امریکہ اور ایران میں طاقت اور تباہ کن اسلحے کے اعتبار سے تو کوئی مقابلہ اور موازنہ نہیں بنتا۔ امریکہ سپر پاور ہے اور ایران گزشتہ چار پانچ دہائیوں سے طرح طرح کی اقتصادی و عسکری پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس کے باوجود جذبے‘ عزمِ صمیم اور اخلاقی برتری کے حوالے سے ایران کا پلہ بہت بھاری ہے۔ چند ہفتے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ حیرانی لاحق تھی کہ ہم نے اتنے بڑے جنگی بحری بیڑے لا کر بحیرۂ روم میں کھڑے کر دیے ہیں اور خلیج میں جگہ جگہ ہماری افواج اور زبردست فضائی قوت موجود ہے مگر ایران ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔ اب انہیں اس پریشانی نے آن گھیرا ہے کہ ہمارا خیال تھا کہ ایران ایک دو روز سے زیادہ ہمارے حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے سرنڈر کرنے پر تیار ہو جائے گا مگر وہ ڈٹ کر کھڑا ہے۔ اسرائیل کی بات کی جائے تو اسے یہ تو اندازہ تھا کہ اس کے حملوں اور بمباری کے جواب میں ایرانی میزائل داغے جائیں گے مگر اتنی بڑی تعداد میں اور ٹھیک ٹھیک اہداف پر داغے جائیں گے‘ یہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ بلاشبہ ایران کا بہت بڑا جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ ایرانی قیادت اور عوام ڈرے سہمے ہوئے نہیں ہیں۔ وہاں زندگی کی چہل پہل میں کچھ کمی تو آئی ہے مگر کسی طرح کی کوئی خوفزدگی نہیں‘ جبکہ صہیونی اسرائیلی شہروں کے اندر گھروں میں نہیں بلکہ بنکروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ کا ایک اندازہ یہ بھی تھا کہ ہمارے بڑے حملوں اور ایران کی سپریم لیڈر شپ اور عسکری قیادت کی اتنے بڑے پیمانے پر شہادتوں کے بعد ایران کی حکومت کے مخالفین سڑکوں پر آ جائیں گے۔ یوں رجیم چینج پلک جھپکنے میں ہو جائے گی مگر ایسا ہونا تو دور کی بات‘ الٹا ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ہر مکتب فکر کے ایرانی اس سفاکیت و بربریت کے خلاف شانہ بشانہ سڑکوں پر آ گئے اور اپنے دکھ اور شدید غم و غصے کا اظہار ایک متحد قوم کی حیثیت سے کیا۔
اس وقت امریکہ میں ٹرمپ ایڈمنسٹریشن سینیٹ اور کانگرس کے ممبران کی طرف سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ سینیٹر چک شومر نے کہا ہے کہ آغازِ جنگ سے لے کر اب تک صدر ٹرمپ ہر گھنٹے کے بعد جنگ کیلئے ایک نیا جواز پیش کر رہے ہیں جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ یہ جنگ بلاجواز بھی ہے اور بلامقصد بھی۔ پہلے ٹرمپ ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے اس لیے اس پر حملہ ناگزیر ہے‘ مگر جب ایران نے ثبوت پیش کر دیے کہ اس کے پاس کوئی ایٹم بم نہیں اور نہ ہی وہ بم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے تو پھر امریکی ایڈمنسٹریشن نے دوسرا جواز بلکہ بہانہ پیش کیا کہ ہمیں ایران کے میزائلوں سے خطرہ ہے۔ ہر طرح کے جنگی سازوسامان سے لیس سپر پاور کی زبان سے پیش کیا جانے والا یہ بیانیہ انتہائی بودا ثابت ہوا۔ جب اس جواز سے بھی بات نہیں بنی تو امریکی حکومت ایران میں رجیم چینج کا خود ساختہ پلان لے کر آ گئی۔ تاہم اتنی بڑی تباہی کے بعد بھی سماج کا کوئی طبقہ سامنے نہیں آیا جو خود کو نئی رجیم کے طور پر پیش کر رہا ہو‘ لہٰذا اس منصوبے پر بھی اوس پڑ گئی۔ اب امریکی ایڈمنسٹریشن ایران کو بیرونی جنگ کی تباہی کے ساتھ ساتھ خانہ جنگی میں دھکیلنے کیلئے کرد باغیوں کو ایران کے اندر بھیج رہی ہے۔ ان حالات میں بیچاری سلامتی کونسل کی کوئی وقعت نہیں۔ چین اب ایک مسلمہ عالمی قوت ہے مگر آگے بڑھ کر خطے کے امن و سلامتی کیلئے کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے بجائے وہ خلیجی ریاستوں کو پکار رہا ہے کہ وہ خطے میں بیرونی مداخلت کے خلاف متحد ہو جائیں۔
امریکی سینیٹ میں موجودہ حکومت پر تنقید کے حوالے سے سینیٹر الزبتھ وارن بہت پیش پیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے پاس ایرانی جنگ کا نہ کوئی جواز ہے اور نہ واضح پلان۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اس جنگ کی بنیاد دروغ گوئی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ایران کی طرف سے امریکہ کیلئے کوئی فوری اور حقیقی خطرہ موجود نہیں تھا۔ ہفتے کے روز اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ نے ایران پر حملوں کا آغاز جنوبی ایران کے ایک شہر میں ایک پرائمری سکول پر بمباری سے کیا۔ اس سکول میں پھول سی بچیوں پر بموں کی بارش کی گئی۔ اس حملے میں 168 بچیاں شہید ہو گئیں‘ جن میں سے 140 کو منگل کے روز آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سوگوار شہر میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ اس سفاکیت کو جنگی جرم قرار دے رہا ہے۔ امریکہ کے حکومتی اور عوامی حلقوں کی طرف سے بچوں کے اس بہیمانہ قتل پر شدید تنقید سامنے آ رہی ہے۔ امریکی کانگرس میں کرس مرفی نے اس بلاجواز جنگ پر اربوں ڈالر جھونک دینے اور امریکی اسلحہ ساز فیکٹریوں کو نئے اسلحے کے آرڈرز دینے کو نشانۂ تنقید بنایا ہے۔ ہم کالم کے آخر میں وہ مقاصد قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے جن کی بنا پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتنی بڑی جنگ کا خطرہ مول لیا ہے۔
ایران پر مسلط کی گئی جنگ کا منظرنامہ پل پل میں بدل رہا ہے۔ ہفتے کے روز جب یہ کالم آپ کی نظر سے گزرے گا تو اس وقت تک نجانے جنگ کیا رخ اختیار کر چکی ہو گی۔ ہمارے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس ساری پیچیدہ صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ ایک طرف ایران ہے جو ہمارا برادر پڑوسی ملک ہے۔ 1947ء سے لے کر اب تک ایران نے ہمیشہ حقِ ہمسائیگی اور اسلامی اخوت کا ثبوت دیا ہے۔ شیخ سعدی نے فرمایا تھا:
دوست آں باشد کہ گیرد دستِ دوست
در پریشاں حالی و درماندگی
اب یہ پاکستان کو سوچنا ہے کہ وہ اپنے پریشاں حال پڑوسی دوست کی موجودہ حالات میں کیا مدد کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے قلبی تعلقات روزِ اوّل سے استوار ہیں۔ سعودی عرب کی ہر مشکل میں ہم اس کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ برادر اسلامی ملک بھی ہمیشہ پاکستان کی حمایت کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہو یا نہ ہو‘ اہلِ پاکستان ارضِ حرمین شریفین کے دفاع کو اپنا فرضِ اوّلین سمجھتے ہیں۔ اس جنگ سے ایران کا ہی نہیں‘ سارے خطے کا بہت بڑا نقصان ہو رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی آگ بجھانے میں پاکستان کی حیثیت اس شخص جیسی ہے جو آسمان سے باتیں کرتے شعلوں کو بجھانے کیلئے گھر سے پانی کی ایک بالٹی لے آیا ہو‘ تاہم بالٹی لانے کا جذبہ اپنی جگہ قابلِ قدر ضرور ہے۔ یہ جنگ جتنا طول پکڑتی جائے گی اس میں ایران‘ خلیجی ممالک اور پاکستان کیلئے اتنا ہی بڑا خسارہ اور خطرہ پیدا ہوتا جائے گا۔ پاکستان کو ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر جنگ کو فی الفور بند کرانے کیلئے اپنی مقدور بھر کوششیں تیز تر کر دینی چاہئیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کا اصل ''جواز‘‘ زبان پر نہیں لانا چاہتے۔ امریکی صدر کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود ایران گزشتہ 47 برس سے اپنے قدموں پر کیوں کھڑا ہے اور ہمارے سامنے جھکا کیوں نہیں۔ اسرائیل اس لیے یہ جنگ لڑ رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران فلسطینیوں کا سب سے بڑا حمایتی ہے۔ ایران میں موجودہ نظام کی جگہ کوئی کٹھ پتلی حکومت لا کر فلسطینیوں کی یہ بڑی حمایت ختم کر دی جائے تو پھر بے یارو مددگار فلسطینیوں کا کوئی پرسانِ حال نہ ہوگا۔ خاکم بدہن اگر اسرائیل اور امریکہ کی ایران میں خواہش پوری ہو جاتی ہے تو پھر جنوبی ایشیا میں نیتن یاہو اور مودی کے گٹھ جوڑ میں بلوچستان پر پڑنے والی افتاد کا سوچ کر ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔ خطے میں بھڑکتی جنگ کے شعلے بجھانے میں ہی سب کی عافیت ہے‘ وگرنہ تباہی ہی تباہی ہے۔