نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخارکاانٹرویو
  • بریکنگ :- طالبان کی نیت پرشک کی کوئی وجہ نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- قومی مفادکیلئےطالبان کےساتھ مسلسل رابطےمیں ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- طالبان نےکئی باردہرایاافغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی،میجرجنرل بابرافتخار
  • بریکنگ :- پاکستان افغان امن کیلئےعالمی برادری کےکردارپرزوردےرہاہے،بابرافتخار
  • بریکنگ :- پاکستان افغانستان میں تمام دھڑوں پرمشتمل حکومت بنانےکاحامی ہے،بابرافتخار
  • بریکنگ :- بارڈرمینجمنٹ میں بہتری لائی جارہی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- بارڈرکوجلدمکمل طورپرمحفوظ بنادیاجائےگا،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- بارڈرکے 90 فیصدحصےپرباڑلگانےکاکام مکمل کرلیا،میجرجنرل بابرافتخار
  • بریکنگ :- بھارتی میڈیاجعلی خبروں،کہانیوں پرپروان چڑھتاہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- عالمی اداروں نےبھی بھارتی میڈیاکی جعلی خبروں کامذاق اڑایا،میجرجنرل بابرافتخار
  • بریکنگ :- کچھ بھارتی صحافیوں نےبھی بھارتی میڈیاکی جعلی خبروں کی مذمت کی،میجرجنرل بابرافتخار
Coronavirus Updates
دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا،آج اردو کے نامور شاعر میر تقی میر کو دنیا سے رخصت ہوئے دو سو دس سال بیت گئے

دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا،آج اردو کے نامور شاعر میر تقی میر کو دنیا سے رخصت ہوئے دو سو دس سال بیت گئے

''کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا‘‘اردو کے نامور شاعر میر تقی میر کو اسدارِ فانی سے گزرے آ ج دو سو دس سال کا عرصہ گزر گیا لیکن ان کا کلام آ ج بھی دلوں پہ سحر طاری کر دیتا ہے ۔میر تقی میر آگرہ میں 1723ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد علی تھا لیکن علی متقی کے نام سے مشہور تھے اور درویش گوشہ نشین تھے۔ میر نے ابتدائی تعلیم والد کے دوست سید امان للہ سے حاصل کی مگر مزید تعلیم سے پہلے جب میر ابھی نو برس کے تھے وہ چل بسے۔ اس کے بعد ان کے والد نے خود تعلیم و تربیت شروع کی۔ مگر چند ماہ بعد ہی ان کا بھی انتقال ہو گیا۔یہاں سے میر کی زندگی میں رنج و الم کے طویل باب کی ابتداء ہوئی۔۔ تلاشِ معاش کی فکر میں دہلی پہنچے اور ایک نواب کے ہاں ملازم ہو گئے۔ مگر جب نواب موصوف ایک جنگ میں مارے گئے تو میر آگرہ لوٹ آئے۔ لیکن گزر اوقات کی کوئی صورت نہ بن سکی۔ چنانچہ دوبارہ دہلی روانہ ہوئے۔میر کا زمانہ شورشوں اور فتنہ و فساد کا زمانہ تھا۔ مسلسل تنگدستی اور مشکلات برداشت کرنے کے بعد بالآخر میر گوشہ عافیت کی تلاش میں لکھنؤ روانہ ہو گئے۔مولانا محمد حسین آزاد ''آبِ حیات‘‘ میں لکھتے ہیں۔'' میر تقی میر جب لکھنؤ چلے تو گاڑی کا کرایہ بھی پاس نہ تھا۔ ناچار ایک شخص کے ساتھ شریک ہوگئے تو دلی کو خدا حافظ کہا۔ تھوڑی دور آگے چل کر اس شخص نے کچھ بات کی۔ یہ اُس کی طرف سے منہ پھیر کر ہو بیٹھے۔ کچھ دیر کے بعد پھر اُس نے بات کی ۔میر چیں بچیں ہوکر بولے کہ صاحب قبلہ آپ نے کرایہ دیا ہے۔ بے شک گاڑی میں بیٹھئے مگر باتوں سے کیا تعلق! اس نے کہا۔'' حضرت کیا مضائقہ ہے۔ راہ کا شغل ہے باتوں میں ذرا جی بہلتا ہے۔ ‘‘میر صاحب بگڑ کر بولے کہ خیر آپ کا شغل ہے۔ میری زبان خراب ہوتی ہے۔ لکھنؤ میں پہنچ کر جیسا کہ مسافروں کا دستور ہے ایک سرائے میں اُترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں مشاعرہ ہے۔ رہ نہ سکے۔ اُسی وقت غزل لکھی اور مشاعرے میں جاکر شامل ہوئے۔ ان کی وضع قدیمانہ تھی۔ کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، اک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پٹڑی دار تہہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع پاجامہ، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخل محفل ہوئے تو انہیں دیکھ کر سب لوگ ہنسنے لگے، میر نے یہ قطعہ فی البدیہہ کہہ کر غزل طرحی میں داخل کیا:کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنوہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کےدلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخابرہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کےجس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیاہم رہنے والے ہیں اُسی اجڑے دیار کےسب کو حال معلوم ہوا تو میر تقی میر سے بہت معذرت طلب کی۔میر نے اِک جہاں کو اپنا گرویدہ کیا اور سترہ سو اڑتالیس میں لکھنؤ جا بسے۔ یہاں رْباعی، مثنوی، قصیدہ اور خصوصاً غزل گوئی کوعروجِ ادب پر پہنچا دیا۔دکھائی دیے یوں کہ بیخود کیاہمیں آ پ سے بھی جدا کر چلےمیر کی شاعری میں غم والم کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ یہ غم میر کا ذاتی غم بھی تھا اور یہی انسان کی ازلی اور ابدی تقدیر کاغم بھی تھا۔مرزا اسد اللہ غالب اور میر تقی میر کی شاعری کا تقابلی جائزہ اہلِ ادب کے ہاں عام ہے، مگر خود غالب بھی میر کے شیدائی تھے۔غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقولِ ناسخآپ بے بہرہ ہے جو معتقد ِمیر نہیں

باؤلی :یہ کس بلا کا نام ہے۔۔۔؟

باؤلی :یہ کس بلا کا نام ہے۔۔۔؟

لفظ '' باؤلی‘‘ جو اُردو میں اکثر استعمال ہوتا ہے اس کا مطلب '' پاگل عورت‘‘ کے ہیں جبکہ باؤلی ایک ایسے لمبے چوڑے کنوئیں (Step well)کو بھی کہتے ہیں جس میں پانی کی تہہ تک سیڑھیاں بنی ہوتی ہیں۔ حسبِ ضرورت ان سیڑھیوں کی مدد سے کنوئیں کی تہہ تک بھی پہنچا جا سکتا ہے۔آ ج ہم اسی پہ بات کریں گے۔'' باؤلی‘‘ راجپوت دور میں استعمال ہونا شروع ہوئیں۔شیر شاہ سوری نے بھی کافی باؤلیاں بنوائیں۔ خاص طور پر جی ٹی روڈ کے آس پاس شیر شاہ سوری کے زمانے کی باؤلیاں اب بھی کہیں کہیں نظر آتی ہیں۔ماضی میں باؤلی صرف مذہبی حیثیت کے تالابوں کے لئے مختص تھیں۔رفتہ رفتہ بر صغیر پاک و ہند میں باؤلیاں مذہبی مقامات سے ہٹ کر بھی رواج پاتی چلی گئیں۔ تاریخ کی کتابوں میں چھٹی صدی عیسوی میں برصغیر پاک و ہند کے ایسے علاقے جہاں خشک سالی کا سامنا رہتا تھا وہاں باؤلیاں تیزی سے رواج پاتی چلی گئیں۔ایک سروے کے مطابق گجرات کے علاقے میں 120سے زیادہ باؤلیوں کا سراغ ملا ہے۔ٹیکسلا ،گوجر خان ،کلر سیداں ،کہوٹہ ،بھمبر آزاد کشمیر،پلندری اورکھاریاں میں کچھ کچھ باؤلیوں کا سراغ بھی ملا ہے۔ مغلیہ دور میں باؤلیوں نے تیزی سے رواج پایا۔ان میں اکثر باؤلیاں تو اتنی بڑی ہوتی تھیں کہ ان میں براہ راست ہاتھی اور گھوڑے بھی پانی پینے کی غرض سے اتارے جا سکتے تھے۔ ان باؤلیوں کی یہ خاصیت تھی کہ جانوروں اور انسانوں کیلئے پانی کا الگ الگ انتظام ہوا کرتا تھا۔ اکبر بادشاہ اور ان کے جانشینوں نے تو مغلیہ دورِ حکومت میں جتنے بھی قلعے تعمیر کرائے وہاں باؤلیاں ضرور ملتی تھیں۔ تاریخی عمارتوں خاص طور پر قلعوں میں پانی کے وسیع تر ذخائر کو محفوظ کرنے کیلئے عمارتوں کے احاطے میں سیڑھیوں والے کنوئیں یعنی باؤلیاں ضرور بنتی تھیں۔ کسی زمانے میں پانی کی رات کی ضرورت کے پیش نظر جن میں تعمیری کام بھی شامل تھے، باؤلیاں استعمال ہوا کرتی تھیں۔گئے وقتوں میں جب جی ٹی روڈ رابطے کیلئے مرکزی شاہراہ کا درجہ رکھتی تھی، اس کے اطراف ہر کچھ فاصلے پر باؤلیاں پائی جاتی تھیں۔اکثر باؤلیاں اتنی بڑی ہوتی تھیں جن میں کئی گنا زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوتی تھی۔ ان کی تہہ تک سیڑھیاں بنی ہوتی تھیں ۔یہ اپنی وسعت کے لحاظ سے تالاب سے کافی مشابہت رکھتی تھیں، اِن کا مقصد ہی لمبے عرصے تک پانی ذخیرہ کرنا ہوتا تھا۔پاکستان کے اکثر شہروں جن میں لوسر (واہ کینٹ)ہٹیاں ضلع اٹک اور قلعہ روہتاس میں تین باؤلیاں اب بھی باقی ہیں۔ان میں اکثر اتنی بڑی ہیں کہ ان کے ارد گرد راہداریاں اور کمرے بھی بنے ہوئے ہیں جو شدید گرمی کے موسم میں انتہائی ٹھنڈے ہوتے تھے۔ ماضی میں یہ پانی ذخیرہ کرنے کا نعم البدل ہوتی تھیں موسم گرما میں یہ گرمی سے ستائے لوگوں کے لئے کسی نعمت سے کم بھی نہیں ہوتی تھیں۔ چنانچہ گرمیوں کے موسم میں امراء اور اعلی حکومتی عہدیدار اپنے دفاتر عارضی طور پر یہاں منتقل کر لیا کرتے اور یوں وہ ٹھنڈے پانی کے پہلو میں بیٹھ کر دفتری کام بھی سرانجام دیتے تھے۔بعض باؤلیاں تواتنی بڑی ہوا کرتی تھیں کہ ان کے اندر زیر زمین رستے بھی بنے ہواکرتے تھے جو کئی کئی کلومیٹر لمبے ہوتے تھے۔ بعض جگہوں پر تو ایسی باؤلیاں بھی دریافت ہوئی ہیں جنکے اندر خفیہ رستے بھی بنے ہوتے تھے۔ ان کے بارے قیاس کیا جاتا ہے یہ ہنگامی رستے کے طور پر استعمال ہوتی ہوں گی۔بعض روایات کے مطابق باؤلیوں کی تعمیر کا آغاز قدیم راچپوت دور سے ہوا تھا لیکن اس کو رواج دینے میں کافی حد تک شیر شاہ سوری کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں۔یہ کہنا غلط نہ ہوگاکہ اپنے زمانے کی اس بے مثال ایجاد کی روح کو ایک مدت تک زندہ رکھنے کا اعزاز شیر شاہ سوری کو ہی جاتا ہے۔ دراصل شیر شاہ سوری نے جہاں جہاں سڑکیں بنوائیں اور نئے شہر آباد کئے وہاں سب سے پہلے پانی کا مسئلہ حل کیا۔ اس نے جب جرنیلی سڑک تعمیر کرائی تو ہر تین کلومیٹر کے فاصلے پر سرائیں تعمیر کرائیں جہاں ہمہ وقت صاف اور ٹھنڈے پانی کے مٹکے موجود ہوتے تھے۔ جہاں پانی کی طلب زیادہ ہوتی وہاں مستقل کنوئیں اور باؤلیاں تعمیر کرائیں۔ غرضیکہ اُس کی فوجیں جہاں سے گزرتیں وہاں بھی باؤلیاں بنواتا جاتا۔ اس زمانے کی جنگیں آج کی جنگوں کی طرح مختصر دورانئے کی نہیں ہوتی تھیں بلکہ فوجوں کا پڑاؤ بعض اوقات سالوں پر محیط ہوتا تھا۔ایسے میں جب اس کی فوجیں ایک گمنام علاقے لیکن آج کے ایک پر رونق شہر واں بھچراں سے گزریں تو اُنہیں یہاں پڑاؤ ڈالنا پڑا۔ اس وجہ سے اس نے یہاں ایک بہت بڑاکنواں کھدوایا۔یہ کنواں اپنے وقتوں کا ایک لازوال شاہکار تھا۔ اس کے کھنڈرات کو میانوالی سے لاہور جانے والے آج بھی حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔واں بھچراں میانوالی شہر سے بیس بائیس کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اس منفرد کنوئیں کی تہہ تک جانے کیلئے لگ بھگ چار سو سیڑھیاں ہیں۔اس کنوئیں کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں ہاتھی اور گھوڑے براہ راست نیچے پانی پینے یا آرام کی غرض سے آسانی سے جا سکتے تھے۔ اس باؤلی کے پہلو میں دو بلند مینار ہیں جو حکومتی عدم توجہی کے باعث کھنڈرات میں بدلتے جا رہے ہیں۔کتنا خوبصورت اتفاق ہے کہ ایک گمنام قصبے کے ایک کنوئیں نے ایک تاریخی شہر کو جنم دیا جسے بعد میں '' واں بھچراں ‘‘ کہا گیا۔'' واں ‘‘ دراصل کنوئیں کا مخفف ہے اور'' بھچراں ‘‘ یہاں ایک قدیم قبیلے '' بھچر‘‘ سے ماخوذ ہے جو پانی کی کشش کے سبب اس کنوئیں کے ارد گرد آباد ہو گیا ۔ یوں اس قصبے کا نام واں بھچراں پڑ گیاجو اب ایک بارونق شہر کا روپ دھار چکا ہے۔ مغلیہ دور ہو یا شیر شاہ کا دور، اُنہوں نے جس کمال مہارت سے لازوال شاہکار عمارتیں تعمیر کرائیں ہم ان کی حفاظت نہیں کرسکے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس عظیم قومی ورثے کو محفوظ کرنے کے لئے خاطر خواہ انتظامات کرے۔ 

ڈیپ ڈائیو دبئی،دنیا کا گہرا ترین سوئمنگ پول

ڈیپ ڈائیو دبئی،دنیا کا گہرا ترین سوئمنگ پول

7نومبر 2020 کو جب پولینڈ کے شہر وارسا میں''ڈیپ اسپاٹ ‘‘ نامی سوئمنگ پول کا افتتاح کیا گیا تو یہ 150 فٹ کی گہرائی کے ساتھ دنیا کا گہرا ترین سوئمنگ پول تھا۔ ڈیپ اسپاٹ نے یہ اعزاز اٹلی کے ''مونٹی گریٹو ٹیرم ‘‘ سے چھینا تھا جو اس سے پہلے 138فٹ کی گہرائی کے ساتھ دنیا کے گہرے ترین سوئمنگ پول کا اعزاز تھامے ہوئے تھا۔ حال ہی میں جولائی 2021 میں دبئی کے '' ڈیپ ڈائیو دبئی ‘‘ نے 200فٹ گہرائی کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام درج کرالیا۔دبئی دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز اپنے نام کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر دنیا کے گہرے ترین سوئمنگ پول کا اعزاز بھی اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ ماہرین اس سوئمنگ پول کو ‘‘ سٹیٹ آف دی آرٹ ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی کے معروف اور مہنگے ترین علاقے دبئی مرینہ میں واقع بیچ ریزورٹ کی بلند عمارت پر واقع‘‘ ڈیپ ڈائیو دبئی ‘‘ نامی سوئمنگ پول 964فٹ کی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے تیراکی کے دوران آسمان اور سمندر کا ایک ساتھ نظارہ پیش کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس میں ایک کروڑ 46لاکھ لٹر تازہ پانی ذخیرہ ہوتا ہے جو اولمپک سائز کے 6 سوئمنگ پولوں کے حجم کے برابر ہے۔اس سوئمنگ پول کے ڈائریکٹر جیرڈ جبلونسکی جن کا تعلق امریکی ریاست فلوریڈا سے ہے۔اُن کے بقولیہ ‘‘ سیپ ‘‘ کی شکل کی مشابہت رکھتا ہے جو اس خطے کی تاریخ اور ثقافت کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے ۔یہ دراصل قدیم عرب روایات کی عکاسی کرتا ہے جہاں سمندر میں موتی تلاش کرنے کی روایت برسوں سے چلی آ رہی ہے۔اس منفرد سوئمنگ پول میں سوئمنگ کے علاوہ متعدد منفرد اور دلچسپ تفریحی کھیلوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ان میں پول کے نچلے حصے میں غوطہ خور روشنیوں اور موسیقی کی دھنوں کے ساتھ فٹ بال اور دیگر کھیلوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ پانی میں تیراکی یا کھیلوں کے دوران ارد گرد کے ماحول نے رنگ برنگی روشنیوں ، موسیقی کی مدھر دھنوں اور سر سبز پودوں نے فضا کو ایسا پرکشش اور معطر کیا ہوتا ہے کہ کسی کا یہاں سے نکلنے کو جی ہی نہیں چاہتا۔اس کے ساتھ ساتھ یہاں پر جدید ٹیکنالوجی اور ناقابل یقین سہولیات سے مزین ایک حیرت انگیز اور منفرد''لوگوں سے خالی ڈوبے ہوئے شہر ‘‘ کو بھی تعمیر کیا گیا ہے جو لوگوں کو ایک چیلنج کے طور پر دورانِ تیراکی تلاش کرنا ہوتا ہے۔ بقول ڈائریکٹر جیرڈ جبلو نسکی پانی کے اندر ڈُوبے بے آ باد اور گمشدہ شہر کی تلاش کا تصور ایک منفرد اور دلچسپ کھیل ہے جسے ابتدا ہی میں لوگوں نے سراہنا شروع کر دیا۔ ہمیں یقین ہے کہ مستقبل میں ہم ایسے متعدد کھیل لوگوں کی دلچسپی کیلئے متعارف کراتے رہیں گے۔ یہ سب لوگوں کیلئے نیا ہے جو اس سے پہلے کہیں متعارف نہیں کرایا گیا۔ڈیپ ڈائیو دبئی میں ایک گھنٹے کی غوطہ خوری کا کم سے کم ٹکٹ ایک سو پینتیس ڈالر ہے جبکہ زیادہ گہرائی میں جانے کیلئے یہ ٹکٹ چار سو دس ڈالر تک چلا جاتا ہے۔ اس تالاب کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ پانی کے اندر چھ اور اکیس میٹر کی گہرائی میں دو رہائش گاہیں بھی بنائیگئی ہیں جو خشک چیمبر کے ساتھ موجود ہیں۔علاوہ ازیں اس سوئمنگ پول کے تمام زاویوں سے 56جدید کیمرے نصب کئے گئے ہیں جو ریکارڈنگ آواز اور موڈ لائٹنگ سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں۔ان کا مقصد سوئمنگ پول کی سیکورٹی کا مکمل احاطہ کرناہے۔ بقول انتظامیہ ڈیپ ڈائیو دبئی تیراکوں اور غوطہ خوروں کیلئے کسی جنت سے کم نہیں ہے۔ اس پول کے باقاعدہ افتتاح کے بعد سرِدست صرف اکیس سال یا اس سے زائد عمر کے ہوٹل کے مہمانوں کو داخلے کی اجازت ہے جبکہ مرحلہ وار اسے دیگر شائقین کیلئے بھی کھول دیا جائے گا۔

سری لنکا ،برطانوی نو آبادی سے آزادی تک!

سری لنکا ،برطانوی نو آبادی سے آزادی تک!

سری لنکا کو نو آبادی بنانے کا عمل 1505 ء میں شروع ہوا جب پرتگیزوں نے اس پر قبضہ کیا۔ پھر1815ء میں برطاینہ نے پورے جزیرے کو فتح کرلیا۔ 1948ء میں سری لنکا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ جب برطانیہ نے سری لنکا پر قبضہ کیا تو اس نے اسے سیلون ( Ceylon )کا نام دیا آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی 1972ء تک سری لنکا کی نو آبادی حیثیت( Dominion Status )برقرار رہی ۔اصل میں1802ء میں ہی ایمنیز معاہدے کے بعد برطانیہ کے پاس جزیرے کا وہ حصہ چلا گیا جو ولندیزیوں کے پاس تھا۔1803ء میں برطانیہ نے کنیڈی پر حملہ کردیا لیکن اس حملے کو پسپا کردیا گیا۔ اسے کنیڈی کی پہلی جنگ(Kandyan war )کہا جاتا ہے کنیڈی کی دوسری جنگ میں اسے فتح کرلیا گیا اور یوں سری لنکا کی آزادی کا خاتمہ ہوگیا۔سری لنکا مجموعی طورپر 443 برس تک نو آبادی بنا رہا۔ پہلے پرتگیزیوں نے نو آبادی( 1505-1658) بنائے رکھا پھر یہ جزیرہ ولندیزیوں (1658-1796 )کے زیر تسلط رہا اور پھر اسے1796 سے 1948 تک برطانیہ نے اپنی نو آبادی بنائے رکھا۔ 1815ء میں جب برطانیہ نے اسے مکمل طورپر فتح کیا تو سری لنکا کے ساحلی علاقوں کو فرانس نے اپنی نو آبادی بنائے رکھا تھا۔ 1815ء میں یہ ساحلی علاقے بھی برطانیہ کے قبضے میں آگئے۔ البتہ سری لنکا کے اندرونی علاقوں پر سنہالہ کے بادشاہ کی حکومت تھی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برطانیہ کو یہ ضرورت کیوں پڑی کہ وہ سری لنکا کو نو آبادی بنائے۔ اس کی وجہ نپولین کی مشہور جنگیں تھیں۔ برطانیہ کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ اگر فرانس نے نیدر لینڈ کا کنٹرول حاصل کر لیا تو پھر سری لنکا فرانس کی نو آبادی بن جائے گا۔1802ء میں ایمنیز معاہدے کی وجہ سے فرانس اور برطانیہ کی دشمنی عارضی طورپر ختم ہوگئی۔سری لنکا کی آزادی کی تحریک بہت پر امن تھی جس کا مقصد آزادی کا حصول اور حکومت خود کرنے کا اختیارلینا تھا۔ برٹش سیلون کو اقتدار پر امن طریقے سے منتقل کرنے کا مطالبہ آہستہ آہستہ زور پکڑتا گیا۔ ایشیا میں برطانوی راج نے اس وقت زور پڑا جب نپولین کو واٹر لو میں شکست سے دو چار ہوتا پڑا۔ برطانوی راج کے وقار کوبھارت، افغانستان اور جنوبی افریقہ میں ہلکا سا نقصان پہنچا۔ 1914ء تک برطانوی راج کو کوئی چیلنج نہ کرسکا۔ سری لنکا کی معیشت کا دارومدار زراعت اور غیر ملکی زر مبادلہ پر تھا۔ سری لنکا میں زمین بڑی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ اس کی وجہ سے مختلف ممالک کی آپس میں کئی جنگیں ہوئی تھیں۔ 1830ء کے عشرے میں سری لنکا میں کافی( Coffee )متعارف کروائی گئی اس کے علاوہ سیلون ٹی بڑی مشہور ہوئی۔ چائے کے باغات بنائے گئے اور یورپ کے لوگوں نے خوب دولت بنائی۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے جنوبی بھارت سے بڑی تعداد میں تامل کارکنوں کو بلایا جو بہت جلد سری لنکا کی آبادی کا 10 فیصد حصہ بن گئے۔سیلون قومی کانگرس( CNC )کی بنیاد خود مختاری حاصل کرنے کے لئے رکھی گئی لیکن یہ پارٹی جلد ہی نسلی بنیادوں پر ٹوٹ گئی۔ اس کاسب سے بڑا سبب یہ تھا کہ سیلون کے تاملوں نے اقلیتی حیثیت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ سیلون قومی کانگرس آزادی کی خواہاں نہیں تھی۔ تحریک آزادی کے آرزو مند واضح طورپر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک وہ جوآئین پسند تھے یہ لوگ آہستہ آہستہ تبدیلی کے ذریعے سیلون کی حیثیت میں تبدیلی چاہتے تھے تا کہ آزادی کا سفر آسان ہوجائے۔ زیادہ انقلابی گروپ کولمبو یوتھ لیگ ، گونا سنگھے کی مزدور تحریک اور جافنا یوتھ کانگرس سے منسلک ہوگئے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران سری لنکا جاپان کے خلاف برطانوی اڈہ تھا۔15 اپریل 1942ء کو جاپان کی نیوی نے کولمبو پر بمباری کی جس کی وجہ سے بھارتی تاجرسری لنکا سے نکل گئے۔ آخر کار سنہالی لیڈر ڈی ایس سنہانائکے کی قیادت میں جدوجہد کرنے والے آئین پسندوں نے آزادی کی جنگ جیت لی۔جنگ عظیم دوم کے بعد سنہالی لیڈرنے آزادی کے مسئلے پر سیلون نیشنل کانگرس کی چھوڑ دی ۔ انہوں نے بعد میں یونائٹیڈ نیشنل پارٹی بنالی۔1947ء کے انتخابات میں یو این پی نے پارلیمنٹ کی اتنی زیادہ نشستیں نہیں جیتیں لیکن سولومان نیدرانائیکے اور جی جی پونم بالم کی تامل کانگرس کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہوگئی۔ سری لنکا1972ء میں جمہوریہ بنائے1978ء میں آئین متعارف کروایا گیا۔ جس کی رو سے صدر کو ریاست کا سربراہ بنایا گیا۔1983ء میں سری لنکا میں خانہ جنگی شروع ہوگئی1971ء اور 1987ء میں مسلح بغاوتیں ہوئیں۔2009ء میں25 سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔

وکی پیڈیا،جدید دورہ کا انسائیکلوپیڈیا

وکی پیڈیا،جدید دورہ کا انسائیکلوپیڈیا

وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح ہر شعبہ زندگی کی رسائی انسانی ہاتھوں سے نکل کر بذریعہ ٹیکنالوجی جدید مشینوں پر منتقل ہوتی جا رہی ہے اسی طرح انسائیکلوپیڈیا بھی اب کتابوں سے نکل کر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چند انچ کی ایک چھوٹی سی سکرین پر منتقل ہو چکا ہے۔ ذرا غور کریں کہاں موٹی موٹی ضخیم اور بھاری بھر کم کتابوں پر مشتمل معلومات کا ذخیرہ اور کہاں چند انچ کی سکرین جہاں چند سیکنڈ کے اندر اندر دنیا بھر کی معلومات کا خزانہ آپ کی انکھوں کے سامنے آپ کے کمپیوٹر یا موبائل فون کی سکرین پر نظر آ رہا ہوتا ہے۔ اس جدید دور کا یہ انسائیکلو پیڈیا ''وکی پیڈیا ‘‘ کے نام سے جاناجاتا ہےوکی پیڈیا ایک ڈیجیٹل انسائیکلو پیڈیا ہے جو انٹر نیٹ سے منسلک ہے۔ یوں کہیں کہ یہ انسائیکلو پیڈیا کی ایک جدید شکل ہے۔ جس پر دنیا بھر کے انٹر نیٹ صارفین باہمی خیالات اور نظریات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔یہ انسائیکلو پیڈیا جسے '' وکی میڈیا فاؤنڈیشن ‘‘ کے نام سے ایک غیر منعفتی تنظیم نے شروع کیا۔ وکی پیڈیا دراصل'' نیو پیڈیا‘‘ کی ابتدائی شکل ہے ۔یہ 9 مارچ 2000 میں ایک ویب پورٹل کمپنی ''بومس ‘‘ کی نگرانی میں شروع کی گئی۔ اس کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو جمی ویلز تھے اور ایڈیٹر انچیف لیری سینگر تھے۔ جنہوں نے 15جنوری 2001 کو مل کر وکی پیڈیا کا آغاز کیا۔انسائیکلو پیڈیا کے بنیادی تصور کی توسیع کے نظرئیے کے تحت اس کا نام ''وکی پیڈیا " تجویز کیا گیا اور یہی حتمی قرار پایا۔ ابتدا میں وکی پیڈیا صرف انگریزی زبان تک محدود تھا لیکن رفتہ رفتہ اس کی مقبولیت اور افادیت کے باعث یہ دوسری زبانوں تک پھیلتا چلا گیا۔ اردو وکی پیڈیا کا اجراء 27جنوری 2004 کو کیا گیا تھا۔یکم ستمبر 2021 سے اردو وکی پیڈیا میں ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد مضامین شائع کئے گئے جبکہ 11ہزار پانچ سو کے لگ بھگ فائلیں لوڈ کی گئیں۔اب وکی پیڈیا پر 130 سے بھی زائد زبانوں کے 30لاکھ سے زیادہ موضوعات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔وکی پیڈیا ویب پر مبنی ایک کثیرالاستعمال انسائیکلوپیڈیا کا نعم البدل ہے۔جو پوری دنیا میں ہر لمحے کروڑوں انسانوں کے زیر استعمال رہتا ہے۔اس کی خاص اور منفرد بات یہ ہے کہ اس کے مواد کی ہرخاص وعام کو ترمیم کی اجازت ہوتی ہے۔ یہ انٹر نیٹ کی دنیا کی مقبول ترین اور مشہور ترین ویب سائٹ ہے جس پر ہر لمحے لاکھوں لوگ معلومات شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔

وزیر افضل۔۔۔خواجہ خورشید انور کے گنڈا بند شاگرد

وزیر افضل۔۔۔خواجہ خورشید انور کے گنڈا بند شاگرد

وزیر افضل جیسا شاندار موسیقار بھی دنیا سے چلا گیا۔گذشتہ دنوں ان کا انتقال ہوا تو موسیقی کے شائقین غمزدہ ہو گئے۔وزیر افضل واحد موسیقار تھے جنہیں خواجہ خورشید انور کا گنڈا بند شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اور وہ ہمیشہ اس بات پر فخر کیا کرتے تھے۔اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب کا گھرانہ گانے بجانے سے وابستہ نہیں تھا جبکہ وزیر کا تعلق موسیقار گھرانے سے تھا۔ موسیقار گھرانوں کو خود اور اپنے ورثے پر ہمیشہ بہت مان رہا اس کے باوجود وزیر ایک موسیقی سے تعلق نہ رکھنے والے گھرانے کے شاگرد بنے۔بتدا میں وزیر افضل فلموں کی پس پردہ موسیقی ترتیب دیا کرتے تھے۔ انہیں پنجابی فلموں کے معروف ہدایت کار اسلم ایرانی نے اپنی فلم' 'چاچا خواہ مخواہ‘ ‘ کی پس پردہ موسیقی کے لیے سائن کرلیا۔ اسلم ایرانی کی اپنے مستقل موسیقار بابا جی اے چشتی سے اَن بن ہو گئی اور وزیر افضل کو کچھ گیت ترتیب دینے کا موقع مل گیا۔ منیر حسین اور عنایت حسین بھٹی کی آوازوں میں ان کا پہلا ہی گیت مقبول ہوا 'ایتھے وگدے نے راوی تے چناں بیلیا۔‘ان کی اگلی فلم 'زمین‘ 1965 میں ریلیز ہوئی جومہدی حسن کے ایک انتہائی لاجواب گیت کی وجہ سے امر ہو گئی۔ مشیر کاظمی کے لکھے گیت 'شکوہ نہ کر گلہ نہ کر یہ دنیا ہے پیارے،‘ کی دھن اور مہدی حسن کی پرسوز آواز آج بھی دل درد سے بھر دیتی ہے۔ ۔اپنی تیسری فلم 'دل دا جانی‘ سے وہ نہ صرف شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے بلکہ اپنی فنی مہارت کی دھاک بٹھانے میں بھی کامیاب رہے۔ جب ہم 'سیونی میرے دل دا جانی‘ سننے بیٹھتے ہیں تو حزیں قادری کے سادہ بول، میڈیم نور جہاں کی درد میں ڈوبی آواز اور وزیر افضل کی سْچی دھن دل کی فضا کو پوری طرح سوگوار کر دیتی ہے۔1968 ان کی ریلیز ہونے والی آٹھ پنجابی فلموں میں کامیاب ترین 'جماں جنج نال‘ تھی۔ یہ ممکن ہی نہیں کوئی شخص موسیقی کا پرستار ہو اور اس نے 'کیندے نے نیناں، تیرے کول رہنا‘ نہ سنا ہو۔ میڈم نور جہاں نے اپنی لوچ دار آواز سے حزیں قادری اور وزیر افضل کی محنت کو چار چاند لگا دیے۔ اس فلم کا ایک اور قابل ذکر گیت مہدی حسن کی آواز میں ہے 'گھنڈ مکھڑے توں لاؤ یار۔‘فلموں سے ہٹ کر وزیر افضل نے ٹی وی اور ریڈیو کے لیے بھی انتہائی خوبصورت گیت کمپوز کیے جن میں میرا لونگ گواچا (مسرت نذیر)، چھاپ تلک سب چھین لی (ناہید اختر)، رنگوا دے چنریا (ناہید اختر)، رْکھ ڈولدے تے اکھ نئیں لگدی، نمی نمی وا وگدی (افشاں) اور سات سروں کا بہتا دریا (پرویز مہدی) شامل ہیں۔'رْکھ ڈولدے تے اکھ نئیں لگدی، نمی نمی وا وگدی‘ کے انتہائی خوبصورت بول احمد راہی نے لکھے تھے۔ پنجاب کا لوک کلچر اس گیت کے ایک ایک مصرعے سے چھلکتا ہے۔وزیر افضل اپنے لازوال گیتوں کی وجہ سے ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے۔

 کم ازکم ایک گھنٹہ مطالعہ،کامیابی کا راز

کم ازکم ایک گھنٹہ مطالعہ،کامیابی کا راز

کہتے ہیں کہ ہر بڑے آدمی کی کامیابی کاراز مطالعہ ہوتا ہے۔کچھ نیا سیکھنے کا جنون کسی بھی انسان کو مطالعہ کا عادی بنادیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کامیاب افراد مطالعہ کے شوقین ہوتے ہیں۔ مائیکروسوفٹ کے بانی بل گیٹس مطالعہ کے رسیا ہیں،وہ روزانہ رات کو اپنے بیڈ پر جانے سے قبل ایک گھنٹہ کتب بینی کرتے ہیں۔ ان کی کتابوں کے موضوعات سیاسی یا حالات حاضرہ سے متعلق ہوتے ہیں۔ایسیکس یونیورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق کے نتائج کے مطابق دن میں صرف چھ منٹ کا مطالعہ ذہنی دبائو کی سطح کو68فیصد کم کردیتا ہے۔ مطالعہ کو ماہرین مینٹل ورک آ رٹ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اگر آپ بھی کامیاب کیریئر کے خواہشمند ہیں تو طالب علمی کے زمانے سے ہی باقاعدگی سے مطالعہ کی عادت اپنائیں۔ شروع میں آدھا گھنٹہ دیں اور بعد میں آہستہ آہستہ مطالعہ کا وقت بڑھاتے جائیں۔ایک ریسرچ کے دوران دنیا کے امیر ترین 1200 افراد کو پرکھا گیاتو ان میں ایک عادت مشترک پائی گئی اور وہ تھی پڑھنا۔مطالعے کے سربراہ اسٹیو سیبولڈ جو کہ خود بھی ایک ارب پتی تھے، اُنہوں نے تین دہائیوں کے دوران ان افراد کے انٹرویوز کیے جس میں یہ بات سامنے آ ئی کہ یہ تمام افراد پڑھ کر خود کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں۔اسٹیو لکھتے ہیں کہ آپ کسی بھی امیر شخص کے گھر جائیں سب سے پہلے آپ وہاں موجود کتابوں کی ایک بڑی سی لائبریری دیکھیں گے جسے انہوں نے کامیابی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ان کا کہنا ہے کہ مڈل کلاس ناولز، ٹیبلائیڈ اور تفریحی میگزینز پڑھتی ہے لیکن امیر تفریح حاصل کرنے کے بجائے مستند کتابیں پڑھنا پسند کرتے ہیں۔

’’انشا جی اُٹھو اب کوچ کرو‘‘

’’انشا جی اُٹھو اب کوچ کرو‘‘

عرفان کھوسٹ واقعہ بیان کرتے ہیں''میری اور استاد امانت علی خان کی اچھی خاصی دوستی تھی۔وہ اتنے ہمدرد اور مخلص انسان تھے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔جب میں نے ریڈیو پہ کام شروع کیا تو استاد امانت علی خان کا طوطی بولتا تھا۔کسی وجہ سے ریڈیو پہ میرے پروگرام بند ہو گئے اور میں بہت دل گرفتہ تھا۔امانت علی خان سے اُس وقت تک میری محض سلام دُعا ہی تھی۔مجھے پریشان دیکھا تو پوچھنے لگے کیا ہوا؟۔میں نے بتا دیا۔اُنہوں نے فوری طور پر ڈی جی کو فون کیا اور میرے پروگرام بحال کرائے‘‘عرفان کھوسٹ کے بقول ایسی شاندار شخصیت میں نے نہیں دیکھی ۔اخلاص اور محبت کا پیکر!گزشتہ روز برصغیر میں کلاسیکی موسیقی کے ماہر اِسی گائیک استاد امانت علی خان کی 47 ویں برسی منائی گئی۔استاد امانت علی خان کے گائے ہوئے کلاسیکی گیت اور غزلیں آ ج بھی بان زد عام ہیں۔پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے استاد امانت علی خان 1922 میں بھارتی پنجاب کے علاقے ہوشیار پور (شام چوراسی) میں پیدا ہوئے۔ موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد اختر حسین خان سے حاصل کی۔شروع میں امانت علی خان اپنے بھائی استاد فتح علی خان کے ساتھ مل کرگایا کرتے تھے۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر گانا شروع کیا۔قیام پاکستان کے بعد استاد امانت علی خان اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ مستقل طور پر لاہور شفٹ ہو گئے اور منٹو پارک کے قریبی علاقے میں رہائش پذیر ہو گئے۔ انہوں نے کم عمری میں ہی دادرا، ٹھمری، کافی اور غزل کی گائیکی میں مہارت حاصل کر لی تھی۔اُن کی گائی ہوئی چند مشہور غزلوں میں ' 'ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام ہی آئے‘‘، ''موسم بدلا رُت گدرائی، اہل جنوں بے باک ہوئے‘‘ اور ''یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے‘ ‘وغیرہ شامل ہیں۔موسیقی کے ماہرین کے مطابق استاد امانت علی خان کی گائیکی کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اونچی ٹون میں گاتے ہوئے بھی اپنی آواز پر مکمل کنٹرول رکھتے ۔ماہرین موسیقی کے مطابق انہیں معجزاتی گلوکار بھی کہا جاتا ہے۔ راگ راگنیوں کو تسخیر کرنے والے فن کاروں میں ان جیسا کوئی بھی نہیں ہے، استاد امانت علی خان کی آواز اور گائیکی کا انداز ہمیشہ سر تال سے ہم آہنگ رہا، ایک ایسا فن کار، جو بکھرتاتو سمیٹا نہیں جاتا تھااور جب سمٹتا تو ہاتھ نہیں آتا تھا۔ استاد امانت علی خان صرف 45 برس جئے۔ وہ کہا کرتے تھے، ہمیں رضاکارانہ طور پر اپنی عمریں کم کر لینی چاہئیں تاکہ تھوڑی تھوڑی آسودگی سب کے حصے میں آجائے۔ان کے ملنے والوں میں دانشوروں، شاعروں، صحافیوں اور ادیبوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ شاید اسی لیے استاد امانت علی خان کی طرف سے گائیکی کے لیے غزلوں کا انتخاب بھی بہت عمدہ ہوا کرتا تھا۔ یوں تو ان کے گائے ہوئے تقریباً سارے کلام کو موسیقی کے شائقین نے پسند کیا لیکن ابن انشا کی غزل "انشا جی اٹھو اب کوچ کرو" کو اپنی آواز سے سجانے کے بعد اُنہیں جوشہرت ملی اس کی مثال ڈھونڈنا آسان نہیں ہے۔اس کی دُھن مرحوم خلیل احمد نے تیار کی تھی ۔47 سال بعد بھی لوگ استاد امانت علی خان کو شوق سے سنتے ہیں۔ دنیا بھر میں ان کے مداح موجود ہیں۔ یہ بات ان کے فن کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے اور یہ ان کے اچھا فنکار ہونے کا بھی ایک ثبوت ہےاُن کا گایا ہوا ملی گیت''اے وطن پیارے وطن‘‘ وطن سے محبت کا عظیم نذرانہ ہے جسے آ ج بھی ہر کوئی سنتا ہے۔عرفان کھوسٹ ہی ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں''میں نے پہلی بار سکوٹر خریدا تو خان صاحب سے کہا کہ ا ٓئیں میرے ساتھ بیٹھیں ۔اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ میں پہلی بار سکوٹر چلانے لگا ہوں۔وہ میرے ساتھ بیٹھ گئےتھوڑی دُور گئے تو میں نے انہیں بتایا کہ میں خوش نصیب ہوں کہ آ ج پہلی بار سکوٹرچلا رہا ہو ں اور آ پ میرے ساتھ بیٹھے ہیں۔امانت علی خان صاحب کو جب علم ہوا کہ میں نے پہلی بار سکوٹر چلایاہے تو وہ فوری طور پر اتر گئے۔بھلا وہ ایک اناڑی ڈرائیورکے ساتھ بیٹھ کر اپنی جان کو خطرے میں میں کیوں ڈالتے۔استاد امانت علی خان کے صاحبزادے اسد امانت علی خان اور شفقت امانت علی خان نے شام چوراسی گھرانے کی روایتی کلاسیکی موسیقی کو خوب رنگ لگائے تاہم شفقت نے مغربی انداز موسیقی کو بھی اپنایا ہے۔ شفقت امانت علی خان کا کہنا ہے:''ہمارے گھرانے میں فنکار نئے نئے تجربے کرتے رہے ہیں۔ استاد امانت علی خان نے غزل بھی گائی۔ خود میرے تمام گانے بھی کسی نہ کسی راگ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ جس طرح لوگ بچوں کو دوائی میٹھی چیز کے ساتھ دیتے ہیں ہم بھی جدید انداز میں کلاسیکی روایت کو ہی آگے بڑھا رہے ہیں۔‘‘ماہرین موسیقی کا کہنا ہے استاد امانت علی خان کا گایا ہوا کلام کانوں کو بڑا آسان لگتا ہے مگر اُسے اُن کی طرح گانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔آج کے گلوکار ان کی گائیکی سے روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔استاد امانت علی خان کے بڑے بیٹے اسد امانت علی خان کی آواز اور انداز یقینی طور پر والد سے مختلف تھا تاہم پٹیالہ گھرانے کا حسن اُن سے کوئی الگ نہیں کر سکتا۔وہی چاشنی اُن کی آ واز کو بھی چار چاند لگا دیتی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ ان کے صاحبزادے ہوں یا چھوٹے بھائی حامد علی خان ۔۔پٹیالہ گھرانے کو امانت علی خان جیسا ہیرا دوبارہ نہیں مل سکا۔

ملکہ زبیدہ اور نہرِ زبیدہ

ملکہ زبیدہ اور نہرِ زبیدہ

اس حقیقت سے تو کسی کو انکار نہیں کہ تاریخ اچھے الفاظ میں صرف انہی کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے مفاد عامہ کے لئے بے لوث خدمات سرانجام دی ہوں ۔ تاریخ جہاں فلاحی کام کرنے والوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے وہیں سیاہ کرتوت کے حامل افراد کے سیاہ کارناموں کا ذکر بھی تاریخ کی کتابوں میں کثرت سے ملتا ہے۔جب ہم خلافت عباسیہ کے پانچویں خلیفہ ہارون الرشید کے دور خلافت پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ان کی نیک نامی کے ساتھ کچھ نہ کچھ انتظامی خامیوں کا ذکر بھی تاریخ کی کتابوں میں ملتاہے۔ ہارون الرشید اس لحاظ سے خوش قسمت گردانے جائیں گے کہ ان کی شریکِ حیات ایک نیک، پارسا،خدا ترس اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار خاتون تھیں ۔زبیدہ بنت جعفر ، عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی چچازاد اور بیوی تھیں۔ ان کا ابتدائی نام اگرچہ " امۃ العزیز " تھا لیکن ان کے دادا جنہیں ان سے بے پناہ پیار تھا اسے ''زبیدہ ‘‘کہہ کر مخاطب کرتے تھے چنانچہ بچپن ہی سے ان کا یہ نام شہرت اختیار کر گیا اور اصل نام امۃ العزیز قصہء پارینہ بن گیا۔زبیدہ 762 عیسوی میں موصل میں پیدا ہوئیں۔ اس وقت ان کے والد موصل کے گورنر تھے۔ زبیدہ انتہائی خوش شکل،ذہین ، نرم گو ،رحم دل مخیراور انتہائی خوش پوش خاتون تھیں۔سن 782 عیسوی میں جب یہ بیس برس کی عمر کو پہنچیں تو انکی شادی خلیفہ ہارون الرشید سے ہو گئی۔کہتے ہیں ہارون الرشید اس شادی پر اسقدر خوش تھے کہ انہوں نے بلا تفریق ہر خاص و عام کو شادی کی تقریب میں مدعو کیا تھا۔ملکہ زبیدہ کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ وہ 23سال تک ایکوسیع و عریض سلطنت کی خاتون اول رہیں۔ ہارون الرشید کا 23 سالہ دورخلافت ملکہ زبیدہ کے شاہانہ عروج کا دور تھا۔ انہوں نے اقتدار میں رہ کر فلاحی کاموں میں حیرت انگیز طور پر حصہ ڈالا۔ انہوں نے عراق سے مکہ معظمہ تک حاجیوں اور مسافروں کے لئے جگہ جگہ سرائیں تعمیر کرائیں ، کنویں کھدوائے۔اس زمانے میں تواتر سے آتی آندھیوں کے سبب سال کے بیشتر حصے یہ رستہ مٹی سے ڈھک جاتا تھا جس کے سبب مسافر اکثر راستہ بھول جاتے اور کئی کئی دن صحرا میں بھٹکتے رہتے تھے۔ چنانچہ ملکہ زبیدہ نے لاکھوں دینار خرچ کر کے راستے کے دونوں جانب پختہ دیواریں تعمیر کرائیں۔اس کے ساتھ ساتھ ملکہ نے اپنے ذاتی خرچ پر کئی مسجدیں بنوائیں۔ علاوہ ازیں ملکہ زبیدہ نے ایک نہر عار کوہ بنان سے بیرو تک بنوائی اور اس پر متعدد پل بھی بنوائے۔ جن کے نشانات آج بھی موجود ہیں ۔انہیں اب بھی'' تناظر زبیدہ ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔''انسائیکلو پیڈیا برٹا نیکا‘‘ کے مطابق ملکہ زبیدہ نے ایران کے ایک پر فضا مقام سے متاثر ہو کر تبریز نامی ایک شہر بھی آباد کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریخ کی کتابوں میں مصر کے تاریخی شہر اسکندریہ کا ذکر بھی ملتا ہے جو دوسری ہجری میں حادثاتِ زمانہ کے ہاتھوں تقریباً اجڑ چکا تھا , ملکہ زبیدہ نے اس تاریخی شہر کے تشخص کو بحال کرنے کے لئے اسکی ازسرنو تعمیر کرائی۔یوں تو ملکہ زبیدہ کے رفاہی کاموں کی فہرست خاصی طویل ہے لیکن ملکہ کا ایک کارنامہ جو رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہے گا۔وہ '' نہر زبیدہ ‘‘ جیسے کٹھن اور بظاہر ناممکن منصوبے کی تکمیل تھی۔نہر زبیدہ کی تعمیر کا پس منظر: صدیوں سے مکہ مکرمہ اور دیگر سعودی علاقوں میں پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش رہا ہے۔کہتے ہیں خلیفہ ہارون الرشید سے بہت پہلے بھی ایک دفعہ پانی کا اس قدر سنگین بحران پیدا ہو گیا تھا کہ محض ایک مشکیزہ دس درہم تک بکنے لگا۔ ایک دفعہ جب ملکہ زبیدہ حج کی غرض سے مکہ مکرمہ میں تھیں تو انہوں نے اہل مکہ اور حجاج کرام کو درپیش پانی کی قلت دیکھی تو اسی لمحے انہوں نے مکہ مکرمہ میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے مستقل انتظام کرنے کا ارادہ کر لیا ۔اس کا مقصد اہل مکہ اور حجاج کرام کو بلا تعطل پانی کی فراہمی کو یقینی بناناتھا۔ملکہ نے ہنگامی بنیادوں پر جب دنیا بھر کے ماہرین کو یہ ذمہ داری سونپی تو طویل جدوجہد کے بعد ماہرین نے اطلاع دی کہ انہیں دو جگہوں سے بہتے چشموں کا سراغ ملا ہے۔ایک مکہ مکرمہ سے لگ بھگ پچیس میل کی دوری پر جبکہ دوسراچشمہ کرا کی پہاڑیوں میں نعمان نامی وادی کے دامن میں واقع ہے ۔ ان چشموں کا مکہ مکرمہ تک پہنچنا ممکن نہیں تھا کیونکہ درمیان میں جگہ جگہ پہاڑی سلسلے رکاوٹ ڈالتے نظر آ رہے تھے۔ ملکہ جو اس نیک کام کا تہیہ کر چکی تھیں انہوں نے اس موقع پر جو احکامات جاری کئے وہ تاریخ میں سنہری حروف سے آج بھی زندہ ہیں،''ان چشموں کا پانی مکہ تک پہنچانے کے لئے ہر قیمت پر نہر کھودو۔اس کام کے لئے جتنا بھی خرچ آئے پروا نہ کرو حتی کہ اگر کوئی مزدور ایک کدال مارنے کی اجرت ایک اشرفی بھی مانگے تو دے دو ‘‘۔ملکہ کا حکم اور ارادے رنگ لے آئے۔تین سال دن رات ہزاروں مزدور پہاڑیاں کاٹنے میں مشغول رہے۔ منصوبے کے تحت مکہ مکرمہ سے 35 کلو میٹر شمال مشرق میں وادی حنین کے ''جبال طاد ‘‘سے نہر نکالنے کا پروگرام بنایا گیا۔ایک نہر جس کا پانی ''جبال قرا ‘‘ سے '' وادی نعمان ‘‘ کی طرف جاتا تھا اسے بھی نہر زبیدہ میں شامل کر لیا گیا۔یہ مقام عرفات سے 12 کلومیٹر جنوب مشرق کی جانب واقع تھا۔علاوہ ازیں منٰی کے جنوب میں صحرا کے مقام پر واقع ایک تالاب ''بئیر زبیدہ ‘‘کے نام سے تھا جس میں بارشوں کا پانی ذخیرہ کیا جاتاتھا۔چنانچہ اس تالاب سے سات کاریزوں کے ذریعہ پانی نہر تک لے جایا گیا۔ پھر وہاں سے ایک چھوٹی نہر مکہ مکرمہ اور ایک عرفات میں مسجد نمرہ تک لے جائی گئی۔اور یوں اللہ نے اہل مکہ اور حجاج کرام کی سن لی اور نہر کا یہ تاریخی منصوبہ تکمیل کو پہنچا۔بہت سارے لوگوں کے لئے یہ انکشاف شاید نیا ہو گا کہ اس نہر کا بنیادی نام ''عین المشاش ‘‘تھا لیکن اللہ تعالی کو شاید ملکہ زبیدہ کے نام کو اسی نہر کے توسط سے دوام بخشنا مقصود تھا جس کے سبب یہ ''نہر زبیدہ ‘‘کے نام سے شہرت اختیار کر گئی۔نہر زبیدہ 1200 سال تک مکہ مکرمہ اور ملحقہ علاقوں تک فراہمی آب کا بڑا ذریعہ رہا۔ پھر 1950 کے بعد اس نہر سے پمپوں کے ذریعہ پانی کھینچنے کاسلسلہ زور پکڑتا گیا جو رفتہ رفتہ نہر کی خشکی تک آن پہنچا۔آج بھی اس کا ایک بڑا حصہ محفوظ حالت میں موجود ہے۔بلا شبہ یہ ایک کٹھن اور بظاہر ناممکن منصوبہ تھا جسے ملکہ زبیدہ کی مدبرانہ حکمت عملی اور انتھک کاوشوں کے طفیل کامیابی ملی۔نہر زبیدہ درحقیقت اسلامی ورثے کا ایک نادر نمونہ اور انجنئیرنگ کا لازوال شاہکار ہے۔ اس کی تعمیر دیکھ کر آج بھی انجینئر اور ماہر تعمیرات حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ صدیوں پہلے فراہمی آب کے اس عظیم اور کٹھن منصوبے کو کیسے پایہء تکمیل تک پہنچایا گیا ہوگا۔

مائیکرو فکشن کا بڑھتا رجحان

مائیکرو فکشن کا بڑھتا رجحان

مائیکرو فکشن کیوں؟میں کہتا ہوں کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔۔کیا اردو ادب میں اتبدادیت کا دور دورہ ہے؟کیا افسانچے کے بعد خط کھینچ دیا گیا ہے؟ناول تھا تو افسانہ کیوں آیا؟افسانہ تھا تو افسانچہ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟انگریزی و عربی فارسی ادب سے مستعار اردو ادب اور ادیب کب تک خود کو تحقیق اور جدت سے روکے رکھے گا؟جب بھی فکشن کا ذکر آتا ہے تو معروف انگریزی رائٹررور جینیا وولف کا ایک سوال جس نے برسوں پہلے ادبی حلقوں میں کہرام برپا کیا تھا ان کا مضمون "جدید فکشن "ایک خیال انگیز تحریر تھی اور ہے جس نے اس وقت جو سوال اْٹھائے آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ اس مضمون کی ابتدا میں ہی وہ لکھتی ہیں:''ہم نے مشین بنانے میں بہت ترقی کر لی ہے۔ نئے ماڈل کی کار کو دیکھتے ہی ہم بے اختیار کہہ اْٹھتے ہیں کہ اس کی ساخت میں کچھ نئی چیزیں سما گئی ہیں لیکن کیا ہم نے اسی طرح کا کوئی نیا طریق ادب کی تخلیق میں بھی دریافت کیا ہے؟ اورکیا اس طریق کو احساس تفاخر سے پیش کیا ہے کہ یہ فن پارہ پہلے فن پارے سے مختلف ہو؟ ورجینا وولف نے لکھا کہ فیلڈنگ نے اچھا فکشن تخلیق کیا تھا اوراسی طرح جین آسٹن ا پنے زمانے میں فیلڈنگ سے سبقت لے گئی لیکن جو حیرت فیلڈنگ نے اپنی سادگی سے تخلیق کی تھی اور اسی طرح بعد میں جو حیرت جین آسٹن نے اپنے انداز میں جگائی تھی ویسی حیرت کیا ہمیں ان کے بعد فکشن میں نظر آئی۔‘‘دیکھنے والی بات اس اقتباس میں یہ ہے کہ ورجینا وولف نے ارتقا کے اگلے دو قدم کا اعتراف بھی کیا ماضی اور مستقبل کے ادب کا تقابل کرتے ہوئے اس کے زوال کی بات بھی کی اور ادب میں جمود کی صورت پر بھی بات کی یہ درست کہ یہ پرانی بات ہے اس کے بعد انگریزی ادب میں فکشن کئی طرح سے لکھا گیا اور عمدہ نمونے بھی سامنے آئے لیکن اگر میں اردو ادب میں فکشن پر ایک نظر ڈالوں تو دور نہیں 90 کے بعد کے فکشن پر ناقد بھی زوال کا نوحہ کہتا نظر آئے گا۔جب میں نے مائیکرو فکشن پر بات شروع کی تو ادبی حلقوں میں چہ میگوئیاں ہوئیں کہ جیسے ٹیسٹ کرکٹ سے ون ڈے کا دور آیا اور ون ڈے سے ٹی ٹونٹی کا یوں ہی ادب میں بھی ہم مختصر ترین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔قارئین کے پاس پڑھنے کا وقت کم ہے یا نہیں ہے اس سے قطع نظر ادب کے معاملات الگ ہیں۔ ادب میں نئی اضاف کا آنانئی اضاف کے ریسرچ ورک سے جڑنا انگریزی ادب کا خاصہ ہے اس لیے ہمیں سب وہاں ہی ملا۔ ہمارے ہاں قصہ گوئی یا داستان کی روایت ملتی ہے لیکن کیا وہ اردو کی اپنی اضاف تھیں یہ الگ سوال ہے؟میں یہاں ساوتھ افریقہ میں ایک نجی کانفرنس میں شریک ہوا تو وہاں دوستوں سے تعارف کے بعد اردو ادب کا تذکرہ ہو اگوروں اور سیاہ فام ادبا کا سوال تھا اْردو ادب میں کون سی اضاف لکھی جاتی ہیں۔ تو میرا عمومی جواب یہ تھا کہ ناول ، ناولٹ، افسانہ ، نظم ہمارے ہاں بالخصوص لکھی جا تی ہیں ۔ تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ارے بھئی یہ سب تو انگریزی ادب سے مستعار ہے اردو ادب کی اپنی کون سی صنف ہے جو آپ لکھتے ہیں۔ تویہ اچانک سوال میرے لیے خود حیران کن تھا۔ خیر میں نے غزل کا نام لیا اور بات کچھ دیرکے لیے تھم سی گئی لیکن میں جانتا تھا غزل بھی کہاں اردو کی اپنی ہے۔ مجھے اس بات نے بطور اردو طالب علم جھنجھوڑا کہ ہم نے اردو ادب کو کیا دیا؟افسانے کی ہی بات کر لیں۔ افسانہ خود اپنے پیٹرن وقتاً فوقتاً بدلتا رہتا ہے اور یہ ایک اچھی روایت رہی ہے اردو ادب ا فسانہ میں تجربات ہوئے یوں اس کا رد عمل 1960 میں تجریدی افسانے کی شکل میں سامنے آیا۔پھر 90 کی دہائی میں افسانہ علامت کی جانب واپس لوٹا لیکن دیکھا جائے تو یہ ا دوار افسانے میں انگریزی ادب اور اردو ادب میں بیک وقت گزرے۔ مطلب ہم وہی کر رہے تھے جو مغرب میں ہو رہا تھا۔ چلیں مانا کہ علوم کا لین دین منع نہیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں اگر ایسا ہوا بھی ہے ۔ لیکن یہی محبت اگر اردو دان اردو کی اپنی الگ صنف بنانے میں کرتے جس کی ہیئت خود اردو کی وضع کی ہوتی تو ہم آج کہہ سکتے کہ فلاں صنف اردو کی صنف ہے۔ اسی سوچ کے پیش نظر میں نے مائیکر و فکشن پر تحقیقی کام کا آغاز کیا کہ ایک صنف تو ہو جو اپنی نئی شکل کے ساتھ سامنے آئے جسے ہم افسانچے۔۔۔۔ سٹوری فلیش فکشن سے الگ کر سکیں۔اب آپ کہہ سکتے ہیں کہ صنف اپنی تو نام بھی اپنا ہونا لازم ہے تو اس حوالے سے عرض ہے کہ یہ الفاظ اردو میں رائج ہیں اور عام فہم زبان میں ان کا یونہی رائج ہونا میرا نہیں خیال غلط ہو۔لیکن میں نے تحقیقی کام میں اس پر غور جاری رکھا اور بالخصوص نام کے حوالے سے بار بار ادبا کی رائے لی ان مکالموں میں بہت سے نام سامنے بھی آئے دنیا بھر کے ادبا نے بہت سے ناموں کی تجویز دی۔ ۔آخرکار کراچی سے ہمارے ایک محترم دوست شفقت محمود صاحب نے "مائیکروف" کی اصطلاح کو استعمال کرنا شروع کیا۔ میں نے دیکھا کہ ادبا کی کثیر تعداد نے اس "مائیکروف" کو معتبر حیثیت دی اور خود بخود یہ نام مستعمل ہوتا گیا اور اسے قبولیت کی سند ملی۔یوں نام کا قصہ ختم ہوا۔ اس دوران انہماک فورم پر اردو کے معتبر ترین ناقدین و ادبا سے مکالمے بھی جاری ہیں۔ جنہوں نے اس صنف کے اسلوب و ہیئت کے حوالے سے بات کی اور کئی ادبا میں اس کے روشن امکانات ومستقبل کی نشاندہی کی کچھ ادبانے اسے مجذوب کی جڑ بھی کہااور ناپسندیدہ قرار دیالیکن ایساردعمل چند ایک ادبا کی جانب سے ہواجو ذہنی طورپراردو میں کچھ نیا ہونے سے ڈرتے ہیں جب ہم غفار پاشا صاحب کے ساتھ سامنے آئے اورمقالے لکھے گئے تو صنف اپنا مقام خود بناتی چلی گئی آج انشائیہ پرایم فل کے مقالے لکھے جارہے ہیں۔اردو میں بہت کم کچھ الگ نیاکرنے کی روایت رہی ہے۔ہاں اسی ضمن میں عرض کروں تنقید نے اردو ادب میں سب سے زیادہ ترقی کی ہے۔ اردو ادب میں تنقیدی میدان میں آج تنقید تاثراتی تنقیدسے ہوتی ہوئی مارکسی تنقید، مظہریت سے اختیاطی تنقید، نوآبادیاتی تنقید، ردتشکیل، پوسٹ ماڈرن ازم، اور امتزاجی تنقید تک پہنچ گئی اور اس پرکام بھی ہوا ہے گو کہ یہ بھی بیشتر مغرب کی تھیوریزہیں لیکن ان پر کام ہوا ہے۔ ڈاکٹر وزیرآغا نے امتزاجی تنقید کی بنیاد رکھی اور جمیل آذر صاحب نے نیانشائی تنقید کا آغاز بھی کیاہے۔مغرب میں تھیوریزپیش کی جاتی ہیں اور ان پر مکالمہ ہوتاہے۔یوں بات آگے بڑھتی ہے ہمارے ہاں کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ بات کیا ہورہی ہے ۔وہ اہم ہے یا نہیں سب یہ دیکھتے ہیں کہ کہہ کون رہا ہے۔مائیکروفکشن (مائیکروف)کولیکر ہمارے ادبا خائف کیوں ہیں ۔ وہاں 'دریدا' کے مطابق زبان میں افتراق اور التوا کاکھیل ہے یہ کہہ کرسب لکھا، کہا،رد کردیاگیاہے اور جس کا جواب ابھی تک کوئی دے نہیں پایا۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی متن حتمی معنی، مطلق و واحدمعنی نہیں رکھتا۔۔خیر عرض ہے کہ اگر وہ منی سٹوری کے بعد فلیش فکشن اور سائنس فکشن اور دیگر فکشن کو متعارف کرواسکتے ہیں تو ہمیں افسانچے کے انڈے پر 'مرغا' بن کرکب تک بیٹھے رہناہے۔ یہ اب ہم سب مل کر طے کرلیتے ہیں۔اب آپ دیکھ لیں اردو ادب و ادیب کو نئی صنف پرکام کرنے سے کترا رہے ہیں ۔ یہ کتنا لازم ہے،نہیں ہے وہ دوست طے کرلیں۔رہی بات ہاررفکشن کی تو ہم نئے مضوعات کو بدل بدل کر اب تک دنیا بھرکے مصنفین سے 500 کے قریب مائیکروف لکھوائے چکے ہیں جن پر دنیابھر کے معززین ناقدین نے تبصرے کیے آرادیں ہیں۔ تاکہ اس صنف میں نئے نئے موضوعات پرزیادہ سے زیادہ لکھا جائے۔تاکہ مصنفین وقارئین کا ذائقہ بھی بدلتارہے ا ور مشق بھی جاری رہے۔رہی بات انہماک میں شامل مائیکرو فکشن مثالوں کی تو عرض ہے وہ نشستیں مشق سخن سے متعلق ہیں۔ ان سب میں سے بہترین مثالوں کو سامنے رکھ کرہم اس کی صورت گری کرتے چلے جائیں گے۔ اس پرکام ہورہا ہے ہم اور دیگر دوست نوٹس بنارہے ہیں لیکن یادرہے سب کہانی کے لیے ہی بہتر ہوگا ۔ انجام، منظرنگاری، حیرت، ہر چیزاس کاحصہ ہوں گے۔ ہاررمائیکروفکشن میں جزئیات نگاری کو خاصی اہمیت حاصل ہورہی ہے ۔کیونکہ وہاں لفظوں سے قاری کو سارا منظر دکھانا ہوتاہے۔ لکھتے لکھتے قلم مائیکروفکشن کی جسامت کو تو بھانپ گئے ہیں اور ان کا قلم خودبخود طے کرتاگیاکہ اس کا حجم کیاہوگا ۔موضوع کے اعتبار سے لفظوں کی تعداد 600 تک جاسکتی ہے۔مائیکروف جدید دور کی اہم ترین ضرورت بھی ہے اور اس صنف میں تخلیقی بیانیہ اہم ہے۔ ہمارے ہاں سو لفظی کہانیوں کا چرچا داستان کا لطف، قصہ گوئی کی چاشنی، افسانے کا فسوں اور ناول کی جزئیات نگاری،مکالمے کا تیکھاپن اور نظم کا لطف سب درآمد کیے جا سکتے ہیں کم لفظوں میں بڑی بات گہری بات اور گہری فکرسے جوڑتا مائیکرواس وقت ادبا کے لیے لکھنے کاایساتخلیقی راستہ ہے جہاں سب خود کو جیتاجاگتااور مکمل تخلیق سے جڑاہواپاتے ہیں۔ اس صنف پرمزید مضامین و تحقیق کی ضرورت ہے۔ 

بادلوں کی آنکھ مچولی

بادلوں کی آنکھ مچولی

فضا میں خنکی تھی۔ چاندنی رات تھی، آسمان پر بادلوں کے آوارہ ٹکڑے چاند کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ ہوٹل، دفاتر اور ریسٹورنٹس کے درمیان ایک اوول بنا ہوا تھا۔ اوول کے عین وسط میں صندل کی لکڑی کا ایک چبوترا بنا ہوا تھا۔ مناسب فاصلے پر ایک نیم دائرے کی شکل میں میز بچھے تھے۔ ہر میز کے اردگرد چار چار اور چھ چھ کرسیاں دھری تھیں۔ لاگ (Log) کے بائیں طرف لکڑی کا بنا ہوا فلور تھا۔ فلور کے آخری کونے پر ایک پلیٹ فارم بنایا گیا تھا جس پر مائیک اور میوزیکل انسٹرومنٹ رکھے گئے تھے۔ میزوں پر بڑی بڑی موم بتیاں چاندی کے چار خانوں میں جل رہی تھیں۔ جب ہم پہنچے تو قریباً سبھی مہمان آچکے تھے۔ یوں لگا جیسے انہیں ہمارا ہی انتظار تھا۔ جونہی ہم اپنی مقررہ نشستوں پر بیٹھے تو وہی سیلزگرل جس نے ہمیں ہوٹل میں ٹھہرنے پر راغب کیا تھا، مائیک پر آئی۔ اپنی سُریلی لیکن نپی تلی آواز میں مخاطب ہوئی: ''ہائے فوکس!‘‘ ہر طرف سے ہائے ہائے شروع ہو گئی۔ وہ قدرے جھینپی اور پھر مسکرا دی۔ ''میں آپ کو آرنلڈفارم، مسٹراور لیڈی آرنلڈ کی طرف سے خوش آمدید کہتی ہوں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آپ نے آج ہمیں شرفِ مہمان نوازی بخشا ہے۔ جہاں ہم آپ لوگوں کے ممنون ہیں، وہاں ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ان لمحوں کو امر کردیں۔ یادگار بنا دیں۔ آج ہم جو پروگرام پیش کریں گے وہ صرف تفریح تک محدود نہیں ہو گا بلکہ اس میں آپ کو امریکہ کی تاریخ متحرک نظر آئے گی۔ یہ جو سٹیج پر رقاص اور نغمہ سنج بیٹھے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ریڈ انڈین قبائل کی اُمیدوں، اُمنگوں، آرزوئوں اور ارادوں کا چمن زار سمیٹ لائے ہیں۔ تاریخ کے دھارے جب بہتے ہیں تو وہ اپنی سمت خود متعین کرتے ہیں۔ حق انصاف، عدل گستری واخلاقی ضابطے کچھ بھی تو ان کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔ تاریخ کی اپنی ایک منطق ہے جو ان تمام لطیف جذبات سے ماورا ہے۔ آج تاریخ میں سکندرِیونانی کا ایک مقام ہے۔ اسے سکندرِاعظم کہا جاتا ہے۔ ہر حکمران کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ کاش اسے بھی ایسا مقام اور مرتبہ حاصل ہو سکے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا، کوئی یہ نہیں کہتا کہ اس میں اور ایک بدنام ڈاکو، قاتل اور لٹیرے میں کیا فرق تھا۔ اسے کیا حق پہنچتا تھا کہ وہ لاکھوں بے گناہ لوگوں کو تہ تیغ کر دے، ان کے گھر جلاڈالے اور انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کوچۂ زنداں میں دھکیل ڈالے۔ تاریخ کے تعصب کے سامنے سب اخلاقی آوازیں دب جاتی ہیں۔ سب ضابطے بے بس نظر آتے ہیں۔ یہی تاریخ یہاں بھی دُہرائی گئی۔ کولمبس نے نہ جانے یورپین اقوام کے کان میں کیا پھونکا تھا کہ یورپ کا ہر راستہ امریکہ کی طرف کھلنے لگا۔ ہر للچائی ہوئی نگاہ سونے کی چڑیا پر پڑنے لگی۔ گولڈرش Mad رش میں بدل گیا۔ بارود کی بو نے معطر فضا کو گہنا دیا۔ چارسُو گولیوں کی تڑتڑ، جوان، محنتی جسم جھلسے ہوئے درختوں کی طرح گرنے لگے۔ جائیداد کی حرص وہوس نے اخلاقی ضابطوں کو روند ڈالا۔ عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے!‘‘ امریکن سامعین نے بے چینی سے پہلو بدلے۔ کچھ دبی دبی آوازیں بھی بلند ہوئیں ... ''میں آپ کے جذبات سمجھتی ہوں، میں بھی آپ میں سے ہوں، ہمارے آبائواجداد ایک تھے۔ ہماری تاریخ بھی ایک ہی ہے۔ شاید ہم ان کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ٹھہرائے جاسکتے!‘‘ اس نے گہری نظر سے سامعین کے چہروں پر اُٹھتے ہوئے مدوجزر کا جائزہ لیا۔ ''لیکن تاریخی حقیقتوں کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ You can not corrupt History۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان ناانصافیوں اور ناجوازیوں کا ازالہ کیا جائے اور شاید کیا بھی جا رہا ہے۔ عدالتیں ان کے حق میں فیصلے دے رہی ہیں۔ حکومت نے مراعات کا حوصلہ افزا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب ان کے گلے شکوے دور ہو جائیں گے۔ من وتوکی تقسیم ختم ہو جائے گی‘‘۔''Native کی تعریف کیا ہے؟‘‘ سامعین میں سے کسی نے اُٹھ کر سوال کر ڈالا۔''یہ ایک اچھا سوال ہے‘‘۔ اس نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔ ''بحث کے طور پر کہا جا سکتا ہے ارضِ خدا انسانوں کے لیے بنی ہے۔ نقل مکانی ہر دور میں اور تاریخ کے ہر موڑ پر ہوئی ہے۔ آرئین کب ہندوستان آئے؟ یونانی کہاں کہاں گئے، سامراج نے کن خطوں کو ''فیض یاب‘‘ کیا۔ اگر یورپین اقوام سے پہلے ریڈانڈین آئے، آسٹریلیا میں برطانوی سپاہ سے پہلے ایب اور ویجنل موجود تھے تو یہ لوگ کہاں سے آئے تھے؟ کوئی نہ کوئی قوم کہیں نہ کہیں سے ضرور آتی ہے۔ محض وقت کی اکائیاں ان کا حق فائق نہیں کرتیں لیکن جو سلوک ان کے ساتھ روا رکھا گیا وہ یقینا نامناسب تھا۔ انہیں جنگلی سوروں اور کتوں کی طرح مارا گیا‘‘۔ میں ان جملات معترضہ کو یہیں ختم کرتی ہوں کیونکہ وقت نکلا جا رہا ہے۔ ہمیں ان حسین لمحات کو سمیٹنا ہے، اپنی روح میں اُتارنا ہے اور یادگار بنانا ہے۔ پروگرام شروع کرنے سے پہلے ہمیں ایک مقامی رسم پوری کرنی ہے اور وہ یہ ہے ''صندل کی لکڑیوں کے اس گھٹے کو ٹارچ دکھانی ہے۔ آگ کے الائو کی روشنی میں محفل رقص وسرود جمے گی ...‘‘

حکمت کی باتیں

حکمت کی باتیں

صاحب حکمتاللہ صاحب حکمت ہے۔ دنیا میں ہونے والا ہر واقعہ اس کی دانائی، بصیرت اور اس کے حکیمانہ مقاصد کا حامل ہوتا ہے۔ ہماری نگاہ اس پر نہیں ہونی چاہیے کہ یہ مصیبت کتنی بڑی ہے بلکہ اس پر ہونی چاہیے کہ یہ کیوں آئی ہے، اس لئے کہ اس حکیم و خبیر سے یہ توقع نہیں کہ وہ بلاوجہ ہمیں کسی ابتلا میں ڈال دے گا۔ وہ یقینا درج بالا مقاصد ہی کے لئے ہمیں آزماتا ہے۔ اس کے حکیم ہونے کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے ہر کام کو حکمت پر مبنی سمجھا جائے، اس لئے کہ ہم یہ جان چکے ہیں کہ اس کی یہ صفات اس سے کسی حالت میں بھی الگ نہیں ہوتیؒ، اس لئے یہ جان لینا چاہیے کہ اگر وہ کسی کو سزا بھی دے رہا ہو تو وہ بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔ اس کو ہم ایک ادنیٰ درجے پر ماں کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں، جو اپنے بچے کو بدتمیزی کرنے یا محنت نہ کرنے پر صرف اس لئے سزا دیتی ہے کہ اس کی عادتوں کا بگاڑ اس سے دور ہو یا اس کا مستقبل تاریک نہ ہو۔ ماں کے ذہن کی یہ حکمت بعض اوقات بیٹے سے اوجھل ہوتی ہے اور وہ ماں سے باغی ہو جاتا ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔ اگر ماں اپنے بیٹے پر یہ ستم اس لئے توڑتی ہے کہ وہ سدھر جائے، اس کا مستقبل سنور جائے، وہ آنے والے دنوں میں پریشان نہ ہو تو کیا خدا ماں سے زیادہ حکیم نہیں ہے، اور وہ اس سے زیادہ مستقبل سے باخبر نہیں ہے؟ یہی اس کا علیم و حکیم ہونا ہے جو ہمارے لئے باعث اطمینان ہے۔اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ بسا اوقات ہم یہ خیال کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا کاروبار چل جانا چاہیے، ہمیں ملازمت مل جانی چاہیے، ہمارے ہاں اولاد ہونی چاہیے لیکن معاملہ اس کے برعکس رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے اللہ کا علم یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے لئے مستقبل میں نقصان کا باعث ہوگا۔ وہ ہمیں اس نقصان سے بچانے کے لئے سب سب کچھ سے محروم رکھتا ہے۔پست خیال انسانپست خیال انسان آکاس بیل کی طرح خود پھیلتا ہے اور دوسروں کو پھیلنے سے روکتا ہے۔ وہ دوسروں کو اُن کے حقوق سے محروم کر کے اپنے نفس کی تسکین چاہتا ہے۔ بلند خیال انسان شمع کی طرح جلتا ہے اور روشنی دیتا ہے۔ جلتا ہے، روشن رہتا ہے۔ بلند خیالی روشنی ہے۔ وہ روشن رہتا ہے، روشن کرتا ہے اور پھر اپنے اصل کی طرف یعنی نور کی طرف رجوع کر جاتا ہے۔ اُس کی زندگی دوسروں کے لیے اور دوسروں کا دُکھ اپنے لیے۔ وہ بلند خیال ہے۔ پست خیال کو ہم خیال بنانا اُس کا دین ہے، اُس کا مذہب ہے، اُس کا منصب ہے۔چیونٹی اور مکھیایک دن ایک چیونٹی اور مکھی دونوں اپنی فضیلت اور برتری پر لڑنے لگیں اور اپنی بحث وتکرار کرتے ہوئے مکھی نے کہا:''میری بزرگی مشہور ہے، جب خدا کے لیے نذر یا قربانی کی غرض سے جو بھی جانور ذبح ہوتا ہے اس کے گوشت، ہڈیوں اور انتڑیوں کا مزہ سب سے پہلے میں چکھتی ہوں۔ مساجد اور خانقاہوں میں بھی اچھی جگہ پر بیٹھی ہوں۔ میں عمدہ سے عمدہ جگہوں پر بلاروک ٹوک جاتی ہوں۔ ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت عورت جو میرے پاس سے ہو کر گزرتی ہے، میرا دل چاہتا ہے تو میں اس کے نازک ہونٹوں پر جا بیٹھتی ہوں۔ کھانے پینے کے لیے مجھے محنت نہیں کرنا پڑتی۔ اعلیٰ سے اعلیٰ نعمت مجھے میسر رہتی ہے تو بے چاری غریب مسکین میرے رُتبے پر کہاں پہنچ سکتی ہے اور میری برابری کہاں کر سکتی ہے‘‘۔چیونٹی، مکھی کی یہ بات سُن کر بولی: ''خدا کی نذر یا قربانی میں جانا تو بہت باعث برکت ہے لیکن جب تک کوئی بلائے نہیں تیری طرح بن بلائے جانا تو بڑے بے شرمی کی بات ہے اور تو جو درباروں، بادشاہوں اور خوبصورت ہونٹوں پر بیٹھنے کا ذکر کرتی ہے تو یہ بھی بے جا ہے کیونکہ ایک دن گرمی کے موسم میں جبکہ میں دانہ لانے جا رہی تھی، میں نے ایک مکھی کو فصیل کی دیوار کے پاس ایسی غلیظ چیز پر بیٹھے دیکھا جس کا نام لینا بھی مناسب نہیں اور وہ اس غلاظت کو چپڑ چپڑ کھا رہی تھی اور تو نے مسجدوں اور خانقاہوں میں جانے کا کہا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تو سستی اور کوتاہی کی ماری ہوئی ہے اس لیے وہاں جا کر پڑی رہتی ہے تاکہ کوئی زحمت اُٹھانا نہ پڑے۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے جو سست اور کاہل ہوتے ہیں ان کو کوئی اپنی محفل میں آنے نہیں دیتا۔ اس لیے ادھر ادھر گھستے پھرتے ہیں۔ تو نے یہ کہا کہ تجھے کوئی کام نہیں کرنا پڑتا اور مجھے سب کچھ بغیر محنت کے مل جاتا ہے، بات تو سچ ہے لیکن یہ بھی سوچ گرمیوں کے دنوں میں جب تو ادھر ادھر کھیل تماشے میں کھوئی رہتی ہے تو سردیوں میں بھوک سے مرتی ہے اور ہم اپنے گرم گھروں میں مزے سے کھاتے پیتے اپنی زندگی ہنسی خوشی بسر کرتے ہیں‘‘۔عقل مند بیٹاکسی بادشاہ نے ایک تیلی سے دریافت کیا کہ ایک من تلوں سے کتنا تیل نکلتا ہے؟ تیلی نے کہا: دس سیر۔ پھر پوچھا دس سیر میں سے؟ تیلی نے کہا: اڑھائی سیر۔ بادشاہ نے پوچھا: اڑھائی سیر میں سے؟ تیلی نے کہا: اڑھائی پائو۔ سلسلہ سوالات کے آخر میں بادشاہ نے پوچھا، ایک تل میں سے کتنا تیل نکل سکتا ہے؟ تیلی نے جواب دیا کہ جس سے ناخن کا سرا تر ہو سکے۔ کاروبار دنیوی میں تیلی کی اس ہوشیاری سے بادشاہ بہت خوش ہوا اور کہا کہ علم دین سے بھی کچھ واقفیت ہے؟ تیلی نے کہا: نہیں۔ بادشاہ نے ناراض ہو کر کہا کہ دُنیاوی کاروبار میں اس قدر ہوشیار اور علم دین سے بالکل بے خبری۔ اس کو قید خانہ میں لے جائو۔ جب تیلی کو قید خانے میں لے جانے لگے تو تیلی کا لڑکا خدمت میں عرض کرنے لگا کہ ''میرے باپ کے جرم سے مجھے مطلع فرمائیںتو کرم شاہانہ سے بعید نہ ہو گا‘‘۔بادشاہ نے کہا: ''تیرا باپ اپنے کاروبار میں تو اس قدر ہوشیار ہے لیکن علم دین سے بالکل بے بہرہ ہے۔ اس لیے اس غفلت کی سزا میں اس کو قید خانے بھیجا جاتا ہے‘‘۔ تیلی کے لڑکے نے دست بستہ عرض کی: ''حضور! یہ قصور اس کے باپ کا ہے جس نے اس کو تعلیم سے بے بہرہ رکھا، نہ کہ میرے باپ کا؟ میرے باپ کا قصور اس حالت میں قابل مواخذہ ہوتا، اگر وہ مجھے تعلیم نہ دلاتا۔ لیکن میرا باپ مجھے تعلیم دلا رہا ہے۔ آئندہ حضور کا اختیار ہے‘‘۔ بادشاہ لڑکے کے اس جواب سے بہت خوش ہوا اور کہا: ''تمہاری تھوڑی سی تعلیم نے نہ صرف اپنے باپ کو مصیبت قید سے چھڑا لیا بلکہ تم کو بھی مستحق انعام ٹھہرایا‘‘۔ چنانچہ بادشاہ نے تیلی کو رہا کر دیا اور اس کے لڑکے کو معقول انعام دے کر رُخصت کیا۔صبرہر طرح کی آزمائش میں صحیح رویے اور عمل کو اختیار کرنا صبر کہلاتا ہے۔ صبر کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ہر صورت میں صحیح موقف پر قائم رہے۔ اللہ اسے دے تو وہ شکر گزار رہے، فرعون وقارون نہ بنے اور اللہ چھینے تو وہ صابر رہے، کفر وشرک اختیار نہ کرے، اللہ کے دروازے سے مایوس نہ ہو۔ صحیح موقف سے مراد یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے اخلاق سے نہ گرے۔ اپنے عزیزوں اور اپنے ساتھ بُرائی کرنے والے لوگوں سے بالخصوص اپنا رویہ صحیح رکھے۔ ان کے حقوق پورے کرے، ان کی عزت قائم رکھے۔ ان سے اگرسہوونسیان ہوا ہے تو بالخصوص ان سے درگزر کا رویہ اختیار کرے اور اگر ان کی طرف سے دانستہ کوئی چیز سرزد ہوئی ہے تو سزا دینے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یہاں بھی پسندیدہ یہی ہے کہ اگر ہو سکے تو انھیں معاف کر دے۔خدا کی طرف سے آنے والی مشکلات میں بھی صبر ضروری ہے۔ ان چیزوں میں آدمی اگر صبر نہ کرے تو وہ مایوس ہو کر کفر وشرک تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کو ہم اپنے معاشرے کی مثال سے سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں جب کسی کے ہاں اولاد نہیں ہوتی اور وہ علاج معالجہ کراتا ہے، دُعائیں کرتا ہے لیکن پھر بھی جب اولاد نہیں ہوتی تو وہ مایوس ہو جاتا ہے تو پھر وہ لوگوں کے درباروں اور استھانوں کے چکر لگاتا ہے۔ ان کو خدا کی ایک صفت میں شریک وسہیم بنا دیتا ہے۔ چنانچہ اچھا خاصا آدمی محض اولاد سے محرومی کے دکھ میں شرک کر بیٹھتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ صبرو استقامت سے کام لیا جائے۔کنکر نہیں ہیرےایک قافلہ ایک اندھیری سُرنگ سے گزر رہا تھا کہ اُن کے پائوں میں کنکریاں چبھیں۔ کچھ لوگوں نے اس خیال سے کہ یہ کسی اور مسافر کو نہ چبھ جائیں، نیکی کی خاطر اُٹھا کر جیب میں رکھ لیں۔ کچھ نے زیادہ کچھ نے کم۔جب اندھیری سرنگ سے باہر آئے تو دیکھا وہ ہیرے جواہرات تھے۔ جنھوں نے کم اُٹھائے وہ پچھتائے کہ کم کیوں اُٹھائے۔ جنھوں نے زیادہ اُٹھائے اور بھی زیادہ پچھتائے۔دُنیا کی زندگی کی مثال اُس اندھیری سُرنگ کی سی ہے۔ نیکیاں یہاں کنکریوں کی مانند ہیں۔ اس زندگی میں جو نیکی کی وہ آخرت میں ہیرے موتی جیسی قیمتی ہو گی اور انسان ترسے گا کہ اور زیادہ کیوں نہیں کیں۔

دلچسپ حقائق

دلچسپ حقائق

ظاہر اور باطنایک اسلامی ملک کی اہم شخصیت علامہ اقبال کی مہمان تھی۔ اس کے اعزاز میں دعوت کے موقع پر چوہدری صاحب نے علامہ اقبال سے سرگوشی کے انداز میں کہا: ''آج مذاق سے باز رہنا‘‘۔جب معزز مہمان کا حاضرین سے تعارف کروایا جانے لگا تو چوہدری شہاب الدین کی باری پر علامہ اقبال نے کہا: ''یہ ہیں ہمارے دوست چوہدری شہاب الدین، منافقت کے اس دور میں مخلص اور صاف باطن کے مسلمان ہیں۔ ان کا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہے‘‘۔ یہ سُننا تھا کہ تقریب میں شریک تمام لوگ بے اختیار ہنس پڑے۔سکندراعظم کی لاتڈیماستھز یونان کا مشہور خطیب تھا۔ جب سکندراعظم نے ایتھنز فتح کیا تو دیکھا کہ ڈیماستھز کہیں دور پڑا ہوا ہے۔ سکندراعظم نے اُسے ایک لات ماری۔ اس نے سکندراعظم سے پوچھا:''تم کون ہو؟‘‘سکنداعظم نے فخر سے کہا: ''میں بادشاہ یونان ہوں‘‘۔ڈیماستھز نے کہا: ''ہاں ممکن ہے کہ آپ یونان کے بادشاہ ہوں مگر لات مارنا تو گدھے کا کام ہوسکتا ہے‘‘۔کم عمر ترین گوریلا لیڈرمیانمار (برما) کے گوریلا نسلی گروپ ''خدا کی فوج‘‘ (God's Army) کے لیڈر 12 سالہ جڑواں بھائی ہیں۔ یہ دونوں جڑواں بھائی جانی (Johnny) اور لوتھر ہتو (Luther Htoo) میانمار حکومت کو مطلوب ہیں۔ 24 جنوری 2000ء کو ان دونوں بھائیوں نے رچابوری (تھائی لینڈ) کے ایک ہسپتال میں 700 افراد کو 24 گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا۔سول نافرمانی کا سب سے لمبا مارچسول نافرمانی کا سب سے لمبا مارچ 12 مارچ 1930ء کو موہن داس کرم چند گاندھی نے انگریز سرکار کے خلاف شروع کیا۔ اس کا مقصد انگریزوں کی طرف سے نمک پر ٹیکس عائد کرنے کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ گاندھی نے اپنے 78 حامیوں کے ساتھ 241 میل لمبا پیدل مارچ کیا۔ یہ مارچ سابرمتی آشرم سے شروع ہوا اور 5 اپریل 1930ء کو ڈانڈی (گجرات) میں ختم ہوا۔دُنیا کے مقبول ترین قوالنصرت فتح علی خان کو قوالی کا بے تاج بادشاہ کہا جاتا ہے۔ 1997ء میں اپنی وفات تک نصرت فتح علی خان کے قوالی کے 125البم مارکیٹ میں آچکے تھے۔ اُنھوں نے دُنیا کے متعدد ممالک میں فن کا مظاہرہ کر کے غیرملکیوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ جاپانی خاص طور پر ان کے زبردست مداح تھے۔ 1995ء میں امریکہ کے ایک کنسرٹ میں انھیں زبردست پذیرائی ملی۔برائے نام 4لاکھ سرکاری ملازمجنوری 1985ء میں افریقی ملک کینیا کے سرکاری تحقیقاتی کمیشن نے ایک عجیب انکشاف کیا کہ ملک کے 4لاکھ سرکاری ملازمین کوئی وجود نہیں رکھتے مگر ان کی تنخواہ ہر ماہ باقاعدگی سے سرکاری خزانے سے وصول کی جاتی ہے۔ کینیا میں اکائونٹنگ کے پیچیدہ نظام کے باعث ان جعلی ملازمین کو نہ پکڑا جا سکا حالانکہ اس سلسلے میں پولیس کی طرف سے کئی کوششیں کی گئیں۔سانپوں کی اقسامدُنیا میں سانپ کی تین ہزار نسلیں پائی جاتی ہیں، جن کو دس بڑے خاندانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ''اندھا سانپ‘‘ یا ''کیچوا سانپ‘‘ کی ایک سو اسّی قسمیں ہوتی ہیں۔ یہ سانپ کیچوے کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کے جسم کی لمبائی دس سے پندرہ سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ان کا جسم ملائم، چمکدار چانوں سے ڈھکا ہوتا ہے۔ اس کا رنگ سُرخی مائل بھُورا یا کالا ہوتا ہے۔ یہ سانپ اندھے ہوتے ہیں اور صرف روشنی اور اندھیرے میں تمیز کر سکتے ہیں۔ یہ ساری زندگی زیرزمین رہتے ہیں اور چیونٹی کے انڈے، دیمک کے انڈے اور کیڑے مکوڑے کھاتے ہیں۔ اس سانپ کی مادہ اپریل سے لے کر مئی تک تین سے آٹھ انڈے دیتی ہے۔ ڈیڑھ سے دو ماہ میں ان انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں۔ یہ زمین میں سوراخ بنا کے اس میں رہتا ہے۔ یہ سانپ نوانچ سے لے کر دو فٹ لمبے ہوتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے اور خاص طور پر دیمک کھاتے ہیں۔ یہ دُنیا کے گرم علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے تمام دانت اُوپر والے جبڑے میں ہوتے ہیں۔ اس سے ملتے جلتے سانپ ''ڈوری سانپ‘‘ کی چالیس قسمیں ہوتی ہیں۔ ان کے دانت فقط نچلے جبڑے میں ہوتے ہیں اور یہ بھی دُنیا کے گرم ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔دلچسپ مقدمہدسمبر 1985ء میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژنل بنچ نے ایک مقدمہ قتل میں 19سال قبل بری ہونے والے ملزم شہریار کے خلاف حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے سزائے عمر قید کا حکم سنایا۔ ملزم شہریار کے خلاف 1966ء میں ایک شخص عبدالعزیز کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا تھا۔ 1967ء میں ایڈیشنل سیشن جج جھنگ نے ملزم کو اس مقدمہ سے بری کر دیا تھا جس کے خلاف حکومت کی جانب سے اپیل دائر کی گئی جس کی سماعت فاضل عدالت عالیہ میں دسمبر 1985ء میں 19سال بعد ہوئی۔ ملزم کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ فاضل عدالت نے مقدمہ کے مدعی محمد طفیل کے وکیل اور سرکاری وکیل کی سماعت کے بعد 19سال قبل بری ہونے والے ملزم کو سزائے عمرقید کا حکم سنا دیا۔بنچ پر نام لکھنے کی سزامارچ 2003ء میں رڈنگ (برازیل) کی عدالت میں ضمانت کے لئے آنے والے 43 سالہ شخص کو بنچ پر اپنا نام کھودنے پر جیل بھیج دیا گیا۔ آوارڈو ریویرا پر چوری کا مال خریدنے کا الزام تھا اور وہ اپنی ضمانت کے لئے کمرہ عدالت میں اپنی باری کا منتظر تھا۔ ریویرا کو ہر جگہ اپنا نام لکھنے کی بری عادت تھی چنانچہ وہ عدالت میں بھی فارغ نہ بیٹھ سکا اور اپنے سامنے پڑے بنچ پر اپنا نام کھودنا شروع کر دیا۔ عدالت میں موجود پولیس افسر نے جب اسے کام میں مصروف دیکھا تو چپکے سے اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا اور اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ پولیس افسر نے وہیں جج کو بتایا کہ پہلے مقدمے میں ضمانت کے لئے آنے والا کمرئہ عدالت میں جرم کا مرتکب ہو رہا ہے جبکہ جرم کا ثبوت بھی موجود ہے جس پر جج نے حکم دیا کہ ضمانت کی بات تو بعد میں ہو گی پہلے ریویورا کو سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے جرم میں پیش کیا جائے۔ لہٰذا پولیس نے ریویرا کو ہتھکڑی لگائی اور جیل بھیج دیا۔سب سے پہلا پاکستانی بینکقیام پاکستان کے بعد پہلا کاروباری بینک ''مسلم کمرشل بینک‘‘ (MCB) تھا، جس کا قیام 9جولائی 1947ء کو کلکتہ (بھارت) میں عمل آیا۔ قیام پاکستان کے بعد 17اگست 1948ء کو اسے ڈھاکہ (مشرقی پاکستان) منتقل کر دیا گیا۔ اس اعتبار سے پاکستان میں قائم ہونے والا یہ پہلا بینک ہے۔ 23اگست 1956ء کو اس کا مرکزی دفتر کراچی میں قائم کیا گیا۔ یکم جنوری 1974ء کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت نے بینکوں کو قومی تحویل میں لینے کا اعلان کیا تو یہ بینک بھی حکومتی تحویل میں آگیا۔ نیز اس میں پریمیئر بینک لمیٹڈ کو بھی ضم کر دیا گیا۔ جنوری 1991ء میں نجکاری کے بعد اسے نجی شعبے میں دے دیا گیا۔تین پائوں والا شخصمیکسیکو کے ایک شخص جوزلوپیز (Jose Lopez) کے تین پائوں تھے۔ اس کا ایک ہی ٹخنہ اور چار انگلیاں تھیں۔ یہ تیسرا پائوں اس کی بائیں ٹانگ کے ٹخنہ کے ساتھ ہی قدرت نے جوڑ رکھا تھا۔معمر ترین میراتھن کھلاڑی٭ مردوں میں عمر رسیدہ ترین میراتھن کھلاڑی ہونے کا اعزاز یونان کے ڈائمٹر یون یور داندس (Dimitrion Yordandis) کے پاس ہے۔ اس نے 98 برس کی عمر میں 10 اکتوبر 1976ء کو ایتھنز (یونان) میں یہ ریکارڈ قائم کیا اس کا دورانیہ 7 گھنٹے 33 منٹ تھا۔٭ عورتوں میں دنیا کی عمر رسیدہ ترین میراتھن کھلاڑی ہونے کا اعزاز جینی وڈایلن کے پاس ہے جس کا تعلق ڈونڈی (سکاٹ لینڈ) سے تھا۔ 1999ء میں جب جینی نے انگلینڈ میراتھن ختم کی تو اس کی عمر 87 سال جبکہ دورانیہ 7 گھنٹے 15 منٹ تھا۔

میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں ریاض مجید اردو غزل کے بڑے شاعر

میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں ریاض مجید اردو غزل کے بڑے شاعر

جدید طرز احساس کے شعراء میں ریاض مجید کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے خوبصورت غزل کے معیارات کا خود ہی تعین کیا اور اپنی قوت متخیلہ کو بڑی نفاست اور عمدگی سے شعری لباس پہنایا۔ ان کی شاعری میں ہمیں شعری طرز احساس اور جدید طرز احساس کا وہ سنگم ملتا ہے جس کی جتنی توصیف کی جائے کم ہے۔ وہ جمالیاتی احساس کو بھی شاعری کا لازمی جزو سمجھتے ہیں۔ معروضی صداقتوں کی گونج بھی ان کے اشعار میں ہے اور معاشرتی کرب کی جھلکیاں بھی ہمیں ان کے اشعار میں ملتی ہیں۔ انہوں نے مضمون آفرینی کے ساتھ ساتھ جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے وہ ہے شعر۔ریاض مجید کا اصل نام ریاض الحق ہے۔ وہ 13 اکتوبر 1942 کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں پروفیسر کے طورپر اپنی ذمہ داریاں نبھانے لگے۔ ان کی تصانیف میں گزرتے وقت کی عبادت ''پس منظر‘‘ ،''نئی آوازیں‘‘، 'رفحان میں ایک شام‘‘ شامل ہیں۔ اردو کے علاوہ مجید نے پنجابی زبان میں بھی اپنی شعری صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ریاض مجید کی شاعری کا ایک بڑا وصف یہ ہے کہ اس میں ابلا غ کا کوئی مسئلہ در پیش نہیں۔ وہ کچھ کہتے ہیں بڑی وضاحت سے کہتے ہیں۔ قاری کو کسی مشکل میں نہیں ڈالتے۔ ان کے خیال کی ندرت انہیں ایک عمدہ غزل گو تسلیم کرنے کے لئے کافی ہے۔ ذرا یہ شعر ملاحظہ فرمایئے جو ان کی شناخت بن چکا ہےمیرا دکھ یہ ہے کہ میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیںمیں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوںاس دکھ کو وہی محسوس کرسکتا ہے جس نے اسے جھیلا ہو۔ یہ شعر بے بسی کا استعارہ ہے۔ آپ کے پاس سب کچھ ہے لیکن پھر بھی ناکامی کے اندھیرے آپ کا مقدر ہیں۔ اس سے بڑی مایوسی اور کیا ہوسکتی ہے۔ تنہا لڑائی اگر نہیں لڑسکتے تو پھر اس لشکر میں شامل ہوجائیے جس کے لوگ آپ ہی کی طرح جری اور جانباز ہیں۔ اس شعر کے اندر فلسفہ بھی ملتا ہے اور ایک موثر پیغام بھی۔ریاض مجید کے بے شمار اشعار ایسے ہیں جن کا دوسرا مصرعہ پڑھ کر قاری ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ مصرعہ اولیٰ کی تاثریت مصرعہ ثانی مکمل کردیتا ہے اور منہ سے بے ساختہ واہ نکلتی ہے۔ذرا مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ کریں۔وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئےرو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئےجی میں آتا ہے بکھر کر دہر بھر میں پھیل جائوںقبر لگتی ہے بدن کی چار دیواری مجھےدیکھتے ہیں سب مگر کوئی مجھے پڑھتا نہیںگزرے وقتوں کی عبارت ہوں عجائب گھر ہوں میںہمارے جدید طرز احساس کے کئی شعرا سیاسی اور سماجی حالات کی بھر پور عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ریاض مجید نے کس مہارت اور نفاست سے وہ المیہ بیان کیا ہے جس کا تعلق اس ملک کے کروڑوں عوام سے ہے۔ انہوں نے اپنی غزل کے ایک مصرعے میں ''اشرافیہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ وہ لفظ ہے جو ہماری سیاست کی زبان میں سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ خاص طورپر وہ سیاسی جماعتیں جو اپوزیشن کی سیاست کر رہی ہوتی ہیں۔ ان کے لئے یہ لفظ بڑا شاندار لفظ ہے اور وہ''اشرافیہ‘‘ کو ہدفت تنقید بنا کر عوام کے سارے مسائل کا ذمہ دار انہیں گردانتے ہیں۔ لیکن اقتدار حاصل کرنے کیلئے انہیں پھر اسی اشرافیہ کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اس وقت ان کے نظریات یکسر تبدیل ہوجاتے ہیں۔ بہر حال ریاض مجید کا یہ شعر زبردست داد کا مستحق ہے جس میں شعریت بھی ہے اور معروضی صداقتوں کا والہانہ اظہار بھیبہت بے زار ہیں اشرافیہ کی رہبری سےکوئی انسان کوئی خاک زادہ چاہتے ہیںشاعر نے اشرافیہ کو انسانوں کی فہرست ہی سے خارج کردیا ہے۔ اس شعر پر بہت طویل بحث ہوسکتی ہے۔ میں نے جتنی اردو شاعری پڑھی ہے اس میں اشرافیہ کا لفظ پڑھنے کو نہیں ملا۔ مجھے مجید امجد یاد آئے جو وہ شعری زبان استعمال کرتے تھے جو پہلے کبھی استعمال نہیں ہوئی۔ انہوں نے بہت سے نئے الفاظ استعمال کئے۔ مضمون آفرینی کے حوالے سے ان کا ذرا یہ شعر ملاحظہ کیجئے۔ہر کسی غم کی وہی شکل پرانی نکلیبات کوئی بھی ہو تیری ہی کہانی نکلیتنہائی کے حوالے سے بہت سے شعراء نے بڑے خوبصورت اشعار کہے ہیں۔ کسی نے تنہائی کو مثبت انداز میں لیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ تنہائیوں کا اپنا ایک حسن ہے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا تھامقام رنج ہے تنہائیوں نے مل کر آجواہ اپنا حسن بھی کویا ہے انجمن بن کرلیکن ریاض مجید جس تجربے سے گزرے ہیں وہ ایک انوکھی داستان بیان کرتا ہے۔ وہ تنہائی کے آرزو مند نہیں لیکن ان کا المیہ یہ ہے کہ محفلوں نے بھی انہیں کچھ نہیں دیا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ تنہائیاں ہی ان کا مقدر ہیں۔ کہتے ہیں۔کھلا یہ بھید کہ تنہائیاں ہی قسمت ہیںاک عمر دیکھ لیا محفلیں سجا کر بھینکتہ آفرینی شاعری کا ایک بہت بڑا وصف ہے۔ ریاض مجید نے وہ رومانوی شعر کہا ہے جو کوئی اور شاعر نہ کہہ سکا۔ عام طورپر شاعر محبوب کے نہ ملنے کو اپنی بد نصیبی قرار دیتا ہے اور اس کا دل حزیں اس محرومی کی چکی میں پستا رہتا ہے لیکن ریاض مجید نے اس حوالے سے کیا نکتہ نکالا ہے ذرا غور کیجئے۔زندگی تھوڑی تھی ہم کو اور بھی سو کام تھےورنہ اک تجھ کو ہی پانا تو کوئی مشکل نہ تھااب آپ اسے کیا کہیں گے یہ نکتہ آفرینی بھی ہے اور ندرت خیال بھی ریاض مجید نے جدید غزل کے امکانات کو وسیع کیا۔ جسم کو کئی ایسے مضامین کا لباس پہنایا جس سے قاری کو خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ انہوں نے فطری حقائق سے بھی کبھی نظریں نہیں چرائیں۔ جدید طرز احساس کے ساتھ ساتھ ان کا شعری طرز احساس بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔ جب کوئی شاعری ان دونوں اوصاف کی حامل ہو تو ادب کا کون سا قاری ایسا ہوگا جو ایسی شاعری کو نظر انداز کرے گا۔ریاض مجید شاعری میں کسی ایک دھڑے ے وابستہ نہیں ہیں۔ نہ ان پر ترقی پسندی کا لیبل لگا اور نہ ہی وہ روایتی اور کلاسیکل مکتبہ فکر کے داعی ہیں۔ ان کا شاعری کا کینوس وسیع ہےریاض مجید کے شعری خزانے میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اردو غزل کے قارئین ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے رہیں گے۔

قرضوں کے موسم

قرضوں کے موسم

یہ موسم سدابہار موسم ہے اس اقلیم ریاست کے منصئہ شہود میں آتے ہی قرضوں کا موسم بھی چل نکلا۔ سال میں کسی بھی وقت یہ موسم بر پا ہوسکتا ہے۔ اس موسم کے آتے ہی ارباب اختیار سکھ کا سانس لیتے ہیں اور عوام کوڈ نگ ٹپاؤ پروگراموں اور سبز باغات میں الجھا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ کچھ نو آورد اس موسم کو نا پسند کرتے ہیں اسے ریاست سے ختم کرنے کے دعوے بھی کرتے ہیں مگر واعظ کی یہ سب باتیں نہ تجربہ کاری پہ مبنی ہوتی ہیں اور بالآخر منتیں مان کر ان کے روٹھے موسموں کو منایا جا تا ہے۔ پہلی باراس موسم نے ہمارا دروازہ ساٹھ کی دہائی میں کھٹکھٹایا۔ بادی النظریہ خاصاً خوشگوار موسم ہوتاہے مگر یہ قوموں کے ہاتھوں میں کشکول تھما جاتا ہے۔ ریاستوں کی کوری کوری چنر یا پہ معاشی داغ لگ جاتے ہیں اور وہ داغ چھپائے نہیں چھپتے۔ مستزاد قرضوں سے بھری جھولی کیا سنبھلے کہ سو سو چھید لئے ہے اور پھر رفو گری کی صورت بھی ناپید ہو۔جس سے ریاستوں کی ننگے پاؤں والی ماؤں کے ہر بلاول کامقروض ہو جانا مقدر ٹھہر جاتا ہے۔ان موسموں میں اڑتی پرچیوں پہ ''Beggars are not choosers‘‘لکھا ملتا ہے۔تاہم کبھی کبھار''فرینڈز، ناٹ ماسٹر ‘‘کی سرگوشیاں سنتے کو ملتی رہیں۔ اس موسم کی دل پذیر و ہوشربا سوغات قرض کی مئے ہے جسے پی کر اپنی فاقہ مستیوں میں رنگ بھرنے کی سعی لا حاصل کی جاتی ہے۔ اس طرح قرضوں کی واپسی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ ریاست کے تھنک ٹینک کے مطابق سلطنت وسیاست کے قرض کی ادائیگی تو گدھے کی آنکھ پر جوتے کے برابریعنی انتہائی آسان کام ہے۔ تجویز عام ہے کہ آئی ایم ایف کی مائی سے قرض کی بھیک لینے کی بجائے اپنے گزیٹڈ افسران،ججز،ضلعی افسران ، وکیل، ڈاکٹر ، پٹواری ، بیوروکریٹس، فوجی افسران ، فیکٹری مالکان، وزیر مشیر اور پچیس ایکڑ سے زائد زمین کے حال زمینداروں سے بیس بیس ہزار قرض لیا جائے۔ مذکورہ بالا حضرات دو کروڑ کے لگ بھگ ہیں اور ان سے کشید کی گئی رقم تقریبا چار کھرب بنتی ہے۔ اسی طرح نان گزیٹڈ سرکاری ملازمین سے دو دو ہزار لئے جائیں۔ اور یہاں پانچ کروڑ سے زائد افراد بیس ہزار ماہانہ کماتے ہیں ان سے صرف پانچ پانچ سو وصولا جائے تو قرض کا آسیب ٹالا جاسکتا ہے۔ ایک عالم بے بدل نے تو قرض اتارنے کا کمال بے مثال نسخہ دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر قرض کی رقم کی ادائیگی کی صورت نہ نکل پائے تو قرض خواہ ممالک کو ٹھوٹھا دکھا دیا جائے۔ اس طرح ان ممالک کے قرض کی واپسی کا تقاضہ جاتا رہے گا۔ قرض لیتے وقت بھی ہماری خودداری قائم ہے۔ اس بات پہ ایک خوددار شاعر کا شعر یاد آ گیا :قرض جو مانگو تومانگواتنی خود داری کے ساتھقرض دینے والا دے کے تجھ سے شرمندہ رہےمگراس موسم میں ارباب گشت و بساد اقبال کی خودی کی بجائے امریکہ کے ڈالر کو بلند کرنے میں جان لگاتے ہیں اور ڈالر کا اقبال اس قدر بلند ہو جا تا ہے کہ اقبال کے شا ہین کی پرواز ہیچ نظر آنے لگتی ہے۔ قرض کے موسم میں مختلف سائز کے کشکولوں کے لحاظ سے سلطنت خود کفیل ہو جاتی ہے۔کبھی کشکول اعلی تو بھی کشکول اعظم ڈالر، لیرے،یو آن ، ین ، پونڈ، درہم اوردینار سے لیس دکھائی دیتے ہیں۔

سیاحت لفظی

سیاحت لفظی

کلیسا عیسائیوں کی عبادت گاہ کو کلیسا کہتے ہیں۔ اس لفظ کا ماخذ یونانی لفظ Ekklesia ہے۔ زمانۂ قدیم میں یونان کے شہر ایتھنز میں Ekklesia کے نام سے ایک اسمبلی قائم کی گئی تھی جس میں 20سال سے زائد عمر کا ہر مرد شہری ووٹ ڈال سکتا تھا۔ بعد میں اس لفظ کا اطلاق یہودی دولتِ مشترکہ پر ہونے لگا۔ یہ لفظ یونانی زبان سے لاطینی کے راستے انگریزی میں آیا۔ انگریزی زبان میں اس کا املا Ecelesia ہے۔ عصر موجود میں انگریزی میں Ecclessia اور اُردو میں کلیسا چرچ کے معنیٰ میں بولا جاتا ہے۔ لفظ کلیسا فارسی میں بھی بولا جاتا ہے اور خیال ہے کہ یہ لفظ (کلیسا) فارسی زبان سے ہی اُردو میں آیا ہے۔طلسمطلسم، عربی زبان سے فارسی اور فارسی سے اردو میں آیا ہے، اس لفظ کا ماخذ لاطینی لفظ Talesma ہے۔ لاطینی میں Talesma کاغذ یا دھات کے اس ٹکڑے کو کہا جاتا تھا جس پر جادوگر عبارات تحریر کیا کرتے تھے۔ یہ ٹکڑے انسانی حفاظت کے لئے استعمال ہوتے تھے۔ جدید اردو میں طلسم عربی کی طرح سحر، جادو کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ عربی میں اس لفظ کے دو تلفظ طِلسم اور طلسم ہیں۔ تاہم فصحائے اردو طلسم بولتے ہیں جو کہ فارسی تلفظ ہے۔صابنعربی اور فارسی میں صابن کو صابون کہتے ہیں اور یہی خیال کیا جائے گا کہ اہل اُردو نے اسے مختصر کر کے صابن بنایا ہے۔ تاہم لغت نگاروں نے اس لفظ کی لسانی اصلیت کے متعلق اپنی اپنی تحقیق کے مطابق خیال آرائی کی ہے۔ حسن عمید نے لکھا ہے کہ یہ لفظ فرانسیسی (Savon) سے فارسی میں آیا ہے۔ فرہنگ ِ آصفیہ کے مصنف نے کسی حوالے سے لکھا ہے کہ صابن کا موجد صابون عبدالرحمن البونی تھا۔ چنانچہ اسی لحاظ سے صابن کو ابتدا میں اصاب البونی کہتے تھے جو مختصر ہو کر صابون رہ گیا اور اُردو زبان میں صابن بن گیا۔آبِ زم زم(آب: فارسی۔ زم زم: عربی)مکہ مکرمہ میں زم زم نامی ایک چشمہ ہے، جس کی ایک خاص اسلامی حیثیت اور تاریخ ہے۔ مسلمہ روایت کے مطابق حضرت اسماعیل ؑ کی ولادت مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے نزدیک ہوئی۔ آپؑ کی پیدائش کے وقت آپؑ کی والدہ محترمہ بی بی ہاجرہؑ کو بہت پیاس لگی۔ نزدیک پانی موجود نہ تھا۔ چنانچہ وہ پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگیں۔ دریں اثنا نومولود حضرت اسماعیلؑ نے زمین پر ایڑیاں رگڑیں، جس کے بعد حضرت اسماعیلؑ کے پائوں کے نیچے زمین پھٹ گئی اور پانی بہنے لگا۔ حضرت ہاجرہؑ آئیں۔ اُنھوں نے یہ پانی پیا اور اپنی پیاس بجھائی۔ زم زم اسی پانی کا نام ہے۔ طویل عرصے سے زم زم بہہ رہا ہے اور دُنیا بھر کے فرزندانِ توحید یہ پانی پی کر ایمان وقلوب کو تازہ رکھے ہوئے ہیں۔ زم زم کے معنی ہیں وافر، بکثرت۔آبِ کوثر(آب: فارسی۔ کوثر: عربی)کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے، جس کا پانی بہشت کے باہر حوضِ کوثر میں آکر گرتا ہے۔ قیامت کے روز آنحضرت محمدﷺ کے اُمتی اس حوض کا پانی پی کر بہشت میں داخل ہوں گے۔ حوضِ کوثر کی نسبت سے آپؐ کو ساقی کوثر بھی کہتے ہیں۔ کوثر قرآن مجید کی ایک سورۃ کا نام بھی ہے۔ضدیہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے معنیٰ ہیں برعکس، نقیض اور مخالف۔ عربی زبان میں بعض الفاظ متضاد معنیٰ میں بولے جاتے ہیں۔ جس طرح لفظ بیع کے ایک معنیٰ ہیں فروخت اور دوسرے معنی ہیں خرید۔ ان الفاظ کو لغاتِ اضداد کہتے ہیں۔ لفظ ضد بھی اس کی ایک مثال ہے۔چنانچہ عربی میں ضد کے ایک معنیٰ ہیں مخالف، برعکس اور دوسرے معنی میں مثل، نظیر۔ یاد رہے کہ اُردو زبان میں لفظ ضد صرف ایک معنی (مخالف، برعکس) میں بولا جاتا ہے۔