گزشتہ کئی مہینوں سے ''دوستی‘‘ کے بارے ہارورڈ یونیورسٹی سے جاری کردہ ایک تحقیقی مقالے کا دنیا بھر میں بہت چرچا ہے۔ ''دوستی‘‘ کی جس اہمیت کا سالہا سال کی تحقیق کے بعد ہارورڈ کے پروفیسر کو اندازہ ہوا ہے اس کا کئی دہائیوں پہلے ہر دلعزیز پنجابی شاعر میاں محمد بخش‘ جو دل لگتی بات کہنے کی شہرت رکھتے ہیں‘ کو ادراک ہو چکا تھا۔ فرماتے ہیں:
اُچی جائی نیوں لگایا، بنڑی مصیبت بھاری
یاراں باجھ محمد بخشا کون کرے غمخواری
ربّا تُو بیلی تے سب جگ بیلی اَن بیلی وی بیلی
سجناں باجھ محمد بخشا سنجی پئی حویلی
ان اشعار کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ کسی بڑے آدمی سے دوستی لگائی تو اس کے تقاضے نبھاتے ہوئے مصیبت بنی۔ دوستوں کے بغیر کوئی غمخواری نہیں کرتا۔ میرے مولا! اگر تیرا ساتھ ہو تو پھر سارا جگ ساتھ ہوتا ہے دوستوں کے بغیر حویلی اداس و ویران پڑی ہے۔
ہارورڈ کے پروفیسر موصوف کی تحقیق کی طرف آنے سے پہلے میاں صاحب کے بیان کردہ لفظ غمخواری سے راہورِ تخیل نے اپنا رخ مرزا اسد اللہ غالب کی طرف کر لیا ہے۔ کوئی نہ کوئی نکتہ آفرینی کیے بغیر غالب سیدھی سادی بات تو کرتے نہیں۔ دوستی کے وہ بھی بڑے طرفدار ہیں مگر کچھ شرائط کے ساتھ۔ کہتے ہیں:
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسار ہوتا
جب جولائی 2026ء میں ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ کے ''بزنس ریویو‘‘ میں یہ تحقیقی مضمون شائع ہوا تو مجھے بوسٹن میں مقیم ایک دوست انجینئر قاضی خالد نے تازہ بتازہ بھیج دیا تھا۔ آج سے کوئی دو اڑھائی دہائیاں قبل ہم اور قاضی صاحب طائف میں مقیم تھے۔ قاضی صاحب سندھی ہیں۔ سیاسی افکار میں اختلافات کے باوجود ہماری دوستی اسی طرح سر سبز و شاداب ہے۔ ہاں یاد آیا! انہی دنوں قاضی صاحب کی دعوت پر جدہ کے پاکستانی قونصل خانے سے ایک نوجوان سفارتکار بھی طائف آئے تھے۔ عبیدالرحمن نظامانی صاحب اپنی شرعی وضع قطع کے ساتھ ساتھ نہایت شگفتہ طبیعت کے مالک ہیں۔ ان دنوں وہ افغانستان میں پاکستان کے سفیر ہیں۔ جب نوجوان عبیدالرحمن نظامانی طائف آئے تھے تو انہوں نے دوستی کے بارے سندھی زبان کا ایک خوبصورت شعر سنایا تھا۔ سندھی متن تو میں بھول گیا ہوں؛ البتہ مفہوم یہ تھا کہ اے دوست! میرے اور تمہارے گھر قریب قریب تھے مگر اب کچھ دنوں سے لگتا ہے کہ بہت دور ہو گئے ہیں۔
خیر اب چلتے ہیں ہارورڈ کے دوستی کے بارے میں مضمون کی طرف جس کا عنوان ہے: Friendship Recession (دوستی کا بحران)۔ فاضل مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بالعموم اور امریکہ میں بالخصوص باہمی دوستی کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس مضمون کے مطابق 1990ء سے لے کر اب تک امریکہ میں ایسے لوگوں کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ میرا کوئی مخلص دوست نہیں۔ اسی طرح جن لوگوں کے دوستوں کی تعداد دس تک ہوا کرتی تھی اب گھٹ کر صرف ایک تہائی رہ گئی ہے۔ فاضل پروفیسر کا کہنا ہے کہ یہی صورتحال بھارت میں بھی ہے۔ وہاں کے شہروں میں واقف کار تو بہت ہوتے ہیں مگر کوئی سچا دوست نہیں ملتا۔ مضمون نگار کا کہنا یہ ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ جب امریکہ کے چائے خانوں‘ کلبوں اور تقریبات میں لوگ بے تکلف ایک دوسرے سے بات چیت کر لیتے اور نئی نئی دوستیاں بنایا کرتے تھے مگر اب لوگ ہجوم میں بھی تنہا ہوتے ہیں۔ اس تحقیقی رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اب امریکہ میں تنہا کھانا کھانے والوں کی تعداد میں 29 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکہ کی ایک اور شہرت یافتہ یونیورسٹی سٹینفورڈ فرینڈ شپ پر باقاعدہ ایک کورس کروا رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی عمر کے لوگوں کے لیے پرانی دوستیوں کو برقرار رکھنا محض ایک معاشرتی ہی نہیں بلکہ طبی و ثقافتی ضرورت بھی ہے۔ ڈھلتی عمر میں دوستوں کے لیے وقت نکالنا ایک لگژری نہیں‘ ضروری تقاضا ہے۔ دوستی کی اہمیت اجاگر کرنے والے ریسرچ سکالر کا کہنا ہے کہ اگر ہم دوستی کی قدر نہیں کریں گے تو ہم نہ صرف نئے بلکہ پرانے دوستوں سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ ہارورڈ کی اس تحقیق کے مطابق تنہائی صرف ایک معاشرتی و ذہنی کرب نہیں بلکہ مختلف جسمانی عارضوں کا باعث بھی بنتی ہے۔ ان عوارض میں دل کے امراض اور مرضِ نسیان بھی شامل ہیں۔ مضمون نگار تو تنہائی سے بہت ڈرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تو یہ ہے کہ یہ زہرِ قاتل ہے۔ علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ
مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میری
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو
علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ تن تنہا چھوٹے سے جھونپڑے کی خواہش محض ایک ''شاعرانہ آرزو‘‘ ہے۔ وگرنہ تنہائی جیل کی کوٹھڑی میں ہو یا دامنِ کوہ میں‘ نہایت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ مشرق ہو یا مغرب‘ دوستی کو ایک بہت ہی مقدس رشتہ سمجھا جاتا رہا۔ انگریزی شاعری کی رومانٹک ایج میں ورڈز ورتھ اور کالرج کی دوستی کی بہت شہرت تھی۔ ان دونوں کی شاعری کا ایک مشترکہ مجموعہ بھی شائع ہوا تھا۔ کالم کی تنگ دامانی کے باعث اردو ادب سے محض ایک ہی مثال پر اکتفا کروں گا۔ مرزا غالب اور نواب مصطفی خان شیفتہ کے تعلقات گہری دوستی اور احترام پر مبنی تھے۔ شیفتہ خود بہت بڑے نقاد اور شاعر تھے‘ وہ غالب کے کلام کے سچے قدر دان تھے۔ قدیم چینی ادبی کلچر میں چائے کے ادوار اور دوستوں کی محفلوں کا بہت تذکرہ ملتا ہے۔ خاکسار اس لحاظ سے بہت خوش قسمت رہا کہ زمانۂ سکول سے لے کر کالج و یونیورسٹی‘ پھر سعودی عرب سے واپسی پر مجھے پاکستان کے شہر اقتدار اسلام آباد میں بھی کئی مخلص دوستوں کی رفاقت نصیب ہوئی کہ جس کے بارے میں سبھی کہتے ہیں کہ وہ کم ہی کسی سے وفا کرتا ہے۔ نئے دوستوں کے علاوہ پرانے دوستوں سے بھی محبت و احترام کا رشتہ بدستور قائم ہے۔ وہی پرانے دوست کہ جن کے بارے میں استاد ابراہیم ذوق نے کہا تھا:
اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے
یقینا دوست وہی ہوتا ہے کہ جو در پریشاں حالی و درماندگی دوست کا ہاتھ تھامتا ہے۔ جناب ماہر القادری نہایت ہی قادر الکلام شاعر اور خوبصورت نثر نگار تھے۔ وہ 1906ء میں اس دنیا میں وارد ہوئے اور 1978ء میں جدہ کے ایک مشاعرے میں اپنا کلام سناتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ایسا حسنِ خاتمہ بڑے نصیب والے لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ وہ مکۃ المکرمہ کے جنت المعلیٰ قبرستان میں دفن ہوئے۔ دیکھیے سبھی دوستوں سے وفا اور دکھ سکھ میں ساتھ ساتھ کھڑا رہنے کے تمنا کرتے ہیں مگر ماہر القادری نے کیا منفرد بات کہی ہے اور دوستی کو سود و زیاں سے ماورا قرار دیاہے۔ شعر ملاحظہ کیجئے:
عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے
دل یہ کہتا ہے فریبِ دوست کھاتے جائیے
بہرحال ہم ہارورڈ کے فاضل مضمون نگار کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے سوشل میڈیا کے فریب میں گرفتار دنیا کے سامنے ایک بار پھر دوستی کی اہمیت و ضرورت کو بخوبی اُجاگر کیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments