سول سروس میں اصلاحات سے متعلق اب تک ہماری گفتگو کا لب لباب یہ ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) سے تعلق رکھنے والے ایسے افسروں کا غلبہ ہے جو پالیسی سازی کی تخصیصی مہارت (سپیشلائزیشن)نہیں رکھتے۔ یہ افراد کسی مخصوص شعبہ کے تجربہ کے بغیر مختلف اہم محکموں میں تعینات کردیے جاتے ہیں اور بار بار تبادلوں کے باعث کسی ایک شعبہ میں گہری مہارت حاصل نہیں کر پاتے۔ ان کو پروموشن دینے کے لیے نئے عہدے بنائے جاتے ہیں اور عہدوں کو تقسیم کرنے سے ذمہ داریاں بکھر جاتی ہیں۔ افسروں کو لازمی ترقی دی جاتی ہے لیکن کارکردگی کی بنیاد پر نہیں‘ اور جوابدہی کا فقدان ہے جس سے نظام کمزور ہوگیا ہے۔ ہم نے اس نکتہ پر بھی بات کی کہ موجودہ سرکاری ڈھانچوں‘ نظاموں اور طریقہ کار کے نتیجہ میں سرکاری شعبہ میں ضرورت سے زیادہ ملازمین بھرتی ہوگئے ہیں۔ اب حکومت اپنے بنیادی روایتی کردار سے کہیں زیادہ ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے لیکن سول سروس کم اہلیت‘ پست حوصلہ‘ بدعنوانی اور سیاسی مداخلت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی‘ عالمی مارکیٹ کے تقاضوں‘ فعال میڈیا اور باخبر شہریوں کی بڑھتی ہوئی توقعات کے باوجود سرکاری انتظامیہ کے فرائض‘ قواعد اور روایات میں ضروری تبدیلیوں پر ایک سیر حاصل بحث کی ضرورت ہے۔
موجودہ سول سروس میں اصلاحات کا ایک اہم پہلو افسروں کے معاوضہ سے متعلق ہے۔ سرکاری ملازمین اکثر کام سے اپنے لگاؤ اور کارکردگی میں کمی کی وجہ معاوضہ کے ایسے ڈھانچہ کو قرار دیتے ہیں جس کا یکساں ذمہ داریوں‘ قابلیت اور تجربہ کے حامل نجی شعبہ کے ملازمین کے معاوضہ سے موازنہ کیا جائے تو اس سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اعلیٰ سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ 25 سال کی ملازمت کے بعد ان میں کسی نئے کام کو شروع کرنے کا جذبہ اور نئے اقدامات اٹھانے کی ترغیب ختم ہونے لگتی ہے۔ بہت سے ملازمین بددل ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی ملازمت کے باقی سال محض کاغذی کارروائی کرنے اور کاغذات ایک میز سے دوسری میز تک پہنچانے میں گزار دیتے ہیں۔تاہم‘ سرکاری ملازمین اور نجی شعبہ میں کام کرنے والوں کا یہ موازنہ عموماً صرف نقد معاوضہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ملازمت کے مجموعی پیکیج میں اشیا اور خدمات کی صورت میں مہنگی سہولتیں اور دیگر فوائد بھی شامل ہوتے ہیں جنہیں مقابلہ کرتے ہوئے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان مراعات اور خصوصی سہولتوں کا عموماً کھل کر ذکر نہیں کیا جاتا۔ نہ یہ فوائد تنخواہ کی سلپ میں شفاف انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ حقیقی لاگت اصل سے کم دکھائی دیتی ہے جو ٹیکس دہندگان کو ان افسران کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ یوں سول سروس میں ترغیبات کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے۔
سول سروس کے معاوضہ کے نظام کا بنیادی مسئلہ اس میں شفافیت کا فقدان ہے۔ معاوضہ کا ایک نمایاں حصہ بجٹ کی مختلف مدوں اور پہلے سے موجود سہولیات کی شکل میں چھپا ہوتا ہے۔ ان میں سے بہت سے اخراجات کی درست لاگت کا تعین نہیں کیا جاتا۔ نتیجتاً ٹیکس دہندگان آسانی سے یہ معلوم نہیں کر سکتے کہ اعلیٰ سرکاری عہدے داروں بالخصوص گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران پر حکومت حقیقت میں کتنا خرچ کرتی ہے؛ چنانچہ تنخواہوں کے ظاہری سکیلز سے معاوضہ کے حقیقی مجموعی پیکیج کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ظاہر ہوتا ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ گریڈ 19 اور اس سے اوپر کے افسران کو ان پر عائد ذمہ داریوں کے مقابلہ میں بہت کم معاوضہ ملتا ہے لیکن یہ نتیجہ اخذ کرنا گمراہ کن ہے کیونکہ نقد تنخواہ میں وہ بہت سے فوائد شامل نہیں ہوتے جنہیں ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔
اس معاملہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ تنخواہوں کے یکساں سکیلز (یونیفائیڈ پے سکیلز) کے نظام نے سول سروس میں کشش اور ترغیبات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس نظام کے تحت گریڈ 20 میں کام کرنے والے ہر شخص کو ایک جتنا معاوضہ ملتا ہے خواہ اس کا تعلق کسی محکمہ سے ہو۔ مثلاً کسی کم اہم اور کم ذمہ داری والی پوسٹ پر کام کرنے والے افسر کو بھی صوبہ کے فنانس سیکرٹری کے برابر ہی تنخواہ ملتی ہے حالانکہ فنانس سیکرٹری کا کام بہت زیادہ اور بھاری ذمہ داری کا ہے۔ تنخواہ کا یہ نظام اختیار کیے جانے سے پہلے جو نظام رائج تھا اس میں سرکاری ملازم کی تنخواہ اس کے عہدہ اور اس سے وابستہ ذمہ داری کی حساب سے مقرر ہوتی تھی۔ لیکن فرائض کی نوعیت‘ مطلوبہ پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کی سطح سے قطع نظر یکساں تنخواہ کا نظام نافذ کر دیا گیا۔ ذمہ داریوں‘ پیشہ ورانہ تقاضوں سے قطع نظر تقریباً یکساں معاوضہ دینا نہ صرف پیداواری صلاحیت بڑھانے کی ترغیبات کو کمزور کرتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے حکومتوں کی یہ صلاحیت بھی متاثر ہوئی کہ وہ زیادہ اہم سرکاری شعبوں میں اعلیٰ صلاحیت کے حامل افراد کو ان کی قابلیت اور مہارت کے مطابق اضافی معاوضہ پیش کرے تاکہ وہ اس طرف راغب ہوں۔
تنخواہوں کے یکساں سکیلز 1973ء میں انصاف اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے متعارف کرائے گئے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ نظام کمزور ہوتا گیا کیونکہ مخصوص سروس گروپوں اور بعض اوقات ایک ہی گروپ کے اندر منتخب عہدوں کے لیے من مانے اور غیر مساوی انعامات دیے گئے جن میں خصوصی تنخواہ کے پیکیج‘ الاؤنسز اور مراعات شامل تھیں۔ یہ فوائد اکثر اس طرح دیے جاتے ہیں کہ اس بات کا کسی شفاف طریقہ سے تعین نہیں کیا جاتا کہ کون ان کا واقعی اہل ہے۔
پاکستان ادارہ ترقیٔ معیشت (پائیڈ) نے ایک مفید مطالعہ کیا جس کا عنوان ہے''نقدی میں غریب‘ مراعات (پلاٹوں اور خصوصی سہولتوں) میں امیر! سرکاری ملازمین کا معاوضہ: ترغیبات‘ بددلی اور اخراجات‘‘۔ اس تحقیقی مطالعہ نے ڈاکٹر ندیم الحق کی نگرانی میں اندازہ لگایا کہ گریڈ 21 کے ایک افسر پر آنے والی مجموعی لاگت کا پاکستان میں اقوام متحدہ کے نظام کے تحت کام کرنے والے پاکستانی شہری سے مقابلہ کیا جائے تو پاکستانی افسر پر اٹھنے والے اخراجات اپنے مقابل سے 15 فیصد زیادہ تھے۔ اس مطالعہ میں متعدد ایسے مالی اور غیر مالی فوائد کی نشاندہی کی گئی جو سرکاری تنخواہوں کے اعداد و شمار میں مناسب طور پر ظاہر ہی نہیں ہوتے۔ بنیادی پے سکیل 20 اور اس سے اوپر کے افسران‘ خصوصاً پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران‘ ان فوائد کے حقدار ہوتے ہیں۔ اگر صرف بنیادی تنخواہ کے پیمانہ کو بنیاد بنایا جائے تو کم ترین اور بلند ترین تنخواہ کے گریڈوں کے درمیان اجرت کا تناسب 10:1 سے بھی کم ہے۔ لیکن جب معاوضہ کے ان دونوں اجزا (کیش اور مراعات) کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ تناسب بڑھ کر 24:1 ہو جاتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سول سروس کے معاوضہ کا موجودہ نظام بظاہر کم تنخواہوں پر مبنی دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا ہے نہیں۔ سرکاری ملازمین کے نقد معاوضہ کا نجی شعبے میں کام کرنے والے شخص کی تنخواہ سے موازنہ مناسب طریقہ نہیں کیونکہ پوشیدہ معاوضہ کے باعث سرکاری ملازم پر آنے والی لاگت پوری طرح واضح نہیں ہوتی۔ سرکاری افسروں کو ملنے والی مختلف مراعات اور سہولیات بجٹ کی الگ الگ مدوں میں رکھی جاتی ہیں اور ان کی مکمل مالی قدر متعین نہیں کی جاتی۔ نتیجتاً ٹیکس دہندگان یہ نہیں جان پاتے کہ حکومت کو اعلیٰ گریڈ کے سرکاری افسر پر اصل میں کتنے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments