"AHC" (space) message & send to 7575

امریکہ میں سپین کا فٹ بالر اور غزہ

اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید باخبر فرماتی ہے‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب تورات بھی آگاہ کرتی ہے کہ مصر میں بنو اسرائیل کو غلام بنا لیا گیا تھا۔ فرعون اس ڈر سے بچوں کو قتل کروا دیتا تھا کہ بنو اسرائیل اس کی حکمرانی کیلئے خطرے کا باعث بن رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایسے حالات میں پیدا ہوئے تو ان کی والدہ محترمہ نے خطرہ محسوس کیا اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل میں یہ پیغام وصول کیا کہ بچے کو دریائے نیل کی لہروں کے سپرد کر دو؛ چنانچہ ماں نے بچے کو صندوق میں ڈال کر دریا میں بہا دیا۔ بہن دیکھتی چلی گئی کہ صندوق کدھر کو جاتا ہے۔ یہ صندوق فرعون کے محل کے سامنے ایک جھاڑی کے ساتھ اٹک گیا۔ محل کے ملازموں نے صندوق کو اٹھایا اور ملکہ کے سامنے لے جا کر رکھ دیا۔ ملکہ نے کھولا تو اندر ایک انتہائی خوبصورت بچہ سکون سے لیٹا ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پھر یہیں پلے بڑھے۔ آج بنو اسرائیل کے اکثر افراد اسرائیل نامی ریاست میں آباد ہیں۔ اس صہیونی ریاست کے قیام کو 80 سال ہونے کو ہیں‘ مگر وہ روزِ اوّل سے فلسطینی بچوں کو اس خوف سے مارتے چلے آ رہے ہیں کہ یہ بڑے ہو کر ہماری حکمرانی کیلئے چیلنج بن جائیں گے۔ فلسطینیوں کی آبادی جو اسرائیلی علاقوں میں ہے‘ مغربی کنارے میں ہے‘ غلامی کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ اکتوبر 2023ء سے اکتوبر 2024ء تک تقریباً 40 ہزار بچے اور ان کی مائیں شہید کی گئیں۔
چند روز قبل فٹ بال کا ورلڈ کپ ہوا۔ فٹ بال کی عالمی تنظیم کا نام فیفا ہے۔ 2026ء کا ٹورنامنٹ تین ملکوں میں ہونے کے بعد فائنل میچ امریکہ کے شہر نیویارک میں ہوا۔ فائنل میں سپین اور ارجنٹائن برسرپیکار تھے۔ سپین یورپی یونین اور نیٹو کا ممبر ہے۔ اس کے باوجود یہ دنیا کا ایسا ملک ہے جس نے غزہ پر ظلم کے خلاف زور دار آواز بلند کی۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد‘ مئی 2024ء میں اس نے فلسطین کی آزاد ریاست کو تسلیم کر لیا تھا۔ اس کے برعکس ارجنٹائن وہ ملک ہے کہ اس کا صدر جاویر مِیلی اسرائیلی وزیراعظم کا دوست ہے۔ اس نے اپنے بارے میں خود کہا تھا کہ میں دنیا میں صہیونیت کا سب سے بڑا علمبردار صدر ہوں۔ اسی لیے فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ میں ارجنٹائن کو فیفا ورلڈ کپ کا چیمپئن دیکھ رہا ہوں‘ یہ ہمارا سب سے بڑا دوست ملک ہے۔
اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی تقدیر اس طرح سامنے آتی ہے کہ ایک طرف فلسطین اور غزہ کا دوست ملک سپین فائنل میں پہنچ جاتا ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل کا دوست ملک ارجنٹائن فائنل میں اس کے مدمقابل آ جاتا ہے۔ ارجنٹائن کی ٹیم کا کپتان لیونل میسی ہے۔ یہ فٹ بال کی دنیا کا معروف ہیرو ہے۔ یہ دیوارِ گریہ کے سامنے تورات پڑھتا بھی دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب سپین کی ٹیم کا ایک اہم کھلاڑی''لامین یامال‘‘ ہے۔ یہ ایک مسلمان کھلاڑی ہے‘ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا ہے۔ یہ سپین کے شہر بارسلونا کے ایک انتہائی غریب علاقے کے ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوا جو ایک ڈیڑھ مرلے کے گھر میں رہائش پذیر تھا اور وہ گھر بھی کرائے پر تھا۔ یہ بچہ چھ ماہ کا ہوا تو اس کے شہر میں ایک عالمی ادارے نے بچوں کی بہبود کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس ادارے کو ''یونیسیف‘‘ کہا جاتا ہے‘ جو اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ ہے۔ عالمی فٹ بالر میسی کو یہاں مدعو کیا جاتا ہے۔ پروگرام یہ تھا کہ ایک چھوٹے بچے کے ساتھ ان کا فوٹو شوٹ کیا جائے۔ اس کیلئے چھ ماہ کے لامین یامال کو منتخب کر لیا جاتا ہے۔ صندوق نما پلاسٹک کے ٹب میں میسی نے اس بچے کو نہلایا‘ پھر تولیے میں لپیٹ کر اس کو گود میں اٹھایا۔ یہ دو تصاویر سارے جہان میں مشہور ہو گئیں۔ یہ بچہ اب 19سال کی عمر میں سپین کا ایک اہم کھلاڑی بن کر میسی کے مدمقابل تھا۔ میسی اگر اسرائیل کا حامی ہے تو لامین اہلِ غزہ کی مظلومیت کا نمائندہ ہے۔ لامین کا باپ قتل ہو گیا تھا۔ اس کی ماں پہلے ہی علیحدگی اختیار کر چکی تھی۔ یوں وہ ماں باپ سے محروم ایسا بچہ تھا جو غزہ کے بچوں کے درد کو سمجھتا تھا‘ جن کے سامنے ان کے ماں باپ قتل کر دیے گئے۔ چنانچہ سپین میں اہلِ غزہ کے حق میں مظاہرے ہوتے تو لامین بھی فلسطینی رومال (کوفیہ) اوڑھے دکھائی دیتا۔ ٹرک پر فلسطینی پرچم بلند کیے ہوئے نظر آتا۔ نیتن یاہو نے اس پر سپین کے وزیراعظم پیڈریو سانچیز سے احتجاج کیا تو وزیراعظم نے جواب دیا ''یامال نے وہی کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ لامین یامال ایک ایسا انسان ہے جو سپین کے دوسرے شہریوں کی طرح غزہ کے مظلوموں کا درد محسوس کرتا ہے‘‘۔
امریکہ کا نیویارک شہر‘ وہاں بنو اسرائیل بڑی تعداد میں آباد ہیں مگر میئر زہران ممدانی حضرت محمد کریمﷺ کا کلمہ پڑھنے والا ہے۔ وہاں کے میدان میں آخری معرکے میں چند دن باقی تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اعلان کیا کہ میں نیویارک جا کر میچ دیکھوں گا۔ ممدانی نے اعلان کیا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آیا تو پولیس اسے گرفتار کرنے کا سوچ رہی ہے کیونکہ غزہ میں جنگی جرائم کے مرتکب مجرم کے وارنٹ گرفتاری عالمی عدالت انصاف نے جاری کر رکھے ہیں۔ نیتن یاہو غیر حاضر ہو گیا۔ جی ہاں! 19جولائی 2026ء کو ''میٹ لائف سٹیڈیم‘‘ میں میدان سج گیا۔ دنیا بھر سے 80 ہزار شائقین یہاں موجود تھے۔ صدر ٹرمپ بھی موجود تھے۔ وزیراعظم سپین بھی موجود تھے۔ دنیا بھر کے کوئی تین ارب لوگ سکرینوں پر نگاہیں ٹکائے بیٹھے تھے۔ دونوں ٹیمیں میدان میں اترتی ہیں۔ لامین یامال اپنی نگاہیں گرائونڈ کی طرف اور ہاتھ آسمان کی جانب اٹھاتا ہے۔ اپنے رب کریم سے کامرانی کی دعا مانگتا ہے‘ پھر رکوع کی حالت میں جاتا ہے اور دوڑتا ہوا اپنی ٹیم میں شامل ہو کر مقابلہ کرتا ہے۔ میسی کی ٹیم کے لوگ دورانِ مقابلہ سپین کے کھلاڑیوں سے الجھ پڑتے ہیں۔ کوئی گلے سے پکڑ کر دھکا دیتا ہے‘ کوئی بدزبانی کرتا ہے۔ یوں وہ آئوٹ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ میچ کے اختتام پر لامین یامال کی ٹیم کی فتح کا اعلان ہوتا ہے۔ یامال سجدے میں گر جاتا ہے۔ سپین کے بادشاہ شاہ فلپ بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ تشریف فرما ہیں۔ وہ یہ مناظر دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔
اگلا منظر یہ ہے کہ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میں سٹیج کی ایک سائیڈ پر فیفا کے صدر جناب جیانی انفینٹینو کھڑے ہیں‘ ان کے ساتھ صدر ٹرمپ اور دیگر عمائدین کھڑے ہیں۔ لامین یامال آتا ہے۔ فیفا کے صدر جیانی سے بغلگیر ہوتا ہے۔ پھر صدر ٹرمپ کے سامنے آتا ہے تو ٹرمپ مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ یامال لمحہ بھر رکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا ہاتھ فضا میں منتظر ہے۔ یامال ہاتھ ملاتا ہے اور بغلگیر ہوئے بغیر آگے بڑھ جاتا ہے۔ الجزیرہ‘ گارڈین‘ رائٹرز‘ واشنگٹن پوسٹ‘ نیویارک ٹائمز غرض دنیا بھر کا میڈیا اس منظر کو رپورٹ کرتا ہے۔ اب دنیا اگلا منظر دیکھتی ہے۔ دونوں ٹیمیں اپنی اپنی ٹرافی کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہیں۔ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ جیتنے والی ٹیم کے وسط میں کھڑے ہوں مگر جیانی انفینٹینو ان کا بازو تھام کر سمجھاتے ہیں کہ آپ جا سکتے ہیں‘ یہاں آپ کی ضرورت نہیں۔ سپین کی ٹیم کا اپنے ملک میں لاکھوں لوگ استقبال کرتے ہیں۔ فری فلسطین کے نعرے لگتے ہیں۔ ادھر غزہ کی تباہ حال عمارتوں پر سپین کے پرچم لہرائے جاتے اور فلسطینی سڑکوں پر جشن مناتے ہیں۔ یامال اہلِ غزہ کے مظلومین کیلئے عالمی چیمپئن شپ کا اعزاز لایا ہے۔ سپین وہ ملک ہے جس نے امریکہ کو اپنے اڈے استعمال کرنے سے منع کر دیا تھا۔ قارئین کرام! میرا تصور یہ ہے کہ میرے اللہ نے اپنے بندوں محمد علی جناحؒ اور محمد اقبالؒ کو یہ منظر دکھایا ہوگا کہ مصر میں بچوں کا قاتل فرعون ہارا تھا تو آج امریکہ میں بھی بچوں کا قاتل ہارا ہے۔ مظلومو! ذرا صبر کہ جبر کے دن جانے والے ہیں۔ قائداعظم زندہ باد کہ جنہوں نے قراردادِ پاکستان کے جلسے میں بھی فلسطین کے حق میں قرارداد منظور کی اور فلسطین کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا۔ علامہ اقبال زندہ باد کہ قرطبہ میں بہائے گئے ان کے آنسو آج عجب بہار دے رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...