الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات جلد از جلد منعقد کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق جن اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں وہاں بلدیاتی انتخابات ہوں گے جبکہ ایمرجنسی والے اضلاع میں بلدیاتی انتخابات مؤخر کر دیے گئے ہیں کیونکہ ان اضلاع میں امن وامان کی صورتحال کے پیشِ نظر الیکشن کا فوری انعقاد ممکن نظر نہیں آتا۔ تاہم باقی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے الیکشن کمیشن جلد شیڈول جاری کرے گا۔
الیکشن کمیشن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بھی پُرعزم ہے اور حکومت پنجاب بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے الیکشن کمیشن سے تعاون کا اعادہ کر چکی ہے۔ صوبائی حکومت واضح کر چکی ہے کہ جب بھی الیکشن کمیشن انتخابات کرانے کا حکم دے گا صوبائی حکومت اس کے مطابق انتخابات کرانے میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گی۔ بظاہر یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ پنجاب کے عوام کئی برسوں سے منتخب مقامی حکومتوں سے محروم ہیں۔ پنجاب میں آخری مقامی حکومتیں 31 دسمبر 2021ء کو ختم ہوئی تھیں‘ اس کے بعد مقامی حکومتوں کے بغیر ہی کام چلتا رہا۔ الیکشن کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019ء سے 2024ء کے دوران پنجاب کی حکومتوں نے مقامی حکومتوں سے متعلق قوانین پانچ مرتبہ تبدیل کیے۔ الیکشن کمیشن نے تین مرتبہ حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کیا اور انتخابی گروپوں کا اندراج بھی کیا مگر ہر مرتبہ جب انتخابات کی تیاری آخری مرحلے میں پہنچتی تو قانون میں تبدیلی کے باعث پہلے سے کیا گیا عمل بے اثر ہو جاتا رہا۔ 2025ء میں بھی الیکشن کمیشن نے دسمبر میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا شیڈول جاری کیا تھا مگر پنجاب حکومت کی درخواست پر مقامی حکومت کے قانون کے تناظر میں انتخابی عمل میں تبدیلی کر دی گئی۔ 2026ء کے آغاز میں الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کی طرف سے مختلف انتظامی اور قانونی مراحل مقررہ وقت پر مکمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ تاہم اب کی بار صورتحال پہلے سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ پنجاب حکومت نے بجٹ میں بلدیاتی انتخابات کیلئے فنڈز مختص کر رکھے ہیں اور اگست میں الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت کے درمیان 15 دسمبر 2026ء سے 15 جنوری 2027ء کے درمیان انتخابات کرانے پر اتفاق ہوا تھا۔ اس کے بعد پنجاب حکومت نے دسمبر اور جنوری میں دھند اور دیگر مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابات اپریل 2027ء تک مؤخر کرنے کی تجویز دی جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا اور فوری طور پر انتخابی شیڈول جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب الیکشن کمیشن کی طرف سے پنجاب اور کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات کے معاملات پر متعلقہ اعلیٰ حکام کو نوٹس جاری کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن اس مرتبہ اس معاملے کو مزید التوا میں ڈالنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے 14 دسمبر کی تاریخ تجویز کی ہے۔ اگر حکومت پنجاب دسمبر میں بلدیاتی الیکشن کرانے کیلئے تیار ہو جاتی ہے تو دسمبر پنجاب کے عوام کے لیے محض ایک انتخابی مہینہ نہیں بلکہ تقریباًپانچ سالہ بلدیاتی خلا کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ پنجاب حکومت آئین کے آرٹیکل 32 اور 140(اے) کی مسلسل خلاف ورزی کرتی چلی آ رہی ہے اور چیف الیکشن کمشنر بھی بار بار عندیہ دے چکے ہیں کہ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت بلدیاتی اداروں کے انتخابات کیلئے سنجیدہ نہیں۔ صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو اپنے سیاسی اختیار کیلئے خطرہ سمجھتی ہیںلیکن بلدیاتی انتخابات صرف مقامی نمائندے منتخب کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ جمہوریت کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔
اُدھر گلگت بلتستان میں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات دو مراحل میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 5 دسمبر کو سکردو‘ چلاس اور گلگت کے شہری (اربن) علاقوں میں میونسپل کارپوریشن کیلئے پولنگ ہوگی جبکہ دیگر سات اضلاع میں میونسپل کمیٹیوں‘ ضلع کونسلوں اور یونین کونسلوں کے انتخابات دوسرے مرحلے میں اپریل 2027ء میں ہوں گے۔ یہ انتخابی شیڈول 24 اکتوبر کو جاری کیا گیا ہے۔ الیکشن ترمیمی ایکٹ 2026ء کے مطابق اب چار لوکل گورنمنٹ ہوں گی: تین میونسپل کارپوریشنز‘ دس ضلع کونسلیں‘ ایک میونسپل کمیٹی اور ایک ہزار کے لگ بھگ یونین کونسلیں۔ انتخابات ملٹی ممبر وارڈ سسٹم پر ہوں گے اور آزاد امیدواروں کو بھی قانوناً اجازت ہوگی کہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں۔ادھراسلام آباد میں اس وقت 2015ء کابلدیاتی قانون رائج ہے جس کے تحت حلقہ بندیاں مختلف تھیں اور قواعد بھی مختلف تھے۔ بعد ازاں وفاقی حکومت نے ایک آرڈیننس جاری کرکے اس میں ترمیم کر دی۔ اب وہ آرڈیننس مدت ختم ہونے کی بنیاد پر غیر مؤثر ہو گیا ہے تو 2015ء کا اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ بحال ہو گیا ہے جس کے تحت انتخابات ہوں گے۔
دوسری جانب ملک میں بڑھتی کرپشن پر بات کریں تو بلاشبہ غربت کرپشن کا باعث بنتی ہے‘ لیکن وطنِ عزیز میں صرف غربت ہی کو کرپشن کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا‘ کرپشن کا اصل محرک حرص ہے۔ اسی حرص نے امیر سے امیر تر بننے کی خواہش میں کئی صاحبِ اقتدار شخصیات کو ملک کا خزانہ لوٹنے اور اپنے بینک بیلنس بڑھانے کی طرف مائل کیا‘ پھر بدعنوانی کے جرم میں سزا کا ڈر نہ ہونے نے اس ناسور میں مزید اضافہ کیا۔ کتنے بدعنوان قانونی سقم کے سبب عدالتی پراسیس سے گزر کر نیک نام ہو چکے ہیں۔ ہمارے ہاں عدالت یا جیل کا چکر نئے سرے سے لوٹ مار کرنے کا پرمٹ دے دیتا ہے۔ اس وقت ملک میں مالدار طبقہ محترم ہے‘ خواہ مال کیسے ہی بنایا گیا ہو۔ وہ ایماندار شخص جو صبح سے شام تک مشکل سے دو وقتی کی روٹی کا خرچ کما پاتا ہے‘ اسے نالائق اور بزدل سمجھا جاتا ہے۔ یہ ماحول اور اندازِ فکر کرپٹ لوگوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ اگر ایک طرف غربت کرپشن کی طرف مائل کرتی ہے تو دوسری طرف یہی کرپشن غریب کی زندگی کو مزید مشکل اور اجیرن بنا دیتی ہے۔ کرپشن سے مجبور سرکاری ملازمین قدم قدم پر رشوت طلب کرکے جائز کاموں میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں جبکہ ناجائز منافع خور تاجر نفع کمانے کے چکر میں دوسروں کی جیبیں کاٹتے اور ملاوٹ شدہ چیزوں سے ان کی صحت خراب کر دیتے ہیں۔ فعال پارلیمنٹ‘ آزاد میڈیا‘ نظام انصاف میں بہتر لوگوں کی تعیناتی اور معاشرے میں آگاہی وہ عناصر ہیں جن کے ذریعے کرپشن کی روک تھام ممکن ہے۔
پس نوشت: 1993ء سے 1996ء تک پاکستانی فوج کے سربراہ رہنے والے جنرل عبدالوحید کاکڑ 26 اکتوبر کی صبح 89 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ جنرل وحید کاکڑ تحریکِ پاکستان کے ممتاز رہنما اور قائداعظم محمد علی جناح کے دستِ راست سردار عبدالرب نشتر کے بھانجے تھے اور صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کے نمایاں سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی قل خوانی کی تقریب27 اکتوبر کو ان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی جس میں سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت راولپنڈی میں مقیم تمام سابق ریٹائرڈ جنرلز‘ لیفٹیننٹ جنرلز اور میجر جنرلز شریک ہوئے۔ اس دوران جنرل (ر)قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات ہوئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments