"AIZ" (space) message & send to 7575

کامیابی کی اساس

دنیا میں بہت سے لوگ پیشے‘ کنبے‘ قبیلے‘ شکل وصورت‘ عہدے اور طاقت کو کامیابی کی اساس سمجھتے ہیں اور دنیا میں حاصل ہونے والی ان نعمتوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضامندی کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ جو دنیا میں کامیاب ہے شاید وہی اللہ کے ہاں پسندیدہ اور آخرت میں کامیاب ہو۔ کتاب و سنت نے اس حوالے سے انسانوں کی بڑی واضح انداز میں رہنمائی کی ہے۔ سورۃ الکہف میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے دو باغبانوں کا ذکر کیا ہے‘ جن میں سے ایک بڑا باغبان تھا جو اللہ تبارک وتعالیٰ کا منکر اور باغی تھا جبکہ دوسرا باغبان اگرچہ مالی حیثیت کے اعتبار سے چھوٹا تھا لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ پر ایمان رکھنے والا اور اس کا اطاعت گزار تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان دونوں باغبانوں کے مکالمے اور انجام کو سورۃ الکہف کی آیات: 32 تا 44 میں بڑے خوبصورت انداز میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''اور انہیں ان دو شخصوں کی مثال بھی سنا دیں جن میں سے ایک کو ہم نے دو باغ انگوروں کے دے رکھے تھے اور جنہیں کھجوروں کے درختوں سے ہم نے گھیر رکھا تھا اور دونوں کے درمیان کھیتی لگا رکھی تھی۔ دونوں باغ اپنا پھل خوب لائے اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ کی اور ہم نے ان باغوں کے درمیان نہر (بھی) جاری کر رکھی تھی۔ الغرض اس کے پاس میوے تھے‘ ایک دن اس نے باتوں ہی باتوں میں اپنے ساتھی سے کہا کہ میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور جتھے کے اعتبار سے بھی زیادہ مضبوط ہوں۔ اور یہ اپنے باغ میں گیا اور تھا اپنی جان پر ظلم کرنے والا۔ کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کر سکتا کہ کسی وقت بھی یہ برباد ہو جائے۔ اور نہ میں قیامت کو قائم ہونے والی (حقیقت) خیال کرتا ہوں اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقینا میں (اس لوٹنے کی جگہ) اس سے بھی زیادہ بہتر پائوں گا۔ اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیا تُو اس (معبود) سے کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفے سے پھر تجھے پورا آدمی بنا دیا۔ لیکن میں تو عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہی اللہ میرا پروردگار ہے‘ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں گا۔ تُو نے اپنے باغ میں جاتے وقت کیوں نہ کہا کہ اللہ کا چاہا ہونے والا ہے‘ کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کی مدد سے‘ اگر تُو مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کم دیکھ رہا ہے۔ (تو) بہت ممکن ہے کہ میرا رب مجھے تیرے اس باغ سے بھی بہتر دے اور اس پر آسمانی عذاب بھیج دے تو یہ چٹیل اور چکنا صاف میدان بن جائے۔ یا اس کا پانی نیچے اتر جائے اور تیرے بس میں نہ رہے کہ تو اسے ڈھونڈھ لائے۔ اور اس کے (سارے) پھل گھیر لیے گئے‘ پس وہ اپنے اس خرچ پر جو اس نے اس میں کیا تھا‘ اپنے ہاتھ مَلنے لگا اور وہ باغ تو اوندھا الٹا پڑا تھا اور (وہ شخص ) یہ کہہ رہا تھا کہ کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرتا۔ (تب) اس کی حمایت میں کوئی جماعت نہ اٹھی کہ اللہ سے اس کا کوئی بچائو کرتی اور نہ وہ خود ہی بدلہ لینے والا بن سکا۔ یہیں سے (ثابت ہے) کہ اختیارات اللہ برحق کے لیے ہیں وہ ثواب دینے اور انجام کے اعتبار سے بہت ہی بہتر ہے‘‘۔ باغبانوں کے اس واقعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کی جاگیر اور باغات اس کی کامیابی کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے یہاں پر کامیابی کی اساس انسان کا اللہ کی ذات پر ایمان اور اس کی اطاعت ہے۔
اسی طرح بہت سے لوگ اپنے قبیلے اور خاندان کو اپنے لیے باعثِ فضیلت سمجھتے اور اسی پر فخر کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجرات کی آیت: 13 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو‘ کنبے قبیلے بنا دیے ہیں‘ اللہ کے نزدیک تم سب میں سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے‘ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے‘‘۔ اس حقیقت کی تائید مسند احمد کی ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ حضرت ابونضرہؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے حدیث بیان کی جس نے ایامِ تشریق کے درمیان رسول اللہﷺ کا خطبہ سنا۔ آپﷺ نے فرمایا: اے لوگو! خبردار! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر‘ کسی عجمی کو کسی عربی پر‘ کسی گورے کو کسی کالے پر‘ اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں‘ مگر تقویٰ کی بنیاد پر‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ابولہب کے انجام بد کا ذکر کیا حالانکہ اس کا تعلق ایک بڑے قبیلے کے ساتھ تھا۔ اس کے بالمقابل احادیث مبارکہ میں حضرت بلالؓ کی کامیابی کا ذکر ہے حالانکہ وہ مکہ میں ایک غلام‘ پردیسی اور اجنبی تھے۔
کتاب وسنت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک انسان شدید بیمار‘ بہت زیادہ غریب اور کمزور ہی کیوں نہ ہو‘ اگر وہ باعمل مسلمان ہے تو خوش نصیب اور کامیاب ہے۔ اس کے بالمقابل اگر انسان بہت زیادہ صحتمند‘ مالدار اور مشہور ہے لیکن اسلام اور ایمان سے دور ہے تو وہ بہت بڑا بدنصیب ہے اور دنیا کی چند روزہ زندگی گزارنے کے بعد ہمیشہ کی ناکامی سے دوچار ہو جائے گا۔ اس اہم نکتے کو سمجھنے کے لیے چند اہم احادیث پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا‘ بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے‘‘۔ صحیح مسلم ہی میں حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے بال بکھرے ہوئے‘ جسم غبار آلود ہوتے ہیں‘ جنہیں لوگوں کے دروازوں سے دھتکار دیا جاتا ہے‘ لیکن اگر وہ (کسی معاملے پر) اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم ضرور پوری فرما دیتا ہے‘‘۔
مسند احمد میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبیﷺ نے حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کو حکم دیا تو وہ درخت پر چڑھ گئے۔ نبیﷺ نے انہیں کچھ لانے کا حکم دیا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو جب درخت پر چڑھتے ہوئے دیکھا تو ان کی پنڈلی پر بھی نظر پڑی‘ وہ ان کی پتلی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر ہنس پڑے۔ نبیﷺ نے فرمایا: کیوں ہنس رہے ہو؟ یقینا عبداللہ (بن مسعود) کا ایک پائوں قیامت کے دن میزانِ عمل میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہو گا‘‘۔
صحیح بخاری میں حضرت ابوبریدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بلاشبہ قیامت کے دن ایک بہت بھاری بھرکم موٹا تازہ شخص آئے گا لیکن وہ اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی کوئی قدر نہیں رکھے گا اور فرمایا کہ پڑھو: فلا نقیم لھم یوم القیامۃ وزنا (الکہف: 105) ''قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن نہ کریں گے‘‘۔
ایک طرف حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ایک قدم کا وزن احد پہاڑ کے برابر جبکہ دوسری طرف ایمان سے محروم ایک موٹے آدمی کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں۔ چنانچہ اس حقیقت کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں کسی شخص کی قدر ومنزلت اس کی جسمانی ساخت‘ ظاہری شکل وصورت‘ مال و اسباب‘ حسب و نسب اور شہرت و ناموری سے نہیں بلکہ اس کے ایمان‘ تقویٰ اور اعمالِ صالحہ سے ہوتی ہے۔ اس لیے ایک کمزور‘ بیمار یا غریب مگر باعمل مسلمان اللہ کے نزدیک بہت بلند مقام پا سکتا ہے جبکہ ایک طاقتور‘ مالدار اور مشہور شخص اگر ایمان اور صالح اعمال سے محروم ہو تو اللہ کے ہاں اس کی کوئی وقعت نہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو کامیاب لوگوں میں شامل فرمائے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...