"AHC" (space) message & send to 7575

راستہ اور رہنما

اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت کہ میری زندگی کا پہلا غیر ملکی سفر ایران کا تھا‘ یہ اس لیے بھی تھا کہ میں نے اپنے شہر ننکانہ کی بلدیاتی لائبریری میں ''تاریخِ ایران‘‘ پڑھ رکھی تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے اخراجات کم تھے؛ چنانچہ آج سے کوئی 35 سال قبل زمینی راستے سے ایران پہنچ گیا۔ دنیا گھومنے کا شوق تھا۔ ''اصفہان نصف جہان‘‘ کا تاریخی خاکہ ذہن میں تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کا وہ سفر دل ودماغ میں نقش تھا جس کا آغاز اصفہان سے ہوا تھا۔ امام احمد بن حنبل‘ ابن ہشام اور امام بیہقی حضرت سلمان فارسیؓ کا جو واقعہ اپنی کتابوں میں لائے ہیں وہ ایک سچے راہبر کی تلاش کا واقعہ ہے۔ یہ راہِ حق کی تلاش کا واقعہ ہے۔ بے لوث رہنما کو ڈھونڈنے کی ایک لازوال داستان ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت سلمان فارسیؓ کا ایمان افروز واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اختصار کچھ یوں ہے کہ اصفہان کی ایک نواحی بستی میں حضرت سلمان فارسیؓ کا والد کاشتکاری کرتا تھا۔ فرماتے ہیں کہ میرا والد مجھ سے بے پناہ محبت کرتا تھا‘ جس طرح جوانی چڑھتی دوشیزہ کو سنبھال کر گھر میں رکھا جاتا ہے‘ میرا والد اس طرح مجھے اپنی نگاہوں سے دور نہ ہونے دیتا تھا۔ میں اپنے مجوسی مذہب کی پیروی میں آگ کو جلائے رکھتا تھا۔ میرے والد نے تعمیرات کا کام شروع کیا تو میری ذمہ داری اُن ملازمین پر لگا دی گئی جو کھیتی باڑی کر رہے تھے۔ میں پہلے دن اپنی زرعی زمین کی جانب گیا تو راستے میں گرجے کے پاس سے گزرتے ہوئے کچھ آوازیں سنیں۔ لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ نصرانی لوگ ہیں‘ یہ اپنی عبادت کر رہے ہیں۔ میں اندر گیا تو ان کی عبادت کا طریقہ اچھا لگا۔ دعائوں کا انداز خوب لگا۔ شام تک میں یہیں بیٹھا رہا۔ اس دوران میرا باپ مجھے تلاش کرتا رہا۔ جب رات کو گھر گیا تو باپ نے پوچھا کہ سارا دن کہاں گزارا؟ میں نے تفصیل بتا دی اور کہا کہ ان کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ باپ نے نفی میں جواب دیا۔ میں نے عرض کی کہ اللہ کی قسم! ہمارا دین انکے دین سے بہتر نہیں ہے۔ یہ لوگ اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں‘ اسی سے دعائیں مانگتے ہیں‘ اسی کیلئے نماز ادا کرتے ہیں جبکہ ہم لوگ آگ کی عبادت کرتے ہیں‘ اپنے ہاتھ سے آگ روشن کرتے ہیں اور جب اسے چھوڑ دیتے ہیں تو وہ مر (بجھ) جاتی ہے۔ میری یہ گفتگو باپ نے سنی تو مجھ سے ڈر گیا کہ یہ اپنے دین پر نہیں رہے گا۔ اس نے میرے پائوں میں لوہے کی بیڑیاں ڈال دیں اور گھر میں ہی قید کر دیا۔ میں نے نصاریٰ کی طرف پیغام بھیجا کہ جس دین پر میں نے تمہیں دیکھا وہ کہاں ملے گا؟ جواب آیا کہ مُلکِ شام میں ملے گا۔ پھر پیغام رسانی سے طے ہوا کہ جب کوئی تجارتی قافلہ شام کیلئے آیا تو ہم اطلاع کردیں گے۔ جب وہ وقت آیا تو میں نے زنجیریں توڑیں اور تاجروں کے قافلے کیساتھ شام پہنچ گیا۔ جس شہر میں پڑائو کیا وہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ آپ مسیحی لوگوں کا سب سے بڑا روحانی عالم کہاں ملے گا؟ اسے اُسقف (بشپ) کہا جاتا تھا۔ میں انکے بتانے پر اُس عالم کے گرجے میں چلا گیا اور اس کیساتھ خادم بن کر رہنے لگا۔
اس کیساتھ رہتے ہوئے چند سال گزرے تو معلوم ہوا کہ یہ تو بدترین انسان ہے‘ یہ لوگوں سے صدقے اور خیرات کا مال اکٹھا کرتا ہے مگر مسکینوں اور ضرورتمندوں پر خرچ نہیں کرتا۔ لوگوں کی نگاہوں میں یہ خیرخواہ اور مقدس انسان جب فوت ہوا تو لوگ اس کی تدفین کو جمع ہوئے۔ میں نے اس نام نہاد عالم کی حقیقت انہیں بتلائی تو انہوں نے ثبوت مانگا۔ میں نے سونے چاندی سے بھری سات عدد بوریاں ان کے سامنے رکھ دیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس کو ہم دفن نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس کی لاش کو لکڑی کی سولی پر نصب کیا اور پتھروں سے مارا۔ قارئین کرام! راہ حق کے متلاشی کا کردار ملاحظہ ہو کہ نوجوان کے دل میں یہ بوریاں کیا داخل ہونا تھیں‘ یہ تو اس کے ہاتھوں میں ہو کر بھی کوسوں دور تھیں۔ جی ہاں! جو دنیا کے مال کی بوریاں چھوڑ کر چلا گیا اس جیسے لوگوں کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کیا۔ مومنوں کو مخاطب کرکے انتباہ کیا۔ فرمایا: اے ایمان والو! بہت سارے عالم اور درویش لوگوں کا مال فریب کارانہ طریقوں سے کھاتے ہیں‘ اللہ کی راہ سے اپنے (غلط کردار کی وجہ سے) لوگوں کو روکنے کا باعث بنتے ہیں‘ یہ لوگ جو سونا چاندی کو خزانہ بنا لیتے ہیں‘ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے‘ (میرے رسول!) ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ وہ دن (آنے والا ہے) کہ جہنم کی آگ میں اس خزانے کو تپایا جائے گا اور ان کی پیشانیوں‘ پہلوئوں اور کمروں کو داغا جائے گا‘ (کہا جائے گا) یہ ہے وہ جسے خزانہ بنا کر تم لوگ جمع کرتے تھے‘ (اب) اپنے جمع کیے ہوئے خزانوں کا مزہ چکھو‘‘ (التوبہ: 34 تا 35)۔ مطلب یہ کہ معمولی سا مال خرچ کرتے تھے اور باقی ہڑپ کر جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو زندگی میں توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔
واقعے کو اب اختصار سے بیان کرتے ہیں۔ حضرت سلمان فارسیؓ بتاتے ہیں کہ مذکورہ راہب کی جگہ جس راہب نے سنبھالی وہ انتہائی نیک اور دیانتدار تھا۔ یہ مقدس بزرگ جب فوت ہونے لگا تو اس نے اپنے نوجوان شاگرد یعنی حضرت سلمانؓ کو موصل شہر کے ایک بزرگ کے بارے میں بتلایا۔ یہ بھی بہت اللہ والے تھے۔ وہ فوت ہونے لگے تو نصیبین کے نیک عالم اور بزرگ کے بارے بتایا۔ یہ صاحبِ کردار بزرگ فوت ہونے لگے تو انہوں نے عموریہ کے بزرگ کے بارے میں بتایا۔ عموریہ کے نیک بزرگ فوت ہونے لگے تو انہوں نے بائبل کی روشنی میں بتایا کہ اب آخری نبی کی تشریف آوری کا زمانہ قریب ہے‘ وہ نبی حرم (مکی) میں پیدا ہوں گے اور جس زمین کی طرف ہجرت کریں گے وہ دو حروں کے درمیان ہے‘ زمین ویران (بنجر) ہو گی مگر کھجوروں کے درختوں سے معمور ہو گی۔ بزرگ نے بتایا کہ اس نبی کی نشانی یہ ہے کہ انکے دونوں کندھوں کے درمیان مُہر نبوت ہو گی۔ وہ ہدیہ کھائیں گے مگر صدقہ نہیں کھائیں گے۔ حضرت سلمان فارسیؓ اب آخری نبی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ختم المرسلینﷺ تک پہنچنے کی راہیں کٹھن ہو گئیں۔ انہیں غلام بنا لیا گیا اور غلامی در غلامی میں بکتے ہوئے آخرکار مدینہ پہنچ ہی گئے مگر ابھی ایک یہودی کی غلامی میں تھے۔ کھجور کے درخت پر کھجوریں توڑتے ہوئے حضورﷺ کی مدینہ آمد کا سنا تو اس قدر خوش ہوئے کہ گرتے ہوئے گھنی شاخوں میں اٹک گئے۔ نیچے یہودی مالک کھڑا تھا‘ اس نے طمانچہ دے مارا۔ آمدِ مصطفیﷺ کی خبر پہ غلام کی مسرت ناقابلِ بیان تھی۔ حضرت سلمانؓ کھجوریں لے کر حضورﷺ کی خدمت میں پہنچے اور عرض کی کہ یہ صدقہ لایا ہوں۔ حضورﷺ نے ساتھیوں کو دیں مگر خود نہیں تناول فرمایا۔ دوسرے دن حاضر ہوئے تو ہدیہ پیش کیا۔ حضورﷺنے خود بھی تناول فرمایا اور ساتھیوں کو بھی کھلایا۔غرض حضور مصطفیﷺ کی غلامی میں پہنچنے کی یہ ہے وہ راہ جو مشکلات کے پہاڑوں اور سنگلاخ وادیوں سے بھری پڑی ہے۔ قارئین کرام! رہنما بھی دیکھو‘ رہنمائی کی راہ بھی دیکھو اور راہ پر چلنے والا بھی دیکھو۔ راہ یہی اختیار کر لو! اس کے خدوخال طے کر دو‘ قوم کے سامنے رکھ دو۔ سب سے پہلے بے لاگ عدل کی حامل عدلیہ دو۔ تمام سول اداروں کو کرپشن سے پاک کرو۔ ہم سب کے رب کریم نے پاک وطن کی افواج کو عزتوں سے نوازا ہے۔ فتح کی فرحت انگیز خبر سے ہمارے دل ودماغ کو پُرمسرت بنایا ہے۔ مکہ معاہدہ سے 25 کروڑ عوام کی عزتوں کو رفعتوں کا تاج پہنایا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس حقیقت کی کہ اب ملک کا اندرونی نظام مستحکم کرکے پاک وطن کو لازوال عزت کی خلعت کے پہناوے کا بندوبست کیا جائے۔ اس کیلئے بلدیاتی نظام اس طرح کا لایا جائے جو عوام کو سہولت دے۔ یہ کام کر لیا جائے تو نئی پڑھی لکھی قیادت سامنے آ جائے گی۔ پھر صوبوں یا انتظامی یونٹس کی آگاہی مہم چلائی جائے۔ محترم میاں عامر محمود کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ اس کردار کو دلائل وبراہین کے ہتھیاروں سے مزید لیس کرکے جنگجویانہ مہم بنایا جائے۔ سب کو ملا کر چلا جائے تو ان شاء اللہ ترقی کی منزل زیادہ دور نہیں۔ پاک وطن پائندہ باد!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...