرم کیوں ہو رہے ہیں؟سمندری درجہ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔ کوئلہ، تیل اور گیس جلانے سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری حرارت روکنے والی گیسوں کی مقدار بڑھتی ہے۔ اس اضافی حرارت کا بہت بڑا حصہ سمندر جذب کر لیتے ہیں۔قدرتی موسمیاتی عوامل، خصوصاًEl Niño بھی بعض اوقات سمندری درجہ حرارت میں اچانک اضافہ کرتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال کو صرف قدرتی عوامل سے سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ طویل مدتی عالمی حدت نے سمندروں کے بنیادی درجہ حرارت کو پہلے ہی بلند کر دیا ہے جس کے اوپر قدرتی واقعات مزید گرمی کا اضافہ کر سکتے ہیں۔'Nature‘ کی رپورٹ میں جس نئے ریکارڈ کی نشاندہی کی گئی ہے وہ اسی بڑے رجحان کا حصہ ہے۔رپورٹ کے مطابق انتہائی گرم سمندری سطح سمندری حیات کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ سمندر کے کاربن جذب کرنے والے قدرتی نظام کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔یہ خدشہ محض نظری نہیں سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی ETH Zurich کے محقیقن اور ان کے ساتھیوں کی 2025 میں شائع ہونے والی تحقیق نے 2023ء کے ریکارڈ گرم سمندروں کا جائزہ لیا۔ محققین نے بتایا کہ سمندروں نے اس سال توقع کے مقابلے میں 10 فیصد کم کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کی جس سے بعض علاقوں میں سمندر سے فضا کی طرف کاربن ڈائی آکسائیڈکے اخراج میں اضافہ ہوا۔گرم سمندر کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کیوں کھو سکتے ہیں؟سمندر انسانی پیدا کردہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خلاف قدرت کا ایک اہم دفاع ہیں۔ فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک حصہ سمندر جذب کر لیتا ہے لیکن گرم پانی ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں گیسوں خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم مقدار میں اپنے اندر حل کر سکتا ہے۔یہ عمل ایک خطرناک موسمیاتی ری ایکشن پیدا کر سکتا ہے۔ اگر سمندر کم کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کریں تو فضا میں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ رہ جائے گی جس س سے گرین ہاؤس اثر مزید مضبوط ہوگا۔ عالمی درجہ حرارت بڑھے گا اور سمندر مزید گرم ہو سکتے ہیں۔ یوں ایک ایسا چکر شروع ہو گا جو موسمیاتی تبدیلی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2023ء میں گرم سمندری سطح کے باوجود بعض قدرتی عوامل نے کاربن جذب کرنے کی صلاحیت میں کمی کے اثر کو کسی حد تک متوازن کیا تاہم محققین نے خبردار کیا کہ طویل مدتی حدت یا اس سے بھی زیادہ شدید سمندری درجہ حرارت کے واقعات میں لازمی نہیں کہ یہ قدرتی مزاحمت برقرار رہے۔مرجانی چٹانیں اور سمندری حیات کو بڑا خطرہسمندری گرمی کا ایک نمایاں اثرCoral reefsیعنی مرجانی چٹانوں پر پڑتا ہے۔ مرجان نسبتاً محدود درجہ حرارت کی حدود میں بہتر طور پر زندہ رہتے ہیں۔ جب پانی غیر معمولی حد تک گرم ہوتا ہے تو مرجان سفید پڑنے لگتے ہیں جسے کورل بلیچنگ کہا جاتا ہے۔ مرجانی چٹانیں ہزاروں سمندری جانداروں کو خوراک، پناہ اور افزائش کی جگہ فراہم کرتی ہیں اور ساحلی علاقوں کو لہروں سے تحفظ بھی دیتی ہیں۔ کیا کرنا چاہیے؟سائنسدانوں کے نزدیک سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ سمندر اس سال کتنا گرم ہوگا بلکہ یہ ہے کہ یہ گرمی مستقبل میں کتنی بار اور کتنی شدت سے واپس آئے گی؟میرین ہیٹ ویو گزشتہ دو دہائیوں میں تقریباً تمام سمندروں اور سمندری خطوں میں حیاتیاتی، ماحولیاتی اور معاشی تبدیلیوں کا سبب بنی ہیں۔ ان کے اثرات میں مچھلیوں کا نقصان، کورل ریفس کو نقصان اور بعض بڑے سمندری جانوروں کی اموات شامل ہیں۔ محققین کے مطابق طویل مدت میں ان خطرات کا بنیادی حل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی ہے۔دنیا کو ایک طرف فوسل فیول کے استعمال اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے کمی لانا ہوگی جبکہ دوسری طرف سمندری محفوظ علاقوں، پائیدار ماہی گیری،مرجان کی بحالی اور سمندری مانیٹرنگ پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔سمندروں کا نیا درجہ حرارت ریکارڈ محض ایک عدد نہیں ہوگا یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ زمین کا وہ قدرتی نظام جو صدیوں سے حرارت اور کاربن کو جذب کرکے انسانی تہذیب کو سہارا دیتا آیا ہے کس حد تک دباؤ میں آ چکا ہے۔ اگر سمندر اپنی حرارت اور کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کھونے لگے تو موسمیاتی تبدیلی کی رفتار اور اس کے اثرات دونوں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے سمندری حدت کو مستقبل کی ایک وارننگ سمجھنا چاہیے۔ جتنا زیادہ عالمی درجہ حرارت بڑھے گا سمندروں کے لیے ہماری غلطیوں کو برداشت کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔
معمولی سرگرمی ، بڑے فائدے لفٹ استعمال کریں یا سیڑھیاں چڑھیں، بظاہر یہ ایک چھوٹا فیصلہ ہے لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق سیڑھیاں چڑھنے جیسی سادہ جسمانی سرگرمی دل کی صحت اور مجموعی زندگی پر نمایاں اثرات ڈال سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا اورنارفوک این ناروک یونیورسٹی ہاسپٹل کے محققین کی ایک تحقیق میں چار لاکھ اسی ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھنے والے افراد میں دل کی بیماری سے موت اور مجموعی طور پر موت کا خطرہ کم تھا۔ یہ تحقیق اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس کے لیے کسی مہنگے جم، خصوصی آلات یا روزانہ طویل ورزش کی ضرورت نہیں۔ عام زندگی میں لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کا انتخاب جسمانی سرگرمی میں اضافہ کرنے کا ایک آسان طریقہ بن سکتا ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم نے تقریباً 1900 سٹڈیز کا جائزہ لینے کے بعد نو اعلیٰ معیار کی سٹڈیز کو تجزیے میں شامل کیا۔ ان مطالعات میں مجموعی طور پر 480,479 افراد شامل تھے اور شرکاکی عمریں تقریباً 35 سے 84 سال کے درمیان تھیں۔ ان افراد کو کئی سال تک فالو کیا گیا۔ تحقیق کے سب سے قابلِ توجہ نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ جو لوگ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھتے تھے ان میں سیڑھیاں کم چڑھنے والے افراد کے مقابلے میںcardiovascular disease سے موت کا خطرہ تقریباً 39 فیصد کم پایا گیا۔ اسی طرح کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ تقریباً 24 فیصد کم تھا۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھنے والے افراد میں بعض اہم قلبی بیماریوں، مثلاًہارٹ اٹیک،سٹروک اور ہارٹ فیل ہونے کا خطرہ بھی کم تھا۔ سیڑھیاں اتنی مفید کیوں ہیں؟تحقیق کے مصنفین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دل کے امراض دنیا بھر میں موت کی ایک بڑی وجہ ہیں۔محققین نے بتایا کہ دل کے امراض دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے اور ان کے کیسز کی تعداد میں 1990ء سے 2019ء کے درمیان لگ بھگ دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بہت سے خطرات صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے کم کیے جا سکتے ہیں۔ محقیقین کے مطابق سیڑھیاں چڑھنا روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی بڑھانے کا ایک عملی مگر طریقہ ہے، جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ تحقیق کی شریک کار ڈاکٹر سوفی پیڈک کے مطابق سیڑھیاں چڑھنے کی خاص خوبی یہ ہے کہ اسے الگ سے ورزش کا وقت نکالے بغیر گھر، دفتر یا باہر معمول کی زندگی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختصر دورانیے کی جسمانی سرگرمی بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ سیڑھیاں چڑھتے وقت جسم کے کئی بڑے عضلات بیک وقت کام کرتے ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے۔ اس طرح یہ سرگرمی مختصر وقت میں جسم میں نسبتاً زیادہ کارڈیو وسکولر ڈیمانڈ پیدا کرتی ہے۔روزانہ کتنی سیڑھیاں چڑھنی چاہئیں؟اس تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بعض مطالعات میں تقریباً چھ فلائٹس یعنی تقریباً 60 سے 70 سیڑھیوں کے برابر روزانہ چڑھنے پر نمایاں فائدہ دیکھا گیا، لیکن محققین نے واضح کیا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ہر شخص کے لیے روزانہ چھ فلائٹس ہی ضروری ہیں۔ تحقیق کا اصل پیغام یہ ہے کہ چھوٹی جسمانی ورزش بھی بے معنی نہیں ہوتی۔ اگر کسی عمارت میں لفٹ اور سیڑھی دونوں موجود ہوں اور صحت اور جسمانی صلاحیت اجازت دے تو سیڑھی کا استعمال روزمرہ ورزش کا ایک آسان ذریعہ بن سکتا ہے۔خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو جم جانے، دوڑنے یا طویل ورزش کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ سیڑھیاں ان کے لیے قابلِ عمل راستہ فراہم کرتی ہیں۔ دن میں کئی مختصر مواقع پر چند منزلیں چڑھنا بھی مجموعی جسمانی سرگرمی میں شامل ہو سکتا ہے۔یہ تحقیق کیا سبق دیتی ہے؟اس تحقیق کا سب سے اہم سبق شاید یہ ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ہر سرگرمی کا باقاعدہ ورزش کے نام سے ہونا ضروری نہیں۔ صحت کے لیے ہمارے روزمرہ کے چھوٹے فیصلے بھی اہم ہو سکتے ہیں۔ لفٹ کے بجائے سیڑھی، گاڑی کے بجائے کچھ فاصلے تک پیدل چلنا یا مسلسل بیٹھنے کے بجائے درمیان میں اُٹھ کر چلنا،یہ سب مجموعی طور پر جسمانی سرگرمی بڑھانے کے طریقے ہیں۔ یہ تحقیق اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ دل کی صحت بہتر بنانے کے لیے جسمانی سرگرمی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ البتہ دل کی صحت صرف سیڑھیاں چڑھنے سے وابستہ نہیں صحت مند غذا، تمباکو نوشی سے پرہیز، مناسب وزن، بلڈ پریشر،کولیسٹرول اورزیابیطس سے بچنا بھی اہم عوامل ہیں۔ مگر ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔ جن افراد کو جوڑوں کی شدید تکلیف ہے یا کوئی اہم طبی مسئلہ ہو ان کے لیے سیڑھیاں چڑھنا مناسب نہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کو اپنی جسمانی حالت کے مطابق ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
روآنُوک بستی کا معمہ18 اگست 1590ء کو شمالی امریکہ کی انگریزی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک مشہور اور آج تک حل نہ ہونے والا واقعہ پیش آیا۔ انگریز مہم جُو اور روآنُوک بستی کا گورنر جان وائٹ تین سال کی طویل غیر حاضری کے بعد روآنُوک جزیرے پر واپس پہنچا تو وہاں آبادکاروں کا کوئی نشان موجود نہیں تھا۔ اس واقعے نے بعد میں ''گم شدہ روآنُوک بستی‘‘ کے نام سے ایک تاریخی معمے کو جنم دیا۔وائٹ 18 اگست 1590ء کو بستی کے مقام پر پہنچا اور وہاں نہ کوئی انسان ملا نہ کوئی واضح جنگی تباہی کے آثار البتہ ایک درخت پر ''کرو‘‘ اور قلعہ نما حفاظتی دیوار پر ''کروایٹون‘‘ کے الفاظ کندہ تھے۔ مورخین آج تک قطعی طور پر یہ نہیں بتا سکے کہ آبادکاروں کے ساتھ کیا ہوا۔ مریخ کا چاند دریافت18 اگست 1877ء کو امریکی ماہرِ فلکیات آساف ہال نے مریخ کے دوسرے چاند فوبوس کو دریافت کیا۔ یہ دریافت واشنگٹن ڈی سی میں واقع امریکی بحری رصدگاہ میں ہوئی۔ ناسا کے مطابق آساف ہال نے 1877ء میں مریخ کے دونوں چاند دریافت کیے؛ پہلے ڈیموس اور اس کے چند دن بعد فوبوس کو شناخت کیا۔فوبوس مریخ کا سب سے بڑا اور مریخ کے سب سے قریب گردش کرنے والا چاند ہے۔ اس کا مدار مریخ کی سطح سے تقریباًچھ ہزار کلومیٹر بلند ہے اور یہ تقریباً ساڑھے سات گھنٹے میں مریخ کے گرد ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ بعد میں خلائی مشنز نے فوبوس اور ڈیموس کا تفصیلی مطالعہ کیا جس سے مریخ کے ماضی، اس کے چاندوں کی ساخت اور ان کے ارتقائی امکانات کو سمجھنے میں مدد ملی۔ کارل جاتھو کی پروازجرمن موجد اور انجینئر کارل جاتھو نے 18 اگست 1903ء کو جرمنی کے شہر ہنوور کے قریب اپنے تیار کردہ موٹر سے چلنے والے طیارے کو اڑانے کا تجربہ کیا۔ بعض روایات کے مطابق جاتھو نے کئی مختصر پروازیں کیں ۔واضح رہے رائٹ برادران نے 17 دسمبر 1903ء کو امریکہ کے علاقے کٹی ہاک میں اپنی مشہور پہلی کامیاب پرواز کی تھی یعنی جاتھو کے مبینہ تجربے کے تقریباً چار ماہ بعدتاہم جاتھو کو دنیا کا پہلا کامیاب ہواباز تسلیم کرنے پر مورخین میں اختلاف ہے۔ ان کی پرواز کے شواہد رائٹ برادران کے مقابلے میں کم واضح اور کم دستاویزی ہیں اسی وجہ سے عام طور پر رائٹ برادران کو پہلی باقاعدہ ہوائی پرواز کا کریڈٹ دیا جاتا ہے تاہم جاتھو کی کوششیں ہوابازی کی ابتدائی ترقی میں قابلِ ذکر ضرور ہیں۔امریکی خواتین کا حقِ رائے دہی 18 اگست 1920ء کو ریاست ٹینیسی نے امریکی آئین کی انیسویں ترمیم کی توثیق کرکے خواتین کے حقِ رائے دہی کی آئینی راہ ہموار کردی۔ ٹینیسی اس ترمیم کی توثیق کرنے والی 36ویں ریاست تھی اور اس وقت آئینی ترمیم کے لیے تین چوتھائی ریاستوں کی منظوری ضروری تھی۔خواتین کو ووٹ کا حق دلانے کی جدوجہد کئی دہائیوں پر محیط تھی۔ خواتین کی منظم حقِ رائے دہی کی تحریک 19ویں صدی کے وسط میں مضبوط ہوئی ۔ 18 اگست1920ء کو ترمیم کی ریاستی توثیق مکمل ہوئی جبکہ اسے امریکی آئین کا باقاعدہ حصہ قرار دینے کی وفاقی تصدیق 26 اگست کو وزیر خارجہ بین برج کولبی نے کی۔اس واقعے نے امریکی جمہوریت میں خواتین کی سیاسی شرکت کو آئینی بنیاد فراہم کی اور خواتین کے لیے قومی سطح پر سیاسی عمل میں شرکت کا راستہ کھولا۔ انڈونیشیا ، آئین کی منظوری 18اگست 1945ء کو انڈونیشیا کا آئین منظور کیا گیا، اس طرح آزادی کے اعلان کے فوراً بعد ملک کو ایک باقاعدہ سیاسی قیادت فراہم ہوگئی اور ایک قومی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ پارلیمانی اداروں کے باقاعدہ قیام تک صدر اور نائب صدر کے کام میں معاونت کی جا سکے۔ انڈونیشیا کے بنیادی ریاستی اصول جنہیں پنچ سیلا کہا جاتا ہے کی حتمی آئینی صورت بھی اسی مرحلے میں سامنے آئی۔ پنچ سیلا کی تشکیل طویل سیاسی اور فکری عمل کا نتیجہ تھی جس کی حتمی صورت 18 اگست 1945ء کو طے ہوئی۔یوں 18 اگست 1945ء محض آزادی کے اگلے دن کا ایک اجلاس نہیں تھا بلکہ نئی انڈونیشی ریاست کو عملی حکومتی شکل دینے کا بنیادی مرحلہ تھا۔
خوراک کا انتخاب صرف صحت ہی نہیں، زمین کے مستقبل پر بھی اثرانداز ہوتا ہےدنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے سنگین بحران سے دوچار ہے اور اب تک اس کی بڑی وجوہات میں صنعتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، فوسل ایندھن کا بے دریغ استعمال اور بڑھتی ہوئی آبادی کو شمار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ سائنسی تحقیق نے اس بحث میں ایک نیا اور حیران کن پہلو شامل کر دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق جنریشن الفا (2010ء کے بعد پیدا ہونے والے بچوں) اور بالخصوص نوعمر افراد کی غذائی عادات بھی موسمیاتی تبدیلی پر نمایاں اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت، پراسیسڈ فوڈ اور زیادہ کاربن اخراج سے وابستہ غذاؤں کا بڑھتا ہوا استعمال نہ صرف ماحول پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے بلکہ مستقبل میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مزید اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔عالمی سطح پر بچے اور نوجوان خوراک سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے لحاظ سے کسی بھی دوسری عمر کے گروہ سے آگے ہیں۔تشویشناک بات یہ ہے کہ ان بڑھتے ہوئے اخراج کا تعلق غیر صحت بخش غذائی عادات سے بھی ہے، جس کے نتیجے میں ناقص غذائیت اور تیز ہوتی موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں ایک ''دوہرے بحران‘‘ نے جنم لیا ہے۔ بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے 149 ممالک اور عمر کے 22 مختلف گروہوں کی غذائی عادات کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق کیلئے 2000ء سے 2019ء کے درمیان جمع کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ جنریشن الفا اور جنریشن زی کی زیادہ کاربن اخراج والی غذائی عادات کی بنیادی وجہ گوشت، پراسیسڈ غذاؤں اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ہے۔تحقیق کے شریک مصنف، یونیورسٹی آف برمنگھم کے پروفیسر یولی شان کا کہنا ہے کہ یہ حیران کن نتیجہ اس عام تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ زیادہ عمر کے افراد ہی سب سے زیادہ کاربن پیدا کرنے والے صارفین ہوتے ہیں۔ یہ نتائج پالیسی سازوں کیلئے ایک اہم چیلنج ہیں، کیونکہ بڑھتے ہوئے کاربن اخراج پر قابو پانے کیلئے انہیں خوراک، صحت اور ماحول سے متعلق نئی اور مؤثر حکمت عملیاں اختیار کرنا ہوں گی۔تاہم محققین نے دریافت کیا ہے کہ مختلف عمر کے افراد اس مجموعی کاربن فٹ پرنٹ میں یکساں کردار ادا نہیں کرتے بلکہ ہر عمر کے گروہ کا حصہ مختلف ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد غذائی عادات کے باعث سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔سال 2000ء سے 2019 ء کے درمیان خوراک سے متعلق عالمی کاربن اخراج میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی 2.1 ارب ٹن کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ بزرگ افراد کا تھا۔جاپان، امریکہ اور مغربی یورپ جیسے اعلیٰ آمدنی والے خطوں میں خوراک سے متعلق مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا 22 سے 29 فیصد حصہ اب 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد سے منسلک ہے۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ بزرگ افراد کی غذائی عادات ماحول کیلئے زیادہ نقصان دہ ہیں، بلکہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں بزرگ آبادی کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔خاص طور پر خوشحال ممالک میں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی آبادی نے انہیں غذائی نظام سے پیدا ہونے والے کاربن اخراج میں سب سے تیزی سے اضافہ کرنے والا عمر کا گروہ بنا دیا ہے۔تاہم فی فرد کے حساب سے دیکھا جائے تو نوجوانوں کی غذائی عادات اب بھی بزرگ افراد کے مقابلے میں زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث بنتی ہیں۔محققین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ نوجوانوں میں جانوروں سے حاصل ہونے والی غذاؤں، خصوصاً سرخ گوشت، کے بڑھتے ہوئے استعمال کا رجحان ہے۔ متعدد تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ گوشت پر مبنی غذائیں نباتاتی خوراک کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب بنتی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق روزانہ صرف 100 گرام گوشت، جو ایک عام برگر سے بھی کم مقدار ہے، استعمال کرنے سے مکمل نباتاتی غذا کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوتی ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کی ذمہ داری صرف نئی نسل پر عائد ہوتی ہے، لیکن یہ تحقیق اس جانب ضرور توجہ دلاتی ہے کہ ماحول دوست طرزِ زندگی اور متوازن غذائی انتخاب کی تعلیم بچپن ہی سے دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔غذائی نظام گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا بڑا ذریعہ دنیا بھر کا غذائی نظام اس وقت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر پیدا ہونے والی مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کا تقریباً ایک تہائی حصہ خوراک کی پیداوار اور فراہمی کے نظام سے وابستہ ہے۔یہ اخراج کئی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں کاشتکاری کیلئے جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی، مویشیوں خصوصاً گائے اور بیلوں سے خارج ہونے والی میتھین گیس، مصنوعی کھادوں کے استعمال سے پیدا ہونے والی گیسیں اور خوراک کو دنیا بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کیلئے استعمال ہونے والے ایندھن کا جلنا شامل ہیں۔نباتاتی غذائیں ماحول کیلئے بہترین قرارمحققین نے یہ بھی پایا کہ نباتاتی غذا(ایسی خوراک جو بنیادی طور پر پودوں سے حاصل کی جاتی ہے) اختیار کرنے والے افراد کی خوراک سے پیدا ہونے والا گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، گوشت کھانے والے افراد کے مقابلے میں صرف 25 فیصد رہ جاتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نباتاتی غذا ماحول پر نسبتاً کم منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جنریشن الفا کی گوشت سے بھرپور غذائی عادات انہیں ان بزرگ افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ آلودگی پھیلانے والا بنا رہی ہیں، جو نسبتاً کم جانوروں سے حاصل ہونے والی غذائیں استعمال کرتے ہیں۔
سمرقند میں عظمت تیموری کی شاندار یادگارسمرقند کی تاریخی سرزمین پر قدم رکھتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان صدیوں پر محیط تاریخ کے ایک زندہ باب میں داخل ہوگیا ہو۔ نیلے گنبدوں، بلند میناروں، نفیس نقش و نگار اور شاندار تیموری طرزِ تعمیر سے آراستہ یہ شہر وسطی ایشیا کی تہذیبی عظمت کا آئینہ دار ہے۔ اسی تاریخی شہر میں واقع مسجد بی بی خانم نہ صرف ایک عظیم الشان مذہبی عمارت بلکہ اسلامی فن تعمیر اور تیموری عہد کی شان و شوکت کی ایک قابلِ دید یادگار بھی ہے۔روایات کے مطابق بی بی خانم، امیر تیمور کی اہلیہ تھیں اور دین اسلام، عبادت اور مذہبی امور سے گہری وابستگی رکھتی تھیں۔ امیر تیمور نے اپنی اہلیہ کی خوشی اور عقیدت کے اظہار کیلئے سمرقند میں ایک ایسی عظیم مسجد تعمیر کروانے کا ارادہ کیا جو اپنے حجم، حسن اور شان و شوکت کے اعتبار سے منفرد ہو۔ چنانچہ اس دور کے ماہر معماروں اور کاریگروں نے اپنی فنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مسجد بی بی خانم کی تعمیر کا آغاز کیا۔ تکمیل کے بعد یہ مسجد اپنے زمانے میں وسطی ایشیا کی عظیم ترین مساجد میں شمار ہونے لگی۔مسجد کا سب سے نمایاں وصف اس کا شاندار طرز تعمیر ہے۔ بلند و بالا محرابیں، عظیم الشان گنبد، بلند مینار اور خوبصورت تزئینی کام دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ عمارت کے مختلف حصوں پر نیلے، فیروزی اور سفید رنگ کی ٹائلوں سے بنائے گئے نقش و نگار تیموری فن تعمیر کی نفاست کا اظہار کرتے ہیں۔ مسجد کی دیواروں اور محرابوں پر کی گئی خطاطی اور تزئینی آرائش اس دور کے فنکاروں کی غیر معمولی مہارت کی گواہی دیتی ہے۔صدیاں گزرنے کے باوجود مسجد بی بی خانم سمرقند کی شناخت کا اہم حصہ رہی، تاہم وقت کے ساتھ قدرتی آفات اور موسمی اثرات نے اس تاریخی عمارت کو شدید متاثر کیا۔ بالخصوص 1966ء کے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں مسجد کے مختلف حصوں کو نمایاں نقصان پہنچا۔ عظیم گنبد اور دیگر تعمیراتی حصوں کو پہنچنے والے نقصانات نے اس تاریخی ورثے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے۔ تاہم بعدازاں اس کی بحالی اور تحفظ کیلئے مختلف ادوار میں اقدامات کیے گئے۔مسجد کی مرمت اور بحالی کے دوران اس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا کہ اس کی اصل تاریخی اور معماری شناخت برقرار رہے۔ ماہرین تعمیرات اور ہنرمندوں نے قدیم نقش و نگار، ٹائلوں اور تعمیراتی اسلوب کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور اسی طرز پر بحالی کا کام انجام دیا۔ یوں مسجد کے کئی حصوں کو دوبارہ اس انداز میں آراستہ کیا گیا کہ قدیم تیموری فن تعمیر کی جھلک برقرار رہے۔ ازبکستان کے ماہر کاریگروں نے روایتی نقش و نگاری اور ٹائل سازی کی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے اس تاریخی ورثے کی خوبصورتی کو بڑی حد تک بحال کیا۔آج مسجد بی بی خانم نہ صرف عبادت اور مذہبی عقیدت کا مرکز ہے بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کیلئے بھی ایک اہم تاریخی مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بلند گنبد اور مینار دور سے ہی سمرقند کی عظمت کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مسجد کے قریب ایک وسیع اور خوبصورت منقش بازار بھی قائم ہے جہاں مقامی لوگ اور سیاح مختلف اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزیں خریدتے ہیں۔ یہ بازار سمرقند کی قدیم تجارتی روایت اور موجودہ شہری زندگی کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔مسجد بی بی خانم دراصل صرف اینٹوں، پتھروں اور ٹائلوں سے بنی ہوئی عمارت نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی تہذیبی، مذہبی اور فنی داستان ہے۔ اس کے بلند مینار تیموری دور کی عظمت کی یاد دلاتے ہیں، جبکہ اس کے مرمت شدہ حصے یہ پیغام دیتے ہیں کہ زندہ قومیں اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھ کر آنے والی نسلوں سے جوڑتی ہیں۔ سمرقند آنے والا شاید اس شہر کی بہت سی عمارتیں دیکھے، مگر مسجد بی بی خانم کی عظمت اور حسن کا نقش اس کے ذہن و دل پر ایک دیرپا اثر چھوڑے بغیر نہیں رہتا۔
12 اگست کو عالمی یومِ نوجوانان منایا جاتا ہے۔ یہ دن نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور بالخصوص ان نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے مخصوص ہے جو تبدیلی کی قیادت کر رہے ہیں اور ایک بہتر مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔گنیز ورلڈ ریکارڈز ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی کامیابیوں کو سراہنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ عظمت اور کامیابی کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ یہاں ایسے ہی چند حوصلہ افزا اور متاثر کن مثالیں پیش کی جا رہی ہیں۔انسانی کیلکولیٹربھارتی ریاست مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ آریان شکلا نے اپنی غیر معمولی ریاضی کی صلاحیتوں سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے ذہنی حساب کتاب میں کئی عالمی ریکارڈ اپنے نام کیے ہیں۔ آریان اتنی تیزی سے ذہنی حساب کر سکتے ہیں کہ شاید کیلکولیٹر میں اعداد ٹائپ کرنے میں بھی اس سے زیادہ وقت لگ جائے۔آریان کے نام 50 پانچ ہندسوں والے نمبروں کو ذہنی طور پر جمع کرنے کا تیز ترین عالمی ریکارڈ ہے، جس کیلئے انہوں نے محض 25.19 سیکنڈ کا وقت لیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 100 چار ہندسوں والے نمبروں کو ذہنی طور پر جمع کرنے کا تیز ترین ریکارڈ بھی قائم کیا، جس کیلئے صرف 30.9 سیکنڈ درکار ہوئے۔آریان گلوبل مینٹل کیلکولیٹرز ایسوسی ایشن (GMCA) کے بانی بورڈ اراکین میں شامل ہیں۔ ٹائم میگزین کی کم عمر ترین شخصیتامریکی ریاست کولوراڈو سے تعلق رکھنے والی گیتانجلی راؤ نے صرف 10 سال کی عمر میں ایک ایسا چھوٹا سا آلہ تیار کرنا شروع کیا جس کا نام ''ٹیتھس‘‘ (Tethys) رکھا گیا۔ یہ آلہ پانی میں سیسے کی موجودگی کا پتا لگا سکتا ہے، جو انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔گیتانجلی کی ایک اور قابلِ ذکر ایجاد ''کائنڈلی‘‘ (Kindly) ہے، جو ایک کمپیوٹر ٹیکنالوجی ہے اور سائبربُلنگ یعنی انٹرنیٹ پر دوسروں کو ہراساں کرنے یا دھمکانے کے واقعات کی روک تھام میں مدد دیتی ہے۔ کم عمری میں متعدد نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے پر گیتانجلی راؤ نے ٹائم میگزین کی ''کڈ آف دی ایئر‘‘ بننے والی پہلی شخصیت کا اعزاز حاصل کیا۔کم عمر فیشن ڈیزائنر18 نومبر 2023ء کو امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور سے تعلق رکھنے والے میکس الیگزینڈر نے صرف 7 سال اور 266 دن کی عمر میں دنیا کے کم عمر ترین رَن وے شو ڈیزائنر کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ انہیں ڈینور فیشن ویک میں اپنے ملبوسات پیش کرنے کا موقع ملا۔کم عمر ترین ایم بی ای اعزاز یافتہ بچیبرطانیہ کے علاقے ڈورسیٹ سے تعلق رکھنے والی کارمیلا چِلری واٹسن نے صرف 11 سال اور 78 دن کی عمر میں MBE کا اعزاز حاصل کرکے تاریخ رقم کی۔ وہ برطانوی سلطنت کے انتہائی ممتاز ترین اعزاز(Member of the Most Excellent Order of the British Empire)حاصل کرنے والی کم عمر ترین شخصیت بن گئیں۔ یہ ایک باوقار شاہی اعزاز ہے جو بادشاہ کی جانب سے دنیا کیلئے غیر معمولی خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔کارمیلا نے '' LMNA congenital muscular dystrophy‘‘ نامی پٹھوں کو کمزور کرنے والی بیماری کی تشخیص ہوئی۔ اس کے باوجود انہوں نے مختلف فلاحی سرگرمیوں اور فنڈ ریزنگ منصوبوں کے ذریعے اب تک 36 ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم خیراتی اداروں کیلئے جمع کی ہے۔
انسانی تاریخ علم و دانش کی ایسی بے شمار روشن مثالوں سے عبارت ہے جہاں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی اپنی علمی، ادبی اور تحقیقی صلاحیتوں کے ذریعے ایسے نقوش چھوڑے جو صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی نمایاں ہیں۔ خصوصاً اسلامی تہذیب کے عہد زریں میں خواتین نے علم کے فروغ، تعلیم کے استحکام اور معاشرے کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہی باہمت اور صاحب علم خواتین میں ایک نام فاطمہ الفہری کا ہے، جنہیں علمی دنیا میں غیر معمولی مقام حاصل ہے۔فاطمہ الفہری نے ایسے دور میں علم کی شمع روشن کرنے کا عزم کیا جب تعلیم کے مواقع محدود تھے اور علمی اداروں کا قیام آسان کام نہ تھا۔ انہوں نے اپنی خداداد صلاحیت، عزم و حوصلے اور علم دوستی کے ذریعے ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے نہ صرف ان کے عہد کو متاثر کیا بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے بھی ایک روشن مثال قائم کر دی۔ ان کا نام بالخصوص مراکش کے شہر فاس میں قائم ہونے والے جامعہ القرویین (Al-Qarawiyyin University)سے وابستہ ہے، جسے دنیا کے قدیم ترین مسلسل قائم رہنے والے تعلیمی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔فاطمہ الفہری آٹھویں صدی کے آخر میں تیونس کے شہر القیروان میں پیدا ہوئیں۔ بعدازاں ان کا خاندان میفاس مراکش منتقل ہو گیا تھا۔ اُس زمانے میں مراکش اسلامی تہذیب و ثقافت کا ایک بہت بڑا علمی مرکز تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم اپنے والد محمد الفہری جو ایک تاجر اور پڑھی لکھی شخصیت تھے، کی زیر سرپرستی گھر میں ہی حاصل کی۔ ان کا خاندان چونکہ شروع سے ہی علم دوست اور خوشحال تھا، اس لیے انہوں نے بچپن میں قیروان تیونس میں اسلامی علوم سیکھے اور بعد میں فاس مراکش منتقل ہو جانے کے بعد اسلامی علوم سیکھے۔ چند تاریخی روایات کے مطابق انہوں نے اسلامی فقہ اور ریاضی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔والد کے انتقال کے بعد انھیں اپنے والد سے وراثت میں سے خاصی جائیداد ملی۔انہوں نے اپنی دولت کا بہترین استعمال کیا اور اپنی دولت کو اپنی ذاتی آسائشوں کیلئے استعمال کرنے کے بجائے تعلم و علم کی راہ پر وقف کر دیا۔ جب بغداد، قرطبہ، غرناطہ اور فاس جیسے شہروں میں تحقیق، فلسفے اور سائنس کی ترقی پھیل رہی تھی، تو انھوں نے اسی علمی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے 859ء میں مراکش میں ایک مسجد اور علمی درسگاہ بنائی جو بعد میں جامعہ القرویین کے نام سے مشہور ہوئی۔ جس کو دنیا کی پہلی اسلامی اور باقاعدہ ڈگری جاری کرنے والی یونیورسٹی بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ یونیسکو، بلکہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق یہ ایک قدیم ترین تعلیمی ادارہ ہے۔ جامعہ القرویین کی بنیاد پر ہی دنیا کی جدید یونیورسٹیز کی بنیاد رکھی گئی۔ جن میں یورپی جامعات، آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیز بھی شامل ہیں۔یہ ایک جدید طرز کی اعلیٰ تعلیم گاہ تھی، جہاں مختلف علوم کی تدریس دی جاتی تھی، جن میں اسلامی علوم، عربی زبان و ادب، ریاضی، فلکیات، منطق اور فلسفہ، طبعیات اور کیمیا وغیرہ شامل تھے۔ یہاں کا نصاب جدید خطوط پر استوار تھا۔ اس عظیم ادارے سے نہ صرف مسلم مفکرین ابن خلدون، ابن رشد اور موسیٰ بن میمون نے تعلیم حاصل کی بلکہ مسیحی اور یہودی سکالرز جن میں مشہور یورپی سکالر پوپ سلویسٹر دوم شامل ہیں، جو بعد میں یورپ میں تعلیمی اصلاحات کے بانیوں میں شمار ہوئے، بھی یہیں سے فیض یاب ہوئے۔یوں یہ تعلیمی ادارہ ایک طرح سے مختلف تہذیبوں، ثقافت اور مذاہب کا مرکز بن گیا۔ ماضی میں قرونِ وسطی کے یورپ میں تعلیم کی روشنی پھیلانے میں کئی اہم مفکرین بالواسطہ اور بلاواسطہ اسی یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل طالب علموں نے نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ یورپ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔فاطمہ الفہری نے صرف مردوں کیلئے نہیں بلکہ خواتین کی تعلیم کیلئے بھی اہم اقدامات کیے۔ مسجد اور جامعہ کے اندر ایک مخصوص گیلری یا ہال جس کو ''رواق‘‘ کہا جاتا بنایا تاکہ خواتین پردے کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکیں، اس طرح خواتین بڑے بڑے علماء کرام اور فقہاء کرام کے لیکچررز بغیر کسی پریشانی کے بڑی سہولت کے ساتھ سن سکتی تھیں۔ یہ ادارہ صرف علم فراہمی کا ہی کام نہیں کرتا تھا بلکہ یہاں علمی مباحث، سوال جواب کرنے کا بھی اہتمام ہوتا تھا۔ جن سے نہ صرف مرد بلکہ خواتین کو بھی عملی میدان میں آگے بڑھنے کی جستجو ہوتی تھی۔ فاطمہ الفہری خود اپنی بہن مریم الفہری کے ساتھ جامعہ کی علمی، ادبی اور تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لیتیں اور نگرانی کیا کرتی تھیں۔ اس طرح یہاں کی تعلیم صنف کے لحاظ سے مساوی تعلیم کے لحاظ سے جدید تعلیمی درسگاہ بھی ہے۔الغرض ان کا یہ کارنامہ نہ صرف اسلامی بلکہ عالمی علمی ورثے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ فاطمہ الفہری کا یہ عظیم علمی قدم معاشی اور معاشرتی لحاظ سے خود مختاری کو فروغ دیتا ہے۔ فاطمہ الفہری آج کی ان خواتین کیلئے ایک روشن مثال ہیں جو اپنی زندگی میں بااختیار بن رہی ہیں، اگر آج کی خواتین اس مثال کو سامنے رکھیں تو وہ بھی اپنا نام رہتی دنیا تک سنہری حروف میں شامل کر سکتی ہیں جو ایک ترقی یافتہ اور باشعور و خوشحال معاشرے کی بنیاد بنتی ہیں۔فاطمہ الفہری کی زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ علم کی خدمت کیلئے نہ جنس رکاوٹ ہے، نہ زمانہ اور نہ ہی حالات۔ ان کی داستان دراصل ایک ایسی خاتون کی داستان ہے جس نے اپنے عزم، سخاوت اور علم سے محبت کے ذریعے تاریخ کے صفحات پر اپنا نام ہمیشہ کیلئے ثبت کردیا۔
اناطولیہ میں زلزلہشمالی اناطولیہ میں 17 اگست 1668 ء کوخوفناک زلزلے نے تباہی مچائی جس کی شدت 7.8 سے 8.0 تک ریکارڈ کی گئی۔ تقریباً8ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ یہ اس وقت تک ترکی میں ریکارڈ کئے جانے والا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔شمالی اناطولیہ دو ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان واقع ہے،یہی وجہ ہے کہ یہاں اکثر زلزلوں کے جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں۔انڈونیشیا کی آزادی کا اعلاندوسری جنگ عظیم کے اختتام پر 15 اگست 1945ء کو جاپان نے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا۔ جاپانی قبضے کے خاتمے اور ڈچ نوآبادیاتی حکومت کی عدم موجودگی نے ایک سیاسی خلا پیدا کیا جسے انڈونیشی قوم پرست قیادت نے آزادی کے اعلان کیلئے تاریخی موقع سمجھا۔ سوئیکارنو اور محمد حتّا نے ایک سادہ سی تقریب میں انڈونیشیا کی آزادی کا اعلان کیا۔آپریشن ہائیڈرا17اگست1943ء کی رات کو رائل ائیر فورس کی جانب سے جرمن سائنسی تحقیقی مرکز پر حملہ کیا گیا ۔ اس حملے کو ''آپریشن ہائیڈرا‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جس میں جرمنی کے دوراکٹ سائنسدان ہلاک ہوئے جو ایک خصوصی راکٹ پروگرام پر کام کر رہے تھے۔ان دونوں کی ہلاکت کی وجہ سے راکٹ پروگرام میں دو سال کی تاخیر ہوئی۔ریگنز برگ مشندوسری عالمی جنگ کے دوران 17 اگست 1943ء کو امریکی فوج کی جانب سے ایک بھرپور فصائی حملہ کیا گیا۔اس مشن کو ''ڈبل سٹرائیک مشن ‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔یہ امریکی مشن ان چند حملوں میں سے ایک تھا جس میں مشن پر جانے والی افواج نے پہلی کارروائی پوری کرنے کے بعد واپس آنے سے قبل دوسرے ہدف کو بھی نشانہ بنایا۔ سٹریتھ فیلڈ قتل عام17اگست1991ء کو سڈنی ، آسٹریلیا ، فیلڈ سٹریتھ میں ایک شاپنگ مال میں فائرنگ کا ہنگامہ خیز واقع پیش آیا۔ فائرنگ فرینکم نامی شخص کی جانب سے کی گئی جس نے پولیس کے موقع پر پہنچنے سے قبل خودکشی کر لی۔اس واقعہ میں8افراد ہلاک جبکہ 6زخمی ہوئے۔ فرینکم کے گھر سے پر تشدد لٹریچر اور فلموں کی کاپیاں بھی ملیں۔ مائیکل فیلپس کا تاریخی ریکارڈ2008ء میں ہونے والی بیجنگ اولمپکس میں امریکی تیراک مائیکل فیلپس نے 17 اگست کو آٹھ سونے کے تمغے جیت کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جو آج تک اولمپک تاریخ کا یادگار لمحہ سمجھا جاتا ہے۔اس سے قبل 1972ء کے میونخ اولمپکس میں مارک اسپِٹز نے تیراکی میں سب سے زیادہ سات طلائی تمغے جیتنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا جو 36 برس تک ناقابلِ شکست رہا۔لیونسکی سکینڈل1998ء میں آج کے روز امریکی صدر بل کلنٹن نے ریکارڈ شدہ بیان میں وائٹ ہاؤس کی انٹرن مونیکا لیونسکی کے ساتھ جسمانی تعلق کا اعتراف کیا۔ انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ انہوں نے اس تعلق کے بارے میں لوگوں کو گمراہ کیا تھا۔یہ اسکینڈل امریکی سیاست میں ایک بڑا تنازع بن گیا اور صدر کلنٹن کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی بنیاد بنا۔
فتح علی خان بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے، اُسے بار بار یاد دلاتے ''موسیقی تمہارے لئے شجر ِممنوعہ ہے، پاس مت جانا‘‘نصرت فتح علی خان کی برسی کے حوالے سے ایک بچے کی مختصرداستان جسے قوالی سے دُور رکھا جاتا تھاسُر کے سفر پر روانگی بہت آسان لیکن سفر بہت جان لیوا ہوتا ہے۔ ہر گانے والے کو منزل بہت نزدیک نظر آتی ہے، لیکن جب قدم بڑھا کر قریب جانا چاہتا ہے تو فاصلہ کچھ اور بڑھ جاتا ہے۔ اس بحر بیکراں کا ماہر پیراک بھی کبھی کبھی ایک معمولی لہریا موج کے بھنور میں پھنس کر دم توڑ دیتا ہے۔ موسیقی کی دنیا آئینے کا وہ نازک کمرہ ہے جہاں فنکار کی آواز ذرا بھی سر سے لاتعلقی ظاہر کرتے تو یہ کمرہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔ نصرت نے موسیقی کو کھیل سمجھ کر نہیں کھیلا۔ پورے جسم کو کان بنا کر اس کے اصول و قواعد کو رگ و پے میں اتارا ۔ فتح علی خان نے زمین میں ہل چلا کر اسے بھر بھرا کر دیا تھا۔ مبارک علی خان اور سلامت علی خان کی تربیت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔فتح علی خان اور مبارک علی خان کی وفات کے بعد اس گھرانے سے قوالی کا سلسلہ بند نہیں ہوا تھا۔ ان دونوں کے بعد سلامت علی خان قوالی کو لیڈکرتے تھے۔ نصرت قوالی میں شامل ہوتے لیکن ان کی حیثیت کرکٹ کے بارھویں کھلاڑی جیسی تھی۔ قوالی کے شروع میں نصرت ایک آدھ سولوپروگرام کرتے۔ اس کے بعد ان سے کہا جاتا کہ گاڑی میں جا کر سو جائو۔ قوالی تمہارے بس کا روگ نہیں، ہم خود کر لیں گے۔نصرت اپنے نام کا مطلب جانتے تھے۔ اسے یقین تھا کہ فتح ان کی ہو گی لیکن کب ہو گی اس کا انہیں پتہ نہ تھا۔ انہیں صرف یہ پتہ تھا کہ انہیں محنت اور ریاض تیز اور طویل کردینا چاہیے تاکہ فتح کا لمحہ قریب تر ہو جائے۔ نصرت فتح علی خان استاد فتح علی خان کے بیٹے ضرور تھے لیکن انہوں نے شہرت کمانے کیلئے بہت پاپڑ بیلے۔ نصرت کے آغاز کا زمانہ دراصل غلام فرید صابری کے عروج کا زمانہ تھا۔ ہر طرف اس کا نام اور کام داد حاصل کر رہا تھا۔ نیشنل آرٹ کونسل اسلام آباد کا ''جشن امیر خسرو‘‘ قوالی کا ایک یاد گار جلسہ تھا۔ اس تقریب میں قوالی کی 700سالہ روایت کوبھرپور انداز میں پیش کیا گیا۔ بھٹو عہد میں ہونے والی یہ تقریب اسلامی ممالک کی کانفرنس کی طرح بڑی خوبصورت اور پروقار تقریب تھی۔ پورے ملک کے نامور قوال اس میں شرکت کر رہے تھے۔ منظور نیازی، بہائوالدین اور غلام فرید صابری ان میں پیش پیش تھے۔ نصرت فتح علی خان کو دعوت نامہ ملا مگر ذرا تاخیر کے ساتھ۔ وہ اپنی پارٹی کے ساتھ وہاں پہنچے تو عجیب سماں تھا، سب قوال پارٹیاں دو دو تین تین دن پہلے پہنچ چکی تھیں اور اپنے اپنے آئٹم منتخب کر لئے تھے۔ شرط یہ تھی کہ صرف حضرت امیر خسرو کا کلام گایا جائے۔ نصرت جس آئٹم کا نام لیتے،جواب ملتا ''یہ منظور نیازی گائیں گے‘‘۔وہ کوئی اور نام لیتے تو جواب آیا۔''یہ غلام فرید صابری گائیں گے‘‘۔ایک ایک کرکے سب آئٹم لوگوں کے حصے میں آ گئے۔ نصرت سوچ میں پڑ گئے لیکن گھبرائے نہیں۔خاندانی قوال تھے۔ یادداشت کے اوراق پلٹے۔ خاندانی ورثے کی طرف نظر دوڑائی جو بزرگوں سے سیکھا تھا اس کا جائزہ لیا۔ پرانی بندشوں کو یاد کیا اور پھر ایک ایسا گوہر نایاب سامنے رکھ دیا جو کسی قوال نے پہلے نہیں دیکھا تھا اور جو صرف نصرت فتح علی خان کے خاندان کو یاد تھا۔ یہ امیر خسرو کا ایک نایاب شاہکار تھا:''میں تو پیا سے نیناں ملا آئی رے‘‘بقول تقریب کے سیکرٹری ملک سجاد حیدر نصرت نے جو گایا وہ سب لوگوں اور قوال حضرات کیلئے بھی بالکل نئی چیز تھی۔ اس کے بعد نصرت فتح علی خان نے راگ ساز گیری گایا۔ ہال بے خود ہو گیا۔ لوگ نصرت کو سٹیج سے جانے نہیں دے رہے تھے، یہاں نصرت نے قوالی شروع کی تو سننے والے بے قابو ہو گئے۔ ایک روحانی اثر چاروں طرف پھیل گیا۔ امیر خسرو، موسیقی اور نصرت فتح علی خان کے انداز نے سب کو گرویدہ بنا لیا۔ اب نصرت اس منزل کے بالکل قریب آ گئے تھے جس کی طرف انہوں نے استاد فتح علی خان کے چہلم پر پہلا قدم بڑھایا تھا۔اب ذرا نصرت کے گھر چلتے ہیں۔استاد فتح علی خان نے اس گھر کو پوری آرائشوں اور سہولتوں سے آراستہ کیا تھا۔ ہر قسم کی نعمت اپنے بچوں کو دی۔ نصرت کی چار بہنیں اور ایک بھائی فرخ (راحت کے والد جو نصرت کے ساتھ قوالی میں سنگت کرتے تھے) آرام سے رہ رہے تھے۔ فتح علی خان نے نصرت کو بار بار احساس دلایا تھا ''موسیقی تمہارے لئے شجر ممنوعہ ہے۔ اس کے پاس نہ جانا، میں تمہیں گویا نہیں ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں‘‘۔ نصرت نے یہ بات غور سے سنی لیکن اندر رہی اندر شجر ممنوعہ کے پھل کی لذت آرزو بن کر پروان چڑھتی رہی۔ نصرت چپکے چپکے طبلے اور ہارمونیم پر موسیقی کے ابتدائی اسباق دھراتے رہے۔ فتح علی خان بڑے بارعب انسان تھے۔ گھر میں داخل ہوتے تو ہنستے چہرے سنجیدہ ہو جاتے تھے۔ بچوں پر ان کا بڑا رعب تھا، ان کی موجودگی میں کوئی ہوں تک نہیں کرتا تھا۔ ایک دن نصرت ہار مونیم پر دل بہلا رہے تھے۔ سروں میں اتنے مگن تھے کہ انہیں اس بات کا بھی پتہ نہ چل سکا کہ ان کے والد پیچھے کھڑے سب کچھ سن رہے ہیں۔ جب کسی نے اشارے سے فتح علی خان کی موجودگی کا احساس دلایا تو نصرت ہارمونیم چھوڑ کر کھڑے ہو گئے۔ فتح علی خان کے سنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ مچلی، بیٹے کے شوق کو سراہا۔ کبھی کبھی موسیقی سے دل بہلانے کی اجازت دی لیکن یہ بھی یاد دلا دیا کہ میں تمہیں ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں، گویا نہیں۔باپ کی اجازت سے نصرت کے اندر موسیقی کے سوتے پھوٹنے لگے اور وہ فارغ وقت میں موسیقی کا ریاض کرنے لگے۔ فتح علی خان بیٹے کے اندر چھپے ذوق کو دیکھ کر اسے گاہے بگاہے کلاسیکل موسیقی کا سبق دیتے رہے اور پھر نصرت نے جی جان سے موسیقی کی طرف دھیان دینا شروع کردیا اور اپنے والد کو یقین دلا دیا کہ میں غبی نہیں۔ کچھ کرنے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتا ہوں ۔کلکتے کا ایک مشہور گائیک پنڈت وینا ناتھ پاکستان کے دورے پر آیا ہوا تھا۔ سارا پاکستان گھوم کر وہ فیصل آباد آ گیا۔ فتح علی خان سے اس کی شناسائی تھی، اس کے پاس آکر ٹھہرا۔باتوں باتوں میں فتح علی خان نے پنڈت سے پوچھا ''سنایئے پنڈت جی، کیسا رہا پاکستان کا دورہ۔‘‘پنڈت نے جواب دیا۔''بالکل فضول، بکار، سُرگلے میں تڑپ رہے ہیں، گانے کو ترس گیا ہوں۔‘‘''کیوں پنڈت جی؟‘‘۔''ارے فتح علی خان۔ کیا گائوں، کوئی طبلے پر سنگت کی حامی بھرے تو گائوں، گانا شروع کرتا ہوں تو طبلے والا، طبلے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتا ہے۔ بس اپنی گائیکی جیسی لایا تھا۔ واپس کلکتے لے کر جا رہا ہوں...‘‘پنڈت جی یہ کہہ کر سونے چلے گئے۔ فتح علی خاں سوچ میں پڑ گئے کہ پنڈت کیا کہہ گیا۔ وہ اسی سوچ میں گم تھے کہ نصرت سکول سے واپس آ گیا۔ فتح علی خان نے بیٹے کو دیکھا۔ بالکل اس طرح جیسے ایک مالی کیاری میں لگے پودے کو پروان چڑھتے دیکھتا ہے۔ چند لمحے اسے غور سے دیکھتے رہے۔ فتح علی خان کو پتہ تھا کہ نصرت ہار مونیم کے ساتھ ساتھ طبلے پر بھی ریاضت کرتا ہے۔ اسے قریب بٹھایا اور کہنے لگے۔ ''پنڈت دینا ناتھ کہتے ہیں کوئی طبلے والا ان کے ساتھ سنگت نہیں کر سکتا۔‘‘نصرت نے جواب دیا۔''آپ کی اجازت ہو تو میں حاضر ہوں۔‘‘فتح علی خان کا سینہ خوشی سے پھول گیا۔ بیٹے کو دو چار گُر کی باتیں بتائیں۔ نصرت نے مشق کرکے انہیں ذہن نشین کر لیا۔ شام کو پنڈت جی سے گانے کی فرمائش کی گئی تو انہوں نے کہا،'' مگر طبلے پر سنگت کون کرے گا‘‘ ۔فتح علی خان نے نصرت کی طرف اشارہ کیا۔ پنڈت ہنس کر کہنے لگے۔''ارے، موٹو نصرت۔‘‘۔''ہاں، ہے موٹو مگر ذہن بہت باریک ہے‘‘۔باپ نے جواب دیا۔پنڈت نے یہ سوچ کر گانا شروع کر دیا کہ فتح علی خان کا بیٹا ہے ہاتھ چلا ہی لے گا۔ مچھلی کا بچہ پانی سے تھوڑا بہت تو واقف ہوتا ہی ہے۔ گانا شروع ہوا تو پنڈت کو محسوس ہوا کہ وہ سخت الجھن میں ہے۔ نصرت نے سوچا پہلی بار باپ نے میدان میں چھوڑا ہے ناکام ہواتو ساری عمر اعتماد قائم نہیں کر سکے گا۔ نصرت کی انگلیاں بجلی کی طرح طبلے کے پڑوں پر تھرک رہی تھیں وہ پنڈت کو یقین دلانا چاہتا تھا کہ میدان میں تمہارے مد مقابل عظیم فتح علی خان کا بیٹا ہے، سنبھل کے بول پکڑنا۔ اور پنڈت گانا روک کر حیرت بھری نظروں سے نصرت کو دیکھ رہا تھا۔ آخر اس نے نصرت کو گلے لگایا، چوما، داد دی اور فتح علی خان سے کہنے لگا:'' میں ہارا فتح علی خان۔ تیرا یہ چھوٹا سا بیٹا بڑا گُنی ہے‘‘مستقبل کے بڑے فنکار نصرت کی یہ پہلی کامیابی اور جیت تھی۔مقبول قوالیاں و گیت٭... اللہ ھو ٭... وہی خدا ہے٭...میری زندگی ہے تو،٭... کسی دا یار نا وچھڑے، ٭...تم اک گورکھ دھندا ہو،٭... یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے، نصرت کی گائی ہوئی غزلیں٭...نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے(قمر جلالوی)٭...میرے رشک قمر(فنا بلند شہری)٭...سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا(صبا اکبرآبادی)٭...ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ گے(فنا بلند شہری)٭...ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں کم سے کم اتنا کہنا ہمارا کرو(فنا نظامی کانپوری)٭...آنکھ اٹھی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں(فنا بلند شہری)٭...آج کوئی بات ہو گئی(پرنم الہ آبادی)٭...سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا٭...ان کی طرف سے ترک ملاقات ہو گئی(قمر جلالوی)٭...شہر فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں(بشیر فاروقی)٭...پھروں ڈھونڈتا میکدہ توبہ توبہ مجھے آج کل اتنی فرصت نہیں ہے٭...مست نظروں سے اللہ بچائے مہ جمالوں سے اللہ بچائے٭...میری آنکھوں کو بخشے ہیں آنسو دل کو داغ الم دے گئے ہیںانعامات اور لقب٭...1987ء میں انھیں صدر پاکستان کی طرف سے ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ کا ایوارڈ ملا۔٭...1995ء میں انھیں یونیسکو میوزک پرائز ملا۔٭... 1996ء میں انہیں '' فوکوکا ایشین کلچر پرائز‘‘ سے نوازا گیا۔ ٭...جاپان میں انھیں بڈائی یا ''سنگنگ بدھا‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔٭...1997ء میں دو گریمی ایوارڈز لوک البم اور ورلڈ میوزک البم کیلئے نامزد ہوئے۔٭... 1998ء میں پی ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ٭...2001ء تک ان کے پاس ''سب سے زیادہ قوالی ریکارڈنگز‘‘کا گنیز ورلڈ ریکارڈ تھا۔٭...2005ء میں بعد از مرگ ''یو کے ایشین میوزک ایوارڈز‘‘ میں ''لیجنڈزایوارڈ‘‘ ملا۔ ٭...6 نومبر 2006ء کو شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے شمارہ''ایشیائی ہیروز کے 60 سال‘‘میں انھیں 60 سالوں میں سرفہرست 12 فنکاروں میں درج کیاگیا۔ ٭... 2010ء میں این پی آر کی 50 عظیم آوازوں کی فہرست میں شامل ہوئے۔٭...2010ء: سی این این کی 50 سال کے 20 نامور موسیقاروں کی فہرست میں شامل ہوئے۔ ٭...اپنے والد کی برسی کے موقع پر کلاسیکی موسیقی پیش کرنے کے بعد استاد کا خطاب دیا گیا۔
منفی 80 ڈگری درجہ حرارت، چار ماہ کی تاریکی آخری حد پر قائم سائنس کی ایک حیرت انگیز تجربہ گاہزمین پر اگر کوئی مقام انسانی بر د ا شت ، عزم اور سائنسی جستجو کی حقیقی آزمائش سمجھا جاتا ہے تو وہ بلاشبہ انٹارکٹیکا ہے۔ برف سے ڈھکا یہ وسیع و عریض براعظم نہ صرف کرہ ارض کا سرد ترین خطہ ہے بلکہ دنیا کا سب سے بڑا برفانی صحرا بھی ہے۔ اسی بے رحم ماحول میں واقع ''کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن‘‘ (Concordia research station) جدید سائنس کا ایک ایسا منفرد تحقیقی مرکز ہے جہاں انتہائی دشوار حالات کے باوجود سائنس دان انسانی فلاح اور مستقبل کی خلائی مہمات کیلئے مسلسل تحقیق میں مصروف رہتے ہیں۔کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن انٹارکٹیکا کے ایک بلند برفانی سطح مرتفع پر سطح سمندر سے تقریباً 3,200 میٹر کی بلندی پر قائم ہے۔ یہ اسٹیشن فرانس اور اٹلی کے اشتراک سے چلایا جاتا ہے اور دنیا کے دور افتادہ ترین تحقیقی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ایک وقت میں تقریباً 16 سائنس دان اور ماہرین پورا سال قیام کرتے ہیں تاکہ موسم، ماحول، فلکیات، انسانی جسم اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اہم تحقیقات انجام دے سکیں۔اس تحقیقی مرکز کی سب سے نمایاں خصوصیت یہاں کا انتہائی سخت موسم ہے۔ موسمِ سرما میں درجہ حرارت منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، جبکہ سال بھر کا اوسط درجہ حرارت تقریباً منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ اس شدت کی سردی میں چند لمحوں کیلئے بھی غیر محفوظ رہنا انسانی جان کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اسٹیشن سے باہر نکلنے والے افراد کو کئی تہوں پر مشتمل خصوصی حفاظتی لباس پہننا پڑتا ہے اور ان کی بیرونی سرگرمیوں کا دورانیہ بھی محدود رکھا جاتا ہے۔ کونکورڈیا کا جغرافیائی محل وقوع اسے مزید منفرد بناتا ہے۔ چونکہ یہ زمین کے انتہائی جنوبی حصے کے قریب واقع ہے، اس لیے موسمِ سرما میں سورج تقریباً چار ماہ تک طلوع نہیں ہوتا اور پورا علاقہ مسلسل تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے۔ اس کے برعکس گرمیوں میں سورج کئی ماہ تک غروب نہیں ہوتا۔ سورج کی روشنی اور اندھیرے کے اس غیر معمولی نظام کا انسانی جسم، ذہنی صحت اور حیاتیاتی گھڑی پر گہرا اثر پڑتا ہے، جس کا مطالعہ بھی یہاں ہونے والی تحقیق کا اہم حصہ ہے۔بلند مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں کی فضا بھی انتہائی پتلی ہے اور آکسیجن کی مقدار معمول سے کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے آنے والے افراد کو سانس لینے میں دشواری، تھکن اور بلندی سے متعلق دیگر جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی حالات اس مقام کو خلائی مشنوں کی تیاری کیلئے ایک مثالی تجربہ گاہ بنا دیتے ہیں، کیونکہ یہاں کا ماحول کئی حوالوں سے مریخ جیسے سیارے سے مشابہت رکھتا ہے۔شدید سردیوں کے دوران کونکورڈیا دنیا سے تقریباً مکمل طور پر کٹ جاتا ہے۔ خراب موسم کے باعث نہ تو کوئی ہوائی جہاز یہاں اتر سکتا ہے اور نہ ہی زمینی راستے سے کسی قسم کی امداد پہنچ سکتی ہے۔ اگر اس دوران کوئی طبی یا تکنیکی مسئلہ پیدا ہو جائے تو عملے کو اپنی مہارت اور دستیاب وسائل کی مدد سے خود ہی اس کا حل تلاش کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تعینات افراد کا انتخاب انتہائی سخت معیار کے مطابق کیا جاتا ہے تاکہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر ان غیر معمولی حالات کا مقابلہ کر سکیں۔کونکورڈیا دنیا کے سب سے بڑے صحرا، یعنی انٹارکٹک برفانی صحرا، میں واقع ہے۔ اگرچہ یہاں ہر طرف برف ہی برف دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ خطہ انتہائی خشک ہے۔ ہوا میں نمی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، جس کے باعث عملے کے ہونٹ مسلسل پھٹے رہتے ہیں، جلد خشک ہو جاتی ہے اور آنکھوں میں جلن پیدا ہو جاتی ہے۔ یہاں نہ کوئی درخت ہے، نہ پودے، نہ پرندے اور نہ ہی جنگلی جانور۔ یہاں تک کہ بہت سے بیکٹیریا بھی اس سخت ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتے۔اس اسٹیشن کی تنہائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قریب ترین انسانی آبادی روس کے ووستوک ریسرچ اسٹیشن میں موجود ہے، جو تقریباً 600 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسی لیے ماہرین کونکورڈیا کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) سے بھی زیادہ تنہا اور دور افتادہ مقام قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلانوردوں کی نفسیاتی، جسمانی اور سماجی تیاری کے حوالے سے بھی یہاں مختلف تجربات کیے جاتے ہیں۔کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن پر ہونے والی تحقیقات موسمیاتی تبدیلی، برفانی تہوں کی تاریخ، زمین کے ماحول، فلکیات، انسانی صحت اور مستقبل کی خلائی مہمات کیلئے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں۔ یہاں جمع ہونے والا سائنسی ڈیٹا عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے، زمین کے ماضی کا مطالعہ کرنے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ علم کی جستجو انسان کو زمین کے دشوار ترین مقامات تک لے جا سکتی ہے۔ شدید سردی، طویل تاریکی، تنہائی اور محدود وسائل کے باوجود یہاں کام کرنے والے سائنس دان اس عزم کے ساتھ تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں کہ ان کی کاوشیں نہ صرف زمین بلکہ مستقبل میں دوسرے سیاروں پر انسانی زندگی کی راہیں بھی ہموار کر سکتی ہیں۔ کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن دراصل اس انسانی عزم کی علامت ہے جو نامساعد حالات کے سامنے جھکنے کے بجائے علم کی نئی راہیں تلاش کرتا ہے۔ برف، تنہائی، شدید سردی اور طویل تاریکی کے باوجود یہاں جاری تحقیق ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کی جستجو کی کوئی حد نہیں۔ کونکورڈیا کی خاموش برفانی دنیا میں ہونے والی سائنسی کاوشیں اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ عزم، حوصلے اور تحقیق کے ذریعے انسان ناممکن دکھائی دینے والے راستوں کو بھی امکانات میں تبدیل کر سکتا ہے۔بلاشبہ، کونکورڈیا صرف ایک تحقیقی مرکز نہیں بلکہ انسانی ہمت، سائنسی لگن اور علم دوستی کی ایک روشن مثال ہے۔
بڑھتی عمر میں جسمانی سرگرمی میں کمی کو معمول سمجھنا صحت کیلئے نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے: تحقیق صحت مند زندگی کیلئے ورزش کو ہمیشہ اہم قرار دیا جاتا ہے، مگر عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی سرگرمی میں کمی کو معمول سمجھنا صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ ورزش کے دورانیے میں محض چند منٹ کی کمی بھی عمر رسیدگی کے دوران کینسر کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق باقاعدہ جسمانی سرگرمی نہ صرف جسم کو متحرک رکھتی ہے بلکہ کئی سنگین بیماریوں سے بچاؤ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ سخت جسمانی ورزش میں صرف چند منٹ کی کمی بھی کینسر کے خطرے میں 15 فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بس پکڑنے کیلئے دوڑنے سے گریز کرنا یا جم جانے کے بجائے ٹی وی کے سامنے وقت گزارنا صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ لوگوں کو عمر بڑھنے کے باوجود اپنی جسمانی سرگرمیاں جاری رکھنی چاہئیں اور ورزش میں کمی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ جسمانی سرگرمی میں معمولی کمی بھی صحت پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔تحقیق کے نتائج طبی جریدے ''بی ایم سی میڈیسن‘‘ میں شائع ہوئے۔ محققین نے شہریوں کے طرزِ زندگی کا جائزہ لینے کے ساتھ ماڈلنگ کے ذریعے جسمانی سرگرمی اور کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق کا بھی مطالعہ کیا۔ تحقیق میں 59,218 افراد شامل تھے، جن میں 55 فیصد خواتین تھیں۔ شرکاء کی اوسط عمر 61.7 سال تھی اور وہ یو کے بائیوبینک کے رکن تھے، جو طبی تحقیق میں حصہ لینے والے تقریباً پانچ لاکھ افراد کا ڈیٹا بیس ہے۔ آٹھ سالہ فالو اَپ کے دوران شرکاء میں کینسر کے 2,385 کیسز سامنے آئے۔ ماہرین نے یہ جائزہ لیا کہ لوگ روزانہ کتنا وقت سونے، بیٹھنے یا ٹی وی دیکھنے، کھڑے رہنے اور مختلف شدت کی جسمانی سرگرمی میں گزارتے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جسمانی سرگرمی جتنی زیادہ ہو، کینسر کا خطرہ اتنا ہی کم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر نیند یا بیٹھے رہنے کے وقت میں سے 15منٹ کم کرکے اتنا ہی وقت کسی بھی جسمانی سرگرمی میں صرف کرنے سے کینسر کے خطرے میں دو فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس، 30منٹ کی جسمانی سرگرمی کو 30 منٹ کی غیر متحرک سرگرمی سے تبدیل کرنے سے کینسر کا خطرہ آٹھ فیصد بڑھ گیا۔تحقیق کے سربراہ اور یونیورسٹی کالج لندن سے وابستہ ڈاکٹر جان مچل(Dr John Mitchell) نے کہا کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے والے افراد میں کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فعال زندگی گزارنے والے افراد اگر اپنی جسمانی سرگرمی کم کر دیں تو ان میں بھی کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ روزانہ کینسر کے خطرے میں 15 فیصد اضافے کے حوالے سے ڈاکٹر جان مچل نے بتایا کہ روزانہ صرف دو سے تین منٹ کی سخت جسمانی سرگرمی کم کرکے اس کی جگہ بیٹھنے، سونے یا ہلکی پھلکی سرگرمی کو دینے سے بھی کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق سخت ورزش سے مراد ایسی جسمانی سرگرمی ہے جس سے دل کی دھڑکن تیز ہو اور پسینہ آنے لگے۔ کھیلوں میں حصہ لینا، تیزی سے سیڑھیاں چڑھنا اور گھر کیلئے بھاری سودا اٹھا کر لانا اس کی مثالیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو افراد پہلے ہی متحرک طرزِ زندگی گزار رہے ہیں، ان کیلئے عمر بڑھنے کے ساتھ اپنی جسمانی سرگرمی کی سطح برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں بھی مضبوط شواہد سامنے آ چکے ہیں کہ زیادہ جسمانی سرگرمی کئی اقسام کے کینسر کے کم خطرے سے منسلک ہے، جن میں مثانے، چھاتی اور آنتوں کا کینسر شامل ہیں۔ ماہرین طب کے مطابق بالغ افراد کو ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمی یا 75 منٹ کی سخت جسمانی سرگرمی کرنی چاہیے۔ تیز رفتاری سے پیدل چلنا، روزمرہ سائیکل چلانا اور بیڈمنٹن معتدل ورزش کی مثالیں ہیں، جبکہ پیدل پہاڑی سفر، 6 میل فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار سے دوڑنا اور ٹینس سخت جسمانی سرگرمی میں شامل ہیں۔
پاکستانی کابینہ کی حلف برداری 15 اگست 1947ء کو 27 رمضان المبارک اور جمعۃ الوداع ہونے کے ساتھ پاکستان کی آزادی کا پہلا دن تھا۔صبح 9 بجے دارالحکومت کراچی میں دستور ساز اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں پہلی حکومت کے اراکین نے حلف اٹھائے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے عہدہ کا حلف اٹھایا۔ ان سے یہ حلف لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر عبدالرشید نے لیا تھا ۔ایپل کا آئی میک متعارف1998ء میں آج کے روز میں معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنا نیا کمپیوٹر آئی میک (iMac) متعارف کرایا۔ اس جدید کمپیوٹر کو سادہ ڈیزائن، دلکش ظاہری شکل اور صارف دوست خصوصیات کے باعث خاص توجہ حاصل ہوئی۔ آئی میک نے ذاتی کمپیوٹرز کے ڈیزائن کے حوالے سے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔ اس کی آمد نے صارفین میں بھی خاصا جوش و خروش پیدا کیا۔جاپان نے ہتھیار ڈالےدوسری عالمی جنگ کے دوران 15اگست1945ء کو جاپان کی جانب سے ہتھیار ڈالے گئے۔ جاپانی شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالے۔امریکہ کی جانب سے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملو ں کے بعد جاپان کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر دو بجے ان نشریات کا آغاز کیا گیا جس میں شہنشاہ نے باقاعدہ ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا اور اس کی وجہ ایٹمی حملے بتائے گئے۔تبت زلزلہ15اگست1950ء کو تبت میں ایک خوفناک زلزلہ آیا جسے ''آسام زلزلہ‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔اس زلزلے کی شدت 8.6 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز ہندوستان میں مشمی پہاڑیوں میں واقع تھا۔ یہ علاقہ اب اروناچل پردیش کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہاں پرآنے والا اب تک کا یہ سب سے تباہ کن زلزلہ ہے جس میں تقریباً 4ہزار800 افراد ہلاک ہوئے۔ پراسرار ''واو! سگنل‘‘ 1977ء میں اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کی ریڈیو آبزرویٹری کے ریڈیو دوربین بگ ائیر نے SETI منصوبے کے تحت گہری خلا سے ایک غیر معمولی ریڈیو سگنل وصول کیا۔ یہ سگنل تقریباً 72 سیکنڈ تک جاری رہا اور اپنی غیر معمولی شدت کے باعث سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ منصوبے کے ایک رضاکار نے سگنل کی نشاندہی کرتے ہوئے کاغذ پر ''Wow!‘‘ لکھا، جس کے باعث اسے ''واو! سگنل‘‘ کا نام دیا گیا۔بحرین برطانیہ سے آزاد ہوا15اگست 1971ء کو خلیجی ریاست بحرین نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ برطانوی حکومت کے ساتھ طویل عرصے تک معاہداتی تعلقات کے بعد بحرین نے اپنی خودمختاری کا اعلان کیا۔ اس تاریخی پیش رفت کے بعد بحرین ایک آزاد ریاست کے طور پر عالمی برادری میں شامل ہوا۔ ملک میں ہر سال آزادی کا دن قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
ان دنوں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ لوگ اکثر مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک ہی بات کرتے ہیں کہ یہ ایک ''مستقل محروم طبقہ‘‘ پیدا کر دے گی۔ Anthropic کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے بھی رواں سال ایک مضمون میں اس امکان کا حوالہ دیا اور اندازہ لگایا کہ اگلے پانچ سالوں میں دفتری شعبے کی ابتدائی سطح کی تقریباً 50 فیصد ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔اس خیال کی بنیاد کچھ یوں ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) کے قریب پہنچیں گے ٹیکنالوجی کے ایک چھوٹے سے اونچے طبقے کے پاس وہ AI پلیٹ فارم، ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کے ذرائع ہوں گے جو معیشت کے ایک بڑے حصے کو چلائیں گے۔ Agentic AIیعنی ایسے مصنوعی ذہانت کے نظام جو خود مختار انداز میں کام انجام دے سکتے ہیں اور جدید روبوٹکس انسانی محنت کی جگہ لے سکتے ہیں اور زیادہ تر ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔سان فرانسسکو کے اس تصور کے مطابق آبادی کی اکثریت کے پاس بہت کم اثاثے رہ جائیں گے اور انہیں اپنی محنت بیچ کر مناسب آمدنی حاصل کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔کیا اس نظریے پر یقین کرنا چاہیے؟ماہرینِ معاشیات کو ایسے بڑے دعوؤں کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے جن کے پیچھے ٹھوس شواہد موجود نہ ہوں۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کے خیالات فی الحال زیادہ تر قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔ محنت کی منڈی کے اعداد و شمار بھی ابھی تک AI کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے بارے میں محدود اور غیر حتمی شواہد فراہم کرتے ہیں۔ بعض ممتاز ماہرینِ معاشیات کا اندازہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اثرات اس سے کہیں زیادہ محدود ہوں گے،لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ AI کو وسیع پیمانے پر اپنانے کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔''مستقل محروم طبقے‘‘ کا نظریہ اگرچہ شاید مبالغہ آمیز ہو لیکن یہ کچھ ایسی تلخ حقیقتوں کی طرف اشارہ ضرور کر سکتا ہے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔اگر AI سے حاصل ہونے والے فوائد بنیادی طور پر سرمایہ رکھنے والے افراد اور چند ماہر کارکنوں تک محدود ہو جائیں تو محنت کی منڈی کی حرکیات دوسرے کارکنوں کی مہارتوں کو کم اہم بنا سکتی ہیں اور ان کی محنت کی قیمت کم کر سکتی ہیں۔اگر کم اجرت والے کارکنوں کی تعلیم، تربیت اور انسانی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری بھی اسی وجہ سے کم ہو جائے تو معاشرہ کسی حد تک اس صورتحال کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کا تصور ٹیکنالوجی حلقوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔کیا آٹومیشن محنت کی منڈی کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتی ہے؟تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹومیشن محنت کی منڈی میں دو مختلف قسم کے نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ڈیوڈ آٹور اور نیل تھامسن کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق آٹومیشن یا تو کم مہارت والے کاموں کی جگہ لے کر اجرتوں میں اضافہ کر سکتی ہے یا پھر زیادہ مہارت والے کاموں کی جگہ لے کر اجرتوں میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ایسے کارکن جن کے پاس ایسی معلومات اور مہارت ہو جنہیں مشینوں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ان کی اجرتوں میں بہت بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔اس کے برعکس دوسرے کارکنوں کی مہارتیں غیر اہم ہو سکتی ہیں وہ اپنی ملازمتیں کھو سکتے ہیں اور اپنی روزی کمانے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ Anthropicکی ایک حالیہ تحقیق نے بھی اسی طرح یہ ظاہر کیا ہے کہ Claude Code سے سب سے زیادہ فائدہ زیادہ مہارت رکھنے والے صارفین کو حاصل ہوا۔AI کی پیداواری صلاحیت کے فوائد کس کو ملیں گے؟جیسے جیسے مصنوعی ذہانت پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی جدت سے حاصل ہونے والے فوائد ممکنہ طور پر ان لوگوں کے ہاتھوں میں زیادہ مرتکز ہو سکتے ہیں جن کے پاس سرمایہ اور مہارت موجود ہے۔یہاں ''مہارت‘‘ سے مراد انسانی سرمایہ یاہیومن کیپٹل ہے۔2000ء کی دہائی کے آغاز میں دائر کیے گئے پیٹنٹس پر ہونے والی ایک تحقیق اس امکان کے کچھ شواہد فراہم کرتی ہے۔اس تحقیق کے مطابق کسی نئی ایجاد سے پیدا ہونے والی ہر ایک ڈالر کی اضافی قدر میں سے تقریباً 30 سینٹ کارکنوں کو ملے جبکہ 70 سینٹ منافع بن گئے۔اور کارکنوں کو ملنے والی اضافی آمدنی کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی زیادہ تنخواہیں لینے والے ملازمین کو حاصل ہوا۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پاس زیادہ مہارت تھی،لہٰذا ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے اگر AI سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کا بڑا حصہ ان لوگوں کو ملے جو بڑے ڈیٹا سینٹرز اور جدید ترین AI ماڈلز تیار کر رہے ہیں۔ماہرینِ معاشیات عموماً یہ فرض کرتے ہیں کہ طویل مدت میں پیداوار میں محنت اور سرمایہ کا حصہ تقریباً مستقل رہتا ہے۔لیکن ٹیکنالوجی حلقوں کا اصرار ہے کہAgentic AI محنت کی جگہ سرمائے کو استعمال کرے گی اور اس روایتی تصور کو تبدیل کر دے گی۔کم ہنر والے کارکنوں پر دوسرا اثرAI کے محنت کی منڈی پر مرتب ہونے والے بالواسطہ یا ثانوی اثرات زیادہ اور کم اجرت والے کارکنوں کے درمیان فرق کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔اگر کم مہارت رکھنے والے کارکن اپنی ملازمتیں کھونے لگیں تو اچانک بڑی تعداد میں ایسے کارکن پیدا ہو سکتے ہیں جن کی مہارتیں پہلے کے مقابلے میں کم اہم رہ گئی ہوں۔ایسی صورت میں کم مہارت رکھنے والے کارکنوں کی اضافی فراہمی ان سب کی اجرتوں کو نیچے لے جا سکتی ہے۔یہ درست ہے کہ AI ماڈلز کی زبردست طلب کے نتیجے میں نئی کم مہارت والی ملازمتیں بھی پیدا ہو سکتی ہیں مثلاً ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اسے منظم کرنے کے کام۔لیکن آج یہ کہنا مشکل ہے کہ ایسی ملازمتیں مستقبل میں کس نوعیت کی ہوں گی اور ان میں کتنی اجرت دی جائے گی۔پیداواری صلاحیت کا بڑھتا ہوافرق طویل مدتی اثراتکارکنوں کی مہارتوں میں اضافہ کرنا یا انہیں نئی مہارتیں سکھانا آسان نہیں ہے۔مزید یہ کہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی آمدنی میں اچانک کمی بچوں کی مہارتوں کی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ یوں والدین کی اجرت میں آنے والی تبدیلیاں اگلی نسل تک منتقل ہو سکتی ہیں۔شواہد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کم آمدنی رکھنے والے کارکن انسانی سرمائے یعنی تعلیم اور مہارت میں نسبتاً کم سرمایہ کاری کرتے ہیں۔اگر مختلف کارکنوں کی پیداواری صلاحیت میں فرق بڑھتا گیا تو کم آمدنی والے لوگوں کی تعلیم اور تربیت میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب بھی کم ہو سکتی ہے۔اس طرح محنت کی منڈی کی دو حصوں میں تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔