امریکہ جیسے وسیع اور متنوع ملک میں ہر ریاست اپنی الگ شناخت، ثقافت اور طرزِ زندگی رکھتی ہے، مگر حالیہ سروے نے ایک دلچسپ اور کسی حد تک چونکا دینے والی حقیقت کو سامنے لایا ہے۔ اس تحقیق میں ان ریاستوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں عوامی رائے میں سب سے زیادہ ناپسند کیا جاتا ہے۔ یہ فہرست نہ صرف سماجی رویوں اور علاقائی تعصبات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس بات پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ مختلف وجوہات جیسے معیشت، طرزِ حکمرانی، جرائم کی شرح یا عوامی رویے کس طرح کسی ریاست کی مجموعی شہرت کو متاثر کرتے ہیں۔ اس انکشاف نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آخر کن عوامل کی بنیاد پر کسی خطے کو پسند یا ناپسند کیا جاتا ہے اور اس کے اثرات وہاں کے باسیوں پر کیسے پڑتے ہیں۔''ورلڈ پاپولیشن ریویو‘‘ نے اس بات کا تعین کرنے کیلئے تین اہم عوامل کا تجزیہ کیا کہ کونسی ریاستیں سب سے زیادہ منفی جذبات پیدا کرتی ہیں، کتنے رہائشیوں نے اپنی ریاست کو بدترین قرار دیا، آبادی میں کمی کی شرح، اور دوسری ریاستوں کی جانب سے انہیں سب سے زیادہ ناپسندیدہ پڑوسی کے طور پر نامزد کیے جانے کی تعداد۔کچھ معاملات میں یہ ناپسندیدگی بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزگار کے محدود مواقع یا بدلتے ہوئے طرزِ زندگی پر لوگوں کی ناراضی کی عکاسی کرتی ہے۔جبکہ دیگر صورتوں میں طویل عرصے سے جاری علاقائی رقابتیں، خاص طور پر کھیلوں اور علاقائی شناخت کے حوالے سے، عوامی رائے پر غیر معمولی اثر ڈالتی ہیں۔آبادی میں اضافے اور کمی کا تجزیہ کرتے ہوئے محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ لوگ بہتر مواقع کی تلاش میں کن ریاستوں کو چھوڑ رہے ہیں۔اس تجزیے میں یہ اصول اپنایا گیا کہ جس ریاست میں آبادی میں زیادہ کمی ہو، اسے درجہ بندی میں زیادہ منفی تصور کیا جائے گا۔ اس مقصد کیلئے محققین نے ''امریکن کمیونٹی سروے ‘‘ کے اعداد و شمار استعمال کیے اور دو حالیہ سالوں کے ڈیٹا کا موازنہ کیا۔آخر میں تحقیق میں اس بات کو بھی شامل کیا گیا کہ باقی ملک ان ریاستوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ محققین کے مطابق بیرونی رائے کسی بھی ریاست کی ساکھ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ پڑوسی علاقوں کی منفی رائے اکثر پرانی رقابتوں، تعصبات یا علاقائی شکایات کی عکاسی کرتی ہے۔ان تینوں عوامل رہائشیوں کی عدم اطمینان، آبادی میں تبدیلی، اور ملک گیر رائے کو یکجا کر کے ایک حتمی کمپوزٹ اسکور بنایا گیا۔امریکی عوام نے اس بات پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے کہ وہ کن ریاستوں کو ناپسند کرتے ہیں۔ ایک درجہ بندی کے مطابق Illinois کو ملک کی سب سے زیادہ ناپسند کی جانے والی ریاست قرار دیا گیا ہے، جہاں 25 فیصد مقامی رہائشیوں نے خود اپنی ریاست کو رہائش کیلئے بدترین جگہ قرار دیا۔یہ شدید عدم اطمینان اس حقیقت کے ساتھ جڑا ہے کہ ریاست کی آبادی میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، جس کے مطابق حالیہ برسوں میں Illinois کی آبادی میں تقریباً 0.54 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔دوسرے نمبر پر نیو جرسی رہی، جو طویل عرصے سے ایک کم خوشگوار قومی شہرت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔اس ریاست کو اکثر تیز رفتار ڈرائیونگ کے حوالے سے اسٹیریو ٹائپس اور فلموں و ٹی وی میں طنزیہ حوالوں کا سامنا رہا ہے۔''گارڈن اسٹیٹ‘‘ کہلانے والی یہ ریاست اپنے پڑوسی ریاستوں کی تنقید کی زد میں بھی رہی، جہاں پانچ ریاستوں نے اسے سب سے زیادہ ناپسندیدہ پڑوسی قرار دیا۔تیسرے نمبر پر نیو یارک رہی، جہاں 12 فیصد رہائشیوں نے اسے رہائش کیلئے بدترین ریاست قرار دیا، جو ایک حیران کن حقیقت ہے کیونکہ یہ ریاست دنیا کے مشہور ترین مقامات میں شمار ہوتی ہے۔یہاں علاقائی رقابتیں بھی کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ رپورٹ کے مطابق میسا چوسٹس (Massachusetts) کے رہائشیوں نے نیو یارک کو اپنا سب سے ناپسندیدہ پڑوسی قرار دیا، جس کی وجہ ممکنہ طور پر کھیلوں کی پرانی رقابتیں اور علاقائی کشیدگیاں ہو سکتی ہیں۔فہرست میں آگے بڑھتے ہوئے ویسٹ ورجینیا چوتھے نمبر پر رہی، جس کی بڑی وجہ اس کی کم ہوتی ہوئی آبادی اور بہتر مواقع کی تلاش میں مسلسل لوگوں کا انخلا بتایا گیا ہے۔کیلیفورنیا (California )حیران کن طور پر پانچویں نمبر پر رہی، حالانکہ اسے اکثر ایک پرکشش اور بااثر ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ نو دیگر ریاستوں نے اسے اپنا سب سے ناپسندیدہ پڑوسی قرار دیا، جو اس مطالعے میں سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔اس کے بعد میساچوسٹس بھی اس فہرست میں شامل رہی، جہاں اندرونی سطح پر عدم اطمینان اور بیرونی رقابتوں نے اسے ناپسندیدہ ریاستوں کے اعلیٰ درجے میں پہنچا دیا۔مشی گن (Michigan) بھی اس فہرست کا حصہ بنی، جہاں تقریباً ہر دس میں سے ایک رہائشی نے اپنی ہی ریاست کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔ محققین کے مطابق یہ رویہ معاشی دباؤ اور صنعتی تبدیلیوں سے جڑا ہو سکتا ہے۔کونیکٹیکٹ(Connecticut )ایک غیر معمولی کیس کے طور پر سامنے آئی، کیونکہ کسی دوسری ریاست نے اسے سب سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں کہا، لیکن خود اس کے تقریباً 17 فیصد رہائشیوں نے وہاں رہنے کو ناپسندیدہ قرار دیا، جو اندرونی تنقید کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔کینٹکی(Kentucky )اس فہرست میں دسویں نمبر پر رہی، جہاں پڑوسی ریاستوں تنیسی (Tennessee) اور انڈیانا (Indiana) نے اسے اپنا کم پسندیدہ قرار دیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حتیٰ کہ برانڈ اور ثقافت کے حوالے سے مشہور ریاستیں بھی علاقائی رقابتوں سے محفوظ نہیں۔محققین نے واضح کیا کہ ''سب سے زیادہ ناپسندیدہ‘‘ کا لیبل لازماً یہ معنی نہیں رکھتا کہ ان ریاستوں میں کشش یا خوبی نہیں۔ بلکہ یہ درجہ بندی آبادی میں تبدیلیوں، معاشی چیلنجز اور ثقافتی تصورات کی عکاسی کرتی ہے، جو یہ طے کرتے ہیں کہ لوگ اپنی رہائش گاہوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
بیماریوں کی قبل از وقت پیشگوئی کرنے والا نظام متعارفسائنسی دنیا میں تیزی سے ہونے والی ترقی نے انسانی صحت کے شعبے میں ایک نئی امید پیدا کر دی ہے۔ حال ہی میں ماہرین نے ایک ایسا جدید اور انقلابی آلہ تیار کیا ہے جو ٹائپ2 شوگر، سٹروک اور مختلف اقسام کے کینسر جیسے مہلک امراض کے ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ حیرت انگیز پیش رفت نہ صرف بیماریوں کی بروقت تشخیص کو ممکن بنائے گی بلکہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں بھی مدد دے گی، جس سے لاکھوں قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں طرزِ زندگی سے جڑی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، یہ ایجاد طبی شعبے میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے ایک ایسا انقلابی آلہ تیار کیا ہے جو ان افراد کی نشاندہی کرتا ہے جو سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔کوئین میری یونیورسٹی آف لندن (QMU) اور برلن انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ (BIH) کے محققین نے ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جو موٹاپے یا زائد وزن کے باعث پیدا ہونے والی 18 بیماریوں کے خطرے کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں کینسر کی روک تھام کے قابل وجوہات میں موٹاپا دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ پہلے نمبر پر تمباکو نوشی ہے۔ نام نہاد ''موٹاپے کی وبا‘‘ نے برطانیہ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انگلینڈ میں تقریباً 28 فیصد بالغ افراد موٹاپے کا شکار ہیں۔ ٹائپ 2 شوگر اور دل کی بیماریوں کے علاوہ، اضافی وزن کے باعث سٹروک، آرتھرایٹس، ہائی بلڈ پریشر اور جگر کے امراض جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم اب محققین کا ماننا ہے کہ انہوں نے ''اوبسکور‘‘ (OBSCORE) نامی ایک نئے آلے کے ذریعے موٹاپے سے جڑی پیچیدگیوں میں اضافے کو روکنے کا ممکنہ حل تلاش کر لیا ہے، جسے ماہرین نے ایک نہایت اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔یہ نظام ''یو کے بائیو بنک‘‘ کے 2لاکھ شرکاء کے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا گیا، جس میں رضاکاروں کی طبی معلومات محفوظ ہیں۔ اس ڈیٹا کی مدد سے محققین نے 2ہزار سے زائد صحت کے اشاریوں، جن میں خون کے ٹیسٹ، جسمانی پیمائشیں اور طرزِ زندگی کے عوامل شامل ہیں کا تجزیہ کیا۔اس تحقیق کے نتیجے میں ٹیم نے 20 اہم عوامل کی نشاندہی کی، جو 18 موٹاپے سے متعلق بیماریوں کے خطرے کی درست پیش گوئی کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ان عوامل میں عمر اور جنس جیسی بنیادی خصوصیات، طرزِ زندگی سے متعلق عادات جیسے تمباکو نوشی اور مجموعی صحت یا دیرینہ بیماریوں سے متعلق خود فراہم کردہ معلومات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سینے میں درد، پیٹ میں درد اور جوڑوں کے درد جیسی علامات، نیز دل کی بیماری کی خاندانی تاریخ کو بھی خطرے کی پیش گوئی میں اہم قرار دیا گیا۔ ان کے ساتھ ساتھ خون کے ٹیسٹ اور روزمرہ کی طبی پیمائشیں جیسے خون میں شوگر کی سطح، کولیسٹرول، جگر اور گردوں کی کارکردگی، یورک ایسڈ، بلڈ پریشر اور جسم میں چربی کی تقسیم بھی نہایت اہم ثابت ہوئیں۔محققین نے ہر عامل کا سنگین پیچیدگیوں سے تعلق کا جائزہ لیا، مثلاً سینے کا درد کسی اندرونی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے، اور پھر ان تمام خطرات کو یکجا کر کے ''OBSCORE‘‘ نامی آلے میں شامل کیا۔ اس کے ذریعے کسی فرد میں 18 مختلف بیماریوں کے اگلے 10 سال میں پیدا ہونے کے امکان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ تمام عوامل مل کر کسی شخص کی صحت کی زیادہ واضح تصویر پیش کرتے ہیں، جبکہ صرف موٹاپے پر انحصار کافی نہیں، کیونکہ ایک ہی جیسا موٹاپا رکھنے والے افراد میں بیماری کا خطرہ مختلف ہو سکتا ہے۔مزید یہ کہ بہت سے ایسے افراد جو وزن کے باعث پیچیدگیوں کے زیادہ خطرے میں تھے، وہ موٹے نہیں بلکہ صرف زائد وزن کے حامل تھے، جس کا مطلب ہے کہ موجودہ رہنما اصولوں میں، جو زیادہ تر بی ایم آئی پر مبنی ہیں، انہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔پروفیسر کلاڈیا لینجنبرگ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک عالمی موٹاپے کی وبا کا سامنا کر رہی ہے۔ OBSCORE آلہ ہمیں موٹاپے کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے اور اس کی پیچیدگیوں سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ ایک اوپن ایکسس ٹول ہے جو پالیسی سازوں، ماہرین صحت اور محققین کو یہ جانچنے میں مدد دے گا کہ اسے کس طرح مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔محققین نے یہ بھی تجویز کیا کہ OBSCORE آلہ یہ فیصلہ کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے کہ کن افراد کو وزن کم کرنے والی ادویات تک ترجیحی رسائی دی جائے۔پروفیسر کلاڈیا لینجنبرگ نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں موٹاپے کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے ساتھ اس کی طویل مدتی طبی پیچیدگیوں سے بچاؤ صحت کے نظام کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ہماری تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ بڑے پیمانے پر اور تفصیلی صحت کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے ایسے ڈیٹا پر مبنی فریم ورک تیار کیے جا سکتے ہیں جو زیادہ خطرے والے افراد کی نشاندہی کریں اور موٹاپے کے بہتر انتظام میں مدد دیں۔اس تحقیق میں شامل نہ ہونے والے ماہرین نے نتائج کو مثبت مگر محتاط انداز میں دیکھا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ آلہ طبی لحاظ سے مفید ثابت ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تحقیق میں بیان کردہ کئی خطرے کے عوامل پہلے ہی معروف ہیں۔موٹاپے سے جڑی بیماریاں نہ صرف صحت کے نظام پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں بلکہ بعض مطالعات کے مطابق یہ افراد کو روزگار سے بھی باہر کر دیتی ہیں، جس سے فلاحی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔حال ہی میں محققین نے اشارہ دیا کہ زائد وزن 61 عام اور جان لیوا بیماریوں جن میں گردوں کے امراض، آرتھرائٹس اور ٹائپ 2 شوگر شامل ہیں کا بڑا سبب ہے۔موٹاپا کم از کم 13 اقسام کے کینسر سے منسلک ہے اور برطانیہ میں اس بیماری کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ 40 سال سے کم عمر افراد میں ٹائپ 2 شوگر کے کیسز میں 39 فیصد اضافے کا باعث بھی بنا ہے۔
عالمی یوم آزادی صحافتعالمی یوم صحافت ہر سال 3 مئی کو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے تحت منایا جاتا ہے۔یونیسکو نے اپنے جنرل کانفرنس کے چھبیسویں اجلاس میں (جو 15 اکتوبر 1991ء سے 7 نومبر 1991ء تک جاری رہا )اس دن کو منانے کی سفارشات پیش کیں، جس کے تحت اقوام متحدہ نے1993ء میں 3 مئی کو عالمی یومِ صحافت کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔یہ دن دراصل 1991 میں نامیبیا میں ایک اعلامیے کی یادگار ہے جسے ''ونڈہوک اعلامیہ‘‘ (Windhoek Declaration) کہا جاتا ہے۔ اس اعلامیے میں آزاد، خودمختار اور کثیرالجہتی میڈیا کے قیام پر زور دیا گیا تھا۔عالمی یوم صحافت کا مقصداظہارِ رائے کی آزادی کو فروغ دینا، صحافت میں شفافیت، دیانت داری اور غیر جانبداری کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ،ان صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جو آزادیِ اظہار کی راہ میں جان کی بازی لگا چکے ہیں۔جمیکا کی دریافت 3مئی1494ء کو کرسٹوفر کولمبس نے جمیکا دریافت کیا۔ جمیکا بحیرہ کیریبین میں واقع ایک جزیرہ نما ملک ہے۔اس کا رقبہ 10ہزار 990 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ گریٹر اینٹیلز اور کیریبین کا تیسرا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ جمیکا کیوبا کے جنوب میں تقریباً 145 کلومیٹر اور ہسپانیولاکے مغرب میں 191 کلومیٹر پر واقع ہے۔ کرسٹوفر کولمبس نے جمیکا کو 1494ء میں امریکہ کی دریافت کے ٹھیک دو برس بعد دریافت کیا۔ فضائی حادثہ3مئی2006ء کوآرمینیا کی ایئرلائن کی پرواز 967 بحیرہ اسود میں گر کر تباہ ہو گئی۔ یہ طیارہ روس کے شہر سوچی کے ایئر پورٹ پر لینڈنگ کی کوشش کر تے ہوئے حادثہ کا شکار ہوا۔ خراب موسمی حالات اور پائلٹ کی ممکنہ غلطیوں کے باعث طیارہ سمندر میں جا گرا۔ اس افسوسناک حادثے میں عملے سمیت تمام 113 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ سانحہ ہوا بازی کی تاریخ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سمجھا جاتا ہے۔جوڈو کا پہلا عالمی کپ 3مئی1956ء کو پہلے عالمی جوڈو کپ کا انعقاد جاپان کے شہر ٹوکیو میں کیا گیا۔جوڈو جس کے لفظی معنی ''نفیس طریقے سے‘‘ کے ہیں، جدید جاپانی مارشل آرٹ کی قسم ہے جو 1882ء میں ڈاکٹر کانو جیگورو نے جاپان میں تخلیق کی۔اس کھیل کا سب سے اہم پہلو مقابلے کا ہے، جہاں ایک کھلاڑی دوسرے کھلاڑی کو مقابلے میں زمین پر چت اور اس کی حرکت کو موقوف کر نے کے ساتھ ساتھ مارشل آرٹ کی تکنیک کے استعمال سے مقابل کو شکست قبول کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔البرٹا کی آتشزدگییکم مئی 2016ء کو فورٹ میک مرے، البرٹا، کینیڈا کے جنوب مغرب میں جنگل کی آگ شروع ہوئی۔ 3 مئی کو اس نے پوری کمیونٹی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسے البرٹا کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگل کی آگ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ ا س میں88ہزار لوگ اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔ فائر فائٹرز کی کینیڈین آرمڈ فورسز اور رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر کینیڈین صوبائی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے جنگل کی آگ سے لڑنے میں مدد کی۔ فورٹ میک مرے میں پھیلتی ہوئی جنگل کی آگ نے تقریباً2ہزار400 مکانات اور عمارتیں تباہ کر دیں۔
ایک صدی پرانا راز بے نقابپہلی جنگ عظیم کے ایک دیرینہ راز سے آخرکار پردہ اُٹھ گیا، برطانوی غوطہ خوروں نے ایک صدی سے زائد عرصے بعد امریکی جنگی جہاز کے ملبے کو دریافت کر لیا ہے۔ یہ جہاز 1918ء میں جرمن آبدوز کے تارپیڈو حملے کے نتیجے میں تباہ ہو کر سمندر کی گہرائیوں میں گم ہو گیا تھا۔ حالیہ دریافت کارن وال (Cornwall) کے ساحل کے قریب عمل میں آئی، جس نے نہ صرف تاریخ کے ایک اہم باب کو دوبارہ زندہ کر دیا بلکہ اُن درجنوں جانوں کی یاد بھی تازہ کر دی جو اس سانحے میں ضائع ہو گئی تھیں۔ یہ پیشرفت سمندری تحقیق اور تاریخی کھوج کے میدان میں ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔امریکی کوسٹ گارڈ کا جہاز108 سال قبل سمندر میں غرق ہو گیا تھا۔اب اسے نیوکی (Newquay) کے ساحل سے تقریباً 50 میل دور گہرے سمندر میں غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے تلاش کیا ہے۔اس جہاز پر موجود تمام 131 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ برطانوی شہری بھی شامل تھے۔غوطہ خور ٹیم کے 54 سالہ رکن ڈومینک روبنسن کہتے ہیں کہ وہ پچھلے تین سال سے اس جہاز کی تلاش میں تھے ۔ٹیم نے اس جہاز کو تلاش کرنے کیلئے برطانیہ کے ہائیڈروگرافک آفس سے حاصل کردہ معلومات، بشمول سمندر کی تہہ کے ڈیٹا کا استعمال کیا۔انہوں نے جرمن ریکارڈز کا بھی تجزیہ کیا جو اس آبدوز سے متعلق تھے جس نے یہ جہاز تباہ کیا تھا، اور پچھلے تین سالوں میں متعدد غوطے لگا کر اس کی تلاش جاری رکھی۔ 26 اپریل کو بالآخر انہیں یہ حیران کن کامیابی حاصل ہوئی۔ٹیم نے اپنی دریافت کے نتائج امریکی کوسٹ گارڈ کے سامنے پیش کر دیے ہیں، اور مسٹر رابنسن کا کہنا ہے کہ انہیںپورا یقین ہے کہ انہوں نے ''ٹامپا‘‘(TAMPA) کو ہی دریافت کیا ہے۔اصل میں ہم یہ سوچ رہے تھے کہ ہم نے ہر ممکن جگہ دیکھ لی ہے جہاں یہ ہو سکتا تھا اور ہم تقریباً ہار ماننے ہی والے تھے، لیکن پھر ہم مزید نیچے گئے اور اسے تلاش کر لیا۔انہوں نے مزید کہاکہ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ جہاز کا ملبہ پانی کے نیچے صرف ایک جہاز ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سیلٹک سمندر میں، یہ جہاز کارن وال اور آئرلینڈ کے درمیان، 100 سال سے زیادہ عرصے سے پڑا ہوا ہے، اس لیے اسے طوفانوں اور ایک صدی سے زائد عرصے نے بری طرح متاثر کیا ہے۔جبکہ اسے پہلے تارپیڈو سے نشانہ بنایا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ وہ جس چیز کی تلاش میں تھے ان میں لنگر، بڑے پتھر، انجن شامل تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اس جہاز پر بندوقیں اور بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی موجود تھا۔یہ ایک مضبوط اور اعلیٰ معیار کا بنایا گیا جہاز تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم سب نے مختلف جہازوں کی تلاش میں غوطے لگائے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ کس دور میں استعمال ہوتے تھے۔ ہم نے برتن بھی دیکھے جن پر ''نیو جرسی‘‘ لکھا ہوا تھا، جو فوراً امریکہ سے تعلق کی ایک واضح نشانی تھی۔''ٹامپا‘‘ جہاز پہلی جنگ عظیم کے دوران قافلوں کی حفاظت کیلئے تعینات تھا، تاکہ جرمن آبدوزوں سے ان کو محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ جہاز جبرالٹر اور انگلینڈ کے جنوبی ساحل کے درمیان سمندری راستے پر ڈیوٹی انجام دیتا تھا۔26 ستمبر 1918ء کو TAMPA نے ایک قافلے کو چھوڑا ہی تھا کہ اسے تارپیڈو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ رابنسن کے مطابق وہ دن کافی دھندلا تھا اور قافلے سے الگ ہونے کے تقریباً چار گھنٹے بعد انہوں نے ایک بڑا دھماکہ سنا اور اس کے بعد TAMPA دوبارہ کبھی نظر نہیں آیا۔چونکہ موسم دھندلا تھا اور کوئی واضح سراغ نہیں ملا، اس لیے اس کا مقام ہمیشہ غیر واضح رہا۔انہوں نے مزید بتایاکہ امریکہ نے بعد میں بھی TAMPA نام کا ایک جہاز سروس میں رکھا۔بہت سے لوگوں نے TAMPA کو تلاش کرنے کی کوشش کی، جن میں ہم بھی شامل ہیں ۔یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ کوئی ایک دن کی کامیابی نہیں بلکہ تین سال کی مسلسل محنت اور بہت سے دوسرے غوطہ خوروں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔رابنسن کا کہنا تھا کہ اس قسم کی غوطہ خوری انتہائی سخت نوعیت کی ہوتی ہے ۔چونکہ یہ ملبہ تقریباً 100 میٹر کی گہرائی میں موجود تھا، اس لیے ٹیم کو سمندر کی تہہ میں صرف تقریباً 20 منٹ گزارنے کی اجازت ہوتی تھی، جس کے بعد انہیں سطح پر آہستہ آہستہ واپس آنے کیلئے تقریباً ڈھائی گھنٹے تک ڈی کمپریشن (decompression) کے عمل سے گزرنا پڑتا تھا۔ہم نے یہ تمام معلومات جمع کیں اور امریکی کوسٹ گارڈ کو پیش کیں، جنہوں نے ویڈیو اور تصاویر کا جائزہ لیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ ہم نے TAMPA ہی کو تلاش کیا ہے۔
انسانی تاریخ میں کھانے پینے کا شوق ہمیشہ سے ایک اہم حیثیت رکھتا آیا ہے، بعض افراد اس شوق کو اس حد تک لے جاتے ہیں کہ وہ دنیا بھر میں حیرت اور تجسس کا باعث بن جاتے ہیں۔ کہیں دیو ہیکل برگر تیار کیے جاتے ہیں تو کہیں چند لمحوں میں درجنوں ہاٹ ڈاگ کھا لینے کے حیران کن کارنامے انجام دیے جاتے ہیں۔ یہی غیر معمولی کارنامے بعدازاں عالمی ریکارڈز کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم آپ کو کھانے کے پانچ حیران کن عالمی ریکارڈز سے روشناس کرائیں گے جو یقیناً آپ کو چونکا دیں گے۔سب سے بڑا برگردنیا کا سب سے بڑا برگر 2017ء میں جرمنی کے شہر پلسٹنگ میں ایک عوامی تقریب کے دوران پیش کیا گیا۔ اسے 6افراد نے مل کر تیار کیا تھا۔ یہ جرمن دوستوں کا ایک گروپ تھا جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلانے کے جذبے کے ساتھ اکٹھا ہوا تھا۔اس برگر میں سینکڑوں بیف پیٹیز شامل تھیں جن پر کیچپ اور مایونیز ڈالی گئی۔ اس میں بڑی مقدار میں پنیر اور ٹماٹر بھی شامل تھے۔ اس کے ساتھ دو دیو ہیکل بن رکھے گئے تھے جو اس کے مجموعی سائز کے مطابق تھے۔ اس کا وزن ایک اسمارٹ کار کے برابر یعنی 1,164.2 کلوگرام (2,566 پاؤنڈ 9 اونس) تھا اور یہ ایک برگر باآسانی ہزاروں افراد کھاسکتے تھے۔سب سے بڑا کدوپھر آتی ہے باری دنیا کے سب سے بڑے کدو کی، جس کا وزن حیران کن طور پر 1,246.9 کلوگرام (2,749 پاؤنڈ) تھا اور اس کا گھیراؤ 642.6 سینٹی میٹر (21 فٹ 1 انچ) تھا۔ اسے ٹراوس گینگر نے اْگایا جو ایک مقابلہ جاتی مالی ہیں اور زراعت خصوصاً کدو اگانے کے بے حد شوقین ہیں۔ٹراوس کا تعلق امریکہ کی ریاست مینیسوٹا کے علاقے انوکا سے ہے، جسے اکثر دنیا کا ''ہالووین دارالحکومت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس ریکارڈ سے پہلے بھی وہ ایک ہزار کلوگرام سے زائد وزن کے کئی کدو اُگا چکے تھے۔یہ نیا عالمی ریکارڈ انہوں نے 2023ء میں ''سیف وے ورلڈ چیمپئن شپ پمپکن وے آف‘‘ کے 50ویں سالانہ مقابلے میں قائم کیاتھا، جہاں ہر کدو کو مقامی جج حضرات بڑی احتیاط سے جانچتے ہیں، اور پھر ''گریٹ پمپکن کامن ویلتھ ‘‘ (جی پی سی) کے ذریعے اس کی باضابطہ تصدیق کی جاتی ہے۔سب سے بڑاکیلوں کا گچھا بعض اوقات کچھ پھل جو باقاعدہ گچھوں کی صورت میں اُگائے جاتے ہیں، وہ بھی عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہیں۔ سب سے بڑا کیلے کا گچھا کینری ، اسپین میں اُگایاگیا۔ اس کا مجموعی وزن 130 کلوگرام (286 پاؤنڈ 9 اونس) تھا اور اس میں 473 کیلے شامل تھے، جو اسے غیر معمولی طور پر بڑا اور گچھا بناتے ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں کیلے اُگانا ایک زرعی منصوبے کا حصہ تھا، جو 160 ہیکٹر پر محیط تھا۔ اس منصوبے کا مقصد بنجر زمین کو زرخیز بنا کر اسے استوائی پھلوں کی کاشت کیلئے موزوں بنانا تھا، اور اس میں ایک بڑا حصہ خاص طور پر کیلے کی پیداوار کیلئے مختص کیا گیا تھا۔سب سے بڑا کیکاور یقیناً، میٹھی چیزوں کا ذکر نہ ہو تو بات ادھوری رہتی ہے۔ اٹلی کے شہر میلان میں ''نیشنل ایسوسی ایشن کیک ڈیزائنرز‘‘ سے تعلق رکھنے والے کیک آرٹسٹس کی ایک ٹیم نے دنیا کا سب سے بڑا کیک تیار کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اس کی لمبائی 16.46 میٹر (54 فٹ)، چوڑائی 13.94 میٹر (45 فٹ 7 انچ) اور اونچائی 0.54 میٹر (1 فٹ 9.25 انچ) تھی،یعنی یہ ایک اپارٹمنٹ کے فلور جتنا بڑا تھا۔یہ کیک محض ایک میٹھا پکوان نہیں بلکہ ایک حقیقی خوردنی کینوس تھا، جسے اٹلی کے نقشے کی شکل میں ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس پر اٹلی کی مشہور علامتی عمارتوں کے چھوٹے ماڈلز بھی بنائے گئے تھے، جیسے ''لینگ ٹاور آف پیسا، ایلپس، اور کلوژیم۔اس عظیم الشان کیک کو ''Hobby Show‘‘ کے دوران باضابطہ طور پر پیش کیا گیا، جہاں آنے والے ہر فرد کو اس کا ذائقہ چکھنے کا موقع بھی دیا گیا۔
امریکی بحری بیڑے پر حملہ1964 میں ویتنام جنگ کے دوران ایک اہم واقعہ پیش آیا جب امریکی طیارہ بردار جہاز ''یو ایس این ایس‘‘ بندرگاہ پر لنگر انداز تھا۔ اسی دوران ویت کانگ کے دو غوطہ خور جنگجوؤں نے جہاز کے نچلے حصے میں بارودی مواد نصب کیا، جس کے نتیجے میں ایک زور دار دھماکہ ہوا اور جہاز ڈوب گیا۔بعد ازاں جہاز کو سمندر سے نکال کر مرمت کی گئی اور سات ماہ سے بھی کم عرصے میں دوبارہ سروس میں شامل کر دیا گیا۔بیس بال کا آغاز1920 میں نیگرو نیشنل لیگ کے تحت بیس بال کا پہلا باضابطہ میچ کھیلا گیا۔ یہ لیگ اس دور میں قائم کی گئی تھی جب نسلی امتیاز کے باعث سیاہ فام کھلاڑیوں کو بڑی پیشہ ورانہ لیگوں میں کھیلنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس تاریخی مقابلے نے نہ صرف افریقی نژاد امریکی کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کیا بلکہ بیس بال کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز بھی کیا، جو بعد میں کھیل میں برابری اور مواقع کی جدوجہد کی علامت بن گیا۔ٹونی بلیئر وزیر اعظم بنے1997ء میں آج کے دن ٹونی بلیئر برطانیہ کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ وہ43 سال کی عمر میں وزیر اعظم بنے۔انہیں گزشتہ دوسو سالوں میں سب سے کم عمر وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کی مقبولیت میں اس وقت کمی واقع ہوئی جب انہوں نے عراق کے معاملے میں امریکی پالیسی کی حمایت کی۔2006ء میں انہوں نے اقتدار سے الگ ہونے کا اعلان کیا اور 27جون2007ء کو مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔کیریبین فضائی حادثہ1970ء میں ''اے ایل ایم فلائٹ 980‘‘ ایک افسوسناک حادثے کا شکار ہو گئی جب اسے فنی خرابی اور ایندھن کی کمی کے باعث ہنگامی طور پر اتارنے کی کوشش کی گئی۔ طیارہ سمندر میں گر گیا، جس کے نتیجے میں 23 افراد ہلاک ہوئے۔ اس حادثے نے ہوا بازی کی دنیا میں حفاظتی اقدامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے اور بعد ازاں بہتری کی کوششوں کو تیز کیا گیا۔میانمار میں سمندی طوفان2مئی 2008ء کو میانمار میں شدید سمندی طوفان آیا جسے ''نرگس سائیکلون‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی تباہ کن طوفان تھا جو میانمار کی ریکارڈ شدہ تاریخ کی بدترین قدرتی آفت کا سبب بنا۔طوفان نے گنجان آباد علاقوں میں 40 کلومیٹر تک طوفانی لہریں پیدا کیں۔اس طوفان سے بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور تقریباًایک لاکھ38ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ صرف لابوٹا ٹاؤن شپ میں 80ہزار لوگ ہلاک ہوئے، بوگلے میں تقریباً 10ہزار اموات رپورٹ ہوئیں۔ 55 ہزار کے قریب افراد لاپتہ ہوئے ۔طوفان کی وجہ سے 12 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔جرمنی: مزدور یونینوں کا خاتمہ1933 میں جرمنی میں ایک اہم سیاسی تبدیلی کے دوران ملک کی آزاد مزدور یونینوں کو ختم کر کے ان کی جگہ جرمن لیبر فرنٹ قائم کر دی گئی۔ یہ اقدام اس وقت کے حکمرانوں کی جانب سے مزدور تحریک کو ایک مرکزی اور ریاستی کنٹرول میں لانے کی کوشش تھی۔ اس تنظیم نے تمام مزدور سرگرمیوں کو حکومت کے تابع کر دیا اور آزاد یونینوں کے کردار کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ اس تبدیلی نے جرمن معاشرے میں مزدوروں کی آزادی اور حقوق پر گہرے اثرات ڈالے اور ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مزید سخت کنٹرول میں دے دیا۔
حالیہ برسوں میں فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔ صرف پھیپھڑوں اور دل کی بیماریاں ہی نہیں بلکہ اب سائنسدان یہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ آلودہ ہوا دماغی صحت اور ذہنی کارکردگی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی حوالے سے حال ہی میں ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایئر پیوریفائر دماغی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ تحقیق امریکہ کے ایک ایسے علاقے میں کی گئی جہاں ٹریفک اور صنعتی آلودگی نسبتاً زیادہ تھی۔ اس تحقیق میں مجموعی طور پر 119 افراد شامل تھے جن کی عمر 30 سے 74 سال کے درمیان تھی۔ ان افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک گروپ کو حقیقی HEPA فلٹر والے ایئر پیوریفائر دیے گئے جبکہ دوسرے گروپ کو ایسے پیوریفائر دیے گئے جو دیکھنے میں بالکل اصلی تھے لیکن ہوا کو صاف نہیں کرتے تھے۔شرکانے ایک ماہ تک اپنے گھروں میں یہ پیوریفائر استعمال کیے۔ اس دوران محققین نے ان کی ذہنی کارکردگی کو مختلف ٹیسٹوں کے ذریعے جانچا جن میں یادداشت، توجہ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور ذہنی لچک (cognitive flexibility) شامل تھی۔ایک ماہ بعد دونوں گروپوں کے نتائج کا موازنہ کیا گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ صاف ہوا کا دماغی صلاحیتوں پر کیا اثر پڑا۔تحقیق کے نتائج کافی دلچسپ تھے۔ خاص طور پر 40 سال سے زائد عمر کے افراد میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔ جن افراد نے ایئر پیوریفائر استعمال کیے تھے انہوں نے ذہنی ٹیسٹ تقریباً 12 فیصد تیزی سے مکمل کیے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ صاف ہوا دماغی کارکردگی میں بہتری لا سکتی ہے، خاص طور پر درمیانی اور بڑی عمر کے افراد میں۔فضائی آلودگی اور دماغ کا تعلقسائنسدانوں کے مطابق فضائی آلودگی میں موجود باریک ذرات (particulate matter) صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ جسم میں داخل ہو کر دماغ پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔یہ ذرات دماغی سوزش بڑھا سکتے ہیں،خون کی شریانوں کو متاثر کر سکتے ہیں،دماغی خلیات کے درمیان رابطے کو کمزور کر سکتے ہیں۔بعض تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ طویل عرصے تک آلودہ ہوا میں رہنے سے الزائمر اور یادداشت کی خرابی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ایئر پیوریفائر کا کردارHEPA فلٹر والے ایئر پیوریفائر ہوا میں موجود باریک ذرات، دھول، پولن اور کچھ حد تک آلودگی کو کم کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق جب اندرون خانہ ہوا صاف ہوتی ہے تو دماغ کو بہتر آکسیجن ملتی ہے اور ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ شرکاکی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی، خاص طور پر اُن افراد میں جو پہلے سے آلودگی والے ماحول میں رہ رہے تھے۔کیا یہ نتیجہ حتمی ہے؟اگرچہ یہ نتائج امید افزا ہیں لیکن محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مختصر مدت کی تحقیق تھی۔ صرف ایک ماہ کے مشاہدے کی بنیاد پر طویل مدتی نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے۔اس کے علاوہ شرکا کی تعداد محدود تھی۔مختلف طرزِ زندگی رکھنے والے افراد شامل تھے۔طویل مدتی دماغی صحت پر اثرات ابھی واضح نہیں۔اس لیے مزید وسیع اور طویل تحقیقات کی ضرورت ہے۔عام زندگی کیلئے اس کا مطلباس تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صاف ہوا صرف جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ ذہنی کارکردگی کے لیے بھی اہم ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو شہروں میں رہتے ہیں جہاں آلودگی زیادہ ہوتی ہے، ایئر پیوریفائر ایک مددگار آلہ ثابت ہو سکتا ہے،تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ صرف پیوریفائر پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مجموعی طور پر ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے جیسے درخت لگانا،گاڑیوں کے دھوئیں کو کم کرنا،صاف توانائی کے ذرائع استعمال کرنا۔یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہماری روزمرہ کی ہوا، جسے ہم عام طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں، ہمارے دماغی افعال پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ ایئر پیوریفائر کے استعمال سے وقتی طور پر ذہنی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی ہے لیکن اس کے مستقل فوائد جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ صاف ہوا صرف سانس لینے کے لیے نہیں بلکہ بہتر سوچنے اور بہتر فیصلہ کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔
جیسے آج کے دور میں لوگ لمبی اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں قدیم زمانے کے لوگ بھی ایسے ہی یہ خواہش رکھتے تھے۔ یونانی اور رومی لوگ دور دراز علاقوں کے باشندوں کے بارے میں عجیب و غریب کہانیاں سنتے تھے کہ وہ سو سال سے بھی زیادہ جیتے ہیں۔ یونانی ادیب Lucian (تقریباً 120-180 ء) لکھتا ہے: ''واقعی کچھ ایسی قومیں بھی ہیں جو بہت لمبی عمر پاتی ہیں جیسے سیرس (چین کے لوگ) جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تین سو سال تک زندہ رہتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی لمبی عمر کی وجہ وہاں کی آب و ہوا کو قرار دیتے ہیں، کچھ زمین کو اور کچھ ان کی خوراک کوکیونکہ کہا جاتا ہے کہ وہ صرف پانی پیتے ہیں۔اسی طرح ایتھوس کے لوگوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ 130 سال تک زندہ رہتے ہیں اور جنوبی میسوپوٹیمیا کے لوگ سو سال سے زیادہ عمر پاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جو کی روٹی کھاتے ہیں، جو ان کی بینائی کو تیز رکھتی ہے۔‘‘چاہے ان باتوں میں کتنی ہی سچائی ہو ایک بات واضح ہے کہ یونانی اور رومی لوگ بھی لمبی اور صحت مند زندگی کے خواہش مند تھے اور وہ اس کے طریقے تلاش کرتے رہتے تھے۔ایک قدیم طبیب کی نظر میںقدیم زمانے کے طبیب اس بات میں دلچسپی رکھتے تھے کہ لمبی عمر پانے والے لوگ روزمرہ زندگی میں کیا کرتے ہیں۔ یونانی حکیم جالینوس( Galen،129-216 ء) نے ایسے دو لوگوں کا ذکر کیا ہے جنہیں وہ خود جانتا تھا۔پہلا شخص ٹیلیفس نامی ایک عالم تھا جو تقریباً سو سال جیا۔ جالینوس کے مطابق وہ دن میں صرف تین بار کھانا کھاتا تھا اور اس کی خوراک نہایت سادہ تھی۔ صبح وہ پانی میں پکا ہوا دلیہ شہد کے ساتھ کھاتا تھا۔ دوپہر کو پہلے سبزیاں کھاتا پھر تھوڑی سی مچھلی یا پرندے کا گوشت۔ شام کو وہ صرف روٹی کھاتا۔اس کی نہانے کی عادتیں بھی کچھ مختلف تھیں۔ وہ روزانہ زیتون کے تیل سے مساج کرواتا لیکن نہاتا کم تھا۔سردیوں میں مہینے میں دو بار، گرمیوں میں چار بار، اور درمیانی موسم میں تین بار۔دوسرا شخص اینٹیوکس نامی ایک بوڑھا طبیب تھا جو اسی سال سے زیادہ جیا۔ اس کی خوراک بھی سادہ تھی۔ صبح شہد کے ساتھ روٹی، دوپہر کو مچھلی اور رات کو ہلکی غذا جیسے دلیہ یا پرندے کا گوشت کھاتا تھا۔وہ روزانہ چہل قدمی کرتا تھا، کبھی رتھ میں سیر کرتا اور کبھی لوگوں سے اٹھوا کر شہر میں گھومتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ اپنی عمر کے مطابق ہلکی پھلکی ورزش بھی کرتا تھا۔جالینوس کے مطابق اسی متوازن طرزِ زندگی کی بدولت اینٹیوکس بڑھاپے تک صحت مند رہا۔ وہ آخر وقت تک ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہا۔ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ہر کوئی سو سال نہیں جیتا،یہ بات قدیم لوگ بھی جانتے تھے مگر Lucian ایک بات کہتا ہے:''دنیا کے ہر علاقے اور ہر موسم میں وہی لوگ لمبی عمر پاتے ہیں جو مناسب ورزش کرتے ہیں اور صحت کے مطابق غذا اختیار کرتے ہیں۔‘‘اس لیے وہ مشورہ دیتا ہے کہ اگر ہم لمبی اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے لوگوں کے طرزِ زندگی کو اپنانا چاہیے جو واقعی لمبی عمر پاتے ہیں۔اگر آپ دوسری صدی عیسوی کے روم میں رہتے، تو ٹیلیفس اور اینٹیوکس جیسے سادہ غذا کھانے اور متحرک رہنے والے لوگ آپ کے لیے بہترین نمونہ ہوتے۔
انگلینڈ میں بادشاہت کی بحالی29 اپریل 1660ء کو انگلینڈ میں بادشاہت کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی جب چارلس ii آف انگلینڈکو دوبارہ بادشاہ تسلیم کرنے کا عمل شروع ہوا۔ اس پیش رفت نے خانہ جنگی اور جمہوریہ کے دور کے بعد سیاسی استحکام پیدا کیا۔اولیور کومویل کے دور کے خاتمے کے بعد یہ ایک بڑی تبدیلی تھی جس نے برطانیہ کی آئینی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔ لوئزیانا خریداری کا معاہدہ 29 اپریل 1803ء کو امریکہ اور فرانس کے درمیان ریاست لوئزیانا کی خریداری کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت نپولین بوناپارٹ نے ایک وسیع علاقہ امریکہ کو فروخت کیا جس سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا رقبہ تقریباً دوگنا ہو گیا۔ یہ معاہدہ امریکی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس نے مغرب کی جانب توسیع، معاشی ترقی اور سیاسی طاقت میں اضافہ ممکن بنایا۔ڈاخاؤ حراستی کیمپ کی آزادی29 اپریل 1945ء کو امریکی افواج نے ڈاخاؤ حراستی کیمپ کو آزاد کروایا۔ یہ نازی جرمنی کے ابتدائی اور بدنام زمانہ کیمپوں میں سے ایک تھا جہاں ہزاروں قیدیوں کو قید اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جب اتحادی فوجیں یہاں پہنچیں تو انہوں نے انتہائی خوفناک حالات دیکھے۔بھوکے، بیمار قیدی اور لاشوں کے انبار۔ یہ واقعہ دوسری عالمی جنگ کے اختتامی دنوں میں نازی مظالم کی ایک ہولناک تصویر دنیا کے سامنے لایا اور اس کے بعد جلد ہی جرمنی کی شکست واقع ہوئی۔ سیگون سے انخلا29 اپریل 1975ء کو امریکہ نے ویتنام جنگ کے آخری مرحلے میں اپنے شہریوں اور اتحادیوں کو سیگون سے نکالنا شروع کیا۔ اس وقت شمالی ویتنام کی افواج شہر کے قریب پہنچ چکی تھیں اور جنوبی ویتنام کی حکومت تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سفارتخانے اور دیگر مقامات سے لوگوں کو نکالا گیا اور یہ منظر دنیا بھر میں نشر ہوا۔ یہ انخلاویتنام جنگ کے اختتام کی واضح علامت تھا کیونکہ اگلے ہی دن سیگون پر قبضہ ہو گیا۔ لاس اینجلس فسادات 29 اپریل 1992ء کو امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں شدید فسادات شروع ہوئے جب عدالت نے روڈنی کنگ پر تشدد کرنے والے پولیس افسران کو بری کر دیا۔ اس فیصلے نے عوام میں غم و غصہ پیدا کیا اور شہر میں لوٹ مار، آتش زنی اور احتجاج شروع ہو گیا۔ یہ فسادات کئی دنوں تک جاری رہے اور درجنوں افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے امریکہ میں نسلی امتیاز، پولیس کے رویے اور عدالتی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے اور بعد میں اصلاحات کی بحث کو جنم دیا۔
محنت،ثقافت اور خوشیوں کی روایتاپریل ، مئی ہمارے ملک کے میدانی علاقوں میں گندم کی کٹائی کا موسم ہے۔ برصغیر کے دیہی معاشرے میں گندم کی فصل صرف ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو گاؤں کے کھیتوں میں سنہری بالیوں کا منظر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے زمین نے سونے کا لباس پہن لیا ہو۔ اس خوبصورت منظر کے بعد شروع ہوتا ہے گندم کی کٹائی اور پھر گہائی کا مرحلہ، جو محض ایک زرعی عمل نہیں بلکہ ایک اجتماعی تہوار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔پہلے زمانے میں ہر جگہ مگر آج بھی کہیں کہیں گندم کی کٹائی ہاتھوں سے درانتی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ مرد، عورتیں اور بعض اوقات بچے بھی اس عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ فصل کو کاٹ کر گٹھوں (پولوں) کی شکل میں باندھ لیا جاتا ہے اور پھر انہیں کھیت کے کسی صاف اور ہموار حصے میں جمع کیا جاتا جسے '' کھلیان ‘‘کہا جاتا تھا۔ یہی کھلیان بعد میں گندم کی گہائی کا مرکز بنتے ہیں۔ گندم کی گہائی کا عمل نہایت محنت طلب کام ہے۔ آج کے جدید تھریشر یا کمبائن ہارویسٹر مشینوں کی جگہ ماضی میں بیلوں یا اونٹوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ گندم کے گٹھوں کو ایک ڈھیری کی شکل میں ایک جگہ اکٹھا کیا جاتا۔پھر اسے زمین پر بچھا کر اس کے اوپر جانوروں کو چکر لگوائے جاتے تھے۔ بعض کسان بیلوں کے پیچھے اس گندم کی ڈھیری میں سے بڑے بڑے پھلے بنا کر باندھتے۔ پورا دن جانور ایک دائرے میں گھومتے رہتے۔ جس کے نتیجے میں گندم کی بالیوں سے دانے الگ ہو جاتے۔ گہائی کے دوران کسان بڑی محنت اور صبر سے کام لیتے۔ صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے ہی کام شروع ہو جاتا۔ وہ مسلسل ایک ہی جگہ پر گندم کو روندتے رہتے۔ اس روندی ہوئی فصل کو لکڑی سے بنے ہوئے اوزاروں سے الٹ پلٹ بھی کرتے رہتے۔ گندم کے تنکوں اور دانوں سے بھوسہ الگ کیاجاتا۔جب دانے مکمل طور پر الگ ہو جاتے تو انہیں ایک جگہ جمع کر کے ڈھیری بنائی جاتی۔گندم کی یہ ڈھیری نہ صرف کسان کی محنت کا ثمر ہوتی بلکہ اس کے سال بھر کے رزق کی علامت بھی سمجھی جاتی۔ جب گندم کی ڈھیری تیار ہو جاتی تو اس کے بعد آتا تولائی کا مرحلہ۔ پرانے زمانے میں ترازو اور باٹ کے ذریعے گندم تولی جاتی تھی۔ اس موقع پر گاؤں کے بچے بھی بڑی دلچسپی سے کھلیان میں آ جاتے۔ایک خوبصورت روایت یہ تھی کہ جب گندم تولی جاتی تو بچوں کو خوشی کے طور پر دانے دیے جاتے۔ بچے اپنے چھوٹے چھوٹے دامن میں گندم کے دانے لے کر خوشی سے جھوم اٹھتے۔ بعض جگہوں پر بچوں کو چنگیر بھر کر گندم دی جاتی جو اُن کے لیے کسی انعام سے کم نہ ہوتی تھی۔یہ روایت نہ صرف بچوں کی خوشی کا باعث بنتی بلکہ انہیں محنت اور رزق کی قدر بھی سکھاتی تھی۔ وہ دیکھتے کہ یہ دانے کتنی محنت کے بعد حاصل ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کے دل میں کسانوں کے لیے احترام پیدا ہوتا۔ سال بھر کسان کا کام کرنے والے بھی کھلیان میں پہنچ جاتے اور سال بھر کی محنت کا عوضانہ وصول کرتے۔گندم کی گہائی کے دن سے گاؤں میں ایک خاص رونق ہوتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے آتے، کھانا اکٹھے کھایا جاتا۔یہ محنت صرف جسمانی نہیں بلکہ ایک روحانی اور سماجی تجربہ بھی تھی۔ اس میں تعاون، بھائی چارہ اور سادگی کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ ہر شخص دوسرے کے کام میں ہاتھ بٹاتا اور کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔ اج کے جدید دور میں مشینوں نے ان تمام روایتی طریقوں کی جگہ لے لی ہے۔ تھریشر، کمبائن ہارویسٹر اور دیگر زرعی آلات نے کام کو آسان اور تیز بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ثقافتی رنگ بھی ماند پڑ گئے ہیں جو کبھی گندم کی گہائی کا حصہ تھے۔ اب نہ وہ کھلیان کی رونق رہی، نہ بیلوں کی گھنٹیوں کی آواز اور نہ ہی بچوں کو دانے دینے کی وہ سادہ مگر خوبصورت روایت۔ سب کچھ مشینی اور تیز رفتار ہو گیا ہے۔ گندم کی گہائی ایک مکمل ثقافتی عمل تھا جس میں محنت، خوشی، تعاون اور روایات کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ یہ صرف دانے نکالنے کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسی یادگار روایت تھی جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی تھی۔ اگرچہ وقت کے ساتھ طریقے بدل گئے ہیں لیکن ان روایات کی یادیں آج بھی دیہی سماج کے حسن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان روایات کو یاد رکھیں اور اپنی نئی نسل کو ان سے روشناس کرائیں تاکہ وہ جان سکیں کہ ان کے آباؤ اجداد نے کس محنت اور محبت سے یہ زمین آباد کی تھی۔
سائنسی تحقیق کی روشنی میں ایک جائزہنیند انسانی زندگی کی ایک بنیادی اور لازمی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی توانائی کو بحال کرتی ہے بلکہ دماغی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے اس پہ روشنی ڈالی ہے کہ نیند کا دورانیہ براہِ راست دماغی بیماریوں، خصوصاً ڈیمنشیا کے خطرے سے جڑا ہوا ہے۔ اس مضمون میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مناسب نیند کس طرح ہماری دماغی صحت کو بہتر بنا سکتی ہے۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیمنشیا کیا ہے۔ ڈیمنشیا ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان کی یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور روزمرہ کے کام انجام دینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہ عموماً عمر کے ساتھ بڑھتا ہے لیکن طرزِ زندگی کے کئی عوامل اس کے خطرے کو کم یا زیادہ کر سکتے ہیں۔ انہی عوامل میں سے ایک اہم عنصر نیند ہے۔یارک یونیورسٹی کینیڈا کے ماہرین کی ایک ٹیم کی ایک حالیہ تحقیق میں تقریباً 69 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں لاکھوں افراد کے نیند کے معمولات اور دماغی صحت کا تجزیہ کیا گیا، اس جامع تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند دماغی صحت کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے۔ یہ وہ درمیانی حد ہے جہاں انسان کا دماغ بہترین طریقے سے کام کرتا ہے اور بیماریوں کا خطرہ کم رہتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس حد سے کم یا زیادہ سوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ 7 گھنٹے سے کم سوتے ہیں ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 18 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند کی کمی دماغ کو مکمل آرام نہیں دیتی جس کے نتیجے میں دماغی خلیات صحیح طریقے سے کام نہیں کر پاتے۔ نیند کے دوران دماغ خود کو صاف کرتا ہے اور نقصان دہ مادوں کو خارج کرتا ہے، لیکن کم نیند اس عمل کو متاثر کرتی ہے۔دوسری طرف اگر کوئی شخص 8 گھنٹے سے زیادہ سوتا ہے تو بھی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق زیادہ نیند لینے والوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 28 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ سن کر حیرت ہوتی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ نیند لینا اکثر کسی پوشیدہ بیماری یا کمزور صحت کی علامت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ سونا جسمانی سرگرمی میں کمی کا باعث بنتا ہے جو دماغی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف نیند ہی کافی نہیں بلکہ دیگر طرزِ زندگی کے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص روزانہ 8 گھنٹے سے زیادہ بیٹھا رہتا ہے (جیسے دفتر میں کام کرنے والے افراد) تو اس میں بھی ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ہفتے میں 150 منٹ سے کم جسمانی سرگرمی بھی دماغی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔اس تحقیق سے ایک اہم پیغام یہ ملتا ہے کہ متوازن طرزِ زندگی اپنانا بے حد ضروری ہے۔ نیند، جسمانی سرگرمی اور روزمرہ کی عادات ،یہ سب مل کر ہماری دماغی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر ہم صرف نیند پر توجہ دیں اور باقی عوامل کو نظر انداز کریں تو ہم مکمل فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔مزید یہ کہ نیند کا معیار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اس کا دورانیہ۔ اگر کوئی شخص 7 سے 8 گھنٹے بستر پر تو گزارتا ہے لیکن اس کی نیند بار بار ٹوٹتی ہے یا وہ بے سکون رہتا ہے تو اس کا فائدہ کم ہو جاتا ہے۔ اچھی نیند کے لیے ضروری ہے کہ سونے کا ماحول پرسکون ہو، روشنی کم ہو اور سونے سے پہلے موبائل یا سکرین کا استعمال محدود کیا جائے۔ ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ ایک مستقل نیند کا شیڈول اپنایا جائے یعنی روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا۔ اس سے جسم کا اندرونی نظام درست رہتا ہے اور نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ دماغی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے نیند ایک سادہ مگر مؤثر ذریعہ ہے۔ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی معیاری نیند، مناسب جسمانی سرگرمی اور متوازن طرزِ زندگی اپنانے سے نہ صرف ڈیمنشیا بلکہ دیگر کئی بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔یہ تحقیق ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ہمیں بڑے اور پیچیدہ اقدامات کی ضرورت نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی عادات میں بہتری لا کر ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ نیند کو نظر انداز کرنا ایک بڑی غلطی ہو سکتی ہے اس لیے اسے اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں اور اپنی دماغی صحت کا خیال رکھیں۔
مسولینی کی موت 28 اپریل 1945 کو بینیٹو مسولینی کو اطالوی مزاحمتی جنگجوؤں نے قتل کر دیا۔ مسولینی اٹلی کا فاشسٹ حکمران تھا جس نے 1922 سے ملک پر آمریت قائم کر رکھی تھی۔ وہ ہٹلر کا قریبی اتحادی تھا اور دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کے ساتھ شامل رہا۔جنگ کے آخری دنوں میں جب اتحادی افواج تیزی سے آگے بڑھ رہی تھیں تو مسولینی نے سوئٹزرلینڈ فرار ہونے کی کوشش کی تاہم راستے میں اطالوی پارٹیزنز نے اسے گرفتار کر لیا۔ 28 اپریل کو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مسولینی کا خاتمہ فاشزم کے خاتمے کی علامت بن گیا۔ورکرز میموریل ڈےہر سال 28 اپریل کو دنیا بھر میں ورکرز میموریل ڈے منایا جاتا ہے، جسے عالمی یومِ تحفظ محنت بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان مزدوروں کو یاد کرنا ہے جو کام کے دوران حادثات یا بیماریوں کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یہ دن پہلی بار کینیڈا اور امریکہ میں منایا گیا اور بعد میں انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن سمیت دیگر عالمی اداروں نے بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کیا۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی اور معیشت کے پیچھے محنت کش طبقے کی قربانیاں شامل ہوتی ہیں، اور ان کی حفاظت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔چرنوبل حادثے کا انکشاف چرنوبل کا حادثہ 26 اپریل 1986ء کو پیش آیا لیکن 28 اپریل کو دنیا کو اس کی شدت کا علم ہوا۔ اس دن سویڈن کے ایک نیوکلیئر پلانٹ میں غیر معمولی تابکاری ریکارڈ کی گئی، تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ اخراج سوویت یونین کے شہر چرنوبل سے آ رہا ہے۔بین الاقوامی دباؤ کے بعد سوویت حکومت نے بالآخر اس حادثے کو تسلیم کیا۔ یہ تاریخ کا بدترین ایٹمی حادثہ تھا جس میں ری ایکٹر نمبر 4 دھماکے سے تباہ ہو گیا اور بڑی مقدار میں تابکار مادہ فضا میں پھیل گیا۔اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے، کئی ہلاک ہوئے اور لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ ایئر بس اے 300 کی پرواز 28 اپریل 1974 کوائیر بس اے 300 نے اپنی پہلی باقاعدہ کمرشل پرواز مکمل کی۔ یہ طیارہ یورپی کمپنی Airbus نے تیار کیا تھا اور یہ دنیا کا پہلا دو انجن والا وائیڈ باڈی طیارہ تھا۔اس طیارے کی پہلی پرواز ایئرفرانس نے چلائی۔ اس کامیابی نے عالمی ہوا بازی کی صنعت میں ایک نئی راہ کھولی کیونکہ اس سے پہلے بڑے طیارے زیادہ تر چار انجن والے ہوتے تھے۔A300کی کامیابی کے بعد Airbus نے مزید جدید طیارے تیار کیے جنہوں نے ہوائی سفر کو زیادہ محفوظ، سستا اور مؤثر بنایا۔ میری لینڈ یونیورسٹی کا قیام 28 اپریل 1856ء کو امریکہ میں میری لینڈ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ ابتدا میں اسے میری لینڈ ایگریکلچر کالج کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔اس ادارے کا مقصد زراعت، سائنس اور عملی تعلیم کو فروغ دینا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک بڑی تحقیقی یونیورسٹی میں تبدیل ہو گئی جہاں مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔آج یہ یونیورسٹی امریکہ کے نمایاں تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور ہزاروں طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کا کردار سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی، اور سماجی علوم میں نہایت اہم رہا ہے۔
سمندر کی گہرائیوں میں پوشیدہ اسرار ہمیشہ سے انسان کیلئے حیرت اور تجسس کا باعث رہے ہیں۔ حال ہی میں دریافت ہونے والا ایک پراسرار ''سنہری انڈا‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ثابت ہوا، جس نے ابتدا میں سائنسدانوں سمیت دنیا بھر کے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس عجیب و غریب شے کی ساخت اور مقامِ دریافت نے کئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا، حتیٰ کہ بعض حلقوں میں اسے خلائی مخلوق سے بھی جوڑ دیا گیا۔ تاہم تین سال کی مسلسل تحقیق اور سائنسی تجزیے کے بعد ماہرین نے بالآخر اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے، جو نہ صرف سمندری حیات کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ سائنسی تحقیق کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔سمندر کی تہہ میں دریافت ہونے والی یہ عجیب شے، جس کا سائز تقریباً چار انچ (10 سینٹی میٹر) سے کچھ زیادہ تھا، خلیجِ الاسکا کے نیچے دو میل (3.25 کلومیٹر) سے زائد گہرائی میں پائی گئی تھی۔سمندری حیاتیات کے ماہرین کی تحقیق کے باوجود اس کی اصل حقیقت جاننے کیلئے کئی سالوں پر مشتمل ایک پیچیدہ تحقیق درکار ہوئی۔ آخرکار معلوم ہوا کہ یہ نہ تو ایلین کے انڈے جیسا تھا، نہ کوئی نئی عجیب نوع بلکہ درحقیقت یہ انڈا تھا ہی نہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ نام نہاد ''سنہری انڈا‘‘ دراصل مردہ خلیات کا ایک گچھا تھا، جو گہرے سمندر میں پائے جانے والے ایک بڑے اینیمون (anemone) کی بنیاد کا حصہ تھا۔ یہ زرد رنگ کا گچھا اصل میں اس جاندار کو چٹان کے ساتھ جوڑنے کا کام کرتا تھا، تاہم بعد میں یا تو یہ اینیمون مر گیا یا کسی نئی جگہ منتقل ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس کے باقیات وہیں رہ گئیں۔اس موضوع پرتحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر اسٹیون آسکاوِچ (Dr Steven Auscavitch)، جو اسمتھسونین انسٹیٹیوشن (Smithsonian Institution)کے نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری سے وابستہ ہیں کے مطابق اس معمہ کو حل کرنا انتہائی تسلی بخش ہے۔ اس کی دریافت کے کئی سال بعد بھی ہمیں اس کی شناخت کے بارے میں مسلسل سوالات موصول ہوتے رہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم اپنے سیارے کی ان چھوٹی مگر عجیب چیزوں کی جانب توجہ مبذول کروا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ ''سنہری انڈا‘‘ 2023ء میں ایک گہرے سمندر کی مہم کے دوران دریافت ہواتھا، جس کی قیادت نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) نے کی تھی۔ ریموٹ سے چلنے والی آبدوز ''ڈیپ ڈسکورر‘‘ کے آپریٹرز سمندر کی تہہ کے اوپر گشت کر رہے تھے کہ اچانک انہیں ایک ایسی چیز نظر آئی جس کی کوئی وضاحت ممکن نہ تھی۔ یہ شے ہموار، چمکدار اور نرم تھی اور اس کے سامنے کی جانب ایک بڑا سا سوراخ موجود تھا۔ ابتدا میں سائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ شاید یہ کسی نئی قسم کے اسفنج یا کسی جانور کے انڈے کا خول ہو سکتا ہے۔دریافت کے وقت ایک محقق نے بتایا تھاکہ کچھ اس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا یا پھر باہر نکلنے کی۔تاہم جب اس سنہری گچھے کو تحقیقی جہاز اوکیانوس ایکسپلورر (Okeanos Explorer) پر لایا گیا تو صرف اتنا ہی معلوم ہو سکا کہ یہ کسی حیاتیاتی (جاندار) نوعیت کی چیز ہے۔ آن لائن دنیا میں اس پراسرار شے کے بارے میں قیاس آرائیاں تیزی سے پھیل گئیں اور بہت سے لوگوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کہیں سائنس دان واقعی کسی خلائی مخلوق تک تو نہیں پہنچ گئے۔ کچھ سنجیدہ رائے رکھنے والوں نے خیال ظاہر کیا کہ یہ کوئی نئی نوع ہو سکتی ہے، کیونکہ گہرے سمندروں میں پائی جانے والی تقریباً دو تہائی مخلوقات اب تک سائنس کیلئے نامعلوم ہیں۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا تھا کہ غالب امکان یہی ہے کہ یہ کسی سمندری جانور کے انڈے کا خول ہو۔ معمہ حل نہ ہونے پر محققین نے اس نمونے کو اسمتھسونین نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری بھیج دیا، جہاں یہ ایک بار پھر توقع سے زیادہ پیچیدہ پہیلی ثابت ہوا۔ ماہرِ حیوانیات ڈاکٹر ایلن کولنز کہتے ہیں کہ ہم سیکڑوں مختلف نمونوں پر کام کرتے ہیں اور مجھے امید تھی کہ ہمارے معمول کے طریقۂ کار اس معمہ کو حل کر دیں گے۔ لیکن یہ ایک خاص کیس بن گیا جس کیلئے مختلف ماہرین کی خصوصی مہارت اور توجہ درکار تھی۔ یہ ایک پیچیدہ معمہ تھا جسے حل کرنے کیلئے ساختی، جینیاتی، گہرے سمندر اور بائیو انفارمیٹکس کی مہارتوں کی ضرورت پڑی۔آخرکار، دونوں نمونوں کے مائٹوکانڈریا میں موجود ڈی این اے کی ترتیب (سیکوینسنگ) سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ یہ واقعی ''Relicanthus daphneae‘‘ہی ہے۔ یہ دیوہیکل سمندری اینیمون دو میٹر تک لمبے ہو سکتے ہیں اور پانی کے بہاؤ میں تیرتے ننھے جانداروں کو شکار بناتے ہیں۔ یہ سنیڈیرینز (Cnidarians) میں سب سے بڑے شمار ہوتے ہیں اور عموماً سمندر کے ان مقامات کے قریب پائے جاتے ہیں جہاں زیر آب آتش فشانی دہانے غذائیت سے بھرپور پانی خارج کرتے ہیں۔شریک مصنفہ شارلٹ بینیڈکٹ کے مطابق یہ نوع گہرے سمندر کی تحقیق کیلئے ایک علامت (ماسکوٹ) ہونی چاہیے، کیونکہ یہ نہ صرف ان جانداروں کی حیرت انگیزی کو ظاہر کرتی ہے جو ایسے مشکل اور ناقابلِ رسائی ماحول میں زندہ رہتے ہیں، بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہم اب تک ان کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں۔ تاہم، سنہری انڈے کا معمہ ابھی مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔ مس بینیڈکٹ کے مطابق اس سنہری گول شے کے بارے میں ایک بڑی الجھن یہ تھی کہ اگر یہ واقعی ریلیکنٹس ہے تو اس کا باقی حصہ کہاں گیا اور یہ اس سے الگ کیسے ہوا؟ کیا یہ جاندار مر گیا اور یہ باقیات چھوڑ گیا، یا پھر اینیمون کا باقی حصہ الگ ہو کر سرک گیا؟
گھر کی خاموش دیواروں، لکڑی کے فرنیچر اور کتابوں کے ڈھیروں میں ایک ایسا دشمن پل رہا ہوتا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر اندر ہی اندر سب کچھ کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ خاموش تباہی پھیلانے والا کیڑا دیمک کہلاتا ہے۔ دیمک نہ صرف گھروں اور عمارتوں کیلئے خطرہ ہے بلکہ قیمتی دستاویزات، کتب اور لکڑی سے بنی اشیاء کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔ اکثر لوگ اس کی موجودگی کا اندازہ اس وقت کرتے ہیں جب نقصان حد سے بڑھ چکا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دیمک کی بروقت شناخت اور اس کا سدباب نہ کیا جائے تو یہ ایک چھوٹے سے مسئلے کو بڑے معاشی نقصان میں تبدیل کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیمک کے خطرات، اس کی وجوہات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔دیمک کا رنگ عموماً سفید بھورا ہوتا ہے، اس لئے اس کو سفید چیونٹی بھی کہا جاتا ہے۔ دیمک بھی کالی چیونٹی کی طرح خوراک کی طرف قطار بنا کر سفر کرتی ہے فرق صرف یہ ہے کہ کالی چیونٹی سورج کی روشنی میں بھی کام کر سکتی ہے جبکہ دیمک سورج کی روشنی میں کام نہیں کر سکتی۔ اس لئے دیمک مٹی کی سرنگ بنا کر اس سرنگ کے اندر قطار بنا کر سفر کرتی ہیں۔ دیمک ایک سوشل کیڑا ہے، اس کی کالونی میں ملکہ اور بادشاہ، سولجرز اور ورکرز ہوتے ہیں۔جب دیمک کی کالونی فل سائز میں پہنچتی ہے تو اس میں 60ہزار سے 2لاکھ تک ورکرز ہوتے ہیں۔ کالونی میں حکمرانی ملکہ کی ہوتی ہے جو 10ہزار سے 20ہزارتک ایک دن میں انڈے دیتی ہے اور اس کی عمر 10 سال یا اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ دیمک کی خوراک عموماً لکڑی ہے اس کے علاوہ وہ کتابیں، کپڑے، فرنیچر، قیمتی پیپرز بھی کھا جاتی ہے۔کماد یا دوسری فصلوں میں دیمک کا حملہ جڑ سے شروع ہوتا ہے اور اس کی مرغوب غذا بھی سوکھی ہوئی جڑیا تنا ہوتا ہے۔ کھیت میں سوکھے ہوئے پودے اس کے حملہ کی نشانی ہیں۔ اگر ان پودوں کو اُکھاڑا جائے تو جڑیں کٹی ہوئی ملیں گی۔ سوکھی ہوئی جڑیں ختم کرنے کے بعد دیمک تنے پر موجود سوکھے ہوئے پتوں پر حملہ آور ہو جاتی ہے اور ان کے خاتمہ کے بعد سبز پتوں کو بھی کھا جاتی ہے۔ درختوں پر حملہ کی صورت میں پودے کی پہلے ایک شاخ سوکھتی ہے اور اس طرح تمام شاخیں سوکھ جاتی ہیں اور پودا پورا ختم ہو جاتا ہے۔ کنو شاید واحد پودا ہے جو اس موذی کیڑے کا آخری دم تک مقابلہ کرتا ہے۔ کئی شاخیں سوکھ جانے کے باوجود بھی پودہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔کپاس ، گندم، مرچ اور دوسری سبزیوں وغیرہ میں دیمک کے حملہ کی صورت میں کھیت میں کئی پودے مختلف فاصلوں پر خشک ہو جاتے ہیں اور کئی دفعہ یہ نقصان معاشی حد سے زیادہ ہو جاتا ہے اور دیمک مارا ادویات کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے۔فصلوں والی زمینوں پر عمارات بنائی جاتی ہیں تو ان عمارات میں بھی دیمک کا حملہ ہو جاتا ہے۔ عمارات کی تعمیر سے قبل دنیا بھر کے انجینئرز، آرکٹیکٹس اور کنسلٹنٹس دیمک مار دوائی کا استعمال تعمیرات کی منصوبہ بندی کا ایک اہم جزو سمجھتے ہیں اور یہ طریقہ انتہائی آسان، کم خرچ اور موثر ترین ہے۔ عمارات میں دیمک مار دوائی کا استعمال قبل از تعمیر اور تعمیر کے بعد کیا جاتا ہے قبل از تعمیر پہلی دفعہ بنیادیں کھودنے کے بعد بنیادوں کے فرش پر سپرے کیا جاتا ہے۔ دوسری دفعہ فرش بندی کیلئے مٹی ڈال کر ہموار کرنے کے بعد پریشر پمپ کے ذریعے سپرے کیا جاتا ہے۔تعمیر شدہ عمارات جہاں دیمک کی مٹی کی سرنگیں موجود ہوں ماہر حشریات( انٹو مولوجسٹ) کی نگرانی میں کسی صحیح اور سفارش کردہ دیمک مار دوائی کا بذریعہ ڈرل اور انجیکشن کا طریقہ بہت ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں عمارت کی دیواروں کے اندر اور باہر ساتھ ساتھ 2فٹ کے فاصلہ پر بذریعہ ڈرل کچی مٹی تک سوراخ کرکے دوائی کا محلول تقریباً 4لیٹر فی سوراخ بذریعہ پریشر مشین زیر زمین پہنچانا ضروری ہے تاکہ دیواروں کے ساتھ ساتھ دوائی کی تہہ لگ جائے اور دیمک الماریوں اور دروازوں تک دوائی کی تہہ کو پار کرنے کی کوشش کرے تو مرجائے۔ ایک بات بہت ضروری ہے کہ آج کل عطائی ڈاکٹروں کی طرح دیمک کنٹرول کے پروفیشن میں بھی عطائی قسم کے لوگ داخل ہو گئے ہیں اور ظلم یہ ہے کہ ادویات بھی جعلی استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ دیمک کنٹرول کا کام صرف اور صرف انٹو مولوجیسٹ کی زیر نگرانی کروانا چاہئے اور اس سلسلہ میں دیمک مار دوائی بھی بااعتماد پارٹی سے خرید کرکے استعمال کروانی چاہئے۔ دیمک کنٹرول کے عمل کا خرچہ مقابلتاً گھر، عمارتوں میں موجود قیمتی اشیاء کے نقصان سے بہت کم ہوتا ہے۔ ایک اور ضروری بات یہ ہے کہ دروازوں، کھڑکیوں کو دیمک مار دوائی لگانے کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا جب تک عمارت کو دیمک سے صحیح طریقہ یعنی ڈرل اور پریشر مشین سے دوائی انجیکٹ نہ کی جائے تاہم فرنیچر وغیرہ دیمک مار دوائی لگانے کی وجہ سے دیمک اور گھن سے محفوظ رہتا ہے۔
آخر اس گرم سی شام کو میں نے گھر میں کہہ دیا کہ مجھ سے ایسی تپش میں نہیں پڑھا جاتا۔ ابھی کچھ اتنی زیادہ گرمیاں بھی نہیں شروع ہوئی تھیں۔ بات دراصل یہ تھی کہ امتحان نزدیک تھا اور تیاری اچھی طرح نہیں ہوئی تھی۔ یہ ایک قسم کا بہانہ تھا۔ گھر بھر میں صرف مجھے امتحان دینا تھا۔ حامد میاں امتحان سے فرنٹ ہوچکے تھے کہ اگلے سال دیں گے۔ ننھی عفت کو خواہ مخواہ اگلی جماعت میں شامل کردیا گیا تھا۔ باقی جو تھے وہ سب کے سب پاس یا فیل ہوچکے تھے۔لازمی طور پر میری ناز برداریاں سب سے زیادہ ہوتیں۔ طرح طرح کے ناشتے، ذرا ذرا دیر کے بعد پینے کی سرد چیزیں، اور ادھر ادھر کے کمروں میں مکمل خاموشی! بچوں کو ڈرایا جاتا کہ خبردار جوان سے بات کی تو، خبردار جوان کے کمرے کے نزدیک سے گزرے، خبردار جو یہ کیا جو وہ کیا، یہ امتحان دے رہے ہیں!ادھر امتحان کم بخت ایسا زبردست تھا کہ کسی طرح کتابیں قابو میں نہ آتی تھیں۔ آخر تنگ آکر میں نے کہہ ہی دیا کہ مجھ سے یہاں نہیں پڑھا جاتا۔ مطلب صاف ظاہر تھا کہ پہاڑ پر جاؤں گا۔ کئی دنوں تک گھر میں یہی ذکر ہوتا رہا۔ آخر ایک دن مجھ سے کہا گیا کہ تیار ہو جاؤں۔ ابا کے کوئی خاں صاحب یا خان بہادر کی قسم کے عزیز دوست ایک مہینے سے پہاڑ پر جا چکے تھے۔ وہاں تار بھیجا گیا اور انہوں نے مجھے بلا لیا۔ گھر میں دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں میری ہم عمر ایک لڑکی بھی ہے۔ اس پر میرے کان کھڑے ہوئے، چنانچہ تقریباً سارے گرم سوٹ ڈرائی کلین کرانے کیلئے دے دیے گئے۔ لیکن پھر پتہ چلا کہ وہ فلسفہ پڑھتی ہے اور عینک لگاتی ہے۔ لا حول ولا قوۃ! چلو اس کا بھی فیصلہ ہو گیا۔ اب مزے سے پڑھیں گے۔ لیکن عجیب الجھن سی پیدا ہوگئی۔ فلسفی لڑکی! اس پر طرہ یہ کہ عینک لگاتی ہے۔میں وہاں پہنچا۔ ایک صاحب مجھے لینے آئے۔ میری عمر کے ہوں گے۔ بولے ''میں ہوں تو رفیق، لیکن مجھے رفو کہا جاتا ہے‘‘۔ ان کے مکان تک آٹھ دس میل کی چڑھائی تھی۔ وہ کار میں آئے تھے، لیکن ہم نے کار واپس بھیج دی کہ مزے مزے سے پیدل چلیں گے۔ راستے میں خوب باتیں ہوئیں۔ پتہ چلا کہ وہ بھی کسی امتحان کے پھیر میں ہیں۔ وہ خان صاحب (یا خان بہادر) کے کچھ چچا کے ماموں کی بھتیجی کی خالہ کے پوتے کے چچازاد بھائی کی قسم کے عزیز تھے۔ کافی دیر حساب لگانے کے پتہ چلا کہ وہ تقریباً ان کے بھتیجے تھے۔ پھر ان فلاسفر صاحبہ کا ذکر ہوا۔ شکیلہ نام تھا۔ ہم دونوں سے عمر میں دوتین سال بڑی تھیں اور فلسفے کی کوئی بڑی ساری ڈگری لینے کی فکر میں تھیں۔ چلتے چلتے کافی دیر ہوگئی تھی۔ رفو ہاتھ سے اشارہ کر کے بولے ''بس یہ موڑ اور رہ گیا ہے‘‘۔سامنے بادل ہی بادل چھائے ہوئے تھے۔ آگے راستہ نظر نہ آتا تھا۔ رفو بولے ''ایک عجیب بات ہے۔ اس موڑ پر ہمیشہ یا تو بادل ہوتے ہیں یا دھند‘‘، اب ہم دھند میں سے گزر رہے تھے۔ آہستہ آہستہ دھند صاف ہوئی تو موڑ کے بعد ان کی کوٹھی یکلخت سامنے نظر آنے لگی۔ بس ایک گہرا سا کھڈ تھا بیچ میں۔ لیکن ابھی آدھ میل کا چکر اور تھا۔ ہم نے دیکھا کہ کوٹھی کے قریب درختوں کے جھنڈ میں ایک پتھر پر کوئی خاتون کھڑی تھیں۔ چھریرا قد، لہراتے ہوئے پریشان بال، ہلکا گلابی چہرہ اور ناک پر کالے فریم کی ایک عینک۔''یہی ہیں شکیلہ‘‘ رفو بولے۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔ انہوں نے سر کی جنبش سے جواب دیا۔ اتنی بری نہیں تھیں جتنا میں سمجھے بیٹھا تھا۔ اگر وہ موٹی سی عینک نہ ہوتی تو شاید حسین کہہ سکتے تھے۔ یا کم از کم وہ بھدا سا سیاہ فریم نہ ہوتا۔ میں کنبے میں بہت جلد گھل مل گیا۔ رفو اور میں تو بالکل بے تکلف ہوگئے، لیکن شکیلہ تھیں کہ لی ہی نہیں پڑتی تھیں۔ نہ کبھی ہماری باتوں میں دلچسپی لیتیں نہ کبھی گفتگو میں شریک ہوتیں۔ ہم دونوں ان کے سامنے بہیترے ٹامک ٹوئیے مارتے، اول جلول باتیں کرتے، خوشامدیں کرتے، لیکن ان کی ناک ہمیشہ چڑھی رہتی۔ اور ان کا کام کیا تھا؟ صبح سے شام تک دس دس سیر وزنی کتابیں پڑھنا۔رات کو انگیٹھی کے سامنے بیٹھی سوچ رہی ہیں۔ اتنی سنجیدگی سے جیسے دنیا کے نظام کا دارومدار ان ہی کی سوچ بچار پر تو ہے۔ کبھی انگلی سے ہوا میں لکھنے لگتی ہیں۔ کبھی کرسی پر طبلہ بجنے لگتا ہے۔ کبھی جھنجھلا جھنجھلا پڑتی ہیں۔ پھر یکلخت ایک مسکراہٹ لبوں پر دوڑ جاتی ہے اور سرہلنے لگتا ہے، جیسے سب کچھ سمجھ میں آگیا۔ دفعتاً مٹھیاں بھینچ لی جاتی ہیں اور غریب صوفے کے دوتین مکے رسید کیے جاتے ہیں۔ ادھر ہم انہیں دیکھ کر جھنجھلا اٹھتے۔ یہ تو نیم پاگل ہیں بالکل۔خان صاحب (یا خان بہادر) اور بیگم صاحبہ کا معاملہ ہی اور تھا۔ وہ ہمیشہ باتیں سیاسیات، معاشیات، فسادیات وغیرہ کی کرتے جن میں ہمیں ذرہ بھر دلچسپی نہ ہوتی۔ باقی تھے بچے وہ پہلے ہی سے احمق تھے، یا خاص طور پر احمق بنا دیے گئے تھے۔ اب بھلاہم کس سے باتیں کرتے؟ لے دے کے یہی ایک ہم عمر تھیں۔ یہی بے حد تنہائی پسند اور خشک مزاج واقع ہوئی تھیں اور ماشاء اللہ اپنی ہی دنیا میں بستی تھیں۔ کبھی منت سے کہا، ''ہمارے ساتھ بیڈ منٹن کھیل لیجیے‘‘، جواب ملا ''عینک ہے! عینک پر چڑیا لگے گی‘‘۔ کہا ''نہیں! ہم نہیں لگنے دیں گے، شاٹ نہیں ماریں گے۔ بس اچھال اچھال کر کھیلیں گے‘‘۔ کہنے لگیں، ''تو پھر وہ کھیل ہی کیا ہوا جو بے دلی سے کھیلا جائے۔ ویسے آپ دونوں تو سنگلز بھی کھیل سکتے، بھلا میں تیسری کیا کروں گی؟‘‘پھر کسی دن کہا، ''ہمارے ساتھ سیر کو چلیے‘‘، بولیں ''ابھی تو مجھے فرصت نہیں۔ بالکل فرصت نہیں۔ جب تک میں یہ تھیوری سمجھ نہیں لیتی‘‘۔ پوچھا ''تو کب تک سمجھ لیں گی آپ یہ تھیوری؟‘‘ جواب ملا ''کیا پتہ۔ شاید پانچ منٹ میں سمجھ لوں۔ اور سمجھ میں نہ آئے تو مہینے تک نہ آئے‘‘ اور جو کسی دن بہت خوش ہوئیں تو کہتیں، ''بس ابھی چلتے ہیں سیر کو، ذرا بچوں سے کہہ دیجیے کہ تیار ہوجائیں‘‘۔ بچوں کے نام پر ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے، اور بات وہیں ختم ہوجاتی۔ عموماً میں اور رفو دونوں سیر کو جایا کرتے۔ کچھ دنوں تک تو یونہی ہوتا رہا۔ پھر ایک دن ہم نے تنگ آکر بغاوت کردی۔ آخر کیوں نہیں شریک ہوتیں یہ ہمارے ساتھ۔ جب ایک ہم عمر موجود ہے تو پھر ہم اس کی رفاقت سے کیوں محروم ہیں؟پہلے تو طے ہوا کہ ایک رات چپکے سے ان کی ساری کتابیں جلادی جائیں یا کسی ندی میں پھینک دی جائیں۔ پھر سوچا کہ ایک دوہفتے تک اور کتابیں آجائیں گی۔ کافی سوچ بچار کے بعد ایک تجویز رفو کے دماغ میں آئی۔ بولے، ''تو تمہیں سزا ہی دینی ہے نا انہیں؟‘‘۔ ''یقیناً!‘‘ میں نے سر ہلا کر کہا۔''تو کیوں نہ ان سے محبت کی جائے؟‘‘ وہ میرے کان میں بولے۔
کسی گاؤں کے رہنے والے ایک شخص نے کافی عرصہ پردیس میں زندگی گزاری۔ واپس آیا تو وہ گاؤں والوں پر اپنی دھاک بٹھانے کیلئے انہیں عجیب و غریب باتیں سناتا۔ ایک روز کہنے لگا کہ جس وقت میں کابل گیا تو وہاں میں نے ایسی بلند چھلانگ لگائی کہ ایک بڑے اونچے درخت کو پھاند گیا اور اس درخت پر بیٹھے ہوئے تمام پرندے اڑ گئے۔ اگر کسی کو میری اس بات پر یقین نہیں ہے تو کابل جا کر تصدیق کر سکتا ہے۔یہ سن کر ایک دانا شخص بولا کہ کابل جانے کی کیا ضرورت ہے۔ ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔ یہ رہا اونچا درخت، لگاؤ چھلانگ اور اس کو پھاند جاؤ۔یہ سن کر شیخی باز سناٹے میں آ گیااور لگا بغلیں جھانکنے۔ سب اس پر پھبتیاں کسنے لگے۔حاصل کلامشیخی مارنے کا انجام شرمندگی اور ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں۔