حالیہ برسوں میں متعدد ایسے واقعات سامنے آئے جن میں ریاست کے بڑے اداروں نے واضح طور پر دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔ پارلیمان نے عدلیہ پر قانون سازی کرنے کا الزام عائد کیا جبکہ حکومت نے پارلیمان کو عدالتوں کے اندرونی انتظام وانصرام کو ریگولیٹ کرنے کیلئے استعمال کیا۔ 26ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم نے مل کر عدالتی تقرریوں کے نظام کو اس انداز میں ازسرنو ترتیب دیا کہ عدلیہ پر انتظامیہ کا اثر ورسوخ بڑھ جائے اور سپریم کورٹ کے اختیارات محدود ہو جائیں ۔ بادی النظر میں ان ترامیم نے عدلیہ کے فیصلہ سازی کے عمل میں مداخلت کی راہ ہموار کی‘ انتظامیہ کے اختیارات کو منظم انداز میں مضبوط کیا اور عدلیہ کے اختیارات اور آزادی کو کمزور کر دیا۔ ادارہ جاتی حفاظتی انتظامات پہلے ججوں کو آزادی فراہم کرتے تھے‘ اب ان میں تبدیلی نے پاکستان کے آئین میں موجود اختیارات کے توازن اور باہمی نگرانی کے ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے۔ لہٰذا آئین میں جس انداز سے اختیارات کی علیحدگی کا تصور پیش کیا گیا ہے‘ اس کا جائزہ لینا ضروری ہو گیا ہے۔ تصوراتی طور پر اختیارات کی علیحدگی کا اصول اس تصور سے جنم لیتا ہے کہ ریاست کا کوئی ایک ادارہ من مانے اختیارات استعمال کرنے کے قابل نہ ہو۔ اس اصول کے تحت ریاست کے انتظامی‘ قانون ساز اور عدالتی فرائض کو رسمی اور ساختی طور پر تین الگ اور خود مختار اداروں کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر ادارہ اپنے اختیارات حاکمِ اعلیٰ یعنی عوام سے حاصل کرتا ہے۔ عوام یہ اختیارات آئین کے ذریعے اس ادارے کو تفویض کرتے ہیں اور ہر ادارہ انہیں صرف اسی حد تک استعمال کر سکتا ہے جس حد تک آئین کے تحت اسے سونپے گئے ہوں۔ آئین عوام کی مرضی کا اظہار ہے۔ یہ وہ معاہدہ ہے جس میں اختیارات کی علیحدگی کے اصول کا اظہار کیا گیا ہے۔ اگر کوئی ادارہ آئین میں تفویض کردہ اختیارات سے بڑھ کر اختیارات استعمال کرنے کی کوشش کرے تو عدالتیں ایسے اقدام کو کالعدم قرار دے کر ناکام بنا دیں گی۔ مگر ہمارے معاملے میں اختیارات کی علیحدگی کے اصول کی آئین کے متن میں واضح طور پر تفصیل نہیں دی گئی۔ ہمارے ریاستی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ مختلف ادارے اپنے آئینی دائرہ اختیار سے بڑھ کر اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے اختیار میں یہ تجاوز ہمیشہ کامیاب تو نہیں ہوا لیکن اس سے ایسی ہلچل اور ہنگامے نے ضرور جنم لیا کہ نظام مفلوج ہو کر رہ گیا۔ اس عمل کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ایک مثال دیکھیے: نظری طور پر وزیراعظم ریاست کے سربراہ یعنی صدر کے نام پر تمام انتظامی اختیارات استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب کردہ صدر کے پاس عملاً کوئی اختیار نہیں ہوتا لیکن ذوالفقار علی بھٹو کیلئے یہ ادارہ جاتی بندوبست بھی قابلِ قبول نہ تھا۔ انہوں نے آئین میں یہ شرط شامل کر دی کہ صدر کے دستخط اسی وقت مؤثر تصور ہوں گے جب ان پر وزیراعظم کے جوابی دستخط بھی موجود ہوں۔
آج کے دور کی چند مثالیں جو پارلیمان کے اختیارات میں کمی کو ظاہر کرتی ہیں‘ یہ ہیں: الف) انتظامیہ کو ایسے آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے جو پارلیمان کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے اختیارات کو محدود کر دیتے ہیں۔ اگرچہ بالآخر ان آرڈیننسوں کو پارلیمانی منظوری درکار ہوتی ہے لیکن وہ بہت بعد میں حاصل کی جاتی ہے اور اس وقت تک جو کچھ ہونا ہوتا ہے‘ خواہ اچھا ہو یا برا‘ ہو چکا ہوتا ہے۔ ب) وفاقی ٹیکس جمع کرنے کے ادارہ ایف بی آر کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ پارلیمان کی منظوری کے بغیر مختلف نوعیت کے محصولات عائد کرے اور ٹیکسوں سے متعلق قواعد وضوابط جاری کرے۔ حالیہ برسوں میں عدالتوں نے پارلیمان کو مخصوص موضوعات اور مسائل پر قوانین بنانے کیلئے ہدایات جاری کیں۔ سب سے بڑی کنفیوژن اس ادارہ کی مداخلت سے پیدا ہوتی ہے جسے مقتدرہ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ حکمرانی میں اس کا کوئی باضابطہ یا آئینی کردار نہیں لیکن ملک کے قیام کے تقریباً آغاز ہی سے یہ مسلسل اختیارات استعمال کرتی آ رہی ہے۔ نتیجتاً اختیارات کی تقسیم اور الگ آئینی دائرہ ہائے اختیار پر مبنی نظام بڑی حد تک غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔
پارلیمانی نظام خود بھی عملی طور پر اختیارات کی علیحدگی کے اصول کو کمزور کر دیتا ہے۔ پارلیمانی نظام میں انتظامیہ‘ یعنی وزیراعظم اور کابینہ‘ اپنے اختیارات براہِ راست عوام سے منتخب ہو کر حاصل نہیں کرتے بلکہ یہ اختیارات انہیں قانون ساز ادارے (پارلیمان) سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس لیے انتظامیہ اور پارلیمان ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے اور بظاہر ان کے درمیان کوئی واضح حدِ فاصل موجود نہیں رہتی۔ اکثریتی جماعت حکومت بناتی ہے اور ہمارے ہاں پارلیمان اکثر جماعتی قیادت کی خواہشات اور اختیارات کے من مانے استعمال کی یرغمال بن جاتی ہے۔ یہ بندوبست پارلیمان کیلئے انتظامیہ پر مؤثر نگرانی قائم کرنا تقریباً ناممکن بنا دیتا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پارلیمان عملی طور پر یا آئین کے متن کے مطابق انتظامیہ پر نگرانی کر سکتی ہے؟ دونوں کے درمیان حدِ فاصل کہاں ہے؟ کیا یہ مسئلہ خود نظام کی ساخت اور ترتیب میں موجود ہے یا صرف اس کے عملی نفاذ کا مسئلہ ہے؟ پارلیمانی جمہوریت کی اس بنیادی کمزوری کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں انتظامیہ کے پاس سرپرستی اور مراعات دینے کے وسیع اختیارات بھی موجود ہیں جن کے باعث پارلیمان کیلئے نگرانی کا کردار ادا کرنے کے امکانات تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔ منظور شدہ بجٹ سے بڑھ کر اخراجات بلا روک ٹوک کیے جاتے ہیں اور بعد ازاں قومی اسمبلی سے انہیں منظور کرا لیا جاتا ہے۔
ایک مکتب فکر کا مؤقف ہے کہ حقیقی جمہوری نظام میں تقسیم شدہ حاکمیتِ اعلیٰ بالآخر ایک ہی ادارے یعنی عوام کے منتخب نمائندوں میں مرکوز ہونی چاہیے کیونکہ یہی نمائندے عوام سے یہ اختیار حاصل کرتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کے مطابق‘ تمام تر خامیوں کے باوجود منتخب پارلیمان کی بالادستی غیر منتخب عدلیہ کی آمریت سے بہتر ہے۔ اس دلیل کے حامی کہتے ہیں کہ عدالتوں کی مداخلت مولوی تمیز الدین کیس سے شروع ہوئی اور دوسری بڑی مثال چیف جسٹس افتخار چودھری کے دور کی ہے جب عوامی مفاد کی درخواستوں کے ذریعے متنازع اور حد سے بڑھی ہوئی عدالتی فعالیت سامنے آئی۔ ہم نے دیکھا کہ عدالتوں کی مداخلت سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور اس طرح معاشی ترقی کے عمل اور رفتار کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ آئین میں عدلیہ کے پاس کوئی ایسی واضح اتھارٹی موجود نہیں کہ وہ آئینی ترمیم یا کسی قانون کا جائزہ لے سکے بلکہ وہ یہ اختیار استنباط کے ذریعے حاصل کرتی ہے۔ قوانین کی ناقص اور مبہم تدوین نے عدلیہ کو یہ موقع دیا کہ وہ ان کی ایسی تشریح کرے جسے وہ ان کا اصل مقصد اور دائرہ کار سمجھتی ہے۔ ان کے نزدیک بدلتے ہوئے حالات ایسی تشریح کا تقاضا کرتے تھے۔ لیکن سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے ان حلقوں نے ہمیشہ اس نقطہ نظر کو چیلنج کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس سے گورننس کی مؤثریت کمزور ہوئی اور جمہوریت کو نقصان پہنچا۔ تو کیا واقعی ایک ایسا ادارہ (پارلیمان) ہونا چاہیے جو سب سے بالاتر اختیار رکھتا ہو؟ اور کیا اسے یہ اجازت ہونی چاہیے کہ وہ ایسا کوئی بھی قانون نافذ کر دے جو آئین سے متصادم ہو جبکہ عدالتی نظام کے ذریعے اسے کالعدم قرار دینے کا کوئی راستہ موجود نہ ہو؟ اس بارے میں کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ چونکہ ہمارے پاس ایک تحریری آئین موجود ہے اس لیے اس میں ہر ادارے کے کردار‘ ذمہ داریوں او اختیارات کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا جانا چاہیے۔ اور ظاہر ہے کہ جمہوری نظام میں یہ کام صرف پارلیمان ہی انجام دے سکتی ہے۔ اس عمل سے ہر ادارے کو اس کے واضح طور پر متعین دائرہ اختیار تک محدود رکھنے میں مدد ملے گی لیکن پھر بھی مختلف اداروں کیلئے خود اختیار کردہ ضبط وتحمل کی ضرورت برقرار رہے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments