"SBA" (space) message & send to 7575

استحکام اور قیمتوں میں استحکام

ظالمانہ مذاقِ مسلسل یہ ہے جس نے بازار سے نہ کبھی آلو خریدا نہ بینگن‘ آٹے کا ریٹ پوچھا نہ گھی کے ڈبے کا‘ چینی خریدنے کی لائن میں لگنا پڑا‘ نہ ہی عمر بھر اپنے دستِ دراز کو کارِ جہاں کے لیے استعمال کیا‘ ایسے لوگ 25 کروڑ عوام کے لیے ایک سال کے خرچے کا میزانیہ بناتے ہیں۔ بناتے کیا ہیں! خاک۔
جب سے وطنِ عزیز کے سارے اہم اثاثوں کو قرض کے عوض قرض دینے والے بنیے کے پاس گروی رکھا گیا ہماری بجٹنگ کا اختیار کالے بابوؤں نے گورے بابوؤں کے پاس سرنڈر کر چھوڑا ہے۔ ڈاکٹر محبوب الحق مرحوم اور ڈاکٹر قیصر بنگالی صاحب کو چھوڑ کر باقی بجٹ بنانے کے دعویدار انگریزی میں اکّڑ بکّڑ والے گورکھ دھندے کے سوا کچھ نہیں کرتے ہیں۔ اسی لیے پاکستانی فلم اور پاکستانی ڈرامے کی طرح ہر سال ایک ہی بجٹ بنتا ہے۔ پاکستان کا قومی بجٹ بنانے کے یہ دعویدار ورلڈ بینک‘ آئی ایم ایف‘ ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دوسرے بینکوں کے سابق وحاضر ملازمین ہوتے ہیں۔ بجٹ پیش کرنے سے پہلے وزیر خزانہ‘ مشیر خزانہ‘ گورنر سٹیٹ بینک اور پلاننگ کمیشن میں ان کی تعیناتیاں کروائی جاتی ہیں۔ اسی لیے ہر بجٹ کے درشن اور سواگت کرنے کے لیے پبلک دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ پہلی پبلک اونچے ایوانوں اور قلعہ بند گھروں میں بستی ہے۔ جو آئی ایم ایف کے مرتب کردہ ہر بجٹ پر تالیاں پیٹتی ہے۔ جبکہ باقی پبلک بجٹ بنانے والوں کے لیے گالیاں ڈ ھونڈتی ہے۔ جب سے پاک افغان جنگ شروع ہوئی جس کے چند روز بعد یو ایس اسرائیل ہمارے پڑوس میں ایران پر حملہ آور ہوئے‘ تالی گروپ کی دیہاڑیاں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔ ادھر پاک افغان بارڈر پر بمباری شروع ہوئی اُدھر پہلے گروپ نے گوروں کی ایسی کی تیسی پھیر کر رکھ دی۔ جاپان اور انگلستان کی طرح ترقی یافتہ پنجاب کی معیشت نے اتنی اونچی اُڑان بھری کہ ہمیں 12 ارب روپے کا سپر جیٹ خریدنے کی ضرورت پیش آ گئی۔ ہم نے ایک چھلانگ اس سے بھی آگے مار دکھائی۔ ہندوستانیوں پر حکومت کرنے والے دو گورے فرنگیوں کو ہم نے اس جہاز کی سواریوں کو ہیلو ہائے کرنے کے لیے ملازم رکھ لیا۔ ایک گورے ملازم پائلٹ کی ماہانہ تنخواہ 32ہزار یو ایس ڈالر جبکہ دوسرے گورے کو اپنی ملازمت میں لیتے ہوئے اس کی تنخواہ 38 ہزار ڈالر ماہانہ کر دی۔ باقی ہرجہ خرچہ‘ علاج‘ ٹریول‘ رہائش‘ کھانا پینا اس کے علاوہ۔
پہلے سے بھی بڑا ظالمانہ تر مذاق یہ ہے ہماری ریاست کے غیر نمائندہ منیجرز اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں پاکستانی قوم نے عقل اُلّو سے مستعار لی ہے۔ غلط فہمی سے یاد آیا۔ اگلے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل کے اندر اور امریکی اہداف پہ اپنے حملوں اور آئندہ کے عزائم پر بریفنگ دی۔ ایک صحافی نے عراقچی صاحب سے سوال کیا جنابِ منسٹر! اسرائیلی میڈیا کہہ رہا ہے کہ ایران کے پاس اب صرف 128 میزائل لانچر باقی ہیں۔ ایران کے سپوکس پرسن نے رپورٹر کولاجواب جواب دیا ''اُنہیں اسی غلط فہمی میں رہنے دیں‘‘۔ ایران جنگ کے دوران تاجرانِ ایران کا جذبہ ان دنوں ایک تصویر کے ذریعے دنیا میں وائرل ہے جس میں ایرانی وینڈر اپنے کھلے ڈالے پر آلو بیچ رہا ہے۔ پاکستانی روپے کے مطابق ایرن میں اس وقت آلو بارہ روپے کلو ہے۔ سبزی فروش نے گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے گاڑی پر دو بڑے پلے کارڈ سجا رکھے ہیں۔ ایک پر آلو کی قیمتِ فروخت لکھی ہے۔ دوسرے نوٹس بورڈ پر دل میں اُتر جانے والی فارسی زبان کی یہ عبارت درج ہے:
''در وضعیتِ جنگ‘ سیبِ زمینی برائے افرادِ نیاز مندرایگان می باشد‘‘۔ ترجمہ یہ ہے کہ ان حالات میں جس کے پاس پیسہ نہیں ہے وہ آلو مفت لے جا سکتا ہے۔ اسے کہتے ہیں قیمتوں کا استحکام جو مارکیٹ اکانومی کی سب سے نچلی اکائی نے براعظمی طاقت ایران میں نافذ کر دکھایا۔ اس کی بنیاد اپنی لیڈرشپ پر تین طرح سے یقین ہے۔ پہلا یقین یہ کہ میرے لیڈر میرے پیسے چوری کر کے دوسرے ملکوں میں ذاتی محلات‘ ٹاوراور اپارٹمنٹ نہیں بناتے۔ اس اعتماد کا دوسرا سبب یہ ہے کہ یہ میرا ملک ہے‘ اتنا ہی میرا جتنا ملک کے رہبرِ اعلیٰ کا ہے۔ وہ رہبرِ اعلیٰ جو اس دکاندار کو تحفظ دینے کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ کر قربان کر سکتا ہے۔ اس سوچ کے پیچھے تیسرا جذبۂ صادق یہ ہے کہ ہمارا ملک نہ امریکہ کا طفیلی ہے نہ ٹرمپ کا نہ ہی نیتن یاہو سے خوفزدہ‘ نہ آئی ایم ایف کی جیب کی گھڑی‘ نہ عرب شیخوں کے سامنے جھولی پھیلانے والا بھکاری۔
قارئینِ وکالت نامہ اس مرحلے پر بیرون ملک مقیم اُن پاکستانیوں کو جو ہمارے فارن ریزرو ذرائع کا پہلا اور آخری بلکہ مستقل سہارا ہیں ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ ان دنوں فارم 47 سرکار نے اوورسیز پاکستانیوں کو فارن remittances بھیجنے کے لیے ڈو مور کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں کسی دل جلے اوور سیز پاکستانی نے پانچ لائنیں لکھ کر دل کے پھپھولے اور سینے کے داغ طشت از بام کر ڈالے۔
پہلی لائن: تم نہیں چاہتے کہ اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا چانس دیا جائے کیونکہ تم انہیں بے شعور اور وطن سے دور کہتے ہو۔ دوسرا: تم انہیں غلط بات کے خلاف بولنے اور عوام دشمن پالیسی پر تنقید کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ تیسرے: تم انہیں مشتبہ سمجھ کر انویسٹی گیٹ کرتے ہو۔ ان کے رشتے داروں کے گھر جا کر دھمکی دیتے ہو کہ ان کی پاکستان کی شہریت کینسل کر دی جائے گی۔ ساتھ لکھا: ارے... جس کو تم شناخت اور عزت نہیں دے سکتے‘ اس سے بار بار ڈومور کا مطالبہ کرتے تمہاری زبان پہ شرم کا فالج کیوں نہیں گرتا؟ اس وقت پاکستان میں ضرورت کی اشیا جان بچانے والی دوائیاں‘ بچوں کے دودھ‘ رمضان اور عید کی ضروریات‘ پٹرول‘ گیس‘ ڈیزل‘ مٹی کا تیل‘ انکم ٹیکس‘ مزید ٹیکس‘ سپر ٹیکس‘ فیڈرل ٹیکس‘ پراونشل ٹیکس‘ ایکسائز ٹیکس۔ بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا ماں کے پالنے سے لحدکی آغوش تک پوری زندگی ٹیکس در ٹیکس۔ ایسے میں پاکستان اناج چوروں‘ منافع خوروں‘ ذخیرہ اندوزوں اور گھٹیا مال مہنگے داموں بیچنے والوں کی جنت ہے۔ نہ کوئی پرائس کنٹرول کا محکمہ ہے نہ فوڈ کنٹرول کا ادارہ نہ کوئی کوالٹی کنٹرول کا میکانزم موجود ہے۔
ہم کب سمجھیں گے استحکام دیواریں اونچی کرنے‘ بڑی گاڑیاں‘ مہنگے جہاز خریدنے‘ میڈیا کنٹرول اور آوازیں بند کرنے سے نہیں آ سکتا۔ استحکام معیشت سے شروع ہوتا ہے‘ پھر معاشرت کے ڈسپلن کے ذریعے ریاست کی تقسیمِ کار کے کام آتا ہے۔ ایلیٹ اشرافیہ کے لیے سب مفت‘ غریب عوام کے لیے سب ان کی پہنچ سے دور۔ اسی کو دو ریاست دو دستور کہتے ہیں۔ جو ہم دیکھ رہے ہیں اس سے زیادہ بھونچال آنے والا ہے۔ ریاست نوشتۂ دیوار پڑھے۔
کتنے جاں سوز مراحل سے گزر کر دل نے
کس قدر پیچ و خمِ سود و زِیاں دیکھے ہیں
ڈوبنے والوں کے ہمراہ بھنور میں رہ کر
لبِ ساحل کے ضیا بار مکاں دیکھے ہیں
جام کے رنگ میں پائی ہے لہو کی سُرخی
کاہ کے دوش پہ سو کوہِ گراں دیکھے ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں