لائبہ کی خود کشی میرے لیے دہرا صدمہ ہے۔ ایک تو پاکستان کی نہایت ہونہار بیٹی کی اندوہناک موت اور دوسرا‘ اس کا تعلق انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے تھا‘ جو یونیورسٹی آج بھی میری یادوں اور دعائوں کا حصہ ہے۔ سالہا سال سے ہمارے معاشرے میں ایسی دل دہلا دینے والی خودکشیاں ہوتی آ رہی ہیں۔ ایسے ہر سانحہ کے بعد حکمرانوں کی طرف سے روٹین کے طور پر مجرموں کو کیفرِکردار تک پہنچانے‘ لواحقین سے تعزیت کرنے اور ان کی تھوڑی بہت اشک شوئی کے بعد رات گئی بات گئی والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال خود کشی کرنے والے پریشان حال لوگوں کا کوئی ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے‘ نہ ہی ان سانحات کی وجوہات و اسباب کا تجزیہ ہوتا ہے۔ یہاں نہ تو ان کے تدارک کیلئے کوئی ریسرچ کی جاتی ہے اور نہ ہی اصلاحِ احوال کیلئے کوئی تجاویز منظر عام پر آتی ہیں۔ ہر واقعے کے بعد میڈیا پر شور مچتا ہے‘ حکمران دو چار روز صفِ ماتم بچھاتے اور پھر دیگر کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی خبریں عام ہیں کہ جامعات میں طلبہ بالخصوص طالبات کچھ نفسیاتی پریشانیوں اور جذباتی صدمات کی بنا پر زندگی کا چراغ گل کرنے پر تل جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ گولڈ میڈل کیساتھ بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے والی طالبہ کی افسوسناک موت کا ذمہ دار کون ہے؟
ماہرینِ نفسیات بتاتے ہیں کہ جب کوئی شخص ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے‘ اپنے آپ پر اس کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے‘ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مائوف ہو جاتی ہیں‘ جب اسے گرداب میں ٹامک ٹوٹیاں مارتے ہوئے حدِ نظر پر کوئی کنارہ نظر نہیں آتا تو پھر وہ اپنی جان لینے کے درپے ہو جاتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ طالبہ کی خودکشی کی ذمہ داری ہمارے نظامِ تعلیم پر عائد ہوتی ہے یا ہمارا سماجی نظام اس کا ذمہ دار ہے۔ بہت سے ماہرینِ تعلیم و سیاست کے نزدیک اس کی سب سے بڑی ذمہ داری ہماری حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ روز مرہ لیکچرز اور امتحانات کے علاوہ شاہراہِ حیات پر آگے بڑھنے‘ دنیا کے اعلیٰ تعلیمی مراکز تک آن لائن اپلائی کرنے اور سکالرشپس کے حصول کیلئے دنیا کی اکثر یونیورسٹیوں میں حوصلہ افزائی اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے‘ اسی طرح طلبہ وطالبات کے جذباتی ونفسیاتی مسائل کے حل کیلئے ہمدرد قسم کی ہیلپ لائن اور گائیڈنس کا نظام و اہتمام بھی ہوتا ہے۔ مذکورہ طالبہ کی ٹریجڈی سے تو یہ آشکار ہوتا ہے کہ اس کے خاندان نے اپنی صاحبزادی کے سنہرے تعلیمی سپنوں کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے اپنی ملکیت میں موجود ہر شے کو قربان کر دیا مگر جس طرح اپنے ہدف کے حصول کیلئے اس نے ٹریولنگ ایجنٹس اور تعلیم سے غیر متعلقہ لوگوں کا راستہ اختیار کیا‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے اندر یا باہر کوئی ایسا مؤثر نظام موجود نہ تھا اور نہ ہی ایسی کوئی ہیلپ لائن تھی جو اس کی مدد کرتی۔ اگر عملی تربیت ومعاونت کا کوئی اہتمام ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ اسے کسی اعلیٰ غیر ملکی یونیورسٹی میں داخلے اور سکالرشپ کیلئے کسی ٹریولنگ ایجنٹ یا کنسلٹنٹ کے بجائے آ لائن اپلائی کرنا ہوتا ہے۔
میں نے متعلقہ یونیورسٹی کے حکام سے رابطہ کرنے اور طلبہ و طالبات کی عملی تربیت کے کسی انتظام کی موجودگی کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی‘ شعبہ امورِ طالبات کی ڈائریکٹر صاحبہ کو کال بھی کی اور مسیج بھی مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ شعبہ امور طلبہ کے ڈائریکٹر صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ کچھ دیر بعد کال کریں گے مگر کال نہ آئی۔ یونیورسٹی کے وائس پریذیڈنٹ (اکیڈیمک) کے آفس میں مسیج چھوڑا مگر ان کی طرف سے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ اگرچہ مذکورہ طالبہ تقریباً سال ڈیڑھ سال قبل یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو چکی تھی‘ اس لیے اس کے ساتھ ہونے والے فراڈ سے اس کی مادرِ علمی کا کوئی تعلق نہیں مگر میں یونیورسٹی کے متعلقین سے براہِ راست معلوم کرنا چاہتا تھا کہ وہاں طلبہ وطالبات کی رہنمائی اور نفسیاتی و جذباتی صدمات کی صورت میں ان کی معاونت کا کیا انتظام ہے۔ تاہم خاکسار نے اپنی کوشش سے معلوم کیا کہ یونیورسٹی کی 14000 طالبات کیلئے ایک خاتون ڈائریکٹر اور اسی طرح 15000 طلبہ کیلئے ایک ڈائریکٹر ہے۔ ظاہر ہے کہ ڈائریکٹرز اور ایڈوائزر طلبہ کی اتنی بڑی تعداد کے ساتھ براہِ راست مکالمہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ دیگر سرکاری یونیورسٹیوں کی طرح مذکورہ یونیورسٹی میں بھی ایک طلبہ کونسلنگ سنٹر موجود ہے مگر ان سنٹرز کی حیثیت بالعموم بے روح ڈھانچوں سے بڑھ کر نہیں ہوتی۔
بیرونِ ملک یونیورسٹیوں میں ہی نہیں سکولوں تک میں نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہترین تربیت یافتہ گائیڈز ہوتے ہیں۔ یہ نہایت شفیق و مہربان شخصیات ہوتی ہیں جو سٹوڈنٹس کی رہنمائی کیلئے ہفتہ وار کنسلٹیشن سیشن کے علاوہ ہر وقت قابلِ رسائی ہوتے ہیں۔ طلبہ وطالبات کسی بھی پریشانی میں اپنے ان گائیڈز کے ساتھ بلا جھجک رابطہ کرتے ہیں۔ پاکستان کی چند اعلیٰ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے ہر ڈپارٹمنٹ میں زیادہ سے زیادہ آٹھ دس طلبہ کیلئے ایک پراکٹر ہوتا ہے جو ہفتہ وار میٹنگ میں طلبہ کی رہنمائی کرتا ہے۔ انہیں آگاہ کرتا ہے کہ بیرونِ ملک اعلیٰ دانش گاہوں میں آن لائن اپلائی کیسے کرنا ہے‘ اس کیلئے متعلقہ ڈپارٹمنٹ کے اساتذہ سے تعریفی و سفارشی لیٹرز کے حصول میں مدد کرتے ہیں۔یہ پراکٹرز طلبہ و طالبات کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی پریشانی میں انہیں ضرور ملیں اور رہنمائی حاصل کریں۔ ان اداروں میں سٹوڈنٹ ہیلپ لائن بھی ہوتی ہے۔ اسلامک یونیورسٹی میں دیگر سرکاری یونیورسٹیوں کی طرح شعبہ جاتی سطح پر ٹیٹوریل گروپس (Tutorial Group) کا کوئی انتظام واہتمام نہیں۔
جرمن فلاسفر نطشے اور دیگر کئی اہم فلاسفروں کا کہنا ہے کہ فلسفے کا ایک ہی سنجیدہ اور گمبھیر مسئلہ ہے جس کا نام خودکشی ہے۔ یہ فلسفی یہ سوچتے ہیں کہ زندگی جینے کے قابل ہے یا نہیں۔ ہم اس بحث میں الجھنے کے بجائے اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں کہ دنیا میں زیادہ تر خودکشیاں نفسیاتی وجذباتی الجھنوں کی بنا پر ہوتی ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کا کامیاب تجربہ یہ ہے کہ خودکشی کے رجحات رکھنے والے لوگوں کو خطِ یاس سے شاہراہِ امید پر واپس لانے کیلئے ہمدردی‘ دلجوئی اور مکالمہ اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بالعموم مریض نہیں ہوتے بلکہ کسی وقتی الجھن کا شکار ہو کر زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے چیئرمین جناب ڈاکٹر نیاز احمد ایک صاحبِ علم اور جہاندیدہ شخصیت ہیں۔ انہوں نے دنیا کی بہترین دانش گاہوں سے اکتسابِ فیض کیا اور اب بھی اعلیٰ یونیورسٹیوں کے تعلیمی وتربیتی پروگراموں اور طریقِ کار کے بارے میں تازہ ترین معلومات سے آگاہ رہتے ہیں۔ جناب ڈاکٹر نیاز احمد طلبہ و طالبات کی تعلیمی و نفسیاتی رہنمائی کیلئے ایک مؤثر انتظام ساری یونیورسٹیوں میں رائج کریں۔ ٹیٹوریل گروپس ہر شعبے میں تشکیل دیے جائیں‘ جہاں اساتذہ خانہ پُری نہیں بلکہ حقیقی رہنمائی‘ دلجوئی کا کلچر پروان چڑھائیں۔ طالبہ لائبہ جیسے سانحات کی ذمہ داری کسی ایک یونیورسٹی یا تعلیمی ادارے پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ حقیقت میں ہم سب من حیث الکل اس کے ذمہ دار ہیں۔ جہاں قدم قدم پر فراڈ اور رشوت ستانی کی سرنگیں بچھی ہوئی ہوں وہاں اس طرح کے المیے اور سانحے ہوتے رہیں گے۔ حکومتیں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے بجائے بنیادی اصلاحِ احوال کی طرف بھی کبھی متوجہ ہوں۔ لائبہ جیسے سانحات میں غمگین و رنجور خاندان کیلئے تعزیت و ہمدردی کے الفاظ اپنی معنویت کھو دیتے ہیں‘ تاہم ہماری دعا ہے کہ رب کریم غمزدہ خاندان کو صبرِ جمیل عطا کرے‘ آمین! اللہ لائبہ کی خطائوں کو معاف اور اس کی حسنات کو قبول فرمائے اور اسے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے‘ آمین!
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments