جب بھی پاکستان میں شرح سود بڑھتی ہے کاروباری حلقے‘ ٹی وی چینلز کے تجزیہ کار اور صنعتکار ایک ہی بات کہتے ہیں کہ اگر سٹیٹ بینک نے فوری طور پر شرح سود کم نہ کی تو سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آ جائے گی‘ صنعتیں متاثر ہوں گی اور معاشی ترقی سست پڑ جائے گی۔ اس بیانیے کا بنیادی تصور بہت ہی سادہ ہے یعنی قرضے سستے ہوں تو معیشت کی ترقی ہوتی ہے۔ پہلی نظر میں یہ بیانیہ معقول لگتا ہے۔ کاروباری اداروں کو کارخانے لگانے‘ مشینیں خریدنے اور کاروبار میں توسیع کیلئے سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ اگر قرض سستا مل جائے تو کمپنیاں زیادہ آسانی سے سرمایہ کاری کر سکتی ہیں لیکن اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بڑا مسئلہ چھپا رہتا ہے جسے پاکستان نے کئی برسوں سے نظر انداز کر رکھا ہے۔ وہ یہ کہ سرمایہ کاری کیلئے رقم حاصل کرنے کے دو بنیادی طریقے ہیں۔ ایک طریقہ بینکوں سے قرض لینا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کاروباری افراد اپنی رقم استعمال کریں یا پھر سرمایہ کاروں کو کمپنی کے شیئرز فروخت کریں‘ جسے ایکویٹی کہتے ہیں۔ سرمایہ کاری کے ہر دو طریقوں سے وجود میں آنے والے کاروباروں اور معیشتوں کی نوعیت ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ پاکستان میں کاروباری مالکان کا مسلسل یہی مطالبہ رہتا ہے کہ انہیں بینکوں سے سستے قرضے ملتے رہیں جبکہ وہ اپنے شیئرز فروخت کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ بچت کرنے والے عام لوگ اپنی بچتوں پر کم منافع قبول کر لیں تاکہ کمپنیاں سستے قرضے حاصل کرتی رہیں۔ جب کمپنیاں قرض لیتی ہیں تو کاروبار کی ملکیت ایک چھوٹے گروہ کے اندر برقرار رہتی ہے جو عموماً ایک ہی خاندان ہوتا ہے۔ لیکن جب کمپنیاں شیئرز فروخت کر کے سرمایہ حاصل کرتی ہیں تو دولت زیادہ لوگوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ شیئر ہولڈرز شفافیت‘ منافع میں حصہ داری یا کمپنی کے انتظامی بورڈ میں نمائندگی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بہت سے خاندانی کاروبار یہ نہیں چاہتے کہ ان کے کام میں اس قسم کا بیرونی عمل دخل ہو۔ اسی لیے ان کی ترجیح ایکویٹی کے مقابلے میں بینک کے قرض ہوتے ہیں۔
کئی دہائیوں سے زیادہ تر بڑے خاندانی کاروباروں کی یہ حکمتِ عملی رہی ہے کہ وہ زمین‘ عمارتوں یا مشینری کو ضمانت کے طور پر استعمال کر کے بینکوں سے قرض حاصل کرتے ہیں اور پھر ملکیت یا اختیار چھوڑے بغیر اپنے کاروبار کو وسعت دیتے ہیں۔ یہ نظام ان کیلئے بہت مؤثر ثابت ہوا کیونکہ پاکستان میں تاریخی طور پر حقیقی شرح سود بہت کم رہی ہے۔ حقیقی شرح سود سے مراد وہ شرح سود ہے جو مہنگائی کو مائنس کرنے کے بعد باقی رہتی ہے۔ پاکستان میں حقیقی شرح سود اکثر طویل عرصے تک دو فیصد سے بھی کم رہی۔ بینکوں کے لیے بھی یہ زیادہ محفوظ اور آسان طریقہ تھا کہ وہ بڑی کمپنیوں کو قرض دیں کیونکہ ان کمپنیوں کے پاس زمین اور مشینری جیسی ضمانت موجود ہوتی۔ اسی لیے انہوں نے چھوٹی کمپنیوں کی گروتھ کو سپورٹ کرنے کے بجائے زیادہ تر بڑے کاروباری گروپوں کو قرض دیے۔ ایک اعتبار سے بینکوں کا ایسا کرنا بالکل معقول بات ہے کیونکہ سٹیٹ بینک کے قواعد وضوابط اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ بینک اثاثوں (زمین‘ مشینری وغیرہ) کی ضمانت کے عوض قرضے جاری کریں۔ تاہم اس نظام نے ملکی معیشت کے لیے طویل مدتی مسائل پیدا کیے۔ ایک تو پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کمزور اور محدود رہی۔ بھارت میں بھی بڑے کاروباری گروپوں کے 50 فیصد سے زیادہ شیئرز اُن کے خاندانوں سے باہر عام شہریوں کی ملکیت ہیں لیکن پاکستان میں بہت سی بڑی کمپنیاں سٹاک مارکیٹ میں اندراج سے گریز کرتی ہیں۔ اگر وہ اندراج کر بھی لیں تو اکثرعوام کو بہت کم فیصد شیئرز فروخت کرتی ہیں‘ وہ بھی صرف اس بنیادی شرط کو پورا کرنے کے لیے جو سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عائد کی جاتی ہے۔اکثر کاروباروں کے مالکان سٹاک مارکیٹ میں کمپنی کے اندراج کو ایک موقع کے بجائے بوجھ سمجھتے ہیں۔ اس عمل کی وجہ سے پاکستان کی مالیاتی مارکیٹوں کی ترقی سست پڑ گئی اورعام شہریوں کیلئے سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہو گئے۔
قرض لینا بذاتِ خود کوئی بُری چیز نہیں‘ دنیا بھر میں کاروبار ترقی کے لیے قرض استعمال کرتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کمپنیاں بینکوں کے قرض پر حد سے زیادہ انحصار کرنے لگتی ہیں۔ زیادہ مقروض کمپنیاں اس وقت غیر محفوظ ہو جاتی ہیں جب شرحِ سود بڑھ جائے‘ ملکی کرنسی کمزور ہو جائے یا معاشی ترقی سست پڑ جائے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کمپنی نے بہت زیادہ قرض لے رکھا ہو اور اچانک شرح سود بڑھ جائے تو اس کمپنی کے لیے قرض کی ادائیگیوں کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس سے کاروبار پر مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ بعض اوقات کمپنیاں دیوالیہ ہونے لگتی ہیں۔ ایک حد سے زیادہ قرض پورے بینکاری نظام کے لیے بھی اس وقت مسائل پیدا کر سکتا ہے جب ایک ہی وقت میں بہت سی کمپنیاں ناکام ہو جائیں۔ اس کے برعکس شیئرز کے ذریعے سرمایہ کاری (ایکویٹی) مختلف انداز میں کام کرتی ہے۔ جب کوئی کمپنی شیئرز کے ذریعے سرمایہ حاصل کرتی ہے تو سارے خطرات بینک کے قرضوں میں اکٹھے ہونے کے بجائے شیئر ہولڈرز میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ایکویٹی کا عمل کمپنیوں کے کام کاج کے طریقہ کو بھی تبدیل کر دیتا ہے۔ کاروبار زیادہ شفاف ہو جاتے ہیں کیونکہ شیئر ہولڈرز درست معلومات چاہتے ہیں۔ منیجرز پر زیادہ دباؤ ہوتا ہے کہ وہ پیداوار اور منافع میں بہتری لائیں۔ سرمایہ کاری کے فیصلوں کا زیادہ احتیاط سے جائزہ لینا پڑتا ہے۔ یوں کاروباری مینجمنٹ بہتر ہو جاتی ہے۔ بعض ناقدین کا مؤقف ہے کہ شیئرز کے ذریعے حاصل کیا گیا سرمایہ عموماً قرض کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان کے سستے قرضوں پر مبنی کاروبار عالمی سطح پر مسابقتی صنعتیں پیدا نہیں کر سکے۔ بلکہ اس کی وجہ سے اکثر ناقص کارکردگی والے کاروباروں کو تحفظ ملا اور اس امر کی حوصلہ افزائی ہوئی کہ دولت چند خاندانی گروپوں کے اندر اکٹھی ہوتی جائے۔ پاکستان اب بھی کمزور برآمدات‘ کم پیداواریت اور محدود عالمی مسابقت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ پاکستان کو اب ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ سٹیٹ بینک اور سکیورٹی ایکسچینج کمیشن جیسے ریگولیٹری اداروں اور معاشی فیصلہ سازوں کو چاہیے کہ کمپنیوں سے تقاضا کریں کہ وہ بینک کے قرضوں پر بنیادی انحصار کے بجائے خود اپنے سرمایہ پر رسک لیں۔ انہیں اپنی ریگولیٹری اتھارٹی کا استعمال کرنا چاہیے اور ایکویٹی بڑھانے کیلئے ترغیبات دینی چاہئیں۔ اس طرح زیادہ صحتمند کاروبار اور مضبوط فنانشل مارکیٹیں وجود میں آئیں گی۔ اگر بڑی کمپنیاں بینکوں سے کم قرض لیں تو بینکوں کے پاس چھوٹے کاروباروں اور کسانوں کیلئے زیادہ مالی وسائل دستیاب ہو جائیں گے۔ یوں زیادہ وسیع البنیاد معاشی ترقی ہو سکتی اور روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کا پرانا ماڈل (قرض پر مبنی کاروبار) اب اپنی آخری حدوں تک پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ ہے لیکن لوگوں کی مجموعی قوتِ خرید اتنی نہیں کہ ملکی کمپنیاں ترقی کرکے بین الاقوامی کمپنیاں بن سکیں۔ پاکستان کے اندر جو کمپنیاں خاصی بڑی ہیں انہیں اگر مزید ترقی کرنی ہے تو ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ملک سے باہر جا کر اپنے کاروبار کو وسعت دیں۔ اس مقصد کیلئے ایک تو انہیں بیرونِ ملک پہلے سے موجود مستحکم کاروباری ادارے خریدنا ہوں گے اور دنیا کی بڑی مارکیٹوں میں ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس کے ساتھ اشتراک کرنا پڑے گا۔ دوسرا‘ کاروبار کو وسعت دینے کیلئے عالمی سرمایہ درکار ہے جو مطالبہ کرتا ہے کہ اسے شیئرز دیے جائیں۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کو زیادہ مضبوط‘ زیادہ شفاف اور بہتر سرمایہ رکھنے والی کمپنیوں کی ضرورت ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب کاروبار سستے قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار کرنا چھوڑ دیں اور ایکویٹی کے ذریعے ملکیت کو زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلائیں۔ ایکویٹی کے ذریعے سرمایہ کاری کاروباری ساخت کی ضرورت بن چکی ہے۔