"KMK" (space) message & send to 7575

شہرِ بزرگ کی حالتِ زار

ملتان شہرِ قدیم ہی نہیں‘ یہ ایک شہرِ بزرگ ہے۔ قدیم میں صرف قدامت پائی جاتی ہے‘ جبکہ بزرگی میں ایک احترام‘ محبت اور سرپرستی کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ سو ملتان شہرِ بزرگ ہے۔ بزرگ سے یاد آیا‘ امرئو القیس سے کسی نے پوچھا کہ تم قبیلے کے سردار کیسے بنے؟ اس نے جواب دیا: میں قبیلے کا سردار ایسے بنا کہ مجھ سے بڑے تمام لوگ اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ سو فقیر کا بھی یہی حال ہے۔ میں‘ جو خاندان کے چھوٹوں میں شمار ہوتا تھا‘ اب بزرگوں کی رخصتی کے بعد خود بزرگوں کے درجے پر فائز ہو گیا ہوں۔ وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔ کل تک میں چھوٹا تھا‘ آج میں اپنے خاندان کے دو چار بڑوں میں شامل ہوں۔ مجھ سے پہلے والی نسل کے سب لوگ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ایک تائی اماں کا دم غنیمت ہے اور ان کے طفیل ہمارے سر پر بزرگوں کا سایہ قائم ہے۔ سو ان کے پاس جا کر دعائیں لینا میں اپنی سعادت سمجھتا ہوں۔
تائی اماں ابھی تک چوک سیداں کے پاس واقع ہمارے آبائی گھر میں مقیم ہیں۔ دادا مرحوم کا بنایا ہوا ہمارا یہ آبائی گھر چچا مرحوم‘ اباجی مرحوم اور تایا جی مرحوم میں تقسیم ہو گیا۔ گھر کی تقسیم کے وقت سب حصہ دار حیات تھے‘ تاہم تقسیم کے وقت صرف چچا جان اور تایا جی اس گھر میں رہائش پذیر تھے۔ ہم لوگ اس گھر سے متصل اپنے گھر میں رہتے تھے۔ بعد ازاں سب سے پہلے چچا جان اپنی ملازمت کے سلسلے میں لاہور چلے گئے‘ پھر ہم عثمان آباد چلے گئے۔ اب ایک تائی اماں ہیں جو اس گھر میں مقیم ہیں۔
میں جب کبھی تائی اماں سے ملنے کیلئے چوک شہیداں روانہ ہوتا ہوں تو دو منٹ کھڑا ہو کر سوچتا ہوں کہ آج کس راستے سے جانا ہے۔ شہر میں تین مختلف راستے ہیں جن سے چوک شہیداں جایا جا سکتا ہے۔ میں ہر بار اپنے گزشتہ تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے سوچتا ہوں کہ اس بار وہاں کس راستے سے جانا ہے۔ یہ راستے کا انتخاب عجیب مشکل کام ہے۔ اس کے بارے میں خرم آفاق کا کیا خوبصورت شعر ہے:
میں تیری سمت کئی راستوں سے آیا ہوں
سو جانتا ہوں زیادہ خراب کون سا ہے
اس شعر کی خوبصورتی‘ لطافت اور تہہ در تہہ معنویت اپنی جگہ‘ لیکن یقین مانیں یہ شعر میرے کسی کام کا نہیں! کیونکہ بارہا مختلف راستوں سے چوک شہیداں پہنچنے کے کئی عشروں پر مشتمل تجربے کے باوجود میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ کون سا راستہ زیادہ خراب ہے اور کون سا راستہ نسبتاً کم خراب ہے۔ میں یہ تو ہرگز نہیں کہوں گا کہ اس چرخِ ناہنجار کو مجھ سے کوئی خاص دشمنی ہے کہ جس روز میں اُدھر جاتا ہوں عین اسی روز قدرت کے سارے عوامل مجھے تنگ و پریشان کرنے کیلئے میدانِ عمل میں آ جاتے ہیں۔ سڑک تنگ ہو‘ ٹریفک زیادہ ہو اور پھر اوپر سے بے ہنگم بھی ہو تو یہ مسئلہ جو مجھے پیش آتا ہے‘ ان سب لوگوں کو درپیش ہے جو اس سڑک پر سفر کرتے ہیں۔ میری تو خیر ہے‘ میں مہینوں بعد اس مشکل سے دوچار ہوتا ہوں لیکن یہ سوچ کر نہ صرف پریشان ہوتا ہوں بلکہ فکرمند بھی ہو جاتا ہوں کہ جو لوگ یہاں سے روزانہ گزرنے پر مجبور ہیں‘ وہ کیا کرتے ہوں گے؟ خاص طور پر وہ لوگ جو صبح اور شام کے اُن اوقات میں جب سکولوں‘ دفتروں اور اداروں میں آنے اور جانے والے لوگ پہلے سے ٹریفک کے بوجھ تلے دبے تنگ راستے کو ٹریفک کیلئے مزید مشکل بنا دیتے ہوں گے۔
میں اپنے شہر کے اس مسئلے کو اربابِ اقتدار تک پہنچانے کی کئی بار کوشش کر چکا ہوں۔ جب شہباز شریف وزیرِاعلیٰ پنجاب تھے‘ تب اس سلسلے میں ایک دو بار کوشش کی۔ پھر اس خطے کے عظیم رہنما اور اس علاقے کے شیر شاہ سوری سردار عثمان بزدار سے ون ٹو ون ملاقات میں شہر کو درپیش اس مسئلے کے حل کیلئے درخواست کی۔ اس عاجز نے موجودہ دورِ حکومت میں بھی اس گمبھیر مسئلے کے حل کیلئے اپنی اس کوشش کو جاری رکھا‘ لیکن تاحال نتیجہ صفر ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مسئلے کے مستقل حل کی واحد صورت یہ ہے کہ اس سڑک کو کھلا کرنے کیلئے جائز اور ناجائز دکانوں کو ختم کیا جائے۔ مالکان کو ان کی جائیداد کی قیمت کی مد میں ادائیگی کرنے کیلئے کم از کم بارہ پندرہ ارب روپے درکار ہیں‘ جو اس شہر کیلئے مختص کرتے ہوئے حکمرانوں کے ہاتھ کانپنے لگ جاتے ہیں۔ بھلا ملتان جیسے شہر کے باسیوں کی سہولت کیلئے اتنی خطیر رقم کیسے خرچ کی جا سکتی ہے؟ یہ حق تو صرف لاہور جیسے شہروں کو حاصل ہے۔
بارہ پندرہ ارب روپے بظاہر بہت بڑی رقم لگتی ہے لیکن یہ رقم اُس رقم سے کہیں کم ہے جو صرف لاہور میں گلبرگ مین بلیوارڈ پر سنٹر پوائنٹ سے ڈی ایچ اے فیز ون تک کے راستے میں بننے والے انڈر پاسز اور فلائی اوورز پر خرچ ہوئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ملتان اندرونِ شہر میں رہنے والے سیاستدانوں کو اب عام لوگوں کو درپیش اس مشکل سے کوئی غرض نہیں‘ کیونکہ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے تقریباً تمام سیاستدان یہاں سے پوش علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔
گزشتہ دنوں اس دنیا سے رخصت ہونے والے سابق وزیر و ممبر صوبائی اسمبلی احسان الدین قریشی واحد سیاستدان تھے جو مرتے دم تک اندرون شہر میں واقع اپنے آبائی گھر میں رہے۔ موٹر سائیکل ہی وہ واحد سواری تھی جو ان کے گھر کے دروازے تک پہنچ سکتی تھی۔ احسان الدین کے رخصت ہونے کے بعد اب کوئی سیاستدان اندرونِ شہر رہائش پذیر نہیں ہے۔ وہ اب وہاں صرف ووٹ لینے کی غرض سے جاتے ہیں۔ اور الیکشن کمپین ان گلیوں میں ویسے بھی پیدل چل کر ہی چلائی جا سکتی ہے۔
یقین کریں مجھے لاہور کی ترقی سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن اپنے شہر کے نظر انداز ہونے کا دکھ ضرور ہے اور وہ ہونا بھی چاہیے۔ شہر کی سب سے مصروف سڑک بوسن روڈ کا بھی یہی حال ہے۔ سکولوں اور دفتروں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات میں یہاں ٹریفک بری طرح جام رہتی ہے مگر اس ٹریفک کو رواں رکھنے کیلئے سڑک کو کھلا کرنا ضروری ہے اور اس کیلئے گیارہ ارب روپے درکار ہیں‘ جو سرکار کے پاس نہیں ہیں۔ ایک طرف حکومت کے پاس اس شہرِ بزرگ کے عوام کی سہولت کیلئے بیس پچیس ارب روپے کی گنجائش نہیں نکلتی‘ دوسری طرف حکومت مری میں ایک سو بیس ارب روپے کے خرچے سے گلاس ٹرین چلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ایسے میں اس لکھاری کو گیارہ‘ بارہ ارب والا پنجاب حکومت کا لگژری جہاز بھلا کیوں یاد نہ آئے؟ اس کالم کے درمیان میں جہاز گھسیٹ لانے کا مقصد جہاں فردِ واحد کے موج میلے اور عوام الناس کی کسمپرسی کا موازنہ ہے‘ وہیں اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس جہاز کا ذکر کرنے سے بعض تنخواہ داروں کے پیٹ میں زوروں کا مروڑ اٹھتا ہے۔ اب بندہ مفت میں تو تنخواہ نہ لے‘ اس کے عوضانے میں کم از کم پیٹ درد تو برداشت کرے۔
میری صوبائی حکومت سے درخواست ہے کہ اب وہ اپنے بیشتر فنڈز تختِ لاہور پر صرف کرنے کے بجائے لاہور کو بنچ مارک بنائے اور پنجاب کے دیگر ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کو اس کے ہم پلہ نہ سہی‘ اس کے قریب تر لانے کی کوشش کرے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اگلے پانچ سال کیلئے لاہور کے انفراسٹرکچر کی ضروری غور و پرداخت کے علاوہ ترقیاتی سکیمیں بند کر دے اور ان فنڈز کا رخ دیگر شہروں کی طرف موڑ دے۔ ہم بھی اسی صوبے کے باسی ہیں۔ یہ صرف میرے شہرِ بزرگ کا حال نہیں‘ تختِ لاہور کے علاوہ سب جگہ یہی صورتحال ہے۔ میں پھر کہوں گا‘ ملتان تو بس ایک استعارہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...