خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف مختلف طبقات میں بٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ایک حلقہ عمران خان کے ہارڈ فینز پر مشتمل ہے جس کے لیے شخصیت پرستی ہی سیاست ہے۔ دوسرا طبقہ بیرونِ ملک بیٹھ کر 'مزاحمت‘ کا بیانیہ چلا رہا ہے۔ تیسرا طبقہ سوشل میڈیا وارفیئر کو ہی سیاسی جدوجہد کا متبادل سمجھتا ہے۔ چوتھا طبقہ روایتی سیاستدانوں کا وہ گروہ ہے جو ہومیو پیتھک سیاست سے باہر نکلنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ پانچواں طبقہ وہ ہے جو اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے جبکہ چھٹا وہ پُراسرار طبقہ ہے جو بیک وقت طاقت کے مختلف مراکز سے رابطے رکھ کر اپنے لیے راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔ اس پارٹی کا اصل بحران یہ ہے کہ جماعت کے اندر مزاحمت کرنے والے بھی ہیں‘ مفادات بچانے والے بھی‘ سوشل میڈیا کے سیاسی بھی اور سیاسی راستہ نکالنے والے بھی مگر ان سب کے درمیان مشترکہ حکمت عملی کا فقدان ہے۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے پہلے‘ جب مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوئے تو اطلاعات کے مطابق‘ بیرسٹر گوہر علی خان نے محسن نقوی سے رابطہ کیا اور ایمرجنسی کو مؤخر کرنے کی درخواست کی۔ ایک موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ کوشش کر کے دیکھ لیں۔ ایمرجنسی لگنے سے پہلے‘ بیرسٹر گوہر پشاور گئے لیکن سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ اپنے ڈرافٹ سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں۔ بعد ازاں جب محسن نقوی نے بیرسٹر گوہر علی خان سے پوچھا کہ کوئی پیشرفت ہوئی ہے؟ تو اس پر بیرسٹر گوہر نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ان کی بات سننے کو تیار نہیں۔ اس کے اگلے ہی دن یعنی 11 اکتوبر کو صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ہو گیا اور 14 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 234 اور 236 کے تحت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے ان صدارتی اقدامات کی منظوری اور آرٹیکل 245 کے تحت افواج کی تعیناتی کی منظوری کی توثیق کر دی گئی۔ تحریک انصاف اس وقت بھی منقسم ہے‘ لہٰذا حتمی فیصلہ کرنے کی کسی میں صلاحیت نہیں۔ ابھی تک لانگ مارچ کی ناکامی کی وجوہات جاننے کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ نہیں ہو سکا اور پارٹی کے کور کمیٹی اجلاس میں بعض ارکان نے سہیل آفریدی کو اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جبکہ کچھ ارکان اس ناکامی کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالتے رہے۔
دوسری جانب سندھ میں ایک نیا تنازع پیدا ہوتا نظر آرہا ہے۔ سندھی مہاجرین‘ ان کے حامی ارکانِ اسمبلی اور بعض قانون دانوں کا ماننا ہے کہ متروکہ ٹرسٹ صرف مندروں اور گوردواروں سے متعلق ہے۔ دراصل ذوالفقار علی بھٹو نے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے مطابق متروکہ زمین کے وسائل مہاجروں کے سوا کسی دوسرے مقصد میں استعمال نہیں ہو سکتے۔ بعد ازاں اس آرڈیننس کو 1975ء میں Evacuee Trust Properties Act کی شکل دی گئی۔ بھٹو نے اس ایکٹ کے ذریعے یہ لازمی قرار دیا کہ ان املاک (ٹرسٹ پول) کو کسی صورت نجی مالکان کو نہیں بیچا جائے گا بلکہ ان کی آمدنی کو صرف اقلیتی برادریوں کے مذہبی مقامات کی نگہداشت اور ان کی فلاح وبہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ نیز اس قانون کے تحت متروکہ وقف املاک سے متعلق تنازعات پر سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کر کے بورڈ کے چیئرمین کو حتمی فیصلے کا اختیار دیا گیا۔ اب اس پروجیکٹ پر بعض سابق وفاقی بیورو کریٹ بڑی تندہی سے کام کر رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ سندھ سے قومی اسمبلی کے بعض ممبران عنقریب ایک پرائیویٹ بل ''رفیوجی ایویکیویٹ ٹرسٹ‘‘ کے نام سے پیش کرنا چاہتے ہیں‘ جس سے صوبے میں ایک نئی قانونی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ غیر مسلموں کے مذہبی مقامات کیلئے وقف کی گئی جائیدادوں کی طرح مہاجرین کے نام پر جو اثاثے تھے‘ وہ مہاجروں کا ہی استحقاق ہیں۔ اس پروجیکٹ کو آگے بڑھانے کیلئے برطانیہ کی انڈین لائبریری سے بھی دستاویزات حاصل کی جا رہی ہیں۔ جلد عالمی قوانین کی روشنی میں مہاجرین کیلئے وقف بورڈ کی تشکیل کا بل پیش کیا جائے گا۔ وقف ٹرسٹ کے حوالے سے نیا بل سامنے آنے پر ہی دیگر تفصیلات سے پردہ اٹھایا جائے گا۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر بٹ نے حکومت کے کرپشن کیسز پر کام کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کی یہ پالیسی نہیں کہ ان معاملات کی تشہیر کی جائے۔ دراصل خیبر پختونحوا میں سنگین صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہونے کے بعد ملک میں رشوت کی آلودگی‘ ترقیاتی فنڈز میں گڑبڑ اور صوبوں کی ناقص کارکردگی کے پیش نظر نیب نے بعض حکومتی ارکان کو گرفت میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے جلد بڑی پیشرفت سامنے آ سکتی ہے۔
اس وقت خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں عالمی معیار کی معدنیات کے ذخائر پر ملک بھر میں نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ قدرت نے پاکستان کو ایسی معدنیات کی دولت سے نواز رکھا ہے جن سے کماحقہ فائدہ اٹھانے سے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ان ذخائر تک رسائی کے لیے حکومت کے پاس چونکہ وسائل کی کمی ہے لہٰذا بین الاقوامی کمپنیوں کی معاونت سے ہی ایسے قیمتی ذخائر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ حجاز کا خطہ بھی بیرونی ممالک کی تکنیکی صلاحیتوں سے ہی تیل کی دولت سے مالا مال ہوا تھا۔ پاکستان کو بھی بین الاقوامی کمپنیوںسے ان ذخائر کو نکالنے کے معاہدات کرنے چاہئیں۔ اٹھارہویں ترمیم میں معدنیات جیسا اہم شعبہ صوبوں کی تحویل میں دے دیا گیا تھا‘ لہٰذا وفاقی حکومت کو معدنیات سے استفادہ کیلئے صوبوں کی رضامندی حاصل کرنا آئینی ضرورت ہے۔ اب وفاقی حکومت کو ایسی قانون سازی کرنا ہو گی جس کی بدولت ایسی واضح پالیسی مرتب کی جا سکے کہ ان معدنیات سے پاکستان کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے اور سعودی عرب‘ قطر اور متحدہ عرب امارات کی طرز پر پاکستان کے عوام تک بھی ان معدنی وسائل کے بھرپور ثمرات پہنچیں۔ یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں یورینیم بھی کافی مقدار ملنے کا امکان ہے۔ یورینیم کے حوالے سے بعض منفی خبروں کی وجہ سے عوام میں تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو باقاعدہ وضاحت جاری کرنی چاہیے۔ ایسے حساس معاملات میں اصولی طور پر اٹامک انرجی کمیشن کو ہی یہ ذمہ داری سونپی جانی چاہیے۔ جیسے1980ء سے 1984ء کے دوران میں ڈیرہ غازی خان سے یورینیم نکالنے کیلئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں ان کی ٹیم نے جانفشانی سے کام کیا تھا۔ پاکستان معدنیات سے بھرپور خطہ ہے۔جون 1947ء میں جب تقسیم ہند کی دستاویزات تیار ہو رہی تھیں تو وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن نے طنزیہ طور پر قائداعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کو ایسا ملک دیا جا رہا ہے جس میں پہاڑوں کے سوا کچھ نہیں۔ اس پر قائداعظم نے تاریخی جملہ کہا تھا کہ قدرت نے ان پہاڑوں کے درمیان ایسی قیمتی دھاتوں کے ذخائر چھپا رکھے ہیں جن کی دریافت سے پاکستان اس خطے کا ایک خوشحال اور اہم ملک بن جائے گا۔ قائداعظم کی پیش گوئی اب پوری ہوتی نظر آ رہی ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ معدنی وسائل کے حوالے سے ایسا بااختیار معدنی کمیشن تشکیل دے جو صوبوں کی معدنیات کی دولت کو قومی تصرف میں لانے میں آسانی پیدا کرے۔ سیاسی جماعتوں کو ایسے حساس معاملات کے بارے میں معاندانہ رویہ اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ 1960ء کی دہائی میں صدر ایوب خان کے دور میں پلاننگ کمیشن نے ان ذخائر کا پتا چلا لیا تھا لیکن وسائل کی کمی اور بین الاقوامی حالات کے پیش نظر ان منصوبوں کو ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اب قدرت نے بیش قیمت معدنیات اور گوادر جیسی بندرگاہ کا تحفہ دے کر پاکستان کو معاشی طور پر خودکفیل بننے کے لیے ایک سنہری موقع عطا کیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments