"IAS" (space) message & send to 7575

ہم کدھر جا رہے ہیں؟

چند برسوں میں ملک میں ٹیکس پہلے کی نسبت دُگنا ہو گیا ہے مگر کاروبار سارے کا سارا بند ہو رہا ہے۔ بھوک بڑی تیزی سے ملک کے بیس کروڑ لوگوں کے دروازے پر دستک دے رہی ہے‘ مگر ملک کی ایلیٹ کلاس یعنی مقتدر طبقات دھڑا دھڑ عوام کے ٹیکس کا پیسہ کھا رہے ہیں۔ ڈر یہ ہے کہ جب ملک کے بیس کروڑ لوگ بھوک سے ادھ موے ہو جائیں گے تو ان کے ٹیکس پر مزے اڑانے والوں کا کیا بنے گا۔ اس لیے اشرافیہ کیلئے ان کو زندہ رکھنا بھی بہت ضروری ہے‘ ورنہ ان کا اپنا زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔ بدقسمتی سے حکمرانوں میں ذرا سی بھی رمق نظر نہیں آتی کہ ان غریب اور ٹیکس دینے والوں کا بھی کچھ سوچا جائے یا ان کی بھی کوئی بات کی جائے۔ بقول ساغر صدیقی:
کبھی شبستاں کے رہنے والو! غریب کی جھونپڑی بھی دیکھو
خزاں کے پتوں کی جھانجھنوں میں کسی کی عصمت تڑپ رہی ہے
غریب عوام بھوک سے مر رہے ہیں اور ان کے ٹیکس سے بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔ حکومت اپنے آپ کو ایک طرح سے قلعہ بند کر رہی ہے۔ یہ جو بلٹ پروف گاڑیاں ہیں‘ یہ حکمرانوں کے چھوٹے چھوٹے قلعے ہی تو ہیں۔ حکومت اس حد تک خوفزدہ ہے کہ وہ جیل میں مقید ایک شخص سے ڈر رہی ہے۔ اسی خوف کے پیش نظر اربوں روپے روزانہ خرچ کیے جا رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ کدھر جا رہا ہے‘ اور کہاں جا کر تھمے گا۔ شہروں کے گرد کنٹینروں کی دیواریں کھڑی کرکے پاکستان کو پچیس کروڑ لوگوں کیلئے ایک قید خانہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔ اس کا انجام کیا ہوگا؟ مجھے تو یہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے‘ کیونکہ نتیجہ کوئی اچھا بر آمد ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق حال ہی میں پنجاب حکومت نے جرمنی سے چار بلٹ پروف گاڑیاں خریدی ہیں۔ ان میں سے ایک گاڑی شبانہ روز کوششوں کے بعد پاکستان پہنچ چکی ہے اور دیگر گاڑیاں مرحلہ وار جلد پہنچ جائیں گی۔ ان چاروں گاڑیوں کی مالیت ایک ارب روپے سے کچھ کم بتائی جا رہی ہے۔ ان گاڑیوں کو آرڈر پر تیار کرایا گیا ہے‘ جن کا بیرونی رنگ سیاہ اور اندرونی انٹیریئر خصوصی طور پر جامنی رنگ کا تیار کرایا گیا ہے۔ یہ گاڑیاں پنجاب میں وی آئی پیز شخصیات کی فول پروف سکیورٹی کیلئے استعمال کی جائیں گی۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس نئی خریداری سے پہلے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ (پنجاب حکومت) کے پاس تقریباً 10 قیمتی بلٹ پروف گاڑیاں پہلے سے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف محکموں اور پولیس سکیورٹی کیلئے الگ سے بلٹ پروف سکواڈز کام کر رہے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ پنجاب میں کس کو اتنے خطرات لاحق ہوگئے ہیں کہ نئی بلٹ پروف گاڑیاں آرڈر پر تیار کرائی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب آئی پی پیز کو مسلسل اور باقاعدگی سے دیے جانے والے اربوں روپے حکومت کیلئے ایک ڈوبتا جہاز بن چکے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ ڈوبتا جہاز مزید کتنے ارب روپے ڈبونے کا باعث بنے گا۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ حکمران عوام کیلئے ایک بھاری بھرکم بوجھ بن چکے ہیں اور غریب عوام میں یہ بوجھ مزید اٹھانے کی اب سکت نہیں رہی۔ صرف پٹرول پر کئی قسم کے ٹیکسز عائد ہیں اور حکومت نے اس کو ریونیو یا پھر آسان کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ایک حالیہ خبر کے مطابق پٹرول کی اصل قیمت پر ٹیکسوں اور مارجنز کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ اب ایک لٹر پٹرول پر اصل قیمت سے 136 روپے 34 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر اصل قیمت سے 122 روپے 68 پیسے فی لیٹر زیادہ وصول کیے جا رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ عالمی مارکیٹ کے نرخ نہیں بلکہ لیوی اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہے۔ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں جو حالیہ اضافہ کر رہی ہے اس کی اصل وجہ عالمی قیمتیں نہیں بلکہ لیوی اور ٹیکسز میں اضافہ ہے۔
ایسے وقت میں جب عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں‘ ان سے مزید اضافی ٹیکس وصول کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ ایک طرف حکومت کفایت شعاری کے دعوے کرتی ہے تو دوسری طرف تمام مالی بوجھ عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے سے پٹرول پر 30 فیصد ٹیکسوں کی صورت میں وصول کیے جا رہے ہیں۔ موٹر سائیکل سوار کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ حکومت جانتی ہے کہ پاکستان میں 60 فیصد سے زائد پٹرول صارفین موٹر سائیکل چلانے والے ہیں۔ دوسری جانب حکومت یہ کہتی ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے عوام کو سبسڈی دینے کی اجازت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کو 11 ارب روپے کا جہاز اور اربوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے پر کوئی اعتراض نہیں؟ ان کاموں کی اس سے اجازت لی گئی تھی؟ جب بات نوکری پیشہ افراد پر سے ٹیکس کم کرنے کی آئے تو آئی ایم ایف اجازت نہیں دیتا۔ آئی پی پیز کو ہر ماہ بغیر بجلی پیدا کیے اربوں روپے دینے سے آئی ایم ایف نے کبھی منع نہیں کیا؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کی مجبوری کا فائدہ نہ اٹھائے اور ظالمانہ لیوی ٹیکس کو ختم کیا جائے۔ اس سے مہنگائی بڑھ رہی اور عوام پر ناقابلِ برداشت بوجھ پڑ رہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 21 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ ادارۂ شماریات کی پچھلے سال کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار سالوں کے دوران ملک میں بیروزگاروں کی تعداد میں 14 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت پاکستان میں پٹرول‘ ڈیزل‘ بجلی اور گیس کی قیمتیں علاقائی ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔ اب سردی کی آمد سے قبل ہی حکومت نے ایل پی جی کی قیمت میں بھی 20 روپے فی کلو کا بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ اکتوبر کیلئے گھریلو استعمال کے 11.8 کلوگرام کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 244 روپے 14 پیسے کا اضافہ کر دیاگیا ہے اور اب سلنڈر کی قیمت 3296 روپے ہو گئی ہے جبکہ ستمبر میں اسی سلنڈر کی قیمت 3052 روپے تھی۔
موجودہ حالات کے سبب خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نئی مانیٹری پالیسی میں سود کی شرح میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس وقت پاکستانی قوم پر 86 ہزار ارب روپے کا قرض ہے۔ مہنگائی کے باعث حکومت سٹیٹ بینک کو شرح سود کیلئے اضافی رقم دینے پر توتیار ہے لیکن عوام کو ریلیف دینے کیلئے تیار نہیں۔ دو سال پہلے حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ہم کسان سے پوری گندم خریدیں گے لیکن وعدہ خلافی کی گئی اور کسانوں کو بے آسرا چھوڑ دیا گیا۔ اب دارالحکومت میں کنٹینرز لگا کر شہریوں کو محصور کر دیا گیا ہے۔کاروبار بند کر کے سرکاری خزانے کو روزانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ غریب عوام پر لگائے گئے بھاری بھرکم ٹیکسوں کا پیسہ ہے۔ غریب سارا دن مزدوری کرتا ہے اور اس کے خون پسینے کی کمائی سے حکمران عیا شی کر رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے صرف بیانات داغے جا رہے ہیں۔ ایک نہلاہے تو دوسرا دھلا ہے۔ وہ اس امر سے بے نیاز ہیں کہ ملک کا روزانہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ حکمرانوں کو صرف اپنے اقتدار اور اپنی عیاشیوں کی فکر ہے ۔ سوئے ہوئے آدمی کو تو جگایا جا سکتا ہے لیکن جو جان بوجھ کر غفلت کا شکار ہو‘ اس کو کیسے جگایا جا سکتا ہے؟ بقول ساغرؔ:
وقارِ یزداں نہ حسنِ انساں، ضمیرِ عالم بدل گیا ہے
کہیں مشیت پہ نیند طاری، کہیں معیشت تڑپ رہی ہے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...