اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے رفقا کی زندگی کو بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الممتحنہ کی آیت: 4 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''(مسلمانو!) تمہارے لیے ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں (کے طرزِ عمل) میں بہترین نمونہ ہے‘‘۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جہاں بطور مقتدا‘ پیشوا اور رہنما جمیع انسانیت کی رہنمائی کا بطریق احسن فریضہ سرانجام دیا وہیں بحیثیتِ والد بھی آپ علیہ السلام کی زندگی میں ہمارے لیے بہترین رہنمائی موجود ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ بطور والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کردار کو بہت خوبصورت انداز میں کلامِ حمید میں بیان فرماتے ہیں۔ آپ نے سیدنا اسماعیل علیہما السلام کی ولادت سے قبل ایک صالح بیٹے کی دعا مانگی جس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الصافات کی آیات: 100 تا 101 میں کچھ یوں بیان فرمایا: ''اے میرے رب! مجھے بیٹا عطا کر جو صالحین میں سے ہو۔ تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی‘‘۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کچھ دوڑ دھوپ کے قابل ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک بڑی آزمائش سے گزرنا پڑا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس واقعہ کو سورۃ الصافات کی آیت: 102 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''پھر جب وہ (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے تو اس (ابراہیم) نے کہا: میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا لائیے ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے‘‘۔
اسی طرح سیدنا ابراہیم نے حضرت اسماعیل علیہما السلام کو ایسی بیوی کے ساتھ رہنے کی تلقین کی جو اللہ کی نعمتوں کا شکر کرنے والی تھی۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ''حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شادی کے بعد ابراہیم علیہ السلام اپنے چھوڑے ہوئے خاندان کو دیکھنے آئے۔ اسماعیلؑ گھر پر نہیں تھے۔ اس لیے ابراہیمؑ نے ان کی بیوی سے اسماعیل کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ روزی کی تلاش میں کہیں باہر گئے ہیں۔ پھر آپ نے ان سے ان کے معاش وغیرہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حالت اچھی نہیں ہے‘ بڑی تنگی سے گزر اوقات ہوتی ہے۔ اس طرح انہوں نے شکایت کی۔ ابراہیمؑ نے ان سے فرمایا کہ جب تمہارا شوہر آئے تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔ پھر جب اسماعیلؑ واپس تشریف لائے تو جیسے انہوں نے کچھ انسیت سی محسوس کی اور دریافت فرمایا: کیا کوئی صاحب یہاں آئے تھے؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں ایک بزرگ اس اس شکل کے یہاں آئے تھے اور آپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ میں نے انہیں بتایا (کہ آپ باہر گئے ہوئے ہیں) پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزر اوقات کا کیا حال ہے؟ تو میں نے ان سے کہا کہ ہماری گزر اوقات بڑی تنگی سے ہوتی ہے۔ حضرت اسماعیلؑ نے دریافت کیا کہ انہوں نے تمہیں کچھ نصیحت بھی کی تھی؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں! مجھ سے انہوں نے کہا تھا کہ آپ کو سلام کہہ دوں اور وہ یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ آپ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں۔ حضرت اسماعیلؑ نے فرمایا کہ وہ بزرگ میرے والد تھے اور مجھے یہ حکم دے گئے ہیں کہ میں تم سے جدا ہو جائوں‘ اب تم اپنے گھر جا سکتی ہو۔ چنانچہ اسماعیلؑ نے انہیں طلاق دے دی اور بنی جرہم ہی سے ایک دوسری عورت سے شادی کر لی۔ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا‘ ابراہیمؑ ان کے یہاں نہیں آئے۔ پھر جب کچھ عرصے کے بعد وہ تشریف لائے تو اس مرتبہ بھی اسماعیلؑ اپنے گھر پر موجود نہیں تھے۔ آپ ان کی بیوی کے یہاں گئے اور ان سے اسماعیلؑ کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے لیے روزی تلاش کرنے گئے ہیں۔ ابراہیمؑ نے پوچھا تم لوگوں کا حال کیسا ہے؟ ان کی گزر بسر اور دوسرے حالات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارا حال بہت اچھا ہے‘ بڑی فراخی ہے‘ انہوں نے اس کیلئے اللہ کی حمد وثنا کی۔ ابراہیمؑ نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ کھاتے کیا ہو؟ انہوں نے بتایا کہ گوشت! دریافت فرمایا کہ پیتے کیا ہو؟ بتایا کہ پانی! ابراہیمؑ نے ان کے لیے دعا کی: اے اللہ ان کے گوشت اور پانی میں برکت نازل فرما۔ (آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ ان دنوں انہیں اناج میسر نہیں تھا۔ اگر اناج بھی ان کے کھانے میں شامل ہوتا تو ضرور ابراہیم علیہ السلام اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔ صرف گوشت اور پانی کی خوراک میں ہمیشہ گزارہ کرنا مکہ کے سوا اور کسی زمین پر بھی موافق نہیں پڑتا)۔ ابراہیمؑ نے (جاتے ہوئے) فرمایا کہ جب تمہارے شوہر واپس آ جائیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور ان سے کہہ دینا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ باقی رکھیں۔ جب اسماعیلؑ واپس تشریف لائے تو پوچھا کہ کیا یہاں کوئی آیا تھا؟ بیوی نے بتایا کہ جی ہاں ایک بزرگ‘ بڑی اچھی شکل وصورت کے آئے تھے۔ بیوی نے آنے والے بزرگ کی تعریف کی اور بتایا کہ انہوں نے مجھ سے آپ کے متعلق پوچھا تو میں نے بتا دیا۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزر بسر کا کیا حال ہے‘ تو میں نے بتایا کہ ہم اچھی حالت میں ہیں۔ اسماعیلؑ نے دریافت فرمایا کہ کیا انہوں نے تمہیں کوئی وصیت بھی کی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے آپ کو سلام کہا تھا اور حکم دیا تھا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو باقی رکھیں۔ اسماعیلؑ نے فرمایا کہ وہ بزرگ میرے والد تھے اور چوکھٹ تم ہو اور وہ مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں اپنے ساتھ رکھوں‘‘۔
جب تعمیرِ بیت اللہ کا وقت آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس گھر کی تعمیر کے عظیم کام میں اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھی شریک فرمایا اور رہتی دنیا تک کے والدین کیلئے ایک مثال قائم کی کہ جس وقت انسان نیکی کا کام کرتا ہو تو اس کو اپنی اولاد کو بھی ان خیر کے کاموں میں شریک کرنا چاہیے۔ اس واقعہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیات: 127 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''ابراہیم اور اسماعیل کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ ہمارے پروردگار! تُو ہم سے (یہ کارِ خیر) قبول فرما‘(بیشک) تُو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے‘‘۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جہاں اپنی اولاد کی نیک تربیت کی اور نیک شریکِ زندگی کے حوالے سے ان کی رہنمائی کی‘ وہیں ان کیلئے بہت سی خوبصورت دعائیں بھی کیں جن کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ ابراہیم کی آیات: 35 تا 40 میں کچھ یوں بیان فرمایا: ''(ابراہیم کی یہ دعا بھی یاد کرو) جب انہوں نے کہا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن والا بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے پناہ دے۔ اے میرے پالنے والے معبود! انہوں نے بہت سے لوگوں کو راہ سے بھٹکا دیا ہے۔ پس میری اطاعت کرنے والا میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تُو بہت ہی معاف اور کرم کرنے والا ہے۔ اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اولاد اس بے کھیتی کی وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے۔ اے ہمارے پروردگار! یہ اس لیے کہ وہ نماز قائم رکھیں‘ پس تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے۔ اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما تاکہ یہ شکر گزاری کریں۔ اے ہمارے پروردگار! تو خوب جانتا ہے جو ہم چھپائیں اور جو ظاہر کریں۔ زمین وآسمان کی کوئی چیز اللہ پر پوشیدہ نہیں۔ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسماعیل واسحاق عطا فرمائے۔ کچھ شک نہیں کہ میرا پالنہار اللہ دعائوں کا سننے والا ہے۔ اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اولاد سے بھی‘ اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما‘‘۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو دین کے ساتھ وابستہ رہنے کی وصیت بھی کی۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے‘ آمین!