عام تاثر کے مطابق پاکستان میں تعلیمی بحران کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم کا حصول لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ اس کے برعکس میری رائے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کیلئے تعلیم کے حصول میں کوئی کشش اور ترغیب نہیں ہے۔ جب تک ہم اس حقیقت کا سامنا نہیں کریں گے تعلیمی نظام پھیلتا تو جائے گا لیکن یہ نہ تعلیم فراہم کرے گا اور نہ معاشی مواقع۔ عوامی بات چیت میں ایک غالب بیانیہ ہے جو بہت سادہ اور فکری طور پر کمزور ہے۔ اس بیانیہ کے نکات اور تجویز کردہ نسخے خاصے جانے پہچانے ہیں: مزید سکول بناؤ‘ یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ کرو‘ مزید سرکاری سرمایہ تعلیم میں لگا دو۔ تاہم یہ سوچ ایک ناقص مفروضے پر مبنی ہے کہ وہ والدین جو اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجتے غیر عقلی رویے کے حامل ہیں۔ اس کے برعکس میرا ماننا یہ ہے کہ حقیقت میں ان والدین کا طرزِ عمل اپنے سامنے موجود معاشی حقائق اور ترغیبات کے عین مطابق ہے اور ان کا فیصلہ عقلی بنیادوں پر ہے۔ ہمارے ہاں ایک مفروضہ رائج ہو گیا ہے کہ تعلیم ایک ایسی اخلاقی نیکی ہے جس کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا اور اس نیکی کو حالات‘ ترغیبات یا نتائج سے قطع نظر فروغ دینا چاہیے۔ اس کے نتیجہ میں جذبات تجزیے کی جگہ لے لیتے ہیں اور وکالت سمجھ بوجھ کا متبادل بن جاتی ہے۔ بحث اس بات پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ تعلیم پر مزید کتنا خرچ کیا جائے نہ کہ اس سوال پر کہ آیا ہمارا نظام اس خرچ کا جواز بھی فراہم کرتا ہے یا نہیں۔ ہمارے حکمرانوں کیلئے تعلیم کا مقصد اس سے حاصل ہونے والے نتائج نہیں بلکہ ان کے نزدیک سرکاری تعلیمی اداروں کے قیام کا مقصد سرپرستی کو فروغ دینا ہے۔ ایک ایسا ذریعہ جسکے ذریعے انتخابی حلقوں میں اساتذہ اور کم ہنر مند عملے کو نوکریاں دی جاتی ہیں۔ تعلیمی اداروں تک لوگوں کی رسائی کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن ان کے معیار کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نظام ظاہری طور پر پھیلتا ہے مگر اصل روح سے خالی ہوتا جاتا ہے۔
اس سے پہلے کہ عام لوگوں سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ تعلیم پر زیادہ اخراجات کریں یا حکومتوں سے مزید وسائل مختص کرنے کا کہا جائے‘ ایک زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر کوئی شخص تعلیم میں سرمایہ کاری کیوں کرے؟ یہی وہ معاشی سوال ہے جس سے اس موضوع پر گفتگو سے مسلسل گریز کیا جاتا ہے۔ تعلیم میں حقیقی وسائل استعمال ہوتے ہیں بشمول وقت‘ پیسہ اور ایسی رقم جو کسی اور مصرف میں استعمال ہو سکتی ہے۔ ان وسائل کو استعمال کرنے کے بدلے میں سرمایہ کار کو کیا امید دی جاتی ہے: ایک غیر یقینی مستقبل کا منافع۔ تعلیم پر اخراجات ایک سرمایہ کاری ہے۔ ہر سرمایہ کاری کی طرح اس کی قدر متوقع منافع اور لاگت کے تقابل اور موازنہ پر منحصر ہے۔ اس زاویے سے تو پاکستانی لوگوں کا تعلیم پر خرچ نہ کرنے یا کم خرچ کرنے کا رویہ حیران کن نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا عقلی فیصلہ ہے۔ جب سکولوں کا معیار کمزور ہو‘ تعلیمی نتائج ناقص ہوں اور لیبر مارکیٹ مہارت اور تعلیم کو صلہ نہ دے تو تعلیم کا معاشی جواز ختم ہو جاتا ہے۔ کوئی خاندان اپنے بچوں کو صرف اسی صورت سکول بھیجتا ہے جب اسے یقین ہو کہ یہ قربانیاں مستقبل میں معاشی فائدہ پہنچائیں گی۔ جب حصولِ تعلیم کے بعد معاشی فائدہ ہونے کی امید نہ ہو تو خاندان تعلیم پر خرچ کرنے سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اسے جہالت نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ عقلی بنیاد پر معاشی اپروچ ہے۔
پاکستان میں لیبر مارکیٹ سے متعلق متعدد تحقیقی مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم میں سرمایہ کاری پر منافع کی شرح تقریباً پانچ سے سات فیصد کے درمیان ہے جو عالمی معیار سے تقریباً آدھی ہے اور کام کاج شروع کرنے کے ابتدائی درجات میں تو اکثر نہ ہونے کے برابر۔ یہ فرق فیصلہ کن ہے۔ کسی شعبے میں اچھا منافع ہو تو سرمایہ کاری ہوتی رہتی ہے۔ کمزور منافع سرمایہ کاری کو روک دیتا ہے۔ ایک ایسی معیشت جہاں فارغ التحصیل نوجوان بیروزگار ہوں اور روزگار کے امکانات غیر یقینی‘ تو اس صورتحال سے واضح پیغام ملتا ہے کہ تعلیم قابلِ اعتماد طور پر ترقی کا ذریعہ نہیں۔ نوجوان اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ تاہم اس مسئلے کا ایک پہلو اور بھی ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم یافتہ فرد کی صلاحیت اور قابلیت کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ دنیا کے فعال نظاموں میں ڈگریاں قابلیت اور پیداواری صلاحیت کی علامت ہوتی ہیں۔ پاکستان میں یہ علامت کمزور پڑ چکی ہے۔ نتائج کا تعین قابلیت سے کم اور تعلقات سے زیادہ ہوتا ہے۔ بھرتی‘ ترقی اور مواقع تک رسائی مہارت کے بجائے اثر ورسوخ کے نیٹ ورک کے ذریعے طے ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں ڈگری ایک دفتری ضرورت بن جاتی ہے۔ ایک خانے پر نشان لگانے جیسی چیز‘ نہ کہ صلاحیت کا معتبر ثبوت۔اس صورتحال کے نتائج توقع کے مطابق ہیں۔ پہلا‘ اسناد کی بے قدری۔ ڈگریاں بڑھتی جا رہی ہیں مگر ان کی اہمیت گھٹتی جا رہی ہے۔ طلبہ ڈگریاں اس لیے حاصل نہیں کرتے کہ تعلیم سے انعام ملتا ہے بلکہ وہ انتظامی رکاوٹیں عبور کرنے کیلئے درکار ہیں۔ دوسرا‘ ذہانت کا انخلا (Brain drain)۔ جو لوگ واقعی باصلاحیت ہوتے ہیں وہ بیرونِ ملک مارکیٹوں کی طرف چلے جاتے ہیں جہاں ان کی قدر کی جاتی ہے۔ تعلیم ملکی پیداوار میں سرمایہ کاری کے بجائے ایسی حکمت عملی بن گئی ہے جس کے ذریعے ملک چھوڑ کر باہر جایا جا سکے۔ تیسرا نتیجہ لاتعلقی ہے‘ یعنی طلبہ سمجھ جاتے ہیں کہ محنت اور کامیابی کے درمیان کمزور سا تعلق ہے لہٰذا وہ اپنی محنت کم کر دیتے ہیں۔
پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد غالب خواہش سرکاری نوکری ہے۔ غیر یقینی معیشت میں سرکاری ملازمت استحکام‘ مرتبہ اور تحفظ فراہم کرتی ہے۔ لاکھوں افراد محدود اسامیوں کیلئے مقابلہ کرتے ہیں۔ اس میں قابلیت اکثر ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ نتائج کا تعین تعلقات‘ سرپرستی اور سیاسی حمایت سے ہوتا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا زمانہ انتظار کی تیاری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ نظام میں اس بگاڑ کو ریاست نے خود بڑھایا ہے۔ تعلیمی اداروں کو سیکھنے سکھانے کے مراکز کے بجائے روزگار پیدا کرنے کے آلات سمجھ لیا گیا ہے۔ اساتذہ کو حکومت کے ہر قسم کے انتظامی فرائض میں لگا دیا گیا ہے‘ جیسے انتخابات‘ سروے‘ دفتری کام اور سیاسی سرگرمیاں۔ نتیجتاً تعلیمی اداروں کی قیادت اکثر ایسے افراد کے ہاتھ میں ہے جن کا انتخاب علمی کارناموں کے بجائے دفتری سنیارٹی یا سیاسی قربت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ معنی خیز بات یہ ہے کہ پالیسی سازی کیلئے ریاست کا بڑھتا ہوا انحصار غیر ملکی مشیروں اور بین الاقوامی قرض دہندگان پر ہے۔ اس ضمن میں مقامی ماہرین کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ خود ریاست کو بھی اپنے تعلیم یافتہ شہریوں کی سوچنے یا قیادت کرنے کی صلاحیت پر اعتماد نہیں۔ طلبہ ان اشاروں کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ مارکیٹ قابلیت کے بجائے تعلقات کو اہمیت دیتی ہے۔ حکومت تخلیقی صلاحیت کے بجائے وفاداری کو انعام دیتی ہے۔ تعلیمی دنیا فکری کامیابی کے بجائے اقتدار کے قریب ہونے والے کو نوازتی ہے۔ ایسے نظام میں تعلیم نہ اچھا معاشی منافع فراہم کرتی ہے اور نہ حقیقی سماجی احترام۔ ان حالات میں حصولِ تعلیم میں سرمایہ کاری کا کم ہونا حیران کن بات نہیں بلکہ اس صورتحال کا ناگزیر نتیجہ ہے۔
پاکستان کے لیڈر تقریروں میں تعلیم کی اہمیت بیان کرتے رہتے ہیں جبکہ عملی طور پر ایسے اقدامات نہیں کرتے جو حصولِ تعلیم کو قیمتی اور قابلِ قدر بنا سکیں۔ ہماری قیادت تعلیم تک لوگوں کی رسائی بڑھاتی تو ہے مگر قابلیت کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ وہ نظم وضبط کا مطالبہ کرتی ہے مگر خود اقربا پروری پر عمل کرتی ہے۔ وہ ڈگریوں کو اہمیت دیتی ہے لیکن علم کی قدر گھٹا دیتی ہے۔ تعلیم ایک ایسے نظام کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی جو ذاتی سرپرستی پر قائم ہو اور نہ یہ ایک اخلاقی نعرے کے طور پر زندہ رہ سکتی ہے جب تک اسے معاشی طور پر ثمر آور شے نہ تسلیم کیا جائے۔ جب تک مارکیٹ‘ حکومت اور تعلیمی ادارے قابلیت کی بنیاد پر نہیں چلتے‘ تعلیم لوگوں کیلئے ایک کمزور اور غیر یقینی سرمایہ کاری رہے گی‘ گو ریاست کیلئے یہ ایک نعرے کے طور پر ہمیشہ کام کرتی رہے گی۔