وہ اخلاقی برائیاں جو انسان کے ایمان کے لیے انتہائی ہلاکت خیز ہیں ان میں سے ایک برائی جھوٹ کا بولنا ہے۔ بہت سے لوگ زندگی کے مختلف معاملات میں جھوٹ سے کام لیتے ہیں جبکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سچائی کو اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیات: 70 تا 71 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو تاکہ اللہ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناہ معاف فرما دے‘‘۔
انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت کا ایک امتیازی پہلو یہ تھا کہ وہ ہمیشہ سچائی کی دعوت دیتے رہے اور اس حوالے سے انہوں نے معاندین کی دشمنی‘ لوگوں کی مخالفت اور بااثر لوگوں کے دباؤ کی کوئی پروا نہ کی۔ وہ اس بات کو سمجھتے تھے کہ لوگوں کی اصلاح کے لیے حق بات کرنا ضروری ہے؛ چنانچہ انبیاء کرام علیہم السلام توحید کی دعوت کو بغیر کسی آمیزش اور کمی بیشی کے لوگوں کے سامنے رکھتے رہے۔ بہت سے لوگوں نے ان کی دعوت کی وجہ سے ان کی مخالفت کی لیکن انہوں نے اس حوالے سے کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا۔ نہ تو حق وباطل کی آمیزش سے کام لیا اور نہ ہی حق کو چھپانے پر آمادہ وتیار ہوئے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے کلام میں بھی حق وباطل کی آمیزش اور حق کو چھپانے سے شدت سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 42 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور حق کو باطل کے ساتھ خَلط مَلط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ تمہیں تو خود اس کا علم ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ البقرہ ہی کے ایک اور مقام پر حق چھپانے والوں کے بارے میں بڑی سخت وعید سنائی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیات: 159 تا 160 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لیے بیان کر چکے ہیں ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔ مگر وہ لوگ جو توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں اور (حق) بیان کر دیں تو میں ان کی توبہ قبول کر لیتا ہوں‘‘۔ ان آیات مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کسی بھی طور پر دین اور اس کے ابلاغ کے حوالے سے حق چھپانے کو پسند نہیں فرماتے۔
زندگی کے بہت سے دیگر معاملات میں بھی سچائی کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔ قرونِ اولیٰ اور اسلام کے ابتدائی دور کے حکمران لوگوں سے جو وعدہ کرتے‘ اس پر پورا اترتے تھے۔ آج کل اس بات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ بہت سے سیاسی رہنما عوام سے غلط بیانی کرتے اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے جھوٹ سے کام لیتے ہیں جبکہ ان کی نیت میں پہلے ہی سے یہ بات موجود ہوتی ہے کہ وہ عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کریں گے۔ کاروباری معاملات میں بھی سچائی سے کام لینا انتہائی ضروری ہے۔ بہت سے لوگ اچھے اور برے مال کو ملا کر بیچتے‘ صاف مال کو سامنے کرتے اور گھٹیا مال خریدار کو دے دیتے ہیں‘ جھوٹی قسمیں کھاتے اور مال کو بیچتے ہوئے اس میں ایسے اوصاف کو بیان کرتے ہیں جو حقیقی نہیں ہوتے۔ وعدے کو عام طور پر وقت ٹالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کاروباری طور پر مال کا تقاضا کرنے والوں سے جھوٹے وعدے کر لیے جاتے ہیں اور جب مال یا رقم کی ادائیگی کا وقت آتا ہے تو نیا وعدہ کر لیتے ہیں۔ وہ اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ انسان کو اپنے وعدوں کے حوالے سے اللہ کی بارگاہ میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 34 میں ارشاد ہوا: ''اور وعدے پورے کرو کیونکہ قول وقرار کی باز پرس ہونے والی ہے‘‘۔
کاروبار میں پورا تولنا اور پورا ماپنا سچائی ہی کا مظہر ہے۔ اس کے مدمقابل ماپ تول میں کمی بیشی کرنا درحقیقت جھوٹ ہی کی ایک قسم ہے۔ کاروباری معاملات میں جھوٹ اور بدعنوانی سے کام لینے والی ایک پوری قوم اللہ کے غضب کا نشانہ بنی۔ حضرت شعیب علیہ السلام قوم مدین کے لوگوں کو اللہ کی توحید کے ساتھ ساتھ پورا ماپنے اور پورا تولنے ہی کی دعوت دیا کرتے تھے لیکن ان کی قوم کے لوگ اس برائی کو چھوڑنے پر آمادہ وتیار نہیں ہوئے اور اللہ کے غضب کا نشانہ بنے۔ قومِ شعیب کا واقعہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے‘ جن میں سے ایک مقام سورۂ ہود کی آیات: 84 تا 95 ہے‘ جن میں یہ واقعہ کچھ یوں بیان کیا گیا ہے: ''اور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا‘ اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو‘ میں تو تمہیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں اور مجھے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف (بھی) ہے۔ اے میری قوم! ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کرو‘ لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد اور خرابی نہ مچاؤ۔ اللہ کا حلال کیا ہوا جو بچ رہے تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے‘ اگر تم ایمان والے ہو‘ میں تم پر کچھ نگہبان نہیں ہوں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اے شعیب! کیا تیری صلا ۃ تجھے یہی حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور ہم اپنے مالوں میں جو کچھ چاہیں اس کا کرنا بھی چھوڑ دیں‘ تو تُو بڑا ہی باوقار اور نیک چلن آدمی ہے۔ کہا: اے میری قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل لیے ہوئے ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بہترین روزی دے رکھی ہے‘ میرا یہ ارادہ بالکل نہیں کہ تمہاری مخالفت کر کے خود اس چیز کی طرف جھک جاؤں جس سے تمہیں روک رہا ہوں‘ میرا ارادہ تو اپنی طاقت بھر اصلاح کرنے کا ہی ہے۔ میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے‘ اسی پر میرا بھروسا ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ اور اے میری قوم (کے لوگو) کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو میری مخالفت ان عذابوں کا مستحق بنا دے جو قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح کو پہنچے ہیں۔ اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور نہیں۔ تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو‘ یقین مانو کہ میرا رب بڑی مہربانی والا اور بہت محبت کرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا: اے شعیب! تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتیں اور ہم تو تجھے اپنے اندر بہت کمزور پاتے ہیں‘ اگر تیرے قبیلے کا خیال نہ ہوتا تو ہم تو تجھے سنگسار کر دیتے‘ اور ہم تجھے کوئی حیثیت والی ہستی نہیں گنتے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو! کیا تمہارے نزدیک میرے قبیلے کے لوگ اللہ سے بھی زیادہ ذی عزت ہیں کہ تم نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے‘ یقینا میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو‘ سب کو گھیرے ہوئے ہے۔ اے میری قوم کے لوگو! اب تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں‘ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کس کے پاس وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے اور کون ہے جو جھوٹا ہے۔ تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔ جب ہمارا حکم (عذاب) آ پہنچا تو ہم نے شعیب کو اور ان کے ساتھ (تمام) مومنوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات بخشی اور ظالموں کو سخت چنگھاڑ کے عذاب نے دھر دبوچا‘ جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ہو گئے۔گویا کہ وہ ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے‘ آگاہ رہو (اہلِ) مدین کے لیے بھی ویسی ہی دوری (پھٹکار) ہو جیسی دوری ثمود کو ہوئی‘‘۔
سچائی انسان کو بہت سی اخلاقی برائیوں سے بچاتی ہے۔ جب انسان اس بات کو اپنے دل میں راسخ کر لیتا ہے کہ اس نے ہر موقع پر سچائی سے کام لینا ہے تو بہت سی برائیوں سے باز آ جاتا ہے۔ جھوٹ یقینا ایک بہت بڑا وبال اور سچائی یقینا اللہ تبارک وتعالیٰ کی بہت بڑی عطا ہے۔ انسان کو زندگی کے تمام شعبوں میں سچائی سے کام لینا چاہیے اور جھوٹ سے اجتناب کرنا چاہیے کہ یہی دنیا وآخرت کی سربلندی کا راستہ ہے۔