"SBA" (space) message & send to 7575

اوراندرونی محاذ ؟

ہمیشہ سے راج نیتی کا عالمی نظام اعتماد‘ استحکام اور ترقی کے تین اصولوں پر مبنی چلا آتا ہے۔ انسانی تاریخ میں طے شدہ حقیقت ہے کہ اہرامِ ترقی‘ تقدم و تمدن نیچے سے اوپر کو اٹھایا جاتا ہے۔ دنیا کی سب سے اونچی بلڈنگ ہو یا جھونپڑی‘ دونوں ہوا میں معلق رہ کر نہ ٹاور کہلائیں گے نہ رہائش گاہ۔
قارئینِ وکالت نامہ! آئیے انسانی جسد دیکھ لیں۔ ہمارے پائوں میں چھوٹی چھوٹی دس انگلیاں‘ پتلی سی ایڑی‘ اس سے آگے ایک ممبرین جسے fascia (فیشیا) کہتے ہیں۔ پھر نازک سے کچھ جوائنٹ اور انسانی جسم کی سب سے پتلی ہڈیاں۔ یہ بھی طے ہے انسان ہو یا چوپایہ‘ پستہ قد ہو یا طویل قامت‘ سوکھا ہو یا فربہ‘ انسانی باڈی کا سارا وزن صرف اور صرف پائوں اٹھاتے ہیں۔ اس کے پیچھے تخلیق کار کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ اس نازک اور کمپلیکس حصے کو بہت عزیز جاننا ہے‘ اسے ہمیشہ مضبوط بنائے رکھنا ہے۔ جو بھی کرّہ ارض پر آیا ا س کا ٹانگوں کے سہارے چلنا پھرنا اصل زندگی ہے۔ اہرامِ آدمیت کی یہ دو اکائیاں نہ رہیں تو سانسیں چل سکتی ہیں انسان ہرگز نہیں۔ اسی اصولِ قدرت پر ہر طرح کا عالمی نظام قائم ہے؛ اقتصاد سے لے کر سکیورٹی پیراڈائم تک۔ اس حوالے سے دلچسپ حقیقت یہ ہے۔ جس طرح عمارت کی بنیاد میں لگنے والی نچلی اینٹ نظر نہیں آتی مگر چھت کے اوپر اونچی منڈیر نظر آ جاتی ہے‘ عین اسی طرح سے ریاستی نظام میں اوپر نظر آنے والے علامتی کردار ادا کرتے ہیں لیکن تاسیسی اور بنیادی کردار آبادی کے سب سے نچلے طبقے کا ہے۔ چلیے بات کو اور آسان کر دیتے ہیں۔ ملک میں ٹیکسیشن کا نظام لے لیں‘ آج پاکستان کے ہر علاقے‘ ہر شعبے‘ ہر طبقے میں ملینز کے حساب سے ارب پتی اور کھرب پتی موجود ہیں۔ یہ نو دولتیے وقتاً فوقتاً اپنی بلیک منی کا پبلک ڈسپلے بھی کرتے ہیں۔ مگر اس جائز وناجائز کمائی پر قومی خزانے کو ٹیکس نہیں دیتے۔ ایک دوسرا طبقہ وہ ہے جو نسوار کی پڑیا‘ ماچس کی ڈبیا‘ آٹا‘ چینی‘ دال‘ چاول‘ گھی‘ موبائل ایزی لوڈ ہر چیز پر‘ ہر طرح کا ٹیکس ادا کرتا ہے۔ بجلی کے ہر یونٹ پر‘ گیس کے ہر مکعب فٹ پر اور پٹرولیم کی ساری مصنوعات کے ہر لٹر پر اَن گنت ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرتا ہے۔ یہ راندۂ درگاہ مخلوقِ خدا اندرونی محاذ کا سارا بوجھ سہارتی ہے‘ اس قدر مجبور جس کی مثال دنیا کے کسی خطے سے شاید ہی دستیاب ہو۔
شہیدِ ملت لیاقت علی خاں کے بعد ہمارے نظامِ ریاست نے اس آفاقی بنیادی اصول سے فوراً منہ موڑا لیکن جب جب ملک کے دستوری مخمل میں مارشل لائی ٹاٹ کا پیوند جوڑا گیا سب سے پہلے قوم کا اداروں پر سے اعتماد رخصت ہوا۔ عام فہم بات ہے کہ جس فرد‘ گروہ یا ہجوم پر سے اعتبار ہی اُٹھ چکا ہو وہ کس طرح سے نظام کو استحکام دے سکتا ہے۔ استحکام کی عدم موجودگی میں ترقی کے دعوے منظم چار سو بیسی کے علاوہ کچھ نہیں۔ وطنِ عزیز میں کسی معاملے میں اعتماد‘ استحکام‘ ترقی کو پانے کے لیے تلاشِ گمشدہ کا اشتہار دینا پڑے گا۔ اب یہ راز کی بات نہیں ہماری پالیسی سازی میں کوئی ایک بنیادی نقص نہیں بلکہ نقائص کے انبار لگے ہیں۔ اس گمبھیرتا کو سمجھنے کے لیے یہاں تین بنیادی خرابیوں کی نشاندہی کافی ہے۔
پالیسی سازی کی پہلی خرابی: پچھلی صدی کے آخری تین عشرے اور موجودہ صدی کے ڈھائی عشرے عالمِ انسانیت کی تاریخ کا سب سے بڑا گیم چینجر ثابت ہوئے۔ ٹیلی فون آپریٹر کی جگہ وَٹس ایپ نے لے لی‘ رقعہ بازی اور خط لکھنے کا دور رخصت ہوا‘ فیس آف‘ وِڈیو کال‘ سکائپ‘ زوم نے سارے براعظموں میں بیک وقت گفتگو اور میٹنگز کو ممکن بنا دیا۔ ترقی یافتہ‘ ترقی پذیر‘ ویلفیئر سٹیٹ اور غیر ترقی یافتہ ملکوں کی اکثریت کا ہمہ وقت فوکس معیشت کے نئے ٹولز پر ہے۔ ہم دعوے تو ترقی کے کرتے ہیں‘ جہاز بنا لیتے ہیں لیکن اپنی لوئر مڈل کلاس‘ غریب عوام اور مڈل کلاس کے لیے اُن کی پہنچ میں آنے والی ایک سستی کار تک نہیں بنا سکے۔ کاروں کی پروڈکشن کے دعوے بے بنیاد ہیں اس لیے کہ ہم کوئی انڈسٹری نہیں لگا سکے۔ ہم نے اسمبلی پلانٹ نصب کر رکھے ہیں۔ ہم وہ بھی نہیں کر سکے جو دنیا بھر میں یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے ذریعے ہو رہا ہے۔ ان یونیورسٹیوں کو فوری ضرورت کے پروجیکٹ بطور ماڈل تیار کرنے کے لیے بھجوائے جاتے ہیں۔ یوں نئی ایجادات اور عام آدمی کے لیے آسان زندگی گزارنے کے راستے کھلتے گئے۔ ٹریفک انجینئرنگ‘ ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی توند بردار ماہرین کے بس کا روگ نہیں رہا۔ پبلک کی آسانیاں ڈھونڈنے کے لیے یہ شعبے جنریشن زی کے حوالے کرنا ہوں گے۔ ملک میں ابھی تک جنریشن زی کی اِمپاورمنٹ‘ اعتماد سازی اور نیشن بلڈنگ میں شرکت کے بجائے اسے دبانے‘ مایوس کرنے اور ٹیکنالوجی سے محروم رکھنے کے طریقے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ انٹرنیٹ بلیک آئوٹ‘ آن لائن سلو ڈائون اور فائر وال اسی خرابی کے تازہ ثبوت ہیں۔
پالیسی سازی کی دوسری خرابی: ہمارے علاوہ کیا کوئی دوسرا ملک ایسا ہے جہاں انتخابی نتائج بدلنے اور پبلک اوپینئن کی ری انجینئرنگ کرنے کے لیے انتخابی‘ پارلیمانی ادارے اور دیگر ملوث ہوں؟ جمعہ کے روز ایک رائونڈ ٹیبل ٹاک میں شرکت کی‘ جہاں شہرِ اقتدار کے معروف صحافی نے ایک سوال یہ کیا کہ ہم دستور کو کاغذ کا چیتھڑا سمجھتے ہیں‘ پبلک کی رائے چند درجن فارم 47 سے تبدیل ہو جاتی ہے‘ ہر پڑھا لکھا نوجوان اپنا مستقبل پاکستان سے باھر ڈھونڈتا ہے‘ کسی جگہ میرٹ ہے نہ ٹرانسپیرنسی‘ ترقی کا شارٹ کٹ راستہ رشوت اور سفارش سے کھلتا ہے‘ ہم نعرے جمہوریت‘ انصاف اور امن وامان کے مارتے ہیں سوال پوچھیں تو لاٹھیوں اورگھونسوں سے چہرے کی کاسمیٹک سرجری ہوتی ہے۔ اس توہینِ آدمیت کو ہم نے سافٹ ویئراَپ ڈیٹ کا نام دے کر ٹیکنالوجی کی دنیا کا مذاق اُڑا رکھا ہے۔ ایسے میں مستقبل بین‘ آزاد سوچ کہاں پنپ سکتی ہے۔
پالیسی سازی کی تیسری خرابی: جس طرح سرکاری ہسپتالوں میں انجمنِ بہبودِ مریضاں میں مریض کے بجائے انجمنِ تاجران کو نمائندگی ملتی ہے۔ تھانے کی امن کمیٹی میں مخبر‘ کن ٹُٹے‘ بلیکیے اور منافع خور شامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح نئے زمانے کی یوتھ پالیسی بنانے والے 65 سے 75 سال کے بابے ڈھونڈ ڈھونڈ کر عہدوں اور ایکسٹینشن پر آتے جاتے جاتے ہیں۔ اندرونی محاذ‘ قرضوں کی بھیک‘ عوام کی جیب تراشی اور ترقی کی بے وقعت چیخیں مارنے پہ یہ شعر موزوں ہوا:
پھر بستی میں در آئے ہیں ڈھول بجانے والے
اوروں کو بھی لوٹتے ہیں خود مانگ کے کھانے والے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں