سول سروس کی اصلاحات میں افسروں کے معاوضہ کا موضوع بہت اہم ہے۔ سرکاری افسران کا مؤقف ہے کہ نجی شعبے کے مقابلے میں ان کی تنخواہیں کم ہیں جس کے باعث ان میں کام کا جذبہ اور کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔ درحقیقت وہ عموماً صرف اپنی نقد تنخواہ کا نجی شعبے کی تنخواہ سے موازنہ کرتے ہیں اور خود کو ملنے والی غیر نقد مراعات‘ سہولتوں اور دیگر خصوصی فوائد کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ پوشیدہ معاوضہ ان پر اٹھنے والے اصل اخراجات کو واضح نہیں کرتا۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ سہولتیں اور مراعات ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔ معاوضہ کے وہ اہم اجزا جو سرکاری تنخواہوں کے اعداد و شمار میں پوری طرح ظاہر نہیں ہوتے ان کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے:
الاؤنسز: ضیافت و مہمان نوازی کے اخراجات‘ خصوصی تنخواہ‘ تعلیمی قابلیت کا الاؤنس‘ اعلیٰ عہدوں کے الاؤنسز اور دیگر فوائد۔ سرکاری رہائش گاہیں: فرنیچر سے آراستہ رہائش گاہیں‘ جو اکثر اہم اور مہنگے علاقوں میں واقع ہیں اور جہاں حفاظت اور باغبانی کی خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کی دیکھ بھال اور تزئین ومرمت کے اخراجات مختلف مدات کے تحت حکومت سے وصول کیے جاتے ہیں جن میں ''سرکاری عمارتوں‘‘ کی مرمت و دیکھ بھال اور ترقیاتی اخراجات شامل ہیں۔ بنیادی سہولتوں کے اخراجات: سرکاری رہائش گاہوں میں بجلی‘ گیس اور ٹیلی فون کے اخراجات حکومت ادا کرتی ہے۔ گھریلو ملازمین: قاصد (چپڑاسی)‘ صفائی کرنے والا عملہ اور دیگر ملازمین جو بعض صورتوں میں اعلیٰ سرکاری افسران کے گھروں پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ سرکاری گاڑیاں: سرکاری گاڑیاں ڈرائیوروں کے ساتھ فراہم کی جاتی ہیں اور ان کے ایندھن کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرتی ہے۔ یہ گاڑیاں اکثر نجی طور پر استعمال کی جاتی ہیں جو غیر قانونی ہے۔ پائیڈ کی سٹڈی کے مطابق‘ ایک سرکاری گاڑی کی لاگت گریڈ 20 سے 22 کے افسران کی نقد تنخواہ کے برابر ہو سکتی ہے۔ اعلیٰ افسران کو منسلک سرکاری اداروں کے ذریعے اضافی گاڑیاں بھی دستیاب ہوتی ہیں جبکہ ان اداروں کو اکثر متعلقہ ایندھن‘ ٹیلی فون اور دیگر اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ میڈیکل کی سہولتیں: سرکاری افسران اور ان کے اہلِ خانہ کے علاج معالجہ کے اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے۔ پائیڈ کی سٹڈی کے مطابق‘ تنخواہ کی سلپس میں درج میڈیکل الاؤنس کے علاوہ وفاقی حکومت میڈیکل اخراجات کی واپسی کی مد میں ہر ماہ 2.3 ارب روپے سے زیادہ خرچ کرتی ہے۔ اداروں کے بورڈز کی رکنیت: ایسے اداروں کے بورڈز میں تقرریاں جن میں حکومت کی ملکیت یا مالی مفاد شامل ہو‘ اور بڑے اداروں میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے ایک افسر کو ڈھائی کروڑ روپے سالانہ تک فیس ادا کی جا سکتی ہے۔ بین الاقوامی تعیناتیاں: ملٹی نیشنل اداروں (جیسے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف) میں پاکستان سے متعلق مخصوص اور نمایاں عہدوں پر تقرریاں۔ سوشل کلب: بڑے شہروں میں ایسے سوشل کلبوں (جیسے لاہور جمخانہ‘ اسلام آباد کلب وغیرہ) تک رسائی جہاں رکنیت اور خدمات انتہائی رعایتی نرخوں پر فراہم کی جاتی ہیں۔ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد فوائد: اعلیٰ سرکاری افسران کو رعایتی قیمت پر یا مفت رہائشی پلاٹ فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض صورتوں میں انہیں ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دو سال تک سرکاری رہائش گاہیں بغیر کرایہ ادا کیے اپنے پاس رکھنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ سماجی تحفظ: ملازمت کا تحفظ اور پنشن سمیت متعدد پنشن سے متعلق اور دیگر فوائد‘ جن میں زندگی کا انشورنس‘ میڈیکل سہولتیں اور مستقبل کی مالی بچت کے فنڈز شامل ہیں۔ پنشن کا بوجھ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اوسط عمر میں اضافے سے حکومت کی مستقبل کی مالی ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں جو پہلے ہی خاصی زیادہ ہو چکی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مجموعی پنشن کی مالی ذمہ داریاں (سرکاری یونیورسٹیوں‘ پی آئی اے‘ ریلوے‘ ڈسکوز کو شمار کیے بغیر) 35 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔ پنشن: سرکاری ملازمین 25 سال کی ملازمت مکمل کرنے کے بعد اپنی آخری تنخواہ اور ملازمت کی مدت سے منسلک قابلِ ذکر پنشن کے حقدار ہوتے ہیں۔ پنشن کی رقم آخری بنیادی تنخواہ کا 70 فیصد ہوتی ہے۔ پائیڈ کے مطالعہ کے مطابق پنشن لینے والے کی وفات کے بعد اس کے خاندان کے مختلف افراد کو بھی پچاس فیصد پنشن کے حقوق حاصل ہو جاتے ہیں۔ مستحق ورثا کی تعداد 13 تک ہے۔ پنشن میں وقتاً فوقتاً کیے جانے والے اضافے کی وجہ سے بعض صورتوں میں اس کی رقم ریٹائر ہونے والے ملازم کی آخری تنخواہ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔
اس کے علاوہ‘ سرکاری ملازمین ملازمت سے سبکدوشی کے وقت اپنی پنشن کے ایک حصہ کو یکمشت رقم (Commutation) میں تبدیل کروا کر وصول کر سکتے ہیں۔ موجودہ نظام میں کمیوٹیشن کی رقم کا حساب مستقبل میں اس کی ویلیو کو پوری طرح مدنظر رکھ کر نہیں کیا جاتا۔ گریجویٹی: ملازمت سے سبکدوشی کے وقت سرکاری ملازمین اپنی آخری تنخواہ سے منسلک گریجویٹی کے بھی حقدار ہوتے ہیں جو آخری بنیادی تنخواہ کے 40 گنا کے برابر ہوتی ہے۔ موجودہ نظام کے تحت ملازمین اپنی مستقبل کی پنشن یا گریجویٹی کے لیے کوئی رقم جمع نہیں کراتے۔ اس کی پوری لاگت حکومت برداشت کرتی ہے۔ جنرل پراویڈنٹ (جی پی) فنڈ: سرکاری ملازمین جنرل پراویڈنٹ فنڈ میں اپنی بنیادی تنخواہ سے حصہ ڈالتے ہیں اور اتنی ہی رقم حکومت کو بھی اس میں ڈالنا پڑتی ہے۔ سرکاری ملازمین کو اپنی جمع کرائی گئی رقم پر انہیں تاریخی طور پر اچھی شرح سے منافع ملتا ہے۔ بہبود فنڈ: ملازمین ایک بہبود فنڈ میں اپنی بنیادی تنخواہ کا دو فیصد رقم جمع کراتے ہیں جو قبل از وقت وفات یا معذوری کی صورت میں مالی فوائد فراہم کرتا ہے اور انہیں اس فنڈ پر بہت فیاضانہ شرح سے منافع ملتا ہے جو عمومی شرح سود سے 30 فیصد زیادہ بھی ہو جاتا ہے۔ اجتماعی انشورنس: سرکاری ملازمین اجتماعی انشورنس کے تحت آتے ہیں جس کے فوائد متعلقہ ملازم کی سالانہ تنخواہ کے ڈھائی گنا کے برابر ہیں۔ چھٹیاں: سرکاری ملازمین ہر ماہ چار چھٹیوں کے حقدار ہیں۔ وہ ایک سال بھر چھٹیاں نہ لے کر انہیں جمع کر سکتے ہیں اور چھ ماہ کی چھٹیوں کے عوض نقد رقم بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان میں سے بعض غیر مالی فوائد صوابدیدی بنیادوں پر اور منتخب افسروں کو دیے جاتے ہیں۔ ان مراعات اور سہولیات سے سرکاری ملازمین کی مجموعی تعداد کے 15 فیصد سے بھی کم افراد مستفید ہوتے ہیں۔ تاہم ان فوائد کو منتخب لوگوں میں تقسیم کرنے سے ایک اور مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ جب زیادہ لاگت والی مراعات تک رسائی کا انحصار کسی بڑے عہدیدار کی صوابدید پر ہو تو اس سے باہمی مفادات کے تحت احسانات کا تبادلہ فروغ پاتا ہے‘ یعنی فائدہ پہنچانے والا متعلقہ افسر سے اپنے من پسند کام کرواتا ہے اور گورننس مزید کمزور ہوتی ہے۔
اب تک ہم نے سول سروس پر جو گفتگو کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ادارہ وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھلنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے اونچے عہدوں پر ایسے لوگ براجمان ہیں جو کسی ایک شعبہ میں خصوصی مہارت نہیں رکھتے۔ حکومت کا حجم بنیادی فرائض کی نسبت بہت زیادہ بڑا ہو چکا ہے۔ ایک ہی کام کے لیے متعدد محکمے قائم کر دیے گئے ہیں۔ سیاسی مداخلت عام ہے۔ افسروں کی پروموشن اور جوابدہی کا شفاف نظام موجود نہیں۔ ریگولیشنز کی بھرمار ہے جس سے کاروبار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ حکومت اعلیٰ افسروں کی سہولتوں پر بے تحاشا خرچ کرتی ہے لیکن ان کی نقد تنخواہ نجی شعبہ کے مقابلے میں کم ہے۔ اس سارے نظام کو کیسے ٹھیک کیا جائے‘ اس پر ہم اپنے اگلے مضمون پر بحث کریں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments