"KDC" (space) message & send to 7575

انتخابی اصلاحات کمیٹی کی اہمیت

انتخابی اصلاحات کمیٹی کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت نے انتخابی اصلاحات کیلئے 30رکنی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ آئندہ انتخابات کو شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کیلئے اپوزیشن کو اعتماد میں لینے اور پارلیمانی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف‘ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو خطوط لکھ کر اراکین کے نام بھجوانے کی درخواست کی ہے۔ ان خطوط کے مطابق وزیراعظم کو بطور قائد ایوان 15اراکین‘ چیئرمین سینیٹ کو 10سینیٹرز اور اپوزیشن لیڈر کو پانچ اراکین قومی اسمبلی کے نام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے۔ نام موصول ہوتے ہی کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی نے انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کیلئے اپنے پانچ ارکان کے نام سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوا دیے ہیں۔پیپلز پارٹی کی جانب سے شازیہ مری‘ قادر پٹیل‘ علی قاسم گیلانی‘ نوابزادہ افتخار اور صادق میمن کو قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کیلئے نامزد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔پارٹی نے اپنے نام بھجوا کر کمیٹی کی تشکیل کے عمل میں باضابطہ پیشرفت کر دی ہے
جولائی 2014ء میں اپوزیشن کے دھرنے اور احتجاجی تحریک کے خاتمے کیلئے اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں 30رکنی انتخابی اصلاحات کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ اسی دوران تحریک انصاف کے 35ارکانِ قومی اسمبلی نے اجتماعی استعفے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کو بھجوا دیے تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 64کی پارلیمانی تشریح کرتے ہوئے ان استعفوں کو منظور کرنے سے گریز کیا اور ملک کو آئینی بحران سے محفوظ رکھا۔ سوائے مخدوم جاوید ہاشمی کے کسی رکن کا استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا اور یہ معاملہ مؤخر کر دیا گیا۔ اس صورتحال کا پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات کمیٹی پر گہرا اثر پڑا اور کمیٹی کی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے مؤخر کرنا پڑی۔ اسی دوران ڈاکٹر طاہر القادری دھرنے سے لاتعلقی اختیار کرکے واپس لاہور چلے گئے۔ عمران خان کے دھرنے کا بھی زور تقریباً ٹوٹ گیا تھا کہ اسی دوران پشاور میں آرمی پبلک سکول کا سانحہ پیش آ گیا۔ سانحہ پشاور کے بعد عمران خان نے اپنا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ بعد ازاں ہم نے انہیں پشاور میں شہدائے اے پی ایس کی تعزیت اور فاتحہ خوانی کی ایک تقریب میں وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ کھانا کھاتے ہوئے بھی دیکھا۔ اس کے بعد تحریک انصاف کے ارکان نے استعفے واپس لے لیے اور اس غیر حاضری کے باوجود قومی اسمبلی سے تمام مراعات حاصل کرکے ایوان میں واپس آ گئے‘ جس پر خواجہ آصف نے جمہوری روایات کے برعکس ان پر تنقید کی۔
تحریک انصاف کے ارکان کی قومی اسمبلی میں واپسی کے بعد انتخابی اصلاحات کمیٹی دوبارہ فعال ہو گئی اور قومی اسمبلی کے ارکان ڈاکٹر عارف علوی‘ شاہ محمود قریشی‘ اعظم سواتی اور شیریں مزاری نے کمیٹی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرکے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔ انتخابی اصلاحات کمیٹی نے اکتوبر 2017ء میں الیکشن ایکٹ 2017ء کی منظوری دی‘ اس میں ایسی متنازع شقیں بھی منظور کی گئیں جن سے مذہبی حلقوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی اور ایک مذہبی جماعت نے 22 دن تک فیض آباد کے راستے بند رکھے۔ بعد ازاں جنرل (ر) فیض حمید کی مداخلت سے متنازع قوانین کی شقیں حذف کر دی گئیں اور اس کے نتیجے میں راجہ ظفرالحق کی رپورٹ کی روشنی میں دو وفاقی وزرا کو مستعفی ہونا پڑا۔ انتخابی اصلاحات کمیٹی نے انتخابی قوانین میں نمایاں تبدیلیاں کرنے کے بجائے 1974ء اور 1976ء کے انتخابی قوانین‘ نیز پرویز مشرف کے جاری کردہ انتخابی قوانین کو یکجا کرکے الیکشن ایکٹ 2017ء تیار کیا‘ جسے 27اکتوبر 2017ء کو پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد جاری کر دیا گیا۔
راقم نے انتخابی امور کے تجربے کی روشنی میںیہ مؤقف اختیار کیا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی نے ایسی اصلاحات نافذ کرنے سے گریز کیا جو اشرافیہ کے مفادات سے متصادم تھیں۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا نے یہ تجاویز انتخابی اصلاحات کمیٹی کو وفاقی سیکرٹری بابر یعقوب فتح محمد کے ذریعے بھجوائیں‘ جنہیں کمیٹی نے مسترد کر دیا۔ میں نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین اسحاق ڈار کو کئی تجاویز بھجوائیں‘ جو اَب بھی کمیٹی کے آرکائیو شعبہ میں موجود ہوں گی‘ لیکن ان سب کو نظرانداز کر دیا گیا۔ کمیٹی کے وائس چیئرمین اور وفاقی وزیر زاہد حامد نے بعد ازاں بتایا کہ ان تجاویز کو زیرِ غور لایا گیا تھا لیکن یہ تمام تجاویز ان کے مفادات کے برعکس تھیں۔ میں نے اپنی تجاویز میں بنگلہ دیش اور بھارت کے انتخابی قوانین کا حوالہ دیا تھا جن کی وجہ سے ان دونوں ممالک میں انتخابات کی غیر جانبداری برقرار رہی۔اب مجوزہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کو چاہیے کہ سابقہ انتخابی اصلاحات کے ریکارڈ کا تحقیقی انداز میں جائزہ لے۔ سردار رضا کی بھجوائی ہوئی سفارشات اور میری تجاویز‘ جو تقریباً دو سو صفحات پر مشتمل ہیں‘ کا جائزہ لے کر پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ میں قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق‘ ایوان کے قائد شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کو ازسرِنو تجاویز بھجوانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
الیکشن ایکٹ 2017ء کی کل 236دفعات میں سے نصف سے زائد ایسی ہیں جو ناقص ہیں اور ملک کے موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اگر اصلاحات کیلئے ایسی شقوں پر نظر ثانی کی جائے تو ملک میں انتخابی نتائج میں ہیرا پھیری کا باب ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے گا اور فارم 45اور 47کی بحث ختم ہو سکتی ہے ۔ انتخابی اصلاحات میں دس کے لگ بھگ ایسی تجاویز شامل ہونی چاہئیں جن سے عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ موجودہ پارلیمانی نظام کے غیر جمہوری طرزِ حکومت کی کمزوریوں کا واحد حل صدارتی نظامِ حکومت اور متناسب طریقۂ نمائندگی میں ہے۔ صدارتی نظام زیادہ جمہوری ہے کیونکہ صدرِ مملکت پوری قوم کے اکثریتی ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے۔ اس نظام میں ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں قانون سازی اور بجٹ کی منظوری تک محدود ہوتی ہیں۔ نیز صدارتی نظام سیاسی استحکام کا ضامن ہے۔ دستورِ پاکستان 1973ء اور ہمارا پارلیمانی نظام انڈین ایکٹ 1935ء کے مطابق پارلیمانی طرز پر بنایا گیا ہے جس کے بارے میںقائداعظم محمد علی جناح نے 11 جولائی 1947ء کے تحریر کردہ ایک نوٹ میں کہا تھا کہ پارلیمانی طرزِ حکومت اب تک صرف انگلستان میں اطمینان بخش رہا ہے اور کہیں نہیں۔ صدارتی طرزِ حکومت پاکستان کیلئے زیادہ موزوں ہے۔اس سے قبل 1941ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا تھا کہ برطانوی پارلیمانی نظام کو اختیار کرنا نہ انڈیا کے مفاد میں ہوگا اور نہ ہی پاکستان کے۔ ہم اپنا صدارتی نظامِ حکومت پر مبنی دستور بنائیں گے۔
ضروری ہے کہ پاکستان میں مضبوط اور دلکش نظام کے قیام کیلئے صدارتی نظامِ حکومت پر غور کرنے کی غرض سے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ تاریخ میں جگہ بنانے کیلئے صرف مزاحمت‘ تصادم اور طویل جدوجہد کافی نہیں ہوتی‘ نتائج بھی اہم ہوتے ہیں۔ مقتدرہ سے ٹکراؤ میں ریاستی نظام اپنی جگہ قائم رہتا ہے لیکن سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی گنجائش‘ کارکنوں اور مستقبل کی سیاست کی قیمت ادا کرتی ہیں۔ قیادت کا اصل امتحان ڈٹ جانے میں نہیں بلکہ حالات کی نزاکت کو سمجھنے‘ درست وقت پر فیصلہ کرنے اور اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنے میں ہے۔ تاریخ ضد اور ہٹ دھرمی کو نہیں‘ بلکہ بصیرت‘ حکمتِ عملی اور نتائج کو یاد رکھتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...