"KDC" (space) message & send to 7575

بلوچستان کے سیاستدانوں کو اعتماد میں لیا جائے

بلوچستان حالیہ دنوں دہشت گردوں کے نشانے پر تھا۔ گزشتہ چند روز کے دوران دہشت گردوں کے پے در پے حملوں میں 17 جوان شہید ہو ئے ‘31 عام شہریوں کے شہید ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ان بزدلانہ حملوں کے باوجود سکیورٹی فورسز کا حوصلہ بلند ہے اور گزشتہ تین روز کے دوران مختلف آپریشنز میں سکیورٹی فورسز فتنہ الہندوستان کے 177 دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا چکی ہیں۔ بلوچستان کو اس شدت پسندی سے پاک کرنے کے لیے صوبے کے عمائدین کی ایک کانفرنس کا انعقاد ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ بلوچستان کے بااثر قبائلی سرداروں میں سردار ثنا اللہ زہری‘ سردار یار محمد رند‘ اسد بلوچ‘ لورالائی کے سردار یعقوب ناصر‘ بگٹی قبائل کے اہم رہنما‘بارکھان کے سردار طارق محمود‘ سابق چیف جسٹس بلوچستان جسٹس امیر الملک اور ڈیرہ غازی خان کے بلوچ جن میں لغاری اور کھوسہ قبائل شامل ہیں‘ ان سب پر مشتمل ایک قومی جرگہ بلا کر بلوچستان کے حقیقی مسائل کا گہرائی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ نادر مگسی‘ عامر مگسی اور ذوالفقار مگسی بھی فعال قبائلی سردار ہیں۔ ڈیرہ مراد جمالی اور قلعہ سیف اللہ کے مندوخیل قبائل کو بھی اس جرگے کا حصہ بنانا چاہیے۔ میں نے 2001ء میں الیکشن کمشنر بلوچستان کی حیثیت سے ان تمام قبائلی سرداروں کو قومی دھارے میں شامل کرانے کے لیے جنرل پرویز مشرف کی معاونت کی۔ موجودہ حالات میں ان قبائلی سرداروں کو دوبارہ اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ بلوچستان کے نوجوان عزت و احترام کے متمنی اور حقدار ہیں۔ ریاست کو انہیں روزگار اور محفوظ مستقبل کی ضمانت دے کر اعتماد کا رشتہ بحال کرنا ہو گا۔ اس ضمن میں جنرل قادر بلوچ اور جنرل صلاح الدین ترمذی کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ بلوچستان میں بھارت کی مذموم سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صوبے میں کام کرنے والی این جی اوز کے دفاتر اور ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ بلوچستان میں سلگتے ہوئے مسائل کا حل صرف اور صرف سیاسی طریقے ہی سے ممکن ہے۔
اُدھر چند روز قبل وادیٔ تیراہ کی صورتحال کے حوالے سے بھی ایک اہم جرگہ باڑہ میں تیراہ کے نمائندہ قبائل کے عمائدین اور مشران کے مطالبے پر منعقد کیا گیا۔ اس جرگے میں حالیہ دنوں صوبائی حکومت کی بدانتظامی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر سخت تنقید کی گئی اور وفاقی حکومت کے فیصلوں اور پالیسیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا جبکہ مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ جرگے کے شرکا نے تیراہ متاثرین کیلئے چار ارب روپے کی تقسیم میں کرپشن اور سیاسی مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا‘ جبکہ قیامِ امن کیلئے سکیورٹی فورسز کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
ملک کے دو اہم صوبے اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں‘ جس کے باعث بیرونی سرمایہ کاری سست روی کا شکار ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے بقول وہ خاموش سفارتی کوششوں کی بدولت کئی ممالک کے دورے کرکے انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے آمادہ کرنے کی کوششیں کر چکے ہیں تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ اب بھی ہم چین‘ سعودی عرب اور عرب امارات کے اربوں ڈالر سٹیٹ بینک میں بطور ڈپازٹ رکھنے پر مجبور ہیں۔ یہ ڈپازٹس جو تقریباً 12 ارب ڈالر ہیں‘ صرف بیلنس آف پیمنٹس کو سہارا دینے کیلئے ہیں ‘انہیں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معیشت کیلئے وینٹی لیٹر کی حیثیت رکھتے ہیں‘ اگر ان میں سے کسی ایک ملک نے بھی اپنا ڈپازٹ واپس لے لیا تو ملکی معیشت شدید خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔ نازک معاشی حالات کے باوجود صوبائی حکومتوں کے شاہانہ اخراجات جاری ہیں جو ملک کو دیوالیہ پن کے قریب لے کر جا رہے ہیں۔ صدرِ مملکت کا اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ قومی اسمبلی میں حکمرانوں کے سرکاری اور نجی دوروں پر بحث ضرور ہونی چاہیے اور یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ ان دوروں سے ملک کو کیا فائدہ حاصل ہوااور کن وجوہات کی بنا پرسرکاری دوروں پر اہلِ خانہ کو ساتھ لے جایا جاتا ہے۔
ایک طرف بلوچستان لہولہان ہے‘ مقامی آبادی کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے تو دوسری جانب پنجاب میں اس وقت جشن کا سماں ہے اور سرکاری خزانے کو بے دریغ خرچ کیا جا رہا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کو وفاق سے خزانے کا 51.74 فیصد حصہ ملتا ہے‘ جو باقی تمام صوبوں کے مجموعی حصے سے بھی زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر پنجاب پر ایک ہی سیاسی خاندان دو دہائیوں سے زائد عرصہ حکمرانی کر چکا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اتنے وسائل اور دو دہائیوں کی حکومت کے باوجود پنجاب کے کئی علاقے آج بھی غربت‘ بیروزگاری‘ تباہ حال بنیادی ڈھانچے‘ گندے پانی‘ خستہ حال سکولوں اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہسپتالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ پنجاب کے حکمران عوام کو بتائیں کہ گزشتہ پندرہ سالوں سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والا بجٹ کہاں خرچ ہوتا رہا اورپنجاب کے پسماندہ علاقوں کی زبوں حالی کی وجوہات کیا ہیں؟ نیشنل فنانس کمیشن سے رقوم پورے صوبے کے عوام کے نام پر ملتی ہیں مگر پنجاب میں ترقی صرف ایک شہر بلکہ شہر کے چند مخصوص علاقوں تک ہی کیوں محدود ہے؟ حکومت کی جانب سے ان دنوں صرف ایک شہر کے چند علاقوں میں بسنت منانے کیلئے اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب حکومت سندھ کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں ہے۔ حکومت سندھ کی ناکامی کا حالیہ ثبوت گل پلازہ کا سانحہ ہے جو کسی بھی صورت حادثہ نہیں بلکہ نااہلی اور غفلت کا مجموعہ معلوم ہوتا ہے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے باوجود ابھی تک کئی سوالات باقی ہیں۔ ایسا کیسے ممکن ہے کہ محض بچوں کے کھیلنے سے پلازے کے تمام حصوں میں بیک وقت آگ جائے۔آگ کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا کہ پلازے کے بنیادی ڈھانچے میں موجود لوہا تک نرم پڑ گیا جس کے نتیجے میں عمارت کے متعدد حصے زمین بوس ہو گئے ۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت کا مؤقف بے اثر اور حقائق سے چشم پوشی کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنمائوں کا یہ مؤقف توجہ طلب ہے کہ کراچی کا انتظام وفاق کو خود سنبھال لینا چاہیے کیونکہ صوبائی حکومت کراچی کے شہریوں کے تحفظ میں عملاً ناکام ہو چکی ہے۔ 22 مئی 1948ء کو کراچی کو وفاقی دارالحکومت اور وفاقی علاقہ (FCT) قرار دیا گیا تھا۔ 1961ء میں جب دارالحکومت کو راولپنڈی (اور بعد ازاں اسلام آباد) منتقل کیا گیا تو کراچی کا وفاقی درجہ ختم کر کے اسے صوبہ مغربی پاکستان میں ضم کر دیا گیا۔ 1970ء میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد کراچی کو صوبہ سندھ کا دارالحکومت بنایا گیا۔ اب اس حوالے سے آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں