بارش تو مجھے پووس کاسل جانے سے نہیں روک سکی لیکن امریکہ میں ہونے والے درمیانی مدت کے انتخابات نے پووس کاسل کی کہانی کو کہیں درمیان میں روک دیا ہے۔ کل امریکی وقت کے مطابق شام کو کومل کو فون کیا تو کومل اور عہدآفرین دونوں ٹی وی لگا کر امریکی انتخابات کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ ہو رہے تھے۔ انتخابات سے قبل مجھ سمیت امریکی رائے عامہ کی مانند ان کا بھی خیال تھا کہ حالیہ درمیانی مدت کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کا‘ بلکہ زیادہ صاف الفاظ میں ٹرمپ مخالف پارٹی کا پلڑا بھاری رہے گا۔امریکہ میں ہونے والے یہ درمیانی مدت کے انتخابات بنیادی طور پر دو پارٹیوں‘ یعنی ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان ہوتے ہیں‘ تاہم اس بار اس الیکشن کی نوعیت تھوڑی مختلف ہے۔ یہ انتخابات دو پارٹیوں کے درمیان انتخابات سے زیادہ ٹرمپ حمایت اور ٹرمپ مخالفت‘ یعنی پرو ٹرمپ اور اینٹی ٹرمپ کی صورت میں ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ مخالفین کو ان درمیانی مدت کے انتخابات میں اتنی زیادہ سبقت حاصل ہے کہ ان انتخابات کے نتائج امریکی کانگریس اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی عددی اقلیت کو اکثریت میں بدل دیں گے۔
میرے امریکہ میں رہائش پذیر تمام دوستوں میں شفیق امریکی سیاست کو سب سے زیادہ سمجھتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ امریکہ کی سیاسی حرکیات سے خود کو مکمل آگاہ رکھتا ہے بلکہ اسے امریکہ کی سیاسی تاریخ‘ انتخابی معرکے‘ امریکی آئین کی انتخابات سے متعلق شقوں اور امریکی سیاسی کلچر سے بھی خاصی آگاہی ہے۔ کومل سے فون پر بات ختم ہونے کے فوراً بعد میں نے شفیق کو فون کیا۔ توقع کے عین مطابق لاس اینجلس میں مقیم شفیق اس وقت ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا اور امریکی انتخابات کے تازہ ترین نتائج سن رہا تھا۔ منطقی طور پر تو مجھے شفیق کو ان انتخابات سے پہلے فون کرنا چاہیے تھا لیکن سفر کی مصروفیت میں اس کا موقع نہ مل سکا۔
امریکی کانگریس کے کل اراکین کی تعداد 535 ہے‘ اس میں ایوان نمائندگان کی تعداد 435 اور سینیٹ کے ارکان کی تعداد 100 ہے۔ قبل از الیکشن ایوان نمائندگان کی کل 435 نشستوں میں سے ریپبلکنز کے پاس 218 نشستیں جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 214 نشستیں تھیں۔ ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کی پارٹی کو چار ارکان کی سبقت حاصل تھی۔ سینیٹ کی کل 100 سیٹوں میں ریپبلکن پارٹی کے پاس 53 نشستیں جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس 47 نشستیں تھیں۔ یہاں ریپبلکن پارٹی کو 6 ارکان کی برتری حاصل تھی۔ حالیہ مڈٹرم انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے ارکان دو سال کیلئے جبکہ امریکی سینیٹ کے ارکان چھ سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں۔ امریکی سینیٹ کے کل ارکان میں سے ایک تہائی ارکان ہر دو سال بعد اپنی چھ سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ اس بار 35 ریٹائر ہو جانے والے ارکانِ سینیٹ کی نشستوں پر انتخابات ہو رہے تھے۔ شفیق کا اندازہ تھا کہ سینیٹ کے حالیہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ان 35 نشستوں میں سے اتنی نشستیں حاصل کر لے گی کہ وہ نہ صرف سینیٹ میں اپنی چھ ارکان کی کمی پوری کر لے گی بلکہ سینیٹ میں ریپبلکنز پر سات آٹھ ارکان کی مجموعی برتری بھی حاصل کر لے گی اور ایسا ہی ہوا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے کا بنیادی مقصد وہاں کی حکومت کو تبدیل کرنا تھا لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا ہے۔ ایران میں تو وہی امریکہ کے ناپسندیدہ لوگ برسراقتدار ہیں جبکہ ادھر امریکہ میں تبدیلی آگئی ہے۔ امریکہ میں حکومت نہ سہی مگر حکومتی پارٹی ضرور تبدیل ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ( ن) کے امیدوار برائے نوبیل انعام کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
شفیق بتانے لگا کہ امریکہ آئین کے مطابق تین نومبر کو ہونے والے حالیہ مڈ ٹرم انتخابات میں جیتنے والے اراکین سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان 3 جنوری 2027ء کو دوپہر 12 بجے اپنی نشستیں سنبھالیں گے۔ تین نومبر سے تین جنوری کے دو مہینوں کے دوران پرانے ارکان کانگریس اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ امریکی آئین کی 20ویں ترمیم کے مطابق‘ نئی منتخب ہونے والے ارکانِ کانگریس کی مدت کا آغاز ہمیشہ طاق سال کی 3 جنوری سے شروع ہوتا ہے۔ اگلے سال یعنی 2027 ء میں تین جنوری کیونکہ اتوار ہے اس لیے معمولی قانون سازی کے ذریعے یہ تاریخ بدل کر چار جنوری کر دی جائے گی۔ شفیق کہنے لگا کہ ان دو مہینوں کے دوران کیونکہ صدر ٹرمپ کانگریس میں اپنی پوری عددی برتری کے ساتھ موجود ہوں گے اس لیے ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ کرتے ہوئے میرا اندازہ ہے کہ وہ ایران پر شدید حملہ کریں گے۔ یہ شخص حالیہ انتخابات میں اپنی شکست کو جس طرح کھلے دل سے تسلیم کر رہا ہے یہ اس کی فطرت ہی نہیں ہے۔ اس کے ذہن میں اس شکست کا بدلہ لینے کیلئے ضرور کچھ نہ کچھ چل رہا ہو گا اور ایران پر ایک اور بھر پور حملے کے علاوہ اس کی ذہنی تسکین اور کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ اسرائیل میں نیتن یاہو کی اقتدار سے فوری رخصتی کا بھی کوئی امکان نہیں۔ وہاں حالیہ انتخابات میں کسی فریق کو حتمی برتری حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے مخالف دائیں بازو کے اتحاد جس کی قیادت گادی آئزن کوٹ کر رہا ہے‘ کو مطلوبہ 61 نشستیں نہیں مل سکیں۔ اسرائیلی سیاسی نظام کے تحت ایسی صورت میں جب تک کوئی فریق حکومت سازی نہیں کرتا‘ اگلی حکومت کی تشکیل تک وزیراعظم برقرار رہے گا۔ یعنی اسرائیل میں نیتن یاہو بطور وزیراعظم اور امریکہ میں ٹرمپ بطور صدر کم از کم اگلے دو ماہ تک اسمبلی میں اپنی موجودہ اکثریت کے ساتھ‘ اپنے اپنے عہدوں پر موجود ہیں۔
ہر دو حضرات نے اپنے اپنے الیکشن سے پہلے یہ بلاوجہ والی جنگ صرف اس لیے چھیڑی تھی کہ وہ ایران کی قیادت کو ختم اور موجودہ رجیم کو ملیا میٹ کرتے ہوئے ایران کو گھٹنوں کے بل جھکنے پر مجبور کر دیں گے۔ یہ غیر معمولی فتح ان کو اپنے اپنے ملک میں ہیرو بنا دے گی اور وہ آئندہ الیکشن میں اپنی مقبولیت کو بامِ عروج پر لے جائیں گے مگر سب کچھ الٹا ہو گیا۔ انہیں اس جنگ میں‘ جسے وہ دو دن کا کھیل اور بالکل معمولی بات سمجھ رہے تھے‘ بدترین رسوائی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ احمقانہ جنگی کارروائی ان کیلئے سانپ کے منہ میں چھچھوندر بن گئی اور اب صورتحال ساری دنیا کے سامنے ہے۔
اسی دوران حتمی نتائج بھی آ گئے ہیں۔ مشی گن سے سینیٹ کیلئے ڈیموکریٹ امیدوارمصری نژاد عبدل السید (عبدالرحمن محمد السید) ٹرمپ کی شدید ترین مخالفت کے باوجود الیکشن جیت کر امریکی تاریخ کا پہلا رکنِ سینیٹ بن گیا ہے۔ صدرٹرمپ نے عبدل السید کی مذہبی شناخت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جنونی قرار دیا تھا۔ اس منفی پروپیگنڈا نے اُلٹا اس کی جیت میں کافی اہم کردار سرانجام دیا۔ ایوانِ نمائندگان کی موجودہ عددی صورتحال کو مدنظر رکھیں تو ڈیموکریٹک پارٹی کے حاکیم جیفریز امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام سپیکر بن جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کی مسلسل تنقید بلکہ بدکلامی کا ہدف الہان عمر اپنے مینی سوٹا کے حلقہ انتخاب سے مسلسل پانچویں بار جیت گئی ہیں۔ حال ہی میں حکومتی ہدایات پر ان کے گھر اور دفتر پر چھاپے مارے گئے اور ان کی امریکی شہریت کینسل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ وہ 76 فیصد ووٹ لے کر یکطرفہ مقابلے میں کامیاب ٹھہری ہے۔
بقول شفیق‘ بظاہر آسان سی ایران جنگ صدر ٹرمپ کے جوڑوں میں بالکل ویسے ہی بیٹھی ہے جیسے یمن کی جنگ سعودی عرب کے گلے پڑی ہوئی ہے۔ بقول منیر نیازی:
کم اوہو منیر سی مشکلاں دا؍ جیہڑا شروع چ بوہتا آسان دِسیا
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments