ناسا کی نظر میں  حقیقت سے قریب ترین سائنس فکشن فلمیں

ناسا کی نظر میں حقیقت سے قریب ترین سائنس فکشن فلمیں

سائنس فکشن فلمیں عموماً تخیل، مہم جوئی اور حیرت انگیز مناظر کا حسین امتزاج ہوتی ہیں، مگر بہت کم ایسی فلمیں ہوتی ہیں جو تفریح کے ساتھ ساتھ سائنسی حقائق کی درست ترجمانی بھی کریں۔ ناسا نے فلموں کی ایک حیران کن فہرست شیئر کی ہے جنہیں وہ اب تک بننے والی سب سے زیادہ سائنسی طور پر درست فلموں میں شمار کرتا ہے۔ یہ فلمیں تقریباً ایک صدی پر محیط سینما کی تاریخ پر پھیلی ہوئی ہیں، جن میں خاموش دور کی کلاسک فلموں سے لے کر جدید بلاک بسٹر فلمیں شامل ہیں۔ ان فلموں کو اس لیے سراہا گیا ہے کہ یہ محض خیالی عناصر پر انحصار کرنے کے بجائے حقیقی سائنسی اصولوں کا احترام کرتی ہیں۔ ناسا اور اس سے وابستہ سائنس دانوں کے مطابق سائنسی درستگی کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل کی بالکل درست پیش گوئی کی جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ سائنس، سائنس دانوں اور ٹیکنالوجی کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا جائے۔ ''گیٹاکا‘‘ (Gattaca) اور ''جراسک پارک‘‘ جیسی فلموں کو جینیات، ڈی این اے اور پیچیدہ نظاموں کی حقیقت سے قریب تر عکاسی پر سراہا گیا۔ اسی طرح ''کانٹیکٹ‘‘ (Contact) اور ''دی ڈے دی ارتھ اسٹوڈ اسٹل‘‘ (The Day the Earth Stood Still) کو خلائی تحقیق، ریڈیو فلکیات اور ماورائے ارضی مخلوق سے رابطے کی حقیقت پسندانہ منظرکشی کے باعث فہرست میں شامل کیا گیا۔حتیٰ کہ ابتدائی دور کی سائنس فکشن فلمیں، جیسے 1927ء میں ریلیز ہونے والی ''میٹروپولس‘‘ (Metropolis) اور 1929ء کی ''وومن اِن دی مون‘‘ (Woman in the Moon) کو بھی راکٹ سائنس کے سماجی اور اخلاقی اثرات کو اجاگر کرنے پر سراہا گیا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ یہ فلمیں سائنس کو سنجیدگی سے لیتی ہیں اور ان میں جادوئی حل کے بجائے محتاط تجربات، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کے عمل کو دکھایا گیا ہے۔ ''گیٹاکا‘‘(1997ء)یہ کہانی ایک ایسے مستقبل میں ترتیب دی گئی ہے جہاں انسانوں کو ان کے ڈی این اے کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ معاشرہ جینیاتی بنیادوں پر تقسیم ہو چکا ہے، جہاں ویلیڈز (Valids) یعنی جینیاتی طور پر بہتر بنائے گئے افراد کو مراعات حاصل ہیں، جبکہ اِن ویلیڈز (In Valids) یعنی قدرتی طور پر پیدا ہونے والے لوگ کمتر اور معمولی ملازمتوں تک محدود کر دیے گئے ہیں۔ فلم تقدیر اور عزم کے درمیان کشمکش اور انسانی حوصلے کی حیاتیات پر برتری جیسے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔''کانٹیکٹ ‘‘(1997ء)ایک ریڈیو فلکیات دان، جس کا کردار جوڈی فوسٹر نے ادا کیا ہے، ایک خلائی سگنل دریافت کرتی ہے۔ جب سائنس دان اسے ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو فلم میں انسانیت اور ماورائے ارضی زندگی کے درمیان پہلے رابطے کا تصور پیش کیا جاتا ہے۔ ''کانٹیکٹ‘‘ کو اب تک بننے والی سب سے زیادہ سائنسی طور پر درست خلائی فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مشہور فلکیات دان کارل سیگن کے ناول پر مبنی ہے۔ ناسا نے فلم میں ریڈیو فلکیات کی حقیقت پسندانہ عکاسی، سائنسی شکوک و شبہات اور بڑے خلائی منصوبوں کے پیچھے موجود سیاسی اور مالی مشکلات اور ماورائے ارضی سگنلز کی تلاش کے سائنسی طریقہ کار کو غیر معمولی حد تک حقیقت کے قریب قرار دیا۔''میٹروپولس‘‘(1927ء)یہ جرمن اظہاریت پسند سائنس فکشن خاموش فلم ایک مستقبل کے شہر میں ترتیب دی گئی ہے، جو شاندار زندگی گزارنے والے اشرافیہ اور مظلوم مزدور طبقے میں منقسم ہے۔ اپنی قدامت کے باوجود ''میٹروپولس‘‘ (Metropolis) کو ٹیکنالوجی، خودکاری اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں دوراندیشانہ نظریے پر سراہا گیا ہے۔ ناسا نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ فلم نے انسانی محنت کے متبادل مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی کے سماجی اثرات سے متعلق اخلاقی مسائل کو درست انداز میں پیش کیا۔''دی ڈے دی ارتھ اسٹوڈ اسٹل‘‘(1951ء)یہ کلاسک سائنس فکشن فلم ہے جس میں ایک خلائی مہمان ''کلاٹو‘‘ واشنگٹن میں اترتا ہے، جس کے ساتھ ایک طاقتور روبوٹ ''گارٹ‘‘ بھی ہوتا ہے۔ وہ انسانیت کے سامنے سخت انتباہ پیش کرتا ہے کہ تشدد اور جوہری ہتھیار چھوڑ دو یا تباہی کا سامنا کرو۔ناسا نے اس فلم کی خلائی مخلوق کے ساتھ رابطے کے سنجیدہ انداز کو نمایاں کیا ہے، جس میں خلائی مخلوق کو درندوں کی طرح نہیں بلکہ ترقی یافتہ اور منطقی حیثیت رکھنے والے وجود کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔''وومن اِن دی مون‘‘ (1929ء)یہ ایک جرمن خاموش سائنس فکشن فلم ہے جو چاند پر ایک مشن کے گرد گھومتی ہے، جس کی بنیاد چاند کے سونے کی لالچ پر رکھی گئی ہے۔فلم میں خلائی سفر کے ابتدائی دورکی منظرکشی کی گئی ہے، جیسے کاؤنٹ ڈاؤن اور صفر کشش ثقل کے مناظر۔ دی تھنگ فرام اَنادر ورلڈ (1951)یہ ایک کلاسک سیاہ و سفید سائنس فکشن ہارر فلم ہے، جو سائنس دانوں اور فضائیہ کے اہلکاروں کی کہانی بیان کرتی ہے جو ایک دور دراز آرکٹک چوکی پر ایک خونخوار، پودے نما خلائی مخلوق سے لڑ رہے ہیں، جو برف میں جمی ہوئی دریافت کی گئی تھی۔ جب یہ مخلوق پگھلتی ہے تو گروپ کو اس خطرے کو سمجھنے اور روکنے کیلئے سائنسی منطق اور تجربات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔''جراسک پارک‘‘ (1993ء)یہ ایک انقلابی سائنس فکشن ایڈونچر فلم ہے، جسے اسٹیون اسپیلبرگ نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ فلم ایک ارب پتی کے تھیم پارک کے گرد گھومتی ہے، جہاں کلون شدہ ڈائنوسارز ایک دور دراز جزیرے پر رکھے گئے ہیں، لیکن ایک سکیورٹی ناکامی کے باعث یہ مخلوق فرار ہو جاتی ہے اور لوگوں کا شکار شروع کر دیتی ہے۔اگرچہ ڈائنو سارز کی کلوننگ خیالی ہے۔ ناسا کے سائنس دانوں نے جراسک پارک کو ڈی این اے، جینیات تھیوری کی درست وضاحت کیلئے سراہا ہے۔فلم درست طور پر دکھاتی ہے کہ کس طرح چھوٹے عوامل پیچیدہ نظاموں میں تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتے ہیں، جو ایک حقیقی سائنسی اصول ہے۔

جَنے :مٹی سے بنی تہذیب

جَنے :مٹی سے بنی تہذیب

افریقہ کے مغربی خطے میں واقع ملک مالی کا قدیم شہر جَنے (Djenné) تاریخ، تہذیب اور فنِ تعمیر کا ایک ایسا نادر نمونہ ہے جو صدیوں سے انسانی تخلیقی صلاحیت اور اجتماعی شعور کی گواہی دے رہا ہے۔ دریائے نائجر کے سیلابی میدان میں آباد یہ شہر بظاہر سادہ سا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی بنیادوں میں علم، تجارت، مذہب اور ثقافت کی ایسی داستانیں پوشیدہ ہیں جو اسے دنیا کے عظیم تاریخی شہروں کی صف میں لا کھڑا کرتی ہیں۔ جَنے کو خاص طور پر اس کی مٹی سے بنی شاندار عمارتوں اور عظیم مسجد کے باعث عالمی شہرت حاصل ہے۔جَنے کی تاریخ تقریباً دو ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ یہ شہر افریقہ کے قدیم تجارتی راستوں پر واقع تھا، جہاں سے سونا، نمک، اناج اور دیگر اشیا کا تبادلہ ہوتا تھا۔ شمالی افریقہ اور صحرائے اعظم کے پار آنے والے قافلے یہاں قیام کرتے اور یوں جَنے تجارت کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ اسی تجارتی سرگرمی نے اس شہر کو خوشحالی بخشی اور اسے افریقہ کی ترقی میں مرکزی کردار عطا کیا۔اسلام کی آمد نے جَنے کی شناخت کو ایک نیا رخ دیا۔ تیرہویں صدی میں اسلام یہاں مضبوطی سے قائم ہوا اور جَنے جلد ہی علم و دین کا مرکز بن گیا۔ اگرچہ تیمبکتو کو زیادہ شہرت ملی، مگر جَنے بھی قرآنی تعلیم، فقہ اور دینی علوم کے حوالے سے کم اہم نہ تھا۔ یہاں کے مدارس اور علماء پورے خطے میں جانے جاتے تھے اور دور دراز علاقوں سے طلبہ علم حاصل کرنے آتے تھے۔جَنے کی سب سے نمایاں اور عالمی شہرت یافتہ علامت عظیم مسجد جَنے (Great Mosque Of Djenné)ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی مٹی سے بنی عمارت سمجھی جاتی ہے۔ یہ مسجد پہلی بار تیرہویں صدی میں تعمیر کی گئی، تاہم موجودہ عمارت 1907ء میں روایتی طرزتعمیر کے مطابق دوبارہ تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ افریقی فن تعمیر کا ایک زندہ شاہکار ہے۔مسجد جَنے کی تعمیر میں مٹی، بھوسے اور لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے، جسے مقامی زبان میں بانکو (Banco) کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کے بلند مینار، لکڑی کے شہتیر اور متوازن ساخت دیکھنے والے کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ہر سال بارشوں کے بعد شہر کے تمام باشندے مل کر مسجد پر نئی مٹی چڑھاتے ہیں۔ یہ عمل صرف مرمت نہیں بلکہ ایک اجتماعی تہذیبی روایت ہے، جو اتحاد، تعاون اور ورثے سے وابستگی کی بہترین مثال ہے۔جَنے کا قدیم شہر بھی اپنی مثال آپ ہے۔ تنگ گلیاں، مٹی سے بنے مکانات، لکڑی کے دروازے اور کھڑکیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں کا طرز تعمیر نہ صرف خوبصورت بلکہ موسمی حالات کے عین مطابق ہے۔ گرمی میں یہ عمارتیں ٹھنڈی رہتی ہیں اور سردی میں حرارت کو محفوظ رکھتی ہیں۔ یہ قدرت اور انسان کے درمیان ہم آہنگی کا ایک عملی مظہر ہے۔ثقافتی اعتبار سے جَنے مغربی افریقہ کی روایات کا امین ہے۔ یہاں کے بازار، خاص طور پر پیر کے روز لگنے والا مشہور بازار، آج بھی تجارتی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ اس بازار میں آس پاس کے دیہات سے لوگ اناج، مویشی، کپڑا اور دستکاری کی اشیا فروخت کرنے آتے ہیں۔ یہ منظر صدیوں پرانی تجارتی روایت کو زندہ رکھتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر جَنے کی اہمیت اس وقت مزید اجاگر ہوئی جب یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ تاہم اس اعزاز کے ساتھ ساتھ تحفظ کے مسائل بھی سامنے آئے۔ موسمی تبدیلیاں، سیلاب، جدید تعمیرات اور سیاسی عدم استحکام اس شہر کیلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود مقامی آبادی اپنی روایت اور ورثے کو بچانے کیلئے مسلسل کوشاں ہے۔اخباری نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جَنے ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عظمت صرف پتھر اور فولاد میں نہیں بلکہ مٹی جیسے سادہ عنصر میں بھی پوشیدہ ہو سکتی ہے۔ یہ شہر اس تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ ترقی کا مطلب جدید مواد اور بلند عمارتیں ہیں۔ جَنے کی مٹی کی عمارتیں ثابت کرتی ہیں کہ پائیدار اور ماحول دوست طرزِ زندگی صدیوں پہلے بھی موجود تھا۔آج جَنے ایک خاموش مگر بامعنی پیغام رکھتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تہذیبیں اپنی جڑوں سے جڑی رہیں تو وقت کے طوفان بھی انہیں مٹا نہیں سکتے۔ علم، ایمان، تجارت اور اجتماعی شعور کا یہ امتزاج جَنے کو محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی علامت بنا دیتا ہے۔آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ جَنے، مالی افریقہ کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جو ماضی اور حال کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہ شہر آج بھی مٹی کی دیواروں کے ذریعے انسانیت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ سادگی، اجتماعیت اور روایت میں ہی اصل پائیدار عظمت پوشیدہ ہے۔

پنیر: غذائیت کا ایک مکمل خزانہ

پنیر: غذائیت کا ایک مکمل خزانہ

تحقیق اور تجربات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پنیر ایک مکمل اور متوازن غذا ہے جو نہ صرف پروٹین اور کیلشیم کا بہترین ذریعہ ہے بلکہ ہضم ہونے میں بھی آسان ترین غذا میں شمار ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پنیر کا اعتدال سے استعمال انسانی صحت کیلئے بے حد مفید ہے، جبکہ بے اعتدالی یا زیادہ پکا کر کھانے سے بدہضمی کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔ بچوں، خصوصاً دودھ پلانے والی ماں کے بچے، اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ ان کی نشوؤنما اور ہڈیوں و دانتوں کی مضبوطی کیلئے کیلشیم کی وافر مقدار ضروری ہے، جو پنیر میں موجود ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں پنیر کی اہمیت اور افادیت کو سب سے زیادہ تسلیم سوئٹزرلینڈ نے کیا ہے، جہاں ایک ''پنیر یونیورسٹی‘‘ قائم ہے، جہاں پنیر پر ڈپلومہ کورسز اور اور ڈگری بھی کروائی جاتی ہے۔ اس کے بعد فرانس، ہالینڈ، ڈنمارک اور اٹلی بھی پنیر کی تیاری میں ممتاز ہیں۔ اٹلی کو اس صنعت میں سب پر فوقیت حاصل ہے۔ تحقیق کرنے والوں کے تجربات نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ پنیر ہی ایک مکمل غذا ہے جو زودہضم بھی ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ اسے اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے ۔ اس سے بدہضمی کی شکایت صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب اسے بے اعتدالی سے کھایا جاتا ہے یا جلدی کھایا جائے۔ اسے تیار کرنے میں اگر زیادہ پکایا جائے تو یہ ربڑی کی طرح ہوجاتا ہے اور ہضم ہونے میں کافی وقت لیتا ہے جس سے بدہضمی کی شکایت ہوجاتی ہے ۔ اس صورت میں اس کی غذائی اہمیت کم ہوجاتی ہے کیونکہ یہ اپنی غذائیت کھودیتا ہے ۔ پنیر گوشت یا دیگر پروٹینز والی غذائوں کا ایک بہتر نعم البدل ہوسکتا ہے ۔ خصوصاً دودھ پلانے والی مائوں اور ان بچوں کیلئے تو بے حد فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ انہیں اپنی نشوونما کیلئے ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کی خاطر کیلشیم کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور پنیر میں کیلشیم وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔ پنیرکی تیاریپنیر کو بہتر طریقے سے حاصل کرنے کیلئے کئی طریقے اپنائے جاتے ہیں ۔ انہی میں ایک ولایتی طریقہ بھی ہے ۔ اس کے تحت کچے دودھ کو ایک برتن میں ڈال کر اس میں ایک دوائی ملائی جاتی ہے جسے ''رینیٹ‘‘ کہتے ہیں۔ یہ گولی، لیکوئیڈ اور سفوف تینوں شکلوں میں دستیاب ہے ۔ جب اسے کچے دودھ میں ملایا جاتا ہے تو دودھ فوراً جم جاتا ہے اور توڑالگ ہوجاتا ہے ۔ پھر اسے ایک صاف کپڑے میں باندھ کر کسی اونچی جگہ پر لٹکا دیا جاتا ہے ۔ جس کے سبب توڑے کا سارا پانی آہستہ آہستہ ٹپک کر نکل جاتا ہے ۔ اس کے بعد چھینے میں بقدر ضرورت نمک ملایا جاتا ہے ۔ پھر اسے مشین یا کسی دوسرے طریقے سے خوب دبایا جاتا ہے تاکہ اس کا باقی ماندہ پانی بھی نکل جائے۔اس کے بعد اسے کافی دیر رکھ کر سڑاتے ہیں جس سے دودھ کی چینی والا حصہ کھٹائی کی شکل میں منتقل ہو جاتا ہے اور کیسین کا جز بھی نئی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔یوں مکمل طور پر پنیر تیار ہونے میں خاصا وقت لگتا ہے ۔ اس طریقہ سے تیار کئے ہوئے پنیر میں پروٹین، چربی اور نمک4.14 فیصد سے لے کر 7 فیصد اور پانی 30 سے 62 فیصد ہوتا ہے ۔

تنقید نگاری سے توبہ

تنقید نگاری سے توبہ

مجھے کتابوں پر ریویو لکھنے میں ملکہ حاصل ہے۔ اور میں انہیں پڑھے بغیر ہی ریویو لکھ سکتا ہوں۔ یہ خدا کی دین ہے، جس طرح بعض لوگ شاعر یا پیدائشی مختصر افسانہ نویس ہوتے ہیں۔ غالباً میں ایک پیدائشی تبصرہ نگار ہوں۔ میرا ریویو کرنے کا طریقہ یہ ہے، ''خیالِ نو‘‘ کا ایڈیٹر جو میرا دوست ہے مجھے کتابیں بھیجتا ہے۔ میں ان کو الٹ کر کسی صفحہ کو کھول کر دو تین سطریں پڑھتا ہوں، مثلاًاس نے کہا ''چائے کی پیالی پیئو‘‘،بھورے خان نے کہا ''شکریہ میں ابھی لیمن پی کر آیا ہوں‘‘اور پھر کتاب کو بند کرکے اس پرتین چار صفحے کاریویو گھسیٹ دیتا ہوں۔ اب تک یہ طریقہ بہت کامیاب رہا تھااور مجھے ادب کا ہونہار ترین نوجوان نقاد تسلیم کیا جاچکا ہے۔ چند دنوں سے تنقید نگاری کی بدولت میں ایک عجیب مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ ریویو ئنگ اتنی پر خطر بھی ہوسکتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس مصیبت کی وجہ سے حالات اس قدر نازک صورت اختیار کرچکے ہیں کہ کتابیں ریویو کرنا تو رہا ایک طرف، میں نے گھر سے باہر نکلنا بھی ترک کردیا ہے اور اب کراچی چھوڑ کر کسی اور جگہ کوچ کرنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔مصیبت کا آغازیوں ہوا کہ ''خیالِ نو‘‘ کے ایڈیٹر نے مجھے ایک ناول ریویو کرنے کیلئے دیا۔ میں سمجھا کہ ناول اتنا اہم نہیں ہے،اس کا مصنف کوئی غیر معروف شخص تھا۔ میں نے درمیان سے ایک صفحہ کھولا اور پڑھنے لگا۔ ''میں پاگل ہوں، میں پاگل ہوں‘‘ عبد الشکور نے اپنے کپڑے پھاڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ اس کے دوست حکیم عبد العلی نے اس کو اس سے باز رکھنے کیلئے کشمکش کی۔میں نے کتاب کو ایک اور جگہ سے الٹا۔ یہاں اس قسم کے نادر جواہرات جڑے تھے، اگر عبد الشکور اپنے تحت الشعور کو کسی طرح اپنے لاشعور میں مدغم کرسکتا ہے تو اس کی نفسیاتی الجھنوں کا خاتمہ ہوجاتااور اس کو ملازمت مل جاتی۔ اس کے مکان کا پچھلے دو ماہ کا کرایہ خود بخود ادا ہوجاتا اور اس کے قرض خواہ اس کی خوش طبعی سے متاثر ہوکر اپنے پچھلے قرضے مانگنے کی بجائے اسے اور قرضہ دینے پر اصرار کرتے۔ مگر افسوس کہ عبد الشکور محض دس جماعتوں تک پڑھا تھا۔ افسوس اس نے ڈاکٹر سگمنڈ فرائڈ کی کتاب ''سائیکالوجی آف نیوراسس‘‘ نہیں پڑھی تھی۔ افسوس اس نے آندرے ژید نہیں پڑھا تھا۔ افسوس وہ بصد کوشش جمیز جائس کی اولیسس کو ایک صفحے سے آگے پڑھنے میں کامیاب نہ ہوا تھا، اب وہ اس طرح محسوس کر رہا تھا جیسے وہ پاگل ہو جائے گا۔یہ کافی تھا اور میں کتاب کو بند کرکے اس پر ریویو لکھنے بیٹھ گیا۔پندر منٹ میں، میں نے چھ صفحے کا ریویولکھ ڈالا ۔ میں نے لکھا کہ اس ناول میں مصنف محترم ذوالفقار خان نے ایک بے کار تعلیم یافتہ نوجوان کے جذبات کی فرائڈین نقطہ نظر سے تجزیہ نفسی کرنے کی کوشش کی ہے مگر وہ اس میں زیادہ کامیاب نظر نہیں آتے۔ وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کی ہوبہو عکاسی کرتے ہیں مگر ان کی رومانیت پرستی سب کیے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔ ابھی انہیں فعل نگارش کے متعلق بہت کچھ سیکھنا ہے اور نفسیات کی سب کتابوں کا مطالعہ کرنا ہے۔ ان کے ناول سے گمان ہوتا ہے کہ عبد الشکور نے (جو غالباً مصنف خود ہی ہے ) ابھی تک ''سائیکالوجی آف نیوراسس‘‘ نہیں پڑھی، آندرے ژید نہیں پڑھا۔ مطالعہ کے بغیر وہ ہمیں کیسے کوئی ٹھوس یا جامد تخلیق دے سکتے ہیں۔ محترم ذوالفقار خان چینی کلاسیکل مصنف چنگ پھنگ پھوں سے بے حد متاثر معلوم ہوتے ہیں ( یہ نام میں نے اسی وقت فرضی گھڑلیا تھا) اور انھوں نے اپنے ناول کے پلاٹ کے سلسلہ میں مسٹر چنگ پھنگ پھوں کے ناول ''چیکو! چیکو‘‘ سے کسی حد تک استفادہ کیا ہے۔ ایڈیٹر ''خیالِ نو‘‘ کہ یہ ریویو حوالہ کردینے کے بعد میں اس کے اور محترم ذوالفقار خان کے متعلق سب کچھ بھول گیا۔جب یہ ریویو ''خیالِ نو‘‘ میں چھپا تو اس سے تین چار روز بعد مجھے محترم ذوالفقار خان کا خط موصول ہوا۔ جس میں انھوں نے میرے حوصلہ افزا ریویو کا شکریہ ادا کیا تھا اور مجھے یقین دلایا تھا کہ انھوں نے چنگ پھنگ پھوں کی کوئی کتاب نہیں پڑھی۔ اور اگر ان کے ناول کی مسٹر چنگ پھنگ پھوں کے ناول سے کچھ مشابہت ہے تو اسے محض اتفاق پر محمول کیا جاسکتا ہے۔میرا خیال تھا معاملہ یہیں پر ختم ہوجائے گا۔ دوسرے دن میں ابھی بستر سے نکل کر شیو ہی کر رہا تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ منہ صابن کے جھاگ میں لتھڑا ہوا ہاتھ میں برش، اس حلیہ میں میں نے دروازے کو تھوڑا سا کھول کر محتاطِ انداز میں باہر سر نکالا۔''کیاآپ ہی شداد پشمی ہیں!‘‘ ایک کھپے دار مونچھوں والا خطرناک شکل کا انسان دروازے کے پاس کھڑا تھا۔''ہاں! مجھے یہی کہاجاتا ہے‘‘ میں نے کہا، ''آپ کی تعریف؟‘‘۔ ''میں ذوالفقار خان ہوں اور آپ کے حوصلہ افزاریویو کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں‘‘۔میں نے کہا ''اخاہ۔ ذوالفقار صاحب۔ آیئے آیئے اندر تشریف لائیے۔ وہ اندر آکر کرسی پر بیٹھ گیا اور میں ہاتھ میں برش پکڑے اس کے سامنے والے صوفے پر۔''ہاں وہ چینی کتاب ''چیکو!چیکو‘‘ آپ کے پاس ضرور ہو گی۔ آپ نے اپنے ریویو میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ وہ نہیں تو چنگ پھنگ پھوں کا کوئی دوسرا شاہکار‘‘،اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔''وہ کتاب ''چیکو! چیکو!‘‘ ہاں! مجھے یاد آیا میں کل ہی تو اسے پڑھ رہا تھا۔ ''اور پنگ پانگ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے‘‘ ذوالفقار خان نے پوچھا۔''اچھا لکھتا ہے‘‘ میں نے جواب دیا۔ اگرچہ میں نے اس کا نام کبھی نہیں سنا تھا۔''معاف کیجئے۔‘‘ مسٹر ذوالفقار خان نے یک لخت اْٹھتے ہوئے کہا: پنگ پانگ کے متعلق آپ کے ان ارشادات کو میں یہاں کے ہر ادیب تک پہنچانے کی کوشش کروں گا خاطر جمع رکھیئے اور ویسے جاتے جاتے یہ عرض کردوں کہ پنگ پانگ ایک کھیل کا نام ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

گدو بیراج کا افتتاحصدر پاکستان سکندر مرزا نے 1957ء میں آج کے روزدریائے سندھ پر گدو بیراج کی بنیاد رکھی۔ 1962ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے اس کا افتتاح کیا۔ اس کی تعمیر پر 474.8 ملین روپے لاگت آئی۔ گدو بیراج آبپاشی اور سیلاب سے بچائو کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ1355 میٹر لمبا ہے اور اس میں سے 1.2 کیوسک فٹ پانی گزر سکتا ہے۔ اس بیراج پر بنائی گئی سات میٹر چوڑی سڑک نے لا ہور سے کوئٹہ اور رحیم یار خان سے کشمور کا فاصلہ آدھا کر دیا ہے۔ ''آبی گزر گاہوں کا عالمی دن‘‘2فروری کو دنیا بھر میں ''آبی گزر گاہوں کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے ۔ اس دن کو منانے کی منظوری آب گاہوں کی اہمیت کے حوالے سے ایران میں منعقدہ ایک کانفرنس میں دی گئی تھی اور پہلی مرتبہ یہ دن1997ء میں منایا گیاتھا۔ آب گاہیں انسان ودیگر حیاتیاتی تنوع کو مختلف طرح سے فائدہ دیتی ہیں اور اسی نسبت سے یہ دن منا کر آب گاہوں کی اہمیت اجاگر کی جاتی ہے۔فٹ بال ٹیم کو ''قید‘‘ کی سزا2فروری 2000ء کو آئیوری کوسٹ کی قومی فٹ بال ٹیم افریقہ کپ کے پہلے مرحلے میں ہار گئی۔ جس کی پاداش میں ملکی آمر نے پوری ٹیم کوچند روز کیلئے فوجی کیمپ میں بند کر دیا۔ جس کا فائدہ یہ ہوا کہ ٹیم نے بعدازاں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہترین کھیل پیش کیا۔ ٹیم2006ء سے 2014ء تک فٹ بال کے میدانوں میں نمایاں رہی، فیفا عالمی کپ میں مسلسل تین سال ملک کی نمائندگی کی۔ واضح رہے کہ آئیوری کوسٹ 1992ء میں افریقہ کپ کی فاتح تھی۔ برٹرنڈ رسل کا انتقال 1970ء میں آج کے روز نوبیل انعام یافتہ برطانوی ریاضی دان ، محقق اور نقاد برٹرنڈ رسل کا انتقال ہوا۔وہ 18 مئی 1876ء کوپیدا ہوئے، ان کے والد سر جان رسل انگلستان کے وزیر اعظم بھی رہے۔ 1890ء میں جامعہ کیمبرج سے ریاضی کی اعلیٰ سند حاصل کی۔ پھر اسی جامعہ میں مدرّس کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس کے علاوہ نیشنل چین، کیلیفورنیا اور دیگر ممالک کے بہترین تعلیمی اداروں میں پڑھانے کا سلسلہ ساری عمر جاری رہا۔راجر فیڈرر کا اعزاز2004 میں سوئس ٹینس کے عظیم کھلاڑی راجر فیڈرر مردوں کی سنگلز رینکنگ میں نمبر 1 بن گئے۔ یہ رینکنگ حاصل کرنا ان کے کیریئر کا ایک اہم سنگِ میل تھا، جو ان کی مسلسل محنت، مہارت اور کھیل کے تئیں لگن کا مظہر تھا۔ فیڈرر نے عالمی ٹینس میں اپنے کھیل کی اعلیٰ معیار کو ثابت کیا اور اس مقام کو ریکارڈ 237 ہفتوں تک برقرار رکھا، جو کسی بھی کھلاڑی کیلئے ایک غیر معمولی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ اس عرصے کے دوران انہوں نے متعدد گرینڈ سلم ٹائٹلز جیتے اور ٹینس کے عالمی منظرنامے پر اپنی حکمرانی قائم رکھی۔

اہرامِ مصر کے نیچے کیا!

اہرامِ مصر کے نیچے کیا!

سائنس نے ایک اور راز سے پردہ اٹھا دیااہرامِ مصر صدیوں سے انسانی عقل و فہم کو حیران کرتے چلے آ رہے ہیں، مگر حالیہ سائنسی انکشاف نے اس حیرت کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق عظیم اہرام کے نیچے تقریباً چار ہزار فٹ کی گہرائی میں ایک خفیہ اور وسیع میگا اسٹرکچر کی موجودگی کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس نے ماہرین آثارِ قدیمہ اور سائنس دانوں کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ قدیم مصری تہذیب کی سائنسی اور تعمیراتی صلاحیتیں ہمارے اندازوں سے کہیں بڑھ کر تھیں۔ یہ دریافت نہ صرف اہرام کے مقصد اور ساخت سے متعلق پرانے نظریات کو چیلنج کر رہی ہے بلکہ انسانی تاریخ کے ایک نئے اور پراسرار باب کے دروازے بھی کھول رہی ہے۔جوئے روگن(Joe Rogan) کے پوڈ کاسٹ میں شریک مہمان نے ایسے متنازع اسکینز پر گفتگو کی جن میں عظیم اہرام مصر کے نیچے ایک وسیع و عریض زیر زمین ڈھانچے کی موجودگی ظاہر ہوتی ہے، جو قدیم تاریخ سے متعلق تصورات کو یکسر بدل سکتا ہے۔ یہ اسکین اطالوی سائنس دان فلیپو بیونڈی( Filippo Biondi ) اور خفری پروجیکٹ ٹیم نے سنتھیٹک اپرچر ریڈار (synthetic aperture radar)کی مدد سے کیے، جو ایک جدید سیٹلائٹ امیجنگ ٹیکنالوجی ہے اور زمین کے اندرونی خدو خال کو ریڈیو لہروں کے ذریعے نقشہ بند کرتی ہے۔اٹلی اور امریکہ کی مختلف سیٹلائٹس سے حاصل کردہ 200 سے زائد اسکینز میں یکساں نتائج سامنے آئے، جن سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً 65فٹ قطر کے بڑے ستون موجود ہیں جو پیچ دار شکل میں لپٹے ہوئے ہیں اور تقریباً 4ہزار فٹ گہرائی تک جاتے ہیں۔ بیونڈی کے مطابق یہ ستون تینوں اہرام اور اسفنکس (Sphinx) کے نیچے موجود 260 فٹ لمبے اور چوڑے مکعب کمروں پر ختم ہوتے ہیں، جنہیں انہوں نے ''انتہائی بڑے چیمبرز‘‘ قرار دیا۔اسکینز میں تقریباً 2ہزار فٹ گہرائی تک جانے والی شافٹس (عمودی راستے) بھی دکھائے گئے جو 10 فٹ اونچے افقی راستوں سے جڑتے ہیں۔ اس بنیاد پر بیونڈی کا خیال ہے کہ اہرام شاید مقبرے نہیں بلکہ قدیم زمانے کے توانائی گھر (پاور پلانٹس) یا ایسی کمپن پیدا کرنے والی مشینیں ہو سکتی ہیں جو روحانی یا جسم سے باہر تجربات کیلئے استعمال ہوتی ہوں۔جو ئے روگن نے بھی ان انکشافات کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ یہ مقبرے نہیں ہیں۔ اگر یہ ڈیٹا درست ہوا تو اہرام صرف ''برفانی پہاڑ کی نوک‘‘ ثابت ہوں گے۔بیونڈی نے ان زیر زمین ڈھانچوں کی عمر 18ہزار سے 20ہزار سال بتائی اور انہیں زیپ ٹیپی (Zep Tepi) یعنی اس اساطیری ''پہلے زمانے‘‘ سے جوڑا جب دیوتاؤں کی حکومت تھی اور تہذیب کا آغاز ہوا۔ انہوں نے قدیم سمندری پانی کے سیلاب سے پیدا ہونے والے نمکیاتی آثار کو بھی ایک عظیم طوفان کی علامت قرار دیا، جو اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں کہ اہرام کے نیچے ایک نہایت قدیم اور ترقی یافتہ تہذیب کے آثار موجود ہو سکتے ہیں۔یہ کمپلیکس تین اہراموں خوفو، خفرع اور منقرع پر مشتمل ہے، جو تقریباً 4,500 سال قبل شمالی مصر میں دریائے نیل کے مغربی کنارے ایک چٹانی سطح مرتفع پر تعمیر کیے گئے تھے۔ تاہم خفرع اہرام پر تحقیق کرنے والی ٹیم کا ماننا ہے کہ یہ ڈھانچے اس سے کہیں زیادہ قدیم ہیں اور ان کے نیچے ایک ایسا زیر زمین جہان چھپا ہوا ہے جسے کسی گمشدہ تہذیب نے تعمیر کیا تھا۔ اس تنازع کی بنیادی وجہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی ساکھ ہے۔ بیونڈی کے مطابق انہوں نے یہ ٹیکنالوجی اطالوی فوج کیلئے خفیہ منصوبوں کے دوران تیار کی اور بعدازاں اسے موصل ڈیم اور اٹلی کی گرانڈ ساسو لیبارٹری جیسے حساس مقامات پر بھی آزمایا گیا۔یہ ٹیکنالوجی پیٹنٹ شدہ، ہم مرتبہ جانچ شدہ اور نہایت درستگی کیلئے تیار کی گئی ہے، لیکن جب اس کا اطلاق ان اہرام پر کیا گیا تو شدید ردعمل سامنے آیا۔ معروف ماہر آثارقدیمہ ڈاکٹر زاہی حواس نے ان اسکینز کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب بکواس ہے۔بیونڈی نے اعتراف کیا کہ ابتدا میں وہ اور ان کے ساتھی آرمانڈو میئی خود بھی نتائج پر یقین نہیں کر پا رہے تھے اور انہوں نے تقریباً چھ ماہ تک ڈیٹا روک کر رکھا کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ یہ پروسیسنگ کے دوران پیدا ہونے والی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔بیونڈی کے مطابق: میری رائے یہ تھی کہ یہ حقیقی نہیں۔ میں سمجھ رہا تھا کہ شاید یہ شور یا ہماری پروسیسنگ کے طریقہ کار کی وجہ سے بننے والے آرٹی فیکٹس ہیں۔ بالآخر مختلف سیٹلائٹ نظاموں اور معیارات سے تصدیق ہوئی، جن میں اٹلی کے گرانڈ ساسو پارٹیکل کولائیڈر کی درست نقشہ بندی بھی شامل ہے، جو ایک پہاڑ کے اندر تقریباً 4,600 فٹ گہرائی میں واقع ہے۔ بیونڈی کا کہنا ہے کہ مختلف ڈیٹا سیٹس میں یکسانیت ہی وہ عنصر تھا جس نے انہیں یقین دلایا کہ یہ نتائج حقیقی ہیں۔ابتدا میں ٹیم نے صرف اٹلی کے سیٹلائٹس کے ڈیٹا پر انحصار کیا، لیکن بعد ازاں نتائج کی تصدیق کیلئے انہوں نے امریکی کمپنی ''کپیلا سپیس‘‘ (Capella Space) کے سیٹلائٹس اور دیگر ذرائع سے بھی تجزیہ کیا، تاکہ مختلف ذرائع سے یکساں شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ بیونڈی نے کہاکہ جب ہمیں امریکی سیٹلائٹس استعمال کرتے ہوئے بھی وہی نتائج ملے اور دیگر سیٹلائٹس سے بھی ہمیشہ ایک جیسے نتائج سامنے آئے، تو ہم نے انہیں منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا۔مجموعی طور پر 200 سے زائد اسکینز میں ایک جیسے ساختی نمونے سامنے آئے۔جوئے روگن نے نشاندہی کی کہ یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی دیگر مقامات پر درست ثابت ہو چکی ہے، جن میں اٹلی کی زیر زمین گران ساسو لیبارٹری کی نہایت درست نقشہ بندی بھی شامل ہے، جو ایک پہاڑ کے اندر تقریباً 4,600 فٹ گہرائی میں واقع ہے۔

یکم فروری:ورلڈ حجاب ڈے

یکم فروری:ورلڈ حجاب ڈے

شناخت،وقار اور آزادی کا عالمی پیغامہر سال یکم فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ حجاب ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک مذہبی علامت کے تعارف یا فروغ تک محدود نہیں بلکہ خواتین کے حقِ انتخاب، مذہبی آزادی، باوقار شناخت اور سماجی ہم آہنگی کا عالمی پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس دن کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ حجاب کسی جبر کا نام نہیں بلکہ لاکھوں خواتین کے لیے ایک شعوری انتخاب، ذاتی شناخت اور روحانی سکون کی علامت ہے۔ورلڈ حجاب ڈے کا آغاز 2013ء میں نیویارک کی ایک مسلمان خاتون نظمہ خان نے کیا۔ انہوں نے اپنے بچپن اور نوجوانی میں حجاب پہننے کی وجہ سے امتیازی سلوک اور تعصب کا سامنا کیا تھا۔ اسی تجربے نے انہیں اس دن کے اجراپر آمادہ کیا تاکہ غیر مسلم خواتین بھی ایک دن کے لیے حجاب پہن کر اس احساس کو سمجھ سکیں کہ حجاب پہننے والی خواتین کن سماجی رویوں کا سامنا کرتی ہیں۔ آج یہ دن 100 سے زائد ممالک میں منایا جاتا ہے اور لاکھوں خواتین اس مہم میں شریک ہوتی ہیں۔اسلامی تناظر میں حجاب کا تصور صرف لباس تک محدود نہیں۔ یہ حیا، وقار، خود داری اور اخلاقی حدود کی علامت ہے۔ قرآنِ کریم میں مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور باوقار طرزِ زندگی اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ حجاب دراصل عورت کی شخصیت کو اس کی ظاہری نمائش کے بجائے اس کے علم، کردار اور صلاحیتوں کے ذریعے پہچان دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ ایک ایسا پردہ ہے جو عورت کو معاشرے میں تحفظ، اعتماد اور خود اعتمادی فراہم کرتا ہے۔بدقسمتی سے جدید دنیا میں حجاب کو اکثر غلط فہمیوں اور منفی تصورات کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ بعض مغربی معاشروں میں اسے خواتین کی آزادی کے منافی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آزادی کا اصل مفہوم انتخاب کا حق ہے اور اگر ایک عورت اپنی مرضی سے حجاب اختیار کرتی ہے تو یہ اس کی آزادی کا اظہار ہے، نہ کہ اس کی نفی۔ ورلڈ حجاب ڈے انہی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مکالمے کے دروازے کھولنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔یہ دن مسلم خواتین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں حجاب پہننے والی خواتین کو نفرت انگیز رویوں، ملازمت میں رکاوٹوں اور تعلیمی اداروں میں امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ورلڈ حجاب ڈے ان مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی کو بھی کمتر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔پاکستان جیسے اسلامی معاشرے میں بھی حجاب پر بحث مختلف زاویوں سے کی جاتی ہے۔ کچھ خواتین حجاب کو اپنی شناخت کا لازمی حصہ سمجھتی ہیں جبکہ کچھ اسے ذاتی معاملہ قرار دیتی ہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر عورت کے فیصلے کا احترام کیا جائے۔ ورلڈ حجاب ڈے ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ برداشت، احترام اور مکالمہ ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔ تعلیمی اداروں، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر اس دن کی مناسبت سے سیمینارز، مباحثے اور آگاہی مہمات منعقد کی جاتی ہیں۔ غیر مسلم خواتین کا ایک دن کے لیے حجاب پہننا محض ایک علامتی عمل نہیں بلکہ یہ باہمی سمجھ بوجھ اور ہمدردی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب لوگ خود کسی تجربے سے گزرتے ہیں تو تعصب کی دیواریں خود بخود گرنے لگتی ہیں۔ ورلڈ حجاب ڈے ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا کی خوبصورتی تنوع میں ہے۔ لباس، عقیدہ یا ثقافت کی بنیاد پر کسی کو جانچنا ناانصافی ہے۔ حجاب پہننے یا نہ پہننے کا فیصلہ ہر عورت کا ذاتی حق ہے، اور اسی حق کے احترام میں ہی حقیقی آزادی مضمر ہے۔ یکم فروری کا دن ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کو سمجھیں، قبول کریں اور ایک زیادہ باوقار اور پرامن عالمی معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!ظہور احمد عہد سازاداکار(2009-1934)

آج تم یاد بے حساب آئے!ظہور احمد عہد سازاداکار(2009-1934)

٭...ظہور احمد 18 ستمبر 1934ء کو ناگ پور بھارت میں پیدا ہوئے ۔٭...تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں تھیٹر سے اپنے فنکارانہ کریئر کا آغاز کیا۔٭... ان کے مقبول سٹیج ڈراموں میں '' نظام سقّہ‘‘ اور'' تعلیم بالغاں‘‘ سرفہرست ہیں۔ ٭...ظہور احمد نے کچھ فلموں میں بھی کام کیا۔ ان میں سب سے مشہور فلم ''ارمان‘‘ تھی جس میں انہوں نے وحید مراد کے والد کا کردار ادا کیا۔٭...انہوں نے فلم '' ہیرا اور پتھر، ارمان، بادل اور بجلی، شہر اور سائے، مسافر، دل والے،ٹاورز آف سائلنس اور پیسہ بولتا ہے‘‘میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ٭...جب لاہور فلم نگری میں تبدیل ہوا تو ظہور احمد نے کراچی میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا اور وہ ٹی وی ڈراموں میں کام کرتے رہے۔ ٭... نظام سقہ اور نورالدین زنگی کے کردار اتنی عمدگی سے نبھائے کہ انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔٭... ڈرامہ سیریز ''آخری چٹان‘‘ اور ''چنگیز خان‘‘ میں بھی اعلیٰ درجے کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ٭...وہ مکمل طور پر ایک پروفیشنل اداکار تھے۔ ولن کے کردار بڑی عمدگی سے نبھائے۔٭...انہوں نے ملک کے استحکام اور مسئلہ کشمیر پر ڈرامے تحریر کیے۔ ان میں سے ایک ڈرامے ''لہو سے کر کے وضو‘‘ نے ہمایوں سعید کو سٹار بنا دیا۔٭... ظہور احمد کی خوبی یہ تھی کہ فلموں میں کام کرنے کے باوجود انہوں نے ٹی وی کو نہیں چھوڑا۔ ٭...یکم فروری 2009ء کو ان کااسلام آباد میں انتقال ہوااور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔ مقبول ٹی وی ڈرامےشریف آدمیمولا پہلواندیواریںخدا کی بستیپردیسچنگیز خاننور الدین زنگیآہنآخری چٹان

آج کا دن

آج کا دن

سائنٹیفک کیلکولیٹر کی ایجاد1972ء میں یکم فروری کو پہلا سائنٹیفک ہینڈ کیلکولیٹر متعارف کرایا گیا۔ اس سے پہلے بھی دنیا میں سائنٹیفک کیلکولیٹر موجود تھے لیکن ہاتھ یا جیب میں رکھنے والا کیلکولیٹر موجود نہیں تھا، جسے کہیں بھی اپنے ساتھ لے جایا جا سکے۔ ہینڈ کیلکولیٹر کے متعارف ہونے سے ریاضی کے شعبہ میں انقلاب دیکھنے میں آیا۔آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کی پہلی جلد کی اشاعت1884ء میں دنیا کی سب سے مستند لغات میں شمار ہونے والی آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کی پہلی جلد شائع ہوئی۔ یہ عظیم منصوبہ برسوں کی محنت، تحقیق اور ماہرین لسانیات کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ اس لغت کا مقصد انگریزی زبان کے ہر لفظ کی درست تعریف، تلفظ، تاریخ اور استعمال کی مثالیں فراہم کرنا تھا۔ اس اشاعت نے زبان و ادب کی دنیا میں ایک نیا معیار قائم کیا۔ ملکہ الزبتھ کا دورہ پاکستانیکم فروری1961ء کوملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 16 روزہ دورے پر اپنے شوہر کے ساتھ کراچی پہنچیں۔ملکہ برطانیہ کے دورہ پاکستان کے موقع پر ان کا بھر پور استقبال کیا گیا۔ملکہ الزبتھ نے سوات کا دورہ بھی کیا ، اُن دنوںسوات میں شدیدسردی تھی پھر بھی ہزاروں لوگ سڑک کے دونوں طرف ملکہ کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے کھڑے تھے۔ملکہ برطانیہ نے کھلی چھت والی گاڑی میں سوات کی سیر کی اور اس دوران ہاتھ ہلا کر عوام کے نعروں کا جواب دیتی رہیں۔ برطانیہ نے سوویت یونین کو تسلیم کیا 1924ء میں آج کے روز برطانیہ نے سوویت یونین کو باقائدہ تسلیم کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران سوویت یونین ، برطانیہ اور امریکہ کا اتحادی تھا، اس کے باوجود برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ سوویت یونین کے تعلقات دوستانہ نہیں رہ سکے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ چلتی رہی۔ جس میں برطانیہ نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ روس ، امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات آج بھی مثالی نہیں ہیں جبکہ سوویت یونین کو ختم کر دیا گیا ہے۔ آیت اللہ خمینی کی واپسییکم فروری 1979 ء کو ایران کے اسلامی انقلاب کے لیڈر آیت اللہ خمینی جلا وطنی ختم ہونے پر فرانس سے ایران واپس آئے۔ خمینی کو 1964ء میں اپنے نظریات کی بنا پر جلا وطنی کاٹنا پڑی تھی، اس دوران انہوں نے کچھ عرصہ ترکی میں بھی گزارا۔سولہ سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس لوٹے تو تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے سے بہشت زہرا کے قبرستان تک لاکھوں ایرانیوں نے ان کا استقبال کیا،جن کی تعداد 1کروڑ بتائی جاتی ہے۔ پہلوی خاندان کا تختہ الٹنے کے بعد جمہوریت کے قیام اور انقلاب ایران کے سلسلے میں خمینی نے ایرانی عوام کی نمائندگی کی۔

کیلاویا آتش فشاں قدرت کا قہر یا سائنسی معجزہ؟

کیلاویا آتش فشاں قدرت کا قہر یا سائنسی معجزہ؟

دنیا میں قدرتی مظاہر کی ایک طویل فہرست ہے جو انسان کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے، مگر آتش فشاں ان میں سب سے زیادہ خوفناک اور پُرہیبت سمجھے جاتے ہیں۔ زمین کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی آگ جب اچانک لاوے، راکھ اور دھوئیں کی صورت میں باہر آتی ہے تو یہ منظر نہ صرف ہولناک ہوتا ہے بلکہ انسان کو قدرت کی بے پناہ قوت کا بھی احساس دلاتا ہے۔ ہوائی جزیرے پر واقع کیلاویا آتش فشاں (Kilauea Volcano) دنیا کے سب سے زیادہ متحرک اور مشہور آتش فشائوں میں شمار ہوتا ہے۔ حال ہی میں کیلاویا ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک سو فٹ سے بھی زائد بلند لاوا اگلنے کے منظر نے دنیا کو ایک بار پھر حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ آتش فشاں بارہا لاوا اگل چکا ہے اور اپنے اردگرد کے علاقوں کو متاثر کر رہا ہے۔کیلاویا آتش فشاں امریکی ریاست ہوائی کے بگ آئی لینڈ پر واقع ہے اور یہ دنیا کے فعال ترین آتش فشاں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق کیلاویا گزشتہ کئی صدیوں سے وقفے وقفے سے پھٹتا آ رہا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر لاوا کا بہاؤ نسبتاً آہستہ رفتار سے ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود یہ اردگرد کی بستیوں، سڑکوں، جنگلات اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق کیلاویا کی باقاعدہ آتش فشانی سرگرمی کا آغاز انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا، جب 1823ء میں اس کے بڑے پیمانے پر پھٹنے کی اطلاع ملی۔ اس کے بعد سے یہ آتش فشاں متعدد بار متحرک ہو چکا ہے۔ 2018ء میں کیلاویا کے شدید دھماکوں اور لاوے کے بہاؤ نے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونے پر مجبور کر دیا تھا، جبکہ سیکڑوں عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں۔ یہ واقعہ کیلاویا کی تاریخ کا سب سے تباہ کن دور تصور کیا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلاویا دراصل ایک شیلڈ وولکینو (Shield Volcano) ہے، یعنی ایسا آتش فشاں جس کی شکل شیلڈ کی مانند ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں دھماکہ خیز آتش فشانی سرگرمی کے بجائے زیادہ تر لاوا آہستہ آہستہ بہتا ہوا دیکھا جاتا ہے۔ تاہم بعض اوقات دباؤ میں اضافے کے باعث دھماکے بھی ہو سکتے ہیں، جو خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔کیلاویا کی سرگرمیوں کا سائنسی مطالعہ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) اور دیگر تحقیقی ادارے مسلسل کر رہے ہیں۔ جدید آلات کے ذریعے زمین کے اندر ہونے والی حرکات، گیسوں کے اخراج اور درجہ حرارت میں تبدیلیوں کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کسی بڑے دھماکے کی پیشگی اطلاع دی جا سکے۔ ماہرین کے مطابق آتش فشاں کی پیش گوئی مکمل طور پر ممکن تو نہیں، تاہم مسلسل نگرانی سے خطرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔کیلاویا آتش فشاں سائنسی تحقیق کیلئے ایک اہم تجربہ گاہ بھی ہے۔ زمین کی ساخت، میگما کے بہاؤ اور آتش فشانی عمل کو سمجھنے میں کیلاویا نے سائنسدانوں کو قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے محققین ہوائی کا رخ کرتے ہیں تاکہ اس آتش فشاں کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کیلاویا آتش فشاں سیاحت کے لحاظ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔ حکام کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کئے جاتے ہیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق آتش فشانی سرگرمی جہاں ایک طرف تباہی لاتی ہے، وہیں دوسری طرف زمین کی زرخیزی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ لاوا کے ٹھنڈا ہونے کے بعد بننے والی مٹی معدنیات سے بھرپور ہوتی ہے، جو زراعت کیلئے انتہائی موزوں سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوائی کی زمین دنیا کی زرخیز ترین زمینوں میں شمار ہوتی ہے۔کیلاویا کی تازہ سرگرمیوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان جدید ٹیکنالوجی کے باوجود قدرت کے سامنے بے بس ہے۔ جب بھی یہ متحرک ہوتا ہے حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی ہے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے اور مسلسل آگاہی مہم چلائی جاتی ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کیلاویا آتش فشاں صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ زمین کے اندرونی نظام کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا سیارہ مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ کیلاویا کی ہر نئی سرگرمی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں چھپی طاقت آج بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے اور کسی بھی وقت اپنا اظہار کر سکتی ہے۔

صحت مند زندگی کا راز

صحت مند زندگی کا راز

6 عادات جو زندگی بدل دیںتیز رفتار اور مصروف طرزِ زندگی نے انسان کو سہولتوں کی بہتات تو عطا کر دی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ صحت جیسے قیمتی اثاثے کو شدید خطرات سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ آج ہر شخص مہنگی ادویات، سپلیمنٹس اور جدید علاج کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے، حالانکہ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اچھی صحت کیلئے ہمیشہ بھاری اخراجات ضروری نہیں ہوتے۔ حالیہ تحقیق اور ویلنَس ماہرین کی آراء کے مطابق روزمرہ زندگی کی چند سادہ اور مفت سرگرمیاں ایسی ہیں جو نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتی ہیں بلکہ ذہنی سکون بھی عطاکرتی ہیں۔ یہی چھ بنیادی عادات اگر معمول کا حصہ بنا لی جائیں تو انسان خود کو زیادہ توانا، چست اور صحت مند محسوس کر سکتا ہے۔جنوری کا مہینہ عموماً فیشن ایبل ڈائٹس، مہنگے سپا ٹرپس اور بری عادات ترک کرنے کے عزم کیلئے مشہور ہے۔ بہت سے لوگ اس مہینے کا آغاز اس نیت سے کرتے ہیں کہ وہ خود کو زیادہ صحت مند بنائیں گے۔ کوئی دوڑ لگانا شروع کرتا ہے، کوئی ویٹ لفٹنگ، تو کوئی نئے سال میں سونا باتھ کو معمول بنا لیتا ہے۔ لیکن جیسے ہی فروری قریب آتا ہے، ان میں سے بہت سی عادتیں ختم ہونے لگتی ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق چھ روزمرہ سرگرمیاں ایسی ہیں جو بغیر جیب پر بوجھ ڈالے آپ کی صحت کو تیزی سے بہتر بنا سکتی ہیں۔ وٹامن ڈی حاصل کریںصبح کے وقت نہانے، ناشتہ کرنے، کپڑے پہننے اور وقت پر کام کیلئے نکلنے کی جلدی میں ہم میں سے اکثر صحت مند صبح کے معمول کے ایک نہایت اہم حصے دھوپ کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر صبح صرف پانچ منٹ چہرے پر دھوپ پڑنے سے نیند بہتر ہو سکتی ہے اور ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں کمی آ سکتی ہے۔امریکی محققین نے دریافت کیا کہ وہ لوگ جو صبح 8 بجے سے دوپہر 12بجے کے درمیان کچھ وقت دھوپ میں گزارتے ہیں وہ رات کو جلدی سو جاتے ہیں اور ان کی نیند میں خلل بھی کم ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں جو دھوپ جیسی نعمت کا فائدہ نہیں اٹھاتے۔یہ صرف جسمانی گھڑی کیلئے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ وٹامن ڈی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے، جو ہمارا جسم دھوپ کی مدد سے بناتا ہے۔ وٹامن ڈی جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، جو مضبوط ہڈیوں کیلئے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے بچوں میں رکٹس اور بڑی عمر میں ہڈیاں کمزور یا بھربھری ہو سکتی ہیں۔کھانے کے بعد چہل قدمی کریںغذا کھانے کے بعد چلنا شاید وہ آخری چیز ہو جو آپ کرنا چاہیں لیکن ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد مختصر چہل قدمی بھی صحت پر بہت مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ ایک تحقیق میں ظاہر ہوا کہ کھانے کے بعد مختصر چہل قدمی کرنے سے بلڈ شوگر کم ہوتی ہے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں کمی آتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے 60 سے 90 منٹ بعد چلنا سب سے زیادہ مؤثر ہے کیونکہ اس وقت بلڈ شوگر کی سطح عموماً بلند ہوتی ہے۔لوگوں کو 15 منٹ کی چہل قدمی کا ہدف رکھنا چاہیے لیکن تحقیق کے مصنفین کے مطابق دو سے پانچ منٹ کی مختصر چہل قدمی بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح دن بھر مختصر حرکات بھی کیلوریز جلانے اور میٹابولزم بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔منہ سے سانس لینے سے گریز کریںمنہ کے ذریعے سانس لینا طویل عرصے سے نیند میں خلل ڈالنے کیلئے جانا جاتا ہے۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ عادت موٹاپا، ڈیمنشیا، گنٹھیا (arthritis) اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ منہ کے ذریعے سانس لینے سے منہ خشک ہو جاتا ہے جس سے نقصان دہ بیکٹیریا پھیلنے کیلئے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ گھاس کو پیروں سے چھوئیںماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر ننگے پیروں کھڑے ہونا جسمانی اور ذہنی طور پر بہتر محسوس ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ گھاس، ریت یا مٹی پر ننگے پیروں وقت گزارنا، جسے اکثر گراؤنڈنگ (grounding) کہا جاتا ہے، اعصابی نظام کو پرسکون کرنے، تناؤ کم کرنے اور نیند بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔کھانے کے دوران فون رکھ دیںکھانے کے دوران فون دیکھنے کی عادت وزن بڑھنے سے منسلک پائی گئی ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ مرد اور خواتین نے جب کھاتے وقت فون دیکھا، تو انہوں نے تقریباً 15 فیصد زیادہ کیلوریز کھائیں اور زیادہ چکنائی والا کھانا بھی تناول کیا۔ ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ جو لوگ دوپہر کے کھانے کے دوران فون استعمال کرتے تھے، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں شام تک زیادہ تھکے ہوئے محسوس کرتے تھے جو چہل قدمی کرتے یا کتاب پڑھتے تھے۔ ماہرین کے مطابق آہستہ کھائیں اور سکرینز کے بغیر کھانا کھائیں تو ''ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ‘‘ اعصابی نظام فعال ہوتا ہے، جس سے ہاضمہ بہتر اور بھوک منظم ہوتی ہے۔سونے کے وقت کو بحال کریںنیند صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ نیند کی کمی کئی جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل سے جڑی ہوئی ہے، جن میں بلند فشار خون، دل کی بیماریاں، ڈیمنشیا اور ڈپریشن شامل ہیں۔ بالغ افراد کو عموماً رات میں تقریباً سات سے نو گھنٹے سونے کا مشورہ دیا جاتا ہے حالانکہ یہ ہر شخص کیلئے مختلف ہو سکتا ہے۔ پھر بھی ہم میں سے بہت سے لوگ زیادہ تر وقت نیند کی کمی کے ساتھ گزارتے ہیں۔ تقریباً 70 فیصد بالغ افراد ہر رات مطلوبہ نیند حاصل نہیں کرتے۔ تقریباً 75 لاکھ افراد ہر رات پانچ گھنٹوں سے کم سوتے ہیں۔ خراب نیند کی عادات کو درست کرنے کیلئے ماہرین کا کہنا ہے کہ بیڈ ٹائم روٹین دوبارہ قائم کریں۔ معیاری نیند مدافعتی نظام، موڈ، اور مجموعی صحت بہتر بنانے کا سب سے تیز طریقہ ہے اور اس پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔

آج تم یاد بے حساب آئے!ماسٹر عبداللہ  لازوال دھنوں کے تخلیق کار (1994-1932ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!ماسٹر عبداللہ لازوال دھنوں کے تخلیق کار (1994-1932ء)

٭... مایہ ناز موسیقار ماسٹر عبداللہ 1931ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔٭... صف اوّل کے پاکستانی فلمساز و ہدایتکارانور کمال پاشا کی 1962ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''سورج مکھی‘‘سے کریئر کا آغاز کیا۔٭...1964ء میں فلم ''واہ بھئی واہ‘‘ کی موسیقی ترتیب دی، اس فلم کے نغمات کی مقبولیت نے انہیں بھی شہرت بخشی۔٭...ان کی موسیقی سے سجی فلم ''ملنگی‘‘ 1965ء میں ریلیز ہوئی جسے شاہکار پنجابی فلم کا درجہ حاصل ہے۔ اس فلم کی زبردست کامیابی میں ماسٹر عبداللہ کے شاندار سنگیت کا بڑا ہاتھ تھا۔ خاص طور پر میڈم نور جہاں کا گیا ہوا نغمہ ''ماہی وے سانوں بھل نہ جانویں‘‘ آج تک اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ٭... 1968ء میں اردو فلم ''کمانڈر‘‘ کی موسیقی ترتیب دی، جس میں رونا لیلیٰ کا گایا ہوا گیت ''جان من اتنا بتادو محبت، محبت ہے کیا‘‘ بہت مقبول ہوا۔٭...1968ء میں ہی فلم ''زندگی‘‘ کی موسیقی دی اور اس فلم کے گیتوں نے بہت مقبولیت حاصل کی۔ ٭...مشہور پنجابی فلم ''لاڈو‘‘ میں بھی ان کی موسیقی کو بہت پسند کیا گیا اور اس فلم کے گیت کلاسک کا درجہ رکھتے ہیں۔ ٭...فلم ''ضدی‘‘ کا خوبصورت میوزک دینے پر انہیں نگار ایوارڈ سے نوازاگیا۔٭... 1975ء میں اقبال کشمیری کی فلم ''شریف بدمعاش‘‘ کی موسیقی دی، اس فلم کے تمام نغمات سپرہٹ ہوئے۔٭...ان کی دیگر قابل ذکر فلموں میں ''دنیا پیسے دی، امام دین گوہاویہ، رنگی، وارث، ہرفن مولا، دل ناں دا، کش مکش، بدلہ اور نظام‘‘ شامل ہیں۔٭...اپنے30 سالہ فلمی کریئر میں 51 فلموں میں میوزک کمپوز کیا ، جن میں 10 اردو اور 41 پنجابی فلمیں شامل تھیں۔٭...ماسٹر عبداللہ نے زیادہ تر پنجابی فلموں کی موسیقی دی اور ان کے بے شمار گیتوں نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔٭... وہ صرف پنجابی گیتوں کے ہی نہیں بلکہ اردو نغمات کے بھی لاجواب موسیقار تھے۔٭... ماسٹر عبداللہ کا اسلوبِ موسیقی سب سے جدا تھا۔ ان کی یہی انفرادیت ان کی سب سے بڑی خوبی بن گئی۔٭...مشہور گلوکار اسدامانت علی خان کو موسیقار ماسٹر عبداللہ نے بریک دیا تھا، ان کی موسیقی میں اسدنے گیت ''تیرے روپ کا پجاری‘‘گایا تھا۔ اس گیت کی مقبولیت نے ان کا کریئر بنانے میں اہم کردارادا کیا۔٭...31 جنوری1994ء کو پاکستان کا یہ بے مثل سنگیت کار موت کی وادی میں اتر گیا ۔ماسٹر عبداللہ کے سپر ہٹ گیٹ٭:جانے والی چیز کا غم کیا کریں٭:ماہی وے سانوں بھل نہ جاویں٭:اج تیرے پنڈ نوں سلام کر چلیاں٭:کی بھروسہ دم دا اے دنیا فانی ٭:چل چلیے ، دنیا دی اوس نکرے ٭:پھکی پے گئی چن تاریاں دی لوہ ٭:جان من ، اتنا بتا دو ، محبت ہے کیا ٭:میرا محبوب ہے کہ جان بہار آیا ہے٭:یہ سفر تیرے میرے پیار کا٭:میرا دلبر ، میرا دلدار توں ویں٭:سجناں دی دید لئی ، مرنا قبول اے٭:تیرے پچھے پچھے آنا ، اسان پیار نبھانا٭:مل گئی ٹھنڈک نگاہوں کو ٭:تیرے پیار دا میں کیتا اقرار٭:میں کھولاں کہیڑی کتاب نوں٭:اکھیاں وے راتیں سون نہ دیندیاں٭:ڈنگ پیار دا سینے تے کھا کے٭:چوڑا میری بانہہ دا چھنک دا اے٭:جواب دے ، بے وفا زمانے٭:امیروں کے خدا ، تو ہی غریبوں کا خدا ہے٭:جب بھی تیرا نام لیا٭:شکر دوپہر پپلی دے تھلے ٭:اللہ دی سونہہ ، تو نئیں دسدا٭:آنکھوں میں اشک ، درد ہے دل میں ٭:کچھ آہیں ہیں ، کچھ آنسو ہیں( زندگی )

آج کا دن

آج کا دن

چیمپینزی کو خلا میں بھیجا گیا31جنوری 1961ء کو امریکی خلائی پروگرام ''پروجیکٹ مرکری‘‘ کے تحت چمپینزی ہام (Ham) کو خلا میں بھیجا گیا۔ اس تجرباتی پرواز کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا کوئی جاندار خلا کے ماحول میں سانس لے سکتا ہے، حرکت کر سکتا ہے اور دی گئی ہدایات پر عمل کر سکتا ہے یا نہیں۔ اس کامیاب مشن نے بعد میں انسانی خلانوردی کی راہ ہموار کی۔زہریلی گیس کا استعمالپہلی عالمی جنگ کے دوران 1915ء میں آج کے روز جرمنی نے روس کیخلاف زہریلی گیس کا استعمال کیا۔ 1914ء میں شروع ہونے والی یہ عالمی جنگ 11 نومبر 1918ء تک جاری رہی، جس میں پہلی بار دنیا نے کیمیائی اور زہریلی گیس کا استعمال دیکھا۔ یہ انسانی تاریخ کی تباہ کن جنگ تھی جس میں تقریباً 90 لاکھ افرادمیدان جنگ میں ہلاک ہوئے ۔ ہالینڈ میں خطرناک سیلاب 1953ء میں آج کے روز ہالینڈ میں خطرناک سیلاب آیا۔اس نے نیدرلینڈز، شمال مغربی بیلجیم، انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کو متاثر کیا۔ شدید آندھی نے بحیرہ شمالی میں طوفانی لہر پیدا کی۔ جس کی وجہ سے سطح سمندر سے 5.6 میٹر (18 فٹ 4 انچ) بلند سیلاب آیا۔ اس سیلاب میں 1800افراد ہلاک ہوئے۔بعدازاں اس طرح کے غیر معمولی واقعات سے نمٹنے کیلئے نیدرلینڈز اور برطانیہ نے ساحلی دفاع کو مضبوط بنانے کے حوالے سے مختلف اقدامات کئے۔ نیدرلینڈ نے ڈیلٹا ورکس تیار کیا، جو ڈیموں اور طوفان کی روک تھام کا ایک وسیع نظام ہے۔ برطانیہ نے بھی رکاوٹیں تعمیر کیں۔

انٹرنیشنل ڈیٹا پروٹیکشن ڈے

انٹرنیشنل ڈیٹا پروٹیکشن ڈے

ڈیجیٹل دور میں ہماری نجی زندگی کا تحفظہر سال 28 جنوری کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل ڈیٹا پرائیویسی ڈے یا ڈیٹا پروٹیکشن ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام، اداروں اور حکومتوں میں اس بات کا شعور اجاگر کرنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ذاتی معلومات (Personal Data) کس قدر قیمتی ہیں اور ان کے تحفظ کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔ آج جب ہماری زندگی کا بڑا حصہ انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور آن لائن سروسز سے جْڑا ہوا ہے، تو ڈیٹا پرائیویسی ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، قانونی اور اخلاقی سوال بن چکا ہے۔ڈیٹا پروٹیکشن کیا ہے؟ڈیٹا پروٹیکشن سے مراد کسی فرد کی ذاتی معلومات جیسے نام، شناختی نمبر، فون نمبر، ای میل، بینک تفصیلات، طبی ریکارڈ، لوکیشن ڈیٹا اور آن لائن سرگرمیوں کا تحفظ ہے، تاکہ یہ معلومات بغیر اجازت استعمال، فروخت یا غلط ہاتھوں میں نہ جائیں۔ ڈیجیٹل دور میں ہر کلک، ہر سرچ اور ہر ایپ استعمال کرنے سے ہمارا ڈیٹا کسی نہ کسی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جو اگر غیر محفوظ ہو تو سنگین مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔انٹرنیشنل ڈیٹا پروٹیکشن ڈے کی تاریخڈیٹا پروٹیکشن ڈے کی بنیاد یورپ میں رکھی گئی۔ 28 جنوری 1981ء کو کونسل آف یورپ نے پہلا بین الاقوامی معاہدہ (Convention 108) منظور کیا جو ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق تھا۔ اسی یاد میں 2006ء سے ہر سال یہ دن منایا جا رہا ہے۔ بعد ازاں یورپ کے ساتھ ساتھ امریکہ، ایشیا اور دیگر خطوں میں بھی اس دن کو اہمیت دی جانے لگی۔ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتے خطراتآج کے دور میں ڈیٹا ایک نئی کرنسی بن چکا ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں صارفین کے ڈیٹا کی بنیاد پر اشتہارات، کاروباری حکمت عملیاں اور حتیٰ کہ سیاسی مہمات بھی چلاتی ہیں۔ ڈیٹا لیکس، ہیکنگ، شناخت کی چوری (Identity Theft)، آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک چھوٹی سی لاپرواہی جیسے کمزور پاس ورڈ یا غیر محفوظ وائی فائی کسی فرد کی مالی اور سماجی زندگی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔سوشل میڈیا اور پرائیویسیفیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگ روزمرہ زندگی کی تفصیلات شیئر کرتے ہیں۔ اکثر صارفین یہ نہیں جانتے کہ ان کی تصاویر، لوکیشن اور ذاتی خیالات کیسے ڈیٹا کی صورت میں محفوظ اور استعمال کیے جاتے ہیں۔ ڈیٹا پرائیویسی ڈے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کیا شیئر کر رہے ہیں، کس کے ساتھ کر رہے ہیں اور اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔قوانین اور ضابطےدنیا کے کئی ممالک نے ڈیٹا پروٹیکشن کے لیے سخت قوانین بنائے ہیں۔ یورپ کا GDPR (General Data Protection Regulation) اس کی نمایاں مثال ہے جس کے تحت صارفین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں کہ ان کا ڈیٹا کہاں اور کیسے استعمال ہو رہا ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں بھی مختلف قوانین نافذ ہیں۔ہمارے ملک میں اگرچہ ڈیجیٹل سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں لیکن ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قانون سازی ابھی ارتقائی مراحل میں ہے۔ پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل پر بحث ضرور ہو رہی ہے، مگر اس پر مؤثر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔ڈیٹا پرائیویسی صرف فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ اداروں اور حکومتوں کی بھی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ سرکاری محکمے، بینک، ٹیلی کام کمپنیاں، ہسپتال اور تعلیمی ادارے عوام کا حساس ڈیٹا رکھتے ہیں۔ اگر یہ ادارے ڈیٹا سکیورٹی کو سنجیدگی سے نہ لیں تو بڑے پیمانے پر نقصان ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا پرائیویسی ڈے اسی اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔عام صارف کیا کر سکتا ہے؟ڈیٹا کے تحفظ کے لیے چند بنیادی اقدامات ہر فرد اختیار کر سکتا ہے جیسا کہ مضبوط اور منفرد پاس ورڈز کا استعمال،دہری تصدیق (Two-factor authentication)،غیر ضروری ایپس کو اجازت نہ دینا،پبلک وائی فائی پر حساس معلومات شیئر نہ کرنا،سوشل میڈیا پر پرائیویسی سیٹنگز کو باقاعدگی سے چیک کرنا۔یہ اقدامات بڑے نقصانات سے بچا سکتے ہیں۔ڈیٹا پرائیویسی اور انسانی حقوقڈیٹا پرائیویسی کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ نجی زندگی کا احترام، اظہارِ رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی ڈیٹا کے درست استعمال سے جُڑے ہیں۔ اگر ڈیٹا کا غلط استعمال ہو تو نہ صرف فرد بلکہ جمہوری نظام اور معاشرتی توازن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔انٹرنیشنل ڈیٹا پرائیویسی ڈے محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل سہولتوں کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور فرد، ادارہ اور ریاست ڈیٹا کے تحفظ کو سنجیدگی سے لیں۔ شعور، قانون سازی اور ذمہ دارانہ رویہ ہی وہ راستہ ہے جس سے ہم ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ اپنی نجی زندگی کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ڈیٹا پرائیویسی کا تحفظ دراصل ہماری شناخت، آزادی اور مستقبل کا تحفظ ہے۔

آگ کیا ہے؟عام سی شے، حیران کن سائنسی عمل

آگ کیا ہے؟عام سی شے، حیران کن سائنسی عمل

آگ کو انسان صدیوں سے جانتا اور استعمال کرتا آ رہا ہے۔ کھانا پکانے سے لے کر صنعت، جنگ اور روزمرہ زندگی میں، آگ انسانی تہذیب کا بنیادی حصہ رہی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جس آگ کو ہم ایک ''چیز‘‘ یا ''شے‘‘ سمجھتے ہیں، سائنسی اعتبار سے وہ کسی ٹھوس، مائع یا گیس کی صورت میں موجود ہی نہیں۔ دراصل آگ کوئی مادہ نہیں بلکہ ایک کیمیائی عمل ہے اور یہی حقیقت اسے عام فہم تصورات سے کہیں زیادہ عجیب بنا دیتی ہے۔عام طور پر ہم آگ کو شعلوں، روشنی اور حرارت کی شکل میں دیکھتے ہیں اس لیے یہ گمان ہوتا ہے کہ آگ بھی ہوا یا گیس کی طرح کوئی مادہ ہے مگر سائنس کہتی ہے کہ آگ نہ تو مادہ ہے اور نہ ہی اسے کسی برتن میں بند کیا جا سکتا ہے۔ آگ دراصل جلنے کا عمل ہے جسے سائنسی زبان میں Combustion کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کیمیائی ردعمل ہے جس میں کوئی ایندھن آکسیجن کے ساتھ تیزی سے مل کر حرارت اور روشنی پیدا کرتا ہے۔فائر ٹرائینگل؟سائنسدان آگ کے بارے میں سمجھانے کے لیے ایک سادہ مگر اہم تصور پیش کرتے ہیں جسے فائر ٹرائینگل کہا جاتا ہے۔ اس کے تین بنیادی عناصر ہیں: ایندھن، یعنی وہ شے جو جل سکتی ہو، جیسے لکڑی، کوئلہ، تیل یا گیس۔ آکسیجن ،ہوا میں موجود آکسیجن جلنے کے عمل کے لیے لازمی ہے، اور حرارت یعنی ابتدائی توانائی جو جلنے کے عمل کو شروع کرتی ہے جیسے چنگاری یا شعلہ۔ اگر ان تین میں سے ایک بھی عنصر ختم کر دیا جائے تو آگ بجھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگ بجھانے کے لیے کبھی پانی، کبھی ریت اور کبھی فوم استعمال کیا جاتا ہے تاکہ آکسیجن یا حرارت کا سلسلہ ٹوٹ جائے۔شعلے اصل میں کیا ہوتے ہیں؟ہم جو آگ کے شعلے دیکھتے ہیں وہ دراصل خود آگ نہیں بلکہ جلنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گرم گیسیں ہوتی ہیں۔ جب لکڑی یا موم بتی جلتی ہے تو اس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، پانی کے بخارات اور دیگر گیسیں بنتی ہیں۔ یہ گیسیں اوپر کی طرف اٹھتی ہیں اور ان میں موجود باریک کاربن ذرات (Soot) جب بہت زیادہ گرم ہو جاتے ہیں تو چمکنے لگتے ہیں۔ یہی چمک ہمیں زرد یا نارنجی شعلے کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مکمل جلنے کی صورت میں، جیسے گیس کے چولہے پر شعلہ نیلا ہوتا ہے کیونکہ وہاں کاربن ذرات نہیں بنتے بلکہ گیس صاف طور پر جلتی ہے۔کیا آگ پلازما ہے؟کبھی کبھار یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا آگ کو پلازما کہا جا سکتا ہے یا نہیں۔ پلازما مادے کی ایک خاص حالت ہوتی ہے جس میں ایٹم اپنے الیکٹران کھو دیتے ہیں۔ عام آگ جیسے لکڑی یا موم بتی کی آگ اتنی گرم نہیں ہوتی کہ اسے مکمل پلازما کہا جائے تاہم بہت زیادہ درجہ حرارت پر مثلاً سورج یا ویلڈنگ آرک میں آگ پلازما کی کچھ خصوصیات ضرور اختیار کر لیتی ہے۔آگ اور مادہ کا تعلقآگ خود مادہ نہیں مگر یہ مادے کو تبدیل ضرور کرتی ہے۔ جلنے کے بعد لکڑی راکھ میں بدل جاتی ہے، گیسیں فضا میں شامل ہو جاتی ہیں اور توانائی حرارت و روشنی کی شکل میں خارج ہو جاتی ہے۔ اس طرح آگ دراصل مادے کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے ایک حالت سے دوسری حالت میں بدل دیتی ہے، جو توانائی کے قانونِ تحفظ کی بہترین مثال ہے۔زمین پر آگ کیوں ممکن ہے؟آگ جیسی ہمیں زمین پر نظر آتی ہے وہ کائنات میں بہت نایاب ہے۔ اس کی بنیادی وجہ زمین کے ماحول میں آکسیجن کی وافر مقدار ہے جو پودوں اور دیگر جانداروں کی بدولت ممکن ہوئی۔ اگر زمین پر زندگی نہ ہوتی تو شاید آگ بھی وجود میں نہ آتی۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان کہتے ہیں کہ آگ بالواسطہ طور پر زندگی کی مرہونِ منت ہے۔خلا میں آگ کا عجیب رویہخلا میں جہاں کششِ ثقل نہیں ہوتی آگ کا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہاں شعلے اوپر کی طرف نہیں اٹھتے بلکہ گول شکل اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ گرم گیسیں اوپر نہیں جا سکتیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آگ کا ظاہری انداز ماحول پر بہت زیادہ منحصر ہوتا ہے۔آگ جسے ہم ایک عام اور روزمرہ کی چیز سمجھتے ہیں، درحقیقت ایک پیچیدہ اور حیرت انگیز سائنسی عمل ہے۔ یہ نہ کوئی ٹھوس شے ہے نہ مائع اور نہ ہی مکمل گیس بلکہ یہ توانائی کے اخراج کا وہ مظاہرہ ہے جو ایندھن اور آکسیجن کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ آگ کو سمجھنا ہمیں نہ صرف سائنس کے بنیادی اصولوں سے روشناس کراتا ہے بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ کائنات میں بہت سی چیزیں ویسی نہیں ہوتیں جیسی ہمیں نظر آتی ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

خلائی شٹل چیلنجر کا حادثہ28 جنوری 1986ء کو امریکی خلائی ایجنسی ناسا کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سانحات میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا جب خلائی شٹل چیلنجر پرواز کے صرف 73 سیکنڈ بعد تباہ ہو گئی۔ اس حادثے میں شٹل میں سوار تمام سات خلا باز ہلاک ہو گئے۔ حادثے کی بنیادی وجہ شٹل کے سالڈ راکٹ بوسٹر میں خرابی تھی۔ اس سانحے نے ناسا کی انتظامی کمزوریوں، دباؤ میں کیے گئے فیصلوں اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کو بے نقاب کر دیا۔چیلنجر حادثے کے بعد امریکی خلائی پروگرام کو تقریباً تین سال کے لیے معطل کر دیا گیا۔ پرائیڈ اینڈ پریجوڈس کی اشاعت 28 جنوری 1813ء کو انگریزی ادب کی تاریخ کا ایک اہم دن آیا جب مشہور ناولPride and Prejudice پہلی بار شائع ہوا۔ اس ناول کی مصنفہ جین آسٹن تھیں جو اس دور میں خواتین مصنفات میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔یہ ناول انیسویں صدی کے برطانوی معاشرے میں طبقاتی فرق، شادی، خواتین کے سماجی کردار اور اخلاقی اقدار پر گہری نظر ڈالتا ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار الزبتھ بینیٹ ایک ذہین، خوددار اور آزاد خیال خاتون ہے جبکہ مسٹر ڈارسی ایک امیر مگر بظاہر مغرور شخص۔ ناول کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کس طرح غرور اور تعصب انسانی تعلقات میں غلط فہمیوں کو جنم دیتے ہیں۔ امریکی کوسٹ گارڈ کا قیام28 جنوری 1915ء کو امریکہ میں کوسٹ گارڈ کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد امریکی ساحلی حدود کی حفاظت، سمندری قوانین کا نفاذ اور انسانی جانوں کا تحفظ تھا۔کوسٹ گارڈ نہ صرف ایک فوجی ادارہ ہے بلکہ امن کے زمانے میں یہ سول انتظامیہ کے تحت بھی کام کرتا ہے۔ جنگ کے دوران اسے امریکی بحریہ کے ماتحت کر دیا جاتا ہے۔پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکی کوسٹ گارڈ نے اہم کردار ادا کیا۔ لیگو برِک کا پیٹنٹ 28 جنوری 1958ء کو ڈنمارک کی کھلونوں کی کمپنی LEGO نے اپنی مشہور پلاسٹک برِک کا پیٹنٹ حاصل کیا۔ یہ وہی ڈیزائن تھا جس نے بعد میں دنیا بھر کے بچوں اور بڑوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیا۔لیگو کا آغاز 1932ء میں ہوا تھا مگر 1958ء کا پیٹنٹ اس کمپنی کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس ڈیزائن کی بدولت لیگو کھلونوں کو نہ صرف مضبوط بنایا جا سکا بلکہ انہیں بار بار جوڑنے اور کھولنے کی سہولت بھی حاصل ہوئی۔ لیگو نے بچوں کی تعلیم اور تخلیقی اظہار میں انقلابی کردار ادا کیا۔ دنیا بھر کے سکولوں میں لیگو کو تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایڈورڈ ششم کی تاج پوشی28 جنوری 1547ء کو انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ ششم کی تاج پوشی کا اعلان کیا گیا۔ وہ مشہور بادشاہ ہنری ہشتم کا بیٹا تھا اور صرف نو سال کی عمر میں تخت پر بیٹھا۔ایڈورڈ ششم کے دورِ حکومت میں انگلینڈ میں مذہبی اصلاحات کو نمایاں فروغ ملا۔ چونکہ وہ خود کم عمر تھااس لیے اصل اختیارات اس کے مشیروں کے ہاتھ میں تھے جنہوں نے چرچ آف انگلینڈ کو مزید پروٹسٹنٹ سمت میں آگے بڑھایا۔ ایڈورڈ ششم کی حکومت چھ سال پر مشتمل تھی اور وہ 15 سال کی عمر میں وفات پا گیا مگر اس کا دور انگلینڈ کی مذہبی اور سیاسی تاریخ میں گہرے اثرات چھوڑ گیا۔