سائنس کی دنیا میں توانائی کے ذخیرے کو ہمیشہ ایک بنیادی چیلنج سمجھا جاتا رہا ہے۔ موبائل فون سے لے کر برقی گاڑیوں تک ہر جگہ بیٹری ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ مگر روایتی بیٹریوں خاص طور پر لیتھیم آئن ٹیکنالوجی کی اپنی حدود ہیں، جیسا کہ چارج ہونے میں وقت، محدود صلاحیت اور وقت کے ساتھ کارکردگی میں کمی۔ ایسے میں حالیہ دنوں سامنے آنے والی کوانٹم بیٹری کی خبر نے عالمی سطح پر سائنسی حلقوں اور ٹیکنالوجی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔حالیہ تحقیق کے مطابق آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے ایک ایسی تجرباتی کوانٹم بیٹری تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو روایتی اصولوں کے برعکس نہ صرف انتہائی تیزی سے چارج ہو سکتی ہے بلکہ اس کی کارکردگی میں ایک حیران کن خصوصیت بھی دیکھی گئی ہے کہ جتنی بڑی بیٹری اتنی ہی تیز چارجنگ۔ یہ تصور کلاسیکل فزکس کے اصولوں سے بالکل مختلف ہے، جہاں بیٹری کا سائز بڑھنے کے ساتھ چارجنگ وقت بھی بڑھ جاتا ہے۔کوانٹم بیٹری بنیادی طور پر روایتی کیمیائی ردعمل کے بجائے کوانٹم فزکس کے اصولوں پر کام کرتی ہے۔ اس میں توانائی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ایٹمی یا ذیلی ایٹمی سطح پر روشنی اور مادے کے درمیان تعامل کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک خاص قسم کے نظام،جسے مائیکروکیویٹی (microcavity) کہا جاتا ہے،میں روشنی کو قید کر کے توانائی جذب کرنے کا عمل ممکن بنایا۔ اس دوران پولیریٹونز (polaritons) نامی ہائبرڈ ذرات تشکیل پاتے ہیں جو روشنی اور مادے کی مشترکہ خصوصیات رکھتے ہیں اور توانائی کو انتہائی مؤثر انداز میں ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں پہلی بار ایک مکمل چارج-ڈسچارج سائیکل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ یعنی بیٹری کو نہ صرف چارج کیا گیا بلکہ اس میں محفوظ توانائی کو دوبارہ استعمال بھی کیا گیا۔ اس سے قبل کوانٹم بیٹری کے نظریات تو موجود تھے مگر عملی طور پر توانائی کو خارج (discharge) کرنے کا مرحلہ ایک بڑا مسئلہ تھا۔تقریباً فوری چارجنگ کی اصطلاح اس تحقیق کے تناظر میں استعمال کی جا رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ بیٹری کو انتہائی مختصر وقت حتیٰ کہ فیمٹو سیکنڈز (ایک سیکنڈ کا کھربواں حصہ)میں چارج کیا جا سکتا ہے۔ یہ ممکن ہوتا ہے ایک کوانٹم مظہر کے ذریعے جسے سپر ابسورپشن(super absorption) کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں متعدد ذرات اجتماعی طور پر توانائی جذب کرتے ہیں جس سے چارجنگ کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔تاہم اس ساری پیش رفت کے باوجود یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ اس وقت جو کوانٹم بیٹری تیار کی گئی ہے وہ نہایت معمولی مقدار میں توانائی ذخیرہ کر سکتی ہے اور وہ بھی صرف چند نینو سیکنڈز کے لیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال یہ بیٹری کسی بھی عملی استعمال مثلاً موبائل فون یا الیکٹرک گاڑی کو چلانے کے قابل نہیں ۔ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا فوری استعمال ممکنہ طور پر کوانٹم کمپیوٹنگ اور نینو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہو سکتا ہے جہاں انتہائی تیز اور مختصر دورانیے کے توانائی کے پلسز درکار ہوتے ہیں۔ مستقبل میں اگر اس ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دی جائے اور اسے بڑے پیمانے پر قابلِ عمل بنایا جا سکے تو یہ توانائی کے شعبے میں ایک انقلاب برپا کر سکتی ہے۔تصور کریں کہ آپ کا موبائل فون چند سیکنڈز میں مکمل چارج ہو جائے یا الیکٹرک گاڑیوں کو چارج کرنے میں گھنٹوں کے بجائے چند لمحے لگیں۔ یہ سب کچھ فی الحال سائنس فکشن محسوس ہوتا ہے مگر کوانٹم بیٹری کی تحقیق اس سمت میں ایک اہم قدم ضرور ہے۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ کوانٹم بیٹری کا تصور گزشتہ ایک دہائی سے سائنسی نظریات کا حصہ رہا ہے مگر اب پہلی بار اس کی عملی جھلک سامنے آئی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوانٹم فزکس نہ صرف نظریاتی میدان تک محدود نہیں بلکہ عملی ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔نتیجتاً کوانٹم بیٹری کو فی الحال ایک سائنسی پیش رفت کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے نہ کہ فوری طور پر قابلِ استعمال ٹیکنالوجی کے طور پر۔ اس تحقیق نے اگرچہ یہ ثابت کر دیا ہے کہ توانائی کو ذخیرہ کرنے اور استعمال کرنے کے روایتی اصولوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے مگر اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بننے میں ابھی کافی وقت درکار ہوگا۔اگر آنے والے برسوں میں سائنسدان اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ پوری ٹیکنالوجی کی دنیا کو ایک نئی سمت دے سکتی ہے۔ فی الحال یہ کہنا درست ہوگا کہ کوانٹم بیٹری مستقبل کی ایک امید ضرور ہے مگر وہ مستقبل ابھی کچھ فاصلے پر ہے۔
کیا تاریخ کے راوی شعوری طور پر مٹا دیے گئے؟برصغیر کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے عظیم الشان آثارِ قدیمہ ہمیشہ کسی 'حادثے‘ کی صورت میں دریافت ہوئے؛ کبھی ریلوے لائن بچھاتے وقت اینٹیں مل گئیں تو کبھی زمین کھودتے ہوئے مہریں۔ لیکن ان دریافتوں سے بڑا المیہ وہ خاموشی ہے جو ہڑپہ کی پانچ ہزار سالہ قدیم تہذیب کے گرد لپٹی ہوئی ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ دہائیوں سے ہمیں یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ تہذیب یا تو طغیانی کی نذر ہوگئی یا کسی نامعلوم حملہ آور کی سفاکیت نے اسے مٹا دیا، یا پھر خشک سالی نے اسے نگل لیا۔ مگر ایک محقق کے طور پر میرا سوال ان تمام نظریات کی بنیادوں کو چیلنج کرتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اتنی بڑی تہذیب کا ایک بھی راوی یا قصہ گو نہ بچا ہو؟تعمیر ِ نو کی جبلت اور ارتقا کا تضادتاریخ گواہ ہے کہ انسان کی جبلت تعمیرِ نو ہے، تخریب نہیں۔ اگر ہڑپہ کا انسان اتنا ایڈوانس تھا کہ اس نے پانی کے بہا ؤکو کنٹرول کر رکھا تھا اور شہر سازی کا وہ نظام وضع کیا جو آج کے جدید شہروں کو ٹکر دیتا ہے تو وہ ذہنی طور پر اتنا پسماندہ نہیں ہو سکتا کہ کسی ایک آفت سے اس کا نام و نشان مٹ جاتا۔ فرض کیجیے کہ دریا کے کنارے میرا گھر ہے اور طغیانی میرا سب کچھ بہا لے جاتی ہے، تو میں بحیثیت ایک ترقی یافتہ انسان جہاں بھی ہجرت کروں گا وہاں اپنے ہنر اور اپنی ضرورت کے مطابق ویسا ہی یا اس سے بہتر گھر تعمیر کروں گا۔مگر ہڑپہ کے بعد ہمیں برصغیر میں ایک طویل عرصے تک صرف کچی بستیوں اور پسماندہ طرزِ زندگی کے آثار ملتے ہیں۔ یہ ارتقانہیں بلکہ تنزلی ہے۔ کیا ایک انجینئر قوم ہجرت کر کے اچانک اپنی پانچ ہزار سالہ مہارت بھول سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ بغداد کی مثال ہمارے سامنے ہے؛ ہلاکو خان نے اینٹ سے اینٹ بجا دی مگر علم، زبان اور تہذیبی اثرات نہیں مرے۔ 1947 ء کے بٹوارے نے لاہور کے باشندوں کو جدا کر دیا مگر لاہور کی روح آج بھی زندہ ہے۔ پھر ہڑپہ کا راوی اتنی صفائی سے غائب کیسے ہو گیا؟لسانیاتی سراغ: ہڑپہ سکرپٹ کے حروف سے جدید الفاظ تکہڑپہ کے سکوت کو توڑنے کے لیے ہمیں ان کی مہروں پر موجود علامات کو بے جان تصویروں کے بجائے زندہ آوازوں کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ اگر ہم تقابلی لسانیات کا سہارا لیں تو ہڑپہ سکرپٹ کی پرتیں کھلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مہروں پر کثرت سے نظر آنے والی مچھلی کی علامت محض ایک نقش نہیں بلکہ ایک صوتی علامت ہے۔ قدیم دراوڑی زبانوں میں اسے مین(Meen) کہا گیا جس کا گہرا تعلق فارسی کی اصطلاح 'چشمِ ماہی سے ملتا ہے۔ اسی طرح مہروں پر موجود آنکھ کی شکل براہِ راست سامی رسم الخط کے حرف عین(Ayin) کی یاد دلاتی ہے جو بصارت اور چشمے دونوں کے لیے مستعمل رہا ہے۔تجارت کے حوالے سے اگر ہم مہروں پر موجود ظرف یا پیالے کی شکل کو دیکھیں تو یہ ہمیں قدیم فارسی کے پیالہ اور سنسکرت کے کمبھ تک لے جاتی ہے۔ یہ نشانات دراصل تجارتی پیمانوں اور ملکیت کی نشاندہی کرتے تھے جن کا ذکر ہمیں میسوپوٹیمیا کے ریکارڈز میں بھی ملتا ہے۔ حتیٰ کہ پیپل کے پتے کا نقش بھی محض عقیدت کا نشان نہیں بلکہ قدیم اصطلاحات پیپل یا امرم کے ذریعے خوراک اور نباتیات کے ایک وسیع نظامِ فکر کو واضح کرتا ہے۔ یہ تمام صوتی جڑیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ہڑپہ کا انسان اپنی زبان سمیت ہمارے اندر ہی کہیں موجود ہے۔شاہ عالم مارکیٹ کا کلیہ اور قدیم فارسی کا اشتراکہڑپہ محض ایک شہر نہیں اپنے دور کا عالمی تجارتی مرکز تھا۔شاہ عالم مارکیٹ کا مفروضہ یہاں صادق آتا ہے۔ آج کے لاہور کی شاہ عالمی مارکیٹ کی ڈوریاں کابل، تہران اور دہلی سے جڑی ہیں۔ ہڑپہ کی تباہی کا اصل سراغ ہمیں ہڑپہ کی مٹی سے زیادہ میسوپوٹیمیا کے ان قدیم ریکارڈز میں ڈھونڈنا چاہیے جہاں کے تاجروں نے ضرور لکھا ہوگا کہ مشرق کے اس عظیم مرکز سے تانبا یا کپاس آنا کیوں بند ہوئی۔ہڑپہ کی زبان کو سمجھنے کی کلید اُن صوتی مماثلتوں میں ہے جو قدیم فارسی اور سنسکرت میں آج بھی موجود ہیں۔خاندانی رشتے: فارسی کا پدر اور سنسکرت کا پتر،فارسی کا مادراور سنسکرت کا ماترایک ہی اصل سے ہیں۔ اعضائے جسمانی: سرکو فارسی میں شیر اور سنسکرت میں شر جبکہ آنکھ کو فارسی میں چشم اور سنسکرت میں چکشس کہا جاتا ہے۔ ایک تہذیبی قتلِ عام یا شعوری خاموشی؟حقیقت یہ ہے کہ ہڑپہ کی کہانی مٹی نہیں ہوئی بلکہ اسے شعوری طور پر خاموش کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی ہجرت ہے جس کے نقشِ قدم شاید ہم نے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیے۔ تاریخ کی یہ خاموشی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ وہ لوگ مرے نہیں تھے بلکہ شاید ہم نے ان کی زبان اور ان کی وراثت کو کسی اور نام سے موسوم کر کے اصل حقیقت پر پردہ ڈال دیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہڑپہ کو صرف اینٹوں کا ڈھیر نہ سمجھیں بلکہ اس گمشدہ دماغ کو تلاش کریں جو پانچ ہزار سال پہلے بھی ہم سے زیادہ روشن خیال تھا۔
بھگت سنگھ کا اسمبلی بم دھماکہ8 اپریل 1929ء کو برصغیر کی آزادی کی تحریک میں ایک اہم واقعہ پیش آیا جب انقلابی رہنما بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی بٹوکیشور دت نے دہلی کی مرکزی قانون ساز اسمبلی میں بم پھینکے۔ یہ بم جان لینے کے لیے نہیں بلکہ آواز بلند کرنے کے لیے تھے۔ اس کارروائی کا مقصد برطانوی حکومت کے جابرانہ قوانین خصوصاً پبلک سیفٹی بل اور ٹریڈ ڈسپیوٹس بل کے خلاف احتجاج تھا۔بم پھینکنے کے بعد دونوں انقلابیوں نے فرار ہونے کے بجائے خود گرفتاری دی تاکہ عدالت کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر سکیں۔ اس واقعے نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونک دی اور نوجوانوں میں انقلابی جذبہ پیدا کیا۔ مارگریٹ تھیچر وزیراعظم منتخب 8 اپریل 1979ء کو برطانیہ میں عام انتخابات کے بعد مارگریٹ تھیچر کی قیادت میں کنزرویٹو پارٹی نے کامیابی حاصل کی جو بعد میں برطانیہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ اگرچہ ان کا باضابطہ حلف مئی میں ہوا لیکن اپریل کے انتخابات نے اس تاریخی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی۔مارگریٹ تھیچر کو آئرن لیڈی کہا جاتا تھا کیونکہ انہوں نے مضبوط اور سخت معاشی و سیاسی پالیسیاں اپنائیں۔ انہوں نے برطانیہ میں نجکاری، مزدور یونینز پر کنٹرول اور مارکیٹ اکانومی کو فروغ دیا۔ ان کی پالیسیوں نے برطانوی معیشت کو نئی سمت دی تاہم ان پر تنقید بھی ہوئی کہ ان کی اصلاحات نے سماجی عدم مساوات کو بڑھایا۔مائیکروسافٹ ونڈوز 7 کا اجرا8 اپریل 2009 کو مائیکرو سافٹ نے اپنے نئے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز7 کو باضابطہ طور پر ریلیز کے لیے تیار کیا ۔ یہ سسٹم بعد میں اکتوبر 2009 میں عام صارفین کے لیے دستیاب ہوا۔ونڈوز 7 کو اس کے پیشروونڈوز وزٹا کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس میں بہتر کارکردگی، آسان انٹرفیس اور تیز رفتار شامل تھی۔ صارفین اور ماہرین نے اسے بہت سراہا اور یہ جلد ہی دنیا کے مقبول ترین آپریٹنگ سسٹمز میں شامل ہو گیا۔ ونڈوز 7 نے کئی سالوں تک مارکیٹ پر حکمرانی کی اور اسے آج بھی ایک کامیاب سافٹ ویئر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔بوئنگ 737 کی پہلی پرواز8 اپریل 1967ء کو دنیا کے مقبول ترین مسافر طیاروں میں شمار ہونے والے بوئنگ 737 نے اپنی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز کی۔ اسے امریکی کمپنی بوئنگ نے تیار کیا تھا اور یہ درمیانے فاصلے کی پروازوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔بوئنگ 737 کی خاص بات اس کی کم لاگت، بہتر ایندھن کارکردگی اور نسبتاً چھوٹے ہوائی اڈوں پر اترنے کی صلاحیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ طیارہ جلد ہی دنیا بھر کی ایئر لائنز کی پہلی ترجیح بن گیا۔ وقت کے ساتھ اس کے مختلف ماڈلز متعارف کروائے گئے جنہوں نے ہوا بازی کی صنعت میں انقلاب برپا کیا۔HBO کا آغاز8 اپریل 1972 کوHBO نے اپنی نشریات کا آغاز کیا۔ یہ دنیا کا پہلا پریمیم کیبل اور سیٹلائٹ ٹی وی نیٹ ورک تھا جس نے ٹیلی ویژن انڈسٹری میں ایک نئی جہت متعارف کروائی۔ابتدائی طور پر HBO نے فلمیں اور کھیلوں کے پروگرام نشر کیے لیکن وقت کے ساتھ اس نے اپنی ڈرامہ سیریز بھی تیار کرنا شروع کیں۔Game of Thrones اورThe Sopranos جیسی سیریز نے اسے عالمی شہرت دلائی۔HBO نے ناظرین کو معیاری اور سنجیدہ مواد فراہم کیا جس سے ٹی وی ڈرامہ اور تفریحی پروگراموں کا معیار بلند ہوا۔
تاریخ،مقاصد اور اہمیت مصروف اور تیز رفتار دورِ حاضر میں جہاں سہولیات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، وہیں انسانی صحت کو درپیش مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور ذہنی دباؤ نے انسان کو مختلف بیماریوں نے لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایسے حالات میں صحت مند زندگی گزارنا نہ صرف ایک ضرورت بلکہ ایک چیلنج بن چکا ہے۔ صحت دراصل اللہ تعالیٰ کی ایک انمول نعمت ہے جس کی قدر انسان کو اکثر اس وقت ہوتی ہے جب وہ اس سے محروم ہونے لگتا ہے۔ہر سال 7 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یومِ صحت منایا جاتا ہے۔ یہ دن صحت کے عالمی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے، عوام میں آگاہی پیدا کرنے اور صحت کے شعبے میں بہتری کیلئے مشترکہ اقدامات کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے مختلف ممالک میں سیمینارز، واکس، آگاہی مہمات اور طبی کیمپس کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو صحت مند زندگی گزارنے کی ترغیب دی جا سکے۔عالمی یومِ صحت منانے کی بنیاد عالمی ادارہ صحت(WHO) کے قیام سے جڑی ہوئی ہے۔ دراصل 7 اپریل 1948ء کو عالمی ادارہ صحت کا باضابطہ قیام عمل میں آیا، جس کا مقصد دنیا بھر میں صحت کے معیار کو بہتر بنانا اور بیماریوں کے خلاف عالمی سطح پر اقدامات کرنا تھا۔ اسی مناسبت سے 1950ء سے ہر سال 7 اپریل کو عالمی یومِ صحت کے طور پر منایا جانے لگا۔ہر سال اس دن کیلئے ایک مخصوص تھیم مقرر کیا جاتا ہے جو کسی اہم صحت کے مسئلے کو اجاگر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر مختلف برسوں میں ذہنی صحت، ماں اور بچے کی صحت، متعدی بیماریوں، ماحولیاتی آلودگی اور یونیورسل ہیلتھ کوریج جیسے موضوعات کو مرکزی حیثیت دی گئی۔2026ء کا تھیم ''Together for health Stand with science‘‘ ہے یعنی ''صحت کیلئے اکٹھے سائنس کے ساتھ کھڑے ہوں‘‘۔ ان تھیمز کا مقصد عالمی سطح پر پالیسی سازوں، طبی ماہرین اور عوام کو ایک مشترکہ مقصد کیلئے متحرک کرنا ہوتا ہے۔عالمی یومِ صحت صرف ایک رسمی دن نہیں بلکہ یہ دنیا کو درپیش صحت کے چیلنجز پر غور و فکر کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں ایک طرف جدید طبی سہولیات میسر ہیں وہیں نئی بیماریاں اور وبائیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ COVID19 جیسی عالمی وبا نے صحت کے نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا اور یہ ثابت کیا کہ صحت صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس دن کے ذریعے حکومتوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ صاف پانی، متوازن غذا، ویکسینیشن اور بنیادی طبی سہولیات تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ عالمی یومِ صحت اس بات پر زور دیتا ہے کہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی یافتہ معاشرہ ہوتا ہے۔پاکستان کے تناظر میں اہمیتپاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے عالمی یومِ صحت کی اہمیت دوچند ہے۔ یہاں صحت کے شعبے کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں وسائل کی کمی، طبی سہولیات کی غیر مساوی تقسیم اور بڑھتی ہوئی آبادی شامل ہے۔ دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے جہاں لوگ معمولی بیماریوں کے علاج سے بھی محروم رہتے ہیں۔ پاکستان میں متعدی بیماریوں جیسے ہیپاٹائٹس، ٹی بی اور ڈینگی کے علاوہ غیر متعدی بیماریوں جیسے ذیابیطس اور دل کے امراض کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ڈینگی بخار کے پھیلاؤ نے شہری علاقوں میں صحت کے نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ ہیپا ٹائٹس ایک خاموش وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے۔اس کے علاوہ ماں اور بچے کی صحت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ عالمی یومِ صحت کے موقع پر ان مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے حل کیلئے اقدامات کرنا نہایت ضروری ہے۔ اقدامات اور چیلنجز حکومت نے صحت کے شعبے میں بہتری کیلئے مختلف اقدامات کیے ہیں جیسے بنیادی صحت مراکز کا قیام، ویکسینیشن پروگرامز وغیرہ مگر ان اقدامات کے باوجود بہت سے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ صحت کے بجٹ میں کمی اور عملے کی کمی جیسے مسائل نظام کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔عالمی یومِ صحت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومت صحت کے شعبے کو اوّلین ترجیح دے اور بجٹ میں اضافہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو بھی صحت کے میدان میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کرنا ضروری ہے۔عوامی شعور کی ضرورتصحت کے مسائل کا حل صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے عوامی شعور بھی ضروری ہے۔ صاف ستھرا ماحول، متوازن غذا، ورزش اور باقاعدہ طبی معائنہ صحت مند زندگی کے بنیادی عناصر ہیں۔ چہل قدمی جیسی سادہ عادت بھی انسان کو کئی بیماریوں سے بچا سکتی ہے۔آگاہی کے ذریعے لوگوں کو صحت کے اصولوں سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔عالمی یومِ صحت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ صحت ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اس کے حصول کیلئے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ اور عوام سب مل کر ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔اگر ہم آج صحت کے شعبے پر توجہ دیں گے تو کل ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ سکیں گے۔
تیز سیکھنے کا ذریعہ یا ذہنی سہارا؟مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹولز خصوصاً ChatGPT نے تعلیم کے میدان میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگرچہ ChatGPT طلبہ کو تیزی سے سیکھنے میں مدد دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اہم خامی بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہ تحقیق جسے ScienceAlert نے رپورٹ کیا، ہمیں سیکھنے کے روایتی اور جدید طریقوں کے درمیان ایک دلچسپ تقابل فراہم کرتی ہے۔یہ تحقیق برازیل کی ریو ڈی جنیرو یونیورسٹی کے ماہر André Barcaui نے کی جس میں 120 یونیورسٹی طلبہ کو شامل کیا گیا۔ طلبہ کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک گروپ کو ChatGPT استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔دوسرے گروپ کو روایتی طریقوں (کتب، آرٹیکلز وغیرہ) سے تحقیق کرنے کو کہا گیا۔طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے موضوع پر ایک پریزنٹیشن تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا جس کے لیے انہیں دو ہفتے کا وقت ملا۔تحقیق کے نتائج چونکا دینے والے تھے۔ 45 دن بعد جب طلبہ کا اچانک ٹیسٹ لیا گیا توChatGPT استعمال کرنے والے طلبہ کا اوسط سکور10میں سے 5.75 رہا جبکہ روایتی طریقہ اپنانے والے طلبہ کا اوسط سکور 6.85 تھا۔ یہ تقریباً 11 فیصد کا فرق تھا جو ایک مکمل گریڈ کے برابر ہو سکتا ہے۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ AI کے ذریعے سیکھنا آسان اور تیز ہے، لیکن طویل مدتی یادداشت میں کمی آ سکتی ہے۔سیکھنے کی رفتار بمقابلہ یادداشتتحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ChatGPT استعمال کرنے والے طلبہ نے کم وقت میں کام مکمل کیا۔AI گروپ نے تقریباً 3.2 گھنٹے میں جبکہ روایتی گروپ نے تقریباً 5.8 گھنٹے میں،یعنی ChatGPT نے سیکھنے کے عمل کو تیز تو بنایا مگر اس رفتار کی قیمت یادداشت کی کمزوری کی صورت میں سامنے آئی۔ ماہرین نے ChatGPT کو cognitive crutch یعنی ذہنی بیساکھی قرار دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم معلومات حاصل کرنے کے لیے AI پر زیادہ انحصار کرتے ہیں تو ہمارا دماغ خود سے سوچنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت کم استعمال کرتا ہے،یہ تصور نیا نہیں۔ اس سے پہلے 2011ء میں Betsy Sparrowکی تحقیق نےDigital amnesia کی اصطلاح متعارف کروائی تھی جس کے مطابق انٹرنیٹ اور سرچ انجنز کے بڑھتے استعمال سے انسانی یادداشت متاثر ہو رہی ہے۔اس تحقیق کے مطابق مؤثر سیکھنے کے لیے ذہنی محنت ضروری ہے۔ جب طلبہ خود سے پڑھتے، نوٹس بناتے اور سوچتے ہیں تو معلومات دماغ میں زیادہ دیر تک محفوظ رہتی ہے لیکن ChatGPT جیسے ٹولزمعلومات کو فوری خلاصے کی صورت میں پیش کرتے ہیں،پیچیدہ موضوعات کو آسان بنا دیتے ہیں، ذہنی مشقت کو کم کر دیتے ہیں،نتیجتاً دماغ وہ ''مشقت‘‘نہیں کرتا جو مضبوط یادداشت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ روایتی طریقہ اپنانے والے طلبہ کے نتائج زیادہ یکساں تھے جبکہ ChatGPT استعمال کرنے والوں کے نتائج میں زیادہ فرق پایا گیا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ AI کا استعمال ہر طالب علم کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں ہوتا۔کیا AI ٹولز نقصان دہ ہیں؟یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ AI ٹولز نقصان دہ ہیں۔ان ٹولز کے کئی فوائد ہیں جیسا کہ معلومات تک جلد رسائی،پیچیدہ موضوعات کی آسان وضاحت،وقت کی بچت،ذاتی نوعیت کی رہنمائی۔تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب طلبہ مکمل طور پر AI پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔تعلیمی نظام کیلئے پیغاماس تحقیق میں تعلیمی اداروں اور اساتذہ کے لیے ایک اہم اور واضح پیغام ہے کہ AI کو مکمل طور پر رد کرنے کے بجائے اسے ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے مثلاًطلبہ کو پہلے خود تحقیق کرنے دی جائے پھر AI سے وضاحت یا خلاصہ لیا جائے اوراسائنمنٹس میں AI کے استعمال کے واضح اصول بنائے جائیں۔ماہرین کے مطابق مستقبل کی تعلیم کا انحصار Balanced learningپر ہوگا یعنیAI کی سہولت انسانی ذہنی مشقت = مؤثر سیکھنا۔ سیکھنے کے بنیادی اصول آج بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے پہلے تھے بلکہ AI کے دور میں ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ChatGPTایک طاقتور تعلیمی ٹول ہے جو سیکھنے کے عمل کو تیز اور آسان بناتا ہے، لیکن اگر اس پر حد سے زیادہ انحصار کیا جائے تو یہ طلبہ کی یادداشت اور تجزیاتی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔لہٰذا اصل حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ AI کو سہولت کے طور پر استعمال کیا جائے نہ کہ مکمل متبادل کے طور پر۔یاد رہے کہ سیکھنے کا اصل مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ اسے سمجھنا، یاد رکھنا اور عملی زندگی میں استعمال کرنا ہے،اور یہ کام اب بھی انسانی ذہن ہی بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔
انٹرنیٹ کا معیار (RFC1) شائع ہوا7 اپریل 1969ء کو ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹ ایجنسی (ARPA) کے تحتRFC1 جاری کیا گیا جس کا مقصد ابتدائی کمپیوٹر نیٹ ورکس کے درمیان رابطے کے اصول وضع کرنا تھا۔RFC1 ایک غیر رسمی مگر انتہائی مؤثر دستاویز تھی جس نے مستقبل کے انٹرنیٹ کے لیے بنیاد فراہم کی۔ اس میں نیٹ ورک کے مختلف اجزاکے درمیان معلومات کے تبادلے کے طریقہ کار پر بحث کی گئی۔ اس وقت ARPANET کی تشکیل جاری تھی جو بعد میں انٹرنیٹ کی بنیاد بنا۔آج انٹرنیٹ جس شکل میں ہمارے سامنے ہے اس کی بنیاد انہی ابتدائی کوششوں پر رکھی گئی تھی۔ روانڈا میں نسل کشی افریقی ملک روانڈا میں نسل کشی کا آغاز 7 اپریل 1994ء کو ہوا جو 20ویں صدی کے بدترین انسانی المیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سانحے میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد محض 100 دنوں میں قتل کر دیے گئے۔ان میں زیادہ تر توتسی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔یہ نسل کشی اس وقت شروع ہوئی جب روانڈا کے صدر جووینال ہیبری مانا کا طیارہ 6 اپریل کو گر کر تباہ ہو گیااقوام متحدہ نے 2004ء میں 7 اپریل کو روانڈا میں ہونے والی نسل کشی کی یاد میں ایک عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اس دن کا مقصد عالمی برادری کو یہ یاد دلانا ہے کہ نسل کشی جیسے جرائم کو روکنے کیلئے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔فرانس میں میٹرک سسٹم کا نفاذ7 اپریل 1795 کو فرانس نے باضابطہ طور پر میٹرک نظام کو اپنایا جو آج دنیا بھر میں پیمائش کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نظام ہے۔ یہ فیصلہ فرانسیسی انقلاب کے دوران کیا گیا جب فرانس میں سائنسی اور سماجی اصلاحات کی ایک لہر جاری تھی۔ میٹرک نظام نے لمبائی، وزن اور حجم کے لیے ایک سادہ اور یکساں معیار فراہم کیا جیسے میٹر، کلوگرام اور لیٹر۔یہ نظام جلد ہی دیگر یورپی ممالک اور پھر پوری دنیا میں پھیل گیا۔ آج بھی بیشتر ممالک اسی نظام کو استعمال کرتے ہیں۔ ہنری فورڈ کا انتقالہنری فورڈ جو فورڈ موٹر کمپنی کے بانی تھے 7اپریل 1947ء کو انتقال کر گئے۔ وہ جدید صنعتی دور کے اہم ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے آٹوموبائل صنعت میں انقلاب برپا کیا۔ہنری فورڈ نے اسمبلی لائن کے تصور کو فروغ دیا جس کے ذریعے گاڑیوں کی تیاری تیز، سستی اور مؤثر ہو گئی۔ ان کے کاروباری ماڈل نے نہ صرف صنعتی پیداوار کو بدل دیا بلکہ مزدوروں کے حقوق اور اجرتوں کے حوالے سے بھی نئی مثالیں قائم کیں۔
فریج میں رکھی کچھ غذائیں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، ماہرین کا انتباہبچا ہوا کھانا فریج میں محفوظ کرنا ایک عام معمول ہے، مگر کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ یہ کھانا کتنے عرصے تک محفوظ رہتا ہے؟ ماہرین کے مطابق ہر غذا کی ایک مخصوص مدت ہوتی ہے، جس کے بعد اسے استعمال کرنا صحت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں ماہرین نے ان غذاؤں کی نشاندہی کی ہے جو بظاہر محفوظ لگتی ہیں لیکن درحقیقت وہ خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ انکشاف اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ خوراک کے معاملے میں معمولی سی لاپرواہی بھی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا احتیاط نہایت ضروری ہے۔ یونیورسٹی آف لیسٹر کی ماہر جراثیمیات ڈاکٹر پرائم روز فریسٹون (Dr Primrose Freestone)نے ایسے بچے ہوئے کھانوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں فریج میں رکھنا خطرناک ہے۔ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق ٹھنڈے پیزا کے ساتھ ساتھ فرائیڈ رائس کے بارے میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہ فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتے ہیں۔فوڈ پوائزننگ اس وقت ہوتی ہے جب ایسا کھانا کھا لیا جائے جو بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا، فنگس یا وائرس سے آلودہ ہو گیا ہو۔اگرچہ زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ فوڈ پوائزننگ خراب طریقے سے پکا ہوا کھانا یا غیر محفوظ کھانے کی تیاری کی وجہ سے ہو سکتی ہے، لیکن صحیح طریقے سے نہ رکھے گئے بچے ہوئے کھانے (Leftovers) بھی ایک اہم سبب ہیں۔اس لیے بچا ہوا کھانا محفوظ رکھنے میں احتیاط کرنا بہت ضروری ہے تاکہ آپ کی صحت کو نقصان نہ پہنچے۔بچا ہوا پیزااگرچہ تازہ پیزا بے ضرر لگتا ہے، لیکن یہ کئی طریقوں سے فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق وہ خشک جڑی بوٹیاں اور مصالحے جو لوگ عموماً پیزا پر چھڑکتے ہیں، جیسے باسل، کالی مرچ اور اوریگانو، مائیکروبیل وغیرہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔جس کی وجہ انہیں غیر مناسب طریقے سے ذخیرہ کرنا ہے۔ خوراک سے پیدا ہونے والے وہ جراثیم جو ان خشک جڑی بوٹیوں پر زندہ رہ سکتے ہیں، ان میں فوڈ پوائزننگ پیدا کرنے والے بیکٹیریا بھی شامل ہیں۔اگر یہ خشک جڑی بوٹیاں تازہ پیزا کی گرمی سے سٹیرلائز ہو جائیں بھی تو اگر پکانے کے بعد زیادہ دیر کمرے کے درجہ حرارت پر رہیں یا پیزا کے دیگر ٹاپنگز بھی اسی حالت میں رہیں، تو یہ ممکنہ طور پر نقصان دہ جراثیم کیلئے بہترین ماحول فراہم کر سکتی ہیں۔اس لئے بچا ہوا پیزا ڈلیوری کے دو گھنٹوں کے اندر فریج میں رکھنا ضروری ہے۔بچا ہوا چکنپکے ہوئے چکن کے بھی خراب ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، کیونکہ اس میں پانی اور غذائی اجزاء کی مقدار زیادہ اور تیزابیت کم ہوتی ہے، جو بیکٹیریا کی نشوؤنما کیلئے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق محفوظ رہنے کیلئے ضروری ہے کہ پکا ہوا چکن جتنا جلد ممکن ہو فریج میں رکھ دیں۔کوشش کریں کہ یہ چکن کمرے کے درجہ حرارت پر دو گھنٹے سے زیادہ نہ رہے۔یہ فریج میں تین دن تک محفوظ رہ سکتا ہے۔بچا ہوئے چاولبچے ہوئے چاول کھانے میں فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق چاولوں میں وہ بیکٹیریا پایا جاتا ہے جو نشاستہ کھانوں کو پسند کرتا ہے اور فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتا ہے ۔اگرچہ بیکٹیریا پکانے کی گرمی سے مر جاتے ہیں مگر ان کے تولیدی ذرات (spores) زندہ رہ سکتے ہیں۔اگر چاولوں کو کمرے کے درجہ حرارت پر دو گھنٹے سے زیادہ چھوڑ دیا جائے، تو یہ تولیدی ذرات تیزی سے بیکٹیریا میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔یہ چاولوں میں زہریلے مادے بھی خارج کر سکتے ہیں، جو شدید قے اور اسہال کا سبب بنتے ہیں۔ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق پکے ہوئے چاول صرف اسی صورت میں کھائے جا سکتے ہیں،جب انہیں پکانے کے فوراً بعد ٹھنڈا کیا جائے اور جتنا جلدی ممکن ہو فریج میں رکھ دیا جائے۔ بہتر یہی ہے کہ چاول 24 گھنٹوں کے اندر کھا لیے جائیں۔ ڈبہ بند کھانا بچے ہوئے ڈبہ بند کھانے کے معاملے میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ انہیں ڈھانپ کر فریج میں رکھنا ضروری ہے تاکہ ہوا میں موجود جراثیم ان پر اثر انداز نہ ہوں۔ یہ کتنے عرصے تک محفوظ رہیں گے، یہ کھانے کی نوعیت پر منحصر ہے۔زیادہ تیزابی کھانے پانچ سے سات دن تک محفوظ رکھے جا سکتے ہیں کیونکہ اس کی تیزابیت بیکٹیریا کی نشوؤنما کو روکتی ہے۔تاہم، کم تیزابی کھانے، جیسے گوشت، مچھلی، پھل، سبزیاں اور پاستا، صرف تین دن تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ڈاکٹر فریسٹون نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بچا ہوا کھانا ٹھنڈا کھایا جا سکتا ہے۔ بس یہ یقینی بنائیں کہ پکانے کے فوراً بعد اسے جتنا جلد ممکن ہو فریج میں رکھیں اور ایک یا دو دن کے اندر کھا لیں۔
اس سال یہ دن ''کھیل: پل تعمیر کرنا، رکاوٹیں توڑنا‘‘ کے موضوع سے منایا جا رہا ہےکھیل انسانی زندگی کا ایک اہم اور لازمی حصہ ہیں، جو نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، برداشت اور امن کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ہر سال 6 اپریل کو دنیا بھر میں ''کھیل برائے ترقی اور امن کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے، جس کا مقصد کھیلوں کو ایک مثبت سماجی تبدیلی کے مؤثر ذریعہ کے طور پر پیش کرنا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کھیل محض تفریح نہیں بلکہ ایک ایسی عالمی زبان ہیں جو رنگ، نسل، مذہب اور سرحدوں کی تفریق کو مٹا کر انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں اور ایک پرامن و متحد دنیا کی بنیاد رکھتی ہیں۔کھیلوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ زبان، رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کو ختم کر دیتے ہیں۔ میدانِ کھیل میں سب برابر ہوتے ہیں اور کامیابی صرف محنت، نظم و ضبط اور ٹیم ورک پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی اصول معاشرے میں بھی اپنائے جائیں تو ایک پرامن اور ترقی یافتہ دنیا کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ تعلیم کے میدان میں بھی کھیلوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ تعلیمی اداروں میں کھیلوں کو نصاب کا حصہ بنانا طلبا کی شخصیت سازی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کھیل بچوں میں اعتماد، قیادت، برداشت اور ٹیم ورک جیسے اوصاف پیدا کرتے ہیں۔ یہی اوصاف مستقبل میں انہیں ایک کامیاب شہری بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کھیل خواتین کے حقوق کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا کے کئی حصوں میں خواتین کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے، لیکن کھیل انہیں خود اعتمادی، شناخت اور مواقع فراہم کرتے ہیں۔ خواتین کھلاڑیوں کی کامیابیاں نہ صرف ان کیلئے بلکہ پوری قوم کیلئے فخر کا باعث بنتی ہیں اور صنفی مساوات کے پیغام کو تقویت دیتی ہیں۔مزید برآں، کھیل نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ جب نوجوان اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں تو وہ جرائم، منشیات اور انتہاپسندی سے بچ سکتے ہیں۔ اس طرح کھیل معاشرے میں امن و استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر کھیل سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ مختلف ممالک کے درمیان ہونے والے کھیلوں کے مقابلے نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ یہ باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کا بھی سبب بنتے ہیں۔ اولمپکس اور دیگر عالمی مقابلے اس کی بہترین مثال ہیں، جہاں مختلف قومیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کر امن اور دوستی کا پیغام دیتی ہیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے کھیلوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جنہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے کھیلوں کے فروغ کیلئے مؤثر اقدامات کریں، جیسے کھیلوں کے میدانوں کی فراہمی، تربیتی سہولیات اور مقابلوں کا انعقاد، تو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکتا ہے۔2026ء میں ''کھیل برائے ترقی اور امن‘‘ کے عالمی دن کا مرکزی موضوع ''کھیل: پل تعمیر کرنا، رکاوٹیں توڑنا‘‘ ہوگا، جو اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کھیل ایک بکھرتی ہوئی دنیا میں تعلق، شمولیت اور امن کو فروغ دینے کی منفرد صلاحیت رکھتے ہیں۔ کھیل ایک عالمی زبان کی حیثیت رکھتے ہیں جو ثقافتی، سماجی اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ یہ سماجی تبدیلی کیلئے ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ کھیل مختلف کمیونٹیز کو سرحدوں اور نسلوں کے پار جوڑتے ہیں، پسماندہ طبقات میں تنہائی کو کم کرتے ہیں، اور مکالمے، یکجہتی اور باہمی احترام کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ 2026ء کا یہ دن اس حقیقت کی توثیق کرے گا کہ کھیل لوگوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور شمولیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں، تاکہ کوئی بھی فرد پیچھے نہ رہ جائے۔کھیل برائے ترقی اور امن کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کھیل صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک طاقتور سماجی آلہ ہیں جو دنیا کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو محض رسمی طور پر نہ منائیں بلکہ اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر اپنائیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر ہم ایک پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ دنیا چاہتے ہیں تو ہمیں کھیلوں کو فروغ دینا ہوگا۔ کیونکہ کھیل ہی وہ زبان ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، نفرتوں کو ختم کرتی ہے اور انسانیت کو ایک لڑی میں پرو دیتی ہے۔
آج کا دور تیز رفتاری، مقابلہ بازی اور مسلسل مصروفیات کا دور ہے۔ انسان صبح سے شام تک کام، ذمہ داریوں اور مختلف فکروں میں الجھا رہتا ہے، جس کے باعث ذہنی دباؤ اور بے چینی عام ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں سکون کا حصول ایک بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مصروف زندگی میں سکون کیسے حاصل کیا جائے؟ کیا واقعی ہم اپنی بھاگ دوڑ کے درمیان ذہنی اطمینان اور قلبی راحت پا سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں میں ہے، بشرطیکہ ہم اپنی ترجیحات، طرزِ زندگی اور سوچ میں مثبت تبدیلی لائیں۔سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سکون باہر نہیں بلکہ ہمارے اندر موجود ہوتا ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ پیسہ، بڑی نوکری یا زیادہ سہولیات ہی سکون فراہم کرتی ہیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سکون ایک داخلی کیفیت ہے جو اطمینان، شکرگزاری اور توازن سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر انسان اپنی موجودہ زندگی پر مطمئن ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرے تو اسے اندرونی سکون حاصل ہو سکتا ہے۔مصروف زندگی میں سکون حاصل کرنے کا ایک مؤثر طریقہ وقت کی بہتر منصوبہ بندی ہے۔ جب انسان اپنے دن کا واضح شیڈول بناتا ہے اور کاموں کو ترجیح کے مطابق ترتیب دیتا ہے تو بے ترتیبی اور ذہنی دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ غیر ضروری مصروفیات سے اجتناب اور اہم کاموں پر توجہ مرکوز کرنا ذہنی سکون میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، آرام کیلئے بھی وقت نکالنا ضروری ہے تاکہ ذہن اور جسم کو تازگی مل سکے۔سکون کے حصول کیلئے جسمانی صحت کا خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا اور مناسب نیند نہ صرف جسم کو تندرست رکھتے ہیں بلکہ ذہنی سکون میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ جب انسان صحت مند ہوتا ہے تو اس کی سوچ مثبت ہوتی ہے اور وہ زندگی کے مسائل کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتا ہے۔روحانی پہلو بھی سکون کے حصول میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عبادات، ذکر و اذکار اور دعا انسان کے دل کو سکون عطا کرتے ہیں۔ جب انسان اپنے رب سے تعلق مضبوط کرتا ہے تو اسے ایک ایسی داخلی طاقت حاصل ہوتی ہے جو ہر مشکل میں اس کا سہارا بنتی ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی دلوں کے سکون کا راز اللہ کے ذکر میں بتایا گیا ہے، جو ایک ابدی حقیقت ہے۔مزید برآں، مثبت سوچ اپنانا بھی سکون کیلئے نہایت ضروری ہے۔ منفی خیالات انسان کو پریشانی اور اضطراب میں مبتلا رکھتے ہیں، جبکہ مثبت سوچ انسان کو امید اور حوصلہ دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مسائل کو مواقع کے طور پر دیکھیں اور ہر حال میں بہتری کی امید رکھیں۔سماجی تعلقات بھی انسان کی زندگی میں سکون کا باعث بنتے ہیں۔ اپنے خاندان، دوستوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ وقت گزارنا نہ صرف خوشی دیتا ہے بلکہ ذہنی دباؤ کو بھی کم کرتا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت، ہمدردی اور تعاون انسان کو تنہائی سے نکال کر سکون کی طرف لے جاتے ہیں۔ٹیکنالوجی کے اس دور میں ایک اور اہم مسئلہ مسلسل موبائل اور سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔ یہ چیزیں وقتی طور پر تو تفریح فراہم کرتی ہیں، مگر زیادہ استعمال ذہنی تھکن اور بے سکونی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کریں اور حقیقی زندگی کے لمحات سے لطف اندوز ہوں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مصروف زندگی میں سکون حاصل کرنا کوئی ناممکن کام نہیں، بلکہ یہ ایک شعوری کوشش کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں توازن قائم کریں، اپنی ترجیحات کو درست کریں اور مثبت رویہ اختیار کریں تو ہم نہ صرف سکون حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ایک خوشحال اور کامیاب زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔ سکون دراصل ایک طرزِ فکر کا نام ہے، اور جب یہ طرزِ فکر اپنایا جائے تو زندگی کی تمام مصروفیات کے باوجود دل مطمئن اور خوش رہتا ہے۔
بیماری کا ذکر چل نکلا تو اس قوی ہیکل خانساماں کا قصہ بھی سن لیجئے جس کو ہم سب آغا کہا کرتے تھے (آغا اس لیے کہا کرتے تھے کہ وہ سچ مچ آغا تھے)۔ ان کاخیال آتے ہی معدے میں مہتابیاں سی جل اٹھتی ہیں۔ تادم وداع ان کے کھانا پکانے، اور کھلانے کا انداز وہی رہا جو ملازمت سے پہلے ہینگ بیچنے کا ہوتا تھا۔ یعنی ڈرا دھمکا کر اس کی خوبیاں منوا لیتے تھے۔ بالعموم صبح ناشتے کے بعد سو کر اٹھتے تھے۔ کچھ دن ہم نے صبج تڑکے جگانے کی کوشش کی لیکن جب انھوں نے نیند کی آڑ میں ہاتھا پائی کرنے کی کوشش کی تو ہم نے بھی ان کی اصلاح کا خیال ترک کر دیا۔ اس سے قطع نظر، وہ کافی تابعدار تھے۔ تابعدار سے ہماری مراد یہ ہے کہ کبھی وہ پوچھتے کہ ''چائے لاؤں؟‘‘، اور ہم تکلفاً کہتے کہ ''جی چاہے تو لے آو ورنہ نہیں‘‘۔ توکبھی واقعی لے آتے اورکبھی نہیں بھی لاتے تھے۔ جس دن سے انھوں نے باورچی خانہ سنبھالا گھر میں حکیم ڈاکٹروں کی ریل پیل ہونے لگی۔ یوں بھی ان کا پکایا ہوا کھانا دیکھ کر سر (اپنا) پیٹنے کو جی چاہتا تھا۔ ''اپنا‘‘ اس لیے کہ حالانکہ ہم سب ہی ان کے کھانوں سے عاجز تھے، لیکن کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان کو کیوں کر پرامن طریق سے رخصت کیا جائے۔ ان کو نوکر رکھنا ایسا ہی ثابت ہوا جیسے کہ شیر ببر پر سوار ہو تو جائے لیکن اترنے کی ہمت نہ رکھتا ہو۔ایک دن ہم اسی ادھیڑ بن میں لیٹے ہوئے گرم پانی کی بوتل سے پیٹ سینک رہے تھے اور دوا پی پی کر ان کو کوس رہے تھے کہ سر جھکائے آئے اور خلاف معمول ہاتھ جوڑکر بولے ''خو! صاب! تم روز روز بیماراوتا اے۔ اس سے امارا قبیلہ میں بڑا رسوائی، خو، خانہ خراب اوتا اے‘‘، (صاحب! تم بار باربیمارہوتے ہو۔ اس سے ہمارے قبیلے میں ہماری رسوائی ہوتی ہے اور ہمارا خانہ خراب ہوتاہے۔) اس کے بعد انھوں نے کہاسنا معاف کرایا، اور بغیرتنخواہ لیے چل دیئے۔ایسی ہی ایک اوردعوت کا ذکرہے جس میں چند احباب اورافسران بالا دست مدعوتھے۔ نئے خانساماں نے جوقورمہ پکایا، اس میں شوربے کایہ عالم تھا کہ ناک پکڑکے غوطے لگائیں توشاید کوئی بوٹی ہاتھ آجائے۔ اکا دکا کہیں نظر آبھی جاتی تو کچھ اس طرح کہ،''صاف چھپتی بھی نہیں سامنے آتی بھی نہیں‘‘اوربساغنیمت تھا کیوں کہ مہمان کے منہ میں پہنچنے کے بعد، غالب کے الفاظ میں، یہ کیفیت تھی کہ،''کھینچتاہے جس قدراتنی ہی کھنچتی جائے ہے!‘‘دوران ضیافت احباب نے بکمال سنجیدگی مشورہ دیا کہ ''ریفریجریٹر خریدلو۔ روز روز کی جھک جھک سے نجات مل جائی گی۔ بس ایک دن لذیذ کھانا پکوالو۔ اورہفتے بھرٹھاٹ سے کھائو اورکھلائو۔‘‘قسطوں پرریفریجریٹرخریدنے کے بعد ہمیں واقعی بڑا فرق محسوس ہوا۔ اور وہ فرق یہ ہے کہ پہلے جو بدمزہ کھانا صرف ایک ہی وقت کھاتے تھے، اب اسے ہفتے بھرکھانا پڑتا ہے۔ہم نے اس عذاب مسلسل کی شکایت کی تو وہی احباب تلقین فرمانے لگے کہ،''جب خرچ کیاہے صبربھی کر، اس میں تو یہی کچھ ہوتاہے۔‘‘کل پھرمرزا سے اپنی گوناگوں مشکلات کا ذکرکیا تو کہنے لگے،''یہ الجھنیں آپ نے اپنے چٹورپن سے خواہ مخواہ پیدا کررکھی ہیں۔ ورنہ سادہ غذا اوراعلیٰ خیالات سے یہ مسئلہ کبھی کاخودبخود حل ہوگیا ہوتا۔ یہی آئین قدرت ہے اوریہی آزاد تہذیب کی اساس بھی! آپ نے مولوی اسماعیل میرٹھی کاوہ پاکیزہ شعرنہیں پڑھا؟ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کرتووہ خوف وذلت کے حلوے سے بہترعرض کیا، ''مجھے کسی کے آزاد رہنے پر، خواہ شاعرہی کیوں نہ ہو، کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن اس شعرپرمجھے عرصہ سے یہ اعتراض ہے کہ اس میں آزادی سے زیادہ خشک روٹی کی تعریف کی گئی ہے۔ ممکن ہے عمدہ غذا اعلیٰ تہذیب کوجنم نہ دے سکے، لیکن اعلی تہذیب کبھی خراب غذا برداشت نہیں کرسکتی‘‘فرمایا، ''برداشت کی ایک ہی رہی! خراب کھانا کھا کربدمزہ نہ ہونا، یہی شرافت کی دلیل ہے۔‘‘گزارش کی، ''مردانگی تویہ کہ آدمی عرصہ تک عمدہ غذا کھائے اورشرافت کے جامے سے باہرنہ ہو!‘‘مشتعل ہوگئے، ''بجا! لیکن یہ کہاں کی شرافت ہے کہ آدمی اٹھتے بیٹھتے کھانے کا ذکرکرتا رہے۔ برانہ مانئے گا۔ آپ کے بعض مضامین کسی بگڑے ہوئے شاہی رکابدارکی خاندانی بیاض معلوم ہوتے ہیں۔ جبھی توکم پڑھی لکھی عورتیں بڑے شوق سے پڑھتی ہیں۔‘‘ہم نے ٹوکا، ''آپ بھول رہے ہیں کہ فرانس میں کھانا کھانے اورپکانے کا شمارفنون لطیفہ میں ہوتاہے۔‘‘وہ بگڑگئے، ''مگرآپ نیتو اسے جنون لطیفہ کا درجہ دے رکھا ہے۔ اگرآپ واقعی اپنی بے قصورقوم کی اصلاح کے درپے ہیں توکوئی کام کی بات کیجئے اورترقی کی راہیں سجھائیے۔‘‘مزہ لینے کی خاطرچھیڑا، ''ایک دفعہ قوم کواچھا پہننے اورکھانے کا چسکا لگ گیا توترقی کی راہیں خودبخود سوجھ جائیں گی۔ گاندھی جی کاقول ہے کہ جس دیس میں لاکھوں آدمیوں کودو وقت کا کھانا نصیب نہ ہوتا ہو، وہاں بھگوان کی بھی ہمت نہیں ہوتی کہ ان داتا کے سوا کسی اور روپ میں سامنے آسکے۔ بھوکے کے لیے بھوجن ہی بھگوان کا اوتار ہے اور۔۔۔‘‘قطع کلامی کی معافی مانگے بغیربولے، ''مگروہ تو بکری کادودھ اورکھجورکھاتے تھے اورآپ فن غذا شناسی کو فلسفہ خدا شناسی سمجھ بیٹھے ہیں۔ خود آپ کے محبوب یونانی فلسفی جوبھرپورزندگی کے قائل تھے، دماغ سے محسوس کرتے اوردل سے سوچتے تھے۔ مگرآپ تومعدے سے سوچتے ہیں اوردیکھا جائے توآپ آج بھی وہی مشورہ دے رہے ہیں جوملکہ میری انطونیت نے دیاتھا۔ ایک درباری نے جب اس کے گوش گزارکیا کہ روٹی نہ ملنے کے سبب ہزاروں انسان پیرس کی گلیوں میں دم توڑرہے ہیں تواس نے حیرت سے پوچھا کہ یہ احمق کیک کیوں نہیں کھاتے؟‘‘
ایک چوہا کسی جنگل میں بھوک کی مصیبت سہتا تھا لیکن آزادی سے رہتا تھا۔ نہ کسی دشمن کا ڈر اور نہ ہی کسی چیز کا خطرہ۔ایک دن کسی قصبے سے چوہے کا ایک مہمان آیا اور جنگل میں دو روز گزارنے کے بعد اس چوہے سے بولا '' تمہاری زندگی قابل افسوس ہے۔ فاقوں مرتے ہو اور روکھی سوکھی کھاتے ہو۔ چلو تم میرے ساتھ میرے گھر، وہاں تمہیں کھانے کو مرغن غذائیں، گھی، دودھ، پستہ، بادام، گری اور اخروٹ وغیرہ کھلاؤں گا‘‘۔جنگل کے چوہے کے منہ میں پانی بھر آیا۔ بڑا خوش ہوا۔ اس کے ساتھ تیاری کرکے اس کے گھر قصبے میں آ گیا۔ ہر طرف عیش و عشرت کا سامان دیکھ کر خوشی سے پاگل ہو گیا۔ اچھی اچھی چیزوں پر ٹوٹ پڑا اور دل میں کہتا جاتا تھا کہ اب کبھی جنگل میں نہ جاؤں گا۔ رات دن یہیں رہوں گا اور مزے اڑاؤں گا۔ ابھی وہ مزے لوٹ ہی رہا تھا کہ ایک بچہ اندر آیا۔ اس نے چوہا دیکھا تو ایک پتھر اٹھا کر مارا۔ اگر جنگلی چوہا بھاگ کر بل میں نہ گھس جاتا تو اس کا کچومر نکل جاتا۔تھوڑی دیر کے انتظار کے بعد جنگلی چوہا گری بادام کے مزے کیلئے دوبارہ باہر نکل آیا۔ بڑی احتیاط سے گری بادام کی طرف سرکنا شروع کیا۔ ابھی اس نے گری پر دانت جمائے ہی تھے کہ دوبارہ دروازہ کھلا اور آنے والے نے پھر پتھر پھینکا۔چوہے کی قسمت اچھی تھی کہ نشانہ چوک جانے سے پھر بچ گیا اور بھاگ کر بل میں چھپ گیا۔ مارے ڈر کے اس کا برا حال ہو رہا تھا۔ اپنے دل میں کہنے لگا کہ لعنت ہے ایسی گری بادام کھانے پر جس میں جان جانے کا ڈر ہو۔ ایسا عیش بیکار ہے جس میں جینا دشوار ہے۔ جنگل میں تو مجھے کچھ خوف نہ تھا۔ روکھی سوکھی ہی سہی لیکن حرام موت مرنے کا کوئی ڈر نہ تھا۔ جو مزا آزادی میں ہے وہ کسی چیز میں نہیں ہے۔ یہ کہہ کر وہ چپکے سے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔آزادی سب سے بڑی نعمت ہے۔ غلامی میں سونے کے نوالے کس کام کے جہاں ہر وقت موت کا ڈر خوف ہو۔
غوری میزائل کا تجربہپاکستان نے غوری میزائل کا پہلا تجربہ کیا۔ غوری پہلا بیلسٹک میزائل ہے جو 1800 کلومیڑ تک وار ہیڈلے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ غوری ٹو بھی اسی پروگرام میں شامل ہے جس کی رینج 2ہزار کلومیٹر تک ہے۔اسے دنیا کی بہترین میزائل ٹیکنالوجیز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا تجربہ پہلی مرتبہ 6 اپریل 1998ء کو ٹلہ جوگیاں کے قریب ملوٹ ضلع جہلم سے کیا گیاتھا۔اولمپکس کا آغاز1896ء میں یونان کے شہر ایتھنز میں پہلے جدید اولمپک کھیلوں کی شاندار افتتاحی تقریب منعقد کی گئی۔ یہ تاریخی موقع اس لیے بھی اہم تھا کہ قدیم اولمپک کھیل تقریباً 1500 سال قبل رومی شہنشاہ کی جانب سے ممنوع قرار دے دیے گئے تھے۔ جدید اولمپکس کے انعقاد نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور بین الاقوامی کھیلوں کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ ان کھیلوں کا مقصد نہ صرف جسمانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا تھا بلکہ مختلف اقوام کے درمیان امن، دوستی اور بھائی چارے کو فروغ دینا بھی تھا، جو آج تک جاری ہے۔جرمنی کیخلاف اعلان جنگ 2 اپریل 1917ء کو صدر ووڈرو ولسن نے امریکی کانگریس کے خصوصی مشترکہ اجلاس سے جرمن سلطنت کے خلاف جنگ کرنے کی درخواست دی۔ کانگریس نے 6 اپریل کو جواب دیا اور اعلان جنگ کا کہا۔ خط کا متن یہ تھا ''جرمنی نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے خلاف بار بار جنگی کارروائیوں کا ارتکاب کیا ہے۔ لہٰذا سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی طرف سے کانگریس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور جرمن حکومت کے درمیان جنگ کی حالت ہے اور رسمی طور پر اس کا اعلان بھی کیا جائے۔قطب شمالی پر قدم6 اپریل 1909ء کو امریکی متلاشی رابرٹ پیئری اوران کے نائب میتھیئو ہنسن نے اپنے دیگر 4 ساتھیوں سمیت شمالی قطب پر پہلی مرتبہ قدم رکھا۔ کچھ واقعات کے متعلق لاپرواہی اور کچھ کے متعلق کم معلوما ت ہونے کی وجہ سے ماہرین قطب شمالی پر قدم رکھنے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کی تصدیق بھی نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس کے متعلق شواہد بہت کم ہیں اس لئے اس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔برصاکی فتح 6 اپریل 1326ء کو دولت عثمانیہ کے دوسرے حکمران اور عثمان غازی کے بڑے بیٹے اورہان غازی نے بازنطینیوں کے زیر قبضہ شہر برصا کو فتح کیا۔ اس سے قبل اس شہر کو ان کے والد عثمان غازی نے فتح کرنے کی کوشش کی تھی مگر بہت سی لڑائیوں اور جنگوں کے باوجود وہ برصا کو فتح کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے ۔اس فتح کو تاریخ دانوں نے دولت عثمانیہ کے عروج کی شروعات بھی لکھا ہے۔نیویارک: غلاموں کی بغاوت1712ء میں نیویارک کے غلاموں کی پہلی بغاوت کا آغاز ہوا۔ یہ بغاوت غلام بنائے گئے افریقی باشندوں کی طرف سے جبری مشقت کیخلاف ایک اہم احتجاج تھی۔ باغیوں نے آزادی کیلئے مسلح جدوجہد کی اور عمارتوں کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ تاہم مقامی حکام نے اس بغاوت کوکچل دیا۔ اس واقعے کے بعد غلاموں پر مزید سخت قوانین نافذ کیے گئے، جنہوں نے ان کی زندگی کو مزیدمشکل بنا دیا۔ یہ بغاوت تاریخ میں آزادی کی جدوجہد کی ایک اہم مثال کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔
غیر متوقع دھات کی دریافت ،سرخ سیارے پر زندگی کے اشارےمریخ، جو صدیوں سے انسان کی جستجو اور تجسس کا مرکز رہا ہے، ایک بار پھر سائنس دانوں کی توجہ کا محور بن گیا ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیقات میں مریخ کی چٹانوں میں ایک غیر متوقع دھات کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جس نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ دریافت نہ صرف اس سرخ سیارے کی ساخت کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ اس بات کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے کہ کسی زمانے میں وہاں زندگی کے آثار موجود ہو سکتے تھے۔سائنس دانوں کے مطابق اس غیر معمولی دھات کی موجودگی ایسے کیمیائی اور ماحولیاتی حالات کی طرف اشارہ کرتی ہے جو زندگی کیلئے سازگار ہو سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دریافت نے مریخ پر قدیم زندگی کے امکان سے متعلق جاری تحقیقات کو ایک نئی جہت عطا کر دی ہے، اور اب دنیا بھر کے ماہرین اس راز کو مزید گہرائی سے سمجھنے کیلئے کوشاں ہیں۔مریخ کے ایک ایسے خطے میں جہاں کبھی پانی موجود تھا، نکل (Nickel) کی وافر مقدار میں دریافت نے اس بات کے مزید شواہد فراہم کیے ہیں کہ سرخ سیارہ کبھی زندگی کیلئے سازگار حالات رکھتا تھا۔ محققین نے مریخ کے قدیمی راستے ''نیرتوا ویلس‘‘ (Neretva Vallis)، جہاں سے کبھی پانی بہہ کر جیزرو کریٹر (Jezero Crater) کے ڈیلٹا تک جاتا تھا،کی چٹانوں میں نکل کی وافر مقدار دریافت کی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اس دریافت کو جب وسیع تر ارضیاتی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اس علاقے کی کیمیائی تاریخ کے بارے میں اہم اشارے فراہم کرتی ہے اور مریخ پر ماضی میں زندگی کے امکانات کے معمہ کو سمجھنے میں ایک نیا پہلو سامنے لاتی ہے۔پرڈیو یونیورسٹی (Purdue University)کے سیاروی سائنس دان ہنری مینلسکی (Henry Manelski) نے سائنس الرٹ کو بتایا کہ اگرچہ مریخ پر پہلے بھی نکل کی موجودگی کا پتہ چل چکا ہے، لیکن یہ اب تک کی سب سے مضبوط دریافت ہے، جو لوہا نکل کے شہابیوں کے علاوہ مریخ کی سطح پر سامنے آئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر نکل زمین اور مریخ کی سطح پر ایک کم مقدار میں پایا جانے والا عنصر ہوتا ہے، کیونکہ اس کا زیادہ تر حصہ سیاروں کی تشکیل کے دوران ان کے مرکز (core) میں منتقل ہو جاتا ہے۔ سطح پر اس قدر زیادہ مقدار میں اس کی موجودگی اس بات کے منفرد اشارے دیتی ہے کہ یہ چٹانیں کیسے بنی تھیں اور بعد میں ان میں کس طرح تبدیلیاں آئیں۔مریخ پر نکل نایاب نہیں ہے، تاہم یہ عموماً سطح پر بکھرے ہوئے شہابیوں کے ٹکڑوں میں پایا جاتا ہے۔ 2024ء میں، جب ناسا کا ''پرسیویرنس روور‘‘ (Perseverance rover) خشک ہو چکی نیرتوا ویلس وادی میں سفر کر رہا تھا، تو اسے کچھ غیر معمولی چٹانیں ملیں۔ ان میں ایک خاص طور پر ہلکے رنگ کی نمایاں چٹان بھی شامل تھی، جسے سائنس دانوں نے ''برائٹ اینجل‘‘ (Bright Angel)کا نام دیا ہے۔ ''برائٹ اینجل‘‘ میں کچھ دلچسپ خصوصیات پائی گئیں جو زمین پر عموماً خرد حیاتیاتی سرگرمی (microbial activity) سے وابستہ ہوتی ہیں۔ ان میں آئرن سلفائیڈ معدنیات شامل ہیں جو پائرائٹ (pyrite) سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ ایک ایسا معدنی مادہ ہے جو عموماً جرثوموں سے بھرپور ماحول میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نامیاتی مرکبات (organic compounds) بھی دریافت ہوئے۔اپنی تحقیق کے دوران ''پرسیویرنس روور‘‘ نے نیرتوا ویلس کی مختلف چٹانوں کی ساخت اور ترکیب کے بارے میں ڈیٹا جمع کیا، جسے ہنری مینلسکی اور ان کے ساتھیوں نے تفصیل سے جانچا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ چٹانیں کیسے بنی تھیں۔ اسی تجزیے کے دوران نکل کی غیر معمولی طور پر مضبوط موجودگی کا انکشاف ہوا، جو سائنس دانوں کیلئے حیران کن تھا۔''رسیویرنس روور‘‘ کی جانب سے زیر مطالعہ 126 تلچھٹی چٹانوں اور آٹھ چٹانی سطحوں میں سے، محققین نے 32 ایسی چٹانیں دریافت کیں جن میں نکل کی وافر مقدارموجود تھی۔ تاہم اصل اہمیت صرف نکل کی موجودگی کی نہیں، بلکہ ان چٹانوں میں موجود دیگر عناصر اور خصوصیات کی بھی ہے، جو اس کہانی کو مزید واضح کرتی ہیں۔ہنری مینلسکی نے کہا کہ زمین پر نکل سے بھرپور آئرن سلفائیڈ قدیم تلچھٹی چٹانوں میں پایا جاتا ہے۔ آکسیجن سے بھرپور ماحول میں آئرن سلفائیڈ جلدی تحلیل ہو جاتا ہے، اس لیے زمین کی قدیم چٹانوں میں اس کی موجودگی اس بات کا ایک ثبوت سمجھی جاتی ہے کہ زمین کا ابتدائی ماحول کبھی آکسیجن سے بہت کم تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال زمین کے ماحول سے بالکل مختلف ہے جہاں نکل پایا جاتا ہے۔ آئرن سلفائیڈ میں نکل کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ چٹانیں غالباً ایسے ماحول میں بنی تھیں جہاں آکسیجن بہت کم تھی۔ ان معدنیات کی موجودگی ایک متحرک آبی ماحول کی طرف اشارہ کرتی ہے۔محققین کا خیال ہے کہ نکل ممکنہ طور پر کسی شہابیے کے ذریعے مریخ تک پہنچا، جہاں بعد میں پانی نے اسے مختلف جگہوں پر پھیلا دیا۔ زمین پر نکل ایک اہم عنصر ہے جو بہت سے جانداروں، خصوصاً خوردبینی جانداروں کیلئے ضروری ہوتا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق نکل کی جو مقدار دریافت ہوئی ہے، وہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ عنصر ممکنہ طور پر جانداروں کے استعمال کیلئے دستیاب ہو سکتا تھا (اگرچہ انہوں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہاں واقعی زندگی موجود تھی)۔''پرسیویرنس روور‘‘ کی جانب سے تجزیہ کی گئی چٹانوں میں نامیاتی مرکبات کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے۔ یہ وہ سالمات ہوتے ہیں جن میں کاربن شامل ہوتا ہے، اور زمین پر تمام زندگی کی بنیاد یہی عنصر ہے۔ اگرچہ کاربن غیر حیاتیاتی طریقوں سے بھی بن سکتا ہے، لیکن پانی کی طرح یہ بھی ایک ایسا عنصر ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔
دنیا میں قدرت کے بے شمار عجائبات موجود ہیں، مگر کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو اپنی وسعت، خوبصورتی اور پراسراریت کے باعث حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک عظیم قدرتی شاہکار گرینڈ کینین (Grand Canyon) ہے، جو امریکہ کی ریاست ایریزونا میں واقع ہے۔ یہ وادی نہ صرف اپنے سحر انگیز مناظر کے باعث مشہور ہے بلکہ زمین کی کروڑوں سال پرانی تاریخ کا جیتا جاگتا ثبوت بھی پیش کرتی ہے۔گرینڈ کینین دراصل ایک وسیع و عریض گھاٹی ہے جسے ''کولوراڈو ریور‘‘ (Colorado River)نے لاکھوں سال کے مسلسل بہاؤ کے ذریعے تراشا ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 446 کلومیٹر، چوڑائی 29 کلومیٹر تک اور گہرائی تقریباً 1.6 کلومیٹر تک ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قدرت نے کس قدر عظیم پیمانے پر اس شاہکار کو تخلیق کیا ہے۔ جب کوئی شخص اس کے کنارے پر کھڑا ہوتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ زمین کے کسی اور ہی جہان میں داخل ہو گیا ہو۔گرینڈ کینین کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی رنگ برنگی چٹانیں ہیں، جو سرخ، نارنجی، بھورے اور زرد رنگوں میں نظر آتی ہیں۔ یہ رنگ دراصل مختلف ادوار میں بننے والی چٹانی تہوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ماہرین ارضیات کے مطابق ان چٹانوں کی عمر کروڑوں سال پر محیط ہے، جو زمین کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یوں گرینڈ کینین نہ صرف ایک سیاحتی مقام ہے بلکہ ایک قدرتی عجائب گھر بھی ہے۔یہ مقام سیاحوں کیلئے بے شمار سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد یہاں آ کر قدرت کے اس حسین نظارے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سیاح یہاں پیدل سفر (ہائیکنگ)، کیمپنگ، راک کلائمبنگ اور دریائے کولوراڈو میں کشتی رانی جیسے دلچسپ مشاغل میں حصہ لیتے ہیں۔ خاص طور پر سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے کے مناظر دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے لوگ یہاں کا رخ کرتے ہیں، کیونکہ اس وقت چٹانوں کے رنگ بدلتے ہوئے ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔گرینڈ کینین کی اہمیت صرف سیاحت تک محدود نہیں بلکہ یہ ماحولیاتی لحاظ سے بھی نہایت اہم ہے۔ یہاں مختلف اقسام کے پودے اور جانور پائے جاتے ہیں، جن میں سے کئی نایاب ہیں۔ اس کے علاوہ یہ علاقہ ماہرین ماحولیات کیلئے تحقیق کا ایک اہم مرکز بھی ہے۔ یہاں کے ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھنے کیلئے امریکی حکومت نے اسے قومی پارک کا درجہ دے رکھا ہے، جسے ''گرینڈ کینین نیشنل پارک‘‘ کہا جاتا ہے۔تاریخی طور پر بھی اس مقام کی بڑی اہمیت ہے۔ ہزاروں سال پہلے مقامی قبائل یہاں آباد تھے، جو اس علاقے کو مقدس سمجھتے تھے۔ ان قبائل کی ثقافت اور روایات میں گرینڈ کینین کا خاص مقام ہے۔ آج بھی ان کے آثار اور ثقافتی نشانات یہاں موجود ہیں، جو ماضی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ گرینڈ کینین قدرت کا ایک حسین تحفہ ہے، مگر ماحولیاتی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں کے باعث اس کے حسن کو خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو اس قدرتی ورثے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاح اور حکومتیں مل کر اس کی حفاظت کو یقینی بنائیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس عظیم شاہکار سے لطف اندوز ہو سکیں۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ گرینڈ کینین صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ قدرت کی عظمت، زمین کی تاریخ اور انسان کیلئے غور و فکر کا ایک عظیم پیغام ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری زمین کتنی خوبصورت اور قیمتی ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
٭...1930ء میں ہندوستان کے علاقے روہتک میں پیدا ہوئے۔ ٭... ان کے والد عنایت حسین صابری بھی قوال تھے، جنہوں نے غلام فرید کو بچپن ہی سے اس فن کی تربیت دی۔٭...قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی آگیا۔٭... وہ اپنے بھائی مقبول صابری کے ساتھ مل کر قوالی گایا کرتے تھے، ان کی جوڑی صابری بردران کے نام سے مشہور ہوئی۔٭...ان کا پہلا البم 1958ء میں ریلیز ہوا، جس کی قوالی ''میرا کوئی نہیں تیرے سوا‘‘ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔٭...70ء اور 80ء کی دہائی ان کے عروج کا سنہری دور تھا، اسی زمانے میں انھوں نے ''بھر دو جھولی میری یا محمد‘‘ جیسی قوالی گا کر دنیا بھر میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔1975ء میں گائی قوالی ''تاجدار حرم‘‘ نے ان کی شہرت کو دوام بخشا ۔ ٭...غلام فرید صابری نہ صرف پاکستان کے مقبول ترین قوال تھے بلکہ دنیا بھر میں قوالی کے کروڑوں چاہنے والوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔٭... انہوں نے قوالی کے صوفیانہ رنگ کو جدید موسیقی کے ساتھ ہم آہنگ کیا ۔٭...انہوں اپنی پرجوش آواز کے ذریعے سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ن کی قوالیوں کو سن کر لوگ وجد میں آجاتے اور روحانی سرور محسوس کرتے۔٭...ان کی قوالیوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بے حد پذیرائی ملی۔٭...انہوں نے فلموں کیلئے بھی قوالیاں ریکارڈ کروائیں، جن فلموں میں ان کی قوالیاں شامل کی گئیں ان میں ''عشق حبیب، چاند سورج، الزام، بن بادل برسات، سچائی‘‘ شامل ہیں۔٭...5 اپریل 1994ء کو کراچی میں غلام فرید صابری کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اور وہ خالق حقیقی سے جاملے۔مشہور قوالیاں٭...تاجدارِ حرم٭...بھر دو جھولی میری یا محمد٭...مریضِ محبت اْنہی کا فسانہ٭...خواجہ کی دیوانی٭...میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا٭...بالے بالے نی سوہنیا٭...محبت کرنے والوہم محبت اس کو کہتے ہیں٭...آئے ہیں تیرے در پہ تو...اعزازاتصابری بردران نے اپنے کریئر میں بیشمار نیشنل اور انٹرنیشنل ایوارڈز اور اعزازات اپنے نام کئے جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔٭...1978ء میں صدر پاکستان نے غلام فرید صابری کے پورے گروپ کو ''تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ سے نوازا تھا۔٭...1981ء میں امریکی حکومت کی طرف سے صابری برادران (غلام فرید صابری اور مقبول صابری) کو ''سپرٹ آف ڈیٹرائٹ ایوارڈ‘‘ ملا تھا۔٭... 1977ء میں نظام الدین اولیاء کے مزار کی انتظامیہ نے انہیں ''بلبل پاک و ہند‘‘ کے اعزاز سے نوازا۔٭...1983ء میں انہیں فرانسیسی حکومت نے اپنے اعلیٰ ترین اعزاز ''چارلس ڈی گائولے ایوارڈ‘‘ دیا۔٭...آکسفورڈ یونیورسٹی نے صابری برادرز کو علامہ اقبالؒ کا کلام ''شکوہ جواب شکوہ‘‘ پڑھنے پر ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔
ویٹو پاور کا پہلا استعمال1792ء میں جارج واشنگٹن جو United States کے پہلے صدر تھے، نے اپنے آئینی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ایک بل کو ویٹو کیا۔ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ امریکہ میں صدر نے ویٹو پاور استعمال کی۔ اس اقدام نے صدارتی اختیارات کی اہمیت کو واضح کیا اور قانون سازی کے عمل میں توازن قائم کرنے کی بنیاد رکھی۔ ویٹو کا مقصد ایسے قوانین کو روکنا ہوتا ہے جو صدر کے نزدیک قومی مفاد کے خلاف ہوں۔ اس واقعے نے امریکی سیاسی نظام میں اختیارات کی تقسیم اور جمہوری اصولوں کو مزید مضبوط بنایا، جو آج بھی اسی طرح برقرار ہیں۔ ائیر بریک کی ایجادجارج ویسٹنگ ہاؤس جونیئر پنسلوانیا میں مقیم ایک امریکی تاجر اور انجینئر تھا۔ 1905ء میں آج کے دن اس نے ریلوے ایئر بریک بنائی اور برقی صنعت میں اپنا ایک الگ مقام بنایا۔اس نے 19 سال کی عمر میں اپنا پہلا پیٹنٹ اپنے نام رجسٹر کروایا۔ ویسٹنگ ہاؤس نے 1880ء کے اوائل میں الیکٹرک پاور کی تقسیم کے لیے متبادل کرنٹ کے استعمال کی صلاحیت کو دیکھا اور اپنے تمام وسائل کو اس کی ترقی اور مارکیٹنگ میں لگا دیا۔وہ جدیدصنعت کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔وینیرا پروگرام1991ء میں آج کے روز خلائی شٹل ''اٹلانٹس ‘‘ اپنے اہم خلائی مشن ''ایس ٹی ایس 37‘‘ پر روانہ ہوئی۔ اس مشن کا بنیادی مقصد ''Compton Gamma Ray Observatory‘‘ کو زمین کے مدار میں نصب کرنا تھا، جو کائنات میں خارج ہونے والی طاقتور گیما شعاعوں کا مشاہدہ کرنے کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ یہ رصدگاہ جدید سائنسی آلات سے لیس تھی، جس نے بلیک ہولز، سپرنووا دھماکوں اور نیوٹران ستاروں جیسے پیچیدہ فلکیاتی مظاہر کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔ اس مشن کی کامیابی نے خلائی تحقیق میں ایک نئی جہت پیدا کی ۔''اکاسی کائیکو ر ‘‘کا افتتاح5اپریل 1998 ء کو جاپان میں پل ''آکاشی کیکی ‘‘ کو باقاعدہ طور پر ٹریفک کیلئے کھولا گیا۔یہ دنیا کے طویل ترین معلق پلوں (سسپنشن برج) مین سے ایک ہے۔ یہ پل شہر کوبے کو جزیرہ آواجی سے ملاتا ہے اور شاندار انجینئرنگ کا عظیم نمونہ ہے۔ اس کی تعمیر میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا تاکہ زلزلوں اور تیز ہواؤں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس پل نے نہ صرف سفر کو آسان بنایا بلکہ جاپان کی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا، اور یہ دنیا بھر کے انجینئرز کیلئے ایک متاثر کن مثال بن گیا۔