دخل در معقولات

مناظرہ‘ جو مکالمے سے آغاز ہوا‘ دو بڑوں کے درمیان ہو رہا ہے۔
ایک طرف برادرِ عزیز وجاہت مسعود ہیں۔ منفرد اور سرور آور طرزِ نگارش کے مالک۔ لکھتے ہیں تو تاریخ اور اردو ہی نہیں‘ عالمی ادب بھی دست بستہ‘ سر جھکائے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ابوالفضل کے بھائی فیضی نے اپنے بارے میں فخریہ کہا تھا:
دست و پائی عروسِ معنی را؍ بمدادِ قلم خضاب کنم
وجاہت مسعود بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کیونکہ عروسِ معنی کی حنا بندی کرتے ہیں تو ادب کے طالبعلم اَش اَش کر اٹھتے ہیں۔ ''سہروردی کی سیاست بیتی‘‘ کا ترجمہ ان کا تازہ کارنامہ ہے۔ پاکستان میں اصل تاریخ کو عمداً‘ اِخفا میں رکھا جا رہا ہے۔ شیخ مجیب الرحمان اور سہروردی جیسے سیاستدانوں کی آپ بیتیاں ریکارڈ کی تصحیح کیلئے ناگزیر ہیں۔ وجاہت مسعود جرأت مند صحافی ہیں۔ اس فقیر کا انٹرویو لیا تو سرکاری ٹی وی نے بنگلہ دیش کے قیام کے اصل اسباب انٹرویو سے کاٹ دیے۔ وجاہت مسعود صاحب نے اپنے کالم میں سب کچھ بیان کر ڈالا۔ دوسری طرف راشد محمود لنگڑیال ہیں کہ جن کے جوہر اب کھل رہے ہیں۔ سرکاری غلام گردشوں میں موڑ کاٹ کاٹ کر سامنے والا منظر دھندلا دکھائی دیتاہے۔ حضورِ شاہ‘ کمرِ زرّیں باندھ کر کھڑے رہنے سے صلاحیتیں مایوس ہو کر رخصت ہو جاتی ہیں۔ مگر راشد لنگڑیال ایک نعرۂ مستانہ لگا کر سامنے آئے ہیں کہ بقول رومی:
ہلہ ہُش دار! کہ در شہر دو سہ طرّار اند
کہ بہ تدبیر‘ کُلہ از سرِ مہ بر دارند
ہوشیار! کہ شہر میں دو تین زیرک ایسے بھی ہیں جو تدبیر سے چاند کے سر سے بھی ٹوپی اتار لیں۔
وجاہت مسعود صاحب نے یہ خبر بھی دی ہے کہ لنگڑیال صاحب شاعر بھی ہیں! سبحان اللہ! شاعری اور محصولات کا حساب کتاب! اس فقیر کا شعر ہے:
مری شاعری اور میرا معاش
تو گویا یہ چشمہ چٹانوں میں تھا
لغت پر راشد لنگڑیال کو غیر معمولی دسترس ہے۔ تحریر مشّاقی اور پختہ کاری پر شاہد ہے۔
ہمارے قصبے میں چار بھائی تھے۔ ایک ہیڈ ماسٹر‘ دوسرا بینکار‘ تیسرا کرنل‘ چوتھا بدقسمتی سے چِٹا اَن پڑھ! گدھے پر ریت ڈھوتا تھا۔ نام فتح محمد تھا۔ سب اسے ''پھتّا ریت والا‘‘ کہتے تھے۔ سماجی سطح پر بھائیوں کے ساتھ موازنہ ہوتا تو نظر ہی نہ آتا مگر جب چار بھائیوں اور ایک باپ کے چار بیٹوں کو گنا جاتا تو اسے باقاعدہ شمار کیا جاتا۔ اس سے محاورہ بنا کہ ''پھتّا وچ بھراواں گَتّا‘‘۔ گَتّا گننے کا فعل مجہول ہے‘ یعنی Counted۔ مطلب یہ کہ جب بھائیوں کو گنا جاتا ہے تو پھتا ریت والا بھی ان میں شامل ہوتا ہے۔ اس مناظرے میں اس فقیر کے دخل در معقولات کی بس اتنی ہی اہمیت ہے جتنی برادر شماری میں پھتے کی تھی۔ اس کیلئے بھی پیشگی معذرت!
دونوں زعما کا مناظرہ ایک عجیب دوراہے پر آگیا ہے۔ سخن گسترانہ بات قیام پاکستان پر آ پڑی ہے۔ وجاہت مسعود صاحب نے لکھا ہے کہ ''راشد بھائی کا مقدمہ یہ ہے کہ تقسیم درست تھی‘‘۔ اچھی بات یہ ہے کہ وجاہت صاحب نے اس حقیقت کی تغلیط نہیں کی! وقت ثابت کر چکا ہے کہ تقسیم درست تھی۔ تاہم وجاہت صاحب نے بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار کا موازنہ اُن چند واقعات سے کیا ہے جو پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ پیش آئے۔ یہ موازنہ غیر حقیقی ہے (یہ فقیر ''اقلیت‘‘ کی اصطلاح کو درست نہیں گردانتا مگر کیا کیا جائے سکہ رائج الوقت یہی ہے)۔ بنیادی دلیل اس سلسلے میں یہ ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ جو واقعات ہوئے وہ کسی حکومتی پالیسی کا نتیجہ نہ تھے‘ حکومت اور عوام سب اس نوع کے افسوسناک واقعات کی مذمت کرتے رہے ہیں۔ ایسے واقعات کی پشت پر ہندو دشمنی یا مسیحی دشمنی نہیں ہوتی۔ یہ تو ہجوم گردی کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ اور حکومتوں کی نالائقی!! کہ آج تک لاؤڈ سپیکر کا غلط‘ اشتعال انگیز استعمال نہیں روک سکیں۔ لاؤڈ سپیکر اگر ہجوم اکٹھا کرنے اور مشتعل کرنے کیلئے استعمال ہو تو اس کا ذمہ دار مسجد کے مولوی صاحب کو یا مؤذن کو یا مسجد کمیٹی کے سربراہ کو ٹھہرانا چاہیے اور سزا دینی چاہیے۔ حکومت کو اس ضمن میں واضح قانون بنانا ہو گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی مسلمان بھی اس ہجوم گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں غیر مسلموں کے خلاف کوئی آر ایس ایس ہے نہ بی جے پی! یہاں کوئی امیت شاہ ہے نہ کوئی ادتیا ناتھ!! جناب وجاہت مسعود سے بہتر کون جانتا ہے کہ یو پی‘ جو مسلم آبادی اور مسلم تمدن کا گڑھ ہے‘ ایک پروہت کے ظالمانہ تعصب میں جکڑا ہوا ہے۔ اس نے مسلمانوں کی زندگی جہنم بنا رکھی ہے۔ وہ اُس اجتماع کی صدار ت کر رہا تھا جس میں ایک ہندو نے ہندو نوجوانوں کو ترغیب دی تھی کہ مری ہوئی مسلمان خواتین کی آبرو ریزی کرو۔ ادتیا ناتھ نے اس ترغیب پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ یہ نوجوان ''ہندو یووا واہنی‘‘ نامی تنظیم کا رکن تھا۔ یہ تنظیم خود ادتیا ناتھ نے بنائی ہے۔ پاکستان کے کسی وفاقی یا صوبائی حکمران نے کبھی ہندوئوں کے مارے جانے کو کتے کے مارے جانے سے تشبیہ نہیں دی۔ مودی نے گجرات کے مسلم کُش فسادات کے بعد ایسی ہی بات کی جو پوری دنیا میں مشہور ہوئی۔ ایک سوچی سمجھی سکیم کی رو سے آسام میں مسلمانوں کی شہریت ختم کی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ کئی مسلمانوں کی‘ جو تیس تیس برس بھارتی آرمی میں رہے‘ شہریت کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ 2024ء میں وزیراعظم مودی نے مسلمانوں کو ''گھس بیٹھیا‘‘ (مداخلت کار) کہا اور ہندوؤں سے کہا کہ ''مسلمان تمہاری خوراک‘ تمہاری بیٹیاں اور تمہاری سرزمین چرا رہے ہیں‘‘۔ یو پی کے بی جے پی لیڈر لکشمی کانت باجپائی نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں ننانوے فیصد آبرو ریزی مسلمان کرتے ہیں جو کہ سفید جھوٹ ہے۔ 2021ء میں بی جے پی کے خواتین ونگ نے فیس بک پر لکھا کہ ''مسلمانوں کا ایک ہی علاج ہے‘ ہندو بھائیوں کو چاہیے کہ دس دس آدمیوں پر مشتمل گروپ بنائیں‘ گلیوں میں مسلمانوں کی ماؤں اور بہنوں کی اجتماعی آبرو ریزی کریں اور پھر انہیں بیچ بازار پھانسی دیں تاکہ لوگ دیکھیں‘‘۔ 2021ء میں ہندو انتہا پسندوں نے دو ایپس متعارف کرائیں‘ جن کے نام ہیں ''بُلّی بائی‘‘ اور ''سلّی ڈیلز‘‘۔ ان ایپس پر مسلم خواتین کے فوٹو اور تفصیلات مشتہر کیے گئے تاکہ ان کی نیلامی کی جائے۔ 180 خواتین کو اس جعلی نیلام گھر میں فروخت کیا گیا۔ یہ وہ صحافی‘ آرٹسٹ اور ایکٹوسٹ خواتین تھیں جو مودی کی پالیسیوں کی مخالف تھیں۔
یہ مشتے نمونہ از خروارے ہے۔ بی جے پی کے حکومت میں آنے کے بعد نفرت انگیز تقاریر اور بیانات میں پانچ سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے اثرات بھی اسی حساب سے ہیں۔ گائے کے نام پر بے شمار مسلمانوں کو کچل ڈالا گیا ہے۔ مسلمان ہر شعبۂ زندگی میں حاشیے کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ ملازمتوں میں ان کا حصہ آبادی کے تناسب سے کم ہے‘ از حد کم!! مسلم لڑکیوں کو ملازمت کے حصول کیلئے ہندو نام اپنانے پڑتے ہیں۔ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جب ایک حکومت کی پالیسی ہی یہ ہو گی کہ مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیاجائے اور اس پالیسی کے نفاذ کیلئے تمام حکومتی ذرائع اور سرکاری وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا تو مسلمان کتنی بڑی مصیبت میں گرفتار ہوں گے!! الحمدللہ پاکستان میں آج تک کسی حکومت نے ہندو‘ سکھ اور مسیحی برادریوں کے خلاف معاندانہ پالیسی نہیں بنائی۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے‘ ہجوم گردی اور اشتعال انگیزی کے سبب‘ جہاں غیر مسلموں کو نقصان پہنچا ہے وہاں مسلمان بھی اس کا شکار ہوئے ہیں۔ ہم پاکستانی سوچ بھی نہیں سکتے کہ کسی غیر مسلم پاکستانی کو نقصان پہنچایا جائے!! وہ ہمارے اجتماعی وجود کا حصہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...