"KMK" (space) message & send to 7575

کاسٹیلو ڈی ساؤ ژورژے سے مکالمہ

برادرِ عزیز رسول بخش رئیس نے چند روز قبل چھپنے والے اپنے کالم میں فراڈیے تعلیمی مشیروں پر روشنی ڈالی تھی جو طلبہ کو بیرونِ ملک کی نامور جامعات میں داخلے کے سلسلے میں جھوٹ اور فراڈ سے کام چلاتے ہوئے نہ صرف اپنے کلائنٹ کا مالی استحصال کرتے بلکہ ان کے پورے گھرانے کی امیدوں سے کھیلنے کا باعث بنتے ہیں۔ اسی قسم کے مشیروں کی ایک اور قسم بھی ہے جو تعلیمی اداروں میں داخلے کیلئے مشاورت کے بجائے یورپی و دیگر خوشحال ملکوں کی شہریت کے حصول کیلئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ ان مشاورتی خدمات میں بیرونِ ملک منافع بخش سرمایہ کاری جیسی اضافی سہولتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ آج کل پرتگال کی شہریت کا حصول بذریعہ سرمایہ کاری بڑے زوروں پر ہے۔
تعلیمی مشیروں کی مانند اس کام میں بھی دونمبر قسم کے ایسے فراڈیے لوگ ملوث تھے جن کا نہ کوئی معقول ذاتی پس منظر ہوتا تھا اور نہ ہی اس سلسلے میں مناسب تعلیم یا تجربہ ہوتا تھا۔ وہ بس ضرورت مندوں کا اپنی چرب زبانی اور مہارت سے اعتماد اور پیسہ حاصل کر لیتے تھے۔ مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ اب لوٹنے والے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور شاندار سماجی پس منظر رکھتے ہیں اور لٹنے والے بھی اسی پائے کے ہیں۔ راوی بیان کرتا ہے کہ جہاں پرتگال کی شہریت حاصل کرنے والوں میں بیورو کریٹ‘ سیاستدان‘ کاروباری حضرات‘ ہمہ قسم کے سرکاری افسران اور انتہائی دولتمند اور اعلیٰ سماجی حیثیت کے لوگ شامل ہیں وہیں ان کو لوٹنے والے بھی کوئی کم نہیں۔ اس سلسلے میں عثمان بزدار کے دور میں ٹرانسفروں‘ پوسٹنگوں اور دیگر کام کرانے کیلئے ہر قسم کی سہولت کاری کے عوض بے تحاشا مال پانی بنا کر پرتگال سٹک جانے والے ایک سابقہ اعلیٰ بیورو کریٹ نے اپنے ماضی کے کارناموں اور شہرت کے طفیل اپنے حاضر سروس بیورو کریٹ بھائی بندوں کو پرتگال میں سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت حاصل کرنے کے سنہری جال پھیلا کر پھنسایا اور ان کے سامنے اس یورپی ملک میں سرمایہ کاری کے عوض نہایت ہی خوشنما منافع کی منظر کشی کر کے ان کی ساری ناجائز کالی آمدنی پرتگال منگوا لی اور فرضی جائیدادیں خرید کر اس سرمایہ کاری کے عوض ایسا ہوشربا منافع بتایا کہ ڈبل شاہ بھی سنتا تو بوکھلا جاتا۔ منافع کی یہ صورتحال دیکھتے ہوئے ان اعلیٰ تعلیم یافتہ بیورو کریٹس نے‘ جو خود روزانہ سو بندوں کو چونا لگاتے تھے‘ اس سابقہ بیورو کریٹ کے مارکیٹنگ منیجر کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے اپنے دوسرے ساتھیوں کو اس سرمایہ کاری پر اکسایا۔ شنید ہے کہ اب یہ لوگ پھس پھس کر کے تنہائی میں روتے ہیں اور زیر لب اپنے اس سینئر بیوروکریٹ پر تبرا کرتے ہیں مگر نہ کھل کر رو سکتے اور نہ ہی بآوازِ بلند اسے گالیاں دے سکتے ہیں کہ اس سرمایہ کاری میں ڈوبنے والی رقم کا کیا بتائیں کہ کہاں سے آئی اور کیسے کمائی؟ قارئین! پرتگال کے ذکر میں یہ بات ضمنی طور پر یاد آ گئی تو سوچا آپ کو بھی معلومات فراہم کر کے اپنا پیٹ ہلکا کر لوں۔
فرانس کے بعد مغرب میں بحرِ اوقیانوس تک یورپ کا جو حصہ نکلا ہوا ہے وہ سپین اور پرتگال پر مشتمل ہے۔ جغرافیہ کی زبان میں اسے جزیرہ نما آئیبریا یا آئیبیرین پیننسولا کہتے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جسے مسلمانوں نے فتح کیا‘ تب یہ سارا علاقہ مختلف ریاستوں میں بٹا ہوا تھا‘ تاہم ان تمام ریاستوں میں پرتگال نام کا کوئی ملک تب موجود نہیں تھا۔ مسلم حکمرانی کے دور میں موجودہ پرتگال کے جنوبی اور وسطی علاقوں کو بالعموم اندلس کے مغربی حصے‘ یعنی غربِ اندلس کہا جاتا تھا۔ پرتگال کی تشکیل مسلمانوں کے چلے جانے کے بعد میں ہوئی‘ تب تک یہ علاقہ سپین ہی سمجھا جاتا تھا۔ سپین میں مسلمانوں کی آمد اور فتوحات کی شروعات 711ء میں طارق بن زیاد کے جبرالٹر کے راستے سپین میں داخلے سے ہوئی۔ موجودہ پرتگال کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو سپین پر طارق بن زیاد کے حملے کے اگلے ہی سال مسلمانوں کی فتوحات کا دائرہ ان علاقوں تک پھیل گیا جو آج پرتگال کہلاتا ہے۔ لزبن‘ سلوس‘ مرٹولا اور بیجا وغیرہ میں آج بھی مسلم طرزِ تعمیر کی عمارتوں کے آثار ان علاقوں میں مسلمانوں کے ماضی کی نشانی کے طور پر موجود ہیں۔ موجودہ پرتگال کے علاقوں سے مسلم اقتدار کا خاتمہ سپین سے مسلمانوں کے اخراج سے کہیں پہلے عمل میں آ گیا اس لیے یہاں مسلم اقتدار کے آثار سپین کی نسبت بہت کم ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں ان آثار کو مٹانے کیلئے خصوصی طرزِ عمل اپنایا گیا ہو۔ گو کہ سپین میں مسلمانوں کی طاقت کی مرکز اور محور خلافتِ قرطبہ کا خاتمہ تو 1031ء میں ہوا تاہم اس پر مسیحیوں کا قبضہ خلافت کے خاتمے کے 205سال بعد تقریباً 1236ء میں ہوا۔ اس دوران مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی طائفہ ریاستیں سقوطِ قرطبہ کے بعد بھی کسی نہ کسی صورت میں اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں لیکن ان کی آپسی نااتفاقی‘ ارد گرد کی مسیحی ریاستوں لیون اور قشتالیہ کی مشترکہ فوجی چڑھائی اور شمالی افریقہ سے مرابطین اور موحدین کی کاوشوں کے باوجود اندلس کی مسلم ریاستوں کی باہمی نااتفاقی کا یہ نتیجہ نکلا کہ 2 جنوری 1492ء کو آخری مسلم ریاست غرناطہ پر مسیحیوں کا قبضہ ہوا اور 781سال بعد اندلس میں مسلم اقتدار کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔
لوگ اندلس میں مسلم حکمرانی کے خاتمے کا سارا ملبہ اُس وقت کے مسلم حاکموں کی بے عملی اور نااتفاقی پر ڈالتے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر طرف سے مسیحی ریاستوں کے درمیان گھری ہوئی ان مسلم ریاستوں اور ان کے بعض حکمرانوں نے مزاحمت کی ایسی بے مثال تاریخ رقم کی جو حیران کن ہے۔ 29 جون 1236ء کو قشتالیہ کے مسیحی حکمران فرڈیننڈ سوم نے کئی ماہ کے محاصرے اور گورنر امیر ابن ہود کی مزاحمت کے بعد قرطبہ پر قبضہ کر لیا‘ جبکہ اس سے محض 140کلومیٹر پر واقع غرناطہ پر قشتالیہ کی ملکہ ازابیلا اول اور اراغون کے حاکم فرڈیننڈ دوم کا مشترکہ لشکر پورے 256 سال بعد اس آخری مسلم ریاست پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو سکا۔ چاروں طرف سے امڈتے ہوئے مسیحی لشکروں کے سامنے چھوٹی چھوٹی اور بکھری ہوئی ریاستیں بھلا اس سے زیادہ اور کیا مزاحمت کرتیں؟ اندلس یعنی مسلم سپین پر مسلم حکمرانی کا عرصہ پرتگال کے علاقوں کی نسبت زیادہ طویل ہے۔ موجودہ پرتگال کی فتح کا آغاز 712ء میں ہوا اور 716ء تک یعنی محض چار سال میں یہاں کے بیشتر علاقوں پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔ ان مفتوحہ علاقوں پر دوبارہ مسیحی قبضے کا سلسلہ صرف ڈیڑھ سو سال بعد شروع ہو گیا۔ 868ء میں پورٹو پر مسیحی افواج کے قبضے سے Reconquista کا آغاز ہوا۔ 1143ء میں پرتگال ایک الگ مملکت کے طور پر وجود میں آیا اور چار سال بعد 1147ء میں پرتگال کے پہلے بادشاہ الفانسو ہنریکوئیس کی قیادت میں مسیحیوں نے لزبن پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ 1249ء میں Algarve پر قبضے کے ساتھ ہی پرتگال مسلم حکمرانی سے آزاد ہو گیا۔ دسمبر 1496ء میں پرتگال کے حاکم مانوئل اول نے مسلمانوں کے پرتگال سے چلے جانے یا مذہب تبدیل کر کے دوبارہ مسیحی ہو جانے کا فرمان جاری کیا۔ اس حکم پر ایک سال کے اندر اندر عملدرآمد ہوا اور پرتگال سے مسلمانوں کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔
شام ہونے سے قبل ہم تینوں لزبن شہر کے مرکزی چوک میں موجود تھے‘ جب شہر کے وسط میں موجود اونچی پہاڑی کے اوپر واقع لزبن کا قلعہ جسے ''کاسٹیلو ڈی ساؤ ژورژے‘‘ کہتے ہیں‘ کی دیواریں روشن ہوئیں۔ کبھی یہ قلعہ شہر کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ مسلم حکمرانوں کی رہائش گاہ بھی تھا۔ تب قلعے کے مرکزی برج ''ٹورے ڈی میناجیم‘‘ نے نیچے جھک کر میرے کان میں سرگوشی کی: مسافر! کل ادھر آنا میں تمہیں کئی کہانیاں سناؤں گا۔ میں نے کہا میں کل آؤں تو ضرور مگر مجھے دکھی کر دینے والی افسردہ کہانیوں سے اب کوئی دلچسپی نہیں۔ میں ایسی کہانیوں سے اپنی جان چھڑوانے کیلئے ہی تو تمہارے پاس آیا ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...