مکہ معاہدہ اور خطے کا امن

اسرائیل کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر جب امریکہ نے ایران کے خلاف فضائی حملے اور بحری ناکہ بندیاں شروع کیں تو اس کا خیال تھا کہ ایران کی حکومت سپر پاور کے مقابلے میں چند دنوں سے زیادہ نہیں ٹھہر سکے گی‘ مگر جس طرح سے ایران گزشتہ پانچ ماہ سے امریکہ کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے اور ڈٹ کر کھڑا ہے‘ اس نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ایران نے اپنے داخلی نظام کی جو صف در صف پلاننگ کی ہوئی ہے اسکی کسی کو خبر نہ تھی۔ امریکی اندازہ یہ تھا کہ حکمرانوں کی پہلی صف حملوں کی زد میں آئی تو پیچھے سارا سسٹم ریت کی دیوار ثابت ہو گا مگر ہوا اسکے الٹ! ایران میں ہر درجے کی عسکری وسول قیادت کے متبادل کی کئی صفیں موجود ہیں۔ امریکہ کا یہ بھی اندازہ تھا کہ ایران معاشی پابندیوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گا مگر ایران نے مشکلات کیساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ بقول ایرانی سپیکر باقر قالیباف‘ ہم نے مزاحمت اور دفاعِ وطن کا جذبہ اپنی نئی نسل میں بھی پھونک دیا ہے۔
تازہ ترین منظر نامہ یہ ہے کہ معاشی دباؤ یکطرفہ نہیں دوطرفہ ہے۔ اب امریکہ کو اپنی اور اپنے خلیجی اتحادیوں کی معیشت کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے کویت اور متحدہ عرب امارات تیل اور قطر سے گیس کی ترسیل بند ہے۔ سعودی تیل کی بھی حوثی حملوں کی بنا پر بحیرہ احمر کے راستے برآمد نہایت محدود ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ اس بے مقصد جنگ کو جاری کیوں رکھے ہوئے ہے؟ حقیقت یہ ہے امریکہ تو کمبل کو چھوڑتا ہے مگر اب کمبل امریکہ کو نہیں چھوڑتا۔وقفوں وقفوں سے گزشتہ چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران خلیجی ریاستوں کو پوری شدت سے احساس ہو گیا ہے کہ دہائیوں سے اُن پر تنی ہوئی امریکی دفاعی چھتری وقت آنے پر بیکار ثابت ہوئی ہے۔ ان ریاستوں کو بخوبی معلوم ہو گیا ہے کہ امریکہ ہمارے ملکوں میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع نہیں کر سکا تو ہمارا کیا کرے گا۔ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے برادر عرب ریاستوں پر واضح کر دیا تھا کہ ہمارے حملے اُنکے خلاف نہیں امریکی اڈوں کے خلاف ہیں۔
بدلتے حالات کا اندازہ کرتے ہوئے سعودی عرب نے پاکستان کیساتھ ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ کر لیا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق دونوں ملکوں میں سے کسی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہو گا۔ اسکے علاوہ سعودی عرب نے امریکہ کیساتھ ایک سول نیوکلیئر صلاحیت کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ خطے کے امن کو یقینی بنانے اور علاقے کو بیرونی جارحیت سے محفوظ رکھنے کیلئے پاکستان اور سعودی عرب کی باہمی مشاورت سے باہمی دفاعی معاہدے کو وسعت دینے کا فیصلہ ہوا۔ 7 اگست 2026ء کو مکۃ المکرمہ میں تین ممالک کے سربراہان‘ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم پرنس محمد بن سلمان‘ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط ثبت کیے۔ یقینا یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے میں حرم کی پاسبانی بھی ہے اور عالم اسلام کی نگرانی بھی۔
مکہ معاہدہ کے بارے میں ایک بات خاص طور پر سمجھنے کی ہے کہ یہ کوئی ملٹری بلاک نہیں‘ یہ مجموعی دفاعی صلاحیت میں اضافے اور اعتمادِ باہمی کی ایک دستاویز ہے۔ علاقائی وعالمی دفاع وسیاست کے بارے میں وسیع تر معلومات رکھنے والے بعض حلقوں میں اس طرح کے خدشات پائے جاتے ہیں کہ کہیں پاکستان عربوں کے باہمی جنگی جھگڑوں کا حصہ نہ بن جائے۔ سعودی عرب کیساتھ معاہدہ تھا یا نہیں‘ مگر پاکستان روز اوّل سے سعودی عرب کے دفاع کو اپنا دفاع سمجھتا ہے۔ البتہ پاکستانی حکمرانوں نے ہمیشہ سعودی عرب سے باہر یمن یا کسی اور برادر ملک جا کر سعودی جنگیں لڑنے سے اجتناب کیا ہے۔اگرچہ کسی بھی دفاعی معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی جاتیں مگر گمان غالب ہے کہ معاہدے میں اس پاکستانی مؤقف کا کسی واضح پیرائے میں ذکر ہو گا اور آگے چل کر مکہ معاہدہ علاقائی و عالمی سطح پر ایک اہم معاہدے کے طور پر اپنا مقام منوا لے گا۔ اس معاہدے کے ذریعے اسرائیل کو وہ پیغام چلا گیا ہے جو مدتوں سے دنیا بھر کے مسلمان چاہتے تھے کہ اسے جانا چاہیے۔ اس معاہدے کے ایک ٹھوس عملی حقیقت بن کر سامنے آنے سے اسرائیل کو دو ٹوک سگنل گیا ہے کہ اب ارضِ فلسطین لاوارث نہیں۔ اس اتحادِ ثلاثہ کے بعد گریٹر اسرائیل کے مذموم منصوبے کیلئے غاصب صہیونی ریاست کے بڑھتے ہوئے قدم رک جائیں گے۔امریکہ کی خلیجی خطے میں موجودگی کے دو واضح مقاصد ہیں۔ ایک اسرائیل کی سکیورٹی اور دوسرا پیٹرو ڈالرز۔ اب بدلتی ہوئی صورتحال میں اسرائیل خطے میں اچھا بچہ بن کر رہے‘ یو این کی قراردادوں کے مطابق 1967ء کی سرحدوں پر واپس چلا جائے اور بقائے باہمی کا فلسفہ نیک نیتی سے اپنائے تو ہی اسے عربوں کی طرف سے تحفظ ملے گا۔ اسرائیل نے خطے میں امریکہ کی شہ پا کر اپنی جو چودھراہٹ قائم کر رکھی تھی اب وہ باقی نہیں رہے گی۔
ایران نے اپنا مؤثر دفاع کر کے اور اسرائیل کو دن میں تارے اور راتوں کو میزائلوں کے نظارے دکھا کر بتا دیا ہے کہ اب تمہاری چودھراہٹ کا دور اپنے انجام کو پہنچا۔ اسرائیل کو یقینا معلوم ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ میں سعودی عرب کی دینی ومالی شان و شوکت‘ پاکستان کی ایٹمی قوت اور فوجی صلاحیت ومہارت اور ترکیہ کی جدید ترین ہتھیاروں کی مینو فیکچرنگ اور عالم اسلام کے جذبے شامل ہیں۔ اس عملی دفاعی اتحاد میں جب دیگر ممالک شامل ہوں گے تو اسکی مزید دھاک بیٹھے گی۔ جہاں تک پیٹرو ڈالرز کا تعلق ہے تو امریکہ کو اندازہ ہو گا کہ دنیا کے بہت سے ممالک عربوں سے آئل ڈالرز کے بجائے چینی یوآن سمیت کئی دوسری کرنسیوں میں خریدنے کے خواہشمند ہیں۔ ثابت قدمی کیساتھ آگے بڑھنے اور مشترکہ دفاعی اتحاد کو وسیع تر کرنے کیلئے امریکہ کو اعتماد میں لے کر یہ بات سمجھانا ہو گی کہ یہ اتحاد اسرائیل کے خلاف نہیں۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ٹرمپ نے مکہ معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ البتہ اسرائیل کو اب اپنے انداز و اطوار بدلنا ہوں گے۔ چین بھی یقینا اس معاہدے سے خوش ہو گا بلکہ خاموش سفارتکاری کے اصول پر کاربند اس عظیم دوست کی مشاورت طویل عرصے سے ترتیب پاتے معاہدے میں شامل ہو گی۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ شاید ایران اس معاہدے سے اَپ سیٹ ہو مگر ہماری رائے میں پاکستان نے ایران کو یقینا آگاہ کیا ہو گا۔ پاکستان ہی نہیں‘ سعودی عرب اور ترکیہ نے بھی برادر مسلم ملک کو اعتماد میں لیا ہو گا۔ آج ہمارے خطے کا اہم ترین مسئلہ امریکہ‘ ایران جنگ کا خاتمہ ہے۔ جب امریکہ نے اسرائیل کیساتھ مل کر ایران پر جنگ مسلط کی تھی اس وقت امریکہ کے کچھ اور مقاصد تھے‘ اب ساڑھے پانچ ماہ کی عملی ہزیمت کے بعد امریکی مقاصد تبدیل ہو چکے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ڈونلڈ ٹرمپ کے برعکس‘ سمجھدار اور مفاہمت پسند ہیں‘ اُن کا کہنا ہے کہ امریکہ میں آئل اور گیس کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنا اب ہماری پہلی ترجیح ہے۔ اگر خلیجی تیل کی ترسیل میں موجودہ تعطل برقرار رہتا ہے اور تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس سے سب سے زیادہ نقصان ایشیائی ممالک اور پھر یورپ کو ہو گا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان اور قطر کے ذریعے امریکہ کیساتھ پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے مگر باقاعدہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایران کے دو انتہائی مختصر اور معقول مطالبات ہیں۔ پہلا یہ کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ بند کریں‘ نیز ایران کے منجمد اثاثے بحال کریں۔ پاکستان اور قطر مذاکرات کی کامیابی کیلئے بھاگ دوڑ ایک بار پھر تیز تر کر چکے۔ الحمدللہ پاکستان عالمی سطح پر سرگرم عمل ہے مگر داخلی صورتحال بھی توجہ کی طلبگار ہے۔ بلوچستان میں امن کی مخدوش صورتحال محتاج وضاحت نہیں۔ اپنے عالمی امیج کو برقرار رکھنے کیلئے حکمرانوں کو داخلی استحکام پر فی الفور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...