"RBC" (space) message & send to 7575

حسنِ کرشمہ ساز

وہ مشہور ضرب المثل تو آپ کی زبان پر بھی کبھی ضرور آئی ہو گی کہ جس گھر دانے‘ اس کے کملے بھی سیانے۔ یعنی جس گھر میں اناج یا مالی وسائل ہوں ‘ اس کے کم عقل لوگ بھی دانش مند مانے جاتے ہیں۔ یہ صرف ہماری تاریخ پر ہی منحصر نہیں پوری دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن کے پاس طاقت‘ وسائل اور اقتدار کی کنجیاں ہوتی ہیں‘ بات اُن کی ہی معتبر ٹھہرتی ہے۔ وہی سیانے گردانے جاتے ہیں۔ اقتدار کے گھوڑے پر کوئی شہسوار سرپٹ دوڑتا جا رہا ہو تو حقیر مخلوق اور اُس کی آوازوں کی طرف دھیان نہیں جاتا۔ ہم تو ایک عرصہ سے کہہ اور لکھ رہے ہیں کہ نظام ٹھیک نہیں چل رہا‘ کچھ بھی تو ٹھیک نہیں۔ نہ کوئی سمت‘ نہ کوئی منزل اور نہ آئین کی طرف کوئی قدم۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صوبائی حکومتوں کی کارکردگی‘ خصوصاً سندھ اور پنجاب میں‘ اشتہاری مہموں میں دکھائی دیتی ہے۔ آخر اٹھارہویں ترمیم کی فیوض وبرکات کا ارتکاز لاڑکانہ اور رائیونڈ میں ہوا ہے۔ ان کے تحفظ اور عوام کی نظروں میں جائزیت کے لیے عوام کا پیسہ ہی لگایا جائے تو کس نے سوال کرنا ہے۔ ہر تبصرہ نگار دہائیوں سے دوبڑے حکمران گھرانوں‘ اشرافیہ اور اقتدار کے مراکز سے وابستہ طفیلیوں کی کرپشن ‘ بے قاعدگیوں اور ملکی وسائل کی لوٹ مار کے بارے میں لکھتا چلا آ رہا ہے۔ اوپر سے چونکہ راوی سب چین ہی چین لکھتا ہے‘ اس لیے ہماری کمزور آوازیں ان کی طاقت کی گھن گرج میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ اب بات چونکہ اوپر سے آئی ہے اس لیے میڈیا وزیرداخلہ کے فرمودات پر دن رات غور کرنے میں مصروف ہے۔ وہ ایک ایسی ہی تقریر میں پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ چند سالوں میں‘ یعنی جب سے اندرونی انقلاب آیا ہے‘ ایک سو ارب ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے نکل گئے ہیں۔ ہم کچھ کہہ نہیں سکتے‘ سوائے عام لوگوں کے لیے ایک سوال چھوڑ جانے کے‘ کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جو ملک کی برآمدات کا قریباً تین گنا سرمایہ ان سالوں میں محفوظ ٹھکانوں میں منتقل کر چکے ہیں؟ یہ بھی سوال ان سے نہیں‘ اپنے لیے رکھ چھوڑتے ہیں کہ آخر اُن کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہ ہوئی؟
قابلِ غوربات تو یہ ہے کہ وزیر موصوف خود اس نظام کا حصہ ہیں اور خاصے طاقتور وزیر ہیں اور وہ خود اس کی بوسیدگی اور ناکامی کا اعلان کر رہے ہیں۔ وطنِ عزیز کے معاشی‘ سیاسی اور سماجی جمود اور زوال کے بارے میں قومی اور بین الاقوامی سکالرز نے بہت کچھ لکھا ہے ‘ ان وجوہات پر سب نے بہت بحث کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ سینکڑوں کتابیں اور ہزاروں مقالے ہمارے اہلِ اقتدار کی اور اہلِ سیاست کی نظروں سے نہ گزرے ہوں۔ یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ اصل تضادات نظام کے اندر کیا ہیں۔ کیوں یہ موروثی خاندان نصف صدی سے نسل در نسل اس ملک پر چھائے ہوئے ہیں؟ آخر وہ کیوں ڈھال یا فرنٹ کے طور پر ہر بدلتے موسم کے ساتھ‘ اکثرسیاسی لبادہ بدل کر‘ عوام کی خدمت کے لیے تیار ہو جاتے ہیں؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ بارگاہِ عالی میں سرداروں‘ خانوں‘ ملکوں‘ چودھریوں‘ مخدوموں‘ گدی نشینوں اور دوسرے درجے کے درباریوں کی پذیرائی کیوں ہے؟
واہ ری جمہوریت! زمانے کی کروٹ سمجھیں یا وقت کا تقاضا کہ سامراجی نظام نے سماج کو کنٹرول کرنے اور اپنی ترجمانی کے لیے جو خاندان تیار کیے تھے آزادی کے بعد سے وہی اقتدار میں نظر آتے ہیں۔ طرزِ حکمرانی نے تو بدلنا ہی تھا مگر وہ جو ریاست اور سیاست کے معاملات پرانے انگریزی دور میں طے ہوئے تھے کچھ مختلف اندا ز میں اپنا اثر دکھاتے رہے ہیں۔ ریاست کے کردار اور ملک کے جاگیرداری سماج پر موروثی خاندانوں کی گرفت دونوں کے لیے لازم و ملزوم رہی ہے۔ آپ ہی بتائیں کہ کون سا بڑا اور چھوٹا سیاسی خاندان ہے جو ریاست کی سرپرستی اور دست گیری کے بغیر آگے آیا ہو۔ یہاں کسی کا نام لینے کی ضرورت نہیں‘ جمہوری ادوار میں جو آئے یا لائے گئے انہوں نے نظام کو بدلنے کے بجائے اپنی کرسیاں مضبوط کیں کہ خاندانی سیاست اگلی نسلوں تک بغیر کسی چیلنج کے قائم رہے۔ ہماری سیاسی ثقافت کی روح میں مغلیہ شہزادوں کے ٹھاٹ باٹ‘ دربار‘ اُس زمانے کی عیش وعشرت اور طفیلی نظام رچا ہوا ہے۔ اُسی طرح اقتدار پر نظر رکھو اور لوٹ مار کرتے رہو۔ خوشامدی درباریوں کا لشکر ساتھ رکھو اور سیاسی نورا کشتی جاری رکھو۔ ایسے میں جمہوریت کی مالا جپنے میں کیا حرج ہے؟
اس وقت جو نظام چل رہا ہے اسے کچھ لوگوں نے ہائبرڈ کانام دے رکھا ہے۔ اُردو میں اس کا ترجمہ جو دیکھا ہے‘ وہ یہاں لکھنا ممنوع کے زمرے میں آتا ہے۔ ہم نے پہلے ہی عرض کر دیا تھا کہ یہ نظام نہیں چلے گا۔ جو 'انقلاب‘ میں اتحادی بنے‘ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے سمیٹا ہے‘ باقی دھندے بھی جاری ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ کراچی سے لے کر کریم آباد تک کیا ہو رہا ہے‘ مگر ہائبرڈ نظام کو صرف ایسے ہی چلایا جا سکتا تھا۔ بات تو سادہ اور آسان ہے کہ اگر طرزِ حکمرانی اور حکومت کی کارکردگی بہتر کرنا مقصود ہے تو اقتدار اور وسائل صوبوں میں مرتکز کرنے کے بجائے شہری اور مقامی حکومتوں کو منتقل کریں۔ موروثیوں کی سیاست کا تقاضا اس کے برعکس‘ سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنا رہا ہے۔ اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ان کی سیاست کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ دوسری بات احتساب ہے‘ کرپشن اور بے قاعدگیوں‘ جعلی بھرتیوں اور اربوں کی ہیرا پھری کا احتساب‘ مگر قانون اور فیصلہ کرنے کی آزادانہ صلاحیت ہی ہوا میں اڑا دیں تو پھر وہی ہو گا جوآپ دیکھ رہے ہیں۔میری رائے میں چار صوبے اتنا بڑا مسئلہ نہیں نہ ہی آبادی کے لحاظ سے بڑا یا چھوٹا ہونا‘ اصل مسئلہ اقتدار کی جائزیت‘ حاکمیت کی جوابدہی‘ نادیدہ قوتوں اور سیاسی طفیلیوں کا پرانا اور تاریخی گٹھ جوڑ اور موروثی سیاسی گھرانوں کا غلبہ ہے۔ اگر جمہوریت اور آئین کی بالادستی ہوتی اور ان گھرانوں کو سرپرستی حاصل نہ ہوتی تو متبادل قیادت پیدا ہو سکتی تھی۔ ریاست انہیں ہاتھی کے دانتوں کی طرح رکھتی ہے اور وہ ہمارے اجتماعی وسائل سے مالامال ہونے کے مواقع پاتے ہیں۔
کچھ معلوم نہیں کہ آگے کا سیاسی نقشہ کیا ہوگا مگر کچھ ہونے والا ضرور ہے۔ اگر بنیادی تضادات حل نہ ہوئے‘ جو ہمارے نزدیک لولی لنگڑی ہی سہی جمہوریت حل کر سکتی ہے‘ تو پرانا کھیل جاری رہے گا۔ پرانی شراب نئی بوتلوں میں بھرنے والی بات ہو گی۔ بحران در بحران کی کیفیت میں رہنے کے بجائے آسان راستہ تو یہ ہے کہ مقامی اور شہری حکومتوں کو آئینی تحفظ‘ وسائل اور اختیارات کی منتقلی کے لیے اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ لیکن پھر یاد آتا ہے کہ مولانا حسرت موہانی نے کیا خوب کہا تھا:
خرد کا نام جنوں پڑ گیا‘ جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...