"AIZ" (space) message & send to 7575

اعمال کی قبولیت کی دو شرائط

انسانوں کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ ان کے اعمال اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قبول ہو جائیں اور اس حوالے سے بہت سے لوگ اپنی بساط کے مطابق جستجو بھی کرتے رہتے ہیں‘ تاہم اعمال کی قبولیت کی دو اہم شرائط کو کئی مرتبہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
اعمال کی قبولیت کی پہلی شرط یہ ہے کہ انسان اپنی نیت کی اصلاح کرے اور اعمال کو خالصتاً اللہ تبارک و تعالی کی رضا کیلئے انجام دے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری کی پہلی حدیث غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔صحیح بخاری میں علقمہ بن وقاص اللیثی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا اور آپ منبر پر موجود تھے‘ آپ فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا؛ آپؐ فرما رہے تھے کہ '' تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت ( ترک وطن ) دولتِ دنیا حاصل کرنے کیلئے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض سے ہو پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کیلئے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے‘‘۔ یہ حدیث واضح کرتی ہے کسی بھی انسان کے اعمال کی بنیاد اس کی نیت پر ہوتی ہے۔ اگر کوئی بھی شخص خالصتاً اللہ کی رضا کیلئے کوئی کام کرتا ہے تو وہ عمل اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں نیکی کی حیثیت سے درج کیا جائے گا جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی عمل کسی اور مقصد کیلئے کیا جاتا ہے تو اس کو اسی مقصد کے ساتھ جوڑا جائے گا۔
جب کتبِ احادیث کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بہت سے اچھے اعمال جب اخلاص کے بجائے دکھلاوے کی نیت سے کیے جاتے ہیں تو وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ''قیامت کے روز سب سے پہلا شخص جس کے خلاف فیصلہ آئے گا‘ وہ ہو گا جسے شہید کر دیا گیا۔ اسے پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی (عطا کردہ) نعمت کی پہچان کرائے گا تو وہ اسے پہچان لے گا۔ وہ پوچھے گا تو نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں لڑائی کی حتیٰ کہ مجھے شہید کر دیا گیا۔ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا تُو نے جھوٹ بولا۔ تم اس لیے لڑے تھے کہ کہا جائے: یہ (شخص) جری ہے۔ اور یہی کہا گیا‘ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس آدمی کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ آدمی جس نے علم پڑھا ‘ پڑھایا اور قرآن کی قرأت کی‘ اسے پیش کیا جائے گا۔ ( اللہ تعالیٰ) اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا‘ وہ پہچان لے گا۔ وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا : تُو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا : میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور تیری خاطر قرآن کی قرأت کی۔ ( اللہ ) فرمائے گا : تُو نے جھوٹ بولا‘ تُو نے اس لیے علم پڑھا کہ کہا جائے (یہ) عالم ہے اور تُو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ کہا جائے : یہ قاری ہے‘ وہ کہا گیا۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا حتیٰ کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اور وہ آدمی جس پر اللہ نے وسعت کی اور ہر قسم کا مال عطا کیا اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا‘ وہ پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا : تم نے ان میں کیا کیا؟ کہے گا : میں نے کوئی راہ نہیں چھوڑی جس میں تمہیں پسند ہے کہ مال خرچ کیا جائے مگر ہر ایسی راہ میں خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ بولا ہے ‘ تم نے ( یہ سب ) اس لیے کیا تاکہ کہا جائے کہ وہ سخی ہے‘ ایسا ہی کہا گیا۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا‘ پھر آگ میں ڈال دیا جائے گا‘‘۔ اس حدیث پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص اللہ تبارک و تعالی کی رضا کے بجائے اپنے نام و نمودکیلئے کوئی کام کرے گا‘ اس کا وہ کام اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوگا۔ مذکورہ بالا دونوں احادیث اخلاص کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ اگر انسان مخلص ہو تو اللہ تبارک و تعالی اس کے اعمال کو قبول کر لیتے ہیں۔
نیت کی اصلاح کے ساتھ ساتھ ایک اور شرط کو بھی اہمیت دینا انتہائی ضروری ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے اعمال اخلاص کے باوجود بھی مقبول نہیں ہو سکیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نبی کریمﷺ کی سنت مبارکہ کے مطابق نہیں ہوں گے۔ چنانچہ کوئی بھی انسان جب مخلص ہو کر کوئی عمل کرتا ہے تو اس کو اس عمل کو سنتِ نبوی شریف کے مطابق کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید کے متعدد مقامات پر نبی کریمﷺ کے اسوہ حسنہ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔سورۃ الاحزاب کی آیت: 21 میں ارشاد ہوا'' یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے‘ ہر اس شخص کیلئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک و تعالی سورہ آل عمران کی آیت : 31 میں نبی کریمﷺ کی اتباع کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ''کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو‘ خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گااور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ اس کے مد مقابل ایسا شخص جو نبی کریمﷺ کے فرامین مبارک سے انحراف کرتا ہے‘ اس کے بارے میں قرآن مجید کے متعدد مقامات پر سخت وعید سنائی گئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالی سورۃ النور کی آیت: 63میں ارشاد فرماتے ہیں ''سنو جو لوگ حکمِ رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے‘‘۔
اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں اہلِ ایمان کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کی ہر بات کو بلا چون و چرا تسلیم کریں۔جو شخص اس حکم سے انحراف کرتا ہے‘ اس کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک و تعالی سورۃالنساء کی آیت میں ارشاد فرماتے ہیں ''سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں‘ پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں‘‘۔
ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہر مومن و مسلمان کو دین کے تمام معاملات میں نبی کریمﷺ کی اتباع کرنی چاہیے اور کسی بھی طور پر آپﷺ کے اسوہ سے انحراف نہیں کرنا چاہیے۔ ایک شخص جو خلوصِ نیت سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کیلئے نماز ادا کرتا ہے لیکن نماز کی رکعتوں اور ارکان میں اضافہ کرتا ہے ‘ ایسے شخص کی نماز عنداللہ مقبول نہیں ہوگی۔ اسی طرح کوئی شخص جو حج یا عمرے کے سفرپر جائے اور طواف اور سعی کے چکروں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہے تو اس کے وہ چکر اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوں گے۔چنانچہ اعمال کی قبولیت کیلئے جہاں اصلاحِ نیت ضروری ہے وہیں نبی کریمﷺ کی اتباع اور آپﷺ کی سنت سے تمسک کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ جو شخص ان دو شرائط کو پورا کر لیتا ہے‘ اللہ تبارک و تعالی اس کے اعمال کو قبول کر لیتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی ہماری نیت کی اصلاح فرما ئے‘ ہمیں نبی کریمﷺ کی حقیقی اتباع کرنے کی توفیق دے اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ،آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں