"SAC" (space) message & send to 7575

دستاویزی شعبہ پر ٹیکس نظام کی سختیاں

عام طور پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان کو ایک ایسا ملک قرار دیا جاتا ہے جہاں بہت کم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ اس دعوے کے حق میں پیش کیا جانے والا بنیادی ثبوت سادہ اور مستقل نوعیت کا ہے: جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس آمدن مسلسل کم رہتی ہے جو عموماً 10 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ یہ شرح ان ممالک کے مقابلے میں خاصی کم ہے جنہیں پاکستان کی تقابلی معیشتیں سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اگر صوبوں کے متعدد ٹیکسوں اور پٹرولیم لیوی کو شامل کر لیا جائے تو پاکستان میں ٹیکس وصولی کی شرح 12.5 فیصد ہوجاتی ہے۔ملک کے ٹیکس نظام پر بحث ایک محدود حساب میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور مقامی مبصرین کامیابی کا اندازہ صرف اس بنیاد پر لگاتے ہیں کہ ایف بی آر اپنا سالانہ ہدف حاصل کرتا ہے یا ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب میں چند اعشاری حصوں کے برابر اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مزید ٹیکس کس طرح جمع کیے جا سکتے ہیں۔ اس معاملہ میں جو حل پیش کیے جاتے ہیں وہ بھی خاصے جانے پہچانے ہیں: ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کیا جائے‘ ٹیکس وصولی کے نفاذ کو بہتر بنایا جائے‘ معیشت کو دستاویزی شکل دی جائے اور قوانین کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ایسے تقابلی جائزے اور روایتی تشخیص مفید ضرور ہیں لیکن صرف ایک حد تک۔ مجموعی تناسب کے اعداد و شمار اصل حقیقت ظاہر کرنے سے زیادہ اسے چھپا دیتے ہیں۔ یہ اشاریے اہم ضرور ہیں لیکن ان سے ٹیکس نظام کی اصل خرابی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے اور وہ خرابی ہے ٹیکس نظام کے معیار کے بارے میں شفاف معلومات کی عدم موجودگی۔ یہ اشاریے اس بارے میں خاموش ہیں کہ ٹیکس کا ڈھانچہ کتنا منصفانہ ہے‘ کتنا قابلِ پیش گوئی اور شفاف ہے‘ اس پر عمل درآمد کی لاگت کتنی ہے اور یہ کس حد تک پیداواری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ معیشت کی طویل مدتی ترقی کی صلاحیت کو تقویت مل سکے۔
ہمارے ٹیکس کا نظام بنیادی طور پر زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے کیلئے نچوڑنے والے ایک آلہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ معاشی پالیسی کے ایک ایسے مربوط ذریعہ کے طور پر کام نہیں کرتا جس کا مقصد سرمایہ کاری اور ترقی کو فروغ دینا ہو۔ اسی وجہ سے ہر سال تجویز کیے جانے والے پالیسی اقدامات مسلسل ناکام رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں ملک کے معاشی ڈھانچہ کو بے پناہ سٹرکچرل نقصان پہنچا ہے۔اصل ٹیکس بحران صرف یہ نہیں کہ اسکے ذریعے بہت کم رقم جمع ہوتی ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ یہ محدود رقم بھی بہت نقصاندہ‘ غیر مساوی‘ غیر منصفانہ اور من مانے ڈھانچے کے ذریعے جمع کی جاتی ہے۔ یہ نظام نسبتاً چھوٹی‘ دستاویزی‘ قوانین کی پابند رسمی معیشت پر انتہائی بھاری ٹیکس شرحیں عائد کرنے کی بنا پر داغدار ہو چکا ہے۔ ٹیکس کی ایسی شرحیں جو بار بار‘ غیر متوقع انداز میں بلکہ بعض اوقات مؤثر بہ ماضی انداز میں بھی تبدیل کر دی جاتی ہیں۔ ٹیکس کا نظام ترقی‘ پیداواری صلاحیت اور انصاف کو فروغ دینے کے آلہ کے طور پر کام نہیں کر رہا بلکہ یہ معیشت کے ان حصوں سے آمدنی نچوڑنے کا عمل بن چکا ہے جو سب سے زیادہ نمایاں ہیں اور آسانی سے گرفت میں آجاتے ہیں۔ اسکے برعکس حقیقی معاشی سرگرمیوں کے حامل وسیع شعبے یا تو معمولی ٹیکس دے رہے ہیں یا ٹیکس کے نظام سے ہی باہر ہیں۔ اس عمل کا نتیجہ ایک ایسے ٹیکس نظام کی صورت میں نکلتا ہے جس سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے‘ ٹیکس چوری کی ترغیب ملتی ہے اور غیر رسمی معیشت کو انعام ملتا ہے۔ یہ نظام سرمایہ کو پیداواری صنعتوں سے نکال کر غیر پیداواری‘ کرایہ خور اثاثوں کی طرف منتقل کرتا ہے جنہیں مسابقت سے تحفظ حاصل ہے۔ یہ ٹیکس نظام ریاست پر اعتماد کو کمزور کرتا‘ انسانی اور مالی سرمایہ کو ملک سے باہر جانے کی ترغیب دیتا اور مناسب ٹیکس آمدنی پیدا کرنے میں ناکام ہے کیونکہ یہ ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔پاکستان میں تنخواہ دار افراد‘ رجسٹرڈ کارپوریٹ ادارے یا رسمی شعبے کے صنعتکار محسوس کرتے ہیں کہ وہ دیگر ممالک میں اپنے جیسے لوگوں کے مقابلہ میں زیادہ ٹیکس کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں حالانکہ وہ ممالک جی ڈی پی کے تناسب سے پاکستان کے مقابلہ میں دوگنا ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ یہ بظاہر متضاد صورتحال اس لیے پیدا ہوئی کہ پاکستان پوری معیشت پر وسیع پیمانہ پر ٹیکس عائد نہیں کرتا۔ اسکے برعکس‘ وہ ایک نہایت محدود رسمی اور دستاویزی شعبہ پر بار بار‘ بھاری شرح سے اور انتظامی سختی کیساتھ ٹیکس عائد کرتا ہے۔ آج پاکستان میں ایک رجسٹرڈ کارپوریٹ ادارہ کی حالت پر غور کیجیے۔ کاغذوں میں اسے کارپوریٹ آمدنی پر ایک مقررہ قانونی ٹیکس شرح کا سامنا ہوتا ہے۔ حقیقت میں یہ اس کی مالی ذمہ داریوں کا محض نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ اصل میں اور بہت سی چیزیں بھی ہیں۔ اس ادارے پر اضافی ٹیکس‘ مخصوص شعبوں پر سرچارجز‘ مجموعی کاروباری حجم پر ٹیکس‘ ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتیوں کی ایک پیچیدہ بھول بھلیاں اور سہ ماہی پیشگی ٹیکس ادائیگیاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ اگرچہ نظریاتی طور پر ان میں سے بہت سے محصولات کو حتمی ٹیکس واجبات میں ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا کیونکہ انتظامی رکاوٹوں کے سبب محصولات کی یہ ایڈجسٹمنٹ کاروباری سرمائے کی بندش‘ تقریباً مستقل طور پر مؤخر ہونیوالے ٹیکس ری فنڈ کے دعووں اور قابلِ ایڈجسٹ ٹیکس کے دعووں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ نتیجتاً ایک رسمی‘ دستاویزی ادارہ پر ٹیکس کا حقیقی بوجھ قانونی شرحوں سے ظاہر ہونیوالے بوجھ سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ آپریشنل بوجھ صرف مالی ادائیگیوں تک محدود نہیں رہتا۔ قوانین کی پابندی کرنے والے اداروں کو بہت زیادہ ریگولیٹری اور بکھری ہوئی انتظامیہ کا سامنا ہے۔ پورے ملک میں کاروبار کرنے والی ایک کمپنی کو متعدد ٹیکس اداروں سے واسطہ پڑتا ہے بشمول ایف بی آر‘ چار الگ الگ صوبائی ٹیکس کے ادارے‘ ایکسائز اور ٹیکس کے محکمے‘ صوبائی بورڈز آف ریوینو اور آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے علیحدہ انتظامی نظام۔ ہر دائرہ اختیار کے اپنے قانونی ڈیزائن کے معیار‘ مختلف شرحیں‘ الگ رپورٹنگ نظام اور ایک دوسرے سے متصادم قانونی تشریحات ہیں۔ کسی کاروبار میں ایک ہی لین دین کی بنا پر ٹیکس سے متعلق ہر سرکاری ادارہ ایک ہی وقت میں ایک الگ ٹیکس نوٹس بھیج دیتا ہے۔ نتیجہ میں کاروبار نہ ختم ہونے والے دائرہ اختیار کے تنازعات میں الجھ جاتے ہیں۔مزید برآں‘ قوانین کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ریاست کیلئے ٹیکس وصولی بھی کریں اور وہ بھی بلا معاوضہ۔ سخت سزائوں کے خوف کے تحت رسمی کاروباروں کو یہ سب کام کرنا پڑتے ہیں۔ ہر سودے پراور تنخواہوں کی ادائیگیوں پر ٹیکس کا حساب لگانا‘ اسے کاٹنا اور سرکاری خزانہ میں جمع کرانا اور ہر قسم کے لین دین پر ٹیکس کا الگ ریٹ ہے۔ اس پیچیدہ نظام کی پابندی کیلئے کاروباری اداروں کو بڑے اکاونٹنگ شعبے قائم کرنے اور مہنگے وکیل کرنا پڑتے ہیں۔ اس کے سبب پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت میں ایک بہت بڑا پوشیدہ بوجھ شامل ہوجاتا ہے؛چنانچہ قوانین کی پابندی کرنے والا ٹیکس دہندہ پیچیدگیوں کے جال میں پھنستا چلا جاتا ہے اور آسان ترین ہدف بن جاتا ہے جبکہ مہارت سے ٹیکس چوری کرنے والا شخص اپنے اثر و رسوخ یا پیسہ کے استعمال کی بدولت محفوظ رہتا ہے۔ پاکستان میں کاروباری اداروں کا خیال ہے کہ وہ اپنی پیداوار بڑھانے کی بجائے قوانین کی پابندی پر زیادہ وسائل صرف کر رہے ہیں۔ کاروباری افراد اپنے کاروبار کو چلانے میں جتنا وقت صرف کرتے ہیں اتنا ہی ٹیکس انتظامیہ سے نمٹنے میں صرف کرتے ہیں؛ چنانچہ وہ یہ بات زیادہ مناسب سمجھتے ہیں کہ ریگولیٹری نگرانی سے بچنے کیلئے اپنے کاروبار کو چھوٹا رکھیں‘ ادارہ کو باقاعدہ رجسٹر نہ کرائیں اور غیر رسمی نقد لین دین کے ذریعے تجارت کریں۔ اس طرح غیر رسمی معیشت کاروباری لوگوں کیلئے محض اپنی بقا کی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک معقول معاشی فیصلہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...