حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ملکی سیاست ایک بار پھر عدم استحکام اور غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے۔ پی ٹی آئی نے مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوتے ہی خیبرپختونخوا کے شہر لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ۔ کرک پہنچنے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کارکنوں سے خطاب کیا جس کے بعد مارچ کے اگلے پڑاؤ کوہاٹ اور پھر صوابی میں طے پائے ہیں۔ صوابی سے اسلام آباد کی طرف پیش قدمی اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جانا ہے۔ انتظامی نقطۂ نظر سے اگر لانگ مارچ کی پیش قدمی کو دیکھا جائے تو لانگ مارچ کے پہلے مرحلے میں وفاقی حکومت کو کوئی فوری انتظامی یا سکیورٹی تعیناتی کا خطرہ درپیش نہیں۔ جب تک یہ قافلہ خیبرپختونخوا کی حدود کے اندر رواں دواں رہے گا وفاقی حکومت نہ تو اسے اپنے لیے چیلنج سمجھے گی اور نہ ہی اسے روکنے کیلئے کسی قسم کی انتظامی یا قانونی تدابیر استعمال کرے گی۔ پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا کے اندر اپنی حکومت ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مارچ کو مکمل انتظامی تحفظ اور نقل و حرکت کی آزادی حاصل ہے۔ البتہ اس دوران پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر ماحول بنانے میں ضرور کامیاب ہو جائے گی۔ تاہم اس لانگ مارچ کے شرکا کا امتحان اُس وقت شروع ہو گا جب یہ قافلہ خیبرپختونخوا کی حدود سے نکل کر وفاق یا پنجاب کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا۔
سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی کے باوجود حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بیک ڈور چینلز مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ ملک کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ بدترین سیاسی تصادم کے دور میں بھی درپردہ رابطے قائم رہتے ہیں تاکہ معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ پہنچیں۔ تاہم اگر یہ رابطے بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو زمینی سطح پر شدید انتظامی مزاحمت کا سامنا اٹک پل پر کرنا پڑسکتا ہے۔ وفاقی اور پنجاب حکومت کی سب سے پہلی اور بنیادی ترجیح یہی ہو گی کہ لانگ مارچ کو ہر قیمت پر پنجاب کی سرحد میں داخل ہونے سے پہلے‘ اٹک کے مقام پر روکا جائے۔ اگر بالفرض پی ٹی آئی کے کارکنان اپنی عددی قوت یا حکمت عملی کی بدولت اٹک پل کی رکاوٹوں کو عبور کر لیتے ہیں تو ان کیلئے اگلا مرحلہ اس سے بھی زیادہ مشکل ہو گا۔ اگلی شدید اور سخت ترین مزاحمت کٹی پہاڑی کے مقام پر ہو گی جہاں پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی بھاری نفری موجود ہو گی۔ اگر مارچ یہ تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے تو سنگجانی ٹول پلازہ پر روکا جائے گا یا کم از کم یہ کوشش کی جائے گی کہ کسی بھی صورت مارچ کو اسلام آباد کی شہری حدود میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ ان تمام جغرافیائی اور انتظامی مرحلوں‘ رکاوٹوں اور سخت اقدامات کو عبور کرنے کیلئے ضروری ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قافلے میں کم از کم ایک لاکھ سے زائد افراد موجود ہوں۔ اگر لانگ مارچ میں تعداد کم ہوئی تو ریاستی مشینری کی حائل کردہ انتظامی رکاوٹوں کو پار کرنا یا وفاق پر سیاسی دباؤ بڑھانا کسی بھی صورت ممکن نہیں رہے گا۔ اب یہاں نہایت اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرض کر لیتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ تمام تر رکاوٹوں‘ انتظامی بندشوں اور سخت چیلنجز کو عبور کرتا ہوا اسلام آباد کے کسی طے شدہ مقام پر پڑاؤ ڈالنے میں کامیاب ہو بھی جاتا ہے تو کیا محض وہاں پہنچ جانا ہی اس تحریک کی مکمل کامیابی سمجھا جائے گا؟ کیا صرف اسلام آباد میں بیٹھ جانے سے پی ٹی آئی اپنے سیاسی مقاصد اور مطالبات حاصل کر لے گی؟
ہماری دانست میں محض اسلام آباد پہنچ کر ڈیرہ ڈال لینا کافی نہیں ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام آباد میں پڑاؤ ڈالنا یا دھرنا دینا صرف طاقت کا مظاہرہ اور دباؤ بڑھانے کا ذریعہ ہو سکتا ہے لیکن حتمی نتائج‘ آئینی حل اور معاشی یا سیاسی مطالبات کی منظوری کیلئے آخر کار فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی بیٹھنا پڑتا ہے۔ ماضی کے متعدد دھرنے اور لانگ مارچ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سڑکوں پر طاقت دکھانے کے بعد بھی حتمی فیصلے بات چیت اور معاہدوں سے ہی طے پاتے ہیں۔ اگر تمام تر سختیاں جھیلنے‘ کارکنوں کی گرفتاریوں‘ شیلنگ کا سامنا کرنے اور ہزاروں افراد کو تھکا دینے کے بعد بھی آخری راستہ مذاکرات ہی کا بچتا ہے تو پھر حکومت کے ساتھ مذاکرات کو عجلت میں کیوں سبوتاژ کیا گیا؟ وہ کون سی سیاسی یا انتظامی رکاوٹیں تھیں جن کی وجہ سے سیاسی قیادتیں کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکیں؟ دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ سیاستدان اہم ترین سیاسی معاملے کا کوئی سویلین‘ آئینی اور سیاسی حل کیوں نہ نکال سکے؟
جب ہم مذاکرات کی ناکامی کے اسباب کا معروضی جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ایک دوسرے پر اس ناکامی کا ملبہ ڈالنے میں مصروف ہیں۔ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی بات چیت کے دوران کسی قسم کی سیاسی لچک دکھانے کے بجائے سخت‘ غیرمنطقی اور فوراً اپنے تمام مطالبات تسلیم کرانے کی ضد پر قائم رہی۔ اس ضمن میں مذاکراتی کمیٹی کی رکن سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ چار ڈرافٹس پر تمام فریقین کے ساتھ اتفاق ہو گیا تھا‘ خیبر پختونخوا حکومت کے مرکز کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی تعاون کے طے شدہ ڈرافٹ پر دستخط سے انکار کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ حکومت مذاکرات کے نام پر صرف وقت ضائع کرنے کا ڈرامہ کر رہی تھی اور ان کے بنیادی مطالبات بالخصوص بانی پی ٹی آئی کی رہائی‘ سیاسی مقدمات کے خاتمے اور شفاف انتخابات پر کوئی سنجیدہ یا عملی قدم اٹھانے کیلئے تیار نہیں تھی۔ حقیقت ان دونوں بیانیوں کے درمیان کہیں معلق ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی معاملات کو جس نہج پر لے آئے ہیں اگر اب وہ اپنے حامیوں اور کارکنوں کے سامنے ذرا سی لچک دکھاتے ہیں تو پارٹی میں ایک مخصوص گروہ اسے تسلیم نہیں کرے گا۔ سہیل آفریدی پر اس وقت اپنی ہی پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور پُرجوش کارکنان کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے کوئی بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھانے کا شدید اور غیر معمولی دباؤ ہے۔ وہ اس بات سے خوب واقف ہیں کہ اگر انہوں نے اس موقع پر جارحانہ حکمت عملی اختیار نہ کی اور اسلام آباد پر دباؤ نہ بڑھایا تو پارٹی کی اندرونی سیاست میں ان کا حال بھی اپنے پیش رو سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے مختلف نہیں ہو گا۔ اس لیے سہیل آفریدی کیلئے یہ لانگ مارچ ایک انتہائی حساس سیاسی امتحان اور دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ اگر وہ اپنے اس لانگ مارچ کو اسلام آباد پہنچانے میں ناکام رہتے ہیں یا احتجاج کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور اپنے سیاسی مطالبات کی منظوری کے حوالے سے کوئی قابلِ ذکر نتائج حاصل نہیں کر پاتے تو نہ صرف ان کی ذاتی اور سیاسی ساکھ کمزور ہو گی‘ بلکہ خیبرپختونخوا کی حکومتی باگ ڈور پر ان کا کنٹرول بھی متزلزل ہو جائے گا۔ اس ناکامی کے نتیجے میں پارٹی کے کارکنان میں شدید مایوسی پھیلے گی‘ اور پارٹی کے اندر سے ہی ان کے متبادل کی تلاش کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو جائیں گی۔
سہیل آفریدی کا قافلہ روانہ ہو چکا ہے‘ وہ اپنا آخری کارڈ بھی ظاہر کر چکے ہیں۔ دریں حالات وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورۂ پشاور میں آئی جی اور چیف سیکرٹری کو احکامات دینا اور گورنر سے ملاقات اہم پیش رفت ہے۔ ادھر اسلام آباد میں بھی اجلاس جاری ہے۔ اعصاب شکن کھیل میں جو فریق غلطی کرے گا وہ اہداف سے دور ہو جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments