"SAC" (space) message & send to 7575

مالیاتی نظام پر بینکوں کا غلبہ کیوں؟

پاکستان کے مالیاتی نظام پر بینکوں کا غلبہ ہے۔ کمرشل بینک ملک کے مالیاتی شعبہ کے 80 فیصد سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔ ایک صحتمند اور ترقی یافتہ مالیاتی نظام میں لوگوں اور کاروباری اداروں کے پاس بچت کرنے اور سرمایہ حاصل کرنے کے کئی مختلف ذرائع ہونے چاہئیں مثلاً وہ سٹاک مارکیٹ‘ پنشن فنڈز‘ بیمہ کمپنیوں یا میوچل فنڈز سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ ان مالیاتی اداروں کو بینکوں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے‘ تاہم پاکستان میں ان میں سے کئی ادارے بھی بینکوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اس لیے بظاہر تو لگتا ہے کہ یہاں کئی مختلف مالیاتی ادارے موجود ہیں لیکن درحقیقت سرمایہ کی بہت بڑی مقدار بالآخر بینکوں کے کنٹرول ہی میں ہے۔ جو چیز مسابقت دکھائی دیتی ہے‘ اکثر وہ مقابلہ بازی کے پردے میں ارتکاز ہے۔
ہمارے ہاں بینک اتنے طاقتور کیوں ہیں؟ بینکوں کو کئی بڑے فوائد حاصل ہیں۔ ان کے پاس بڑی مقدار میں سرمایہ (ڈپازٹس)‘ ہزاروں شاخیں‘ لاکھوں صارفین ہیں۔ ان کے کاروباری اداروں اور حکومت دونوں کے ساتھ طویل عرصے سے تعلقات قائم ہیں۔ لوگ بھی اپنی بچتیں بینک اکائونٹس میں رکھنے کے عادی ہیں۔ اس کے بعد بینک اس رقم کو قرض دینے یا سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے لاکھوں صارفین کی جمع کرائی گئی رقوم سے اثاثے بنا لیتے ہیں‘ اس لیے ان کی بیلنس شیٹ بھی تگڑی ہو جاتی ہے۔ بینکوں کو یہ جانچ پڑتال کرنے کا تجربہ بھی ہے کہ قرض لینے والے اپنا قرض واپس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ بینک قرض لینے والوں سے ان کے اثاثے بطور ضمانت طلب کر سکتے ہیں۔ ان تمام عوامل کے باعث نئے مالیاتی اداروں کے لیے بینکوں کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔تاہم بینکوں کے غلبے کی ایک اور اہم وجہ ہے۔ وہ یہ کہ حکومت کو قرض لینے کی بہت زیادہ ضرورت رہتی ہے۔ حکومت بینکوں کی سب سے بڑی گاہک ہے۔ حکومت باقاعدگی سے جتنی رقم ٹیکسوں کی صورت میں جمع کرتی ہے‘ اس سے زیادہ خرچ کرتی ہے۔ اس لیے اسے اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے قرض لینا پڑتا ہے۔ حکومت کیلئے قرض لینے کا سب سے آسان ذریعہ بینک ہیں۔ آج بینکوں کے تقریباً 62فیصد اثاثے حکومتی سکیورٹیز (ضمانتی اسناد) میں لگے ہوئے ہیں جبکہ صرف 22فیصد اثاثے نجی کاروباری اداروں اور افراد کو دیے گئے قرضوں کی صورت میں ہیں۔ مطلب یہ کہ بینک کاروباری اداروں کی ترقی میں مدد فراہم نہیں کر رہے‘ اس کے بجائے حکومت کی مالی ضروریات پوری کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ حکومتی سکیورٹیز پر دہرے ہندسے (دس فیصد یا اس سے زیادہ) میں منافع ملتا ہے اور نادہندگی کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ جب ایک بینک حکومت کو قرض دے کر بہت کم رِسک کے ساتھ اچھا منافع کما سکتا ہے تو وہ کسی کاروباری ادارے کو قرض دے کر خطرہ کیوں مول لے گا؟
کسی کاروباری ادارے کو قرض دینے کیلئے بینک کو اس کاروبار کا بغور جائزہ لینا ہوتا ہے‘ اس ادارے کے حسابات کی جانچ کرنا‘ ضمانت طلب کرنا اور اس بات کی نگرانی کرنا ہوتی ہے کہ وہ قرض واپس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ اس کی نسبت حکومتی سکیورٹیز خریدنا بہت آسان ہے۔ جب تک حکومت اپنے خسارے پورے کرنے کیلئے بینکوں سے بھاری مقدار میں قرض لیتی رہے گی‘ بینک اپنا چلن تبدیل کیوں کریں؟ وہ زیادہ خطرہ مول لیے بغیر اور کاروباری اداروں کی مالی معاونت کے نئے طریقے بنائے بغیر بھی خوب منافع کما رہے ہیں۔ جب تک حکومت کا کمرشل بینکوں پر انحصار رہے گا‘ بینک ہی پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کے سب سے مستحکم اور سب سے منافع بخش ادارے رہیں گے۔
مالیاتی نظام میں حکومت کا ایک اور عمل دخل بھی ہے۔ وہ نہ صرف کمرشل بینکوں سے بھاری قرض لیتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ قومی بچت کا نظام بھی چلا رہی ہے۔ حکومت کئی مالیاتی اداروں کی مالک ہے یا ان پر گہرا اثر ورسوخ رکھتی ہے؛ چنانچہ بینکوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنے والے نئے مالیاتی ادارے کو صرف طاقتور بینکوں کا ہی مقابلہ نہیں کرنا ہوتا بلکہ وہ ادارہ ایسے ماحول اور نظام میں بھی کام کرتا ہے جس میں اسے وسائل کیلئے خود حکومت کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔
زیادہ لوگ سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کیوں نہیں کرتے؟ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کمزور ہے۔ آبادی کے 0.5 فیصد سے بھی کم لوگوں کے پاس سٹاک مارکیٹ میں اکائونٹس ہیں۔ زیادہ تر لوگ اپنی بچت بینکوں میں ڈپازٹس‘ نقد رقم‘ جائیداد یا سونے کی صورت میں رکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو مالیاتی مارکیٹ کی اچھی طرح سمجھ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کے ذہن میں سٹاک مارکیٹ کے خطرات اور اس کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں شکوک وشبہات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ اس سے بینکوں کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی رقم براہِ راست سٹاک مارکیٹ میں لگانے کے مقابلے میں بینک میں رکھنے کو زیادہ محفوظ اور آسان سمجھتے ہیں۔
کاروباری ادارے بینکوں کو ترجیح کیوں دیتے ہیں؟ ایک کاروباری ادارہ بنیادی طور پر دو طریقوں سے سرمایہ حاصل کر سکتا ہے۔ ایک تو وہ بینک سے قرض لے سکتا ہے یا پھر شیئرز فروخت کرکے یا بانڈز جاری کرکے سرمایہ کاروں سے براہِ راست رقم حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن شیئرز یا بانڈز کی مارکیٹ کے ذریعے رقم حاصل کرنا پیچیدہ عمل ہے۔ اس مقصد کیلئے کمپنیوں کو بہت سے قواعد کی پابندی کرنا پڑتی ہے‘ تفصیلی معلومات فراہم کرنا ہوتی ہیں‘ اپنے حسابات کا باقاعدہ آڈٹ کرانا ہوتا ہے‘ کارپوریٹ نگرانی سے متعلق تقاضے پورے کرنا ہوتے ہیں اور بعض صورتوں میں قرض واپس کرنے کی اپنی صلاحیت کی درجہ بندی (یعنی کریڈٹ ریٹنگ) بھی کرانا پڑتی ہے۔ ان کاموں میں وقت لگتا ہے اور رقم بھی خرچ ہوتی ہے۔ پاکستان کی مجموعی قرضوں کی مارکیٹ میں کارپوریٹ قرضوں کا حصہ تین فیصد سے بھی کم ہے کیونکہ بینک کا قرض حاصل کرنے کے مقابلے میں براہِ راست کارپوریٹ قرض لینا ایک انتہائی سست اور مہنگا عمل ہے۔ اس کے مقابلے میں بینک سے قرض لینا عموماً بہت آسان ہے۔ ایک کمپنی اپنے بینکار کے ساتھ بیٹھتی ہے‘ اسے ضمانت فراہم کرتی ہے اور قرض کی شرائط طے کر لیتی ہے۔
ایک اور پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی بہت سی بڑی کمپنیاں خاندانوں کے کنٹرول میں ہیں۔ ان کے مالکان سٹاک مارکیٹ میں اندراج کرانے کے خواہشمند نہیں ہوتے کیونکہ اندراج کا مطلب ہے کہ انہیں سرمایہ کاروں اور نگران اداروں کے ساتھ کمپنی کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا؛ چنانچہ کمپنیاں اکثر عوام سے سرمایہ حاصل کرنے کے بجائے اپنا منافع استعمال کرتی ہیں اور بینکوں سے قرض لینے کو ترجیح دیتی ہیں۔
پنشن فنڈز اور بیمہ کمپنیوں کا کیا کردار ہے؟ بہت سے ممالک میں پنشن فنڈز اور بیمہ کمپنیاں طویل مدتی سرمایہ کاری کے بڑے ذرائع ہیں‘ تاہم پاکستان میں وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا پنشن کا بڑا نظام موجود نہیں۔ پنشن کے انتظامات بنیادی طور پر سرکاری ملازمین تک محدود ہیں۔ اکثر پنشن حکومت کی موجودہ آمدنی سے براہِ راست ادا کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا کہ پنشن کو بڑے سرمایہ کاری فنڈز کی صورت میں جمع کیا جائے۔ نتیجتاً پنشن اور بیمہ فنڈز معیشت کے حجم کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں۔ حکومتی ہدایات کے تحت سرکاری پنشن اور انشورنس کے اداروں کو بھی اپنا زیادہ تر سرمایہ حکومتی سکیورٹیز یا بینکوں میں ڈپازٹس کی صورت میں رکھنا پڑتا ہے؛ چنانچہ وہ رقم جس سے کاروباری اداروں میں سرمایہ کاری کی جا سکتی تھی‘ اکثر بالآخر حکومت یا بینکوں کے پاس پہنچ جاتی ہے۔
اگلے کالم میں ہم اس بحث کو مزید آگے بڑھائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...