ایران اپنے رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد سے پوری قوت سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے۔ سید علی خامنہ ای 1939ء میں ایران کے شہر مشہد کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ پھر 1989ء میں روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد ایران کے سپریم لیڈر مقرر ہوئے۔ یہ عہدہ ان کی وفات تک‘ تقریباً 36سال ان کے پاس رہا۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی بیشتر قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے چیف کمانڈر‘ ایرانی وزیر دفاع اور انٹیلی جنس چیف سمیت کئی اعلیٰ عہدیداروں کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پہلے ہی حملے میں اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ دشمن کو اندرونی معلومات تک رسائی حاصل تھی۔ ایرانی حکومت میں موساد اور سی آئی اے کے جاسوسوں کی موجودگی کے الزامات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں اور یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ وہ اعلیٰ سطح پر سیاسی قیادت کی نقل و حرکت سے باخبر رہتے ہیں۔
ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقصد محض ایران کو جوہری قوت بننے سے روکنا نہیں بلکہ یہ حملے وسیع ایجنڈے اور مقاصد کے حامل ہیں‘ تاہم اس جنگ کے اثرات محض ایران یا مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی‘ صدر ٹرمپ کا اس کارروائی کے حوالے سے تراشا گیا بیانیہ‘ ایران کے بحرین‘ قطر‘ کویت‘ متحدہ عرب امارات‘ اردن اور سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کا تاریخی اجتماع یہ واضح کر رہا ہے کہ ایران پر امریکی واسرائیلی حملہ محض ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام روکنے تک محدود نہیں بلکہ یہ اس سے زیادہ وسیع ایجنڈے اور مقاصد کا حامل ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کے دفاع اور ایرانی میزائلوں سے بچائو کے لیے اپنی فوجی طاقت کو متحرک کیا ہے۔ اس سطح کی فوجی نقل و حرکت اور جنگی ماحول کے اثرات نہ صرف ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بلکہ پوری مسلم دنیا تک پھیل سکتے ہیں اور جنوبی ایشیا میں ایران کا ہمسایہ ہونے کی حیثیت سے پاکستان بھی اس صورتحال متاثر ہوسکتا۔ یہ جنگ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کی دوراندیشی‘ دانشمندی اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت کا کڑا امتحان ہے۔
ایران کے خلاف عسکری کارروائی کے حوالے سے امریکی رائے عامہ تقسیم ہونے کے باوجود امریکی افواج اس میں براہِ راست شریک ہو چکی ہیں۔ ایران جس طرح سے بیک وقت سب محاذوں پر جواب دے رہا ہے‘ دفاعی مبصرین کے مطابق یہ حیران کن ہے‘ جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران گزشتہ سال جون میں اسرائیل کے خلاف جنگ کے بعد سے ہی اگلی ممکنہ جنگ کیلئے تیاری کر رہا تھا۔ ایرانی قیادت بھی اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ ایران کا مقابلہ ایسے طاقتور دشمنوں سے ہے جن کے سامنے روایتی جنگ میں کامیابی ناممکن دکھائی دیتی ہے‘ اس لیے وہ اپنے دفاع کے ساتھ ساتھ اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے کہ اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو اس قدر نقصان پہنچایا جائے کہ یہ جنگ ان کے لیے حد درجہ مہنگی ثابت ہو۔ اتنی مہنگی کہ عسکری کامیابی کے باوجود وہ اسے اپنی شکست محسوس کریں۔ ایران بتدریج مزاحمتی حکمت عملی کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ اسے علم ہے کہ امریکہ اس کے میزائل ذخائر کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کرے گا اس لیے ایران نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے ایک میزائل ڈپو پر موجود تمام میزائلوں کو بیک وقت اپنے اہداف کی طرف داغ دیتا ہے تاکہ اگر وہاں امریکہ یا اسرائیل حملہ بھی کریں تو یہ ڈپو انہیں خالی ملیں۔
اُدھر اسرائیل کا ایرانی میزائلوں سے بچنے کیلئے سارا انحصار اپنے فضائی دفاعی نظام پر ہے۔ اس نظام کی کمزوری یہ ہے کہ ایک تو اس کے میزائل مخصوص فاصلے تک جا سکتے ہیں اور دوسراوہ ایک وقت میں میزائلوں کی مخصوص تعداد کو ہی روک سکتے ہیں۔ اس لیے بھی ایران بیک وقت اسرائیل پر درجنوں میزائل برساتا ہے تاکہ کچھ میزائل اپنے ہدف تک لازمی پہنچ سکیں۔ اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام بادی النظر میں کمزور پڑتا نظر آ رہا ہے حالانکہ ابھی تک ایران نے اپنے جدید میزائل استعمال نہیں کیے۔
دوسری جانب عام تاثر یہ سامنے آ رہا ہے کہ ایران نے عرب سرزمین پر موجود امریکی اڈوں پر حملہ کر کے غلطی کی ہے مگر درحقیقت یہ ایران کی جنگی حکمت عملی کا ایک پوشیدہ پہلو ہو سکتا ہے۔ عرب ممالک امریکہ سے فاصلہ اختیار کرنا چاہتے ہیں اور یہ صورتحال ان کے لیے دوری کا جواز فراہم کر سکتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے علاوہ کسی اور ملک کی جانب سے اس پر شدید ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
اس جنگ کے معاشی پہلوؤں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد سے پاسدارانِ انقلاب نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کررکھا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے‘ جہاں سے عالمی انرجی سپلائی کا تقریباً 20فیصد گزرتا ہے۔ اس کی بندش کے بین الاقوامی تجارت پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسرے ممالک میں مداخلت کے حوالے سے امریکی سی آئی اے کی تاریخ میں ''آپریشن ایجیکس‘‘ ایک اہم مثال ہے‘ اس کے تحت 1953ء میں ایران کے منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ دراصل مصدق حکومت نے تیل کی صنعت کو قومیانے اور رضا شاہ پہلوی کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی تھی۔ امریکہ نے اسے اپنے مفادات کے خلاف سمجھا اور سی آئی اے کے ایجنٹ کرمٹ روز ویلٹ کو خفیہ مشن سونپا گیا۔ خفیہ کارروائیوں اور مالی وسائل کے ذریعے چند ہی ماہ میں سیاسی فضا یکسر تبدیل ہو گئی۔ فوجی مداخلت ہوئی اور مصدق کی حکومت ختم کر دی گئی۔ جب کرمٹ روز ویلٹ مشن مکمل کر کے امریکہ پہنچا تو اس کا استقبال وائٹ ہاؤس میں کیا گیا اور امریکی صدر آئزن ہاور نے اس سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر مصدق کو کرمٹ نے نہیں خود ایرانیوں نے ہٹایا۔ اگر ایرانی نہ چاہتے تو کرمٹ روز ویلٹ کبھی کامیاب نہ ہوتا۔ کرمٹ کے یہ الفاظ امریکن ڈپلومیسی میں ''کرمٹ فارمولہ‘‘ کے نام سے محفوظ کیے گئے ہیں۔ امریکہ اس طرح کے ایجنٹس ہر حکومت میں پلانٹ کرتا ہے۔ 1972ء میں مسٹر بھٹو کی کابینہ میں بھی سی آئی اے کے پلانٹڈ افراد ان کی کابینہ کا حصہ تھے۔ اسی طرح کے ایجنٹ صدر ایوب خان‘ جنرل پرویز مشرف سمیت تقریباً ہر حکومت میں موجود رہے ہیں۔ موجودہ حکومت میں بھی ایسے ایجنٹوں کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
یہ تاریخی حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بیرونی قوتیں داخلی سیاست پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مختلف ادوار میں اس نوعیت کے الزامات دیگر ممالک میں بھی زیر بحث آتے رہے اور میڈیا کو بھی بسا اوقات اثرورسوخ کے ایک ٹول کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اہم حلقوں میں یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران کے بحران کے بعد اسرائیل پاکستان کے جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے کے لیے امریکی قیادت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ عالمی اور علاقائی حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں‘ اس تناظر میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو نہایت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے اور داخلی استحکام کو بہر صورت برقرار رکھنا ہوگا۔