"SAC" (space) message & send to 7575

صنعتی پالیسی کے فرسودہ تصور کی بازگشت

یوں لگتا ہے کہ سست رفتار معاشی نمو کے جواب میں ایک نئی صنعتی پالیسی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور اس سے متعلق ایک پرانا اور بارہا آزمایا ہوا بیانیہ سرکاری حلقوں میں گردش کر رہا ہے۔ اس مجوزہ پالیسی کو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے گویا یہ ہمارے معاشی مسئلے کے حل کا تیر بہدف نسخہ ہے اور مستقبل پر نظر رکھنے والی ترقیاتی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون۔
میڈیا تک پہنچنے والی اطلاعات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ صنعتی پالیسی کا دائرہ کار کیا ہو گا۔ کیا یہ صرف صنعت سازی تک محدود ہو گی یا اس کا دائرہ وسیع اور متنوع خدماتی شعبہ جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ الیکٹرانک ذرائع سے فراہم کی جانے والی خدمات‘ سیاحت‘ علاج معالجہ وغیرہ تک بھی پھیلے گا۔ ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اس مجوزہ پالیسی کا دائرہ بنیادی طور پر صنعتی شعبہ تک ہی محدود ہے۔ مجوزہ صنعتی پالیسی کے حق میں دلیل اس یقین پر مبنی ہے کہ صرف منڈیوں پر انحصار سے معاشی ترقی پیدا نہیں ہو سکتی اور نہ معیشت میں بنیادی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ ''کامیاب شعبوں‘‘ یا ''سٹرٹیجی کے لحاظ سے'' اہم صنعتوں‘‘ کا انتخاب کرے اور انہیں عالمی سطح پر مضبوط اور مستحکم صنعتی اداروں کے مقابلے کیلئے معاونت اور تحفظ فراہم کرے‘ انہیں ویلیو ایڈیشن میں اضافے کے قابل بنائے اور ساتھ ہی ملک کے اندر روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے۔
راقم کے نزدیک صنعتی پالیسی کا یہ تصور ایک ایسے قدیم اور گزرے ہوئے دور سے تعلق رکھتا ہے جو اَب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ عموماً جاپان‘ جنوبی کوریا اور تائیوان (اور ان سے پہلے امریکہ اور یورپ) کی مثالیں دی جاتی ہیں جنہوں نے یہ طریقۂ کار اختیار کیا۔ انہوں نے منتخب صنعتوں کو تحفظ فراہم کیا اور نمایاں کامیابی حاصل کی‘ تاہم یہ سب ایک مختلف زمانے میں ممکن ہو پایا تھا‘ جب ان کی معیشتیں بیرونی دنیا کے لیے بند یا نیم بند تھیں اور ٹیکنالوجی کی ترقی بہت سست رفتار تھی۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان ملکوں میں ترجیحی یا رعایتی پالیسیاں صرف عارضی مدت کے لیے نافذ کی گئی تھیں کیونکہ ان کا مقصد محض یہ تھا کہ صنعتوں کو اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ ترقی کر کے بالآخر عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بن جائیں۔ تاہم ہمارے معاملے میں صورتحال مختلف ہے۔ چند صنعتوں کو حکومتی مداخلتوں کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا‘ جیسے امدادی رقوم‘ ٹیکس میں رعایت‘ قرضوں پر شرحِ سود میں رعایت اور موافق درآمدی ٹیکس وغیرہ۔ انہوں نے ان رعایتوں سے بے تحاشا فائدہ اٹھایا لیکن یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ کئی دہائیوں کی سرپرستی کے باوجود حکومت کی مدد سے چلنے والی کوئی بھی صنعت (مثلاً آٹو موبائل‘ کھاد‘ فولاد‘ چینی‘ مصنوعی ریشہ اور توانائی) عالمی سطح پر مسابقت کے قابل نہیں بن سکی۔ یہ نومولود صنعتیں کبھی بالغ نہیں ہو سکیں۔ ان میں سے کوئی بھی کامیاب صنعت نہیں بن سکی۔ان پالیسیوں کی وجہ سے ان صنعتوں کا مسلسل حکومتی امداد اور مالی سہاروں پر انحصار مزید مضبوط ہو گیا تاہم آج کی انتہائی مسابقتی دنیا عالمی تجارت سپلائی چین پر استوار ہے۔ ان حالات میں ملکی صنعت کو تحفظ دینا نہ صرف ہمیں عالمی سطح پر غیر مسابقتی بنائے گا بلکہ اس کے ردعمل میں جوابی اقدامات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لیے مجوزہ صنعتی پالیسی معاشی ترقی کی حکمتِ عملی نہیں بلکہ جمود اور سستی کا نسخہ ہے۔
ہمارے حد سے زیادہ اختیار پسند سرکاری اہلکاروں کے پاس محدود معلومات ہیں اور ان میں ہمہ گیر صلاحیت کا فقدان ہے۔ یہ سوچ کر ہی تشویش ہوتی ہے کہ انہیں یہ ذمہ داری سونپ دی جائے کہ وہ براہ راست حکومتی سرپرستی کیلئے صنعتوں کا انتخاب کریں۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ کچھ مخصوص شعبوں کا انتخاب کیا جائے گا اور ان کیلئے بے تحاشا مراعات پر مشتمل پالیسیاں اور اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسے صنعتی ڈھانچے کی صورت میں نکلے گا جو غیر مؤثر ہو گا‘ عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت سے محروم ہو گا اور نئے اور عالمی منڈی میں امید افزا مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے گا۔ مزید برآں‘ ہمارے اپنے تجربے کو دیکھتے ہوئے اس بات کا ہر اعتبار سے خدشہ موجود ہے کہ ایسی حکمتِ عملی پر سیاسی سہولت کاری اور بااثر مفاداتی گروہوں کا تصرف ہو جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں‘ معیشت کا انجام یہ ہو گا کہ وہ ناکام شعبوں کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ اس کے نتیجے میں وسائل ان شعبوں سے نکال لیے جائیں گے جہاں ان کا زیادہ مفید اور پیداواری استعمال ممکن ہے اور انہیں اُن صنعتوں کو زندہ رکھنے پر خرچ کیا جائے گا جن کا مقدر بالآخر ناکام ہو کر ختم ہو جانا ہے۔ تیز رفتار ٹیکنیکل تبدیلیاں ان سرپرستی یافتہ صنعتوں کو جلد ہی غیر ضروری اور فرسودہ بنا دیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث ایسی شدید تبدیلیاں پیدا ہوں گی کہ بہترین حکومتی مداخلت (معاونت) بھی بہت جلد غیر متعلق ہو کر رہ جائے گی اور جلد غیر مؤثر ثابت ہو گی۔ اگر ان پالیسیوں سے کوئی مسابقتی برتری حاصل ہو گی بھی تو وہ ختم ہو جائے گی۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کسی ملک کی تقابلی برتری کا تعین حکومتیں نہیں بلکہ وہ منڈیاں کرتی ہیں جو حیرت انگیز رفتار سے ترقی کر رہی ہیں۔ مزید یہ کہ ایسی صنعتوں کو سہارا دینے کی مالی لاگت‘ جو صرف بیساکھیوں کے سہارے زندہ رہ سکتی ہیں‘ بہت زیادہ ہو گی۔ منتخب صنعتوں کو سہارا دینے کا یہ عمل ان مقاصد کی قیمت پر ہو گا جو پائیدار ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں‘ جیسے برآمدات میں اضافہ۔ ایسی صنعتوں کو مضبوط بنانے سے نہ صرف صارفین پر بوجھ پڑے گا بلکہ حکومت کے مالی وسائل بھی ضائع ہوں گے اور سرمایہ کاری کے قابل رقوم ان شعبوں سے ہٹ جائیں گی جو معیشت کو زیادہ بلند اور پائیدار ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں اور اس کی مسابقت کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
پاکستان کو اب ایسی صنعتوں کی امداد کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں جو امدادی رقوم اور تحفظ کے بغیر اپنے پاؤں پر کھڑی تک نہیں ہو سکتیں۔ اس دور میں ضرورت ایسی گورننس کی ہے جو تیز ہو‘ لچکدار ہو اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہو تاکہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہو سکے۔ اس لیے ہماری توجہ ایسی کھلی‘ مسابقتی اور جدید معیشت کی تشکیل پر ہونی چاہیے جو تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی معاشی ماحول کے ساتھ فوراً ہم آہنگ ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ معاون شعبوں اور عوامل کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ یہ شعبے اور عوامل مندرجہ ذیل ہیں: تعلیم اور فنی مہارتوں کی ترقی (جو ابھرنے والے معاشی نظام سے ہم آہنگ ہو)‘ ڈیجیٹل رابطوں کا انفراسٹرکچر‘ قابلِ اعتماد اور کم لاگت توانائی‘ سادہ اور قابلِ پیش گوئی ٹیکس نظام (جس میں آئے روز تبدیلی نہ کی جائے)‘ جدید انفراسٹرکچر اور ایجادات۔ صرف یہی عوامل مسابقتی معیشت کی تعمیر کو ممکن بنا سکتے ہیں نہ کہ ٹیکس میں رعایتیں‘ سستے قرضے اور درآمدات کے مقابلے سے تحفظ۔ بلاشبہ یہ کہنا آسان ہے لیکن کرنا مشکل کیونکہ اس بات کے بے شمار شواہد موجود ہیں کہ ہمارے ریاستی اداروں میں ان پالیسی اقدامات‘ ذرائع اور ادارہ جاتی انتظامات کو تشکیل دینے کی وہ صلاحیت نہیں جو ان اقدامات کے لیے ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے ''صنعتی پالیسی‘‘ ایک ایسا تصور ہے جو ناکام ثابت ہو چکا ہے اور اب زیادہ سے زیادہ ماضی کے ایک مطالعاتی نمونہ کے طور پر ہی کام آ سکتا ہے۔ اسے مستقبل کی کسی بھی ترقیاتی حکمتِ عملی کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...