ایک دو روز پہلے والے‘ ویک اینڈ پر چند اہلِ علم و دانش احباب نے لاہور میں ہمارے غریب خانے کو رونق بخشی۔ خوب نشست رہی۔ مختلف نقطہ ہائے نظر کو سننے کا موقع ملا مگر ایک نکتے پر اجماعِ احباب تھا۔ وہ نکتہ کیا تھا‘ اس کا ہم کالم کے آخر میں ذکر کریں گے۔
ان احباب میں بعض بڑی یونیورسٹیوں کے نامور اساتذہ‘ ایک اخبار کے ایڈیٹر‘ ممتاز کالم نگار و اینکر اور اکّا دکّا سیاستدان بھی تھے۔ اس دوران میں تو میزبان ہونے کے ناتے ایک اچھا سامع بن کر دانشوروں کی آراء سنتا رہا۔ جہاں اتنے ماہرینِ گفتگو اپنی سخنرانی سے محفل کو خرد افروزی کا درس دے رہے ہوں وہاں کوئی سامع بھی تو ہونا چاہیے۔ سوچا کہ اپنے قارئین کو بھی اس محفل میں شریک کر لیا جائے‘ جس میں عالمی منظر نامے سے لے کر علاقائی امن و امان اور پاکستان کے تشویشناک داخلی حالات پر احباب نے کھل کر گفتگو کی۔ اس محفل کی اچھی بات یہ تھی کہ اہلِ علم نے واقعات پر کم اور اُن کے اسباب اور حل پر زیادہ توجہ دی۔ یو این او کی جنرل اسمبلی کے حوالے سے شرکا ئے مجلس کا اتفاق تھا کہ یہ ادارہ محض ایک سالانہ ڈیبیٹنگ سوسائٹی بن کر رہ گیا ہے۔ جس ملک یا سپر پاور کا دل چاہتا ہے اور اپنے مفادات کی خاطر دوسرے ملک پر چڑھ دوڑتا ہے‘ اور اس لشکر کشی اور بمباری کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ یہ تو اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جب معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پہنچتا ہے تو وہاں حملہ آور یا اس کے حواری ویٹو پاور استعمال کر کے اپنے خلاف قرارداد بھی پاس نہیں ہونے دیتے۔ احباب نے پاکستان کے اس مؤقف کو سراہا کہ سلامتی کونسل میں ویٹو کا طریق کار یکسر ختم ہونا چاہیے تاکہ حق و انصاف سے فیصلے ہو سکیں۔
اہلِ محفل نے پاکستان کی شٹل ڈپلومیسی اور امریکہ اور ایران کو ایک میز پر لانے‘ آپس میں بات چیت کرنے اور اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کروانے کے سارے عمل کی بھی بہت تعریف کی۔ اس وقت دونوں ملکوں کے مذاکرات ڈوب ڈوب کر ابھری ناؤ کا منظر پیش کر رہے ہیں‘ تاہم سب اہلِ فکر و نظر کی یہ رائے تھی کہ پاکستان کو مذاکرات کے عمل سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے اور انہیں کامیاب کرانے کیلئے مزید تگ و دو کرنی چاہیے۔ دوستوں نے یو این او میں وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر کے مندرجات پر بھی گفتگو کی۔ خاص طور پر ان کی تقریر کا یہ نکتہ اہم تھا کہ مکہ دفاعی اتحاد علاقائی امن کا ضامن ہے۔ گفتگو کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان ایران کے ذریعے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کو ختم کرائے۔ اس کے علاوہ احباب کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے توسط سے عرب ممالک اور ایران آپس میں قریب آ رہے تھے۔ اس ضمن میں پاکستان اپنی تگ و دو کو تیز تر کرے۔ یہ بہترین موقع ہے کہ ان ریاستوں کو قائل کیا جائے کہ تم سب کا دفاع باہمی اتفاق و اتحاد میں مضمر ہے۔
تمام شرکائے محفل اس بات پر نہایت آزردہ اور رنجیدہ تھے کہ اسرائیل اہلِ غزہ کی دو اڑھائی برس تک نسل کشی کرتا رہا اور تقریباً دو ارب آبادی والے 57مسلم ممالک اسے روک نہیں سکے۔ دوستوں کا کہنا تھا کہ غزہ کی چوبیس‘ پچیس لاکھ آبادی میں سے تقریباً ایک لاکھ کا قتلِ عام‘ جن میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں‘ نہایت درد ناک اور افسوسناک ہے۔ تقریباً پونے دو لاکھ زخمی ہیں۔ عوامی سطح پر تو سارے یورپ و امریکہ میں صہیونی حکومت اور نیتن یاہو کی قیادت کی سخت مذمت کی جاتی رہی۔ نیتن یاہو کی یو این او جنرل اسمبلی میں حالیہ تقریر کے دوران 77 سے زائد ممالک کے واک آؤٹ سے بھی ثابت ہو گیا کہ اسرائیل کی انسانیت سوز پالیسیوں اور غزہ میں قتلِ عام کو شدید نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اکثر دوستوں کا یہ خیال تھا کہ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو‘ بالخصوص مکہ دفاعی معاہدے کے فورم سے ارضِ فلسطین پر اسرائیلی حملوں اور اس کے غاصبانہ قبضوں کو اپنی ریڈ لائن قرار دینا چاہیے۔عالمی و علاقائی حالات کے تجزیوں کے بعد بات اپنے گھر‘ پاکستان کی طرف مڑ گئی۔ گزشتہ کئی برسوں سے آئے روز خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردانہ اور ظالمانہ وارداتوں پر ہر کوئی شدید دکھ اور کرب محسوس کرتا ہے۔ سکیورٹی فورسز ان وارداتوں کے خاتمے کیلئے مسلح کارروائیاں کر رہی ہیں مگر ابھی تک سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا مکمل طور پر قلع قمع نہیں کیا جا سکا۔ احباب نے گزشتہ چند ہفتوں کے تناظر میں بڑھتے ہوئے سیاسی و معاشی عدم استحکام کا بھی جائزہ لیا۔
اس کے بعد ساری گفتگو اس بات پر مرتکز رہی کہ ہم اس عدم استحکام سے نجات کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ تقریباً دو تین ہفتوں سے وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والے لانگ مارچ کا راستہ روکنے کیلئے اسلام آباد کو کنٹینروں کا شہر بنا دیا ہے۔ دیوارِ چین کی طرح یہاں کنٹینروں کی دیواریں اور فصیلیں جگہ جگہ کھڑی کر دی گئیں تاکہ احتجاج کرنے والے یہاں نہ پہنچ سکیں۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جب حکومتی ایوان بات سننے سے انکار کرتے ہیں تو پھر اظہارِ تمنا و التجا کیلئے سڑکوں اور شاہراہوں پر آنا پڑتا ہے۔ گزشتہ آٹھ دس روز سے حکومت نے پشاور سے اسلام آباد آنے والی موٹر وے اور جی ٹی روڈ دونوں کو بند کر رکھا ہے۔ ایسی ''احتیاطی حکمت عملی‘‘ بھی حیران کن ہے کہ جس کے نفاذ سے عام بندے کی زندگی بھی اجیرن ہو جائے۔ جب دونوں طرف سپلائی کی آمد و رفت رک جاتی ہے تو زندگی کی نبض ڈوبنے لگتی ہے۔ حالات کی اسی سنگینی کے پیش نظر وزیراعظم نے بیرونِ ملک سے ریل کے ذریعے ڈیزل پشاور پہنچانے کی ہدایت جاری کی۔ تاہم تحریک انصاف نے 27ستمبر کا دھرنا ملتوی کر کے چار اکتوبر کو اسلام آباد آنے کی نئی تاریخ دے دی اور خود مذاکرات کی پیشکش کی۔ مگر ایسے ایسے دانشمند وزرا بھی ہیں ‘ جو جلتی پر پانی ڈالنے کے بجائے پٹرول ڈالتے اور کہتے ہیں کہ ہمت ہے تو آؤ لانگ مارچ کرو۔ تبادلۂ خیال کی اس دوستانہ نشست کے خلاصۂ کلام کا اہم ترین نکتہ یہ تھا کہ قدرت نے پاکستان کے شانوں پر ثالثی اور صلح جوئی کی جو ذمہ داری ڈالی ہے اسے کماحقہٗ انجام تک پہنچنا چاہیے۔ غزہ اور دیگر ارضِ فلسطین و لبنان میں لگی ہوئی آگ کو بجھایا جائے۔ اہلِ فلسطین اللہ کے بعد اہلِ پاکستان سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ شہباز شریف نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران جس دل سوزی کے ساتھ غزہ کے شہید بچوں کا ذکر کیا ہے اسے عربی ترجمے کے ساتھ فلسطین کے سرکاری و غیر سرکاری میڈیا میں شیئر کیا جا رہا ہے۔ اہلِ فکر و نظر نے قرضوں پر چلنے والی پاکستانی معیشت پر بھی بے حد تشویش کا اظہار کیا۔ حکمران قرضوں کی مے پر مست ہیں۔ وہ شاہانہ اخراجات کر رہے ہیں۔ پرانی فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں جبکہ نئی قائم نہیں ہو رہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری آ نہیں رہی ملک کے اندر سے ہو نہیں رہی۔ عام آدمی زندہ کیسے ہے‘ یہ کسی کرشمے سے کم نہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان مایوس ہیں کیونکہ حکومت کے پاس ملازمتیں نہیں اور نجی سیکٹر پھیلنے کے بجائے سکڑ رہا ہے۔
معیشت کے پھلنے پھولنے کیلئے سازگار سیاسی فضا اور عدل و انصاف اور قانون کی حکمرانی بنیادی شرائط کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس نشست کے شرکا کی رائے میں حکومت اور تحریک انصاف ضد چھوڑیں‘ بیٹھ کر مذاکرات کریں۔ پہل ہمیشہ ریاست کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کو گورنر راج کا راستہ نہ دکھائے‘ بات بڑھی تو دور تک جائے گی۔ حکومت اَنا کے زعم سے نکلے‘ پی ٹی آئی ہر طرح کے مخمصے کو خیرباد کہے اور کھلے دل کے ساتھ مذاکرات کرے۔ یکبارگی سب کچھ حاصل ہونا ممکن نہیں‘ جب ملاقات ہوگی‘ بات آگے بڑھے گی تو اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں۔ میں نے کالم کے آغاز میں عرض کیا تھا کہ ایک نکتے پر اجماع احباب تھا وہ یہ کہ ''اجتماعی دانش‘‘ سے نکلنے والا حل دیرپا ہوتا ہے اور سب کیلئے قابلِ قبول بھی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments