"SAC" (space) message & send to 7575

غیر بینکاری مالیاتی ادارے کمزور کیوں؟

ہم نے مالیاتی نظام سے متعلق گزشتہ مضمون میں دیکھا تھا کہ پاکستان کے اس میدان پر کمرشل بینکوں کا غلبہ ہے جبکہ غیر بینکاری مالیاتی ادارے جیسے سٹاک مارکیٹ‘ میوچل فنڈز‘ پنشن فنڈز وغیرہ کا مارکیٹ میں حصہ بہت کم ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ حکومت ہے جو ہر سال بینکوں سے بھاری قرض لیتی ہے اور خود بھی قومی بچت ایسی سکیموں کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کرتی ہے۔ کاروباری اداروں کیلئے سٹاک مارکیٹ سے سرمایہ اکٹھا کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے جبکہ بینکوں سے قرض لینا نسبتاً آسان۔ ہمارے مالیاتی نظام کے بینکوں کی طرف جھکاؤ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ایسی ریگولیشنز نافذ ہیں جو مالیاتی اداروں کے درمیان مقابلے کو مشکل بنا دیتی ہیں۔ پاکستان کے ریگولیٹرز بینکوں کو ادائیگی کے قابل (سالوینٹ)‘ وافر لیکویڈیٹی کے حامل اور محفوظ رکھنے میں خاصی حد تک کامیاب رہے ہیں‘ لیکن یہی ریگولیٹری ڈھانچہ ایسے ادارے بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا جو بینکوں کا مقابلہ کر سکیں۔ دوسروں کی رقم پر بڑے پیمانے کا رِسک لینے والے اداروں (جیسے بینک) کیلئے بھاری سرمایہ رکھنے کی شرائط جائز ہو سکتی ہیں لیکن بینکوں کیلئے بنائی گئی شرائط کو مخصوص شعبوں میں کام کرنے والے مالیاتی اداروں پر لاگو کرنے سے ان کو ناقابلِ برداشت اخراجات کرنا پڑتے ہیں اور یہ نئے اداروں کے مارکیٹ میں داخلے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ میوچل فنڈز اس مسئلے کی واضح مثال ہیں۔ یہ فنڈز لوگوں سے بینکوں کی طرح ڈپازٹس وصول نہیں کر سکتے۔ انہیں لوگوں کو قائل کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی بچت ان فنڈز میں لگائیں یا انہیں ایکویٹی کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کرنا پڑتا ہے۔ ایک راستہ یہ بھی ہے کہ وہ بینکوں سے قرضہ لیں اور یہ قرض اکثر تجارتی شرح سود پر حاصل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اگر وہ شرح سود بڑھا کر کسی پارٹی کو قرض دیں تو یہ اتنا آسان نہیں۔ اگر وہ شرح سود نہ بڑھائیں تو انہیں اپنے منافع کا مارجن کم کرنا پڑے گا۔ ایک اور مسئلہ ہے کہ ایسے مالیاتی پراڈکٹس جن میں بینک اور کیپٹل مارکیٹ دونوں شامل ہوں‘ ان کیلئے دو اداروں کی منظوری درکار ہوتی ہے‘ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن۔ جب کسی کام میں دو ریگولیٹری ادارے ملوث ہوں تو نئی مصنوعات تیار کرنے کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور یہ عمل پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ قواعد صارفین کے تحفظ کیلئے بنائے جاتے ہیں لیکن اگر انہیں ناقص انداز میں ترتیب دیا جائے تو وہ صارفین کے بجائے موجودہ بڑے کھلاڑیوں (یعنی بینکوں) کو تحفظ دینے لگتے ہیں۔ اس کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بینکوں نے اس صورتحال کے ردِعمل میں کیا اقدامات کیے ہیں۔ ہوا یہ کہ بینکوں نے دیگر مالیاتی اداروں سے مسابقت کرنے کے بجائے اکثر ایسے مالیاتی ادارے خود ہی قائم کر لیے۔ بینکوں نے انہیں خرید لیا یا ان پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس وقت بہت سی بڑی اثاثہ جاتی مینجمنٹ کمپنیاں‘ انشورنس کمپنیاں اور میوچل فنڈز بینکوں کی ملکیت میں ہیں یا ان کے کنٹرول میں ہیں؛ چنانچہ بینک اور دیگر مالیاتی ادارے بظاہر حریف نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت کئی مالیاتی ادارے بینکوں ہی کا حصہ ہیں۔ اس سے حقیقی مقابلہ پیدا کیے بغیر یہ تاثر پیدا ہو جاتا ہے کہ لوگوں کے پاس چوائس موجود ہے‘ مثلاً میوچل فنڈز لوگوں کی بچت حاصل کرکے اس رقم کو سرمایہ کاری میں لگاتے ہیں لیکن میوچل فنڈز کی 80 فیصد سے زیادہ سرمایہ کاری بینکوں میں جمع رقوم‘ حکومت کے قلیل مدتی ٹریژری بلز یا حکومت کی سرپرستی میں جاری کیے گئے سکوک بانڈز میں لگی ہوئی ہے؛ چنانچہ بڑی مقدار میں سرمایہ بالآخر دوبارہ حکومت کے پاس یا بینکاری نظام میں واپس چلا جاتا ہے۔ یوں بینکوں کا اس بات پر کنٹرول رہتا ہے کہ رقم کون جمع کرتا ہے‘ اسے کہاں لگایا جاتا ہے اور بالآخر اسے کون حاصل کرتا ہے۔
پاکستان کے مالیاتی نگران ادارے بجا طور پر یہ خیال رکھتے ہیں کہ سب سے پہلے مالیاتی اداروں کی ادائیگی کی صلاحیت دیکھی جائے۔ ان کے پاس نقد رقم کی دستیابی کو جانچا جائے۔ ریگولیٹری ادارے صارفین کے تحفظ اور پورے مالیاتی نظام کو لاحق خطرات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ یہ سب امور نہایت اہم ہیں لیکن ان کے نتیجے میں ہمارے پاس ایک مستحکم بینکاری نظام تو موجود ہے‘ لیکن مالیاتی نظام ابھی تک غیر ترقی یافتہ ہے۔ اچھے ریگولیٹر کو ان دو قسم کے احتیاطی تقاضوں پر مبنی اقدامات میں فرق کرنا چاہیے۔ ایک تو وہ شرائط ہیں جو صارفین کے تحفظ کیلئے ضروری ہیں اور دوسری وہ شرائط ہیں جن کی وجہ سے ریگولیٹری تقاضے پورا کرنے کے اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں اور وہ نئے اداروں کے مالیاتی مارکیٹ میں داخلہ کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ پھر بینکوں کو سٹیٹ بینک کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ اس میں رعایتی قرض کی سہولت اور ہنگامی نقدی کی سہولت کی حدیں بھی شامل ہیں۔ یہ سہولتیں صرف بینکوں کیلئے دستیاب ہیں جبکہ غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو ایک ایسے بکھرے ہوئے اور غیر ترقی یافتہ نظام کے تحت کام کرنا پڑتا ہے جس میں ڈپازٹس رکھنے کی اجازت نہیں۔ مزید برآں‘ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ان اداروں کیلئے ریگولیٹری ڈھانچے میں کئی بار تبدیلیاں کی گئیں لیکن یہ اب تک ایک مستحکم اور جامع نظام کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ اس کے برعکس‘ بینکاری سے متعلق ریگولیشن کو اس لحاظ سے برتری حاصل ہے کہ ایک طویل عرصے سے مستحکم ریگولیٹری ڈھانچہ موجود ہے جس کی بدولت اس میں ریگولیٹری پیش بینی کا عنصر پیدا ہو چکا ہے۔
ریگولیٹری میدان باضابطہ طور پر ہموار ہو سکتا ہے لیکن معاشی میدان ہموار نہیں کیونکہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے والے مالیاتی ادارے وسیع تر معنوں میں ایک جیسی (یا قابلِ موازنہ) معاشی شرائط پر کام نہیں کر رہے۔ ریگولیشن میں یہ خلا غیر بینکاری اداروں کو ادارہ جاتی ڈپازٹرز کیلئے فطری طور پر زیادہ پُرخطر بنا دیتا ہے۔ اس وجہ سے بڑے کاروباری صارفین کمرشل بینکوں کی جانب جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان مزید غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو زیادہ تعداد میں اجازت نامے تو جاری کر رہا ہے لیکن یہ عمل بامعنی مسابقت پیدا کرنے کے حوالے سے بہت کم نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے۔ جہاں تک صارف کا تعلق ہے‘ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اس کی رقم کو قانونی طور پر ڈپازٹس کہا جائے یا میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری یا حکومت کے قومی بچت کا سرٹیفکیٹ سمجھا جائے۔ وہ محض اپنی بچت کو منافع کیلئے مختص کرتا ہے۔
اصل خرابی کیا ہے؟ پاکستان کے مالیاتی نظام پر صرف اس لیے بینکوں کا غلبہ نہیں ہے کہ یہ باقی سب اداروں سے بہتر ہیں‘ بلکہ یہ اس لیے حاوی ہیں کہ پورا نظام انہیں دوسروں کی نسبت زیادہ فوائد فراہم کرتا ہے۔ حکومت کو بڑی مقدار میں قرض لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور بینک اس کا سب سے آسان ذریعہ ہیں۔ کاروباری اداروں کیلئے شیئرز یا بانڈز کی مارکیٹس سے رقم حاصل کرنے کے مقابلے میں بینکوں سے قرض لینا آسان ہے۔ پنشن اور بیمہ فنڈز چھوٹے ہیں‘ کیپٹل مارکیٹس کمزور ہیں اور بعض اوقات ریگولیشنز نئے مالیاتی اداروں کیلئے مسابقت کرنا مہنگا اور مشکل بنا دیتے ہیں۔ نتیجہ ایک ایسا نظام ہے جس میں بہت سے مالیاتی ادارے موجود ہیں لیکن اس میدان میں بینک بدستور سب سے طاقتور کھلاڑی ہیں۔ اس مسئلے کا حل محض مزید مالیاتی ادارے قائم کرنا نہیں ہے۔ پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں مختلف اقسام کے مالیاتی ادارے منصفانہ بنیادوں پر مقابلہ کر سکیں۔ قواعد کا انحصار اس بات پر ہونا چاہیے کہ کوئی ادارہ کیا رسک مول لیتا ہے نہ کہ محض اس بات پر کہ اسے بینک‘ میوچل فنڈ یا کسی اور قسم کا مالیاتی ادارہ کہا جاتا ہے۔ ہدف سادہ ہونا چاہیے: لوگوں اور کاروباری اداروں کے پاس یہ حقیقی اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنی بچت کہاں رکھیں اور منافع کہاں سے حاصل کریں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا پاکستان کے پاس کاغذ پر تو مالیاتی ادارے موجود رہیں گے لیکن حقیقت میں ایک ہی غالب کھلاڑی ہوگا یعنی بینک۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...