"IAS" (space) message & send to 7575

مالِ مفت دل بے رحم

دین اسلام کی رُو سے کوئی بھی حکمران ریاست کا ایک روپیہ بھی اپنی ذاتی تشہیر کے اوپر خرچ نہیں کر سکتا۔ اللہ پاک جب کسی کو اقتدار دیتا ہے تو اس سے دو چیزوں کا سختی سے مطالبہ کرتا ہے۔ پہلی چیز عدل ہے اور دوسری چیز امانت امانتداروں کے سپرد کرنا۔ اقتدار کسی بھی حکمران کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہوتا ہے اور امانت میں خیانت کرنے والا اللہ کے حضور جوابدہ ہو گا۔ پاکستان میں عدل وانصاف اور امانتداری کا کیا حال ہے وہ ہم سب کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ ہمارے حکمرانوں سے تو بنگلہ دیش کے وزیراعظم ہی اچھے نکلے ہیں کہ انہوں نے حکومتی تشہیری مواد پر اپنی تصاویر کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ انہوں نے یہ فیصلہ اپنی رہائشگاہ کے قریب لگے بل بورڈز پر لگی تصاویر کو دیکھنے کے بعد کیا اور از خود یہ بل بورڈز فوری طور پر ہٹانے کا حکم بھی دیا۔ دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ غریب عوام کے پیسے ذاتی تشہیر پر خرچ کر رہے ہیں اور عوامی منصوبوں کو اپنے نام سے منسوب کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے مقتدر طبقات نے عوام کو بیوقوف بنا رکھا ہے‘ وہ چاہتے ہیں کہ عوام ہمیشہ کی طرح ان کی خدمت کرتے رہیں اور وہ ان پر مسلط رہیں۔ بدقسمتی سے ارضِ وطن کی مٹی سے وفاداروں کو غدار بتایا اور بنایا جا رہا ہے اور نااہل لوگوں کو ملک وقوم پر مسلط کیا گیا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بڑے انگریزوں کے وفادار اور نوکر تھے۔ بقول شاعر:
مٹی سے وفادار کو غدار بنا کر
یہ کس کو مسلط کیا حقدار بنا کر
انگریز کے نوکر تھے جو صدیوں سے
لایا گیا ہے ان لوگوں کو سردار بنا کر
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ حکمرانوں کی طرف سے ذاتی تشہیر کیلئے سرکاری خزانے کا بیدردی سے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ راوی بتاتے ہیں کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے اتنے پیسے صوبے میں تعلیم کوعام کرنے پر خرچ نہیں کیے تھے جنتی رقم انہوں نے ''پڑھا لکھا پنجاب‘‘ کے نام پر اپنی ذاتی تشہیر پر لٹا دی۔ پنجاب کا غریب بچہ پڑھ تو نہ سکا؛ البتہ چودھری پرویز الٰہی نے اپنی اور چودھری خاندان کی خوب مشہوری کی۔ اور تو اور سابق برائے نام بلکہ گمنام وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے اور ذاتی تشہیر کیلئے سرکاری خزانے کو جی بھر کر استعمال کیا جبکہ عوامی اور فلاحی کام ایک ٹکے کا بھی نہیں کیا۔
بد قسمتی سے ذاتی تشہیر ایک نفسیاتی مرض بن چکا ہے جو ہمارے ملک کے اکثر حکمرانوں میں بدرجہ اتم موجود ہے‘ لیکن ہمارا کوئی حکمران اس مرض کا علاج کرانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ذاتی تشہیر کے حوالے سے موجودہ حکمرانوں نے اپنے پیشروؤں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس میدان میں ان کا دور تک بلکہ بہت دور تک کوئی مقابل نہیں۔ سرکاری خرچ پر کمپنی کی خوب مشہوری ہو رہی ہے۔ بل بورڈوں سے لے کر بسوں تک اور فروٹ کی ریڑھیوں سے لے کر کوڑے کرکٹ کے کنٹینروں پر اپنی اور والد گرامی کی تصاویر آیزاں ہیں۔ ملک بھر کے سینئر صحافیوں کی جانب سے اس حوالے سے شدید اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ذاتی تشہیر کے لیے سرکاری خزانے کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد حالات بہت مختلف ہو چکے ہیں۔ صوبے کئی ایک معاملات میں خودمختار ہو چکے ہیں۔ صوبہ پنجاب کو وفاق کی وجہ سے اس سال کے بجٹ میں بڑے کٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس کے باوجود بعض اہم شعبوں میں بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے اپنے سیاسی کیریئر کے آغاز میں ہی بڑے ترقیاتی منصوبوں‘ ہسپتالوں اور پارکوں کو اپنے اور شریف خاندان کے ناموں سے منسوب کر کے ایک نئی بحث چھیڑ دی جس پر صوبے کے عوام اور سیاسی مخالفین کی جانب سے تنقید کے خوب نشتر چلائے جا رہے ہیں۔
بلاشبہ حکمرانوں کی ذاتی تشہیر پر جو پیسہ لگ رہا ہے وہ عوام کی طر ف سے دیے گئے ٹیکس کا پیسہ ہے۔ عوام کھانے پینے سے لے کر پہننے تک ہر چیز پر حکومت کو ٹیکس دے رہے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق ٹیکس کے پیسے پر ذاتی تشہیر غیر قانونی ہے۔ سپریم کورٹ نے سرکاری خزانے سے ذاتی تشہیر کو غیر آئینی قراردے رکھا ہے۔ اس سب کے باوجود سرکاری فنڈز کا ضیاع دھڑلے سے جاری ہے۔ اور حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ پڑھی جا رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کی بدولت وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس وزیراعظم پاکستان سے بھی زیادہ صوابدیدی فنڈز ہیں‘ وہ جہاں چاہیں خرچ کریں‘ بیشک راہ چلتی کسی بیوہ کو دے دیں یا پھر کمپنی کی مشہوری پر لگا دیں‘ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایک خاتون وکیل نے ہائیکورٹ میں جاکر اس حوالے سے پوچھنے کی کوشش کی تو بیچاری عدالت سے ڈانٹ کھا بیٹھی بلکہ بھاری بھرکم جرمانہ بھی کروا بیٹھی اور درخواست بھی خارج کر دی گئی۔ یہ ہمارے ملک میں عدل وانصاف کا حال کہ حکمرانوں کی فضول خرچیوں کے حوالے سے سوال کرنے والوں کو ڈانٹ پلا کر اور جرمانہ کر کے خاموش کرا دیا جاتا ہے تاکہ دوبارہ کوئی یہ جرأت نہ کر سکے۔
دوسری طرف سندھ حکومت کی بدانتظامی کے باعث صوبہ سندھ میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ کراچی جیسا روشنیوں کا شہر جرائم کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ شہر میں سٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور جان و مال کے عدم تحفظ کی وجہ سے ایک ویل سیٹلڈ پی ایچ ڈی ہولڈر ڈاکٹر بھی بار بار لٹنے کے بعد ذہنی اذیت کا شکار ہو کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔ کراچی کے سٹریٹ کرائمز پر قابو پانے میں پیپلز پارٹی کی ناکامی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ بلکہ جتنی بھی تنقید کی جائے کم ہے۔ پیپلز پارٹی اور زرداری اینڈ کمپنی کے حوالے سے یہ بات زبان زد عام تھی کہ کھاتے ہی ہیں‘ لگاتے کچھ نہیں جبکہ شریفوں کے بارے میں ان کے چاہنے والے کہتے تھے کہ کھاتے ہیں تو لگاتے بھی ہیں۔ مگر یہ بات اب روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ لگاتے ہیں مگر ذاتی تشہیر پر۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے‘ تشہیری فنڈز کی مکمل آڈٹ رپورٹ طلب کی جائے اور ذاتی تشہیر کیلئے خرچ کی گئی رقم واپس لی جائے‘ عدالت سرکاری فنڈز سے ذاتی تشہیر کے اخراجات کی وصولی کیلئے فوری طور پر کارروائی اور تمام سرکاری منصوبوں اور عمارات سے تشہیری مواد کو ہٹانے کا حکم دے۔ اور اگر کسی نے اپنی کمپنی کی مشہوری کرنی ہے تو اپنی جیب سے کرے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہرگز نہیں۔ اپنے پیسوں سے بنائے گئے منصوبے کا جو مرضی نام رکھیں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن عوام کے پیسوں سے بنائے گئے منصوبوں کو خود سے منسوب نہ کریں۔ ہمارے حکمران اپنے امراض کے علاج کیلئے بیرون ملک جاسکتے ہیں تو وہاں جاکر یہ بھی دیکھیں کہ کسی ملک کا حکمران سرکاری پیسوں سے ذاتی تشہیر کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...