بات امریکہ‘ ایران جنگ رکوانے کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ جون 2026ء سے شروع ہوئی تھی۔ تب یہی سمجھا جا رہا تھا کہ اگلے چند دنوں میں جنگ کے پھیلتے شعلے ماند پڑ جائیں گے۔ مگر بات بڑھتے بڑھتے بہت بڑھ گئی ہے۔
پہلے سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور عسکری ٹھکانوں کو ایران نے نشانہ بنایا۔ پھر یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کی فضائیہ کے اڈوں کو ہی نہیں انٹرنیشنل ہوائی اڈوں کوبھی نشانہ بنایا۔ نیز باب المندب کے راستے سعودی تیل کی ترسیل بند کر دی۔ اب گزشتہ کئی روز سے سعودی طیارے حوثیوں کے ٹھکانوں اور اُن کے دارالحکومت صنعا پر بمباری کر رہے ہیں۔ سمندر سے اتحادی افواج حوثیوں پر میزائل برسا رہی ہیں۔ حوثیوں کا روزانہ کی بنیاد پر خاصا جانی نقصان ہو رہا ہے‘ اس لیے انہوں نے شہر شہر اور قریہ قریہ پھیلے ہوئے اپنے رابطہ دفاتر کے ذریعے مزید جوانوں کی بھرتی کو تیز تر کر دیا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس دس لاکھ تربیت یافتہ افراد ہیں۔ اُن کے دعوے کے مطابق ان میں سے اکثریت اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہے۔ تازہ خبروں کے مطابق ایک بار پھر حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے بڑھا دیے ہیں۔ اتوار کے روز انہوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہر نجران پر گولے داغے‘ جن سے کئی شہری زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ ایک سعودی ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا۔ ادھر مصری دفاعی کونسل نے فوج سعودی عرب بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس وقت طرح طرح کی خبریں اور افواہیں عالمی و سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ پاکستان اور ایران کا بارڈر بھی بند ہے۔ اتوار کے روز وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور اُن سے خطے کی بدلت ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ یہ ہے وہ منظر نامہ جس کی ہم نے آپ کے سامنے ایک مختصر جھلک پیش کی ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ خوش اسرائیل اور امریکہ ہیں۔ مسلمان آپس میں دست و گریباں ہیں۔ چند سال پیشتر پرانے سرحدی جھگڑوں کے باوجود یمن اور سعودی عرب شیر و شکر تھے‘ اب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آ رہے ہیں۔ ایسی صورتحال پر نیتن یاہو مسرت کے شادیانے بجا رہا ہو گا کہ مسلمان غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال سے بے خبر اپنے جھگڑوں میں مشغول ہیں اور آزادیٔ فلسطین اور بااختیار فلسطینی ریاست کے قیام کے بجائے آپس کی جنگوں اور دشمنیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ سعودی عرب جتنا کمزور ہوگا اتنا ہی جلد وہ کئی دیگر خلیجی ملکوں کی طرح معاہدۂ ابراہیمی کا حصہ بننے پر آمادہ ہو جائے گا۔ صہیونی عناصر یہ تخمینے بھی لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں کہ مسلمانوں کی باہمی آویزش اور چپقلش گریٹر اسرائیل کیلئے اُن کا کام آسان کر دے گی۔ 18 اکتوبر کو نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ جناب اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کے علاوہ مصری وزیر خارجہ سے بھی آن لائن گفتگو کی۔ اگرچہ پوری طرح اندازہ نہیں کہ دونوں وزرائے خارجہ میں کیا بات ہوئی مگر قرین قیاس یہی ہے کہ خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال اور پھیلتی ہوئی جنگ زیر بحث آئی ہو گی۔
سعودی عرب اور حوثیوں کی باہمی آویزش سے بھی بڑھ کر خطے کیلئے جو زیادہ خطرناک بات ہے وہ یہ کہ امریکہ ایک بار پھر ایران پر بھرپور حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی بحری بیڑا بحر ہند کے سمندروں میں ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس وقت پاکستان اور ایران کو مل کر ایک طرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان اور دوسری طرف امریکہ اور ایران کے درمیان مذکرات کامیابی سے ہمکنار کرانے چاہئیں۔ ایران بھی امریکہ کے خطرناک جنگی ارادوں سے بے خبر نہیں۔ ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ ایران اپنے دفاع کیلئے جدید ترین اسلحہ سے‘ پہلے سے کہیں بڑھ کر امریکی حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے۔ ایران اس اسلحے کی بڑی اور بھاری مقدار خود تیار کر رہا ہے اور اسے چلانے کی مکمل استعداد رکھتا ہے۔ ایران کے نو منتخب وزیر دفاع مہر داد اخلاقی نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ جارحیت کی تو بھرپور اور حیران کن جواب دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں نہ قبضہ کرنے کا۔ ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیلئے بھی تیار ہیں مگر کوئی ہمیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر مختلف گروپ مسلکی بنیاد پر پراپیگنڈے کو ہوا دے رہے ہیں‘ علمائے کرام کو چاہیے کہ اتحاد بین المسلمین کو نقصان پہنچانے والی افواہوں اور پوسٹوں کا پوری شدت کے ساتھ رد کریں۔ صہیونیوں جیسے امتِ مسلمہ کے حریف کسی ایک مسلک کے نہیں بلکہ سارے مسلمانوں کے دشمن ہیں۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ رواں سال فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز میں ہی میناب میں بچوں کے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے میں سوا سو سے اوپر نو دمیدہ کلیاں اور بن کھلے پھول ''فرزندانِ تہذیب‘‘ کی درندگی نے مسل دیے تھے۔ ان بچوں کی یاد ایک دن کے لیے بھی ایرانی قوم کے حافظے سے محو نہیں ہوئی۔ ان پھولوں کی تصاویر تہران‘ قم‘ مشہد اور میناب وغیرہ کے پارکوں اور دانش گاہوں کی دیواروں پر آویزاں کی گئی ہیں۔ ننھی بچیوں کی یہ تصاویر ایرانی قوم کے جذبۂ شہادت کی علامت ہیں۔ میناب سکول کی ایک ننھی شہید بیٹی کے بارے میں‘ اس کے والد کی طرف سے ڈاکٹر مراد عادل نے ایک نوحہ لکھا ہے۔ اس نوحے کو جو صاحبِ احساس پڑھتا ہے تڑپ جاتا ہے۔ پاکستان کے ادیب‘ شاعر اور ماہر تعلیم ڈاکٹر زاہد منیر عامر (حال مقیم تہران) نے ان اشعار کا اردو میں ترجمہ کیا ہے‘ جس کے لیے ہم ڈاکٹر صاحب کے ممنون ہیں۔ چند فارسی اشعار کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:
''اے میری پیاری بیٹی! تیری جدائی سے میرا دل چور ہو گیا ہے۔ ایک بار پھر دنیا میں آ! اور آ کر دیکھ کہ تیری جدائی میں تیرے باپ کا کیا حال ہو گیا ہے۔ میری بیٹی! وہ سر جو تیرے ہوتے ہوئے مانند سرو سرفراز اور سربلند تھا اب دیکھ کہ شدتِ غم سے گلِ بنفشہ کی طرح سرنگونی کا شکار ہے۔ (فارسی شاعری میں بنفشہ کا پھول غم و افسردگی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے)۔ بیٹی! مجھے اجازت دو کہ میں تمہیں بتائوں کہ تمہارے بعد میری کیا حالت ہو گئی ہے۔ میں ایک ایسے پرندے کی مانند ہو گیا ہوں جو آسمان کی بلندی پر اڑتے اڑتے اچانک زمین پر آ گرا ہو‘‘۔
غزہ کے ہزاروں شہید بچوں کے زندہ بچ جانے والے والدین بھی اسی طرح تڑپ رہے ہیں۔ اللہ مسلم حکمرانوں کو قوت و شوکت اور باہمی اتحاد دے‘ تاکہ مسلمان بچے یوں شہید نہ ہوں اور اُن کے والدین اُن کی جدائی میں نہ تڑپیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments