یہ مسافر اپنی آوارہ گردی کے دوران پرانی عمارتیں‘ قدیم قلعے‘ تاریخی محلات‘ عجائب گھر اور قدرتی مناظر کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی اور دل شاد کرتا ہے۔ قلعوں سے اس مسافر کو خاص دلچسپی ہے۔ اب میں اس کی کوئی منطقی وجہ تو نہیں بتا سکتا۔ ویسے بھی کسی چیز کو پسند کرنے کیلئے کسی منطقی وجہ کا ہونا ضروری نہیں‘ بس یہی کافی ہے کہ وہ آپ کو پسند ہے۔ قلعوں کی بات ہوئی تو اس مسافر کے دل میں گزشتہ کئی سال سے ویلز میں بنے ہوئے ایک قلعے کو دیکھنے کی بڑی خواہش تھی۔ کئی بار اس قلعے کو دیکھنے کا پروگرام بھی بنا لیکن پروگرام بننے اور اس کے تکمیل پذیر ہونے کے درمیان جو عوامل اور مراحل ہوتے ہیں‘ وہ آپ کے بس میں نہیں ہوتے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا۔ شدید خواہش کے باوجود کہیں نہ کہیں معاملہ گڑبڑ ہو جاتا اور یہ قلعہ دیکھنے سے رہ جاتا تھا۔ یہ قلعہ ویلز کے علاقے مڈ ویلز کے قصبے ویلش پول میںواقع‘ پووس کاسل ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا قلعہ ہے بلکہ یہ قلعہ کم اور قلعہ نما ایک شاہانہ رہائشی عمارت زیادہ ہے۔ جسے کسی برطانوی حکمران کے بجائے مقامی ویلش شہزادے Gruffudd ap Gwenwynwyn نے تعمیر کروایا۔ یہ چھوٹی سی پہاڑی کے اوپر بنا ہوا ہے اور اس کی ایک خاص بات اس کے ساتھ موجود وسیع و عریض باغات ہیں۔ قدامت‘ خوبصورتی اور مختلف اقسام کے درختوں کے مجموعے اور اس باغ کے مختلف تختے اسے دنیا کے چند قابلِ دید باغات میں سے ایک باغ بناتے ہیں۔ تاہم میری اس قلعے سے دلچسپی ان باغات کی وجہ سے بہر حال نہیں ہے۔ اس قلعے سے میری دلچسپی کی وجہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخی اشیا کا وہ مجموعہ ہے جو اس قلعے میں ٹکٹ کے ذریعے دیدارِ عام کیلئے رکھا ہوا ہے۔ بظاہر تو ساری اشیا کلائیو کولیکشن کہلاتی ہیں‘ اورانہیں یہ نام 1765-67ء کے دوران بنگال کے گورنر رابرٹ کلائیو‘ جسے کلائیو آف انڈیا بھی کہا جاتا ہے اور پھر اسی کے بیٹے ایڈورڈ کلائیو جو 1798ء تا 1803ء تک مدراس کا گورنر رہا‘ کی جمع کردہ اشیا کے باعث دیا گیا۔ یہ ساری کولیکشن اصل میں دونوں باپ بیٹے کے لوٹ مار کردہ نوادرات پر مشتمل ہے۔ جب انگریزوں نے 23 جون 1757ء کو میر جعفر کی غداری کے باعث نواب سراج الدولہ کو جنگ پلاسی میں شکست دی اور بنگال پر قبضہ کرتے ہوئے ہندوستان میں باقاعدہ برطانوی اقتدار کی بنیاد رکھی‘ تب اس جنگ میں رابرٹ کلائیو ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی فوج کا کمانڈر انچیف تھا۔ یہ بھی محض اتفاق ہے کہ جب 3 اپریل سے 4مئی 1799ء کے دوران ٹیپو سلطان اور انگریزوں کے درمیان سرنگا پٹم کی چوتھی اور آخری فیصلہ کن جنگ لڑی گئی‘ اس وقت مدراس کا گورنر ایڈورڈ کلائیو تھا جو رابرٹ کلائیو کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ دونوں باپ بیٹوں نے نواب سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان سے تعلق رکھنے والی تاریخی اور قیمتی اشیا چمپت کر لیں اور واپسی پر اپنے ساتھ برطانیہ لے آئے۔ تب برطانیہ میں ایسی لوٹی گئی اشیا کو سرکاری خزانے المعروف توشہ خانہ میں جمع کرانے کا کوئی رواج نہ تھا۔ جس نے جو شے لوٹ لی‘ وہ اسی کی ملکیت قرار پائی۔
1200ء کے لگ بھگ سرخ پتھر سے بنا ہوا یہ قلعہ نما محل بعد ازاں 1557ء میں ہربرٹ خاندان نے خرید لیا اور اسے قلعے سے ایک پُرتعیش رہائش گاہ میں بدل دیا۔ اس قلعے کے ساتھ موجود باغات زیادہ تر ہربرٹ خاندان کے دور میں لگائے گئے اور خاص طور پر اس کے فرانسیسی اور اطالوی طرز کے سیڑھی دار تختوں پر مشتمل باغات کو حقیقی خوبصورتی چوتھے ارل آف پووس کی اہلیہ کاؤنٹس وائلٹ لین فوکس نے دی جب اس نے دنیا بھر سے خوبصورت اور نایاب پودے منگوا کر انہیں اس باغ کی زینت بنایا اور یوں اس باغ کو اس نے دنیا کے خوبصورت ترین باغات میں سے ایک بنا دیا۔
مئی 1784ء میں رابرٹ کلائیو کے سب سے بڑے بیٹے ایڈورڈ کلائیو کی شادی پہلے ارل آف پووس ہنری آرتھر ہربرٹ کی بیٹی لیڈی ہنریٹا انٹونیا ہربرٹ سے ہوئی۔ ہنری آرتھر ہربرٹ کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے جارج ہربرٹ کو ارل آف پووس کے خطاب سے نوازا گیا۔ 1801ء میں ہربرٹ کا انتقال ہوا تو یہ خطاب معطل کر دیا گیا تاہم 1804ء میں انگریز حکومت نے اس خطاب کا دوبارہ اجرا کرتے ہوئے ایڈورڈ کلائیو کو پہلے ارل آف پووس (حقیقتاً وہ تیسرا ارل آف پووس تھا) کا خطاب عطا کر کے یہ روایت دوبارہ قائم کر دی۔ اس طرح یہ قلعہ کلائیو خاندان کے تصرف میں آ گیا۔ چوتھے ارل آف پووس جارج چارلس ہربرٹ کا بڑا بیٹا پرسی رابرٹ ہربرٹ جو فوج میں کیپٹن تھا‘ 1916ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران اور چھوٹا بیٹا مورین ہوراٹیو ہربرٹ جو رائل ایئرفورس میں پائلٹ تھا‘ دوسری جنگ عظیم میں جہاز کے حادثے میں مارا گیا۔ جارج ہربرٹ نے 1952ء میں مرنے سے پہلے قلعے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے اسے نیشنل ٹرسٹ کی تحویل میں دے دیا۔
گزشتہ تین چار سال سے میں جب بھی برمنگھم گلاب خان کے پاس گیا‘ بھاگ دوڑ میں ہی گیا۔ ہم ہر بار پووس کاسل جانے کا ارادہ بناتے مگر میری طرف سے ہی کوئی ایسی اڑ چن آن پڑتی کہ بس یہی کام رہ جاتا۔ اس بار میں نے برمنگھم جانے سے قبل ہی گلاب خان سے پووس کاسل جانے کا پروگرام بنا لیا۔ جس روز برمنگھم پہنچا‘ سردی اور بارش بھی میرے ہمراہ اسی روز وہاں پہنچیں۔ ٹرین سے اترا تو بارش شروع ہو گئی۔ دو دن بعد برمنگھم نے مجھے اور بارش کو ایک ساتھ الوداع کہا۔ مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ میں گلاب خان سے اپنے تعلق اور رشتے کو کیا نام دوں‘ میری دوستی گلاب خان کے والد حاجی فضل خان چانڈیہ سے ہے۔ فضل خان عرصۂ دراز سے ملتان میں چشموں کا کاروبار کرتے ہیں۔ اس عاجز کو بہت چھوٹی عمر میں عینک کی ضرورت پڑ گئی تھی سو مختلف چشمہ سازوں سے ہوتے ہوئے میں بالآخر حاجی فضل صاحب کے پاس پہنچ گیا۔ پھر ہمارے درمیان سے عینکیں اور چشمے نکل گئے اور دوستی کا ایسا تعلق بنا کہ چشمہ تو اب سالوں بدلوانے کی نوبت نہیں آتی۔ حاجی فضل کی دکان کے اوپر ان کا ریٹائرنگ روم کبھی ملتان میں دوستوں کی منڈلی جمانے کے کام آتا تھا‘ اب حاجی صاحب زیادہ تر گھر رہتے ہیں اور کاروبار کو تقریباً تقریباً خیرباد کہہ چکے ہیں۔ دکانوں کو ان کے عزیز سنبھالے ہوئے ہیں۔ جب ہمیں اپنے دوست حاجی فضل خان کے بیٹے ہونے کے حیثیت سے گلاب خان جہیز میں ملا تو صرف ہمارا بھتیجا تھا‘ پھر اس کی محبت نے کئی درجے طے کرتے ہوئے دوستی کی شکل اختیار کر لی‘ تاہم کبھی وہ چھوٹے بھائیوں جیسا لگتا ہے اور اس کی بیگم ہمیں اپنی بہو لگتی ہے۔ میرے بچوں کو تو پہلے سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ اپنے والد کے دوست کو کیا کہیں۔ تاہم اب انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ گلاب خان ان کا بھائی ہے اور اس کی بیگم ان کی باجی ہیں۔ بچوں کے رشتوں کا تعین ہو چکا ہے لیکن یہ عاجز ابھی تک دوست‘ برادرِ خورد اور بھتیجے کے درمیان میں کوئی ایک پکا رشتہ طے نہیں کر پایا۔ برطانیہ جاؤں اور گلاب خان کے پاس نہ جاؤں یہ بھلا کیسے ممکن ہے۔ میرے جانے پر گلاب خان اپنے سارے کام چھوڑ کر صرف اور صرف میرے طے کردہ شیڈول کی تکمیل میں لگ جاتا ہے۔ موسم اگلے دو دن بارش دکھا رہا تھا اور میرے پاس یہی دو دن تھے۔ اگلی صبح جب میں اور گلاب خان دو گھنٹے کے فاصلے پر واقع پووس کاسل کی جانب روانہ ہوئے تو برطانیہ کی مخصوص بارش اپنا رنگ دکھا رہی تھی۔ یہ مخصوص بارش ہم جیسوں کیلئے بڑی بیزار کن ہے۔ نہ رکتی ہے اور نہ کھل کر برستی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments