اللہ تعالیٰ کے حبیب حضور عالیشانﷺ کا جو کلمہ پڑھتا ہے اس پر تلوار یا بندوق اٹھانا بہت بڑا اور عظیم جرم ہے۔ اللہ کی قسم! اس جرم کی ہولناکی سے دل پھٹنے لگ جاتا ہے جب اللہ اور اس کے رسولﷺ کا غضب قاتل پر قیامت ڈھانا شروع کرتا ہے۔ مسند احمد کی صحیح حدیث ہے کہ حضرت عقبہؓ بن مالک بتاتے ہیں کہ ایک دن ایک جہادی لشکر نے صبح کے وقت ایک علاقے کے لوگوں پر حملہ کیا۔ یہ بستی جس پر حملہ ہوا تھا‘ پانی کے قریب تھی۔ ان میں سے ایک آدمی جب باہر نکلا تو ایک مجاہد نے اس پر حملہ کر دیا۔ وہ کہنے لگا کہ میں تو مسلمان ہوں لیکن اس کے باوجود اسے قتل کر دیا گیا۔ یہ لشکر واپس مدینہ منورہ آ گیا۔ لشکر کی کارگزاری سننے کیلئے لوگ مسجد نبوی میں جمع ہو گئے۔ اس واقعے کے بارے اللہ کے رسولﷺ کو آگاہ فرمایا گیا تو آپﷺ خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد کے بعد فرمایا: کیا حال ہو گیا ہے مسلمانوں کا کہ وہ ایسے شخص کو قتل کر رہے ہیں جو کہہ رہا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ اسلامی فوج کا وہ شخص جس نے قتل کیا تھا‘ وہ عرض کرنے لگا: اے اللہ کے رسولﷺ! اس نے جان بچانے کیلئے ایسا کہا تھا۔ یہ سننا تھا کہ حضورِ رحمت دو عالمﷺ نے اس سے چہرہ مبارک پھیر کر دوسری طرف کر لیا (یہ غصے اور غضب کا شدید ترین اظہار تھا)۔ صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ کے نورانی چہرۂ مبارک پر غم اور غصے کے آثار تھے۔ اب آپﷺ نے اپنا دستِ مبارک پھیلایا اور تین مرتبہ فرمایا ''عزت و جلال والے اللہ نے مجھے بھی روک دیا ہے کہ جس نے مومن کو قتل کیا ہے اس کیلئے نرمی اور رحمت نہ دکھانا‘‘۔ لوگو! ذرا سوچو! یہ جنگ اور جہاد کے میدان کی بات ہے اور جس نے امن کی سرزمین پر مومن کو قتل کر دیا‘ دنیا کے سچے جھوٹے مفاد کی خاطر قتل کر دیا‘ قانون اپنے ہاتھ میں لے لیا‘ اس پر اللہ کے غصب کا کیا حال ہو گا؟ لوگو! اللہ نے اپنے رحمتوں بھرے مبارک رسولﷺ کے ساتھ ایسے قاتل کا تعلق ختم کر دیا ہے۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ مقتول کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ربیع الاوّل کے مہینے کا پیغام یہ ہے کہ کلمے کی بہار اس کو ملے گی جو مقتول اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو گا۔
دوسری حدیث ملاحظہ کریں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا ''جہنم کے سات دروازے ہیں‘ ان دروازوں میں سے ایک دروازہ ایسا ہے جو ہر اس شخص کیلئے ہے جو میری امت پر تلوار لہراتا ہے‘‘۔ جی ہاں! ہر کلمہ پڑھنے والا مومن ہے اور اس مومن کے قاتل کیلئے جہنم کا خاص دروازہ ہے۔ حضورﷺ نے مزید فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے اندر سے نکلے (اور کفر کے فتوے لگا کر) میری امت کے لوگوں پر چڑھ دوڑے‘ نیک لوگوں کو بھی قتل کرے اور برے لوگوں کو بھی جان سے مار ڈالے۔ نہ مومنوں کی جان بخشی کرے اور نہ ہی( غیر مسلم اہلِ وطن) ذمیوں کو چھوڑے‘ ایسا شخص میرا امتی نہیں ہے۔ ایسے شخص کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میرا اس سے کوئی واسطہ ہے۔ (مسند احمد) قارئین کرام! اب تو قاتل جب قتل کرتے ہیں تو درندوں کی درندگی بھی شرما اٹھتی ہے۔ مہلک کیمیکلز پلاتے ہیں۔ چہرے پر تیزاب ڈالتے ہیں۔ ترسا ترسا کر مارتے ہیں۔ بچوں تک کو درندے معاف نہیں کرتے۔ یہ سب کچھ آج کی دنیا میں ہو رہا ہے جبکہ اللہ کے رسولﷺ نے جنگوں کے ضابطے سکھلاتے ہوئے واضح طور پر بتایا ''لاشوں کو خراب نہ کرو۔ بچے مت قتل کرو۔ عبادت گاہوں میں بیٹھے لوگوں کو مت مارو‘‘۔
لوگو! بڑے بڑے ظلم تو رہے ایک جانب‘ اللہ تعالیٰ نے جس ہستی کو تمام انسانی ادوار کیلئے سراسر رحمت بنا کر بھیجا وہ تو مادہ جانوروں پر اس قدر بھی ظلم برداشت نہیں کرتے کہ دودھ دوہتے وقت لوگوں کے ہاتھوں کے ناخن بڑھے ہوئے ہوں۔ کہیں وہ دودھ دوہنے لگیں تو ان کے ناخن تھنوں کو زخمی کر دیں اور خون رسنا شروع ہو جائے۔ اللہ کی قسم! حکمرانی ہو تو حضور جیسی باخبر حکمرانی کہ حضورﷺ کو معلوم تھا کہ فلاں علاقے کے لوگوں میں یہ چیز پائی جاتی ہے؛ چنانچہ حضرت سوادہؓ بن ربیع بتاتے ہیں کہ وہ حضورﷺ کی خدمت میں آئے۔ تعاون کی درخواست کی تو حضورﷺ نے انہیں اونٹ عنایت فرمایا اور ساتھ نصیحت فرمائی ''گھر واپس جائو تو لوگوں کو کہو کہ اپنے جانوروں کی غذا اچھی رکھو‘ ناخن کاٹا کرو‘ مویشیوں کا دودھ دوہتے وقت ان کے تھنوں کو خون آلود نہ کیا کرو‘‘۔ قارئین کرام! میرے حضورﷺ کی سیرت میں کیسے کیسے شفاف موتی اور مرجان ہیں کہ رحمتِ کائناتﷺ اونٹی‘ گائے‘ بھیڑ‘ بکری اور بھینس کے تھنوں کی بھی حفاظت کر رہے ہیں‘ اور ان مادہ جانوروں کے بچوں کی صحت کا بھی خیال کر رہے ہیں کہ یہ بچے خون رستے تھنوں کو منہ میں لے کر دودھ پئیں گے تو دودھ کے ساتھ خون کی ملاوٹ ہو جائے گی۔ یہ ملاوٹ صحت کیلئے نقصاندہ ہے۔ اسی طرح انسانوں کی صحت بھی متاثر ہو گی‘ ان کی صحت کا بھی تحفظ فرما دیا۔ ایسے مہربان‘ رفیق و رقیق حکمران‘ ریشم سے کہیں بڑھ کر نرم اور ملائم دل والے رحیم وکریم رسولﷺ پر لاتعداد درود اور سلام۔
کھانے پینے کی چیزوں اور دودھ میں ملاوٹ کرنے والے قیامت کے دن کس منہ سے حوضِ کوثر کا پانی پئیں گے۔ یہ مبارک پانی تو دور کی بات‘ وہاں تک ایسے ظالموں کو جانے کون دے گا جن کی کیمیکل والی ملاوٹوں سے لاکھوں کروڑوں لوگ کینسر‘ شوگر‘ گردے اور دل و جگر کے مریض بن گئے۔ ایسے ظالموں کو روکنا کس قدر ضروری ہے‘ اس حدیث سے جان لیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ''جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتا ہوا) دیکھیں اور (اپنی ہمت کے مطابق) اس کو نہ روکیں تو ان سب لوگوں کو عنقریب اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کے گھیرے میں لے لے گا‘‘۔ یعنی حکمرانوں کی ہمت یہ ہے کہ وہ عدل کو یقینی بنائیں۔ علماء‘ صحافی اور دیگر طبقات کے لوگ اپنی اپنی مہارتوں کے مطابق احسن انداز سے اپنا کردار ادا کریں‘ تبھی ہم سب لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کی سزا سے بچ پائیں گے۔
ایک اور حدیث شریف ہے‘ حضرت عبداللہ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا ''جب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم کو یہ نہیں کہہ رہی کہ تم ظالم ہو تو (ضمیر کی آواز اور) دعائوں کی قبولیت ان سے رخصت ہو جائے گی‘‘۔ لوگو! یہاں صرف حکمران نہیں بلکہ معاشرے کا ہر فرد ذمہ دار ہے۔ دھڑا پیٹنے والے‘ ظالم رشتہ دار کا ساتھ دینے والے‘ جھوٹی گواہی دینے والے‘ سچی گواہی کو چھپانے والے‘ مفاد درمیان میں آ جائے تو ظالموں کے ساتھی بن جانے والے! یہ ہم عوام نہیں تو اور کون لوگ ہیں؟ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اندر کا ظالم تلاش کرکے اسے سزا دینا ہو گی۔
اللہ کے رسولﷺ نے تو یہاں تک فرمایا کہ اے مسلمانو! مظلوم (اگرچہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو) اس کی بددعا سے بچو کیونکہ اس کی مظلومانہ فریاد کے سامنے کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ یعنی وہ فریاد سیدھی اللہ کے دربار میں پہنچتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کا خالق ہے۔ کوئی اس کو مانے یا نہ مانے‘ یا مانے تو شرک کے ارتکاب سے مانے‘ اس اللہ کے آخری اور عظیم رسولﷺ کا کلمہ پڑھے یا نہ پڑھے‘ قرآن مجید کو آخری کتاب تسلیم کرے یا نہ کرے‘ یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ لیکن اگر وہ مظلوم ہے اور ظالم وہ ہے جو توحید والا ہے‘ حضورﷺ سے محبت رکھنے والا ہے‘ مسلمان ہے‘ نمازی ہے تو اللہ ظالم کی نہیں بلکہ مظلوم کی فریاد سنے گا۔ صدقے قربان جائوں حضرت محمد کریمﷺ پر‘ جو یہ عدل اور رحمتوں بھرا دین لائے ہیں۔ جو رحمتِ کائنات ہیں۔ پھر میں کیوں نہ کہوں: پڑھو درود ایسے حامیٔ مظلوم پر! کہو سلام ایسے ہمدردِ انسانیت پر! پیش کرو خراجِ تحسین ایسے منصفِ اعظم پر! کہو نعت ایسے پیارے اور محبوب حضورﷺ کی! جن کی تعلیم موتی اور مرجان ہے۔
نوٹ: تمام احادیث مسند احمد سے لی گئی ہیں اور سنداً صحیح ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments