"IAS" (space) message & send to 7575

مہنگائی کا طوفان اور بے حس حکمران

پاکستان میں عام آدمی کے لیے مہنگائی کے عذاب کی شدت بڑھتی جا رہی ہے جبکہ حکمرانوں کی لوٹ مار اور عیاشیاں کم نہیں ہو رہیں۔ بجلی‘ گیس اورپٹرول کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں اور اس میں اب بھی بہت اضافہ ہونے کا امکان موجودہے۔ حکمران طبقات عوام کو فروعی لڑائیوں میں الجھائے رکھنا چاہتے ہیں اور پوری قوت سے نان ایشوز کو سماج پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ اس کے باوجود زندگی کی حقیقتیں ہر روزعام آدمی کو ڈستی اور انہیں موت کے منہ میں دھکیلتی چلی جا رہی ہیں۔
موجودہ حکومت انہی افراد پر مبنی ہے جو مہنگائی کے خلاف سب سے زیادہ تقریریں کیا کرتے تھے۔ مگر اپنے اقتدار کے دوران یہ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا ضافہ کر چکے ہیں۔ ملک میں مہنگائی کا ایک سیلاب آچکا ہے جوغریب عوام کی تھوڑی بہت جمع پونجی بھی بہا لے جانے کے بعد اب ان کی زندگیوں کو نگل رہا ہے۔ اس دوران حکمرانوں کی کرپشن کے نئے قصے ہر روز سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ مقتدرطبقات فیضیاب ہو رہے ہیں اور لوٹ مار کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ ہر چند ہفتے بعد وزیر اعظم یہ کہتے ہیں کہ مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے اور حکم جاری کر دیا ہے کہ مہنگائی کو کم کیا جائے لیکن ایسے ہر حکم کے بعد مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ حکمران اسی طبقے کے نمائندگان ہیں جو اس ملک میں عوام کے خون کاآخری قطرہ بھی نچوڑنے کے درپے ہے اور تیزی سے اپنی دولت بیرونِ ملک محفوظ مقامات پر منتقل کرتا چلا جا رہا ہے۔ حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کا واحد کام میڈیا پرآکر جھوٹ بولنااوراسی جھوٹ اور فراڈ پر مبنی سیاست کرنا ہے جس میں عوام کو کسی نہ کسی طرح خاموش رکھا جائے اور اس دوران یہ تمام مافیا اور سرمایہ دار طبقہ اپنی لوٹ مار جاری رکھ سکے۔ اسی لیے ملک میں جتنی زیادہ مہنگائی اور بیروزگاری پھیل رہی ہے اورغریب طبقے کی بھوک اور بیماری سے اموات بڑھتی جا رہی ہیں۔ آٹا اور چینی مافیا سے تو سب ہی واقف ہو چکے ہیں جو بنیادی ضرورت کی ان اہم ترین اشیا پر بے دریغ لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہیں اور اربوں روپے کے منافع ہر سال کما لیتے ہیں جبکہ کروڑوں لوگ فاقوں پر مجبور ہیں۔ حکومت میں شامل تمام وزیر اور ان کی پشت پر موجود ریاستی اہلکار بھی اسی لوٹ مار میں ملوث ہیں اور یہی وجہ ہے کہ غریب عوام بھوک سے خودکشیاں کر رہے ہیں جبکہ یہ سرمایہ دار قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے مزید اضافے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
غریب عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پر عیاشی کرنے والے اب اس موجودہ مہنگائی کی بھی بہت سی وضاحتیں پیش کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ایک آزمودہ نسخہ دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ قیمتوں کا مقابلہ کرنا ہے جو پچھلے وزیر اعظم بھی کرتے آئے ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرض ایک دہائی میں تقریباً دُگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے زائد ہوچکا ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرض 2015ء میں 68.67 ارب ڈالر تھا جو 2025 ء میں بڑھ کر 135.107 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ذمے سرکاری اور حکومتی ضمانتوں کے تحت 107.07 ارب ڈالر قرض واجب الادا ہے جبکہ پاکستان کے نجی شعبے کا غیر ضمانتی بیرونی قرض 17.58 ارب ڈالر ہے۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قلیل مدتی بیرونی قرضوں کا حجم 10.45 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے بھی پاکستان کے ذمے 16.83 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔ ملکی قرض میں بے تحاشا اضافے کے باوجود ساری دنیا سے قرض مانگنے والے حکمران دنیا کی جدید ترین سہولتوں سے فیض یاب ہورہے ہیں اور دنیا کی قیمتی ترین سہولتوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ ان کے لباس‘ خوراک اور وضع قطع سے یہ کہیں سے بھی غریب ملک کے نمائندے نہیں لگتے۔ یہی حالت بیوروکریٹک اشرافیہ کی ہے جن کی مراعات اگر اس ملک کا ایک عام شہری دیکھ لے تو دم بخود رہ جائے کہ اس کے پیسوں کو لوٹ کر کس طرح عیاشی کی جا رہی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہی لوگ عوام کو غربت میں صبر کی تلقین کرتے ہیں اور اس کے لیے مختلف وضاحتیں گھڑتے ہیں۔ ان دانشوروں کی بھی کمی نہیں جو اِن افراد کی حاکمیت اور عوام سے کیے جانے والے سلوک کا جواز گھڑنے کے لیے ہر قسم کی دلیل ڈھونڈ کر لاتے رہتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ان کی طرف سے یہ گلہ بھی عوام سے اکثر سننے کو ملتا ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر ٹیکس نہیں دیتے تو وہ اس ملک کے سرمایہ دار‘ جاگیر دار اور حکمران طبقے کے دیگر افراد ہیں جبکہ محنت کش عوام بجلی‘ پٹرول‘ گیس اورخوراک سے لے کر ماچس کی ڈبی تک ٹیکس دیتے ہیں۔ یعنی ایک بیروزگار اور محنت کش بھی ٹیکس تو دیتا ہے مگر ٹیکسوں کی اس آمدن پر اس ملک کے حکمرانوں اور سامراجی طاقتوں کا ہی حق ہے‘ عوام کے لیے صرف بھوک اور بیماری ہی رہ جاتی ہے۔
غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے جس کی بڑی وجہ برآمدات میں کمی ہے۔ حکمرانوں کی لوٹ مار کی پالیسی کے باعث ملکی درآمدات میں بہت بڑا ضافہ ہوا ہے جس سے معیشت گہری کھائی میں گر رہی ہے۔ اس وقت یہ ملک بنیادی ترین اجناس بھی درآمد کر رہا ہے جس پر قیمتی زرِ مبادلہ خرچ ہو رہا ہے۔ چینی اور گندم بھی درآمد کی جاتی ہے اور دیگر زرعی اجناس بھی۔ پاکستان کی صنعتیں بھی تکنیک میں انتہائی پسماندہ ہیں۔ سرمایہ داروں کو اربوں روپے کی مراعات اوروسیع مواقع دینے کے باوجود صنعت ترقی نہیں کر سکی اور نہ ہی اس نظام میں رہتے ہوئے کرسکتی ہے۔ صنعتوں کے لیے درکار خام مال کا بہت بڑا حصہ آج بھی درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے اگربرآمدات بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے درآمدات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ برآمدات کے خود ساختہ اعدادوشمار دے کرری بیٹ‘ سبسڈی‘ ٹیکسوں میں چھوٹ اور دیگر مراعات لینے کی شکایات بھی سننے میں آتی ہیں‘ جس سے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ براہِ راست سرمایہ داروں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے اور کوئی روزگار پیدا نہیں ہوتا۔ اس عمل میں ملک کے حکمران برابر کے شریک ہیں۔
اس صورتحال میںآنے والے عرصے میں بھی معیشت کی مشکلات دور ہوتی نظر نہیں آتیں جبکہ مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافے کا واضح امکان ہے۔ حکومت تعلیم‘ صحت اور دیگر شعبوں پر جو تھوڑا بہت خرچ کرتی تھی وہ بھی بتدریج ختم کر رہی ہے۔ ایسے میں غربت‘ بیماری اور ذلت میں کئی گنا اضافہ ہوگا اور درمیانے طبقے کے کروڑوں افراد بھی غریب طبقے کی صف میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ موجودہ نظام میں کوئی بھی حکمران آجائے اور کوئی بھی سیاسی پارٹی اس نظام میں رہتے ہوئے غریب آدمی کوتھوڑا سا ریلیف بھی نہیں دے سکتی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...