آسمان تصوف کا روشن ستارہ:اسلام کے عظیم مبلغ کا فیضان آج بھی انسانیت کی رہنمائی کا سرچشمہ
منبع حکمت و معرفت:’’توحید کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کو اکیلا جاننا اور اس اکیلے جاننے پر صحیح علم رکھنا اس کا نام توحید ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے، وہ اپنی ذات و صفات میں بے نظیر اور اپنے افعال میں لاشریک ہے۔ موحدین نے اللہ تعالیٰ کو انہیں خوبیوں کے ساتھ جانا اور اس جاننے کو توحید کی یکتائی کہتے ہیں‘‘ (کشف المحجوب، ص245)
ہر سال کی طرح اس بار بھی، سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی، گورنمنٹ ہائی سکول کے سرسبز میدان میں دوڑ مقابلہ منعقد کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں شہر کے مختلف اسکولوں سے منتخب کیے ہوئے بہترین طالب علم حصہ لے رہے تھے۔
میڈیکل کالج کا پروفیسر زبانی امتحان لے رہا تھا۔ اس نے طالب علم سے پوچھا ’’تم ان میں سے کتنی گولیاں اس شخص کو دو گے جس کو دل کا دورہ پڑا ہو‘‘ طالب علم نے جواب دیا ’’چار‘‘۔
گرمیوں کے خوش ذائقہ اور غذائیت سے بھرپور پھلوں میں ناشپاتی بھی ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ نرم، رسیلی اور میٹھے ذائقے کی وجہ سے یہ پھل بچوں کو بہت پسند آتا ہے۔
اللہ کے نزدیک بڑی نا پسند بات ہے جو کہو اس کو کرو نہیں‘‘ (سورۃ الصف) جو شخص کسی قول یا عمل کی دعوت دیتا ہے اور خود اس پر عمل نہیں کرتا، وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں رہتا ہے،حتیٰ کہ وہ اس برائی سے رک جائے جس سے لوگوں کو منع کرتا تھا(الحدیث) کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل اس کی زبان کے مطابق نہ ہو جائے اور اس کا قول اس کے عمل کی مخالفت نہ کرے (الترغیب و الترھیب،الرقم: 223)
قبول اسلام سے پہلے بھی آپؓ موحد تھے قبول اسلام کے بعد سیدنا ابوذر غفاریؓ دین کے داعی بن گئے ،جلد ہی ان کا آدھاقبیلہ مسلمان ہوگیا
ملک کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں ہونے والی طوفانی بارشوں، تیز آندھیوں نے کافی نقصان پہنچایا ہے۔ کئی شہروں اور دیہات کی سڑکیں اور گلیاں زیر آب آ گئی ہیں، فصلیں تباہ ہونے کے قریب ہیں ، باغات کو نقصان پہنچااور بجلی کا نظام درہم برہم ہوا۔ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ دنیا کا نظام اسباب کے تحت چلتا ہے، لیکن اسباب صرف وہ نہیں جو ہماری آنکھوں سے نظر آتے ہیں۔ ظاہری اسباب کے ساتھ ساتھ باطنی اسباب بھی اپنی جگہ حقیقت رکھتے ہیں۔ اس لیے ایسے مواقع پر نہ صرف عملی اقدامات ضروری ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، توبہ اور استغفار بھی انتہائی اہم ہیں۔
’’ تمہارے اوپر آنکھوں کے حقوق ہیں‘‘ (صحیح بخاری) حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر ہے‘‘(مجمع الزوائد)
سرکاری نرخ مقررکرنا سوال:حکومت جو نرخ مقرر کرتی ہے کیا حکومت کو شرعاً اس کا اختیار ہے ؟اور اس نرخ سے کم وبیش پر قیمت وصول کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟اور اس نرخ کی پابندی کا شرعی تقاضہ کیا ہے ؟(محمد اجمل، لاہور)
پاکستان میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں گزشتہ ایک دہائی سے ملکی معیشت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔