"KMK" (space) message & send to 7575

ٹیل‘ شانزے لیزے اور سیکرے کیور

ملک خالد میری مسافرت اور سفروں کے بارے میں سرائیکی زبان کے جس سلینگ میں مثال دیتا ہے اسے کسی صورت لکھا نہیں جا سکتا۔ بلکہ لکھنا کیا‘ اس کو تو سُن کر خود مرے کان کی لوئیں سرخ ہو جاتی ہیں‘ بھلا اب ایسی مثال لکھی کیسے جا سکتی ہے؟ قارئین! مجھے علم ہے کہ سفر کی جمع اسفار ہے لیکن سفروں لکھنا مجھے جتنا لطف دیتا ہے اسفار لکھنے میں اس کا عشرِ عشیر بھی مزہ نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے مرحوم امجد اسلام امجد کو‘ انہوں نے ایک بار ایک واقعہ سنایا کہ کسی مشاعرے میں استاد کی موجودگی میں اس کا شاگرد غزل پڑھ رہا تھا۔ شاگرد کی غزل استاد نے کانٹ چھانٹ اور مرمت کے بعد درست کر دی تھی۔ شاگرد نے کسی ایک مصرعے کو پڑھتے ہوئے اس میں اپنی مرضی سے تبدیلی کر دی۔ اب مجھے مکمل صحت کے ساتھ تو وہ مصرع یاد نہیں‘ تاہم یادداشت کے زور پر تھوڑی بہت ممکنہ اونچ نیچ کے ساتھ مصرع تھا کہ ''اے کہ تیرے چتون سے چاندنی برستی ہے‘‘۔ شاگرد نے استاد گرامی کی موجودگی میں مصرع یوں پڑھا کہ اے کہ تیری پتون سے چاندنی برستی ہے۔ اب خدا جانے اس لفظ پتون کا کیا مفہوم ہے‘ تاہم میں تو وہی لکھ رہا ہوں جو امجد صاحب سے سنا تھا۔ مشاعرے کے بعد استاد نے شاگرد کی کلاس لیتے ہوئے کہا: ابے! میں نے تیری غزل کا مصرع ٹھیک کر کے یہاں ''چتون‘‘ لکھا تھا۔ الو کی دم‘ تو نے وہاں مشاعرے میں اس کو پتون پڑھ دیا۔ شاگرد کہنے لگا: استاد جی ذرا میری بات سنیے۔ مجھے معلوم ہے یہ لفظ چتون تھا لیکن استاد یہاں پہ پتون جو مزہ دے ریا تھا وہ چتون میں نہیں نہیں آ ریا تھا۔ بھلے قواعد کے اعتبار سے غلط ہی سہی مگر بہرحال سفروں ایک ایسا لفظ ضرور ہے جو سمجھ میں آتا ہے۔ میں نے یہ واقعہ سن کر امجد صاحب سے اپنی نالائقی کا اعتراف کرتے ہوئے پوچھا: امجد صاحب میری اردو بھی زیادہ قابل فخر نہیں‘ اور میرا علم بھی خاصا محدود بلکہ کمزور واقع ہوا ہے۔ یہ پتون لفظ ہے کیا؟ امجد صاحب کہنے لگے: اس معاملے میں یوں سمجھو کہ میرا علم بھی تمہارے علم کے برابر ہی ہے۔ سو یہ مسافر سفر کی جمع اسفار لکھنے کے بجائے جب سفروں لکھتا ہے تو اسی شاگرد کی طرح مزہ آتا ہے جو چتون کو پتون لکھ کر خوش تھا۔
مانچسٹر اُترنے کے اگلے روز میں دو دن کے لیے پیرس چلا گیا۔ محض دو دن کے لیے پیرس جانے کا بظاہر کوئی منطقی جواز میرے پاس بھی نہیں‘ تاہم ضروری نہیں کہ ہر چیز کا کوئی منطقی جواز ہی ہو۔ بابر نے کہا کہ پیرس کے حالات کچھ ٹھیک نہیں اور وہاں خاصے ہنگامے ہو رہے ہیں۔ یہ خبریں اخباروں اور ٹی وی چینلز کے ذریعے ہم تک پہنچ رہی ہے اور مصدقہ ہیں‘ لہٰذا بہتر ہوگا کہ تم پیرس نہ جاؤ۔ میں نے کہا: بابر میاں! ایک زمانہ تھا‘ جب ہم طالب علم تھے‘ حکومت کے خلاف جلوس نکلا کرتے تھے۔ جب بھی کوئی بڑا مسئلہ درپیش ہوتا تھا‘ عوام سڑکوں پر آتے تھے‘ طلبہ جلوس نکالتے تھے۔ لاٹھی چارج‘ آنسو گیس اور پتھراؤ معمول کی بات ہوتی تھی۔ گرفتاریاں بھی ہوتی تھیں‘ تاہم اس سارے ہنگامۂ ہاؤ ہُو سے لگتا تھا کہ عوام میں تھوڑا دم ہے‘ احتجاج کا کیڑا موجود ہے‘ حقوق سلب کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا جذبہ زندہ ہے اور اجتماعی مسائل پر دیگر اختلافات پس پشت ڈال کر کندھے سے کندھا ملانے کا حوصلہ موجود ہے۔ پھر آہستہ آہستہ سب کچھ ختم ہو گیا۔ لے دے کے دھرنے رہ گئے ہیں۔ اور اب یہ دھرنے ہیں‘ کنٹینرز ہیں‘ قبل از وقت گرفتاریاں ہیں‘ پرچے ہیں‘ سڑکوں کی بندش ہے‘ لمبے لمبے ریمانڈ اور لمبی لمبی سزائیں ہیں‘ لیکن نہیں ہے تو وہ ہلچل نہیں ہے۔ وہ جذبہ مفقود ہے جو مشترکہ مسائل پر عوام کو اکٹھا کر دیتا تھا۔ چلیں‘ ادھر نہ سہی اِدھر ہی سہی۔ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ عالمی کساد بازاری اور ایران امریکہ کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عام آدمی کے مسائل پر عوام باہر نکل رہے ہیں۔ ان چیزوں پر اگر پیرس کے عوام سڑکوں پر ہیں تو پیرس کے ساتھ یہ منظر بونس میں دیکھنے کو ملے گا۔ بابر کہنے لگا: بھائی! آپ کو سمجھانا اور سفر سے باز رکھنا مشکل ہی نہیں‘ ناممکن کام ہے۔ سو آپ جائیں‘ اللہ آپ کا نگہبان ہو۔
میرے ذہن میں اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا کہ میں 21 اکتوبر کا دن صرف اور صرف اپنے ساتھ گزارنا چاہتا تھا۔ میں نے ایک چھوٹا سا رک سیک اٹھایا اور پیرس سے اسی کلومیٹر کا فاصلے پر ایک قصبہ Beauvais‘ جسے فرانسیسی میں بووے کہتے ہیں‘ سے چار کلومیٹر دور ٹیل (Tille) کے چھوٹے اور نہایت پُرسکون سے گاؤں کے ایک سرے پر ایک چھوٹا سا کمرہ لیا۔ رک سیک کمرے میں پھینکا اور اس گاؤں کی سڑکوں پر چلنا شروع کر دیا۔ موسم اچھا خاصا سرد تھا اور ہلکی بارش تھی جو مسلسل برس رہی تھی۔ میں بالکل خالی الذہن تھا اور بلا سوچے اس گاؤں کی سڑکوں پر چلتا رہا حتیٰ کہ اندھیرا ہو گیا۔ میری جیکٹ مکمل بھیگ چکی تھی مگر مجھے نہ اس کا احساس تھا اور نہ فکر تھی۔ کافی دیر کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں راستہ بھول چکا ہوں۔ لیکن فکر مندی مجھ سے کوسوں دور تھی۔ بھلا یہ گاؤں تھا ہی کتنا بڑا کہ مجھے راستہ کھو جانے پر فکر ہوتی۔ تھوڑی ہی دیر بعد پہلے مجھے اپنی گلی اور پھر کمرہ مل گیا۔ میں نے کمرے میں آ کر جیکٹ اتاری جو مکمل بھیگ چکی تھی۔ پھر میں نے دروازہ کھولا اور اس میں کھڑا ہو گیا۔ باہر کمرے کے سامنے لکڑی کا بہت خوبصورت برآمدہ تھا لیکن 21 اکتوبر کی رات مجھے کمرے کے باہر جا کر برآمدے میں کھڑا ہونے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔
باہر بارش برس رہی تھی اور سرد ہوا بھی چل رہی تھی۔ اللہ جانے میں کب تک دروازے میں کھڑا رہا تاوقتیکہ میرے ہاتھ سُن ہو گئے‘ میں تب سردی سے کانپ رہا تھا۔ میں نے دروازہ بند کیا اور اندر آکر ہیٹر کے سامنے بیٹھ گیا۔ مجھے نہیں معلوم میں کب تک جاگتا رہا پھر میں جاکر بستر میں لیٹ گیا۔ بارش یکدم تیز ہو گئی۔ برآمدے کی چھت پر بارش کے قطرے مسلسل جلترنگ بجا رہے تھے۔ علی الصبح جب میں اٹھا تو بارش رک چکی تھی اور آسمان صاف ہو چکا تھا۔ اگلی صبح میں بس پکڑ کر پیرس چلا گیا۔ اس سے پہلے میں تین بار پیرس آ چکا تھا مگر اس بار میں قریب بارہ سال بعد پیرس آیا تھا اور یہ درمیان میں سب سے لمبا عرصہ تھا۔ بووے ایئرپورٹ سے بس پر بیٹھ کر ڈیڑھ گھنٹے میں پورٹ مائیوٹ (Porte Maillot) پیرس پہنچ گیا۔ کسی سے پوچھا کہ یہاں سے شانزے لیزے جانے کا کیا طریقہ ہے‘ تو معلوم ہوا کہ یہاں سے میٹرو روٹ نمبر ایک پکڑوں تو تین چار منٹ میں آرک ڈی ٹریمف پہنچ جائوں گا۔ بھلا مجھے کیا جلدی تھی؟ میں وہاں سے پیدل چل پڑا۔ بائیس چوبیس منٹ بعد میں شانزے لیزے کے فٹ پاتھ پر کیفے جارج فائیو میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔ ایمانداری کی بات ہے کہ ایک کپ کافی کے لیے آٹھ یورو دیتے ہوئے تھوڑی تکلیف محسوس ہوئی مگر پھر سوچا اللہ جانے پھر اس شہر میں دوبارہ آنا نصیب میں ہو گا یا نہیں۔ سو اس پل کو غنیمت جانو اور فی الحال یورو کو روپوں سے ضرب دے کر کافی کا مزہ کرکرا نہ کرو۔
مجھے پیرس میں جو جگہ سب سے شاندار لگتی ہے وہ سیکریکیور بیسیلیکا (سیکرڈ ہارٹ) ہے۔ میں اس جگہ کئی بار آیا ہوں مگر ایک بار پھر جانے کی ہوس برقرار ہے۔ مومارت کی پہاڑی کے اوپر بنے ہوئے سنگ سفید کے اس چرچ تک پہنچنے کے کئی ذرائع ہیں اور میں یہ سب استعمال کر چکا ہوں۔ سامنے والی 222 سیڑھیوں سے لے کر بائیں طرف سے آنے والے چھوٹی سی کیبل کار نما ٹرام کے ذریعے بھی‘ جسے فونی کولر کہتے ہیں۔ آخری بار مرحوم امجد اسلام امجد (اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے) کے ساتھ ادھر آیا تھا۔ جس کیفے میں ان کے ساتھ کافی پی تھی وہ میرے سامنے تھا مگر میرا اکیلے اس کیفے میں جانے کے لیے دل ہی نہیں مانا۔ بس میں نے دل کی مانی اور رکے بغیر اوپر چلا گیا جہاں سے سارا پیرس دکھائی دیتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...