"SBA" (space) message & send to 7575

ایک موٹر سائیکل دو سواریاں سستا پٹرول

جب کوئی سرزمین بے آئین ہو جائے تب اس پہ ایسے قوانین بنتے ہیں جو عوام سے بولنے کا حق چھین لیں۔ ڈکٹیٹر شپ‘ فاشزم‘ وَن مین رُول یا بادشاہت ان کے بھی دو کان ہوتے ہیں۔ ایک ساکت و جامد و عُمی‘ دوسرا اوپن ایئر تھیٹر۔ اس کان سے ہر طرح کے مراثی تعریف و توصیف کرنے کا اعزازحاصل کرتے ہیں جبکہ دوسرا کان تنقید و تنقیص کرنے والوں کے لیے کبھی نہیں کھلتا۔ یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ پچھلے چار سال میں 1973ء کے دستور میں دیے گئے بنیادی حقوق‘ شہری آزادیوں‘ فریڈم آف پریس اور اظہارِ رائے کے حق کو روکنے کے لیے دیوار بر دیوار اور اَن گنت گنبدِ بے در بنا دیے گئے۔
جب کسی سماج میں حالات ایسے ہوں تو اصلی شعر و ادب جنم لیتا ہے جو ایک طرف تخلیق کاروں کے لیے تادیب و تعذیب کے تندور جلاتا ہے جبکہ دوسری جانب خوشامد اور کاسہ لیسی کو ادب کی ریوڑیاں بنا کر تقسیم کرتا ہے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے جونہی دستور بحال ہو عوام کی زبان پر مزاحمتی ادب تخلیق کرنے والوں کے لیے احترام کے گیت ابھرنے لگتے ہیں‘ ہمیشہ سے یہی حقیقی ادب کا سب سے بڑا اعزاز چلا آ رہا ہے۔ اس کا مقابلہ نہ سرکاری اعزازیہ کر سکتا ہے نہ درباری اعزازات۔ اس قبیل کے تخلیق کاروں کے سرخیل شاعرِ عوام حبیب جالب کو معلوم نہیں کس موصوف کے کمالات پر اپنے عوام کا حرفِ مدعا یوں کہنا پڑا تھا:
یہ اعجاز ہے حسنِ آوارگی کا
جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے
جو دامن پہ آئیں تو ہو جائیں رسوا
کچھ ایسے بھی اشکِ رواں چھوڑ آئے
یہ فکرِ جالب‘ بے فکری کابینہ کے ایک وزیر کے بے تدبیر بیان کو دیکھ کر پھر سے اجاگر ہوئی۔ یادش بخیر جب ہائبرڈ نظام کی کاٹھ کی ہنڈیا نئی نئی چولہے پر چڑھائی گئی تب بھی اس ہمہ صفت موصوف نے کہا تھا کہ اگر ڈالر ایک سو روپے پاکستانی سے نیچے نہ لایا تو میرا نام بدل دینا۔ اسی وقت سے اہلِ عوامی ادب نے ڈالر کو موصوف کا مستقل تخلص کر دیا۔ پاکستان میں کذب بیانی قابلِ دست اندازیٔ پولیس جرم ہے۔ اسے Perjuryکہتے ہیں۔ یہ جرم کسی ایک قانون میں درج نہیں بلکہ کئی قوانین میں تحریر ہے مگر انسدادِ کذب بیانی کے قوانین پر عملدرآمد بالکل ووٹ کو عزت دینے کے عمل سے ملتا جلتا ہے کیونکہ ''ووٹ کو عزت دو‘‘ والا کمر شل نعرہ بھی اسی جتھے کا تھا۔ مگر ہوا یوں کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے ووٹ لیے بغیر عہدے سنبھالنے کے بعد ووٹ کی تقدیس اور محترمی و مکرمی ووٹر صاحب کو کتنی عزت دی‘ اس کا حساب کتاب ہم قارئینِ وکالت نامہ آپ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ڈالرسرکار نے اپنے حالیہ بیان میں پٹرول کو عزت دیتے ہوئے 25کروڑ لوگوں کو دو راکٹ سائنس منصوبے ان لفظوں میں سمجھائے۔
پہلا منصوبہ ایک موٹر سائیکل دو سواریاں: وزیر موصوف نے عام لوگوں کو پٹرول کی بے تحاشا مہنگائی کے پریشر سے محفوظ رہنے کا نایاب نسخہ پیش کیا۔ انکشاف یہ کیا ہے کہ اگر ایک موٹر سائیکل پر دو سواریاں بیٹھ جائیں تو پٹرول کی قیمت آدھی ہو جائے گی۔ تین سو روپے فی لٹر پٹرول دو پر تقسیم کریں تو پٹرول کا لٹر فی سواری 150روپے کا ہوا۔ پنجاب کے میلوں میں بھبکا مارنے کے بعد ڈھولچی سے کہا جاتا ہے ''مار اوئے ڈھولیا ڈھول‘‘ ابھی ڈھولچی نے ڈھول پر پہلی تھاپ لگائی تھی کہ پٹرول کی قیمت چار سو روپے فی لٹر پر چھلانگ لگا گئی۔ رپورٹ شدہ حقائق کے مطابق یکم فروری 2026ء سے لے کر اب تک پٹرول کی قیمت میں 56فیصداضافہ ہوا ہے۔ دوسری سائنس یہ سمجھائی گئی کہ ہم نے پٹرول کی قیمت چار سو روپے فی لٹر ہونے سے روک کر دکھا دی۔ ڈالر والی سائنس کی طرح یہ سائنسی فارمولہ بھی درست ثابت ہوا۔ 25کروڑ لوگوں کے وسیع عوامی مفاد میں اب پٹرول 399.8روپے فی لٹر میں بِک رہا ہے۔ کروڑوں روپے کی گاڑیاں اور اربوں روپے کے جہازوں میں مفت کا پٹرول انجوائے کرنے والوں نے چار سو روپے لٹر پٹرول پر 14پیسے فی لٹر کے حساب سے قوم کو ریلیفِ عظیم دیا۔ ڈیزل میں بھی ہائبرڈ نظام نے ڈنڈی نہیں ماری وہ بھی چار سو روپے فی لٹر پر پہنچنے سے پہلے اسے 399.58روپے پر قابو کر لیا گیا۔ اسی موقع پر شاعرِ پٹوار نے کہا تھا‘ ریلیف دے نعرے وجن گے۔
دوسرا منصوبہ عالمی منڈیوں کا قصور: سرکاری بیانیے کے مطابق چونکہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کے بعد تیل کی عالمی منڈیوں میں گڑبڑ ہوئی اس لیے پٹرول‘ ڈیزل‘ مٹی کا تیل مہنگا کرنے میں حکومت کا کوئی قصور نہیں۔ اس بے بنیاد دعوے کی تردید کے لیے ایک بار پھر رپورٹ شدہ حقائق دیکھ لینا بہتر ہو گا۔
آئیے پہلے چلتے ہیں لاہور سے 235میل دور بھارت کے دارلحکومت دہلی‘ جہاں پٹرولیم کی قیمتیں 278پاکستانی روپے فی لٹر پر برقرار رکھی گئی ہیں۔ یہ بھی ریکارڈ کی بات ہے کہ عالمی یا امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران سے ہمارے کوئی آفیشل ٹریڈ تعلقات نہیں ہیں۔ ہمارے مقابلے میں بھارت چا بہار سمیت ایران کا ٹریڈ پارٹنر تھا اور ہے۔ بھارت ایرانی تیل خرید کر استعمال کرتا ہے۔ دہلی سے آگے ڈھاکہ میں صرف 19فیصد اضافے کے ساتھ پٹرولیم کی قیمتیں 306روپے پاکستانی تک پہنچی ہیں۔ سادہ گنتی بتاتی ہے کہ دہلی میں پٹرول 122روپے اور ڈھاکہ میں 94روپے فی لٹر پاکستان سے سستا ہے۔
اب آیئے! ایک ماسٹر ٹرِک کی طرف۔ ان تینوں قیمتوں میں فرق صرف پٹرولیم لیوی کا نہیں بلکہ اس ٹیکس کا ہے جو پاکستانی عوام ادا کر رہے ہیں۔ شہرِ اقتدار کے مقتدر ابھی اس ٹیکس میں مزید اضافہ کریں گے۔ لیویز مزید بڑھانے کا اعلان ہائبرڈ نظام پہلے کر چکا۔ اگلے تیس دن کے دوران مراحل میں پٹرول کی قیمت کئی صد روپے مزید بڑھائی جائے گی۔ وہ بھی قسطوں میں۔
اصل مسئلہ ملک میں دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم اور طبقاتی سماج میں دراڑیں ہیں۔ ریاست کے پاس عوام پر ٹیکسیشن کے علاوہ کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے۔ منیجرز کا مسئلہ نہ سستا پٹرول ہے نہ روٹی نہ عوام۔ باقی سب بے فیض‘ فریب سے آلودہ کہانیاں ہیں۔
منبر پہ دل فریبی ٔآواز کا فسوں
محراب کی زباں پہ خطابت کی ساحری
دامن پہ داغ ہائے ریا کی علامتیں
دل میں نہ سوزِ عشق‘ نہ عرفاں‘ نہ راہبری

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں