وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے پر شدید اور سنجیدہ اختلافات موجود تھے۔ ایسی صورتحال میں ہفتے کے روز وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے مابین ایوانِ صدر میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں مختلف آئینی آپشنز پر غور کیا گیا اور اتوار کو وزیراعظم کی ایڈوئس پر صدرِ مملکت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایوانِ صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی شدت سے عوام کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں‘ سرکاری تنصیبات‘ بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے مؤثر تدارک کیلئے مطلوبہ عزم اور اقدامات کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لہٰذا آرٹیکل 232(1) اور آرٹیکل 234(1) کے تحت صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض امور اپنے اختیار میں لینے کی ہدایت دے سکے گی۔ اعلامیہ کے مطابق صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبے کے دیگر اداروں اور حکام کے تمام یا بعض اختیارات بھی وفاق کی ہدایت پر گورنر استعمال کر سکیں گے۔ وزیراعلیٰ‘ صوبائی وزرا‘ مشیران‘ معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدے فوری طور پر چھوڑ دیں گے۔ آئین کا آرٹیکل 232(1) ایمرجنسی سے متعلق ہے جبکہ آرٹیکل 234(1) میں گورنر راج کا ذکر ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ان دونوں کا اطلاق کیا گیا ہے۔ صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کیلئے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی ضرورت ہوتی ہے تاہم صدر کی جانب سے اس کا اطلاق ہو تو دس دن کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اس کی منظوری لازمی ہے۔ وفاقی کابینہ سے تو اس کی توثیق کرا لی گئی ہے ‘ رواں ہفتے کے دوران قومی اسمبلی اور سینیٹ سے بھی اس کی توثیق کرا لی جائے گی۔
پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ معیشت پہلے ہی قرضوں‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ مہنگی توانائی اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں مسلسل سیاسی بے چینی کے اثرات صرف ایوانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ صنعت‘ تجارت اور عام آدمی کی زندگی تک بھی پہنچتے ہیں۔ دیکھا جائے تو اس وقت پوری دنیا ہی غیر معمولی حالات سے گزر رہی ہے۔ بھارت سمیت یورپ کے کئی ملکوں میں احتجاج ہو رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی‘ روس اور یوکرین کی جنگ کے اثرات‘ توانائی کا عالمی بحران‘ عالمی تجارت میں تبدیلیاں اور بڑی طاقتوں کی بڑھتی جیو پولیٹکل کشیدگی نے ترقی پذیر ممالک کیلئے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان کیلئے داخلی سیاسی استحکام محض ایک سیاسی خواہش نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان کی صورتحال سے نبرد آزما ہے۔ بھارت کے ساتھ بھی پیچیدہ تعلقات کا سامنا ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاشی معاملات بھی جاری ہیں۔ ان تمام معاملات کیلئے ایسا داخلی ماحول ضروری ہے جہاں حکومت اپنی پالیسیوں پر توجہ دے سکے اور سیاسی بحران ہر وقت قومی ایجنڈے پر غالب نہ رہے۔ موجودہ حالات میں مسئلہ احتجاج اور حکومت کے درمیان انتخاب کا نہیں بلکہ دونوں کے درمیان ایک قابلِ عمل توازن پیدا کرنے کا ہے۔اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں تصادم کی جو صورتحال سامنے آ رہی ہے وہ تشویشناک ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک‘ پانچ ہزار زخمی جبکہ دو لاکھ کے قریب بے گھر ہو چکے ہیں۔ سعودی ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں سے سعودی عرب بھی غیر یقینی صورتحال سے نبرد آزما ہے اور معاہدہ مکہ سے متعلق ہنگامی اجلاس میں اس معاہدے کو فوری طور پر فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اس کے تحت ترکیہ اور پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو انٹیلی جنس معلومات دی جا رہی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ احمد شریف چوہدری کے بیان کے مطابق پاکستان کی افواج دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور پاکستان کے فوجی دستے عشروں سے سعودی عرب کے اہم جگہوں پر تعینات ہیں۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے 1973ء سے موجود ہیں۔ اس وقت تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ یمن لڑائی میں شدت اور حوثیوں کے ریاض اور عدن کے ہوائی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملوں سے سعودی مملکت کو شدید دبائو کا سامنا ہے۔ اگر خلیج کی صورتحال مزید سنگین ہوتی ہے یا طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان میں بھی پڑیں گے۔ اگر پاکستان اپنے داخلی سیاسی بحرانوں سے نبرد آزما ہوا تو بیرونی چیلنجز کا سامنا کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
اگر وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے معاملے میں کچھ صبر کا مظاہرہ کرتی تو شاید گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی ضرورت پیش نہ آتی کیونکہ سہیل آفریدی پہلے ہی نااہلیت کی زد میں تھے۔ عمر ایوب خان کی سزا کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان کی خالی کردہ نشست پر جب ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کیا تو عمر ایوب خان کی اہلیہ نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مدمقابل پاکستان مسلم لیگ (ن) کا امیدوار تھا۔ سیاسی طور پر عمر ایوب خان کی اہلیہ کی پوزیشن مضبوط تھی اور صوبے کے ممتاز سیاسی گھرانوں سے ان کی گہری رشتہ داری تھی۔ سہیل آفریدی نے بطور وزیراعلیٰ ان کے جلسے میں شرکت کی جس کی بنا پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 233 کے مطابق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ان کو نوٹس جاری کر دیا۔ سہیل آفریدی نے احکامات کو نظرانداز کیا اور جب الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا تو سہیل آفریدی نے پشاور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کے نوٹس کو چیلنج کر دیا‘ 7 اکتوبر کو پشاور ہائیکورٹ نے سہیل آفریدی کی اپیل خارج کر دی اور الیکشن کمیشن کے موقف کی توثیق کی۔ اب الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کو طلب کرنے کے لیے دوبارہ نوٹس جاری کر رکھے ہیں اور الیکشن ایکٹ کی دفعہ 234 کی ذیلی دفعہ 4 کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس سہیل آفریدی کو نااہل کرنے کے قانونی اختیارات ہیں۔ بادی النظر میں سہیل آفریدی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کرپٹ پریکٹس کے زمرے میں آ چکے ہیں اور الیکشن کمیشن ان کو نااہل قرار دینے کی پوزیشن میں ہے۔ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 232 کے تحت مزید کارروائی کرتے ہوئے ان کو تاحیات نااہل بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر سہیل آفریدی کو الیکشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نااہل قرار دیا جاتا تو پھر صوبائی اسمبلی کے ارکان نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب کرتے جس سے شاید سیاسی بحران ٹل جاتا۔ اگر حکومت الیکشن کمیشن کے فیصلے کا انتظار کرتی تو شاید گورنر راج اور ایمرجنسی کی نوبت ہی نہ آتی۔ اب وفاقی حکومت نے اپنا کارڈ کھیل لیا ہے مگر اس کے مسائل ابھی کم نہیں ہوئے۔ ایک طرف خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا ہے تو دوسری طرف بھارت آزاد کشمیر میں حالات خراب کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اب اگر کوئی بڑی احتجاج لہر اٹھتی ہے تو معاملات وفاقی حکومت کے ہاتھ سے نکل بھی سکتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments