آ ج14ویں برسی:اسلوب میں درد مندی کا جذبہ ان کی تحریر کو اثر پذیری بخشتا ہے : انہوں نے عورت کو محض جذباتی یا ثانوی کردار کے طور پر پیش نہیں بلکہ اپنے افسانوں میں عورت کے مسائل اور اس کی جدوجہد کو نہایت حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا :ہاجرہ مسرور کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی عبارت میں نادر تشبیہات واستعارات کا استعمال کرکے منظر قاری کے ذہن پر نقش کر دیتی ہیں
فورٹ ولیم کالج کلکتہ کا قیام اُردو ادب کی تاریخ کا بہت اہم اور بعض حیثیتوں سے اردو نثر کی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ ہے۔
قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ:ماضی کی بہترین ٹیموں میں شمارگرین شرٹس کی تنزلی، انتظامی زوال اور بوکھلاہٹ طشت ازبام
20ویں ایشین گیمز 2026ء:ایشین گیمز 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جاپان کے شہر ایچی ناگویا میں منعقد ہوں گی
شاداب نگر کے خوبصورت اور بڑے سے بنگلے میں سفینہ نامی چھوٹی لڑکی رہتی تھی۔ سفینہ دیکھنے میں تو پھول کی طرح پیاری تھی مگر اس کے مزاج میں حد سے زیادہ غرور تھا۔
ببلو گھر کا لاڈلا اور سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ضدی بھی تھا اور شرارتی بھی۔اس نے اپنی شرارتوں کی وجہ سے صرف گھر والوں کے ناک میں دم نہیں کر رکھا تھا بلکہ سکول میں کلاس فیلوز اور محلے کے سب لڑکے اس سے تنگ تھے۔
تیرے خیال سے ہے دل شادماں ہمارا، تازہ ہے جاں ہماری دِل ہے جواں ہمارا
دنیا کے بہت سے خطوں میں موسم سرما نہایت شدید ہوتاہے اور اس موسم میں وہاں خوراک اورپانی ناپید ہو جاتے ہیں۔
گیندا ایک ایسا خوب صورت اور رنگا رنگ پھول ہے جو اپنے شوخ رنگوں، دلکش ساخت اور خوش نما انداز کے باعث باغیچوں، گھروں اور پارکوں کی رونق بڑھاتا ہے۔
بزرگ: ذہین بیٹے یہ بتاؤ تم بڑے ہو کر اپنی امی پر جاؤ گے یا ابو پر؟ ذہین: اُف اوہ،بڑا ہو کر میں نہ امی پر جاؤں گا نہ ابو پر بلکہ کار پر جاؤں گا۔ ٭٭٭
’’اللہ کی قسم! وہ ایمان والا نہیں، جس کا ہمسایہ اس کے شر سے محفوظ نہیں‘‘ (صحیح بخاری) مدد کرنا، قرض دینا،خوشی میں شریک ہونا، رنج و غم میں تسلی دینا، بیماری میں عیادت کرناپڑوسی کے حقوق ہیں
وہ نفوسِ قدسیہ جن کی خطاطی کی مہارت نے قرآنِ کریم کے متن کو تغیر و تبدل کی ہر آمیزش سے پاک رکھا کاتبین وحی وہ خوش بخت نفوس تھے جن کے قلم کی روشنائی کو کلامِ ربانی کے الفاظِ مقدسہ کو قرطاس پر بکھیرنے کا ابدی شرف حاصل ہو
’’ اے لوگو! نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا ‘‘(ابن ماجہ) ’’تم ان غلاموں کو وہیں سے کھلائو جو تم خود کھاتے ہو اور وہیں سے پہنا ئو جوتم خود پہنتے ہو‘‘(صحیح مسلم)
بچے کی ولادت کے بعد پاکی کی مدت سوال :بچے کی ولادت کے بعد عورت کتنے دن بعد پاک ہوتی ہے؟( محمد جمیل، لاہور) جواب:نفاس(بچے کی ولادت کے بعد ناپاکی کے خون ) کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے ، اور کم ازکم مدت کی حد نہیں ہے، لہٰذا اگر بچہ کی ولادت کے بعدچالیس دن سے پہلے خون بند ہو جائے تو عورت پر غسل کرکے نماز پڑھنا فرض ہو گا۔
قائد اعظم محمد علی جناح کے کردار اور پختہ شخصیت سے کون واقف نہیں ! ان کے کردار کی مثالیں انگریز اور ہندوں بھی دیا کرتے تھے ۔ایک امریکی مصنف سٹینلے الپرٹ قائد اعظم ؒ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’بہت کم لوگ تاریخ کا دھارا بدل کر دکھاتے ہیں ۔