"RS" (space) message & send to 7575

پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل محدودیت

قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلوں کی توثیق کر دی ہے۔ یوں آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اٹھائے جانے والے اقدام کو اب ایوان کی حمایت حاصل ہے۔ تحریک انصاف ایوان سے باہر اور ایوان کے اندر حکومتی فیصلوں کے خلاف کسی بھی بڑی مزاحمت کا اظہار نہیں کر سکی۔ جب کوئی سیاسی جماعت اپنی مقبولیت اور ووٹ بینک کادعویٰ کرتی ہے تو اس کے مظاہر دو جگہوں پر دیکھنے کو ملتے ہیں‘ ایک پارلیمنٹ ‘ دوسرا عوامی احتجاج ۔ ایوان کے اندر عموماً سیاسی طاقت کا مضبوط مظاہرہ یوں دیکھنے کو ملتا ہے کہ جو بھی قرارداد یا قانون سازی کا بل حکومت ایوان میں منظور کرانا چاہتی ہے‘ اپوزیشن اس کا راستہ روکنے کی کوشش کرتی ہے۔ ماضی میں اس حوالے سے پارلیمانی سیاست کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ اگست 2020ء میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق اینٹی منی لانڈرنگ اور انسدادِ دہشت گردی کی اہم ترامیم کے بل پارلیمنٹ میں پیش کیے تھے۔ اس وقت سینیٹ میں مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی اور ان کی دیگر اتحادی جماعتوں کو عددی برتری حاصل تھی اور ان کا مؤقف تھا کہ حکومت ان قوانین کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ جب ان بلوں پر ووٹنگ ہوئی تو اپوزیشن نے اپنے اراکین کی تعداد کا پورا فائدہ اٹھایا اور کثرتِ رائے سے دونوں حکومتی بلوں کو مسترد کر دیا۔ اس طرح پارلیمنٹ کے اندر حکومت کو شکست ہوئی اور اپوزیشن کو کامیابی حاصل ہوئی۔ اس ناکامی کے بعد وفاقی حکومت مجبور ہوئی کہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرے اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل قانون کے مسودے میں اپوزیشن کی ترامیم اور تحفظات کو شامل کرے۔
اپوزیشن جماعت کو ایوان کے اندر ووٹوں کے لحاظ سے دشواری کا سامنا ہو تو وہ عموماً عوامی احتجاج کا سہارا لیتی ہے اور سڑکوں پر احتجاج سے حکومتی فیصلوں میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔ ماضی میں اس حوالے سے بھی کئی مثالیں موجود ہیں کہ اپوزیشن نے عوامی احتجاج کی بنیاد پر حکمران جماعت کو بیک فٹ پر جانے پر مجبور کر دیا۔ 1977ء کے عام انتخابات کے بعد مبینہ دھاندلی کے خلاف نو اہم اپوزیشن جماعتوں کے ''پاکستان قومی اتحاد‘‘ نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف ملک گیر عوامی احتجاج اور پُرزور مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا۔ اس تحریک نے عوامی مقبولیت اختیار کی اور پورے ملک کی معاشی و انتظامی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ شدید عوامی دباؤ اور اپوزیشن کے احتجاج کے نتیجے میں بھٹو حکومت دفاعی پوزیشن پر چلی گئی اور مجبوراً اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے پر تیار ہو گئی۔ حکومت نے نہ صرف اپوزیشن کے کئی سیاسی اور مذہبی مطالبات تسلیم کیے بلکہ جون 1977ء میں اپوزیشن کے اہم ترین مطالبے پر عمل کرتے ہوئے ملک میں دوبارہ نئے انتخابات کروانے پر بھی رضامندی ظاہر کر دی۔ اسی طرح پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر اعلیٰ ججز کی غیر قانونی برطرفی کے خلاف وکلا اور اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ( ن)‘ جماعت اسلامی اور دیگر نے عوامی تحریک چلائی۔ آصف علی زرداری کے دورِ حکومت میں جب حکومت ججز کی بحالی کے اپنے وعدے سے مکمل طور پر مکر گئی تو مارچ 2009ء میں میاں نواز شریف کی قیادت میں اپوزیشن اور وکلا برادری نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کیا۔ اس عوامی سمندر اور شدید سیاسی دباؤ کے سامنے حکومت اتنی زیادہ بیک فٹ پر آئی کہ لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے رات کی تاریکی میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت تمام معزول ججز کو فوری طور پر بحال کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس تناظر میں اگر موجودہ حالات کو دیکھیں تو بطور اپوزیشن تحریک انصاف ایک کمزور سیاسی جماعت ثابت ہوئی ہے۔ ایوان کے اندر اور ایوان سے باہر کسی قسم کا منظم احتجاج یا طاقت کا مظاہرہ کرنے میں پی ٹی آئی کی حکمت عملی ناکام ثابت ہوئی۔ پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران خیبر پختونخوا میں جب ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا تو غالب گمان تھا کہ اس کے ردِعمل میں پی ٹی آئی کا احتجاج پورے ملک تک پھیل جائے گا مگر عملی طور پر اس کے بالکل برعکس ہوا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت محض سوشل میڈیا کی حد تک ہے اور محفوظ کمروں میں بیٹھ کر ڈیجیٹل جنگ لڑی جا رہی ہے۔ کسی دور میں قید و بند اور جیل کی صعوبتیں سیاسی تربیت کا لازمی حصہ سمجھی جاتی تھیں‘ اس کٹھن راہ پر چلنے والوں کو گل اور خار دونوں ایک ساتھ کھلے دل سے قبول کرنے پڑتے ہیں۔ سوشل میڈیا ایک ڈیجیٹل ٹول ضرور ہے مگر اپنے حصے کے پتھر اٹھائے بغیر کبھی بھی کسی محاذ کو سر نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی پچھلے 13 سال سے خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت چلی آ رہی تھی۔ صوبے کے عوام نے اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ اور مسائل کے حل کے لیے پی ٹی آئی کو بھاری مینڈیٹ دیا۔ صوبے کے مسائل کس حد تک حل ہوئے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس وقت مولانا فضل الرحمن صوبے کے حقوق کے تحفظ کیلئے سب سے نمایاں آواز اٹھاتے نظر آتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے امور چلانے کیلئے تین کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ پہلی کمیٹی صوبے کے انتظامی معاملات کو سنبھال رہی ہے۔ یہ 11رکنی مشاورتی کونسل گورنر خیبر پختونخوا کی معاونت کیلئے خصوصی طور پر تشکیل دی گئی ہے۔ دوسری کمیٹی آٹھ قبائلی اور چار بندوبستی اضلاع پر مشتمل علاقائی ترقیاتی و نمائندہ کونسل کہلاتی ہے۔ اس کونسل میں ان 12 اضلاع سے منتخب کردہ عمائدین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔12 اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 48 نمائندگان کی نامزدگی کے عمل کو حکومتی سطح پر منظوری مل گئی ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے کونسل ارکان کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ اس کونسل کی فنڈنگ اور مالی معاملات کی نگرانی وفاقی حکومت کرے گی۔ تیسری 11 رکنی کمیٹی وزیر اعظم شہباز شریف نے تشکیل دی ہے جو خیبرپختونخوا میں روزمرہ کے انتظامی امور کی نگرانی کرے گی۔ وفاق کی جانب سے اٹھایا گیا یہ آئینی قدم کب تک برقرار رہتا ہے یہ پی ٹی آئی کے رویے پر منحصرہے۔ تاہم پی ٹی آئی قیادت کیلئے جو امر سب سے زیادہ تشویشناک اور لمحہ فکریہ ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ پہلے وہ ایوان کی سیاست سے آؤٹ ہوئی پھر عوام کی مدد سے سڑکوں پر احتجاج کرنے کے بھی قابل نہ رہی اور اب وہ اس صوبے کے حقوق کیلئے بھی آواز اٹھانے کے قابل نہیں رہی جس میں وہ گزشتہ 13 برسوں سے وہ برسراقتدار رہی ہے۔ صوبے کے قیمتی معدنیات سمیت صوبے کے حقوق کے حوالے سے اگر اب مولانا فضل الرحمن کھل کر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں تو پی ٹی آئی کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ وہ جس بڑی عوامی مقبولیت کا دعویٰ کر رہی ہے یا تو اس میں کوئی صداقت نہیں یا پھر وہ سیاسی تنزلی کا شکار ہو چکی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...