بنیادی طور پر یہ فرانسیسی زبان اور کلچر کا تصور ہے لیکن چپکا ہوا پاکستان سے ہے: ''Deja Vu‘‘۔ اس کے لغوی معنی ہیں پہلے سے دیکھا ہوا یا پہلے سے تجربہ شدہ۔ اسے ایک ایسی عجیب و غریب کیفیت بھی سمجھا جاتا ہے جیسے جب بھی کوئی نیا تجربہ یا صورتحال سامنے آئے تو ذہن آپ کو ڈی ریل کرے اور کہے کہ اس لمحے کو تم پہلے بھی دیکھ چکے ہو‘ حالانکہ یہ سراسر فریب ہے۔ انگریزی میں اسے تین مختلف تھیوریز میں بیان کیا گیا ہے۔
پہلی تھیوری Memory Glitch کہلاتی ہے۔ جس کا آسان مطلب یہ ہے کہ انسانی ذہن میں موجود طویل مدتی میموری فولڈر نئے حالات کو بھی ماضی سے جوڑ رہا ہے۔ دوسرے دو تصورات یہ ہیں۔ Split Perception‘ یعنی گزرے ہوئے تجربے کو پھر سے دہرانا۔ تیسری تھیوری بہت دلچسپ ہے۔ اس کے مطابق Deja Vuکو Neural Misfire کہتے ہیں‘ جس سے مراد ٹائمنگ کی چھوٹی سی ایسی غلطی جس کی وجہ سے انسانی دماغ کے مختلف حصے خواب کو حقیقت بنا کر دکھائیں۔ ایسی حقیقت جو اصل میں کوئی وجود نہیں رکھتی۔ ہماری ریاست میں پچھلے آٹھ عشروں سے Deja Vu ایک Spiralتجربہ بن چکا ہے۔ آپ اسے ہمارے ریاستی نظام کی اولڈ پلے بُک کا نام دے سکتے ہیں۔
اگر آپ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد 1953ء سے واقعات کا جائزہ لینا شروع کریں تو آپ کو پاکستان کی گورننس کی اولڈ پلے بُک کو ہر زمانے میں عوام کو Deja Vu دکھاتا ہوا پائیں گے۔ وہ بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ مسلسل اور ہر نئے زمانے میں اولڈ پلے بُک کے عین مطابق۔ آئیے ذرا اس خواب کا تعاقب کریں۔
بار بار Distractionکو قومی مسائل کا حل سمجھنا: جنرل اسکندر مرزا نے مشرقی پاکستان کے لوگوں کی رائے کو دبانے کے لیے پچھلی صدی میں 50ویں عشرے کے اندر مشرقی پاکستان میں غداری کی فیکٹری لگائی‘ جس میں بھارت نے ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کر دی۔ اس Deja Vuکی وجہ سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان کے راستے پر لڑھکا دیا گیا‘ نتیجہ ہم سب جانتے ہیں۔ اس وقت اہالیانِ بنگال کے اصل مطالبات تین تھے‘ ایک یہ کہ ڈھاکہ میں بھی پاکستان سیکرٹریٹ قائم کیا جائے۔ ڈھاکہ میں بھی سٹیٹ بینک بنایا جائے اور تیسرا یہ کہ مشرقی پاکستان میں موجود فوج کو ایسٹ پاکستان رائفلز (EPR) کا نام دینے کے بجائے دونوں بازوؤں میں عساکر کو ایک ہی نام سے پکارا جائے۔ ڈھاکہ میں زرعی ترقیاتی بینک‘ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ بینک اور اس طرح کے دوسرے قومی ادارے قائم کیے جائیں تاکہ مشرقی بازو ترقی کی دوڑ میں کمزور نہ رہ جائے۔ باشعور بنگالیوں نے Distractکیا ہونا تھا‘ ان کے مسائل بڑھتے گئے اور ساتھ ساتھ پورے مشرقی بنگال میں غصہ بھی اس سے زیادہ رفتار سے بڑھتا چلا گیا۔
ہمارے لیے پہلا تاریخی سبق یہ ہے کہ لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے ایک آدھ بار تو دھوکا دیا جا سکتا ہے لیکن بار بار ہرگز نہیں۔ اس وقت بھی پاکستان اور پاکستانی دونوں ناک تک مسائل کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں مگر اصل مسائل کی طرف توجہ کسی کی نہیں۔ ایسی صور تحال کو سیاسی Deja Vuکہنا ٹائم بم کہنے سے بہتر ہے۔ عالمی تنازعات میں مثبت رول سے کس کو انکار ہے‘ مگر ساتھ ساتھ یہ بھی ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ عالمی سیاسیات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کس کو اعتبار ہے؟
عوامی مسائل کے حل کے لیے ساتویں بحری بیڑے کا انتظار؟ جیو پولیٹکل ٹینشن اپنی جگہ‘ اگر ہم تاریخ کو اپنا رہنما مان لیں تو ایوب خان کے زمانے میں ہم کولڈ وار میں امریکہ کے فرنٹ لائنر تھے۔ ضیا کے مارشل لاء میں ہم اینٹی سوویت جہاد کے نام پر افغان وار میں امریکہ کی بیک بون رہے۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ نائن الیون کے بعد پرویز مشرف امریکہ کے لیے کامیاب اتحادی نہیں بلکہ Indispensableٹھہرے۔ ان تینوں ڈکٹیٹر شپس کا کل عرصہ ساڑھے اکتیس سال بنتا ہے۔ افراد کو چھوڑیں قوم اور ملک کی بات کریں۔ ہم نے امریکہ کی خدمت سے قوم کی خدمت تک کا سفر کیوں نہیں طے کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تینوں ادوار میں آلۂ کار ہم تھے اور مفاد امریکہ کا تھا۔ امریکہ نے پاکستان کے حوالے سے ہمیشہ شارٹ ٹرم گین پالیسی رکھی ہے۔ امریکہ پر اس بھاری انحصار کے نتیجے میں ریاست میں سٹرکچرل عدم توازن پیدا ہو گیا۔ اسی کے نتیجے میں نجی لشکر اور نو گو ایریاز نے جنم لیا۔ صرف اس ایک وجہ سے ہم نے پراکسی جنگوں میں 80 ہزار سے ایک لاکھ پاکستانیوں کو قربان کیا۔ اگر یہ پالیسی کامیاب تھی تو پھر پاکستان پائیدار ترقی کے دور میں کیوں داخل نہیں ہو سکا۔ جس طرح صرف اشتہاری مہم کسی کو لیڈر نہیں بنا سکتی‘ اگر ایسا ہوتا تو دانت مانجھنے والا پاؤڈر اور 99 فیصد جراثیم مارنے والا صابن دونوں لیڈر ہوتے۔
ہمارا قومی سفر آٹھ عشروں کے بعد بھی اسی Deja Vuمیں غوطہ خوری کر رہا ہے۔ دنیا کی ساری اقوام اور تمام ملکوں نے اسی معاشی اصول کو لانگ ٹرم کامیابی کا زینہ بنایا۔ ہماری پالیسی کبھی کچھ شیوخ و شاہ کے لیے اور کبھی مغربی طاقتوں کے مفاد اور ریلیف کے درمیان خوار ہونے پر مبنی ہے۔ باقی ساری دنیا کامیابی کے لیے پہلے ڈپلومیسی کا جال بچھاتی ہے‘ پھر ادارہ جاتی تھنک ٹینکس کے ذریعے قومی مقاصد اور ترجیحات کا تعین کرتی ہے۔ پھر ریاست کا نفع نقصان دیکھ کر پوزیشن لیتی ہے ۔ ہم پہلے فیصلہ کرتے ہیں پھر اس کے بعد فیصلے پر سوچنا شروع کرتے ہیں‘ اور باقی عمر اس پر پچھتانے کا وعدہ کر کے اپنے آپ سے مکر جاتے ہیں۔
اس میں کیا شبہ ہے کہ ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے‘ اس کے خلاف جنگ کا ٹالنا بڑے ثواب کا کام ہے مگر عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ بجلی‘ گیس‘ تیل‘ چولہا‘ دال روٹی اور 25کروڑ لوگ‘ ان جیسی بنیادی ضروریاتِ زندگی پہ توجہ کون دے گا؟ جب بھی خطے میں گریٹ گیم کے بڑے پلیئر آئے ہماری چوائس ہمیشہ امریکہ سے امریکہ تک محدود رہی۔ خلیج بنگال میں ساتویں بحری بیڑے کے داخلے کی خبروں کو نکال کر پڑھ لیں۔ تب سے اب تک ہم بیل آؤٹ پیکیج کے لیے کسی نہ کسی ساتویں بحری بیڑے کی آمد کی خوشی منا رہے ہوتے ہیں۔ چاہے وہ آئی ایم ایف کا بیڑا ہو‘ ورلڈ بینک کا‘ ایشیائی ترقیاتی بینک کا یا ورلڈ اکنامک فورم کا۔ کسی زمانے میں پنجاب کی ریہتل میں غریب بہاری برسی کھٹن جاتے تھے۔ اب یہ کام سال کے بارہ مہینے چلتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو ہیرا بارہ برس کی عمر میں مزدوری پر نکلا تھا‘ مزید 24 سال بعد واپس آیا تو اس کی کل کمائی کندھے پر کھیس اور ہاتھ میں گاجرتھی۔ حکمرانوں کی مستقل مزاجی کو داد دینا پڑتی ہے۔ وہی اولڈ پلے کا باب نمبر 129 صفحہ نمبر 420 اور ترکیب نمبر 9۔ نیا زمانہ دنیا بھر کو نئے انداز سکھا رہا ہے‘ لیکن ہمارا فنِ حکمرانی تبدیلی کے نیو ورلڈ آرڈر پر بھی تنِ تنہا اولڈ پلے بُک پر ڈٹا ہوا ہے۔
حکمرانی کب کرے گا جملہ امکانات پر؟
بند کب باندھے گا آخر قُلزمِ لمحات پر
دامنِ ہستی سے کب تک لوگ جھاڑے جائیں گے؟
مقبروں میں کب تک آخر چاند گاڑے جائیں گے؟