"RBC" (space) message & send to 7575

مون سون

ہم تو ساون میں کھو جاتے ہیں‘ کچھ اور باتوں کی طرف دھیان ہی نہیں رہتا۔ جوش ملیح آبادی نے کہا تھا: اس فصل میں اس درجہ رہا بے خود و سرشار ؍ میخانے سے باہر مجھے دیکھا نہ کسی نے۔ اگر اپنے دل و نگاہ میں مظاہرِ فطرت کیلئے جگہ پیدا کی جائے تو پھر زندگی موسموں کے ردو بدل کے سنگ چلتی ہے۔ ہم اس کا ادراک نہ بھی کریں تو موسم کا اپنا جبر ہے جس کے مطابق بھیس اور بہت کچھ بدلنا پڑتا ہے۔ ہمارا تو ایک طویل عرصے سے ویسا ہی قریبی رشتہ ہے جو روح اور جسم کا ہوتا ہے۔ ہماری زندگی شروع تو دیہات کی زندگی سے ہوئی‘ جب وہاں جنگل اور کھیتوں کے قریب آنکھ کھولی۔ ہماری بستی کے کسان موزوں موسم کا انتظار کرتے اور اس کے مطابق اگلی فصل کی بوائی کیلئے تیاری کرتے۔ اس کیلئے تب زمین پر منہ اندھیرے ہل چلاتے اور مٹی نرم اور بھربھری ہونے کے بعد بیچ ڈال کر ہریالی کا انتظار کرتے۔ تازہ کھدی ہوئی مٹی کی مہک بچپن سے لے کر آج تک ہم دیہاتی لوگوں کی روحوں میں بسی ہوئی ہے۔ ہم نے وہ زمانہ دیکھا ہے جب دورِ جدید کا شور کرتا اور دھویں کے بادل چھوڑتا ٹریکٹر ہمارے علاقوں میں کسی نے نہ دیکھا تھا۔ کسان فجر کی اذان کے قریب بیل باڑے سے نکالتے‘ ہل اور پنجالی کندھے پر ڈالتے اور کھیتوں کی طرف روانہ ہو جاتے۔ بیلوں کے چلنے سے ان کے گلے میں ڈالے ہوئے گھنگھرو اور گھنٹیاں بجتیں تو ہم نیم خوابیدہ عالم میں محسوس کرتے کہ رت بدل چکی ہے۔ زیادہ مجھے ''اَسّو‘‘ اور ''کَتے‘‘ کے مہینے یاد پڑتے ہیں جب پہلے ''ساون‘‘ اور پھر ''بھادوں‘‘ رخصت ہو چکے ہوتے۔ ہمارے بڑے اور ہم بھی دیسی مہینوں کے آنے جانے کا حساب رکھتے۔ کاش آج بھی ہمار ا قومی نظامِ زندگی انکے مطابق چلتا‘ ان میں اپنائیت محسوس ہوتی ہے‘ انکا تعلق موسموں کے بدلنے سے ہے۔ ہر ماہ کی اپنی تاریخ‘ روایات اور اس کے ساتھ جڑی دیو مالائی داستانیں اور افسانوی کہانیاں ہیں۔ ماہ و سال وقت‘ موسم اور زندگی ہیں۔ ہمارے لیے ہر موسم غنیمت ہے۔ ایک انعام اور قدرت کی طرف سے تحفہ۔ وقت کی قدر کا تقاضا ہے کہ ہر موسم کے مزاج کے مطابق اپنے معمولات‘ لباس‘ خوراک‘ آرام اور کارہائے زندگی انجام دیں۔ ساون کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ایک بار پھر ساون کی رسیلی ہوائیں‘ نرم و گداز شبنمی ٹھنڈک اور ہر طرف سرمئی بادلوں کے گالے بھولے بھٹکے مسافروں کی طرح آسمان پر سرگرداں دیکھ رہے ہیں۔
ہمارے علاقے کی ثقافت‘ رہن سہن‘ تہذیب‘ ادب اور موسیقی سے ساون کا گہرا تعلق ہے۔ میرا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ آپ کے سامنے کئی تاریخی حوالے رکھ کر اس ماہ کی اہمیت پر لیکچر دینے لگوں۔ ساون کی کیفیت وہی محسوس کر سکتے ہیں جنہیں اس کا شعور اور موسموں کے فطری رنگوں سے دلی لگاؤ ہے۔ اپنے وقت یعنی زندگی سے لطف اٹھانے کا طریقہ سیانوں کے مطابق اُسے ایک تحفہ‘ فرصت‘ انعام اور نادر مہلت خیال کرنا اور ہر لمحہ حالتِ موجود میں جینا ہے۔ دیکھا ہے کہ مادیت پرستی‘ بھاگ دوڑ اور زر و دولت سمیٹنے کے دھندوں نے اکثریت کو اس رازِ زندگی سے محروم کر دیا ہے۔ ساون کے مہینے کی بھیگی صبح‘ گھاس پر بچھی اوس کی باریک تہہ‘ سورج کی پہلی کرنیں اور بادِ نسیم کا پتوں کے درمیان سے چھن چھن کر بدن کوچھونا انمول نہیں تو اور کیا ہے۔ بات شعور اور فطرت کی احسان مندی کی ہے۔ ساون برستا ہے تو اس کی بھی کئی حالتیں اور صورتیں ہوتی ہیں۔ کہیں رم جھم‘ بوندا باندی تو کہیں موسلا دھار بارش‘ گرج چمک اور بادلوں کی کڑک کے ساتھ! دور اندھیرے میں نکلتی آگ کی لکیریں کسے مسحور نہیں کریں گی۔ اس چمک میں سے جو رنگ بکھرتے ہیں چند لمحوں کیلئے آپ نے ان پر غور کیا ہو گا۔ بچپن میں تو ہم ساون کی بارش میں جنگلوں‘ میدانوں اور کھلی جگہوں پر دیوانہ وار بھاگتے اور بھیگتے رہتے تھے۔ اگر آپ ایسے تجربوں سے نہیں گزرے تو اب بھی کوئی دیر نہیں ہوئی۔ آج کل ساون رنگ جمائے ہوئے ہے۔ جس طرح آسمان سے گرتے بارش کے قطرے آزاد ہیں‘ آپ بھی خود کو کھلی فضا میں آزاد چھوڑ سکتے ہیں۔ جو تازگی‘ فرحت اور مسرت ہم آج بھی ان لمحات میں محسوس کر سکتے ہیں‘ وہ دنیا کے مشہور شہروں کے بازاروں میں کہاں۔
ساون نے تو سب رنگ‘ بہاریں اور رونقیں خود کہیں سے اتار کر آپ کی دہلیز پر رکھ دی ہیں۔ یہ آپ پر ہے کہ ان سے فیضیاب ہونے کی کس قدر صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم تو آپ کیلئے صرف دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اپنے دیس کی ثقافتی روایات کا امین بنیں‘ ان میں بسیں اور ان میں سانس لیں۔ ساون آزادی‘ خوشی‘ محبت اور تجدید کا موسم ہے۔ ''ہاڑ‘‘ کے مہینے کی گرمی کی حدت ہمارے خطے میں اتنی بڑھ جاتی ہے کہ لگتا ہے کہ جھاڑیاں‘ درخت اور فصلیں اگر پانی نہ ہو تو سوکھنے کو ہیں ۔ پتے تو بکری کے کانوں کی طرح لٹکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پرندے ادھر اُدھر چونچ کھولے پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں اور ہم انسان اپنے گھروندوں میں اس طرح بند ہو جاتے ہیں جیسے باہر کوئی بہت بڑا خطرہ ہو۔ خیر ہمارے نزدیک تو ہاڑ میں جو خوبیاں ہیں وہ کسی اور وقت پر چھوڑتے ہیں کہ اس میں خربوزے‘ تربوز‘ ستو‘ کھیرے‘ سردائیاں اور لسی کے مٹکوں کے ساتھ باغات کی چھاؤں میں جمی محفلیں تو ہمیں آج بھی یاد ہیں۔ ہاڑ کے رخصت ہوتے ہی ساون پوری آب وتاب‘ شان وشوکت اور گرج چمک کے ساتھ اپنا رنگ جما لیتا ہے۔ زمین اور آسمان کا رشتہ گویا چشم زدن میں بدل جاتا ہے۔ ہر چیز نکھری نکھری محسوس ہوتی ہے۔ پیاس سے ماری نباتات میں نئی جان پڑ جاتی ہے۔ زرد اور جھلسی ہوئی زمین ہریالی کی چادر اوڑھنے لگتی ہے۔ میں نے پرندوں کو اس موسم میں کہیں زیادہ اپنے اپنے راگ بکھیرتے‘ سرمستی کے عالم میں محوِ ترنم دیکھا ہے۔ اُن کی خوراک کے تمام وسائل موجود ہوتے ہیں‘ جیسا کہ کیڑے مکوڑے‘ مختلف اقسام کے پھل‘ جس طرح آج کل جامن کے پیڑوں کی طرف پرواز کرتے اور شور مچاتے دیکھتا ہوں۔ شاید ہی کسی اور موسم میں ایسا ہوتا ہو۔ ہمارے اپنے قدم بھی ادھر اٹھ جاتے ہیں۔
ساون میں مجھے تو آسمان کا رنگ بھی بدلا ہوا نظر آتا ہے۔ زمین تو کوئی اور ہی سیارہ معلوم ہوتی ہے۔ گھنگھور گھٹائیں‘ اچانک گہرے بادلوں کا کسی جانب تیزی سے چھا کر دن کو رات میں بدلنا اور جھڑی لگنے کے بعد کچھ اجالا اور پہاڑوں کے دامن سے بادلوں کا لپٹنا ایسے مناظر ہیں جن کا سال بھر انتظار رہتا ہے۔ ہماری دیسی روایات میں یہ وہ رُت ہے جب دور بیاہی بہنیں اپنے بھائیوں اور والدین کے گھر میں جاتیں‘ ساون کے کچھ دن گزارتیں اور تحائف سے لدی واپس آتیں۔ دل والوں کی تو اس موسم میں کیفیت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ کچھ پرانی باتیں‘ کچھ ادھورے خواب‘ نیم خوابیدہ چاہتوں اور بکھری ہوئی آرزوؤں کی کسک کو برسات کے چھینٹے تازہ کر دیتے ہیں۔ ساون کی آج کی صبح نجانے صوفی غلام مصطفی تبسم کا یہ شعر کیوں ذہن میں سمایا ہوا ہے:
جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں
ہم ہوئے کیسے جدا یاد نہیں
ہمارے پنجابی اور اردو کے شاعروں نے ساون کے حوالے سے جو کچھ تخلیق کیا ہے‘ شاید ہی کسی اور زبان کی ادبی روایت میں کسی ایک موسم کے حوالے سے اتنا لکھا گیا ہو۔ اوپر دل والوں کی بات کی تھی۔ جس طرح بارش سب گرد و غبار دھو کر ماحول کو صاف ستھرا کردیتی ہے‘ اسی طرح ساون دل کے داغ اور دھبے اور ذہن کی کثافتیں تحلیل کرنے کا سامان کرتا ہے۔ یہ صرف آم کھانے اور جھولے جھولنے کا موسم نہیں‘ اپنی کتابِ زیست کے گم شدہ اوراق تلاش کرنے‘ شعوری طور پر فطرت کی رنگینیوں میں کھو جانے اور روحانی بالیدگی حاصل کرنے کا بھی موسم ہے۔ بارش کا ہر چھینٹا ہمیں پیغام دیتا ہے کہ خوش رہیں اور بھرپور زندگی گزاریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...