ٹرمپ کی شکست، امریکی عوام کی جیت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عبرتناک شکست ایک ایسا نوشتۂ دیوار تھا جسے سب پڑھ رہے تھے سوائے امریکی صدر کے۔ تاہم اَنا پرست امریکی سربراہ کو الیکشن سے ایک روز قبل اپنی شکست نظر آنے لگی تھی۔ اسی لیے انہوں نے کہا کہ امریکہ 2026ء کے اختتام تک اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ چار ارب ڈالر کی فوجی اور مالی امداد بند کر دے گا۔ مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ بقول شاعر: صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا
یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ امریکی ووٹروں نے فی الحقیقت مڈٹرم الیکشن میں ٹرمپ کو ووٹ دینے کی غلطی کو نہ صرف درست کیا بلکہ زبردست سیاسی انقلاب برپا کر دیا۔ پہلے ہم آپ کے سامنے امریکی ایوانوں کا مختصر منظر نامہ پیش کرتے ہیں تاکہ آپ کو مڈٹرم الیکشن سے پہلے اور بعد کی صورتحال کا اندازہ ہو سکے۔ 435 کے ایوانِ نمائندگان میں تادمِ تحریر اعلان کردہ 410 سیٹوں کے نتائج کے مطابق ڈیمو کریٹس کے پاس پہلے 214 سیٹیں تھیں جو اَب بڑھ کر 253 ہو گئی ہیں جبکہ حکمران ریپبلکن پارٹی کی سیٹیں 218 سے کم ہو کر 157 رہ گئی ہیں۔ سینیٹ میں ڈیمو کریٹس کے 47 سینیٹرز تھے جن کی تعداد اَب بڑھ کر 54 ہو گئی ہے اور حکمران جماعت کے پاس 44 سینیٹرز ہیں۔ اسی طرح ڈیمو کریٹس کے پہلے 24 گورنر تھے ‘ اب اُن کی تعداد 28 ہو گئی ہے اور ریپبلکن گورنروں کی تعداد 26 سے کم ہو کر 20 رہ گئی ہے۔ مختصراً یہ کہ ہر ایوان اور سیاست کے ہر میدان میں ڈیمو کریٹس پہلے پیچھے تھے مگر اب بہت آگے نکل چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اتنی بدترین شکست کے یوں تو کئی اسباب ہیں مگر امریکی عوام خوب سمجھتے تھے کہ ٹرمپ نے اپنی من مانی کرتے ہوئے امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر اسرائیل کی غاصبانہ و ظالمانہ ایران جنگ لڑنے کیلئے جھونک دیے ہیں۔ ٹرمپ نے جس طرح سے امریکی عوام کی خون پسینے کی کمائی اس بے مقصد جنگ پر لٹائی اس سے امریکہ میں مہنگائی بے حد بڑھ گئی۔ امریکی عوام اس بات پر بھی شدید غم و غصے میں تھے کہ نیتن یاہو نے غزہ میں بھوک سے بلکتے بچوں کو گولیوں سے چھلنی کیا اور اہلِ فلسطین کی نسل کشی کر کے تقریباً ایک لاکھ اہل غزہ کو شہید کیا۔ یہ انسانیت کی تذلیل تھی۔ اس تذلیل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ برابر کے شریک تھے۔ ٹرمپ نے صرف بیرونِ ملک ہی امریکی عوام کی خواہشات کے برعکس جنگ کے شعلوں کو ہوا نہیں دی بلکہ اندرونِ خانہ بھی مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کیا۔ امیگریشن کے حوالے سے سو فیصد درست دستاویزات رکھنے والے تارکین وطن کے خلاف بھی احکامات جاری کرتے رہے اور دھمکیاں دیتے رہے۔ ٹرمپ کے ان غیر قانونی اقدامات کو وہاں کی آزاد عدلیہ نے مسترد کر دیا تھا۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس متوازن شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے برملا اعتراف کیا ہے کہ ریپبلکن کی اس تاریخی شکست کے چار اسباب تھے۔ سب سے پہلا سبب ایران پر امریکہ کی مسلط کردہ جنگ‘ دوسرا سبب اسرائیل کیلئے امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر کی عسکری امداد اور اس کی بے جا سیاسی حمایت‘ تیسرا مہنگائی اور چوتھا سبب یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام امریکیوں کو ایک نظر سے نہیں دیکھا۔ ٹرمپ نے کبھی نیویارک کے میئر زہران ممدانی کے خلاف بیان بازی کی‘ کبھی مینی سوٹا سے ایوانِ نمائندگان کی مقبول ترین رکن الہان عمر کے خلاف مہم چلائی کہ اسے امریکہ بدر کر دوں گا‘ اور پھر امریکی تاریخ کے پہلے مسلم سینیٹر عبدالرحمن محمد السید کو کبھی جہادی کہا اور کبھی اس کا تعلق اخوان المسلمون سے جوڑا۔ ٹرمپ نے اسے محمد کے نام سے پکارا۔ جب لوگوں نے ٹرمپ کو بتایا کہ اس کا نام عبدالرحمن ہے تو اس پر ٹرمپ نے کہا کہ میں صدر ہوں‘ میں جو چاہوں کہہ سکتا ہوں۔ مگر اسلامی تاریخ سے نابلد اس شخص کو معلوم نہیں کہ جب کسی مسلمان کو ''محمد‘‘ (فداک ابی وامی) کے نام سے پکارا جائے تو اُس کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی اور اعزاز نہیں ہوتا۔
اس مڈٹرم الیکشن میں مسلم امریکیوں کی شاندار کارکردگی کا قدرے تفصیل سے جائزہ لینے سے پہلے ہم ایک اہم نکتے کا یہاں تذکرہ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی سوسائٹی کے بہت سے شعبے تنزل وانحطاط کا شکار ہیں مگر آج بھی امریکہ کا سیاسی وانتخابی نظام بے حد مضبوط ہے۔ کوئی طاقتور سے طاقتور صدر بھی اس نظام میں مداخلت کا تصور نہیں کر سکتا اور نہ ہی ڈیپ سٹیٹ ایسا کرنے کا سوچ سکتی ہے۔ امریکی الیکشن نے ثابت کر دیا کہ امریکی عوام ہی اقتدار کے مالک و مختار ہیں۔ وہ جسے چاہیں اسے محرومِ اقتدار کر دیں۔ بڑی بڑی بڑھکیں مارنے والے صدر ٹرمپ نے بھی اب ووٹرز کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔ نہ کوئی نظریۂ ضرورت اور نہ ہی کسی منتخب عہدیدار کے سامنے کسی کو سرتابی کی مجال اور نہ ہی ووٹنگ مشینوں کی خرابی اور نہ ہی رات دن کے نتائج کا فرق۔ البتہ امریکی عوام کو آئندہ یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ وہ صدر منتخب کرنے سے پہلے کسی مخصوص پارٹی کے ساتھ کسی امیدوار کی وابستگی کے علاوہ‘ اس کی شخصیت کو بھی دیکھیں۔ ایسی شخصیات دنیا بھر میں امریکی امیج کو بہت مجروح کرتی ہیں۔ جارج واشنگٹن‘ ابراہم لنکن اور جان ایف کینیڈی جیسے مثالی صدور کے وطن کیلئے یہ جگ ہنسائی کا باعث بنتی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے اندر ہی نہیں دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کا پرچار کرتے اور مسلمانوں کی توہین کرتے رہے۔ اس پر مسلم حکمران تو خاموش رہے مگر امریکی مسلمانوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے اس زہریلی بیان بازی کا دندان شکن جواب دیا ہے۔ موصوف برطانیہ گئے تو وہاں انہوں نے لندن کے مسلم میئر صادق خان کا مذاق اڑانے کی کوشش کی اور خود مذاق بن گئے۔ اس وقت کے برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے آگے بڑھ کر مسلم میئر کا زبردست دفاع کیا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
2026ء کے مڈٹرم امریکی الیکشن کی سب سے بڑی خبر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کی شکست اور پہلے مسلم سینیٹر عبدالرحمن السید کی فتح ہے۔ امریکی ریاست مشی گن سے 41 سالہ مصری نژاد عبدالرحمن محمد السید کی بحیثیت سینیٹر کامیابی کئی حوالوں سے تاریخ ساز ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ امریکی سینیٹ میں کسی مسلمان کا جانا اس قدر اہمیت کا حامل کیوں ہے؟ امریکی دستور کے مطابق اصل فیصلہ ساز ادارہ ایک سو ممبران پر مشتمل سینیٹ ہے‘ نہ کہ ایوانِ نمائندگان۔ امریکہ کی صہیونی لابی نے ڈیمو کریٹک امیدوار کے مدمقابل مائیک راجرز کیلئے 42 ملین سے 95 ملین ڈالرز کی فنڈ ریزنگ کی۔ ادھر امریکہ بھر کے مسلمانوں نے عبدالرحمن السیّد کیلئے تقریباً 54 ملین ڈالر اکٹھے کیے۔ اس لیے فنڈز کی کمی کا ادھر بھی کوئی مسئلہ نہ تھا۔ عبدالرحمن نے فتح کے بعد بڑا جامع تبصرہ کیا کہ الیکشن مہم کے آغاز پر ہم نے کہا تھا ان شاء اللہ‘ جیت کے بعد ہم کہتے ہیں الحمدللہ ۔ سینیٹر عبدالرحمن ! ماشاء اللہ، ماشاء اللہ۔ ملا جلا کر امریکی مسلمانوں کو 40 سے زائد مختلف وفاقی‘ ریاستی اور مقامی عہدوں پر کامیابی ملی ہے۔ ان میں ایک سینیٹر‘ تقریباً سات ایوان نمائندگان کے ارکان اور 38کے قریب ریاستی اور مقامی حکومتوں کے نمائندے ہیں۔ تقریباً سات پاکستانی نژاد امریکی مسلمانوں کو بھی فتح حاصل ہوئی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بارہا کہا ہے کہ ہماری شکست کا سب سے بڑا سبب ایران کی جنگ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ان کی شکستِ فاش کا سبب ایران جنگ ہے‘ مگر وہ اس بات پر مُصر ہیں کہ انہوں نے ایران پر درست حملہ کیا۔ اگر امریکی عوام کی مرضی‘ سینیٹ و امریکی ایوان نمائندگان کی رائے کے خلاف ویٹو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ پھر ایران پر حملہ کرتے ہیں تو اب کی بار انہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...