تیسری دنیا کی اصطلاح عالمی صنعتی ممالک کو جوڑنے والے معاشی اور سیاسی تعلقات سے باہر کی قوموں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی‘ جن میں سے اکثر سابق یورپی کالونیاں تھیں۔ تاہم تیسری دنیا کی اصطلاح اصل میں ان ممالک کے لیے تھی جو سرد جنگ کے دوران نہ تو مغربی سرمایہ دارانہ بلاک اور نہ ہی سوویت کمیونسٹ بلاک کا حصہ تھے۔ ایک طرف امریکہ کی قیادت میں پہلی دنیا تھی‘ دوسری طرف سوویت یونین کی قیادت میں دوسری دنیا تھی۔ ایک تیسری دنیا اُبھر رہی تھی جو ان دونوں کے دائرہ کار سے باہر تھی۔ تاہم بعد میں تیسری دنیا کی اصطلاح ان ممالک کے لیے استعمال کی گئی جو غریب‘ ترقی میں پسماندہ یا ترقی پذیر تھے۔ یعنی آپ ان ممالک کو تھرڈ کلاس بھی کہہ سکتے ہیں۔ تاہم تیسری دنیا کے ممالک کی تعریف اور سمجھ آج بدل چکی ہے۔ فی الحال کسی بھی ملک کے لیے تیسری دنیا کی اصطلاح کا استعمال توہین آمیز سمجھا جاتا ہے۔ تیسری دنیا کی اصطلاح اب سیاسی اور اقتصادی حوالے سے شاذ ونادر ہی استعمال ہوتی ہے۔ اب ایسے ممالک کے لیے گلوبل ساؤتھ یا ترقی پذیر ممالک کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود پاکستان اور بھارت کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان دنیا کے کم آمدنی والے ممالک میں شامل ہے۔ اگرچہ بھارت کا ترقی کرنے والی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے تاہم وہاں اقتصادی عدم مساوات ہے‘ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو رہا ہے۔ اسی طرح بھارت کے کئی صوبے (ریاستیں) انتہائی پسماندہ ہیں اور وہاں گوڈے گوڈے غربت اور جہالت ہے۔ علاوہ ازیں کرپشن پاکستان کی طرح بھارت میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ آپ بھارت میں سسٹم کی غیر یقینی صورتحال کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی اقتدار میں آ جاتا ہے تو وہ سسٹم کے ساتھ نہیں چلتا بلکہ سسٹم اس کے ساتھ چلتا ہے۔ سب سے پہلے نہرو بارہ پندرہ سال اقتدار میں رہے‘ وہ کہتے تھے کہ میں ہوں تو انڈیا ہے۔ اس کے بعد اندرا گاندھی اقتدار میں آئیں تو پندرہ سال نکال گئیں۔ اب نریندر مودی برسر اقتدار ہے‘ اس کو بھی پندرہ سال ہونے والے ہیں‘ وہ بھی کہتا ہے کہ وہ اور انڈیا لازم و ملزوم ہیں۔ اسی طرح جب پاکستان میں مارشل لاء لگ جاتا ہے تو وہ دس بارہ سال ضرور نکال جاتا ہے۔ ملک میں تین بار لگنے والے مارشل لاؤں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ایوب خان‘ ضیاالحق اور پرویز مشرف دس دس سال نکال گئے۔ اندرا گاندھی اور ضیا الحق کو تو موت نے اقتدار سے الگ کیا۔ ایسے ہی بھارت میں جب کوئی پاپولر لیڈر آ جاتا ہے تو وہ دس پندرہ سال نکال جاتا ہے۔ یہ لوگ جدید زمانے سے لاعلم ہیں‘ یہ نہیں جانتے کہ جدید زمانے کے بچے کیا چاہتے ہیں اور ان کی ضروریات کیا ہیں۔ اب یہ جو بھارت میں اچانک ہنگامے پھوٹ پڑے اور طرح طرح کی نئی چیزیں ہونے لگی ہیں‘ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ پورا ریجن ری سیٹ کیا جا رہا ہے۔
بھارت میں جین زی نسل کی جانب سے شروع کی گئی احتجاجی تحریک نے مودی حکومت کے لیے سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔ نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں یہ تحریک ابتدا میں صرف ایک طنزیہ آن لائن مہم تھی مگر اب یہ ملک گیر مظاہروں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ تحریک کی شدت میں اضافہ تب ہوا جب سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور جبری منتقلی کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے نے حکومت مخالف جذبات کو مزید بھڑکا دیا جس سے احتجاجی لہر کو نئی قوت ملی۔ یہ احتجاج مودی حکومت کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا عوامی دباؤ ہے۔ یہ تحریک واضح کرتی ہے کہ نوجوانوں میں روزگار کے مواقع کی کمی اور تعلیمی بحران پر گہرا غصہ پایا جاتا ہے جو کسی بھی وقت ملک کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر سکتا ہے۔ پورے ریجن کو ری سیٹ کرنے کیلئے بہت بڑ ی گیم ہو رہی ہے۔ دراصل جب ایک سپر پاور کا ڈاؤن فال یا زوال شروع ہوتا ہے تو اس کے بعد کوئی دوسری سپر پاور ابھر کر سامنے آتی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سی اکھاڑ پچھاڑ لازمی ہو جاتی ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''ہم لوگوں کے درمیان دنوں کو پھیرتے رہتے ہیں‘‘۔ نبی مکرمﷺ نے فرمایا: ''بلاشبہ اللہ پر حق ہے کہ وہ دنیا میں جس چیز کو رفعت عطا کرے‘ اسے پست بھی کرے‘‘۔ اس لیے اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ہر عروج کو زوال ہے۔ امریکہ بہادر چونکہ اس وقت اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے اس لیے اب زوال اس کا مقدر ہے۔ بقول علامہ اقبال:
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
لہٰذا قانونِ قدرت ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے‘ ہر ظلم کا خاتمہ ہے‘ ہر اندھیری شب کے بعد روشنی کا اجالا ہے‘ ہر چڑھتا سورج ڈھلتے ڈھلتے غروب ہو جاتا ہے‘ اُٹھتی جوانیاں آہستہ آہستہ بڑھاپے کی گزرگاہوں سے ہو کر موت اور فنا کا شکار ہو جاتی ہیں۔ معروف شاعر صغیر ملال نے بالکل ٹھیک کہا تھا:
کیوں ہر عروج کو یہاں آخر زوال ہے
سوچیں اگر تو صرف یہی اک سوال ہے
اگر دہلی میں کانگریس اتنی مقبول ہے جتنے بڑے اس کے جلوس نکل رہے ہیں اور بی جے پی اتنی زیادہ غیر معروف ہے تو پھر الیکشن میں جاکر کیا ہوتا ہے؟ اگر آپ کہیں کہ دھاندلی ہوتی ہے پھر تو یہ بوریا بستر لپیٹنے والے بات ہے۔ پھر تو وہ سب کچھ الٹ ہو جائے گا جو بھارت نے اتنے عرصے میں کیا ہے۔ پھر جب کوئی مرکزی پارٹی باقی نہیں رہتی تو پیچھے لے دے کر علاقائی جماعتیں رہ جاتی ہیں۔ جب بات اس حد تک جا پہنچتی ہے تو اس ملک کی تقسیم کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ریجن میں یہ جو سب کچھ ہو رہا ہے اس سے مجھے اس کی بُو آ رہی ہے کہ پسِ چلمن کچھ نہ کچھ ضرور ہو رہا ہے۔ یعنی اس ریجن کو ری سیٹ کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ عالمی چالیں چلی جا رہی ہیں۔ اور آگے جا کر دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے‘ لیکن ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ 2020ء کے بعد امریکہ کا افغانستان کو چھوڑنا‘ اس کے بعد شام سے ابتدا کرنا اور بشارالاسد کا تختہ الٹنا‘ پھر پورے اس ریجن کو ری سیٹ کرنا‘ پھر فلسطین اور اسرائیل تنازع کی نئی صورتیں‘ آگے چل کر ایران پر حملہ۔ حالات کا یہ ریلا بنگلہ دیش‘ نیپال اور سری لنکا سے ہوتا ہوا بھارت پہنچ گیا ہے۔ اس وقت چونکہ ایشیا ہی دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے اور ایشیا ہی گنجان آباد علاقہ ہے‘ اس لیے میرے خیال میں اس کو ری سیٹ کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور ہو رہا ہے۔ مجھے اس تبدیلی کی بُو آ رہی ہے۔ یہ خطہ ایک بڑی تبدیلی کی طرف جا رہا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments