"SAC" (space) message & send to 7575

اچھی گورننس کیلئے سول سروس اصلاحات لازم

آج کل ایک عام راگنی ہے کہ ہمیں حکومتی نظام اور حکومت کی ساخت میں طویل عرصہ سے زیرِ التوا اصلاحات پر فوری طور پر عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس ضمن میں زیادہ تر بیان کردہ تجاویز اپنے مفہوم میں خاصی حد تک عام نوعیت کی ہیں۔ مثال کے طور پر نجکاری کرنے‘ برآمدات میں اضافہ کرنے‘ مجموعی ملکی پیداوار کے مقابلہ میں ٹیکس کے تناسب کو بڑھانے جیسی سفارشات کی جاتی ہیں جبکہ بجٹ کے ذریعے کیے جانے والے بے تحاشا اخراجات پر کوئی ٹھوس تجویز پیش نہیں کی جاتی۔ یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ ان اہداف کو حاصل کرنے کیلئے پالیسی اقدامات اور طریقہ کار کیا ہونے چاہئیں اور ادارہ جاتی انتظامات کے حوالہ سے تفصیلات کیا ہوں۔
حکمرانی کے کسی بھی نظام اور اس کے نتائج کا بہت زیادہ انحصار مندرجہ ذیل امور پر ہوتا ہے: ریاست کا ڈھانچہ کیا ہے یعنی اس کا کردار (افعال)‘ دائرہ کار اور حکومت کی سطح (وفاقی‘ صوبائی اور مقامی) کے لحاظ سے خدمات کی فراہمی اور انتظامی و مالیاتی اختیارات کی حد بندی کیا ہے۔ تاہم میری معروضات محض ایک پہلو پر بحث اور اس مسئلہ کے حل سے متعلق ہیں۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ اہم سول سروس کی اصلاحات ہیں کیونکہ یہ حکومتی نظام میں اصلاحات کی بنیاد بنیں گی۔ مجھ سمیت کچھ تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ سول سروس کی اصلاح کے بغیر بلند اور زیادہ منصفانہ معاشی ترقی کا ہدف حاصل نہیں ہو سکتا۔ ریاستی کاموں کو چلانے والے ادارے اور نظام اس حد تک ناکارہ ہو چکے ہیں کہ ان کے بنیادی ڈھانچہ کی تشکیلِ نو کے بغیر عوام کیلئے خدمات کی فراہمی کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ اور اس کیلئے سول سروس کے ڈھانچہ کو اس کی پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کیلئے دوبارہ تیار کرنا ہوگا۔
سول سروس کا ڈھانچہ اور نظام میں اصلاحات کی کوششیں: سول سروس کا ڈھانچہ کئی کیڈرز کے گرد بنا ہوا ہے جن میں اہم پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس جسے کچھ عرصہ پہلے ڈی ایم جی اور ماضی میں سی ایس پی کہتے تھے)، آفس مینجمنٹ (او ایم جی)، پولیس، انٹرنل ریونیو سروس، فارن افیئرز، اکنامک اور کامرس گروپس ہیں۔ پی اے ایس کی سروس چوٹی پر فائز ہے جو معیشت اور انتظامیہ کے اعلیٰ ترین عہدوں کو کنٹرول کرتی ہے جبکہ وفاقی سطح پر ان عہدوں کا کچھ حصہ آفس مینجمنٹ گروپ کے پاس بھی ہے۔حکومت چلانے کا یہ ادارہ جاتی ڈھانچہ کسی منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ذریعے نہیں بنایا گیا اور نہ کسی سٹرٹیجک بصیرت سے اخذ کیا گیا ہے کہ جس میں یہ سوچا گیا ہو کہ حکومت کے افعال کی ترجیحات کیا ہوں۔ گورننس کا موجودہ ڈھانچہ پاکستان کی آزادی کے وقت ورثے میں ملا تھا اور بعد میں اس ڈھانچے میں متعدد بیرونی اور اندرونی عوامل کے ردعمل میں ترامیم کی جاتی رہیں۔ یہ عوامل مندرجہ ذیل ہیں: (الف) وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان موضوعات کی آئینی تقسیم اور ان دونوں کے قانون سازی کے اختیارات (ب) حکومت کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور مخصوص مسائل کو حل کرنے کیلئے کیے گئے عارضی فیصلے (ج) بین الاقوامی معاشی، سماجی اور سیاسی حالات کیساتھ ساتھ عالمگیریت (گلوبلائزیشن)‘ جدید گورننس اور عالمی مالیاتی اداروں کے تقاضے (د) سیاسی مصلحتیں اور ملک کے اندر سماجی و سیاسی دباؤ۔
گزشتہ برسوں میں انتظامی مشینری کی اصلاح کیلئے دو درجن سے زیادہ کمیشن اور کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ انکا مینڈیٹ تھا کہ وہ سول سروس کے تنظیمی ڈھانچے، انکے افعال و اختیارات کی نوعیت اور انکے دائرہ کار کیلئے ایک حکمتِ عملی تیار کریں۔ اس مشق کا بظاہر مقصد یہ تھا کہ معاشی اور سماجی ترقی کو فروغ دینے کیلئے سرکاری اداروں کی جانب سے خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے۔ تاہم، ان کمیشنوں اور کمیٹیوں کی توجہ خالصتاً ملازمین کی بھرتی، تربیت، کیریئر کی منصوبہ بندی، مراعات اور مراعات پر مبنی معاوضہ کے ڈھانچہ، تقرریوں اور تبادلوں اور شکایات کے ازالہ جیسے معاملات پر مرکوز رہی۔ یہ کوششیں بڑے پیمانہ پر کارکردگی کو بہتر بنانے میں ناکام رہیں حالانکہ ان کمیشنوں وغیرہ کا بیان کردہ مقصد تو یہی تھا تاکہ وراثت میں ملے ہوئے نظام کو ایک آزاد قوم کی ضروریات اور توقعات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ اس تجربہ سے ثابت ہوگیا کہ ہم انسانی وسائل (ہیومن ریسورس) کے معاملات تو حل کرلیتے ہیں لیکن اسکے باوجود ہمارا نظام ناکارہ ہی رہا۔ مثال کے طور پر موجودہ نظام بروقت کارروائی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا بلکہ معاملات کو التوا میں ڈالنے اور ٹال مٹول کرنے پر کسی سرکاری ملازم کو کوئی سزا بھی نہیں دیتا۔ اس تاخیر کو نظام کا دیوالیہ پن ماننا تو دور کی بات ہے اسے نظام کی خرابی بھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ سرکاری اداروں میں عام ذہنیت غیر سنجیدہ اور سرسری رویہ پر مبنی ہے جیسا کہ کسی عمل کو پورا کرنے کیلئے لامحدود وقت موجود ہے۔ حکومت سے متعلق کسی بھی کام کیلئے متعدد منظوریوں، سرکاری اہلکاروں کے پاس ان گنت چکروں، پیچیدہ اور بظاہر کبھی ختم نہ ہونیوالی کاروائی اور مراحل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کیلئے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جیسے دستاویزات کی درجنوں کاپیوں کی ضرورت ہوتی ہے حالانکہ بائیومیٹرک کا ایک اچھا تصدیقی نظام پہلے سے موجود ہے۔لہٰذا ہم اپنی زیادہ تر بحث اس نظام پر مرکوز کریں گے جو اختیارات کی مرکزیت پر مبنی ہے حتیٰ کہ 18 ویں ترمیم کے تحت اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کے بعد بھی۔ ہم معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنے والے فرسودہ قوانین اور ضوابط کے تسلسل پر بھی نظر ڈالیں گے کیونکہ لین دین ہی سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) تشکیل پاتی ہے اور اگر لین دین میں رکاوٹیں آجائیں تو جی ڈی پی اپنے پوٹینشل کے مطابق نہیں بڑھتا۔ ہم سرکاری افسروں کے معاوضوں پر بھی بات کریں گے جو مبہم ہیں لیکن فیاضانہ طور پر دیے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ پی اے ایس افسران ہی ان تمام ڈھانچوں اور نظاموں کے سربراہ ہیں۔
اس جائزہ کی اس لیے بھی فوری ضرورت ہے کہ آج حکومت جو مؤثر طریقے سے کام نہیں کر رہی تو اس میں ایک اہم رکاوٹ اسکے حد سے زیادہ پھیلا ہوا مینڈیٹ اور اس پر لگنے والا بجٹ۔ یہ حد سے بڑھا ہوا مینڈیٹ اس کے بنیادی کردار اور اس کی افرادی قوت کی صلاحیت سے ماورا ہے اور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجیکل ترقی اور عالمی مارکیٹوں کیساتھ ہم آہنگ بھی نہیں۔ اس سروس میں مجموعی رجحان یہ رہا ہے کہ ڈھانچوں (محکمے، عہدے وغیرہ) کو بڑھاتے جاؤ۔ نئے محکموں، اداروں اور عملہ کے عہدوں کو بنانا یا شامل کرنا نسبتاً آسان رہا ہے۔ یہ ڈھانچے ایک بار قائم ہوجائیں تو ان کے وجود اور ان کی مسلسل دیکھ بھال کو متعلقہ فریقوں اور اس نظام سے فائدہ اٹھانے والوں کی حمایت حاصل ہوجاتی ہے۔یکے بعد دیگرے آنیوالی حکومتوں نے ایسا کردار ادا کیا ہے جیسے وہ روزگار فراہم کرنیوالے دفاتر ہوں حالانکہ ان کی توجہ روزگار پیدا کرنے پر ہونی چاہیے تھی نہ کہ روزگار فراہم کرنے پر۔ چپڑاسیوں، ڈرائیوروں، چوکیداروں اور کلرکوں کا ایک بڑا لشکر سیکرٹریٹ اور سرکاری شعبے کے اداروں کی راہداریوں میں گھومتا رہتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ عملہ کی بھرتی کا پیمانہ ایسا ہے کہ ملازمت کے قواعد کے تحت ایک باتھ روم کو صاف کرنے کیلئے ملازمین کی تین اقسام کی ضرورت ہوتی ہے: ایک فرش پونچھنے کیلئے، ایک واش بیسن صاف کرنے کیلئے اور ایک کھڑکی کی چوکھٹ سے دھول صاف کرنے کیلئے۔مزید برآں، ایک ایسا قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے جس نے ان ملازمین کو حقوق دیے ہوئے ہیں۔ یہ نام نہاد حقوق ان شہریوں کیلئے نقصان کا باعث ہیں جنہیں خدمات فراہم کرنے کیلئے مبینہ طور پر انہیں ملازم رکھا جاتا ہے کیونکہ بعض اوقات مالی وسائل ان ملازمین پر ہی صرف ہوجاتے ہیں اور اصل مقصد قربان ہو جاتا ہے۔ مقصد ہوتا ہے سکول، علاج معالجہ کی سہولیات وغیرہ لیکن ان عوامی حقوق پر متعلقہ ملازمین کے حقوق و مراعات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ سول سروس ملازمین کی، ملازمین کیلئے اور ملازمین کے ذریعے چلنے والی سروس بن چکی ہے۔ اگلے مضمون میں ہم اس گفتگو کو آگے بڑھائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...